33.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

سعد وہاں پہنچا تو وجدان اور عشال عثمان کے بتائے ہوئے کمرے میں آر بی کو پہلے سے بند کر چکے تھے۔وجدان نے اسکی چوٹوں پر پٹی بھی کر دی تھی تا کہ وہ مر نہ جائے۔اسکو اتنی آسانی سے موت نصیب نہیں ہونی تھی وجدان اور عشال نے جو انجام اسکا سوچا تھا آر بی کو اب سے گزرنا تھا اسی لیے تو وجدان نے اسے باقی کے دہشتگردوں کی طرح آرمی کے حوالے نہیں کیا تھا۔
وجدان اس وقت کیمرہ سے کنیکٹیڈ مانیٹرز کے پاس کھڑا بہت پریشانی سے کمرے میں بند زرش کو دیکھ رہا تھا۔
‘تمہیں لگتا ہے کہ یہ سہی آئیڈیا ہے اگر کچھ الٹا ہو گیا تو۔’
وجدان نے کم از کم دسویں بار یہ سوال عثمان سے پوچھا تھا۔
‘ہاں میں نے سائیکالوجیسٹ سے بات کی ہے بعض اوقات ایک خوف کو مٹانے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ انسان اپنے خوف کا سامنا کرے اور وہی سامنا ہمیں زرش کو بھی کروانا ہے۔’
وجدان نے ہاں میں سر ہلایا مگر چہرے پر پریشانی کے آثار بہت واضح تھے۔
‘اگر کچھ الٹا ہو گیا تو؟’
‘یہاں سے پانچ منٹ کی مسافت پر ایک ہاسپیٹل ہے ہم فوراً زرش کو وہاں لے جائیں گے۔’
وجدان نے پھر سے اثبات میں سر ہلایا۔
‘تمہارا شکریہ ملک۔۔۔’
‘تم مجھے عثمان بلا سکتے ہو وجدان۔۔۔اور رہی بات یہ سب کرنے کی تو میں نے تمہیں بتایا تھا کہ تمہارا بہت بڑا احسان ہے مجھ پر جسکا قرض میں شاید ہی چکا سکوں۔’
عثمان کی بات پر وجدان نے ہاں میں سر ہلایا اور پھر کمرے میں سہم کر روتی ہوئی زرش کو دیکھنے لگا۔وجدان کو وہ آنسو اور خوف بلکل بھی برداشت نہیں ہو رہے تھے ۔یہ اسکی مجبوری ہی تھی ورنہ وہ کب سے زرش کو وہاں سے نکال چکا ہوتا۔لیکن اسے ابھی بے بسی سے انتظار ہی کرنا تھا۔عثمان فون سننے باہر چلا گیا تو سعد وجدان کے پاس آیا اور اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
‘سب ٹھیک ہو جائے گا وجدان تم فکر مت کرو۔’
وجدان نے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا۔سعد بھی کافی دیر وجدان کے پاس بیٹھا رہا پھر اسکی نظر ایک مانیٹر پر پڑی جہاں عشال آر بی کے پاس کھڑی نا جانے اسے کیا کہہ رہی تھی۔
‘وجدان تمہیں کیسے پتہ چلا عشال کے بارے میں کہ وہ سکندر ہے؟’
سعد کے سوال پر وجدان مسکرایا۔
‘شک تو مجھے اس پر تب ہی ہو گیا تھا جب میں نے پہلی بار اس سے سکندر کے بارے میں بات کی تھی۔سکندر کے بارے میں بتاتے ہوئے اسکے سارے چہرے پر خوف کے آثار تھے لیکن وہ خوف اسکی آنکھوں تک نہیں پہنچا تھا۔لیکن تب میرا وہ شک بہت زیادہ کمزور تھا۔’
سعد نے ہاں میں سر ہلایا۔
‘پھر وہاں زیارت میں میری نظر عشال کی کھڑکی سے نکلتے ایک کالے کپڑوں میں ملبوس وجود پر گئی میں نے اسکا پیچھا کیا اسے پکڑنے ہی والا تھا لیکن وہ دھند کا فائدہ اٹھا کر غائب ہو گئی ۔ میں نے واپس آ کر عشال کو چیک کیا تو وہ بلکل ٹھیک تھی۔تب مجھے عشال پر یہ شک ہوا کہ وہ سکندر کے ساتھ ملی ہوئی ہے لیکن یہ میں نے نہیں سوچا تھا کہ وہ خود ہی سکندر ہو سکتی ہے۔’
سعد نے مسکرا کر عشال کو دیکھا جو کافی غصے سے آر بی کو دیکھتے ہوئے اپنی مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔
‘پھر میں نے اس پر نگرانی رکھنی شروع کر دی۔وہ کافی وقت موبائل پر گزارتی تھی جو خود میں ہی ایک مشکوک بات تھی۔اس لیے اس دن میں نے عشال کے ساتھ ٹکرانے کے بہانے سے اسکا موبائل گرایا اور اس موبائل کو اٹھا کر عشال کو پکڑانے کے بہانے سے ایک چھوٹا سا ٹریکر اسکے موبائل کی سائیڈ میں لگا دیا۔عشال بھی سمجھ چکی تھی کہ مجھے اس پر شک ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس آدمی کے پیچھے اس کلب میں گئی تھی اور وہیں میں نے عشال کو پکڑ لیا۔’
وجدان سعد کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔
‘اور سب سے بڑی بات۔’
‘کیا؟؟؟’
سعد نے حیرت سے پوچھا۔
‘عشال سب سے یہی کہتی رہی کہ سکندر کی آنکھیں سبز ہیں مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ سبز آنکھیں تو اسکی اپنی بھی ہیں۔سکندر کی یہ نشانی بتا کر وہ اپنی طرف ہی تو اشارہ کرتی تھی۔’
وجدان کی آواز میں ایک عجیب طرح کی عقیدت اور فخر تھا۔
‘مگر وہ تمہارا ساتھ دینے کے لیے کیوں مانی؟’
سعد کے سوال پر وجدان نے گہرا سانس لیا۔
‘کیونکہ ہم دونوں کا ایک ہی دشمن تھا آر بی اور ہم دونوں نے کبھی بھی نہیں سوچا کہ زندگی ایسے موڑ پر بھی آ جائے گی۔’
وجدان نے گہری سوچ کے عالم کہا۔سعد کے ماتھے پر بل گہرے ہوئے تھے۔
‘لیکن یار مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی آخر عشال کی دشمنی کیا تھی آر بی سے؟اسے سکندر بننے کی ضرورت ہی پیش کیوں آئی؟ ‘
سعد کی بات پر وجدان نے گہرا سانس لیا۔
‘میں تمہیں یہ سب نہیں بتا سکتا سعد یہ باتیں عشال کے بتانے کی ہیں اور اگر عشال چاہے گی تو وہ خود تمہیں سب بتا دے گی۔’
سعد وجدان سے سب جاننا چاہتا تھا لیکن سعد یہ بھی جانتا تھا کہ وجدان کی بات بلکل صیح ہے۔وہ ان تمام سوالوں کے جواب عشال سے ہی مانگے گا۔تبھی عثمان اور عشال کمرے میں داخل ہوئے۔
‘وجدان مجھے لگتا ہے یہی وقت صیح رہے گا۔’
وجدان نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں رات کے دس بج رہے تھے اس نے اثبات میں سر ہلایا اور عثمان کے ساتھ باہر کی طرف چل دیا۔
‘سعد اور عشال تم دونوں زرش کی ہر حرکت پر غور کرنا اگر کچھ بھی گڑبڑ ہو یا زرش زیادہ ہی پینک کرے تو تم لوگ فوراً مجھے بتاؤ گے اور یہ کھیل ہم وہیں روک دیں گے۔’
عشال نے ہاں میں سر ہلایا اور سعد کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔وجدان بھی عثمان کے ساتھ باہر چلا گیا تھا۔سعد مسلسل ساتھ بیٹھی عشال کو گھور رہا تھا۔پہلے تو عشال اپنا سارا دھیان مانیٹرز پر رکھ کر بیٹھی رہی اور پھر سعد کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔
‘ہائے ایجنٹ جی۔’
عشال نے مسکرا کر ہمیشہ والی شرارت سے کہا لیکن یہ اسکا اصلی روپ نہیں تھا ۔وہ روپ جو سعد نے آج دیکھا تھا۔سعد اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے اسے گھورتا رہا تھا۔
‘ایسے مت دیکھیں ایجنٹ جی ورنہ میں سمجھوں گی کہ آپ مجھ سے جیلس ہو رہے ہیں۔’
سعد نے فوراً اپنا رخ مانیٹرز کی طرف کر دیا اور زرش والے مانیٹر پر غور کرنے لگا۔
‘ہم اس کے بارے میں بعد میں بات کریں گے۔’
عشال نے بھی بلکل سعد کی طرح اپنا رخ بھی مانیٹر کی طرف کر لیا۔
‘شوق سے۔’
پھر وہ دونوں خاموشی سے زرش کو دیکھنے لگی جو ابھی بھی زمین پر بے بسی سے لیٹی رو رہی تھی۔
🌈🌈🌈
زرش نہیں جانتی تھی کہ کتنا وقت گزر چکا تھا۔اس اندھیرے میں تو اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ رات ہے یا دن بس دو دفعہ ایک نقاب پوش آدمی اسے پانی پلانے آیا تھا۔
زرش کے ذہن میں صرف سعد کی باتیں گردش کر رہی تھیں۔
کیا سچ میں وہ بزدلی کی وجہ سے اتنی بڑی سزا کی حقدار تھی کہ اسے ساری زندگی کے لئے اس پنجرے میں قید کر دیا جاتا ۔اس کمرے میں کہیں سے بھی زرہ برابر روشنی نہیں آ رہی تھی اور اب اس اندھیرے سے زرش کو وحشت ہو رہی تھی۔
اللہ تعالی آپ نے ہمیشہ میری مدد کی ہے ابھی بھی میری مدد کر دیں میرے وجدان کو بھیج دیں میرے پاس۔آپ نے ہی تو انہیں میرا مسیحا بنایا تھا نا۔اب بھی انہیں بھیج دیں میرے پاس۔
زرش نے زارو قطار روتے ہوئے دعا کی اور پھر نا جانے کتنی ہی دیر اپنے خاموش لبوں سے وجدان کا نام لیتی رہی۔
‘نور۔۔۔۔’
کافی دور سے ایک ہلکی سی آواز زرش کی سماعتوں سے ٹکرائی اور اس آواز کو تو زرش کہیں پر بھی پہچان سکتی تھی۔اس نے کیسے سوچ لیا کہ اسکا مسیحا اسے بچانے نہیں آئے گا۔
زرش نے ہلنے کی کوشش کی کسی طرح آواز پیدا کر کے وجدان کو بلانے کی کوشش کی لیکن جس طرح سے اسے باندھا گیا تھا ہلنا تقریباً ناممکن تھا۔بہت محنت کے بعد زرش ایک انچ ہی ہل پائی تھی۔
مگر اسے کسی طرح سے آواز پیدا کرنی تھی وجدان کو مخاطب کرنا تھا وہ ہمت نہیں ہار سکتی تھی۔
‘نور کہاں ہو تم۔؟’
وجدان کی آواز تھوڑے قریب سے سنائی دی تھی اور اسکے ساتھ ہی زرش کی بے چینی میں اضافہ ہو گیا تھا مگر وہ بے بس تھی بہت بہت ذیادہ بے بس۔
‘تم تو اتنی بے بس ہو کہ کسی کو اپنی مدد کے لیے پکار بھی نہیں سکتی۔قید رہو گی اس کال کوٹھری میں اور کوئی ڈھونڈ نہیں پائے گا تمہیں کبھی بھی پکارتا رہ جائے گا وہ تمہیں اور تم جواب بھی نہیں دے سکو گی۔’
سعد کے الفاظ اسکے ذہن میں گھومے بہت سے آنسو ان کانچ سی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے تھے۔زرش کو خود سے نفرت ہو رہی تھی اپنی بے بسی سے نفرت ہو رہی تھی۔زرش بے بسی سے لیٹ کر رونے لگی تھی۔
‘نور میری جان کہاں ہو تم جواب دو۔۔۔۔۔’
وجدان کی آواز مزید قریب سے سنائی دی تھی۔زرش بے بسی سے بس روئے جا رہی تھی۔کاش وہ ایسی نہ ہوتی کاش وہ بے آواز نا ہوتی تو آج چلا چلا کر وہ وجدان کو بلا لیتی۔
‘چاہے کچھ بھی ہو جائے تم اپنے آپ کو مظبوط رکھنا کیونکہ تم کمزور نہیں ہو زرش تم بہادر ہو بہت ذیادہ بہادر۔میں کبھی بھی تمہیں بلاؤں تو تم مجھے جواب دو گی دو گی نا؟’
اب کی بار وجدان کی آواز اسکے دماغ میں گونجی لیکن ان الفاظ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔زرش جانتی تھی کہ وہ بے بس تھی اور یہ کبھی بھی بدلنے والا نہیں تھا۔زرش مکمل طور پر ہار مان چکی تھی وہ ٹوٹ چکی تھی۔
‘نور میری جان بلاؤ مجھے۔۔۔۔’
تبھی زرش کو وجدان کی آواز بلکل اس دروازے کے باہر سے آئی تھی زرش نے پھر سے ہلنے کی کوشش کی کچھ کرنے کی کوشش کی مگر سب بے سود تھا۔زرش نے اپنے لب کھول کر چلانے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی آواز باہر نہیں آئی تھی۔
‘چلو وجدان مجھے نہیں لگتا زرش یہاں ہے ہمیں یہاں سے چلنا چاہیے۔’
عثمان کی آواز پر زرش نے زور زور سے انکار میں سر ہلایا تھا۔
‘نہیں عثمان میرا دل کہتا ہے کہ میری نور یہیں ہے وہ پکارے گی مجھے دیکھنا تم۔۔۔نور۔۔۔۔’
وجدان کی آواز پر زرش پھر سے رونے لگی قہ پکار تو رہی تھی وجدان کو اپنے دل دماغ میں کئ دفعہ اسے بلا چکی تھی۔وجدان ۔۔۔۔۔۔وجدان۔۔۔۔۔۔وجدان۔۔۔۔۔
ہاں چلو عثمان وہ سچ میں یہاں نہیں ہے۔’
وجدان کی اس بات پر زرش کو لگا اسکا دل بند ہو جائے گا۔وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگی تھی اور وجدان کے دور جاتے قدموں کی آواز تو مایوسی کا اندھیرا تھی۔
زرش نے ایک بار پھر سے اپنے لب کھولے اور وجدان کا نام پکارا لیکن کوئی آواز باہر نہیں آئی تھی۔زرش نے روتے ہوئے اپنا سر زمین پر پٹخا تھا وہ ہار رہی تھی ہاں وہ ہار رہی تھی۔
تم بہادر ہو نور بہت بہادر۔۔۔’
وجدان کی آواز اندھیرے میں ایک چھوٹی سی کرن کی مانند تھی۔زرش نے اپنی آنکھیں زور سے میچ کر اپنے لب کھولے تھے۔
‘ووو۔۔۔۔۔’ ہلکی سی آواز زرش کے لبوں سے نکلی تھی۔
‘وجج۔۔۔د۔۔۔۔’
آواز پہلے سے تھوڑی ذیادہ ہوئی تھی۔زرش نے مزید ہمت باندھی ہاں وہ بہادر تھی بہت بہادر۔۔۔۔
‘وجدان۔۔۔۔!!!!’
🌈🌈🌈
‘وجدان۔۔۔۔۔!!!’
آواز تھی یا خدا کی کوئی رحمت جو وجدان کی پوری زندگی میں خوشیاں بکھیر گئی تھی۔خوشی کے کئی آنسو ٹوٹ کر ان سبز آنکھوں سے گرے تھے لبوں پر بے ساختہ الحمداللہ آیا۔عثمان نے بھی مسکرا کر اپنا ہاتھ وجدان کے کندھے پر رکھا۔
‘وجدان۔۔۔۔’
آنسوؤں سے رندھی وہ آواز وجدان کو پھر سے سنائی دی تو وجدان بھاگ کر اسے دروازے کے پاس گیا اور ایک زور دار دھکے سے دروازہ کھول کر بے چینی سے زرش کو کھولنے لگا۔زرش ابھی بھی زور سے آنکھیں میچے اسکا نام چلا رہی تھی۔
وجدان نے اسے کھول کر اپنے سینے میں بھینچا تھا۔بہت سے آنسو وجدان کی آنکھوں سے بہہ کر زرش کے بالوں میں جزب ہو گئے تھے۔
‘وجدان۔۔۔۔’
زرش اسکے سینے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
‘یہیں ہوں نور خان میں تمہارے پاس ہوں ہمیشہ۔۔۔’
وجدان نے اپنی پکڑ مظبوط کر کے کہا۔
‘وو۔۔۔۔وجدان۔۔۔۔میں۔۔۔۔آآآ۔۔۔۔۔آپ کو بلا۔۔۔۔رہی تھی۔۔۔۔ببب۔۔۔بہت دیر سے۔۔۔۔۔بلا۔۔۔۔رر۔۔۔۔رہی تھی۔۔۔۔آپ ننن۔۔۔۔۔نہیں آ رہے۔۔۔۔۔تھے۔۔۔’
وجدان نے زرش کے بالوں کو چوم کر بہت بے شدت سے اسے اپنی باہوں میں کسا۔زرش کو تو لگ رہا تھا کہ وہ ابھی بھی اپنے دماغ میں ہی بول رہی ہے۔
‘میں ہمیشہ آؤں گا نور جب جب تم پکارو گی تمہارا وجدان ضرور آئے گا۔’
وجدان نے اسکا چہرہ اپنے سینے سے نکال کر بہت شدت سے اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو چوما ۔
‘وجدان۔۔۔’
‘ہاں جان وجدان۔۔۔’
وجدان نے مسکرا کر بہت محبت سے پوچھا۔زرش نے بھی اپنے آنسو ضبط کر کے منہ بسورا ۔
‘سس۔۔۔سعد بھائی۔۔۔۔بہت برے ہیں۔۔۔۔۔آپ ان کو بہت۔۔۔۔۔مارنا۔۔۔’
وجدان نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا اور پھر سے زرش کو اپنی باہوں میں کسا تھا۔
‘آئی لو یو نور۔۔۔۔ آئی لو یو مور دین مائے لائف۔’
یہ الفاظ کہتے ہوئے سبز آنکھیں پھر سے بھیگ گئی تھیں۔
🌈🌈🌈
فاطمہ بیگم جائے نماز پر بیٹھیں کب سے روتے ہوئے دعائیں مانگ رہی تھیں اور سلمان صاحب بہت پریشانی سے انہیں فیکھ رہے تھے۔وجدان نے زرش کی آواز واپس لانے کے اس منصوبے کے بارے میں سلمان صاحب کو بتایا تھا جس کی وجہ سے سلمان صاحب کافی پریشان تھے۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ انکی بیٹی کے ساتھ مزید کچھ برا ہو۔
گاڑی کے پورچ میں رکنے کی آواز آئی تو فاطمہ بیگم بے چینی سے اٹھ کر دروازے کی طرف بھاگی تھیں۔سلمان صاحب بھی اپنی ویل چیر پر انکے پیچھے چل دیے تھے۔جانان اور حمنہ بھی بے چینی سے کمرے میں سے باہر آئی تھیں۔
فرنٹ سیٹ سے عثمان اور سعد باہر نکلے اور بیک سیٹ سے وجدان اور عشال۔ وجدان نے زرش کو گاڑی سے باہر نکالا تو فاطمہ بیگم روتے ہوئے زرش کے پاس گئیں اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔جانان اور حمنہ بھی خوشی کے عالم میں روتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹی تھیں۔
نا جانے کتنی ہی دیر فاطمہ بیگم اور زرش ایک دوسرے سے لپٹی روتی رہیں پھر فاطمہ بیگم نے اسے خود سے دور کر کے بے چینی سے زرش کے چہرے کو چوما۔زرش کا دھیان سلمان صاحب کی طرف گیا تو وہ فاطمہ بیگم سے دور ہو کر سلمان صاحب کے پاس جا کر اپنے گھٹنوں پر ان کے سامنے بیٹھ گئی۔
‘بب۔۔۔بابا۔۔۔۔’
چھ سال بعد اپنی بچی کی آواز سن کر سلمان صاحب نے روتے ہوئے زرش کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔فاطمہ بیگم کے آنسو بھی غم کے آنسوؤں سے بدل کر خوشی اور حیرت کے آنسو بن گئے تھے۔
حمنہ اور جانان بھی روتے ہوئے مسکرا دیں۔
‘بابا۔۔۔۔ میں۔۔۔بول سکتی۔۔۔۔’
زرش کے ایسا کہنے پر سلمان صاحب کے رونے میں روانی آ گئی تھی۔آج صیح معنوں میں انکی بیٹی اس شیطان کے چنگل سے آزاد ہو گئی تھی۔
‘شکر ہے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔’
فاطمہ بیگم نے زرش کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔عثمان گاڑی کے پاس سے چل کر روتی ہوئی حمنہ کے پاس آیا تھا۔
‘چلیں بھئی بہت رو لیا سب نے اب خوشی کا موقع ہے تو خوشی سے مناتے ہیں اسے۔’
عثمان کی بات پر سب لوگ مسکرا دیے تھے۔
‘بلکل بھئ یہ خوشی کوئی چھوٹی موٹی سیلیبریشن سے نہیں منائی جائے گی کوئی بڑا سا فنکشن کریں۔’
عشال نے آگے ہو کر چہکتے ہوئے کہا۔سب نے ہاں میں سر ہلایا۔
‘ہمم ۔۔۔۔۔تین دن کا وقت دیں بس مجھے وجدان اور زرش کے ولیمے کی تیاری کرتے ہیں اسی حویلی میں آپ سب لوگوں کو دعوت دے دیں۔’
عثمان کے اس فیصلے پر سب لوگ خوش نظر آئے تھے جبکہ سب سے خوشی تو عشال اور جانان کو ہوئی تھی۔ان دونوں کا بس چلتا تو یہیں ناچنے لگ جاتیں۔کسی کو خوشی کے عالم میں اس گاڑی کی آواز ہی نہیں آئی جو اب وہاں پورچ میں آ کر کھڑی ہوئی اور دو لوگ اس گاڑی سے باہر نکلے۔
‘بے غیرت دوست۔۔۔۔ہمارے بغیر ہی ہمارا بیٹا کا نکاح کر دیا اور اب ولیمے کا بھی سوچ لیا واہ۔۔۔’
سب نے اس کار کی طرف دیکھا جہاں شایان کے ساتھ ہاشم صاحب کھڑے سلمان صاحب کو گھور رہے تھے۔
‘بابا۔۔۔’
ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ وجدان ہاشم صاحب کی طرف بڑھا۔
‘چپ کر بابا کا بچہ۔۔۔۔مانا کچھ زیادہ ہی بگڑ گیا ہے تم کان کھینچے گا نا ہم تمہارے پھر عقل آئے گی تمہارے کو۔’
ہاشم صاحب کی بات پر سب قہقہہ لگا کر ہنسے یہاں تک کے سلمان صاحب کے سینے سے لگی زرش بھی مسکرا دی ۔
‘کوئی ولیمہ نہیں ہو رہا یہاں۔’
سب کے لبوں کی مسکان پل بھر میں غائب ہوئی ۔زرش نے گھبرا کر سلمان صاحب کے سینے میں مزید مظبوطی سے چھپی۔
‘ہم باقاعدہ شادی کرے گا اپنے بیٹے کا اور تم سب کو پتہ چلے گا کہ ایک پٹھان کا شادی کیا ہوتا ہے؟’
اس بات پر سب ہنس دیے ۔ہاشم صاحب چل کر زرش کے پاس آئے۔
‘چھوڑ ہمارا بیٹی کو تم تو سانس ہی بند کر دینے لگا ہے اسکا۔’
ہاشم صاحب نے زرش کو کندھوں سے تھام کر کھڑا کیا زرش نے فوراً اپنا سر جھکا لیا تھا وہ گھبرا گئی تھی کہ اگر وجدان کے بابا کو وہ پسند نہیں آئی تو کیا وجدان اسے چھوڑ دے گا؟
‘ماشااللہ ماشااللہ ہمارا بیٹی تو اتنا پیارا ہے وجدان روز نظر اتارا کرو ہمارا بیٹی کا۔’
‘ضرور بابا۔’
وجدان نے مسکرا کر زرش کو دیکھا زرش نے اپنا سر مزید جھکا لیا۔سب لوگ مسکرا رہے تھے۔بہت عرصے بعد انکی زندگی میں مکمل خوشی آئی تھی۔