64.4K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

سب لوگ ناشتے کی میز پر بیٹھے صرف اور صرف زرش کی باتیں سن رہے تھے جو اپنے بچپن سے لے کر جوانی تک کے تمام قصے سنانے بیٹھی ہوئی تھی۔وجدان کا موڈ بلکل بھی اچھا نہیں تھا ایک تو زرش رات کو سلمان صاحب اور فاطمہ بیگم کے پاس ہی رک گئی تھی دوسرا ہاشم صاحب اس گھر میں صرف اس شرط پر رکے تھے کہ شادی تک زرش اور وجدان آمنے سامنے نہیں آئیں گے اور اگر آئے تو ہاشم صاحب وجدان کو ہوٹل لے جائیں گے ساتھ۔ان کے مطابق دونوں ترسیں گے ایک دوسرے کے لیے تو ہی شادی کا مزہ آئے گا نا۔مگر یہاں تو زرش کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ ترس صرف وجدان ہی رہا تھا۔
‘اففف بس کر دو زری اور کتنا بولو گی تم۔’
جانان کی بات پر زرش نے منہ بسور کر جانان کو دیکھا۔آج تو وہ جانان کو بھی بات کا موقع نہیں دے رہی تھی۔
‘کک۔۔۔۔کیوں چپ کروں میں بہت بولتی ہو تت۔۔۔۔تم اب چپ کر کے بیٹھو۔’
زرش بول تو لیتی تھی لیکن فلحال اسے کچھ دشواری ہوتی تھی لفظ ادا کرنے میں۔زرش کی بات پر سب قہقہہ لگا کر ہنسے جانان نے منہ پھولا کر سلمان صاحب کو دیکھا۔
‘نہیں بھئی کوئی بھی اب میری بیٹی کو چپ کرنے کا نہیں کہے گا میرے تو کب سے کان ترسے ہوئے تھے اسکی باتیں سننے کو۔’
سلمان صاحب نے بھی صاف سیدھی زرش کی حمایت کی تو زرش نے زبان نکال کر جانان کو دیکھائی اور پھر سے اپنا ایک نیا قصہ بتانا شروع ہو گئی۔
سعد کو فون آیا تو وہ سب کو ہنستا مسکراتا چھوڑ فون سننے چلا گیا۔ہیڈ کوارٹر سے کال آئی تھی وہ لوگ سکندر کے مشن کی انفارمیشن چاہتے تھے۔سعد نے اس بارے میں وجدان سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ واپسی کے لئے مڑا تو اسکی نظر لان میں موجود جھولے پر بیٹھی عشال پر پڑی جو ٹراؤزر اور شرٹ پہنے دنیا سے بے خبر وہاں بیٹھی نا جانے کیا سوچ رہی تھی۔سعد نے کل رات ہی وجدان سے عشال سے شادی کرنے کی بات کہی تھی اور وجدان نے بھی بہت خوشی سے ہاشم صاحب سے بات کرنے کا کہا تھا۔
سعد بھی چلتا ہوا اسکے پاس آیا اور اس کے ساتھ موجود تھوڑی سی جگہ پر بیٹھ گیا۔
‘کیا سوچ رہی ہو یہاں بیٹھ کر؟’
سعد کی آواز پر عشال نے اپنی خوبصورت ہری آنکھوں سے اسے دیکھا جن پر کل سے کوئی چشمہ نہیں تھا۔سعد اسکا بہترین نشانہ
دیکھ کر اتنا تو سمجھ چکا تھا کہ اسکی نظر بلکل ٹھیک ہے اسکا چشمہ بھی بس انہیں بے وقوف بنانے کا ایک طریقہ تھا۔
‘کچھ نہیں میں بھلا کیا سوچوں گی ایجنٹ جی۔’
عشال نے مسکرا کر لاپرواہی سے کہا مگر اسکی آنکھوں میں غم تھا جو سعد سے چھپا ہوا نہیں تھا۔
‘ٹھیک ہے تمہاری مرضی ہے مت بتاؤ ویسے پریشانی بتانے سے کم ہو جاتی ہے۔’
سعد نے مسکرا کر کہا۔
‘بلکل غلط انسان کو بس ایسا لگتا ہے کہ کسی کو اپنی پریشانی بتا کر اپنا دکھ بانٹ کر وہ ہلکا محسوس کرتا ہے حالانکہ اصلیت تو یہ ہے کہ اس دکھ سننے والے کو ہماری تکلیف سے کوئی تعلق ہوتا ہی نہیں وہ تو بس تھوڑا اینٹرٹینمینٹ چاہتا ہے اور یہ ۔۔۔۔خود میں بھی ایک دکھ ہے۔’
عشال نے سوچ کے عالم میں کافی گہری بات کہہ دی۔
‘مجھے نہ صرف تمہارے دکھ سے بلکہ تمہاری،خوشی،پریشانی،مسکراہٹ ہر چیز سے فرق پڑھتا ہے عشال سب میرے لئے اہم ہے۔’
عشال اس کی بات پر خاموش ہی رہی تھی۔سعد بھی کافی دیر اسکے ساتھ خاموشی سے بیٹھا رہا پھر اس نے سکوت توڑا۔
‘تم سکندر کیوں بنی عشال ایسی کیا دشمنی تھی تمہاری آر بی سے جس نے تمہیں یہ خطرناک قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا؟اور تم وجدان کے ماضی کے بارے میں سب کیسے جانتی تھی؟’
عشال نے مسلسل سامنے دیکھتے ہوئے اپنی مٹھیاں کسیں۔سعد نے اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا۔
‘میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی ایجنٹ جی۔’
عشال نے بہت ذیادہ سنجیدگی سے کہا اور یہ سنجیدگی سعد کو اپنی منہ پھٹ پٹاخہ پر بلکل بھی اچھی نہیں لگی تھی اس لئے شرارت سے بولا۔
‘تمہیں پتہ ہے کہ میرا مشن سکندر کو پکڑنا تھا میں چاہوں تو تمہیں آرمی کے حوالے کر سکتا ہوں۔’
سعد کی بات پر عشال نے اپنی ابرو اچکا کر سعد کو دیکھا۔
‘او ریئلی۔۔۔جہاں تک مجھے یاد ہے آپ کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔آپ ایجنٹ ہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ کسی کو بھی اٹھا کر کہہ دیں گے کہ یہ سکندر ہے تو آرمی ہیڈ کوارٹرز والے آپ کی بات کو پتھر کی لکیر سمجھ کر مان لیں گے۔۔۔آپ تو یہ تک ثابت نہیں کر سکتے کہ سکندر ایک آدمی نہیں لڑکی ہے۔’
عشال نے ایک مغرور سی مسکان کے ساتھ کہا تو سعد بھی اسکی ہوشیاری پر مسکرا دیا۔
‘مجھے تو لگا تھا کہ لڑکی ہو تو بے وقوف ہو گی لیکن تم تو کافی چالاک نکلی بہادر پٹاخہ۔’
سعد نے شرارت سے کہا۔عشال کے لبوں کی مسکان پل بھر میں غائب ہوئی۔
‘آپ کو پتہ ہے ایجنٹ جی ایک عورت کمزور نہیں ہوتی۔وہ صرف کمزور بننے کا دکھاوا کرتی ہے کیونکہ یہ دنیا عورت کو کمزور دیکھنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔لیکن اگر وہ عورت اس جہان کے لوگوں کا خوف دل سے نکال دے نا تو ایسی مظبوط چٹان بن سکتی ہے جس کے سامنے طاقت ور مرد بھی ٹوٹ کر بکھر جائیں۔اس لئے کبھی بھی عورت کو کمزور مت سمجھنا وہ بس ایک خاموش طوفان ہے۔’
سعد عشال کی گہری سبز آنکھوں میں وہ مظبوطی دیکھ سکتا تھا اور اس مظبوطی کے سامنے سعد کی نظریں عقیدت سے جھک گئی تھیں۔
‘عشال بی بی۔۔۔۔’
ملازمہ کی آواز پر سعد اور عشال دونوں اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آئے تھے۔
‘آپ کو ہاشم صاحب اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں۔’
عشال کے اثبات میں سر ہلاتے ہی وہ ملازمہ وہاں سے چلی گئی عشال نے مسکرا کر سعد کو دیکھا۔
‘چلیں ایجنٹ جی میرا بلاوا تو آ گیا میں چلی نائس ٹو میٹ یو ۔’
عشال نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے کیا جو اب کی بار سعد نے تھام لیا۔عشال کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں
‘ارے واہ آپ نے میرے سے ہاتھ ملا لیا واؤ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے۔’
عشال نے شرارت سے کہا تو سعد نے اسکے ہاتھ پر اپنی پکڑ مظبوط کر کے اسے تھوڑا قریب کھینچا اور دوسرے ہاتھ سے عشال کے چہرے پر کٹنگ کی وجہ سے آئی آوارہ لٹوں کو ہٹایا۔
‘یہ ہاتھ اس لئے پکڑا ہے عشال کیونکہ اسے زندگی بھر تھامنے کا ارادہ ہے میرا اور ہاں جواب ہاں ہی ہونا چاہیے ورنہ تمہارا یہ ایجنٹ سکندر کو سچ میں اپنے پاس قید کر لے گا ۔’
عشال سعد کی بات سمجھ نہیں پائی تھی وہ تو بس سعد کی لودیتی نظروں سے خائف ہو رہی تھی پہلے کبھی تو سعد نے اسے یوں نہیں دیکھا تھا۔
عشال نے بہت مشکل سے اپنی شور مچاتی دھڑکنوں کو خاموش کروایا اور اپنا ہاتھ چھڑوا کر جلدی سے اندر بھاگ گئی۔وہ ہال میں داخل ہونے تک سعد کی نظروں کی تپش محسوس کرتی رہی تھی۔
نا جانے کتنی ہی دیر وہیں ہال میں دیوار کے پاس کھڑے ہو کر اپنی دھڑکنوں پر قابو پانے کے بعد عشال اپنے کمرے میں گئی اور کپڑے چینج کر ہاشم صاحب کے کمرے کی طرف چل دی۔
‘آ جاؤ۔’
عشال کے دروازہ کھٹکھٹانے پر ہاشم صاحب کی آواز آئی تو عشال مسکرا کر کمرے میں داخل ہو گئی۔
‘اسلام و علیکم۔’
عشال نے ایک نظر سائیڈ پر کھڑے وجدان کو دیکھا اور پھر ہاشم صاحب کو سلام کیا۔
‘وعلیکم السلام ! یہاں آؤ میرا بیٹا۔’
عشال مسکرا کر ہاشم صاحب کے پاس بیٹھ گئی۔ہاشم صاحب نے بہت محبت سے اسکے سر پر اپنا ہاتھ رکھا۔
‘وجدان نے مجھے سب بتا دیا ہے۔’
ہاشم صاحب کی بات پر عشال نے سوالیہ نظروں سے وجدان کو دیکھا تو وجدان نے بھی مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا ۔عشال نے اپنا سر جھکا کر اپنے آنسو ضبط کیے۔وجدان نے عشال کو بھی سب بتایا تھا اور عشال کے دل میں ہاشم صاحب کے لئے عقیدت بہت زیادہ بڑھ چکی تھی۔
‘ نہیں میرا بچہ افسردہ نہیں ہو ۔تم میری بیٹی ۔۔۔میری بیٹی بلکل جس طرح وجدان میرا اپنا بیٹا آج ابھی سے اسی طرح تم بھی میری بیٹی ہو۔’
ہاشم صاحب نے بہت محبت سے عشال کا چہرہ پکڑ کر کہا۔ان کی آنکھوں میں محبت اور اپنایت دیکھ کر عشال کی سبز آنکھیں بھر گئی تھیں۔
‘بس اب بلکل نہیں رونا تم نے میں برداشت نہیں کروں گا۔سمجھی۔۔۔میری بیٹی کی خواہش بھی آج پوری ہو گئی ہے اور میں اپنی بیٹی کو آنکھوں میں ایک آنسو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔’
ہاشم صاحب نے عشال کے آنسو پونچھ کر کہا۔عشال بھی اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے مسکرا کر ہاں میں سر ہلانے لگی۔
‘عشال تم مجھے اپنا بابا مانتی ہو؟’
‘بلکل بابا دل سے۔۔۔’
عشال نے اپنے ہاتھ ہاشم صاحب کے ہاتھوں پر رکھے تھے عشال جانتی تھی کہ اسکے سامنے بیٹھا یہ شخص ایک انتہائی عظیم انسان ہے۔
‘میں تم سے کچھ مانگوں تو دو گی؟’
‘جان چاہئے؟’
عشال کے سوال پر ہاشم صاحب کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھی۔جبکہ وجدان بھی اپنی نگاہوں میں ڈھیروں محبت سمیٹ کر عشال کو دیکھ رہا تھا۔
‘نہیں میرا بیٹا اللہ تو تمہیں میری عمر بھی لگا دے ۔۔۔۔’
ہاشم صاحب نے بہت محبت سے کہا اور پھر اپنے ہاتھ عشال کے چہرے سے ہٹا کر عشال کا ہاتھ تھاما۔
‘وجدان نے مجھ سے ایک بات کہی ہے۔۔۔’
ہاشم صاحب کے بات شروع کرنے پر عشال نے تمام توجہ ہاشم صاحب کی بات پر لگا دی۔
‘سعد تم سے شادی کرنا چاہتا ہے اور میری اور وجدان کی بھی یہی خواہش ہے کیونکہ سعد بہت ہی زیادہ اچھا انسان ہے بیٹا وہ تمہیں بے انتہا خوش رکھے گا۔’
ہاشم صاحب کی بات پر عشال نے اپنا سر جھکا لیا اب وہ سعد کی بات کا مطلب بھی سمجھ چکی تھی۔
‘دیکھو بیٹا میں جانتا ہوں کہ تم ایک بہت بہادر اور خود مختار لڑکی ہو اپنے فیصلے خود ہی بہت اچھی طرح سے لے سکتی ہو لیکن آدمی اور عورت ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں عشال دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔’
ہاشم صاحب کی بات پر عشال کافی دیر غور کرتی رہی۔اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ سعد ایک انتہائی اچھا انسان تھا اسکی زندگی میں آنے والی کوئ بھی لڑکی خوش قسمت ہی ہوتی مگر عشال پھر خود سے کیے اس وعدے کا کیا کرتی؟
‘اگر تمہیں سوچنے کے لیے وقت۔۔۔۔’
‘نہیں بابا جیسی آپکی مرضی مجھے آپ دونوں کا ہر فیصلہ دل سے قبول ہے۔’
عشال نے انکی بات کاٹ کر کہا ہاشم صاحب نے مسکرا کر عشال کے سر پر ایک بوسہ دیا۔
‘تو پھر ٹھیک ہے وجدان کی شادی کے ساتھ ہی تمہاری شادی بھی ہو گی اور کل دوپہر کو تم دونوں کا نکاح ہو گا اور پھر رات کو مہندی۔’
عشال کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔
‘یہ کچھ ذیادہ ہی فری نہیں ہو گئے آپ دونوں میری شرافت دیکھ کر۔’
عشال کی بات پر ہاشم صاحب اور وجدان قہقہہ لگا کر ہنسے۔عشال بھی دونوں کے ساتھ مل کر مسکرا دی اسے لگ رہا تھا کہ اسکی ہر محرومی دور ہو گئ ہو۔پھر اسکے ذہن میں سعد کا خیال آیا تو مسکان شرمیلی ہو گئی اور عشال نے اپنا سر جھکا لیا۔
‘لگتا ہے آپ کو چیلنجز پسند ہیں ایجنٹ جی تبھی تو مجھ سے شادی کر رہے ہیں اب اپنی سلامتی کی دعائیں مانگتے رہیے گا۔’
عشال شرارت سے سوچ کر مسکرا دی۔
🌈🌈🌈
پچھلے دو دن سے گھر میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے چل رہی تھیں ۔حسن صاحب بھی فریحہ بیگم کو لے کر وہاں آ گئے تھے۔حسن صاحب کو اب اپنی غلطی پر پچھتاوا تھا وہ اتنا سمجھ گئے تھے کہ جو کچھ بھی ہوا تھا اس میں ان کی بھی اتنی ہی غلطی تھی جتنی سلمان صاحب کی۔جانان عشال اور زرش تو کئی بار شاپنگ پر جا چکی تھیں جبکہ حمنہ کے لئے تو ناممکن تھا کہ وہ گاڑی کا چہرہ بھی دیکھ لے۔عثمان کا کہنا تھا کہ وہ اسے لاہور سے یہاں لے آیا یہی بہت ہے اور اگر اسے کچھ چاہیے تو عثمان پوری کی پوری مارکٹ ہی گھر منگوا لے گا۔
لیکن حمنہ نے کہا تھا کہ اسکی ضرورت کی ہر چیز جانان لے آئے گی عثمان کو اتنا تکلف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ابھی بھی جانان اور عشال کے شاپنگ پر جانے کے بعد حمنہ سجاوٹ اور تیاریوں پر دھیان دے رہی تھی ۔اتنی جلدی کی شادی کی تیاریاں کرنا کافی مشکل تھا۔
ابھی بھی وہ سب مل کر عشال کے نکاح کے لئے تیار ہو رہے تھے ۔ آف وائٹ بھاری کام والے گرارے کرتی اور دوپٹے میں ملبوس،پارلر والی کے نفاست سے کیے میک اپ اور سنہری جیولری پہنے عشال حد سے ذیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔
زرش نے عشال کو دیکھ کر سی ٹی بجائی تو سب نے حیرت سے زرش کی طرف دیکھا۔
‘کیا۔۔۔یہ بھی تت۔۔۔۔۔تو ایسے ہی کرتی تھی۔’
اس بات پر عشال بھی ہنس دی۔
‘لیٹل ڈال ایسا تو میں دلہن بن کے بھی کر سکتی ہوں۔’
عشال نے اتنا کہہ کر اپنے ہونٹ گول کیے اور زرش کو دیکھتے ہوئے سی ٹی بجانے لگی۔زرش ،جانان، حمنہ تینوں نے ایک جیسی کام دار سفید رنگ کی کرتی اور کیپری پر لال دوپٹے لیے ہوئے تھے اور وہ تینوں ہی نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھیں۔
‘چلو اب دلہن کو لے کر چلتے ہیں اس سے پہلے کہ سعد بھائی خودی یہاں آ جائیں۔’
سعد کے ذکر پر ہی زرش کا منہ بن گیا تھا ۔سب لوگوں نے اسے سمجھا کر سعد کے بارے میں بدگمانیاں دور کرنے کی بہت کوشش کی تھی۔سعد نے بھی کئی مرتبہ زرش سے معافی مانگی تھی لیکن زرش ابھی بھی سعد سے کتراتی ہی تھی۔
‘ماشا اللہ میری سب بیٹیاں کتنی پیاری لگ رہی ہیں۔’
فاطمہ بیگم نے کمرے میں آ کر سب کو دیکھا تو مسکرا کر ان کے پاس آئیں اور باری باری سب کا ماتھا چوما۔
‘سب سے زیادہ میں پیاری لگ رہی ہوں نا؟’
جانان نے اپنا دوپٹہ ادا سے لہراتے ہوئے پوچھا۔
‘بلکل بھی نن۔۔۔۔نہیں سب سے زیادہ میں۔۔۔۔پیاری لگ رہی۔۔’
زرش نے فوراً کہا تھا۔فاطمہ بیگم زرش اور جانان کو چھے سال پہلے کی طرح نوک جھوک کرتے دیکھ کر نم آنکھوں سے مسکرا دیں۔انہیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ کس طرح سے وہ اپنے رب کا شکر ادا کریں۔
‘نہیں آج تو سب سے ذیادہ پیاری ہماری پیاری سی دلہن لگ رہی ہے۔’
فاطمہ بیگم نے بہت محبت سے عشال کے سر پر ہاتھ رکھا تو ان تینوں نے فاطمہ بیگم کی بات سے متفق ہوتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔
‘لیکن عشال کے بب۔۔۔۔بعد میں سب سے زیادہ۔۔۔۔۔پیاری لگ رہی ہوں۔۔۔’
زرش کی بات پر سب ہی قہقہہ لگا کر ہنسے۔
‘اچھا چلو اب دیر ہو رہی ہے نکاح کے بعد پھر رات کو مہندی کی تیاریاں بھی تو کرنی ہیں نا۔’
فاطمہ بیگم نے بہت محبت سے عشال کو کھڑا کیا اور اپنے ساتھ اسے باہر لے آئیں جہاں سعد بھی آف وائٹ کلر کی شیروانی پہنے صوفے پر بیٹھا تھا۔چھے فٹ سے بھی زیادہ قد،کسرتی جسم اور خوبرو نقوش کے ساتھ سعد وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
فاطمہ بیگم نے عشال کو سعد کے مقابل بیٹھایا تو نا جانے کیوں عشال کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئیں۔
‘چلیں بھئ نکاح شروع کرتے ہیں ہمارا سعد پہلے ہی بڑی دیر سے انتظار کر رہا ہے۔’
شایان نے سعد کے کندھے پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا۔ عثمان وجدان اور شایان بھی کالی رنگ کی شیروانیوں میں انتہائ ذیادہ جازب نظر لگ رہے تھے لیکن عثمان اور وجدان کا سارا دھیان تو کھلکھلا کر آپس میں باتیں کرتی زرش اور حمنہ پر تھا۔جبکہ شایان نے تو فوراً جانان کو اپنے قریب کیا تھا۔
نکاح خواں نے اللہ کا نام لے کر نکاح پڑھنا شروع کیا۔
‘عشال درانی ولد الفاظ درانی ۔۔۔۔۔
اس سے آگے تو سعد نے کچھ سنا ہی نہیں تھا۔سعد نے بہت حیرت سے عشال کو دیکھا اسکا ذہن صرف ایک لفظ پر ہی اٹکا ہوا تھا۔ولد الفاظ درانی یہی تو وجدان کے بابا کا بھی تو نام تھا نا تو کیا عشال وجدان کی بہن تھی؟اففف یہ کیسے پراسرار راز تھے جنہیں سعد سمجھنے سے قاصر تھا۔
اپنی سوچوں میں سعد نے عشال کا اقرار بھی نہیں سنا تھا۔ہوش تو اسے تب آیا جب سعد نے مکاح خواں کے منہ سے اپنا نام سنا۔
‘قبول ہے۔’
سعد نے خود سے اس وعدے کے ساتھ اپنی رضامندی ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کے تمام راز جان کر ہی رہے گا۔سعد کے تین مرتبہ رضامندی ظاہر کرنے پر سب لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔ جانان نے تو بہت محبت سے عشال کا منہ چوم لیا آخر کار وہ اسکے پیارے بھائی کی بیوی بن گئی تھی۔
‘مبارک ہو مسز سعد۔۔’
سعد نے مسکرا کر کہا لیکن اپنا دھیان سعد نے سامنے ہی رکھا تھا۔
‘آپکو بھی مبارک ہو مسٹر عشال۔’
سعد نے بہت مشکل سے اپنے قہقہے کو روکا تھا۔عشال دنیا کی ہر لڑکی سے ہٹ کر تھی اور سعد خود کو بہت ذیادہ خوش قسمت سمجھ رہا تھا کہ اسے سعد کے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا۔سعد کو لگا تھا کہ اب اسکی زیست کا سفر اپنے سب سے حسین موڑ پر آ چکا تھا۔
نکاح خواں کے جانے کے بعد سب لوگ سعد اور عشال کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھ گئے تھے۔جانان نے سعد کی انگی پکڑ لی تھی اور اپنی منہ مانگی قیمت پر ہی چھوڑنے کا کہا تھا۔
‘دیکھو گڑیا یہ لوٹنے والا سلسلہ کل ہی شروع کرنا تم ۔’
جانان نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
‘تو پھر اپنی انگی بھول جائیں آپ۔’
سب لوگ جانان کی معصوم بات پر ہنسنے لگے تھے۔
‘میرے پاس میرا والٹ نہیں ہے۔’
سعد نے بہانا بنایا۔
‘میں لے کر آتی ہوں۔۔’
زرش اتنا کہہ کر جلدی سے اٹھی اور سیڑھیاں چھڑتے ہوئے سعد کے کمرے کی طرف بڑھی تھی لیکن تبھی کسی نے اچانک اسکو کلائی سے پکڑ کر ایک کمرے میں کھینچا اور ساتھ ہی دروازہ بند کر کے زرش کو دروازے کے ساتھ لگا کر اسکے گرد اپنے ہاتھوں کا حصار بنایا تھا۔
زرش نے ایک پل کو سہم کر اپنی آنکھیں میچ لیں لیکن پھر وجدان کی مخصوص مہک کو محسوس کر کے اپنا منہ بسورا۔
‘اتنے دن سے مجھ سے چھپتی کوں پھر رہی ہو؟’
وجدان نے اسکے قریب ہوتے ہوئے سوال کیا زرش کی دھڑکن تیز ہوئی تھی۔
‘ہہ۔۔۔ہاشم بابا نے منع کیا تھا آپ سے بب۔۔۔بات کرنے کو اسی لئے۔۔۔۔’
وجدان نے مسکرا کر اسکے حسین چہرے کو دیکھا۔
‘منع تو مجھے بھی کیا ہے لیکن پھر بھی دیکھو تم سے بات کرنے آ ہی گیا نا۔’
وجدان نے آگے ہو کر اسکے کان میں سر گوشی کی تو زرش کانپ کر رہ گئی۔
‘آآ۔۔۔۔آپ اچھے بیٹے نہیں ہیں۔۔۔۔لل۔۔۔۔لیکن میں ہوں۔۔’
وجدان نے اسکی بات پر دھیان دیے بغیر ہی اپنے دہکتے لب زرش کے گال پر رکھے تھے۔
‘مم۔۔۔۔میں بابا کو بتاؤں گی۔۔۔’
زرش کے ایسا کہنے پر وجدان کے لب بے ساختہ طور پر مسکرائے۔
‘کیا بتاؤ گی؟’
‘یی۔۔۔۔یہی کہ آپ نے مجھے۔۔۔۔۔ کمرے میں بند کک۔۔۔۔کر کے مجھ سے بات کی تھی۔’
‘او اچھا یہ نہیں بتاؤ گی کہ میں نے تمہیں کس کیا یہاں پر۔۔۔’
وجدان نے اسکے گال کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔
‘نہیں یہ نہیں بتاؤں گی آپکی طرح نہیں میں اچھی لڑکی ہوں۔’
وجدان نے اس بات پر قہقہ لگایا تھا۔
‘اور یہ اچھی لڑکی جان ہے میری۔۔۔۔بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو۔’
وجدان کے بہت محبت سے کہنے پر زرش شرما کر خود میں ہی سمٹی تھی۔وجدان بے خود سا ہو کر اسکے سرخ لپسٹک سے سجے ہونٹوں پر جھکنے لگا۔
‘وجدان چوہا۔۔۔’
زرش کے چلانے پر وجدان نے پلٹ کر دیکھا لیکن اتنا موقع پاتے ہی زرش دروازہ کھول کر جلدی سے بھاگ گئی تھی۔وجدان کے لب اسکی چالاکی پر مسکرائے تھے۔
‘صرف کل تک کی بات ہے نور خان پھر مجھ سے دور کبھی بھی نہیں جا سکو گی تم۔’
🌈🌈🌈
رات ہوتے ہی مہندی کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ چکی تھیں۔پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔وصیح لان میں بے تحاشہ پھولوں سے سجاوٹ کی گئی تھی۔سٹیج پر پھولوں سے سجے دو جھولے پڑے تھے۔پیلے اور سرخ ڈیکوریشن میں وہ جگہ بہت جازب نظر لگ رہی تھی مہمان بھی آ چکے تھے۔
عشال اور زرش کو تیار کرنے میں پارلر والی نے اپنی جی جان لگائی تھی اور اب وہ حمنہ اور جانان کو تیار کر رہی تھی۔
ہلکے پیلے رنگ کے لہنگے میں زرش آسمان سے اتری پری ہی لگ رہی تھی۔زیادہ خوبصورت تو زرش تب لگتی تھی جب وہ چہکتے ہوئے گھوم کر عشال کو دیکھا رہی تھی۔ملٹی کلر کے لہنگے میں مناسب جیولری پہنے عشال بھی تو ایک حور ہی لگ رہی تھی۔
جبکہ حمنہ اور جانان نے بلکل ایک جیسے گلابی رنگ کے لہنگے پہنے ہوئے تھے۔وہ چاروں حسن کا پیکر بنی لان میں آئی تھیں۔حمنہ نے زرش کو اور جانان نے عشال کو تھاما ہوا تھا۔جس جس کی نظر ان پر پڑھ رہی تھی وہ پلٹنا ہی بھول جاتی تھی۔
وجدان کا تو دل کر رہا تھا کہ جا کر زرش کا گھونگھٹ نکال دے تاکہ زرش کے یہ حسین روپ کوئی اور نہ دیکھ پائے۔جبکہ سعد تو عشال کو دیکھتے ہی سانس لینا بھی بھول چکا تھا۔ان چاروں نے مہرون کرتوں کے نیچے سفید شلواریں پہنی تھی اور گلے میں سکن سکارف لپیٹے ہوئے تھے۔
حمنہ نے زرش کو وجدان کے عقب میں بیٹھایا تو گھبراہٹ کے مارے زرش کے ہاتھ کپکپانے لگے جن کو کچھ دیر بعد ہی وجدان نے اپنے پر حدت ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔
عشال تو ہر چیز کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وہاں کوئ تھا ہی نہیں اور وہ جانتی بھی نہیں تھی کہ یہ بات اسکے مجازی خدا کو کتنی ناگوار گزر رہی تھی۔
کچھ دیر بیٹھ کر سب لوگوں کو ہنستے باتیں کرتے ،مذاق کرتے دیکھ کر زرش نے اپنا منہ بسورا تھا۔ساتھ بیٹھا وجدان بھی تو سعد سے باتیں کر رہا تھا۔
‘بلکل اچھی نہیں ہے ہماری شادی ۔’
زرش نے منہ بنا کر کہا تو وجدان نے حیرانی سے زرش کی طرف دیکھا۔
‘کیوں نور خان کیا ہو گیا ہے؟ ‘
‘دد۔۔۔دیکھیں نا سب ہنس رہے ہیں باتیں کر رہے ہیں اور۔۔۔۔۔ جن کی شادی ہے ااا۔۔۔۔انہیں یہاں بیٹھا دیا ہے یہ تو غلط ہوا نا۔’
اپنی معصوم بیوی کی بات پر وجدان کھل کر مسکرایا اور پھر کچھ دیر کے بعد اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔اسکے جاتے ہی جانان زرش کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی۔
‘کتنا مزہ آ رہا ہے نا۔۔۔’
‘بلکل نہیں۔۔۔’
زرش نے جلدی سے جانان کی بات کہی لیکن اس سے پہلے کے جانان زرش کو کچھ کہتی اچانک ہی تمام لائٹس بند ہو گئی تھیں۔ایک ہلچل سی پیدا ہوئی تھوڑی دیر کے بعد ہی لان کے بلکل وسط میں موجود لائٹس آن ہوئیں اور وجدان وہاں کھڑا تھا۔سب ن نے حیرت سے وجدان کو دیکھا۔
تبھی سپیکرز سے میوزک بجنے کی آواز پر وجدان نے آہستہ سے ڈانس کرنا شروع کر دیا۔سب لوگ کی حیرت تالیوں اور ہوٹنگ میں بدل گئی تھی۔
‘یہ وجدان بھائی دا کریلا ہی ہیں نا۔’
جانان نے آنکھیں پھاڑ کر وجدان کو دیکھتے ہوئے کہا۔تبھی گانے کے بول سپیکر سے فضا میں گونجے۔
‘اکھاں دے کٹورے
سرمہ بٹورے
لگدے چھچھورے بڑے ہائی فائی
دل تے دراٹی ساڈے چل جاتی
ماردے گلاٹی پوچھے وائے وائے
چائے میں ڈوبا بسکٹ ہو گیا
میں تو ایویں ایویں ایویں لٹ گیا۔’
وجدان نے بہت اچھا ڈانس کیا تھا سبھی نے کافی تالیاں بجائیں تبھی جانان سعد اور عشال کا ہاتھ تھام کر کھینچتے ہوئے ان دونوں کو وہاں لائی عشال مسلسل انکار میں سر ہلا رہی تھی۔لیکن سب لوگ تالیاں بجا کر عشال کا نام پکار رہے تھے۔
‘اب اتنا بھی بھاؤ مت کھائیں مسز سعد۔’
سعد کی سرگوشی پر عشال نے اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے سعد کو دیکھا اور پھر اپنی کمر پر ہاتھ رکھا۔
‘ہٹ وے نگوڑے
نیم دے پکوڑے
پیچھا کیوں نہ چھوڑے
گھومیں ڈائیں بائیں
تجھ کو سدھاروں
جوتی میں اتاروں
سر پہ میں ماروں تیرے دھائیں دھائیں
رومیو بنا پرمٹ ہو گیا
تو تو ایویں ایویں ایویں لٹ گیا۔’
سب لوگو نے ہنستے ہوئے تالیاں بجا کر اور ہوٹنگ کر کے عشال کو داد دی۔عشال نے ایک ادا سے سعد کو دیکھا۔تبھی درمیان میں شایان جانان کا ہاتھ پکڑ کر آیا اور اسے اپنے ساتھ گھمانے لگا۔جانان بھی خوشی سے چہک رہی تھی۔
‘بالوں کو میں سیٹ کیتا جیل مل کے
چھاتی چوڑی ڈولے شولے ڈنڈ پیل کے
کڑیے ہرایا تو نے چال چل کے باتوں والی باسکٹ بال کھیل کے’
جانان بھی مسکراتے ہوئے کمر پر ہاتھ رکھ کر شایان کا ڈانس میں ساتھ دینے لگی۔
جیل ویل دیکھ چھوری پٹتی نہیں
ڈولوں سے عمر ساری کٹتی نہیں
خوب پہچانوں تیرے دل میں ہے کیا
فطرت چھوروں کی پلٹتی نہیں
گڑ دیکھا مکھی جیسا فٹ ہو گیا
تو تو ایویں ایویں ایویں لٹ گیا۔’
جانان نے مسکرا کر شایان کو دیکھا تو شایان نے شرارت سے ایک آنکھ دبائی جانان اپنے پاؤں کے نآخن تک سرخ ہوئی تھی۔ہاشم صاحب نے عثمان کو آگے کیا پہلے تو عثمان نے خوب مزاحمت کی لیکن حمنہ کے پلیز کہنے پر عثمان مسکرا کر خود ہی درمیان میں آ گیا اور میوزک پر ڈانس کرنے لگا۔
‘او میں تو ایویں ایویں ایویں ایویں ایویں ایویں ایویں لٹ گیا۔
جانان نے حمنہ کو اگے کیا حمنہ نے مسلسل انکار میں سر ہلایا اور واپس جانے لگی عثمان نے حمنہ کی کلائی تھام کر اسے روکا تھا۔
پلیز۔۔۔
عثمان کے سرگوشی کرنے پر حمنہ نے شرما کر سر جھکایا پھر اپنا ہاتھ عثمان کے سینے پر رکھ کر اسے ہلکا سا دھکا دیا۔
‘کیوں میری گلی میں آ کے ویٹ کرتا
حرکتیں ڈاؤن مارکٹ کرتا
دیکھوں جو ہٹا کے کھڑکی دا پردہ
سی ٹی وی ٹی مار ایریٹیٹ کردا۔’
حمنہ نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر ڈانس ہنستے ہوئے ختم کیا لیکن اچانک ہی عثمان نے اسے اپنی طرف کھینچا۔
‘چھڈ ایٹیٹیوڈ کبھی مان کڑیے
بلینک چیک دے دوں یا تے جان کڑیے
ایٹ دا یہ دل کر نرم زرا
دیکھ لے یہ گبرو جوان کڑیے
چھے فٹ سے ڈیڑھ فٹ ہو گیا۔
میں تو ایویں ایویں لٹ گیا۔’
عثمان کے ڈانس ختم کرتے ہی سب نے ہوٹنگ کر کے تالیاں بجائیں۔
‘اب تو مزا آیا نا۔’
وجدان نے کھلکھلا کر ہنستی ہوئی زرش سے پوچھا۔
‘ہاں ہاں بہت ذیادہ تھینک یو۔’
زرش نے چہکتے ہوئے کہا اور اسکے چہرے کی خوشی ہی وجدان کے لئے سب کچھ تھی۔ یونہی ہنستے کھلکھلاتے رات گزرنے لگی بہت عرصے کے بعد انکی زندگی میں خوشیاں لوٹی تھیں۔
🌈🌈🌈🌈
پفنکشن کافی دیر تک چلتا رہا تھا۔عشال کپڑے تبدیل کرنے اپنے کمرے میں آئی تھی۔ایسے بھاری لباس پہننے کی اسے بلکل بھی عادت نہیں تھی اور اب اسے خود سے بھی الجھن ہو رہی تھی۔
اس نے بے چینی سے اپنی جیولری اور دوپٹہ اتار کر بیڈ پر پھینکا اور پھر اپنے ہاتھ پیچھے لے جا کر کرتی کی ڈوریاں کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔
‘ڈیم یار جانو کو ساتھ لانا چاہیے تھا۔’
عشال نے الجھن سے کہا لیکن تبھی کسی نے اسکی کرتی کو ڈوری کو کھینچ کر کھول دیا۔عشال گھبرا کر پلٹی تو اسکی نظر شرارت سے مسکراتے ہوئے سعد پر پڑی۔
‘یہ کیا حرکت تھی ایجنٹ جی شرم نہیں آتی آپ کو اسطرح سے آدھی رات کو ایک مظلوم بے سہارا لڑکی کے کمرے میں آ کر اسے پریشان کرتے ہوئے۔’
عشال نے مصنوعی غصے والا منہ بنا کر کہا۔اچانک ہی سعد نے اسکی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کھینچا تھا۔عشال کی سانس اسکے حلق میں اٹکی تھی۔
‘یہ مظلوم بے سہارا لڑکی میری بیوی ہے جسکے وجود پر پورا پورا حق حاصل ہے مجھے۔’
سعد نے بہت استحاق سے کہا عشال کی نظریں خود بخود جھک گئیں۔
‘سارے حق آپ کو کل حاصل ہوں گے آج نہیں۔’
‘تمام حق تو تب ہی حاصل ہو گئے تھے جب تم نے تین بار قبول ہے کہا تھا۔’
سعد نے جھک کر اسکے کان میں سرگوشی کی تھی۔
‘دیکھیں ایجنٹ جی اپنی یہ چھچھوری حرکتیں کنٹرول میں رکھیں ورنہ۔۔۔۔۔’
اس سے پہلے کہ عشال کچھ اور کہتی سعد نے اسکے ہونٹوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لے لیا۔عشال نے مچل کر خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن پکڑ بہت مظبوط تھی۔
ناجانے کتنی ہی دیر سعد اسکے نازک لبوں پر جھکا خود کو سیراب کرتا رہا تھا۔اچانک ہی عشال نے اپنی پوری طاقت لگا کر سعد کو دھکیل کر خود سے دور کیا اور گہرے سانس بھرنے لگی۔
‘چھچھورے ایجنٹ۔۔۔’
عشال نے اپنا منہ دوسری سائیڈ پر کر کے کہا۔سعد کی قربت میں اسکا گھبراہٹ کے مارے برا حال ہو رہا تھا۔اتنا تو وہ کبھی بندوق چلاتے ہوئے بھی نہیں گھبرائی تھی۔عشال کو خود پر غصہ آیا تھا وہ کیوں جھک گئی سعد کے آگے اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی کسی مرد کے آگے نہیں جھکے گی۔
خود پر قابو پاتے ہی عشال تیزی سے پلٹی اور اپنے ہاتھ کا مکا بنا کر سعد کے چہرے پر مارنے لگی لیکن سعد نے بھی اتنی ہی تیزی سے اسکا ہاتھ ہوا میں تھام لیا تھا۔
‘کیا بات ہے دونوں بہن بھائی ہی ایک جیسے ہو خطرناک آخر ایسا کیا ہے اس درانی خون میں۔’
سعد نے اسکا ہاتھ کھینچ کر واپس اسے اپنے قریب کیا۔عشال نے اپنی ہری آنکھیں چھوٹی کر کے سعد کو دیکھا۔
‘کب سے جانتے ہیں آپ کہ وجدان بھائی ہیں میرے۔’
عشال کے سوال پر سعد مسکرا دیا ۔
‘ہمارے نکاح کے وقت سے۔’
سعد نے انتہائی محبت سے کہتے ہوئے اسکے چہرے سے بال ہٹائے ۔عشال کی نظریں جھک گئیں مگر اس نے سٹپٹانا بند نہیں کیا تھا۔
‘اپنی محبوب کے سامنے جھک جانا کمزوری کی نہیں طاقت کی علامت ہوتا ہے عشال جیسے میں تمہاری محبت میں مکمل طور پر جھک چکا ہوں۔’
عشال سعد کی آنکھوں میں موجود محبت میں کھو سی گئی۔
‘میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکوں گی۔’
عشال کی سبز آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔سعد نے بہت عقیدت سے ان نم آنکھوں کو چوما۔
‘تو مت جھکو میری جان کبھی بھی مت جھکنا مجھے بھی تو تمہاری اس مظبوطی سے ہی محبت ہوئی ہے میں کبھی بھی نہیں چاہوں گا کہ یہ مظبوطی کبھی کم ہو۔’
سعد کی بات پر عشال نے اپنی نظریں جھکا لیں۔
‘دکھ مخلص انسان کے ساتھ بانٹنے سے کم ہو جاتا ہے جانتی ہو کیوں؟کیونکہ آپسے محبت کرنے والے کے لئے آپکی تکلیف اپنی تکلیفوں سے بڑھ کر ہوتی ہے۔’
عشال اب باقاعدہ طور پر رونے لگی وہ جانتی تھی کہ وہ ہار چکی ہے مکمل طور پر سعد کی محبت کے سامنے ہار چکی ہے۔
‘ہاں میں سکندر درانی کی ہی بہن ہوں ۔الفاظ درانی اور شاہانہ درانی کی بیٹی۔’