64.4K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

رات کے بارہ بجنے والے تھے اور الطاف اپنے کمرے میں بیٹھا دفتر کا کام کرنے میں مصروف تھا۔تبھی اچانک اسکے پاس پڑا فون بجنے لگا۔
‘ہیلو۔’
‘تم اپنا ایک بھی۔۔۔۔۔کام ٹھیک سے سر انجام نہیں۔۔۔۔نہیں دے پائے۔۔۔۔اس کی سزا تمہیں ملنا بہت ضروری ہے۔’
الطاف کے فون اٹھاتے ہی ایک لڑکی بہت ذیادہ روتے ہوئے بولنے لگی۔اس لڑکی کی آواز تو وہ کہیں بھی پہچان سکتا تھا یہ اسکی اکلوتی بیٹی کی آواز تھی۔
‘حوریہ کیا ہوا ہے آپ ایسے رو کیوں رہی ہو اور یہ کیا بات کر رہی ہو آپ؟؟۔’
وہ بہت زیادہ پریشان ہوا تھا۔
‘تم جیسا۔۔۔۔۔کیڑا زندہ نہیں رہنا چاہئے۔۔۔۔ورنہ سب۔۔۔۔سب کو نگل جائے گا۔۔۔۔تمہیں مرنا ہو گا۔۔۔۔’
حوریہ رونے کی وجہ سے اب ہچکیاں لے رہی تھی۔جبکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ اسکی بیٹی کسی مصیبت میں ہے۔ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا تھا وہ تو گرلز ہاسٹل میں بہت حفاظت سے تھی۔
‘حوریہ کون ہے بیٹا کون تمہیں پریشان کر رہا ہے۔؟’ وہ اب بے چین ہوا تھا۔
‘تمہاری بیٹی کے پاس۔۔۔۔ وقت بہت کک۔۔۔۔کم ہے لیکن تم چاہو تو۔۔۔۔بچا سکتے ہو اسے۔۔۔۔’
حوریہ کی رندھی ہوئی آواز اسے سنائی دی۔
‘تم میری بیٹی نہیں ہو سکتے کون ہو تم بتاؤ مجھے۔۔۔۔’
الطاف فون میں چلایا ۔
‘میں تمہاری بیٹی۔۔۔۔نہیں ہوں ۔۔۔۔میں تو صرف لکھ رہا ہوں۔۔۔۔اور تمہاری کمینی بیٹی یہ پڑھ رہی ہے۔۔۔۔’
‘چھوڑ دو میری معصوم بچی کو اسنے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔کون ہو تم۔۔۔۔؟’
اب کی بار وہ بھی روتے ہوئے بولا۔
‘اپنی بندوق سے۔۔۔۔ایک سوراخ۔۔۔۔اپنے دماغ میں کر دو۔۔۔۔یا پھر کل اپنی بیٹی۔۔۔۔کا چھلنی ہوا وجود۔۔۔۔اسکے کککا۔۔۔۔کالج سے لے جانا۔۔۔۔’
حوریہ زارو قطار رونے لگی مگر وہ کسی اور کے الفاظ ہی استعمال کر رہی تھی براہ راست وہ اپنے باپ کو کچھ بھی نہیں کہہ رہی تھی۔
‘تمہارے پاس۔۔۔۔وقت بہت کم ہے۔۔۔۔’
حوریہ کی آواز ایک بار پھر سے اسے سنائی دی۔
‘دیکھو ایک بار میری بات سن لو۔۔۔۔’
اس نے منت کی ۔
‘دس۔’
‘نو’
‘آآ۔۔۔۔آٹھ۔۔۔۔’
حوریہ کی روتی ہوئی آواز پر اسکے ہاتھ کانپنے لگے۔
‘سات۔’
‘نہیں رک جاؤ ۔کون ہو تم کیا چاہئیے میں کچھ بھی دینے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔ہمیں چھوڑ دو۔۔۔۔’
الطاف نے بھیک مانگی تو ایک پل کو دوسری طرف خاموشی ہو گئی۔
‘چھ۔’
‘پپ۔۔۔۔۔پانچ۔’
‘نہیں پلیز نہیں۔۔۔۔’
وہ زمین پر بیٹھے رو رہا تھا مگر اسکا ہاتھ بندوق تک جا چکا تھا۔اسے اسکی بیٹی اپنی جان سے بھی ذیادہ عزیز تھی۔
‘چار۔’
‘تت۔۔۔۔تین’
‘کون ہو تم آخر کون ہو تم۔؟؟؟’
وہ بندوق اپنی کنپٹی پر رکھ کر چلایا۔
‘دد۔۔۔۔دو۔۔۔ ‘
‘ای۔۔۔۔’
ٹھاہ۔۔۔۔حوریہ کا لفظ پورا ہونے سے پہلے ہی وہ اپنے دماغ میں گولی مار چکا تھا۔جبکہ گولی کی آواز کے بعد اب فون میں سے صرف حوریہ کی چیخیں اور رونے کی آواز آرہی تھی۔۔۔
‘سسس۔۔۔۔۔۔۔سکندر۔۔۔’
اسکے زمین پر گرے موبائل فون میں سے حوریہ کی آواز آئی اور پھر اس کے بعد وہ فون بند ہو گیا۔
💖————💖
زرش روتے ہوئے اپنے کمرے میں واپس آئی اس نے تو کبھی زندگی میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا سامنا کبھی اس شخص سے ہو گا۔وہ جو اسے خوابوں میں دیکھ کر سکون محسوس کرتی تھی اس سبز آنکھوں والے مسیحا کا صرف خیال ہی اس کا تمام خوف بھلانے کے لیے کافی ہوتا تھا اور آج تو وہ اسکے سامنے تھا۔
لیکن اس نے زرش کو پہچانا نہیں تھا۔زرش کو اسکی آنکھوں میں وہ اجنبیت بہت زیادہ تکلیف دے گئی۔مگر وہ بھی کیوں یاد کرتا اسے؟وہ کیا تھی بس ایک مظلوم لڑکی ہی نا جسے اس نے ایک شیطان کے چنگل سے نکالا تھا۔زرش میں تو ایسا کچھ بھی خاص نہیں تھا۔الٹا وہ تو دھبہ تھی ایک پھر کیونکر وہ اسے یاد رکھتا۔
زرش بیڈ پر بیٹھ کر بے آواز رونے لگی وہ اتنا کیوں رو رہی تھی یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھی۔ایسا کوئی تعلق تو نہ تھا اس شخص سے کہ اسکا بھول جانا اتنی تکیف دے گیا تھا۔
‘زرش بیٹا وہاں کیوں بیٹھی ہو؟’
فاطمہ بیگم کی آواز پر زرش نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے ۔فاصلہ بیگم نے لائٹ آن کی۔
‘کیا ہوا میری جان سب ٹھیک ہے نا؟’
فاصلہ بیگم اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر پریشان ہوئیں۔زرش نے ہلکا سا مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔
‘تو پھر وہاں کیوں بیٹھی ہو؟’
میں پانی پینے گئی تھی۔
زرش نے اشارہ کیا تو فاطمہ بیگم مسکرا دیں۔
‘اچھا چلو آؤ سو جاؤ میری جان۔’
فاطمہ بیگم نے اسے پیار سے پاس بلایا تو زرش انکے پاس جا کر لیٹ گئی۔فاطمہ بیگم نے مسکرا کر اسکے ماتھے کو چوما تو زرش آنکھیں موند گئی لیکن دماغ پر ابھی بھی وہ سبز آنکھیں ہی سوار تھیں اور ایسا تو چھے سال سے تھا کیونکہ انہیں یاد کیے بغیر زرش کو کبھی نیند ہی نہیں آئی تھی۔
💖————💖
وجدان کی آنکھ اپنے گھر میں ہونے والے شور و غل سے کھلی اور اس سب سے اب اسے چڑ ہو رہی تھی کیونکہ اسے اکیلے رہنا بہت ذیادہ عزیز تھا اور اب اسے اپنا گھر چڑیا گھر لگ رہا تھا۔وہ اکتا کر نیچے آیا تو اسکی نظر کھلکھلا کر ہنستی ہوئی جانان پر پڑی جو کہ زرش کو گلے لگا کر بولتی ہی جا رہی تھی۔
‘زری تمہیں پتہ ہے میں نے تمہیں کتنا یاد کیا ؟مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں اتنی اچانک آپ لوگوں سے ملنے آ رہی ہوں۔’
جانان نے اب باقائدہ زرش کا گال چوما جبکہ پاس کھڑا شایان انتہائی محبت سے مسکراتے ہوئے جانان کو دیکھ رہا تھا۔وجدان نے وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا۔
‘اسلام و علیکم وجدان بھائی کیسے ہیں آپ ؟’
جانان نے اسے مخاطب کیا تو وجدان نے ایک گہرا سانس لے کر خود پر قابو کیا،صرف ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا اور خود شایان کے پاس چل دیا۔
‘یہ بندہ کبھی نہیں سدھر سکتا کریلے ہیں پورے وہ بھی کڑوے والے۔
جانان نے زرش کے کان میں سرگوشی کی تو زرش نے ایک نگاہ وجدان پر ڈالی۔وہ تو ابھی بھی اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ شخص اسکی نظروں کے سامنے تھا۔
‘سعد بھائی کہاں ہیں؟’
جانان نے ارد گرد نظر دوڑا کر پوچھا۔
‘کام سے گیا ہے وہ۔’
وجدان نے عام سا جواب دیا اور پھر شایان کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔شایان اسکی آنکھوں کے اشارے بھی سمجھتا تھا اور اس وقت وجدان ان سب لوگوں کی اپنے گھر میں آمد کی وجہ سے بے چین تھا۔شایان کے لبوں کو ایک شرارتی مسکان نے چھوا۔
‘جانان بیٹا آپ لوگ کچن میں جا کر کھانے کا کچھ کر لو۔’
سلمان صاحب کے اتنا کہتے ہی جانان نے زرش کا ہاتھ پکڑا اور اسے بہت سی باتیں سناتے ہوئے ساتھ لے گئی۔فاطمہ بیگم بھی انکے پیچھے ہی چلی گئی تھیں۔
‘ہمیں تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے وجدان۔’
شایان فوراً سے مدعے پر آیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وجدان نہ تو فالتو باتیں کرتا ہے اور نہ ہی اسے یہ پسند ہے۔وجدان ہاں میں سر ہلا کر ان کے ساتھ ڈائننگ روم میں چلا گیا۔
‘وجدان ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔’
شایان نے سلمان صاحب کی ویل چیر کو صوفے کے پاس کھڑا کیا اور خود بھی ان کے قریب ہی بیٹھ گیا۔
‘ہاں بتاؤ۔’
وجدان نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر پوچھا۔لیکن شایان بات کرنے کی بجائے سلمان صاحب کو دیکھنے لگا۔
‘ہماری ایک گزارش ہے تم سے۔۔۔۔۔’
سلمان صاحب نے ہچکچاتے ہوئے بات شروع کی۔
‘وجدان ہم چاہتے ہیں کہ تم زرش سے نکاح کر لو۔۔۔’
شایان نے اچانک سے کہا تو وجدان نے کوئی تاثر دیے بغیر ہی اسے دیکھا اور یہ بات وجدان کو بہت پراسرار بناتی تھی جہاں دوسرے لوگوں کے ارادوں کا انداذہ تاثرات سے لگایا جا سکتا تھا وہیں وجدان خان برف کا ایک پتلا تھا۔ایک ایسی کتاب تھا جو پڑھنے والے کے لئے بلکل کوری تھی ۔
‘کیا یہ کوئی مذاق ہے؟’
وجدان نے ایک ابرو اچکا کر شایان سے پوچھا۔
‘وجدان میں جانتا ہوں کہ تم کسی بھی قسم کا رشتہ نہیں بنانا چاہتے۔تمہیں یہ نکاح صرف نام کے لیئے کرنا ہے۔ہم کبھی بھی اس رشتے کو ختم کر سکتے ہیں۔’
‘وجہ جان سکتا ہوں؟’
وجدان کا انداز بلکل عام سا تھا۔
‘ وہ لڑکی بہت بڑے خطرے میں ہے۔ایک شخص پڑا ہے اسکے پیچھے اور فلحال ہم اسکے بارے میں سوائے اسکے نام کے کچھ نہیں جانتے۔ہم زرش کو عثمان ،میرے یا کسی اور رشتہ دار کے پاس نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ وہ آدمی سلمان صاحب کے ہر رشتے دار کے پاس زرش کو ڈھونڈنے گا۔مگر تمہارے بارے میں وہ کبھی بھی شک نہیں کر سکتا۔’
شایان نے اسے ساری بات کھل کر بتائی۔
‘لیکن نکاح ضروری نہیں ہے یہ لوگ یونہی رہ سکتے ہیں یہاں۔’
وجدان نے بات کو ختم کرنے
کی کوشش کی۔
‘یہ زرش کے تحفظ کے لیئے ہے وجدان۔زرش کسی اور کے نکاح میں ہو گی تو وہ کچھ نہیں کر سکے گا اور اس میں دلچسپی کھو دے گا۔’
شایان جانتا تھا کہ وجدان کو اس معاملے میں منانا بہت ذیادہ مشکل ہو گا۔
‘معاف کیجئے گا پر میں ایک سترہ اٹھارہ سال کی بچی سے شادی نہیں کر سکتا پلیز آپ کسی اور سے اس بارے میں بات کر لیں۔’
وجدان اپنی بات کہہ کر وہاں سے جانے لگا۔
‘بارہ سال کی تھی میری معصوم بچی جب اس درندے کی نظر اس پر پڑی ۔اپنی ملکیت کہنے لگا وہ میری زرش کو اور مجھ سے کہا تھا کہ اسکے جوان ہوتے ہی وہ اس بیاہ کر لے جائے گا۔پھر وہ نا جانے کہاں غائب ہو گیا اور اب اتنے سالوں بعد واپس آ کر زرش کا مطالبہ کر رہا ہے۔میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا چہرہ تک نہیں دیکھا اسکا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ بہت طاقتور اور ظالم ہے وہ۔بس کسی طرح میری بچی کی حفاظت میں مدد کر دو میری میں تمہارے ہاتھ جوڑتا ہوں۔’
سلمان صاحب نے روتے ہوئے اپنے ہاتھ جوڑ دیے تو وجدان نے ایک گہرا سانس لیا اور پھر کافی دیر سوچنے کے بعد بولا۔
‘میں سعد سے اس بارے میں بات کرتا ہوں امید ہے وہ مان جائے گا لیکن میں اس سب کے لئے بلکل بھی صیح انسان نہیں ہوں۔’
وجدان کا لہجہ الجھن سے بھرا تھا۔
‘اگر میں سعد کو اس سب کے لئے ٹھیک سمجھتا تو میں اس وقت تمہارے نہیں اس کے سامنے ہوتا۔وجدان سعد خود بھی اس سب سے خطرے میں پڑھ سکتا ہے اور یہ بات تم بھی جانتے ہو کہ اس میں اور تم میں بہت فرق ہے۔’
شایان کی بات پر وجدان نے کافی دیر غور کیا اور پھر انکار میں سر ہلا کر بولا۔
‘معاف کرنا دوست میں ایسا کچھ نہیں کروں ۔۔۔’
‘وجدان میری خاطر یار میری دوستی کی خاطر۔پلیز۔’شایان کے لہجے میں یہ بے بسی وجدان کو بلکل بھی پسند نہیں آئی تھی۔وجدان نے غصے سے اپنے دانت پیسے۔
‘ٹھیک ہے مگر یہ رشتہ صرف اس شخص کے پکڑے جانے تک ہی قائم رہے گا اس کے بعد میں اسے آزاد کر دوں گا تب تک وہ میرے پاس ایک امانت کی طرح محظوظ رہے گی کوئی تعلق نہیں ہو گا ہمارے درمیان یہ سب صرف ایک سمجھوتا ہے’
وجدان اپنی بات کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔سلمان صاحب خود بھی اپنی پھول سی بچی اس کے حوالے نہیں کرنا چاہتے تھے مگر وہ اسے اس شیطان کے حوالے بھی تو نہیں کر سکتے تھے۔
‘آپ وجدان کو سارا سچ بتا سکتے تھے ۔’
شایان نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔
‘نہیں شایان میں جانتا ہوں کہ پوری سچائی جاننے کے بعد کوئی بھی میری زری کو قبول نہیں کرتا۔یہ راز کبھی کسی کے سامنے نہیں آئے گا۔کبھی نہیں۔’
سلمان صاحب اس رات کو یاد کر کے ایک بار پھر سے کانپ گئے۔
💖————💖
زرش حیرت سے آنکھیں کھولے اپنی ماں کی باتیں سن رہی تھی۔اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا۔وہ شادی نہیں کر سکتی تھی وہ تو کسی کے قابل ہی نہیں تھی۔
میں یہ شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔ آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں۔
زرش کے ہاتھ بہت زیادہ تیزی سے اشارے کر رہے تھے۔ فاطمہ بیگم نے بہت مشکل سے اسکی بات سمجھی ۔
‘بیٹا کیوں نہیں کر سکتی آپ یہ شادی۔۔۔۔۔ وجدان بہت خیال رکھے گا آپکا وہ ایک بہت اچھا انسان ہے۔’
فاطمہ بیگم نے پیار سے کہا لیکن زرش انکار میں سر ہلا رہی تھی۔
پر میں اچھی نہیں ہوں۔میرے سے کوئی بھی شادی نہیں کرنا چاہے گا میں بری ہوں۔
زرش کے اشاروں اور اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر فاطمہ بیگم نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
‘نہیں میرا بیٹا آپ بہت ذیادہ اچھی ہو۔وجدان اچھا انسان ہے وہ تمہاری کمزوریوں کو لے کر تمہیں نیچا نہیں دیکھائے گا۔’
فاطمہ بیگم جانتی تھیں کہ زرش بہت ذیادہ حساس تھی اور اپنی کمزوری کی وجہ سے خود کو کم تر سمجھتی تھی۔حالانکہ اپنی بیٹی کے خوف اور اسکے درد سے تو وہ بھی انجان تھیں۔زرش روتے ہوئے ان سے دور ہوئی تھی۔
وہ مجھ سے پیار نہیں کرتے۔۔۔۔بابا کے کہنے پر شادی کر رہے ہیں۔
زرش نے اشارہ کیا تو فاطمہ بیگم نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔وہ اپنی بیٹی کو مزید اسکی نظروں میں گرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔اس لئے انہوں نے جھوٹ بولنے کا فیصلہ کیا۔
‘نہیں میرا بچہ تمہارے بابا نے وجدان کو مجبور نہیں کیا اس رشتے کے لیے۔وجدان تمہیں پسند کرتا ہے اسی لئے تو وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔’
زرش نے اپنی آنکھیں حیرت سے مزید پھیلا لیں۔
آپ جھوٹ بول رہی ہیں نا؟
زرش کے سوال پر فاطمہ بیگم نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
‘نہیں زرش وہ سچ میں تمہیں پسند کرتا ہے اور تم سے شادی کرنا اسکی خواہش ہے میرا بچہ۔’
فاطمہ بیگم نے اسکے چہرے کو پیار سے تھاما تھا۔وہ جانتی تھیں کہ وہ جھوٹ بول رہی ہیں سلمان صاحب نے بہت عرصے کے بعد انکی کوئی بات سنے بغیر صرف اپنا فیصلہ سنایا تھا فاطمہ بیگم نے فوراً انکار کر دیا لیکن سلمان صاحب کی آنکھوں میں آنسو اور انکے جڑے ہوئے ہاتھ دیکھ کر جھک گئیں۔
‘دیکھو زرش تم بہت زیادہ اچھی اور پیاری لڑکی ہو اور اسی لئے تم کسی کی بھی خواہش ہو سکتی ہو۔اپنے آپ کو کم تر مت سمجھو۔’
فاطمہ بیگم نے پیار سے اسکے ماتھے کو چوما اور مسکرا کر باہر کی طرف چل دیں۔انہیں زرش سے جھوٹ بولنا بہت ذیادہ برا لگا تھا۔
تم کسی کے قابل نہیں ہو ۔۔۔۔۔۔ تمہارے وجود پر میری چھاپ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔صرف آر بی کی ہو تم ۔۔۔۔۔ہمیشہ یاد رکھنا یہ۔
بہت پرانے الفاظ زرش کے دماغ میں گونجے تھے جنہیں یاد کر کے وہ آج بھی کانپ جاتی تھی۔زرش نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی شرٹ کو کندھے سے ہٹایا تھا۔جہاں آج بھی اسکی جلی ہوئی جلد پر آر بی لکھا ہوا تھا۔
نہیں امی جھوٹ بولتی ہیں۔۔۔۔۔کسی کے قابل نہیں میں۔۔۔۔۔کسی کے بھی نہیں۔۔۔۔ایسا ہی کہا تھا اس شیطان نے ہاں۔۔۔۔۔۔۔ایسا ہی کہا تھا۔
زرش اپنی سوچ پر بے آواز رونے لگی وہ اس خوف سے،اسکے خیالات سے نجات چاہتی تھی۔وہ چلا چلا کر پوری دنیا کو اپنی بیتی، اپنا درد بتانا چاہتی تھی۔پر یہ ناممکن تھا ۔اسکے لیے سب کچھ ناممکن تھا۔
💖————💖
سعد آرمی ہیڈ کوارٹر میں کرنل منور صدیقی صاحب کے سامنے بیٹھا تھا۔بہت ذیادہ ٹریننگ اور جدوجہد کے بعد وجدان اسے آئی ایس آئی میں شامل کروانے کے قابل ہو ہی گیا تھا۔سعد کو تو یہ ناممکن ہی لگا تھا مگر بادشاہ کو پکڑنے اور شایان کی بے گناہی کو ثابت کرنے میں سعد کا عمل دخل اسکے کافی کام آ گیا تھا۔سعد نے ساتھ بیٹھے وجدان کو دیکھا جو ہمیشہ کی طرح ہر شے سے اکتایا ہوا نظر آ رہا تھا۔
‘ تو کیپٹن سعد کیا آپ ہماری سیکرٹ انٹیلیجینس کا حصہ بن کر خوش ہیں؟’
کرنل منور صاحب نے پروفیشنل انداز میں پوچھا۔
‘یس سر۔۔’
سعد نے کافی پر جوشی سے جواب دیا۔
‘کیپٹن سعد میرا ارادہ تو آپ کو پہلے مشن پر افعانستان بھیجنے کا تھا لیکن آپکی خواہش ملک میں ہی رہنے کی تھی۔’
کرنل صاحب کی بات پر سعد ہلکا سا مسکرایا۔
‘سر بہت سے غدار دہشت گرد تو ہمارے اپنے ملک میں چھپے بیٹھے ہیں ۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ یہی رہ کر اپنے ملک کو ان سانپوں سے بچاؤں۔’
سعد کا محب الوطنی کا جزبہ اسکے ہر انداز سے چھلک رہا تھا۔وہ ان نوجوانوں میں سے تھا جو ملک کے تحفظ کی خاطر مرنے کو تیار بیٹھے تھے۔کرنل منور صاحب نے سعد کی بات پر اسے مسکرا کر دیکھا۔
‘ ویری گڈ کیپٹن سعد ہمارے جوانوں کا یہی جزبہ ہے جسکی وجہ سے ہمارا یہ پاک وطن قائم و دائم تھا اور ہمیشہ رہے گا۔’
‘انشا اللہ سر۔’
سعد نے پر جوشی سے کہا۔کرنل صاحب نے اپنا رخ وجدان کی طرف کیا جو سعد کے برعکس ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مصروف تھا۔
‘ایک نئی مصیبت نے جنم لیا ہے وجدان۔کوئی ہے جو ایک سال میں پندرہ لوگوں کی جان لے چکا ہے مگر ابھی تک ہم اسکے بارے میں کچھ بھی نہیں جان پائے۔پہلے یہ کیس پولیس کے پاس تھا،پھر سی آئی اے،پھر آئی بی کے پاس گیا لیکن مکمل طور پر ناکامی کے بعد اب یہ کیس آئی ایس آئی کے پاس آیا ہے اور اس شخص کو ایک دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔’
وجدان کی آنکھوں میں چمک آئی ۔سعد بھی کافی توجہ سے انکی بات سن رہا تھا۔
‘اس شخص نے ہر ایک کی جان لینے میں اپنے آپ کو کبھی سامنے کیا ہی نہیں۔بلکہ کسی نہ کسی طرح سے انہیں خود کشی پر مجبور کر دیا۔زیادہ تر لوگ حکومت کے کافی خاص آدمی تھے اور کچھ تو بزنس مین تھے۔اسی وجہ سے بہت زیادہ تہلکا مچ گیا ہے اور اس شخص کو پکڑنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔’
وجدان نے اثبات میں سر ہلایا۔کرنل صاحب نے ایک فائل وجدان کی طرف بڑھائی تو وجدان نے اسے پکڑ کر کھولا۔سامنے ہی کسی مشہور وکیل الطاف احمد کے قتل کی ساری ڈیٹیلز تھیں۔
‘اب یہ الطاف صاحب کا کیس ہی دیکھ لو۔اس شخص نے انکی بیٹی کو کڈنیپ کیا اور اس پر بم باندھ کر اسی سے اپنے باپ کو خود کشی کرنے کا کہا۔’
معاملے کی پیچیدگی کو سمجھ کر وجدان کی آنکھوں میں چمک بڑھتی جا رہی تھی۔یہ کام دلچسپ ہونے والا تھا۔
‘اس لڑکی نے کچھ بتایا نہیں اس شخص کے بارے میں؟’
وجدان کے سوال پر کرنل صاحب نے ایک ٹھنڈی آہ بھری تھی۔
‘وہ لڑکی ہوش میں آئی تو وہ ایک کرسی سے بندھی تھی اور اسکے سامنے میز پر ایک ٹیب موجود تھا جس میں لکھے گئے الفاظ کے ذریعے اس شخص نے بچی کو دھمکایا اور الطاف صاحب کے خود کشی کرنے کے بعد کسی نے اسے انجیکشن لگا کر بے ہوش کر دیا۔پھر اسکی آنکھ واپس اپنے ہاسٹل میں کھلی تھی۔’
وجدان نے اثبات میں سر ہلایا۔
‘ہم اس شخص کے بارے میں جانتے کیا ہیں ؟’
اب کی بار سوال سعد کی طرف سے آیا تھا۔
صرف نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکندر۔۔۔’
اس نام پر وجدان کے چہرے پر ایک پل کے لیے حیرانی آئی تھی جو کہ سعد سے چھپی نہیں رہی تھی۔
‘ اس کے علاوہ یہ کہ ایک لڑکی نے سکندر کو دیکھا تھا۔اس نے سی آئی اے کو جو حلیہ بتایا وہ زیادہ کام تو نہیں آیا مگر سکندر اب اس لڑکی کے پیچھے پڑا ہے۔کئی بار جان لیوا حملے کیے ہیں اس پر جن سے کسی نہ کسی طرح وہ بچتی رہی ہے۔لیکن آخری بار اس نے موت کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔شاید آپ کو وہ سکندر کے بارے میں کچھ بتا پائے۔فلحال تو وہ کرنل آصف صاحب کے پاس ہے۔’
وجدان نے ہاں میں سر ہلایا۔جبکہ کرنل آصف کے ذکر پر سعد مسکرایا تھا۔اس شخص نے سعد پر بہت احسان کیے تھے یا یوں کہنا بہتر ہو گا کہ سعد جو کچھ بھی تھا انہیں کی وجہ سے تھا۔
‘ وجدان تمہیں اس سکندر کو پکڑنا ہے۔پہلے ہی ہم اس دارا کو نہیں پکڑ سکے اور اب یہ نیا دشمن پیدا ہو گیا ہے۔ پتہ لگاؤ اسکا وجدان اور اس مشن میں کیپٹن سعد تمہیں ایسسٹ کریں گے۔’
وجدان نے ہاں میں سر ہلایا اور سعد بھی اس فیصلے سے متفق تھا۔
‘کچھ جوان بھی تمہارے ساتھ اس مشن۔۔۔۔’
‘مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔اپنا کام اکیلے کرنا ذیادہ پسند ہے۔سعد کا ساتھ کافی ہے میرے لیے۔بس چار مہینے کا وقت دے دیں مجھے۔’
وجدان نے کرنل صاحب کی بات کاٹی تو انہوں نے وجدان کو غصے سے دیکھا۔مگر وہ جانتے تھے کہ وجدان باقی جوانوں سے بہت مختلف تھا اور انہیں اسکی قابلیت پر پورا بھروسہ تھا اس لئے وہ خاموش رہے۔
‘ٹھیک ہے وجدان چار مہینے کا وقت ہے۔اگر تم یہ نہیں کر پائے تو مشن کسی اور کے دے دیا جائے گا۔’
وجدان نے ہاں میں سر ہلایا اور خاموشی سے باہر کی طرف چل دیا۔سعد نے بھی اٹھ کر کرنل صاحب کو سیلیوٹ کیا۔زندگی میں یہ ایک مقصد حاصل کر کے وجدان کافی خوش تھا۔
💖————💖
(ماضی)
الفاظ درانی ایک انتہائی زیادہ اچھے اور فرشتہ صفت انسان تھے۔لوگ کہتے تھے کہ خدا نے انہیں اس زمین پر لوگوں کی مدد کے لئے بھیجا ہے وہ انسان کے روپ میں خدا کا بھیجا ہوا ایک فرشتہ ہیں۔
اپنی خاندانی جائیداد کے اکلوتے وارث اور بہت بڑی کنسٹرکشن کمپنی کے اونر ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان کے امیر ترین لوگوں میں سے تھے۔لیکن اس امیر ترین انسان نے ہمیشہ اپنا سارا پیسہ غریبوں پر لٹایا تھا۔مگر جب آپ اللہ کی راہ میں کچھ دیتے ہیں تو وہ چار گنا زیادہ ہو کر آپ کو ملتا ہے۔یہی معاملہ الفاظ درانی کے ساتھ بھی ہوتا تھا۔
ضرورت مندوں پر پیسا پانی کی طرح بہانے کے باوجود کم ہونے کی بجائے کئی گنا بڑھتا ہی تھا۔لیکن کمی تو اس انسان کو بھی تھی۔خدا نے سب دیا تھا،بے شمار دولت،بے تحاشہ عزت اور جان سے بھی ذیادہ پیار کرنے والی بیوی۔بس انکی کوئی اولاد نہیں تھی۔شادی کو سات سال ہو چکے تھے لیکن اولاد کی نعت انکو نہیں مل رہی تھی اور اس کے لئے الفاظ اور شاہانہ گڑگڑا کر خدا کی بارگاہ میں بھیک مانگتے تھے۔
شاہانہ نے ایک درگاہ کے بارے میں سنا جہاں پر مانی ہوئی منت ضرور قبول ہوتی ہے۔الفاظ صاحب ان سب باتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے مگر پھر بھی شاہانہ کی خوشی کے لئے ان کے ساتھ چل دیے۔شاہانہ اس درگاہ میں دعا مانگنے گئی تھی لیکن الفاظ صاحب اپنے گارڈز کے ساتھ باہر کھڑے انکا انتظار کر رہے تھے۔
اچانک انہیں اپنے پیر کے ساتھ کچھ لپٹا ہوا محسوس ہوا تو ان کے نیچے دیکھتے ہی انکی نگاہ ایک سانپ پر پڑی جو انکے پیر سے لپٹ کر ٹانگ تک آ چکا تھا۔انہوں نے اپنا پیر اٹھا کر جھٹکا لیکن وہ سانپ انہیں سے لپٹا رہا تھا۔الفاظ تھوڑا گھبرا گئے اور اپنے گارڈز کی طرف مڑنے لگے تبھی انکی نظر نھنھے سے ہاتھوں پر پڑی جنہوں نے بہت بہادری سے اس سانپ کو کھینچ کر ان کے پاؤں سے جدا کیا اور وہاں سے دور پھینک دیا۔الفاظ صاحب کی جان حلق میں اٹک گئی تھی۔
‘بیٹا آپ ٹھیک ہو؟اس سانپ نے کاٹا تو نہیں آپ کو؟’
الفاظ صاحب نے پریشانی سے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھا جو بمشکل تین یا چار سال کا تھا۔
‘نہیں صاب میں ٹھیک۔’
اس بچے نے مسکرا کر انتہائی معصومیت سے کہا تو الفاظ نے مسکرا کر اسکا چہرہ چوما اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔انکے باڈی گارڈز یہ منظر حیرانی سے دیکھ رہے تھے کیونکہ وہ بچہ کافی گندی حالت میں تھا۔
‘نام کیا ہے تمہارا؟ ‘
الفاظ صاحب نے انتہائی محبت سے پوچھا۔انکے لئے تو یہ معصوم پھول ایک فرشتہ ثابت ہوا تھا۔
‘بلو صاب۔’
الفاظ کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔
‘اور بلو تمہارے ماما بابا کہاں ہیں ؟’
الفاظ صاحب نے اسکے مٹی سے لدے کپڑے جھاڑتے ہوئے پوچھا۔
‘بلو کلا صاب ادھر رہتا۔’ ا
س بچے نے درگاہ کی طرف اشارہ کیا۔الفاظ یہ جان کر کافی پریشان ہوئے۔
‘ارشد پتہ کرو اس بچے کے بارے میں۔’
ارشد اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا اور کچھ دیر بعد ایک ملنگ کے ساتھ واپس آیا۔
‘کون ہے یہ بچہ؟’
الفاظ نے ملنگ سے پوچھا۔
‘پتہ نہیں صاب کوئی آدمی اس دو چار دن کے بچے کو درگاہ کی سیڑھیوں پر چھوڑ گیا تھا تب سے یہیں رہتا ہے ملنگوں نے پالا تھا۔ماں باپ کون ہیں کچھ پتہ نہیں۔’
الفاظ نے ملنگ کی بات پر نم آنکھوں سے اس نھنھے فرشتے کو دیکھا جو اپنے دھیان اپنی پرانی سے شرٹ سے کھیل رہا تھا۔
‘چلیں الفاظ۔’
شاہانہ کی آواز پر الفاظ نے اپنی نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا۔
‘لگتا ہے شاہانہ تم سچ کہتی تھی یہاں پر مانگی ہوئی دعا قبول ہوتی ہے۔یہ دیکھو تمہاری دعا کتنی جلدی قبول ہو گئی۔ہمارا بیٹا ہمارے سامنے ہے شاہانہ۔’
الفاظ نے جھک کر اس بچے کو اپنی باہوں میں اٹھایا ۔
‘لیکن الفاظ۔’
شاہانہ نے انہیں کچھ کہنا چاہا۔
‘شاید یہی خدا کی مرضی ہے شاہانہ ۔ہمیں شاید اسی لیے وہ اپنی اولاد نہیں دے رہا ۔وہ چاہتا ہے کہ ہم کسی اور کا سہارا بنیں۔اس کے ماں باپ نہیں ہیں اور ہماری اولاد۔ایک دوسرے کے لئے ہی بنے ہیں ہم۔’
الفاظ کی بات پر شاہانہ نے بھی نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا۔
‘ارشد قانونی کارروائی کا دھیان رکھو ہم اسے لیگلی اڈاپٹ کریں گے۔’
الفاظ نے پھر سے بہت محبت سے اس بچے کا منہ چوما اور شاہانہ کو ساتھ لے کر اپنی مکمل زندگی کی طرف چل دیے۔