64.4K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

سعد اور وجدان نے کافی محنت کے بعد وہ مخصوص قبر ڈھونڈ لی تھی جس کے عقب سے ایک خفیہ راستہ نکلتا تھا جو سیدھا زمین کے اندر جا رہا تھا۔وہ دونوں خستہ حال سیڑھیوں سے وہاں داخل ہوئے تو سامنے کچھ لوگ بندوقیں لے کر کھڑے تھے جنہوں نے انکا راستہ روک لیا۔
‘قبرستان میں مردہ چلائے۔’
وجدان کے ایسا کہنے پر ان لوگوں نے ان دونوں کو اندر جانے کا راستہ دیا۔ویسے بھی وجدان نے بہت مہارت سے اپنے آپ کو آصف کے حلیے میں ڈھالا تھا۔وہ جگہ ذیادہ بڑی نہیں تھی بس ایک بڑا سا حال تھا جو زمین کے اندر بنایا گیا تھا اور وہاں بہت سے لوگ غیر قانونی کام سر انجام دینے آئے ہوئے تھے۔
‘ہم اسے ڈھونڈ تو لیں گے لیکن باہر کیسے لے کر جائیں گے اسے یہاں سے؟’
سعد کو وجدان نے راستے میں ہی ساری بات بتا دی تھی۔
‘ابھی صرف اس کا پتہ لگائیں گے حملہ کرنے کا اور بھی موقع مل جائے گا۔’
سعد نے اثبات میں سر ہلایا۔کافی دیر کچھ لوگوں سے بہانے بہانے سے پوچھنے کے بعد ان دونوں کو تاشا کا پتہ لگ ہی چکا تھا۔
‘وہ رہا۔’
سعد نے چہرے سے اشارہ کیا۔تاشا اس وقت ایک آکھاڑے میں دوسرے آدمی کے ساتھ فائٹنگ میں مصروف تھا۔وہ تقریباً انتالیس سال کا ایک انتہائ سفاک دکھنے والا مرد تھا جو بہت بے رحمی سے اپنے مخالف کی ہڈیاں توڑ رہا تھا۔
‘ اس آکھاڑے میں جو کوئی بھی جیتتا ہے وہ بڑا انعام پاتا ہے لیکن آج کا انعام بہت حسین ہے۔تو جو کوئی بھی تاشا کو لڑنے میں ہرا دے گا یہ انعام اسکا ہو گا لیکن اگر تاشا جیت گیا تو انعام اسکا۔تو کون لڑے گا تاشا سے اس خوبصورت انعام کے لیے؟’
اس شخص نے اچانک ایک لڑکی کو سامنے کیا جسے رسیوں سے باندھا گیا تھا اور ان ہری آنکھوں میں بے پناہ خوف سمایا ہوا تھا۔سعد کے ساتھ ساتھ وجدان بھی حیرت سے اس بے وقوف لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔
‘ہے کوئی۔۔۔۔’
اس سے پہلے کہ کوئی آگے بڑھتا سعد بنا سوچے سمجھے اس آکھاڑے میں اتر گیا تھا۔جبکہ تاشا اسے بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔تاشا کی گھٹیا آنکھوں میں عشال کے لئے پسندیدگی تھی اور اسے دیکھ کر سعد کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا۔سعد نے اپنی شرٹ اتاری تو تاشا ایک نظر اسکے کسرتی جسم کو دیکھ کر ٹھٹکا۔
‘آجا ۔۔۔۔۔۔۔’
اتنا کہہ کر تاشا نے سعد پر حملہ کیا جو کہ سعد بہت مہارت سے بے اثر کر گیا تھا۔
‘اسے تو میں پا کے ہی رہوں گا۔’
تاشا خباثت سے مسکرایا اور دوبارہ سے ایک مکا سعد کے چہرے پر مارنے لگا لیکن سعد نے سختی سے اسکا ہاتھ ہوا میں ہی تھام لیا اور اپنے دوسرے ہاتھ کو سختی سے بھینچ کر اسے پیٹ میں زور دار گھونسہ مارا۔
‘خواب ہے تیرا۔۔۔۔۔۔۔’
اتنا کہہ کر سعد بہت ذیادہ بے دردی سے اسے مارنے لگا۔تاشا کو حملہ کرنا تو دور کی بات ہے اپنے بچاؤ کا موقع بھی نہیں مل رہا تھا۔جبکہ سعد کا دل کر رہا تھا کہ اسکی وہ آنکھیں ہی نکال دے جنہوں نے اتنی غلاظت سے اسکی عشال کو دیکھا تھا۔اچانک سعد کی نظر وجدان پر پڑی تو اس نے اپنے چلتے ہاتھوں کو روکا اور موقع پاتے ہی تاشا نے سعد پر حملہ کر دیا۔
‘اب بتاتا ہوں تجھے کمینے۔’
تاشا بہت بری طرح سے سعد کو سمبھلنے کا موقع دیے بغیر مارتا جا رہا تھا۔
‘نہیں۔۔۔۔۔۔’
عشال سعد کو پہچان چکی تھی اسی لیے وہ چلائی مگر ساتھ کھڑے آدمی نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
کچھ دیر بعد سعد بے سدھ ہو کر زمین پر گرا تو وہاں موجود لوگوں نے تاشا کی جیت پر تالیاں بجانا شروع کر دیں۔تاشا ہنستے ہوئے بری طرح سے روتی اور سٹپٹاتی ہوئی عشال کے پاس گیا اور اسے اپنے کندھے پر ڈال لیا۔وہ وہاں سے جا رہا تھا لیکن عشال ابھی بھی روتے ہوئے رنگ میں پڑے سعد کو دیکھ رہی تھی۔
تاشا عشال کو اپنے اڈے پر لے آیا تھا اور اپنے آدمیوں کو وہاں سے جانے کا بول کر عشال کو اپنے کمرے میں لا کر بیڈ پر پھینکا۔عشال چلاتے ہوئے اس سے دور ہوئی تھی۔
‘سوچا نہیں تھا کہ اتنا حسین انعام مل جائے گا آج کی لڑائی میں۔’
وہ ہنستے ہوئے عشال کے پاس آنے لگا لیکن اچانک ہی کوئی کھڑکی سے اندر داخل ہوا اور اس سے پہلے کہ تاشا کو کچھ سمجھ آتا ،اس شخص نے ایک رومال تاشا کے منہ میں ٹھونس کر اسے بری طرح سے مارنا شروع کر دیا۔عشال پریشانی سے اس لمبے بالوں والے آدمی کو دیکھ رہی تھی جو ایک جنونی انداز میں اس گھٹیا شخص کی درگت بنا رہا تھا۔
‘آر بی کہاں ملے گا۔۔۔۔؟؟؟’
وجدان نے اس سے سوال کیا تو تاشا کہ چہرے پر حیرانی کے آثار نظر آئے۔
‘تو کیسے جانتا۔۔۔۔۔’
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وجدان نے بہت بے دردی سے ایک مکا اسکے منہ پر مارا۔
‘جو پوچھا ہے نا اسکا جواب دے بس۔’
وجدان نے اسکی آنکھ کے پاس ایک لوہے کا لمبا سا نوکیلا ناخن کیا جو کہ اس نے اپنے ہاتھ کے نگوٹھے پر پہنا ہوا تھا۔
‘نن۔۔۔۔نہیں جانتا میں قسم سے۔۔۔۔۔’
وجدان نے ایک ہاتھ اسکے منہ پر رکھا اور انتہائی بے رحمی سے وہ نوکیلا ناخن اسکی آنکھ میں گھسا دیا۔یہ منظر دیکھتی عشال ایک چیخ مار کر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔
‘بول ورنہ ۔۔۔۔۔۔’
وجدان نے وہ ناخن دوسری آنکھ پر رکھا۔
‘نن۔۔۔۔نہیں میرا دوست۔۔۔۔میرا دوست کام کرتا ہے اسکے لئے۔۔۔۔مگر وہ بھی۔۔۔۔۔کچھ نہیں جانتا اس کے بارے میں۔۔۔۔کوئی بھی کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔۔بس اتنا پتہ ہے کہ ان دنوں وہ زیارت میں ہے کہیں اپنی کسی لڑکی کو لے کر۔۔۔۔۔لیکن یہ نہیں جانتا کہ اس شہر میں وہ کہاں رہتا ۔۔۔۔۔۔۔’
اتنا جاننا تھا کہ وجدان نے اسی نوکیلے ناخن سے اسکا گلا چیر دیا۔ایک چیخ کے ساتھ عشال نے سہمی ہوئی آنکھوں سے اس سفاک شخص کو دیکھا۔
🌈🌈🌈🌈
وجدان اور عشال واپس کمرے میں واپس آئے تو سعد وہاں پہلے سے ہی موجود تھا جو کہ اپنے کندھے پر موجود زخم کا معائنہ کر رہا تھا۔وجدان نے کمرے میں آتے ہی ایک جھٹکے کے ساتھ عشال کو چھوڑا تو وہ لڑکھڑا کر سعد کے پاس گری۔عشال نے خود کو وجدان کی باتیں سننے کے لئے تیار کیا لیکن وہ اسے چھوڑ کر خاموشی سے باہر چلا گیا تو عشال نے حیرانی سے سعد کو دیکھا۔
‘بات کیوں نہیں مانی تم نے؟کیوں آئی تھی وہاں جانتی بھی ہو کیا ہو سکتا تھا؟’
سعد اطمینان سے اپنے سوجے ہوئے کندھے پر سیک کرتا بول رہا تھا۔جبکہ عشال نے اسے یوں شرٹ لیس دیکھ کر اپنی نظریں جھکا لیں۔
‘آئی ایم سوری کہ میں یہاں سے باہر گئی مجھے لگا تھا کہ آپ دونوں کے ساتھ ہی رہوں گی لیکن وہاں قبرستان میں وہ آدمی زبردستی مجھے باندھ کر اندر لے گیا تو اس میں میرا کیا قص۔۔۔۔۔۔۔۔’
سعد کی غصے سے سرخ آنکھیں دیکھ کر عشال کی بولتی بند ہوگئی۔
‘ابھی بھی تمہیں لگتا ہے کہ تمہارا کوئی قصور نہیں؟ ہم یہاں وجدان کی مدد کے لیے آئے تھے تمہارے بچپنے کی وجہ سے نئی مصیبت میں پھنسنے نہیں۔’
سعد نے دانت پیستے ہوئے اسے کہا۔
‘اچھا سوری بولا نا اور ویسے بھی قصور آپکا بھی تو ہے۔’
سعد نے حیرت سے اسے دیکھا
‘میرا قصور۔۔۔۔۔۔۔’
‘جی ہاں اگر ہیرو بننے کا اتنا ہی شوق تھا تو وہاں گئے ہی کیوں ؟ہارنے کے لیے۔اس سے تو بہتر تھا وجدان جی کو بھیج دیتے کم از کم جیت تو جاتے وہ۔’
سعد کا منہ اسکی کی ہوئی بے عزتی پر کھل گیا تھا۔وہ تو اس آدمی کی درگت بنانے کا خواب رکھتا تھا لیکن وجدان نے اسے ہارنے کا اشارہ کیا تو سعد اس شخص سے ہار گیا ورنہ اسکی کوئی ہڈی پسلی تو توڑ ہی دینی تھی سعد نے۔
‘زیادہ درد ہو رہا ہے کیا؟’
عشال نے اسکے کندھے کو دیکھتے ہوئے بہت نرمی اور محبت سے پوچھا تو سعد نے اسکے چہرے کی معصومیت میں کھو کر نہ میں سر ہلا دیا۔
‘اچھی بات ہے پھر میں آرام سے سو جاتی ہوں وہاں بیڈ پر آپ یہاں صوفے پر ایڈجسٹ کر لینا۔’
عشال بہت اطمینان سے منہ اٹھا کر بیڈ کی طرف چلی گئی جبکہ سعد اسکی باتوں پر ابھی تک حیران تھا۔
What is this girl man?
سعد سرگوشی کر کے دوبارہ مسکراتے ہوئے اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
🌈🌈🌈🌈
صبح کے چار بجنے کو تھے لیکن وجدان ابھی تک اس ہوٹل کے لان میں ایک بینچ پر بیٹھا اپنے ہاتھ میں موجود خط کو دیکھ رہا تھا۔
انہوں نے صبح ہوتے ہی زیارت کے لیے نکل جانا تھا لیکن وجدان کے دل میں موجود بے چینی بہت ذیادہ بڑھ چکی تھی۔زرش کو کھوئے ہوئے تین ہفتے ہو چکے تھے۔وہ نہیں جانتا تھا کہ زرش کس حال میں ہو گی؟وہ زندہ بھی ہو گی یا۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نہیں اسے کچھ بھی نہیں ہو سکتا کچھ بھی نہیں ہو گا اسے۔
وجدان نے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دی تھی۔
‘مجھے پتہ ہے کہ تم زندہ ہو نور نا جانے کیسے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ تم زندہ ہو ۔جانتا ہوں کہ میں نے بہت ذیادہ غلط کیا یار لیکن میں کیا کرتا تم میرے دل پر اپنا قبضہ چاہ رہی تھی جہاں میں نے اتنے سالوں سے کسی کو بھی نہیں جانے دیا۔۔۔’
بہت بے بسی سے وجدان نے اس خط کو پھر سے پڑھا جو اب تک لفظ بہ لفظ اسے یاد ہو چکا تھا لیکن پھر بھی وجدان کو وہ پڑھ کر عجیب سا سکون ملتا۔
‘تم نے مجھ سے پوچھا نا نور کہ کیا یہ سب محبت ہے یا نہیں؟ میں تمہیں کیسے بتاتا یار اس سوال کا جواب تو میں خود بھی نہیں جانتا تھا۔بھلا محبت سے ہی نفرت کرنے والا شخص تمہیں کیا بتاتا؟’
کیا کچھ نہیں تھا وجدان کی ان سرگوشیوں میں محبت،تڑپ،کرب،تکلیف،پچھتاوا۔۔۔
‘اور اب جب مجھے اس سوال کا جواب ملا ہے تو تم ہی میرے پاس نہیں ہو ورنہ میں تمہیں سناتا کہ کس طرح میرے دل کی ہر دھڑکن چیخ چیخ کر محبت کا اقرار کر رہی ہے۔’
وجدان نے آنکھیں موند کر وہ خط اپنے سینے پر رکھا تو سکون کی ایک لہر اسکے تڑپتے دل میں اتری تھی۔زرش کا معصوم حسین چہرہ،اسکی کانچ سی آنکھیں ،وجدان کو دیکھ کر اسکے چہرے پر آنے والا سکون اور وہ شرمیلی سی مسکان،اشارہ کرنے کے لیے چلتے اسکے ان ہاتھوں کی ہر ادا،سب کچھ وجدان کے ذہن میں ایک فلم کی طرح چل رہا تھا۔
‘کس ناطے سے محبت کرتی ہو تم مجھ سے۔حثیت کیا ہے تمہاری۔جان سے مار دوں گا اگر دوبارہ مجھ سے کوئی ایسی بات کہی تو۔نفرت ہے مجھے تم سے،تمہارے وجود سے،تمہاری اس شکل سے۔’
پھر وجدان کے اپنے ہی کہے الفاظ اور آنسوؤں میں ڈوبی وہ کانچ سی آنکھیں اسکے ذہن میں آئی تھیں۔وجدان نے بہت کرب سے اپنی آنکھیں کھول دیں اور پھر سے اس خط کو دیکھا۔
‘سزا کا حق دار ہے تمہارا یہ پتھر دل محبوب میری جان لیکن میری خودغرضی تو دیکھو یہ دل سزا بھی تمہاری قربت میں ہی چاہتا ہے کیونکہ تمہاری دوری کا صرف خیال ہی اس چلتے دل کو روک دیتا ہے۔’
لان کی اس تنہائی میں صرف وجدان پر برستی چاندنی ہی اسکی محبت کی گواہ بن رہی تھی۔
‘مل جانا مجھے نور صرف ایک بار مل جانا پھر دیکھنا تمہارے دل کو دی جانے والی ہر اذیت کا مدوا محبت سے کروں گا اتنی محبت سے کہ تم اپنا ہر درد ہر تکلیف بھلا دو گی۔بس ایک بار مل جاؤ۔’
یہ آخری سرگوشی اس پتھر دل انسان نے نم آواز میں کی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
زرش کو اپنی زندگی سے ہی نفرت ہونے لگی تھی ۔وہ محسوس کر سکتی تھی کہ وہ پرندے کیسا محسوس کرتے ہوں گے جنہیں صرف اپنے شوق کے لیے لوگ پنجروں میں قید کر دیتے ہیں۔کیا ہوتی ہے ایک قیدی کی زندگی !صرف اپنے ارد گرد موجود دیوراوں کو دیکھنا اور ہر پل صرف آزادی کی خواہش اور اسکی دعا کرنا۔
وہ بس کسی بھی طرح سے وہاں سے غائب ہو جانا چاہتی تھی اسے سب کی بہت ذیادہ یاد آتی تھی اپنے ماں باپ بہنوں کی یاد تو اسکے دل کا ناسور ہی بنتی جا رہی تھی۔تبھی اچانک وہ سبز آنکھیں زرش کے دماغ میں آئیں تو دو آنسو ٹوٹ کر اسکی نگاہوں سے گرے۔
آپ نے میری محبت کی قدر نہیں کی نا وجدان اب میں آپ سے کبھی بھی نہیں مل پاؤں گی اور اگر کبھی مل بھی گئی نا تو بات بھی نہیں کروں گی آپ سے۔یہ وحشی تو میرے دماغ اور جسم کو اذیت دیتا ہے نا لیکن آپ نے تو میرے دل کو ہی ہزار ٹکڑوں میں بکھیر دیا اور اسکی تکلیف ہر ازیت سے بڑھ کر تھی وجدان ہر اذیت سے۔اب میں ٹوٹ چکی ہوں پوری طرح سے ٹوٹ چکی ہوں کبھی نہ جڑنے کے لیے۔
وہ اپنے ہی دماغ میں وجدان کے ایک فرضی وجود سے مخاطب تھی۔زرش کارپٹ پر بیٹھے اپنے خیالات میں اس قدر مگن تھی کہ اسے اپنے قیدی کی آمد کا علم ہی نہیں ہوا۔
‘کیسی ہو میری گڑیا۔۔۔۔؟؟؟’
آر بی نے کافی نرمی سے زرش کے سر پر ہاتھ رکھا تو زرش ڈر کر جلدی سے اس سے دور ہوئی اور خوف سے اسے دیکھنے لگی۔وہ کب واپس آیا تھا؟زرش نے تو اس کے کبھی نہ واپس آنے کی اتنی دعائیں مانگی تھیں۔
‘جانتی ہو یہ میرے ہاتھوں میں کیا ہے؟’
آر بی کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آگئی جس نے اس شیطان کو بہت زیادہ خوبصورت بنا دیا مگر تھا تو وہ شیطان ہی۔
تمہارا نکاح نامہ اور تمہارے شوہر کی ساری انفارمیشن۔’
زرش کی روح کانپی تھی اسکی بات پر۔آر بی کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
‘وجدان ہاشم خان ہے نا تمہارا شوہر۔ماس کمیونیکیشن میں بی ایس کر رکھی ہے اور کوہاٹ میں ایک جم کا مالک ہے۔ہاہاہاہا۔۔۔۔ایک جم کا مالک۔۔۔۔ ‘
آر بی کے چہرے اور لہجے میں بہت زیادہ حقارت تھی۔اس نے وہ پیپرز زرش کے قدموں میں پھینکے۔
‘تم اس کو مجھ پر فوقیت دے رہی ہو؟میری بجائے اس کے ساتھ زندگی گزارنا پسند کرو گی جو تمہیں کچھ بھی نہیں دے سکتا اور ایک طرف میں ہوں جو دنیا کی کوئی بھی چیز لا کر تمہارے قدموں میں رکھ سکتا ہے۔تمہاری کسی بھی خواہش کو تمہارے دل میں آنے سے پہلے ہی پورا کر سکتا ہوں۔’
زرش جانتی تھی کہ اسکے سامنے بیٹھا وہ شخص ایک شیطان ہے اور اس وقت وہ اسے بلکل اسی طرح ورغلا رہا تھا۔ایک غلط راہ چننے کا کہہ رہا تھا۔
‘جانتی ہو تم میں نے بچپن سے ہی سیکھا تھا کہ جو چیز آپ کو پسند آئے اسے مانگو نہیں بلکہ چھین لو کیونکہ مانگنے پر یہ دنیا کچھ بھی نہیں دیتی۔اب دیکھو نا غریب پیدا ہوا تھا بے تحاشہ دولت حاصل کر لی ۔لوگ کیڑا کہہ کر سائیڈ پر پھینک دیتے تھے دوسروں کو مجھ پر فوقیت دیتے اور اب میرے نام سے بھی تھر تھر کانپتے ہیں۔’
آر بی زرش کے پاس فرش پر بیٹھا تو زرش خوف کے مارے اس سے دور ہو گئی۔
‘بس ایک کمی رہ گئی محبت کی جو میں تمہیں بارہ سال کی عمر میں دیکھ کر ہی تم سے کر بیٹھا۔سوچا کہ ایسا کیا کروں کہ بڑے ہونے تک تم کسی اور کی نہ ہو جاؤ پھر ان پرانے لوگوں کا خیال آیا جو اپنی ملکیتوں پر اپنا نشان چھوڑ دیتے تھے تا کہ ہر کوئی جان جائے کہ وہ چیز کس کی ہے۔میں نے بھی تو ایسا ہی کیا تھا۔’
آر بی نے زرش کے کندھے کو نرمی سے چھوا۔
‘لیکن دیکھو نا طریقہ کار آمد نہیں رہا اس جم کے مالک نے پھر بھی تمہیں حاصل کر لیا۔’
آر بی نے دانت پیستے ہوئے اپنے ہاتھ کی سختی کو بڑھا دیا تو زرش سسک کر پھر سے رونے لگی۔
‘لیکن کوئی بات نہیں جیسے اس دنیا سے ہر چیز چھینی ہے نا اسی طرح تمہیں بھی چھین لوں گا اور تمہاری چاہ تو مجھے اس پوری دنیا سے بڑھ کر ہے میری گڑیا۔آخر کار تم وہ واحد لڑکی ہو جو پہلی نظر میں ہی اس کالے دل میں اتر گئی۔پہلی نظر کی محبت کو نہیں مناتا تھا میں لیکن نا جانے کیوں تم سے تو پہلی نظر میں عشق کر بیٹھا۔’
آر بی نے بہت زیادہ لگن اور محبت سے زرش کو دیکھا لیکن زرش اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ یہ کیسی محبت ہے جو اسے اتنی تکلیف پہنچاتی ہے؟یہ کیسا عشق ہے جسنے اسکی آبرو تک کی پروا نہیں کی تھی؟یہ سب صرف محبت کی آڑ میں چھپی ضد اور جنون تھا اور کچھ نہیں
‘اور میرا عشق زرا سا خود غرض ہے میری جان اسکے لئے تمہیں پانا سب سے ذیادہ اہم ہے۔پہلے ہی چھ سال انتظار کیا ہے میرے اس عشق نے اب مزید انتظار نہیں کر سکتا۔’
آر بی نے زرش کے قریب ہونےکی کوشش کی تو زرش تڑپ کر اس سے دور ہٹنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس شخص کی فولادی گرفت سے نکل پانا ناممکن تھا۔
‘اس لئے بہتر یہی ہے میری جان کہ شرافت سے مان جاؤ ورنہ مجھے اور بھی بہت طریقے آتے ہیں اپنی بات منوانے کے۔’
آر بی نے کچھ اور پیپرز زرش کے قدموں میں پھینکے زرش نے ایک نظر انہیں دیکھا ۔وہ خلع کے کاغذات تھے۔
‘دستخط کرو ان پر۔۔۔۔۔’
آر بی نے پین اس کے سامنے کر کے کہا تو زرش نے فوراً اپنا سر انکار میں ہلایا۔
‘دیکھو میری گڑیا میں شرافت سے کہہ رہا ہوں بات مان جاؤ میری ۔تمہیں پھر سے مارنے کا کوئی ارادہ نہیں میرا۔’
آر بی نے اسے دھمکایا مگر زرش پھر بھی روتے ہوئے انکار میں ہی سر ہلا رہی تھی وہ بھلا کیسے یہ کر سکتی تھی کبھی بھی نہیں یہ نکاح ہی تو اسے اب تک اس شیطان سے بچائے ہوئے تھا۔آر بی نے سختی سے اسکے بال اپنی مٹھی میں پکڑے۔
‘بڑا مان ہے نا تجھے اس شخص پر ۔۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔۔ کوئی بھی شریف مرد اتنا عرصہ گھر سے باہر کسی اور مرد کے پاس رہنے والی عورت کو نہیں اپناتا۔وہ تو جاتے ہی تجھے طلاق دے دے گا۔اس سے بہتر ہے کہ تو ابھی اس سے خلع لے اور میری بیوی بن جا قابل رشک ہو گی تیری زندگی۔ورنہ تیرے اور تیری آبرو کے بارے میں جو غلط فہمی میں باقیوں کے ذہن میں ڈال سکتا ہوں اس عمل کو سر انجام دینے میں مجھے کوئی مسلہ نہیں ہے۔اس لئے اپنی عزت بچانی ہے نا تو شرافت سے مان جا ورنہ۔۔۔۔۔’
آر بی نے اسکے کندھے سے دوپٹہ ہٹایا تو زرش بہت دیر گھبرا کر اسکے چہرے کو دیکھتی رہی۔زرش کا خوف گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چلا تھا۔زرش نے ایک نظر ان کاغذات کو دیکھا اور بہت سوچنے کے بعد ان کاغزات سے دھیان ہٹا کر بہت زیادہ حقارت سے اس نے انکار میں سر ہلایا۔
چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔ایک زور دار تھپڑ زرش کے چہرے پر مارا گیا تھا۔ایک جھٹکے سے زرش کو دھکا دے کر آر بی اٹھ کھڑا ہوا۔
‘تو قابل ہی نہیں ہے میری بیوی بننے کے۔۔۔۔تیرا یہی انجام کرنا چاہیے کہ وہ شخص تیری صورت بھی نہ دیکھے۔پھر در بدر کی ٹھوکریں کھائے تو۔’
زرش اسکی بات پر کانپ کر رہ گئی تھی۔
‘کل تک کا۔۔۔۔۔۔صرف کل تک کا وقت ہے تیرے پاس یا تو ان کاغزات پر دستخط کر دینا نہیں تو فیصلہ میرے ہاتھوں میں ہو گا۔۔۔۔۔سمجھ رہی ہے نا کہ پھر تیرے ساتھ کیا کروں گا اس لیے شرافت سے مان جا۔’
طنزیہ سی مسکراہٹ زرش پر اچھال کر آر بی وہاں سے چلا گیا۔جبکہ زرش دوبارہ سے اپنی قسمت کو رونے لگی۔