33.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

وجدان فجر کے وقت کمرے میں واپس آیا تھا ۔اس وقت سکندر کو لے کر اسکے دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا۔سکندر کا سچ جان کر ایک وحشت سی وجدان کے پورے وجود پر حکومت کر رہی تھی اس نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی اپنا ہی اس قدر سفاک اور دھوکے بعض بھی نکل سکتا ہے۔وجدان نے ضبط سے مٹھیاں کسیں غصہ اسکی رگوں میں دوڑ رہا تھا لیکن تبھی اسکی نظر بیڈ پر سوئے ہوئے نازک سے وجود پر پڑی۔
وجدان کے قدم بے ساختہ طور پر بیڈ کی طرف اٹھے تھے ۔زرش کے معصوم چہرے کو دیکھتے ہوئے ڈھیروں سکون وجدان کے دل میں اتر رہا تھا ۔پہلے والی وہ ساری وحشت اور غصہ کہیں غائب سا ہو گیا تھا۔
‘ نور۔۔۔۔’
وجدان نے بہت محبت سے اسکے گال کو چھو کر اسے اٹھانا چاہا مگر زرش نے اٹھنے کی بجائے وجدان کا ہاتھ تھام کر اپنے چہرے کے نیچے رکھا اور پھر سے سو گئی۔ ایک مسکراہٹ نے وجدان کے لبوں کو چھوا۔وجدان کو ٹوٹ کر اپنی اسے معصوم سی جان پر پیار آیا تھا۔نا جانے کتنی ہی دیر وجدان اسکے معصوم سے چہرے کو دیکھتا رہا پھر نماز کے وقت کا خیال آیا تو اپنا ہاتھ نرمی سے چھڑوا کر فریش ہونے چلا گیا۔
وجدان نے نماز ادا کر کے سلام پھیرا تو اسکی نظر زرش پر پڑی جو اپنی چھوٹی سی ٹھوڈی کی نیچے ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھی۔
‘کیا دیکھ رہی ہو نور خان۔’
وجدان نے دلچسپی سے پوچھا تو زرش نے مسکرا کر انکار میں سر ہلایا اور اسے دعا مانگنے کا کہنے لگی۔وجدان نے دعا مانگ کر کچھ پڑا اور زرش کے چہرے پر پھونک مار دی جس سے زرش کھلکھلا اٹھی۔
یہ کیا ہے؟
زرش نے مسکرا کر پوچھا۔
‘دعا کی ہے کہ میری بیوی زرا سی بہادر ہو جائے اور دنیا،ہر مشکل کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو خوف سے سمٹے نہیں۔’
وجدان اتنا کہہ کر جائے نماز سے اٹھا اور اسے طے کر کے زرش کے پاس آیا ۔زرش اسکو پاس آتا دیکھ شرمیلی مسکان کے ساتھ سر جھکا گئی۔وجدان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کیا۔
‘نور میری بات سنو چاہے کچھ بھی ہو جائے تم اپنے آپ کو مظبوط رکھنا کیونکہ تم کمزور نہیں ہو زرش تم بہادر ہو بہت ذیادہ بہادر۔میں کبھی بھی تمہیں بلاؤں تو تم مجھے جواب دو گی دو گی نا؟’
وجدان نے اسے کندھوں سے تھام کر کہا زرش نے اسکی باتوں پر بہت دیر غور کیا پھر ہاں میں سر ہلا کر اپنے ہاتھ اٹھا کر چوڑیاں کھنکھائیں۔اسکی معصوم حرکت پر وجدان کے لب مسکرائے۔
‘نہیں میری جان ان سے نہیں۔۔۔’
وجدان نے اسکی چوڑیوں سے بھری کلائی کو تھام کر چوما۔
‘تم مجھے ان سے پکارو گی میرا نام بلاؤ گی تم۔’
وجدان نے اسکے ہونٹوں کو سہلا کر کہا اور پھر بہت نرمی سے جھک کر اسکے نازک لبوں کو چوما۔زرش آنکھیں بند کر کے خود میں ہی سمٹ گئی۔
‘سب سے بڑی خواہش ہے نور ان ہونٹوں سے اپنا نام سننے کی اور اپنی یہ خواہش پوری کر کے ہی رہوں گا۔’
وجدان نے اتنا کہہ کر زرش کو چھوڑا تو زرش گھبراتے ہوئے جلدی سے واش روم میں چلی گئی اور وہاں پہنچ کر بند دروازے کے ساتھ کھڑی ہو کر اپنی دھڑکنیں شمار کرنے لگی۔
زرش فریش ہو کر باہر کمرے میں واپس آئی تو وہاں کوئی نہیں تھا۔اچانک ہی اسکی نگاہ ٹیبل پر پڑے ایک ریڈ کلر کے باکس پر پڑی۔زرش اس کے پاس مسکراتے ہوئے گئی۔باکس کو اٹھا کر اس نے کھولا تو اس میں ایک سرخ گلاب کے نیچے ایک خط پڑا تھا۔زرش نے اس خط کو کھول کر پڑھنا شروع کیا۔
‘جانتا ہوں نور خان کہ تم سوچ رہی ہو گی کہ کیسا شوہر ہوں تمہیں کل تحفہ ہی نہیں دیا تو سوچا کہ آج یہ گلا بھی مٹا دوں۔ اس لیے آج رات کے بارہ بجے پچھلے لان میں اپنے فیورٹ پرندوں کے پنجرے کے پاس آ جانا۔میں تمہارا انتظار کروں گا اور ہاں اس بات کا ذکر کسی سے بھی مت کرنا نور ورنہ ۔۔۔۔’
تمہارا خان۔
زرش نے شرما کر اس خط کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔وہ یہی تو چاہتی تھی کہ وجدان اسے اتنا پیار دے کہ وہ خود کو اس دنیا کی سب سے ذیادہ خوش قسمت لڑکی تصور کرنے لگ جائے اور اب ایسا ہی تو ہو رہا تھا۔ زرش خود میں ہی مسکراتے ہوئے الماری کی طرف بڑھ گئی اور اپنے محبوب کی خاطر سجنے کے لیے سب سے پیارا جوڑا تلاش کرنے لگی۔
‘کیا ہو رہا ہے لٹل ڈال۔’
عشال کی آواز پر زرش چونک کر مڑی اور جلدی سے نہ میں سر ہلانے لگی۔
‘او اچھا پھر مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ کچھ چھپا رہی ہو۔’
عشال نے اسے سر سے لے کر پیر تک دیکھا تو زرش نے پھر سے انکار میں سر ہلا دیا۔
‘اچھا ٹھیک ہے بھئی جیسی تمہاری مرضی ویسے میں تمہیں یہ بتانے آئی تھی کہ جانان تمہیں ڈھونڈ رہی ہے۔’
مشعل ہاں میں سر ہلا کر اسکے ساتھ باہر چلی گئی۔جبکہ وجدان کے اس خط کا سوچ کر ابھی تک ایک شرمیلی سی مسکان اسکے لبوں پر تھی۔
🌈🌈🌈🌈
ناشتے کے بعد سب لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔عثمان تو صبح سے کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گیا ہوا تھا،وجدان بھی صبح سے ہی غائب تھا اور سعد تو کل سے ہی گھر میں نظر نہیں آ رہا تھا جس کی وجہ سے عشال کافی پریشان تھی۔اسے کوئی اور نظر نہ آیا تو ہمت کر کے شایان کے پاس ہی چلی گئی جو ویسے تو اپنے لیپ ٹاپ میں کوئی کام کرنے میں مصروف تھا مگر اسکا دھیان کھلکھلا کر ہنستی ہوئی جانان پر تھا۔
‘ایجنٹ جی کہاں پر ہیں؟کل سے نظر نہیں آ رہے۔’
عشال نے شایان کے پاس جا کر کہا فوراً ہی شایان نے اپنی خطرناک سنہری آنکھوں سے عشال کو گھور کر دیکھا تھا۔
‘مجھے نہیں پتہ کل سے ہی کہیں گیا ہوا ہے ضرور کسی کام میں مصروف ہو گا تم اپنے کام سے کام رکھو اور ہاں میری جانان سے دور ہی رہنا اگر اسے تمہاری وجہ سے ہلکی سی خراش بھی آئی نا تو تم کسی کو نظر نہیں آؤ گی۔’
شایان نے کافی غصے سے کہا تو عشال مٹھیاں بھینچتی رہ گئی۔وہ اسے بہت کچھ سنانا چاہتی تھی لیکن شایان کی وہ سنہری آنکھیں اسے وحشت زدہ کر دیتی تھیں۔
عشال منہ بنا کر زرش کے پاس چلی گئی اور وہاں بیٹھ کر جانان اور زرش کی باتوں پر غور کرنے لگی۔
‘اچھا تو بتا نا زری پھر وجدان بھائی نے کیا کچھ کہا تمہیں سچی مجھے تو یقین نہیں آ رہا کہ وجدان بھائی دا کریلا نے اتنا سب کروایا واہ سچ میں میری بہن ہو تم تیر کی طرح سیدھا کیا ہے انہیں ورنہ ہر وقت ایسے رہتے تھے۔’
جانان نے منہ پھلا کر کہا تو وہاں بیٹھے سب لوگ ہنسنے لگے یہاں تک کے کب سے شرماتی زرش بھی ہنسنے پر مجبور ہو گئی۔
‘تو شایان ایسا نہیں تھا کیا؟’
حمنہ نے شرارت سے پوچھا۔
‘نہیں نہیں شایان ایسے منہ ٹیڑھا نہیں کرتے بلکہ جب ہم پہلی بار ملے تھے نا تو شایان نے مجھے ایسے دیکھا تھا۔’
جانان نے دانت پیستے ہوئے اپنی آنکھیں چھوٹی کر دیں تو سب ہنسنے لگے اور تو اور دور بیٹھا شایان بھی قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔
‘ اور پتہ ہے کیا کہا تھا انہوں نے اے لڑکی اب تمہاری آواز بھی نکلی نا تو اٹھا کے کھڑکی سے باہر پھینک دوں گا۔’
جانان نے نقل کی خاطر آواز بھی بھاری کر لی تھی۔
‘پھر تم نے انہیں بھی کریلا بلایا کیا؟’
حمنہ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
‘نہیں انہیں تو میں نے ادرک بلایا تھا۔’
اس بات پر سب لوگ پھر سے قہقہہ لگا کر ہنسے تھے اور فاطمہ بیگم تو اپنی بیٹیوں کو یوں ہنستا دیکھ ان کے صدقے واری جا رہی تھیں۔وہ دعا کر رہی تھیں کہ انہیں کبھی کسی کی نظر نہ لگے۔
‘ویسے آج ہمارا پٹاخہ کیوں چپ ہے سب ٹھیک تو ہے نا ۔’
حمنہ نے عشال کو دیکھ کر شرارت سے پوچھا تو جانان چہکتے ہوئے بولی۔
‘وہ سعد بھائی نہیں نظر آ رہے نا اس لیے۔’
جہاں عشال نے جانان کو گھورا تھا وہیں سب لوگ پھر سے ہنس دیے۔
‘میں نا اس لیے چپ ہوں کہ کل جو کچھ میری گستاخ آنکھوں نے دیکھ لیا ہے نا وہ کہیں غلطی سے پھسل کر زبان پہ نہ آ جائے۔’
عشال نے حمنہ کو دیکھتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر کہا تو حمنہ سرخ ہو گئی۔عشال نے ایک ادا سے اپنا چشمہ درست کیا تھا۔
🌈🌈🌈🌈
رات ہوتے ہی زرش بے چینی سے سب کے سونے کا انتظار کرتی رہی تھی۔جتنی جلدی ہو سکتا تھا وہ تیار ہوئی اور باہر کی طرف چل دی مگر اچانک ہی اسکی نظر سامنے سے آتی عشال سے ہوئی۔زرش ایسے گھبرائی تھی جیسے اسکی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔زرش کتنی ہی دیر اپنی آنکھیں بڑی کیے عشال کو دیکھتی رہی۔
‘کیا بات ہے جانی میرے منہ پر فیویکول کا ایڈ لگا ہے کیا جو تمہاری نظریں چپک ہی گئی ہیں اس سے۔’
عشال نے شرارت سے کہا تو زرش فوراً انکار میں سر ہلانے لگی۔وہ باہر جانا چاہتی تھی لیکن اسے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ایسا کیسے کرے۔زرش نے بے چینی سے ٹائم دیکھا جہاں رات کے بارہ بج رہے تھے۔
‘اچھا اتنا تیار ہو کے کہیں جانا چاہتی ہو کیا؟’
عشال نے اسکے گلابی جوڑے اور ہلکے سے میک اپ کو دیکھ کر سوال کیا۔زرش نے بے چینی سے ہاں میں سر ہلایا اور اپنے ہاتھوں سے جلدی جلدی اشارہ کرنے لگی۔
مجھے پرندوں کو دانہ ڈالنا ہے۔
عشال نے حیرت سے زرش کو دیکھا۔
‘اس وقت وہ بھی تیار ہو کے ۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔ ڈال اس وقت تو وہ سو جاتے ہیں۔’
زرش نے انکار میں سر ہلایا۔
‘اچھا ٹھیک ہے بھئی جاؤ مجھے پتہ ہے کہ پرندوں کا تو صرف بہانا ہے مقصد تو سیاں جی کے پاس جانا ہے۔’
عشال نے شرارت سے کہہ کر اسکے گلابی گال کو چھوا۔زرش خود میں ہی سمٹی تھی۔
‘ اچھا چلو جاؤ۔۔۔’
عشال کے راستہ دیتے ہی زرش جلدی سے باہر کی طرف چل دی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب اسکا سامنا کسی اور سے ہو۔زرش جلدی سے لان کے پچھلے حصے کی طرف گئی مگر وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا ۔زرش بے چینی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔وجدان کو تو آ جانا چاہیے تھا زرش نے بے چینی سے سوچا۔
‘ زرش۔۔۔’
ایک جانی پہچانی آواز زرش کی سماعتوں سے ٹکرائی۔زرش فوراً پلٹی تو اسکی نظر سعد پر پڑی جو کالی پینٹ پر کالی ہڈی پہنے وہاں کھڑا زرش کو خطرناک آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
زرش اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ یہاں کیا کر رہا تھا لیکن زرش کوئی کوئی موقع دیے بغیر ہی سعد نے زرش کو گردن کے پیچھے سے پکڑ کر ایک رومال زرش کے منہ پر رکھا۔
زرش اسکی گرفت میں مچلنے لگی مگر اسکی گرفت بہت مظبوط تھی۔آخر کار رومال پر لگے کلوروفارم نے اپنا اثر دیکھایا اور زرش بے ہوش ہو کر سعد کی باہوں میں جھول گئی۔ایک خطرناک سی مسکان نے سعد کے لبوں کو چھوا۔سعد نے زرش کے ہلکے سے وجود کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور وہاں سے چلا گیا۔