Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
سلمان صاحب اسلام آباد آئے تھے۔چونکہ انہوں نے پارٹی کو چھوڑنا تھا تو انہیں کچھ کاغذی کاروائی کے لئے بلایا گیا تھا اور اس وقت وہ گاڑی پر ہوٹل جا رہے تھے۔وہ یہاں آ تو گئے تھے لیکن زرش کی فکر ابھی بھی ان کے ساتھ تھی۔اتنا تو وہ جانتے تھے کہ آر بی اس تک نہیں پہنچ سکے گا لیکن اصل مسلہ تو زرش کے بکھرے ہوئے وجود کا تھا اسکے احساسات کا تھا۔مگر وجدان ان احساسات کو کیسے جوڑ سکتا تھا اس میں تو یہ چیزیں ہے ہی نہیں تھیں۔
‘کیا ہوا سلمان آپ پریشان کیوں ہیں؟’
فاطمہ بیگم نے انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
‘کچھ نہیں فاطمہ بس زرش کے بارے میں سوچ رہا ہوں میں نے صیح فیصلہ تو کیا ہے نا؟’
انکی بات پر پہلے سے اداس فاطمہ بیگم مزید پریشان ہو گئیں۔
‘آپ فکر مت کریں سلمان اللہ تعالی سب بہتر کریں گے۔ہماری زرش بہت اچھی ہے وہ شخص ضرور اسکی ایک کمی کو بھلا کر اسے خوش رکھے گا۔’
فاطمہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔سلمان صاحب انکا ساتھ دینے کے لیے مسکرائے تو تھے لیکن وہ مسکراہٹ انکی پریشانی کم نہیں کر پائی۔انکی معصوم بچی کے ساتھ جو بیتا تھا وہ تو فاطمہ بیگم بھی نہیں جانتی تھیں۔اتنے سالوں سے وہ راز سلمان صاحب نے اپنے سینے میں ہی چھپایا تھا اور اب انکا راز دار صرف شایان تھا۔اگر مجبوری نہ ہوتی تو وہ اسے بھی سچ نہ بتاتے۔
‘ہم ہوٹل پہنچتے ہی زرش سے بات کریں گے آپ کے پاس نمبر تو ہے نا وجدان کے گھر کا؟’
فاطمہ بیگم نے مسکرا کر پوچھا۔
‘نہیں نمبر تو میں نے نہیں لیا تھا لیکن کوئی بات نہیں ہم شایان کو فون کر کے اس سے پوچھ لیں گے۔’
فاطمہ بیگم نے انکی بات پر اثبات میں سر ہلایا۔تبھی انکی گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔
‘کیا ہوا ڈرائیور؟’
سلمان صاحب نے پریشانی سے پوچھا مگر پھر انکی نظر سامنے موجود ان دو گاڑیوں پر پڑی جنہوں نے انکا راستہ روکا تھا اور ان میں سے کافی سارے آدمی باہر نکلے جس میں سے ایک نے ڈرائیور کو گولی مار کر باہر پھینک دیا جبکہ باقی کے نقاب پوش آدمی سلمان صاحب کے گارڈز کو بھی موت کے گھاٹ اتار چکے تھے۔
‘سلمان۔۔۔۔’
فاطمہ بیگم پریشانی سے انکے قریب ہوئیں۔تبھی ایک آدمی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور دوسرے نے گاڑی کی بیک سیٹ کا دروازہ کھول کر فاطمہ بیگم کے چہرے پر ایک رومال رکھ کر انہیں بے ہوش کیا اور انہیں دوسری گاڑی میں لے گئے۔
‘چھوڑ ۔۔۔’
‘خاموش بڈھے۔۔۔۔آر بی سے پنگا لیا تھا تو نے تو اب بھگت۔’
اتنا کہہ کر اس آدمی نے سلمان صاحب کے منہ پر رومال رکھ کر انہیں بھی بے ہوش کر دیا۔
🌈🌈🌈
زرش وجدان کے رویے سے پریشان ہو کر پھر سے اسکے قریب جانے سے گھبرا رہی تھی لیکن عشال نے اسکا سر کھایا ہوا تھا کہ وہ وجدان کو اپنے قریب کرے۔
‘زرش دیکھ میں اس شخص کا مسلہ سمجھ چکی ہوں۔ایسا نہیں ہے کہ وہ تجھے ناپسند کرتا ہے اس سڑیل انسان کو تو اپنا آپ بھی پسند نہیں۔تو نا بس اسے یہ احساس دلا کہ وہ غلط ہے یہ زندگی کتنی حسین ہے اور یہ صرف رشتوں اور پیار کی وجہ سے حسین ہوتی ہے۔سمجھ رہی ہے نا میری بات۔’
عشال کافی محبت سے کہہ رہی تھی۔
لیکن جب وہ مجھے ڈانٹ دیتے ہیں تو مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگتا۔وہ مجھے بہت ذیادہ اچھے لگتے ہیں آخر انہوں نے مجھے بچایا تھا اس اندھیرے میں سے نکالا۔۔۔۔’
زرش کے چلتے ہاتھ رک چکے تھے لیکن عشال اسکی ادھوری بات سن کر اب اضطراب میں آ چکی تھی۔
‘کہنا کیا چاہتی ہے تو؟’
عشال نے سنجیدگی سے پوچھا پر زرش نے اپنے آنسو پونچھ کر انکار میں سر ہلا دیا۔
‘زری دیکھ تو مجھے اپنی بیسٹ فرینڈ مانتی ہے نا تو مجھ سے مت چھپا بتا مجھے یارا کیا ہوا تھا؟’
عشال نے اسکے سرد پڑتے ہاتھ تھام کر کہا جو اب خوف سے کانپ رہے تھے۔زرش نے سلمان صاحب سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سب کے بارے میں کسی کو نہیں بتائے گی لیکن آخر کب تک وہ راز،وہ درد،وہ تکلیف اور خوف زرش کو دیمک کی طرح چاٹ رہے تھے۔
‘زری یار۔۔۔’
زرش نے ایک جھٹکے سے اپنے ہاتھ چھڑوائے اور پھر آنسو پونچھ کر اسے سب کچھ بتانے لگی۔جیسے جیسے عشال اسکے تیزی سے چلتے ہاتھوں کے اشارے پڑھ رہی تھی۔اسکی آنکھوں میں آنسو اور سینے میں ابلتا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔وہ تو جانتی ہی نہیں تھی کہ اسکی دوست اپنی خاموشی کے پیچھے کتنا درد سمیٹ کر بیٹھی ہے۔
‘زری آئی ایم سوری۔۔۔’
زرش کی بات ختم ہوتے ہی عشال نے کھینچ کر اسے اپنے گلے سے لگایا اور زرش بھی اس کے گلے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
‘تو فکر مت کر زری وہ شخص نہیں پہنچ پائے گا تجھ تک ۔۔۔۔ ‘
عشال کی اپنی آواز رندھی ہوئی تھی۔
‘اور رہی وجدان کی بات تو اسے تجھ سے محبت کرنی ہو گی زری ،تمہیں تحفظ دینا ہو گا ۔یہ تمہارا حق ہے۔’
عشال نے اسکا چہرہ تھام کر اوپر کیا۔
‘تم دیکھنا وجدان تم سے بہت زیادہ محبت کرے گا اور پھر اس جانور کا کہا ہوا ہر لفظ جھوٹ ثابت ہو گا زرش صرف اور صرف جھوٹ۔’
عشال کی نظروں میں بہت ذیادہ غم اور غصہ تھا۔
لیکن کیسے وہ تو مجھے ڈانٹ دیتے ہیں۔پیار کرنا تو دور کی بات ہے وہ تو مجھے دیکھنا بھی نہیں چاہتے۔اسکی ہر بات سچ ہے میرا شوہر ہی مجھے نا پسند کرتا ہے۔
زرش نے افسردگی سے اشارہ کیا تو عشال کے لبوں پر ایک مسکان آئی۔
‘تم بس دیکھتی جاؤ کہ میں کرتی کیا ہوں؟تم نے بس ہمت نہیں ہارنی۔’
عشال کی بات پر زرش نے کچھ دیر سوچا اور پھر اپنے آنسو پونچھ کر مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا بھلا محبت میں بھی کوئی ہمت ہارتا ہے اور پھر جب محبت بھی اس قدر معصوم اور پاکیزہ ہو تو زرش جانتی تھی کہ وہ بھی کبھی ہار نہیں مانے گی۔
🌈🌈🌈🌈
سلمان صاحب کو ہوش آیا تو وہ کسی کمرے میں کرسی کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔اپنے بھاری ہوتے سر اور دھندلاتی آنکھوں کو نظر انداز کر کے انہوں نے ارد گرد دیکھا تو ان کی نظر فاطمہ بیگم پر پڑی جو زمین پر اوندھے منہ گری ہوئی تھیں۔
‘فاطمہ۔۔۔۔ فاطمہ۔۔۔۔’
سلمان صاحب نے پریشانی سے فاطمہ بیگم کو پکارا لیکن انکے جسم میں ہلکی سی بھی جنبش نہیں ہوئی۔وہ اپنے آپ کو چھڑانے کی ممکن کوشش کر رہے تھے لیکن یہ انکے پیرالائزڈ جسم کے ساتھ ناممکن کام تھا۔تبھی دروازہ کھلا اور ایک ہیولا سا کمرے میں داخل ہوا۔
‘کیسے ہیں سلمان صاحب امید کرتا ہوں آپ کو زیادہ پریشانی نہیں ہو رہی ہو گی۔’
اس آواز پر سلمان صاحب کانپ کر رہ گئے۔
‘تت۔۔۔۔تم۔’
‘ارے واہ آپ نے تو اتنی آسانی سے پہچان لیا۔چلیں اچھا ہے ہمیں دشواری نہیں ہوگی۔ہم آسانی سے اگلے سٹیپ کی طرف آ سکتے ہیں۔’
سلمان صاحب کو اندھیرے میں اس شیطان کی صرف آواز سنائی دے رہی تھی اسکا چہرہ وہ پچھلی بار کی طرح نہیں دیکھ سکے۔
‘کیا چاہتے ہو تم؟’
سلمان صاحب نے غصے سے کہا۔
‘یہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ کیا چاہتا ہوں میں۔لیکن پھر بھی اگر یاداشت کو کوئی مسلہ پیش آ رہا ہے تو میں بتا دیتا ہوں۔مجھے میری نور زرش واپس چاہئے۔’
اس شیطان کی آواز پر سلمان صاحب کا خون کھول اٹھا۔
‘کبھی نہیں۔۔۔۔’
آر بی نے ایک زور دار مکا سلمان صاحب کے منہ پر مارا تھا۔جسکی شدت اتنی زیادہ تھی کہ انکی کرسی زمین بوس ہو گئی۔
‘دیکھتے ہیں کب تک آپ کی زبان سے یہی بات نکلتی ہے۔’
آر بی نے اتنا کہہ کر سلمان صاحب کے جسم پر بلیڈ سے جگہ جگہ کٹ لگانا شروع کر دیے۔سلمان صاحب کی درد ناک چیخوں کی آواز سے فاطمہ بیگم بھی ہوش میں آ گئی تھیں مگر انکے جسم میں ہلنے کی طاقت بھی نہیں تھی۔
‘میری نورِ زرش کہاں ہے ؟’
آر بی نے ایک مرتبہ پھر سے درد میں کراہتے سلمان صاحب کو سیدھا کر کے پوچھا۔
‘نن۔۔۔۔نہیں بتاؤں گا تو چاہے کک۔۔۔۔کچھ بھی کر لی تجھے میری۔۔۔۔ معصوم بچی۔۔۔۔کبھی نہیں ملے گی۔۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔’
سلمان صاحب کی بات پر آر بی نے انہیں واپس زمین پر پھینکا۔
‘بدل گئے ہو تم سلمان۔ایک اچھے مثالی باپ ہو گئے ہو کافی محبت کرنے لگے ہو اپنی ان بیٹیوں سے جنہیں تم منہوس کہا کرتے تھے لیکن کیا ایک مثالی خاوند بھی ہو؟’
آر بی ایک پل کو خاموش ہوا۔
‘دیکھ لیتے ہیں کہ تم میں کون سی اچھائی زیادہ ہے؟باپ زیادہ اچھے ہو یا شوہر؟’
آر بی چل کر فاطمہ بیگم کے پاس گیا اور اپنے بوٹوں سے انہیں پیٹنا شروع کر دیا۔پورے کمرے میں فاطمہ بیگم کی چیخیں گونجنے لگی تھیں۔
‘نن نہیں چھوڑ دو اسے خدا کے لئے چھوڑ دو۔۔۔مجھے مار لو لیکن اسے کچھ نہ کہو۔’
سلمان صاحب اب زارو قطار رونے لگے ۔
‘چھوڑ دیتا ہوں تم مجھے میری زرش کا پتہ بتا دو میں تم دونوں کو با حفاظت واپس پہنچا دوں گا۔وعدہ ہے یہ میرا۔’
سلمان صاحب نے ایک نظر زمین پر پڑی فاطمہ بیگم کو دیکھا اس اندھیرے میں وہ ان کے زخم تو نہیں دیکھ سکتے تھے لیکن انکے کراہنے کی آواز بخوبی سن سکتے تھے۔اپنی بیوی کی تکلیف انہیں کمزور بنا رہی تھی۔
‘جواب دو سلمان۔’
آر بی کی آواز سلمان صاحب کے کانوں میں پڑی تو انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
‘یا اللہ مجھے معاف کرنا۔’
سلمان صاحب نے دعا کی اور پھر آر بی کے اس ہیولے کو دیکھ کر بولے۔
‘نہیں تم چاہو تو ہم دونوں کو مار بھی دو لیکن میری بیٹی تمہیں نہیں ملے گی۔ہار جاؤ گے تم اپنے ہی مقدر سے دیکھنا تم۔’
سلمان صاحب نے دانت پیس کر کہا تو آر بی کا قہقہہ فضا میں بلند ہوا۔
‘تمہاری گواہی میں نکاح کروں گا اس سے سلمان دیکھ لینا تم۔جو چیز آر بی کی آنکھوں کو اچھی لگتی ہے وہ اسی پل آر بی کی ہو جاتی ہے پھر تمہاری بیٹی تو اس کالے دل میں اتر چکی ہے بہت بڑی غلطی کر دی اس نے۔ اب وہ آر بی کی ہی ہو گی اور اگر تقدیر کو یہ منظور نہیں تو میں تقدیر ہی بدل دوں گا۔’
آر بی نے جھٹکے سے فاطمہ بیگم کو زمین پر پٹکا اور باہر کی طرف چل دیا جبکہ سلمان صاحب روتے ہوئے ہوش سے بے خبر ہوتی فاطمہ بیگم کو دیکھ رہے تھے۔
🌈🌈🌈
رات کے دو بجے کا وقت ہو رہا تھا اور ڈاکٹر علی اس وقت کوہاٹ کے سول ہاسپٹل سے باہر نکل کر اپنے ہوٹل کی طرف جا رہے تھے ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی تو ان کی یہاں پوسٹنگ ہوئی تھی۔ابھی انہیں ہاسپٹل سے نکلے ہوئے کچھ وقت ہی ہوا تھا جب گاڑی ایک سنسان جگہ پر پہنچ کر خود بخود رک گئی تھی۔ڈاکٹر علی نے اسے سٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ سٹارٹ ہی نہیں ہو رہی تھی۔تبھی گاڑی کا دروازہ کھول کر کالے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص انکے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا۔اسکا چہرہ تک کالے رومال سے ڈھکا ہوا تھا صرف سبز خطرناک آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔
Hey who the hell are you?
ڈاکٹر علی نے غصے سے کہا تو جواب میں اس کالے کپڑوں والے آدمی نے اپنی بندوق انکے سر پر رکھ دی۔
‘گاڑی سٹارٹ کر ۔’
عام سا سنجیدہ لہجا تھا۔ڈاکٹر علی نے اپنی کمر کے پاس موجود پسٹل کو نکالنے کا سوچا لیکن اتنی تنگ جگہ پر وہ اپنا ارادہ ظاہر کیے بغیر ایسا نہیں کر سکتے تھے اور اس آدمی نے بندوق بھی بلکل انکی کنپٹی کے پاس رکھی ہوئی تھی۔
‘گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی۔’
ڈاکٹر علی نے گھبرا کر کہا۔
‘سٹارٹ کر اب کی بار ہو جائے گی۔’
اس مرتبہ لہجہ بہت ذیادہ بے زار تھا۔ڈاکٹر علی نے خاموشی سے کوشش کی تو گاڑی سچ میں سٹارٹ ہو گئی۔
‘چل’
ڈاکٹر علی نے گاڑی چلانا شروع کر دی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس وقت اس شخص کی بات ماننا ہی بہتر ہے۔
‘دیکھو تمہیں جو چاہیے میں تمہیں دے دوں گا۔گاڑی موبائیل پیسہ جو کچھ بھی تم چاہو۔’
ڈاکٹر علی کا انداز منت کرنے والا تھا انہیں اپنی بے وقوفی پہ غصہ آ رہا تھا کہ انہوں نے گاڑی لاک کیوں نہیں کی تھی۔
‘دائیں مڑ۔’ عام سے انداز میں کہا گیا۔
‘دیکھو میرے پاس اور بھی بہت پیسہ ہے تم اپنی قیمت بولو تمہیں کتنا چاہیے میں تمہیں دوں گا۔’
علی نے پھر سے کوشش کی۔لیکن دوسری طرف مکمل خاموشی تھی جیسے وہ تو بات کو سن بھی نہیں رہا تھا۔
‘بائیں مڑ۔’
کچھ دیر بعد اس نے پھر سے کہا اور اس وقت وہ ایک کافی سنسان سے گودام میں تھے۔
‘باہر نکل اور ہاتھ اوپر کر ہلکی سی ہوشیاری اور گولی سیدھا تیرے دماغ میں جائے گی۔’
ان الفاظ میں چھپی دھمکی بہت واضح تھی۔ڈاکٹر علی جانتے تھے کہ انکے پاس وقت کی کمی ہے وہاں اس کے مزید ساتھی بھی ہو سکتے تھے لیکن انہیں اپنی بندوق تک پہنچنے کا کوئی موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔
کالے کپڑوں والا وہ شخص ڈاکٹر علی پر بندوق تانے گاڑی سے باہر نکلا تو ڈاکٹر علی نے موقع پا کر جلدی سے اپنی پسٹل نکالی اور اس آدمی پر گولی چلانے لگا لیکن ڈاکٹر علی کے گولی چلانے سے پہلے ہی ایک گولی سیدھا انکے ہاتھ میں سے گزری جس کی وجہ سے انکے ہاتھ سے پسٹل چھوٹ کر زمین پر گری تھی۔
‘بولا تھا نا کہ ہوشیاری نہیں اگلی گولی تیرے سر میں لگے گی اور یاد رکھنا میرا نشانہ کبھی نہیں چوکتا۔چل اب۔’
ڈاکٹر علی کراہتے ہوئے زمین سے اٹھے اور اپنا ہاتھ تھام کر اسکے آگے آگے چل دیے۔اس کالے لباس والے آدمی نے وہاں پر موجود ایک کرسی کی طرف اشارہ کیا تو ڈاکٹر علی اس پر بیٹھ گئے۔
‘کون ہو تم؟’
ڈاکٹر علی نے تکلیف کے باعث آہستہ سی آواز میں پوچھا۔
‘سکندر۔’
عام سا جواب آیا تھا۔
‘کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا کیا چاہتے ہو تم؟’
ڈاکٹر علی تقریباً چلائے تھے۔جبکہ جواب میں سکندر نے چھوٹی چھوٹی دو شیشے کی بوتلیں ان کے سامنے رکھیں جن میں دو سفید ٹیبلیٹس موجود تھیں جو دیکھنے میں بلکل ایک جیسی تھیں۔
‘دو گولیاں ایک زہر کی اور دوسری اس زہر کی دوا لیکن دیکھنے میں بلکل ایک جیسی ہیں۔تو یہ چن کہ تو ان میں سے کونسی گولی کھائے گا؟’
سکندر نے ان شیشیوں کی طرف اشارہ کیا۔
‘کوئی بھی نہیں میں ایسا کیوں کروں گا بھلا؟’
ڈاکٹر علی پریشان ہوئے تو سکندر نے بندوق سیدھا انکے ماتھے پر رکھ دی۔
‘تو پھر تجھے یہ گولی کھانی پڑے گی۔’
سکندر نے بندوق کی طرف اشارہ کیا۔
‘سوچ لے وہاں تو بچنے کا پھر ایک موقع ہے اگر صحیح گولی چن لے تو بلکل با حفاظت جا سکتا ہے تو لیکن اگر تو نے گولی چننے سے انکار کیا تو۔۔۔۔’
سکندر نے بندوق کو زیادہ سختی سے ڈاکٹر علی کے ماتھے پر رکھا۔جبکہ بہت سوچ بچار کرنے کے بعد ڈاکٹر علی ان دونوں گولیوں کو دیکھنے لگے لیکن افسوس کی بات تو یہ تھی کہ وہ بلکل ایک جیسی تھیں۔بہت دیر کے بعد ڈاکٹر علی نے کانپتے ہاتھوں سے ایک گولی کو پکڑا۔
‘میرے خیال سے تجھے دوسری چننی چاہیے۔’
ڈاکٹر علی کے کانوں میں سکندر کی آواز پڑی لیکن پھر بھی انہوں نے اسی گولی کو بوتل میں سے نکال کر نگل لیا۔
‘افسوس۔۔۔کاش بات مانی ہوتی۔’
اتنا کہہ کر سکندر نے بندوق کو اپنی جیب میں رکھا اور اپنے چہرے سے رومال ہٹا کر وہ بچی ہوئی دوسری گولی اپنے منہ میں ڈال لی۔ڈاکٹر علی انتہائی زیادہ حیرت اور خوف سے سکندر کے چہرے کو دیکھ رہے تھے۔
‘فکر مت کر دس منٹ لگیں گے تجھے مرنے میں۔کافی تیز زہر ہے لیکن اتنا بھی نہیں۔’
سکندر کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ تھی۔
‘کک۔۔۔۔۔کیوں؟’
ڈاکٹر علی نے روتے ہوئے پوچھا۔
‘دو سال پہلے یاد ہے تیرے ہاسپٹل میں 32 بچوں کو ایک دوائی دی گئی تھی جسکا مقصد تو ان کی صحت تھا لیکن اس دوائی نے ان 32 بچوں کی جان لے لی ۔تجھ پر کیس بھی چلا تھا لیکن سارا الزام دوائی بنانے والی کمپنی پر ڈال کر تو با عزت بری ہو گیا تھا۔’
ڈاکٹر علی اپنے وجود میں بڑھنے والی تکلیف کے باعث زمین پر گرے تھے۔جبکہ سکندر اب کرسی سے اٹھ کر انکے پاس آنے لگا۔
‘لیکن سچ کیا تھا یہ تو ہم دونوں جانتے ہیں کہ تو نے اس کمپنی کا نام ڈوبانے کے لئے آر بی سے پیسے لیے اور وہ زہر ان معصوم بچوں کو دے دیا۔’
سکندر ڈاکٹر علی کے پاس زمین پر بیٹھ گیا۔
‘اب پتہ چلا کیسا لگتا ہے زہر سے مرنا۔اپنی موت آنکھوں کے سامنے نظر آنا لیکن چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر پانا۔’
سکندر نے مسکرا کر کہا۔
‘مم۔۔۔۔مجھے معاف کر دو۔۔۔۔’
ڈاکٹر علی نے روتے ہوئے کہا وجود میں اٹھنے والی تکلیفوں سے وہ شخص تڑپ رہا تھا۔
‘معافی اوپر جا کر ان بچوں سے مانگنا ملنے والا ہے تو ان سے اور مرنے سے پہلے جان لے کہ تجھ جیسے کمینے ملک کے دشمنوں کے لیے موت ہے سکندر۔’
سکندر اتنا کہہ کر وہاں سے اٹھا اور اپنا رومال پھر سے ناک پر چڑھا کر وہاں سے چلا گیا۔جبکہ علی وہیں پر تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا۔
🌈🌈🌈🌈
(ماضی)
الفاظ کی کمپنی بہت محنت کے بعد وہ پل بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی جو تقریبا ڈیڑھ سال بعد مکمل ہو کر عوام کے لئے کھول دیا گیا تھا۔الفاظ اپنی کارگردگی سے کافی خوش تھے۔مگر ایک دن انکی تمام خوشیوں کو نظر لگ گئی تھی۔جب نیوز میں یہ خبر آئی کہ وہ پل اپنے افتتاح کے پہلے مہینے ہی گر گیا تھا۔
جس کی وجہ سے تقریبا 200 سے بھی ذیادہ لوگوں کی ڈوب کر موت ہو گئی تھی اور اس سب کا الزام الفاظ کی کمپنی پر آ رہا تھا۔پولیس الفاظ کو جیل میں ڈال چکی تھی اور اب ان پر کیس چل رہا تھا۔انکی کمپنی کے شئیرز اس قدر گر گئے تھے انکا سب کچھ بک گیا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص برباد ہو چکا تھا۔
شاہانہ نے اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر الفاظ کو بچانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن کیس بلکل بھی الفاظ کے حق میں نہیں تھا اور کرپشن کے جرم میں انہیں 20 سال کی قید ہو چکی تھی۔
الفاظ اپنی قسمت کا فیصلہ سن کر کٹہرے سے نکلے تو شاہانہ سکندر اور رومان کو لے کر روتے ہوئے ان کے پاس آئیں۔
‘الفاظ۔۔۔۔’
شاہانہ نے روتے ہوئے اتنا ہی کہا۔الفاظ نے مسکرا کر نو سالہ سکندر کو دیکھا جو کافی گھبرایا ہوا لگ رہا تھا۔
‘اپنی ماں کا دھیان رکھنا سکندر اکیلے مت ہونے دینا اسے۔’
الفاظ کی آواز غم اور مایوسی سے رندھی ہوئی تھی۔
‘چلیے۔’
پولیس والے نے کہا تو الفاظ ایک آخری نگاہ ان سب پر ڈال کر آگے بڑھ گئے۔انکے وکیل نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ابھی وہ تھوڑا آگے ہی گئےتھے جب ان کا سامنا شیراز صاحب سے ہوا جو مسکرا کر انکے قریب آئے تھے۔
‘کیسا لگا الفاظ صاحب مجھ سے بھڑنے کا انجام بڑا غرور تھا نا اپنی ایمانداری پر ۔اب اس ایمانداری کی سزا بھگتو تم۔’
شیراز صاحب نے ہنستے ہوئے الفاظ کے کان میں سرگوشی کی تو الفاظ نے ہر چیز کو نظر انداز کر کے اس کمینے آدمی کو گریبان سے پکڑ لیا۔
‘کمینے انسان تیری وجہ سے اتنے لوگوں کی جان چلی گئی۔’
الفاظ نے اسے بری طرح سے جھنجھوڑا لیکن پولیس والوں نے الفاظ کو کھینچ کر واپس اپنی گرفت میں لے لیا۔
‘میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا الفاظ درانی تم نے ہی تو کہا تھا جب جب جو جو ہونا ہے تب تب سو سو ہوتا ہے۔’
شیراز صاحب نے ہنستے ہوئے کہا اور وہاں سے چلے گئے۔
الفاظ صاحب کو پولیس والے باہر لے کر گئے تا کہ انہیں جیل میں لے کر جایا جائے مگر تبھی بھیڑ میں سے کسی نے ان پر گولی چلا دی جو کہ الفاظ کے دل میں لگی۔
‘بابا۔۔۔۔’
اس بھیڑ میں سکندر کی درد ناک چیخ گونجی اور وہی آخری آواز تھی جو الفاظ کے کانوں میں پڑی اور پھر وہ ہوش و ہواس سے بے خبر ہو کر زمین پر گرے۔پولیس والے فوراً انہیں ہسپتال لے جا چکے تھے۔
‘ماما بابا کو کچھ ہو گا تو نہیں؟’
رومان نے روتے ہوئے پوچھا جبکہ شاہانہ اور سکندر کو تو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ایک ڈراونا خواب دیکھ رہے تھے۔ایسا سچائی میں تو نہیں ہو سکتا تھا نا۔صرف ایک مہینے میں انکی پوری کی پوری دنیا اجڑ گئی تھی۔
ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو پولیس والے ڈاکٹر کے قریب ہوئے جبکہ شاہانہ نے سہم کر سکندر کو اپنے سینے میں بھینچا ۔
‘آئی ایم سوری ہم نے اپنی پوری کوشش کی لیکن گولی سیدھا دل میں لگی تھی۔ہم انہیں بچا نہیں سکے۔’ الفاظ تھے یا انگارے جو وہاں شاہانہ اور اسکی اولاد پر گرے تھے۔وہ لوگ تو ایک پل میں قیامت دیکھ چکے تھے۔بہت سے آنسو ان سبز آنکھوں سے ٹوٹ کر زمین بوس ہو گئے۔
