64.4K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

زرش کو پورے دو دن کے بعد ہوش آیا تھا۔ایک ڈاکٹر ہر وقت اسکا دھیان رکھنے کے لیے اسکے پاس تھی۔ ڈاکٹر عالیہ کو اس نازک سی لڑکی کی حالت پر بہت زیادہ رحم بھی آیا تھا لیکن وہ کر ہی کیا سکتی تھیں۔زرش کو ہوش آیا تو اسکے جسم میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔اس نے ایک امید کے ساتھ آنکھیں کھول کر اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا تھا لیکن یہ اسکی بد قسمتی تھی کہ وہ ابھی بھی اسی قید میں تھی۔
‘ارے واہ تم تو ہوش میں آ گئی ورنہ ڈرا ہی دیا تھا تم نے تو۔’
زرش کو اپنے پاس سے ایک عورت کی آواز آئی تو زرش نے ہلکی سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
‘ فکر مت کرو بہت جلد صحت یاب ہو جاؤ گی تم ریکوری اچھی ہو رہی ہے تمہاری۔’
زرش کی آنکھیں خود بخود بند ہو رہی تھیں۔لیکن پھر بھی اسنے اپنے کپکپاتے ہاتھوں کو اٹھا کر اس ڈاکٹر کو بہت مشکل سے مدد کرنے کا کہا تھا۔
‘معاف کرنا میری بچی میں تمہاری مدد نہیں کر سکتی لیکن دعا ضرور کروں گی کہ خدا اس مسیحا کو بھیج دے جو تمہیں اس اذیت سے آزادی دلا دے۔
اپنے مسیحا کے ذکر پر دو آنسو چھن سے زرش کی آنکھوں سے بہے تھے۔وہ جانتی تھی کہ اسکا مسیحا کبھی بھی اسے بچانے نہیں آئے گا کیونکہ اسکی نظروں میں زرش کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔اسے اب آخری سانس تک اس اذیت کو سہنا تھا۔
🌈🌈🌈🌈
سعد پریشانی اور سوچ کے عالم میں بیٹھا اپنے ہاتھ مسل رہا تھا۔معالات کو جتنا حل کرنا چاہ رہا تھا وہ اتنا ہی الجھ رہے تھے۔سعد رازوں کی اس بھول بھولیا سے نکلنے کی بجائے اس میں مزید پھنستا چلا جا رہا تھا۔
‘کیا ہوا ایجنٹ جی سب ٹھیک تو ہے نا؟’
عشال نے اسکے پاس بیٹھ کر پریشانی سے پوچھا۔
‘وجدان نے میرا ساتھ لینے سے انکار کر دیا بس اسی کے لئے پریشان ہوں۔اسے لگتا ہے کہ وہ بہت زیادہ چالاک ہے ہر معاملے کو خود حل کر لے گا مگر ضروری تو نہیں کہ ایسا ہو مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ بہت برا نہ پھنس جائے۔’
سعد نے ایک گہرا سانس بھرا۔
‘تو پھر ہیلپ کریں ان کی وہ نہیں مانے تو کیا ہوا آپ ان کی اجازت کے بغیر مدد کر دیں یہی تو سچی دوستی ہے۔’
عشال نے عام سے انداز میں کہا۔
‘اور تمہارا کیا؟اسکی مدد کرنے جاؤں تو تمہیں کس کے بھروسے چھوڑوں؟’
‘اچھا سوال ہے ۔’
عشال نے مسکرا کر کہا۔
‘آپ مجھے کسی کے سہارے مت چھوڑیں اپنے ساتھ لے جائیں شاید کبھی نہ کبھی میں بھی آپ کے کام آ جاؤں۔’
عشال نے حل بتایا۔
‘اور ایسا کر کے تمہیں دوگنا خطرے میں ڈال دوں بلکل بھی نہیں۔’
سعد نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا تو عشال مسکرائی۔
‘آپکو پتہ ہے اس خونخوار سکندر بھائی صاحب نے مجھے چار مرتبہ مارنے کی کوشش کی لیکن میں پھر بھی بچ گئی جانتے ہیں کیوں؟ ‘
سعد نے عشال کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
کیونکہ میں نے سنا ہے کہ مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہوتا ہے اور میری زندگی کی ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے جب تک اللہ کی مرضی نہیں ہو گی کوئی بھی میرا بال بھی باکا نہیں کر سکے گا اور ویسے بھی آج نہیں کل مرنا تو ہے ہی تو بہادری سے شیروں والی موت مرو۔ایسا ہی تو آپ آرمی والے سوچتے ہیں۔میرا لڑکی ہو کر ایسے سوچنا معاشرے کی نظر میں گناہ تو نہیں ہو گا نا؟’
سعد کب سے اسکی باتوں میں کھویا تھا یہ تو وہ بھی نہیں جانتا تھا۔کچھ تو خاص تھا اس لڑکی میں جو اسے سب سے مختلف بناتا تھا۔
‘نہیں کوئی گناہ نہیں ہے یہ۔’
سعد نے اسکے پیارے سے چہرے کو دیکھ کر کہا۔
‘آپکو پتہ ہے ایجنٹ جی۔۔۔آپ کو جھوٹ بولنا بلکل نہیں آتا کوشش مت کیا کریں۔’
عشال نے شرارت سے کہا اور وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
‘اب آپ اس کے بارے میں زیادہ مت سوچیں دوست کو آپکی ضرورت ہے تو اسکے کام آئیں باقی سب اللہ پر چھوڑ دیں۔’
سعد نے کافی سوچ کر ہاں میں سر ہلایا۔ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی وہ وجدان کو سعد کے ساتھ کی ضرورت تھی اور سعد ایسے خاموشی سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔عشال تو سعد کو اپنی جان سے بھی عزیز ہو چکی تھی سعد جانتا تھا کہ اپنے جیتے جی وہ اسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔
‘پر ہم اسے ڈھونڈیں گے کیسے؟ ‘
سعد نے عشال کی طرف دیکھا۔
‘آپکا دوست ہے وہ بندہ آپ ڈھونڈ ہی لیں گے۔’
عشال نے بہت اطمینان سے کہا۔
‘ہم یہاں وجدان خان کی بات کر رہے ہیں جو جب اپنی پہچان بدلتا ہے تو سامنے موجود آئینہ بھی اسے پہچان نہیں پاتا۔’
عشال پھر سے مسکرا کر اسکے پاس آئی۔
‘اپنے دوست کی خاصیت تو آپ جانتے ہیں اپنی خاصیت پر بھی غور کریں۔آپ ڈھونڈ لیں گے انہیں مجھے یقین ہے۔’
عشال نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلی گئی۔جبکہ سعد اسے جاتا دیکھ مسکرا رہا تھا۔
‘اور تمہارا یقین ہی میرا یقین ہے۔’
سعد نے ایک خواب کے عالم میں کہا۔
🌈🌈🌈🌈
رات میں جب پاکستان کے لوگ دن بھر کے کاموں کے بعد آرام کرنے میں مصروف ہوتے تھے تو بہت سی جگہوں پر لوگوں کے لیے تاریکی میں چھپنے والے گناہ کے اڈے کھل جاتے تھے۔
‘اے ہٹ یہاں سے۔’
ایک انتہائ مغرور لمبے بالوں والا آدمی اپنے تین بندوں کے ساتھ ہر ایک کو حقیر شے سمجھ کر بہت رعب سے وہاں داخل ہوا تھا۔وہ آصف بیگ تھا کافی مشہور غنڈہ جو اکثر ہی اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں عیاشی کرنے آتا۔
‘اے ادھر آ ۔۔۔۔۔۔۔۔’
اس نے ایک سانولے سے گندے بالوں والے ویٹر کو اپنے پاس آنے کا کہا۔
‘جج۔۔۔۔۔۔جی صاب۔۔۔۔۔۔۔’
اس ویٹر نے کافی گھبرا کر پوچھا۔
‘وسکی لا سب کے لیے فٹا فٹ۔’
ویٹر ہاں میں سر ہلا کر چلا گیا اور کچھ دیر کے بعد ہاتھ میں وسکی کی ٹرے لے کر وہاں آیا جو آصف کے پاس آتے ہی گھبراہٹ کے مارے اس پر گر گئی تھی۔
‘اے پاگل ۔۔۔۔۔۔ کمینے۔۔۔۔۔۔’
آصف نے اٹھ کر ایک زور دار تھپڑ اس ویٹر کے منہ پر رسید کیا ۔
‘مممم۔۔۔۔۔۔معاف کر دو صاب میں ابی ٹھیک کر دے گا اسے۔۔۔۔۔۔۔۔’
وہ ویٹر ہاتھ میں موجود کپڑے سے اسکی شرٹ صاف کرنے لگا۔
‘ہٹ کمینے۔۔۔۔۔۔۔۔’
اس ویٹر کو ایک زور دارا دھکا دے کر وہ واش روم کی طرف چل دیا جبکہ باقی کے ساتھی وہاں بیٹھے اطمینان سے ہنس رہے تھے۔
وہ واش روم میں کھڑا پانی سے اپنی شرٹ صاف کرنے میں مصروف تھا جب اچانک اسکی نظر پیچھے کھڑے اس سانولے سے ویٹر پر پڑی جو ابھی بھی وہ کپڑا ہاتھ میں لپیٹے کھڑا تھا۔
‘تو پھر آ گیا کتے دفع۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
ابھی اسکے الفاظ منہ میں ہی تھے جب اس ویٹر نے بجلی کی تیزی سے آگے بڑھ کر وہ کپڑا اس کے منہ پر رکھ کر اسکی آواز بند کی اور دوسرے ہاتھ سے ایک چاقو اسکی ٹانگ میں گاڑ دیا مگر اسکی چیخ وہ کپڑا روک چکا تھا۔
‘آر بی کہاں ملے گا؟’
آصف کے کانوں میں ایک غراتی ہوئی آواز پڑی مگر پھر بھی اس نے انکار میں سر ہلایا۔آصف کی اس حرکت پر وہ چاقو نکال کر تین بار بہت ذیادہ تکلیف دہ عمل سے اسکی ٹانگ میں گاڑا جا چکا تھا۔
‘بول۔۔۔۔۔’
وہی غراتی ہوئی آواز پھر سے اسکی سماعت سے ٹکرائی اور وہ کپڑا ہلکا سا اسکے منہ سے ہٹایا گیا۔
‘ تاشا۔۔۔۔۔۔۔۔تاشا جانتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سبی میں ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قبرستان میں ممممم۔۔۔۔۔مردہ چلائے کوڈ ورڈ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
یہ سب بتانے پر ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا گیا تھا۔آصف چلاتا ہوا زمین پر گرا اور اس سانولے سے لڑکے کو دیکھنے لگا جو اطمینان سے اپنے چہرے پر لگے ہوئے سانولے رنگ کے بعد سر پر لگی وگ کو ہٹا رہا تھا اور کچھ دیر کے بعد سبز آنکھوں والا ایک نیا شخص اس کے سامنے کھڑا تھا۔
‘کک۔۔۔۔۔۔کیا دشمنی ہے تیری آر بی سے۔۔۔۔۔’
اس نے گھبرا کر دروازے کو دیکھا جہاں لاک لگا تھا۔وہ جانتا تھا کہ اتنے شور میں اسکی چیخ و پکار کوئی اسکا کوئی بھی آدمی نہیں سنے گا اور اس ٹانگ کو لے کر وہ ایک قدم بھی نہیں چل سکتا ۔
‘خان کی زندگی چرائی ہے اس نے ۔ خان سے اسکا نور چھین لیا۔اب خان اسکی زندگی کو اندھیرے سے بھر دے گا۔’
وجدان آگے بڑھ کر اسکے پاس گیا اور اسے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا وجدان نے تیز دھار چاقو کو اسکی گردن میں گاڑھا اور اس شخص کو ترپتا چھوڑ اپنی پہچان مکمل طور پر بدل کر وہاں سے چلا گیا۔
🌈🌈🌈🌈
زرش کی طبیعت اب کافی بہتر ہو چکی تھی لیکن پھر بھی وہ ابھی تک بیڈ سے اٹھنے کے قابل نہیں ہوئی تھی۔حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اتنے عرصے میں ایک بار بھی اسکا سامنا آر بی سے نہیں ہوا تھا۔لیکن یہ اسے بعد میں پتہ چلا تھا کہ وہ اپنے کام کے سلسلے میں یہاں سے گیا ہوا تھا۔یہ جان کر زرش کا دل کیا تھا کہ وہ سجدہ شکر میں گر جائے ۔پچھلے دنوں میں بیڈ پر بیٹھ کر اپنی آبرو کی حفاظت کے لیے بے پناہ دعائیں مانگی تھیں اس نے۔
‘کیسی ہو بچی؟’
ڈاکٹر عالیہ مسکرا کر اسکے پاس آئی تھیں۔زرش اتنے دنوں میں انکے ساتھ کافی مانوس ہو چکی تھی۔
کیا آپ میری ایک بات مانیں گی؟
زرش نے بے چینی سے اشارہ کیا۔
‘ہاں بتاؤ۔’
آپ پلیز اپنے موبائل سے میرے گھر فون کر کے انہیں سب بتا دیں کہ میں کہاں ہوں۔
زرش کی بے چینی پر ڈاکٹر عالیہ نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
‘ان کے پاس میری بیٹی ہے زرش اگر انہیں مجھ پر ہلکا سا بھی شک ہوا تو وہ ہم دونوں کو مار دیں گے۔مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔’
آخری الفاظ کہتے ہوئے ڈاکٹر عالیہ کی آواز میں نمی پیدا ہوئی تھی جبکہ زرش کی تو آخری امید بھی ختم ہو چکی تھی۔اس نے سوچا تھا کہ اگر کسی طرح سے اسکا رابطہ اسکے بابا یا شایان سے ہو جائے تو وہ یہاں سے نکل سکتی تھی۔
کیا آپ کسی اور کو نہیں کہہ سکتی ایسا کرنے کو؟
زرش کے چہرے پر امید کی ایک چھوٹی سی کرن تھی مگر جب جواب میں ڈاکٹر عالیہ نے اپنا سر مزید جھکا لیا تو وہ چھوٹی سی امید کی شمع بھی بھجھ گئی۔
🌈🌈🌈🌈
وجدان سبی پہنچ گیا تھا لیکن اس کے لئے مشکل مرحلہ اس خفیہ جگہ کو ڈھونڈنا تھا جہاں پر اسے تاشا ملتا۔لیکن دو دنوں کی کافی جدوجہد کے بعد وجدان نے اس جگہ کا پتہ لگا لیا۔وہ ایک خفیہ جگہ تھی جو کے زمین کے نیچے تھی اور اسکا راستہ ایک قبرستان میں مخصوص قبر کے نیچے سے گزرتا تھا۔
وجدان کو پتہ چلا تھا کہ لوگ اس قبرستان میں جانے سے ڈرتے تھے کیونکہ وہاں پر بہت سی عجیب و غریب چیزیں دیکھائی دیتی تھیں۔وجدان جانتا تھا کہ یہ کہانیاں صرف اس قبرستان میں دفن رازوں کو دنیا سے چھپانے کے لئے بنائی گئی ہیں۔
وجدان اپنی تیاری کو ایک آخری مرتبہ چیک کر رہا تھا جب اسکی نظر اپنی جیکٹ پر پڑی جس کی جیب میں زرش کا لکھا وہ خط موجود تھا۔وجدان کے ہاتھ پھر سے بے ساختہ طور پر اس خط کی طرف بڑھے۔
‘میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا نور۔۔۔۔۔۔بہت جلد ڈھونڈ لوں گا۔ بس تم میرا انتظار کرنا اور خود کو ٹوٹ کر بکھرنے سے بچا لینا۔لوگ زندگی میں بہت کچھ کھو دیتے ہیں نور۔۔۔۔میں نے سب کچھ کھویا ہے لیکن اب اگر تم بھی کھو گئی نا تو اس بار خود کو حرام کی موت ضرور مار لوں گا۔’
وجدان نے سرگوشیاں کرتے ہوئے بہت عقیدت سے اس خط کو اپنے ہونٹوں سے لگایا تھا۔وہ اتنا تو ضرور جانتا تھا کہ اب وہ اس دنیا میں زندہ نہیں رہے گا جہاں نور زرش نہیں ہو گی اور اگر وہ اسے مل گئی نا تو آر بی کی وہ حالت کرے گا کہ وہ موت مانگے گا اور اسے موت بھی نہیں ملے گی۔
میری نظر میں نہ تو تمہاری کوئی اوقات ہے اور نہ ہی تمہاری محبت کی۔بول تو سکتی نہیں تم اور چاہتی ہو کہ میں ایک گونگی لڑکی کو اپنی بیوی مان لوں؟؟؟ کبھی نہیں۔۔۔۔
وجدان کو اپنے کہے الفاظ یاد آئے تو وجدان نے غصے سے اپنا ہاتھ شیشیے کی کھڑکی میں مار دیا جس کی وجہ سے اسکے ہاتھ سے خون بہنے لگا لیکن وجدان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا اصل تکلیف تو اسے وہ ان الفاظ کو اس نازک لڑکی سے کہنے کا پچھتاوا دے رہا تھا۔اس سب کا زمہ دار تو وہ خود تھا نا اور اس سوچ پر وجدان کا دل کر رہا تھا کہ سزا کے طور پر خود کو ختم کر دے۔
اچانک دروازہ کھٹکنے کی آواز نے وجدان کو دنیا سے باور کرایا تو وجدان کا ہاتھ فوراً اپنی بندوق کی طرف بڑھا۔بہت آہستہ سے آگے بڑھ کر وجدان نے دروازہ کھولا تو اپنے سامنے سعد کو دیکھ کر وجدان کافی بے زار ہوا۔
‘منع کیا تھا نا تمہیں۔’
جواب میں سعد ڈھیٹوں کی طرح مسکرا دیا۔جبکہ سعد کے پیچھے جینز شرٹ میں کندھوں پر بیگ لٹکائےکھڑی عشال دلچسپی سے ادھر ادھر دیکھنے میں مصروف تھی۔
‘اور تم اسے بھی اپنے ساتھ لے آئے۔’
وجدان نے دونوں کو اندر آنے کا راستہ دیا اور ان کے داخل ہوتے ہی دروازہ واپس بند کر دیا۔عشال ببل چباتے ہوئے وجدان کو سر سے لے کر پیر تک دیکھنے لگی۔
‘ بلکل غلط کہا وجدان جی آپ نے یہ مجھے اپنے ساتھ نہیں لائے بلکہ میں انہیں اپنے ساتھ لائیں ہوں سوچا آپ کی تھوڑی مدد ہی ہو جائے گی۔’
عشال سعد کو بولنے کا موقع دیے بغیر شروع ہو چکی تھی جبکہ وجدان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دونوں کو اٹھا کر یہاں سے باہر پھینک دے۔
‘ہاں وجدان تم یہ سب اکیلے نہیں کر پاؤ گے۔’
سعد کی بات پر وجدان نے غصے سے اپنی مٹھیاں کس لیں۔
‘ مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے ۔تم دونوں بس میری مشکلات میں اضافہ ہی کرو گے خاص طور پر یہ۔’
وجدان نے عشال کی طرف اشارہ کیا تو عشال اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے گھورنے لگی۔
Never underestimate the power of woman.
لڑکی ہوں اسکا یہ مطلب نہیں میں کچھ کر نہیں سکتی چار بار اس خطرناک سکندر بھائی صاحب سے بچ نکلنے کا رکارڈ ہے میرا سمجھے آپ۔بتا دیں کوئی اور جو اسکے ہاتھوں سے بچا ہو۔’
عشال بہت رعب سے وجدان کے سامنے کھڑی تھی لیکن وجدان نے ہلکے سے دکھےکے ساتھ اسے راستے سے ہٹایا اور تیار ہونے چلا گیا۔
‘تم چل سکتے ہو سعد میرے ساتھ لیکن یہ لڑکی یہیں رہے گی۔ہم صرف دو گھنٹے کے لیے جائیں گے۔امید ہے اتنی دیر میں یہ یہاں محفوظ ہی رہے گی۔’
سعد وجدان کی بات پر مطمئن نظر نہیں آ رہا تھا وہ عشال کو ایک پل کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔
‘اس لڑکی کا نام عشال ہے اور یہ غلط بات ہے سارا ایڈونچر آپ دونوں ہی کیوں دیکھیں ۔
Why should boys have all the fun.
اس سے پہلے کہ سعد عشال کی چلتی زبان کو روکتا وجدان غصے سے اسکے پاس گیا اور اپنا ہاتھ عشال کی گردن پر کافی سختی سے رکھا۔ایک سسکی عشال کہ منہ سے نکلی تھی لیکن پھر بھی وہ بہت بہادری سے وجدان کی خطرناک سبز آنکھوں میں جھانکتی رہی تھی۔
‘تمہیں یہ سب مزاق لگ رہا ہے۔مزے لینے آئی ہو یہاں تو مجھے بتاؤ ابھی کے ابھی تمہیں اس سکندر کے حوالے کر دیتا ہوں تاکہ تمہارا ایڈوینچر کا شوق پورا ہو جائے۔’
وجدان نے دانت پیسے۔
‘وجی۔۔۔۔۔۔۔’
سعد نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھا تو وجدان نے ایک جھٹکے سے عشال کو چھوڑا اور اپنا سامان پکڑ کر باہر کی طرف چل دیا۔
‘سڑا کریلا میں نے بھی مزا نہیں چکھایا نہ تو میرا نام بھی عشال نہیں۔’
سعد عشال کا بڑبڑانا سن چکا تھا اسی لیے مسکرا کر اسکے پاس آیا۔
‘وہ پریشان ہے اسی لیے ایسا کر رہا ہے ۔’
عشال نے گہرا سانس لے کر ہاں میں سر ہلایا۔
‘تم یہیں رہو گی ہمارے آنے تک دروازہ بلکل بھی مت کھولنا اور اگر کوئی ناک بھی کرے نا تو خاموشی سے چھپ جانا وجدان کے پاس کمرے کی چابی ہے اس لیے ہمیں ناک نہیں کرنا پڑے گا۔سمجھی۔’
‘اوکے ماما۔۔۔۔۔’
عشال نے آنکھیں ٹمٹما کر مصنوعی معصومت سے کہا تو سعد نے بہت مشکل سے اپنے قہقہے کو ضبط کیا اور پھر وجدان کے پیچھے چل دیا۔
‘ہوں۔۔۔۔۔۔انہیں کیا لگتا ہے کہ میں اتنی ہی ڈرپوک ہوں۔ابھی بتاتی ہوں انہیں اپنی اہمیت۔’
عشال نے جلدی سے اپنا بیگ پکڑا اور بہت چپکے سے ان دونوں کے پیچھے چھپتے ہوئے چلنے لگی۔