Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
فیض نہیں جانتا تھا کہ وہ کس طرح سے آر بی کو بتائے کہ نہ صرف وہ لڑکی اور وہ آدمی ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں بلکہ ان کے کافی آدمی آرمی کے ہاتھ بھی لگ گئے تھے اور وہ آدمی بھی ان کے بہت سے کاموں کے بارے میں جانتے تھے اب انہیں وہاں بھی نقصان ہی اٹھانا پڑے گا۔
‘بب۔۔۔۔باس۔۔۔’
فیض نے کانپتی ہوئی آواز میں آر بی کو پکارا جو اس وقت سگرٹ منہ میں دبائے کسی مغرور اور انتہائی خوبصورت بادشاہ کی مانند اندھیرے کمرے میں صوفے پر بیٹھا نیوز دیکھ رہا تھا جہاں کسی سیاست دان کے بارے میں خبر چل رہی تھی۔
‘بکو۔۔۔’
آر بی نے اسکی طرف دیکھے بغیر کہا۔
‘بب۔۔۔۔باس وہ لڑکی۔۔۔۔۔ااا۔۔۔۔۔اور اسکا شوہر وہ۔۔۔۔۔ ہمارے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں اور نہ جانے کہاں ہیں۔۔۔۔۔ہم ڈھونڈ نہیں پا رہے۔’
آر بی نے انتہائی زیادہ غصے سے فیض کو دیکھا اور پھر وہاں سے اٹھ کر فیض کے پاس آیا۔اس سے پہلے کہ فیض اسکا ارادہ سمجھتا آر بی نے اپنا ہاتھ ہوا میں اٹھا کر ایک انتہائی زور دار مکا فیض کے منہ پر مارا۔
‘کتو ایک کام ٹھیک سے نہیں کر سکتے۔حرامی ہو سب۔۔۔۔’
آر بی نے ایک جھٹکے سے فیض کو چھوڑا جس کی وجہ سے فیض زمین بوس ہو گیا اور آر بی کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑ دیے۔
‘جانتا ہے تیری وجہ سے وہ لڑکی میرے ہاتھ آ کر نکل گئی پہلی دفعہ آر بی کی خواہش ادھوری رہی تم سب حرامیوں کی وجہ سے اور وہ بھی میری سب سے بڑی خواہش۔’
آر بی غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔اتنا تو وہ پہلے ہی سمجھ چکا تھا کہ یہ وجدان خان کوئی عام سا جم کا مالک نہیں ہے اور اب اسے یقین ہو گیا تھا۔آر بی نے پہلے فیض کو خوب مارا پھر اپنی گن پکڑی اور آہستہ آہستہ اس میں گولیاں ڈالنے لگا۔فیض کانپتے ہوئے آر بی کو دیکھ رہا تھا۔
‘اس وجدان خان کے بارے میں پتہ لگانے کو کہا تھا کیا پتہ چلا؟ ‘
آر بی نے اپنی گن کو ایک ادا سے گھماتے ہوئے پوچھا۔
‘جج۔۔۔۔جی باس۔۔۔۔’
فیض نے کراہتے ہوئے اٹھ کر کانپتے ہاتھوں سے ایک فائل زمین سے اٹھائی اور اسے آر بی کو پکڑا دیا وہ ویسے بھی وجدان خان کے بارے میں کچھ ذیادہ معلوم نہیں کر پایا تھا۔
آر بی نے اس فائل کے صفے پلٹنا شروع کیے۔عام سی معلومات تھی اسکے ماں باپ سکول اور کالج کے بارے میں پہلے تو وہ ہر چیز کو نظر انداز کرتا رہا مگر پھر اچانک ہی اسکی نظر وجداں خان کی تصویر پر پڑی ۔بھوری آنکھوں میں حیرت آئی تھی۔نا جانے کتنی ہی دیر وہ وجدان خان کو دیکھتا رہا تھا اور پھر آر بی نے ایک خطرناک سی چیخ کے ساتھ اس فائل کو زمین پر پھینکا اور پاس پڑے ٹیبل کو بھی الٹ دیا۔
‘کیوں سکندر کیوں۔۔۔۔ہر دفعہ تم ہی کیوں چھین لیتے ہو سب مجھ سے۔’
آر بی غصے سے چلاتے ہوئے پورا کمرہ تہس نہس کر رہا تھا اور فیض خوف کے مارے کونے میں بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔
‘پہلے بھی سب چھین لیا مجھ سے ماں باپ دولت سب تمہیں ملا اور اب زرش بھی میری محبت بھی چھین لی کیوں ۔’
آر بی تڑپ رہا تھا اور اسکی یہ تڑپ اسکی چیخ و پکار سے ظاہر ہو رہی تھی۔
‘اسی لئے نفرت کرتا تھا میں تم سے سکندر بہت ذیادہ نفرت اور اب میری سب سے بڑی خواہش بھی تمہاری وجہ سے ہی ادھوری ہے ۔۔۔۔۔نہیں چھین لوں گا میں تم سے پھر سے سب کچھ چھین لوں گا۔۔۔۔’
آر بی نے سامنے موجود ایل سی ڈی کو زمین پر پٹخ کر توڑ دیا۔فیض اب مکمل طور پر وہاں چھپ چکا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس وحشت کے عالم میں وہ آر بی کے سامنے جائے اور اسکا حال بھی بلکل ان چیزوں جیسا ہو۔
‘مار دوں گا میں تمہیں سکندر مار دوں گا۔’
آر بی اپنے گھٹنوں پر بیٹھ کر چلا رہا تھا۔نفرت ،بے بسی ،کرب اور وحشت کیا کچھ نہ تھا آر بی کی آواز میں۔
آر بی کو ابھی بھی یاد تھا کہ وہ کیا تھا صرف ایک کیڑا جسے کوئی دربار میں چھوڑ گیا تھا اور اس کیڑے کا کام تھا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ان سے بھیک مانگنا۔کچھ لوگ وہ بھیک دے جاتے تھے اور کچھ لوگ اسے ایک کیڑا سمجھ کر دھکا دے کر خود سے دور ہٹا دیتے ۔
مگر پھر الفاظ درانی آیا تھا اس بچے کی زندگی میں۔بلو کی زندگی میں جس نے اس بچے کو نہ صرف ایک گھر،ایک نام دیا بلکہ ماں باپ کا پیار بھی دیا۔وہ سب دیا جس کی اسے چاہ تھی اور اس بلو کو رومان بنا دیا۔ رومان بھی ان سب کو اپنا سمجھنے لگا تھا۔الفاظ روز رومان کو یہ احساس دلاتا تھا کہ وہ رومان کا مقروض ہے۔رومان نے اسکی جان بچائی تھی اور اسی لیے رومان تو انکی محبتوں چاہتوں پر اپنا حق جما بیٹھا تھا ایسا حق جو صرف رومان کا تھا اور کسی کا نہیں۔
مگر پھر سکندر پیدا ہوا اور ایک ہی پل میں اس بچے نے رومان سے وہ حق ،وہ محبت،اپنے ماں باپ کا وقت سب چھین لیا۔رومان جلتا تھا اس بچے سے تب تب جلتا تھا جب جب شاہانہ اسے اٹھا کر پیار کرتی تھیں۔سائے کی طرح سکندر کے ساتھ رہتی تھیں۔ہر وقت بس سکندر کا نام ہی ہوتا تھا انکی زبان پر۔
رومان تب تب جلتا تھا جب الفاظ آنکھوں میں ڈھیروں چاہت اور غرور لے کر سکندر کو دیکھتے تھے اسے اپنی کل کائنات اپنا وارث کہتے تھے۔ایسا نہیں تھا کہ رومان کو ان سے پیار نہیں ملتا تھا مگر رومان کو پیار کا ایک حصہ نہیں چاہیے تھا رومان کو تو سارے کا سارا پیار اپنے لیے چاہیے تھا۔
رومان جب جب سکندر کو دیکھتا تو وہ حسد کی آگ میں جلتا تھا اور یہ حسد کی آگ بھی تو بہت بری ہوتی ہے انسان جانتا بھی نہیں اور یہ آگ سامنے والے کو جلانے سے پہلے اسے خود جلاتی ہے۔
رومان نے بہت کوشش کی تھی الفاظ کی نظروں میں سکندر سے آگے جانے کی۔ہر برے کام کا الزام وہ سکندر پر لگاتا اور خود سب سے اچھا ایک آئیڈیل بیٹا بن کر رہتا جس کے لئے سب کچھ اسکے باپ کی خواہش ہے لیکن پھر بھی سکندر کو دیکھ کر جو چمک الفاظ کی آنکھوں میں آتی تھی وہ رومان کو دیکھ کر کبھی نہیں آئی اور رومان وہ چمک چاہتا تھا صرف اپنے لئے چاہتا تھا۔
رومان کا دل چاہتا تھا کہ وہ سکندر کو مار دے لیکن وہ جانتا تھا کہ ایسا کر کے الفاظ اسے بھی کبھی قبول نہیں کریں گے۔اسی لیے رومان نے چاہا کہ الفاظ سکندر سے نفرت کریں لیکن یہ ناممکن تھا۔سکندر کی ہر غلطی کے باوجود ناممکن تھا۔
اصلی مسلہ تو اس دن کھڑا ہوا جب شیراز صاحب کے دھمکانے کے بعد الفاظ صاحب نے اپنے وکیل کو بلایا اور اپنی ساری جائیداد سکندر کے نام کر دی اور رومان کے نام ایک ریسٹورنٹ اور ایک گھر جس سے رومان آرام سے اپنی زندگی گزار سکتا تھا مگر سکندر کی طرح عیاشی سے تو نہیں۔
اس رات رومان پوری رات روتا رہا تھا اپنے حسد کی آگ میں جلتا رہا تھا اسے ایسا لگتا تھا کہ سکندر اسکے سامنے کھڑا اس پر ہنس رہا ہے اور اسے کیڑا بلا رہا۔
‘ہاہاہا تو تو کیڑا پیدا ہوا تھا بلو۔۔۔۔رومان بن جا یا کچھ بھی بن جا تو کیڑا ہی رہے گا کیڑا ہی مرے گا۔۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔’
رومان نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے۔اسکے حسد کی وہ آگ اور شیطان رومان کو پوری طرح سے نگل گیا تھا۔اس حسد نے رومان کو سب سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیا الفاظ سے شاہانہ سے،سب سے نفرت ہو گئی تھی رومان کو اور اب رومان کو بس سکندر کو روتے ہوئے دیکھنا تھا تڑپتے ہوئے دیکھنا تھا۔
اسی لئے الفاظ صاحب کے پل بنانے کے بعد وہ چودہ سالہ رومان شیراز حسن کے دفتر گیا تھا۔
‘کیا بات ہے بھئی الفاظ درانی صاحب کا نا جائز آیا ہے ہمارے پاس کیا ہی بات ہے۔’
شیراز صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنے سامنے بیٹھے رومان کو دیکھا۔
‘مجھے آپ سے کام تھا۔’
رومان نے مٹھیاں کستے ہوئے کہا۔
‘بولو بچے سن رہا ہوں۔’
شیراز صاحب نے مہنگے سگار کا کش لگایا تھا۔
‘آپ بابا کو برباد کرنا چاہتے ہیں نا کیونکہ انہوں نے آپکی بات نہیں مانی تھی میں بھی ایسا ہی چاہتا ہوں اور آپکا ساتھ بھی دوں گا لیکن بدلے میں مجھے بھی کچھ چاہیے۔’
شیراز نے حیرت سے اس بچے کو دیکھا جو اپنی عمر سے کہیں بڑا دماغ لیے وہاں بیٹھا تھا۔
‘ہاں بولو۔۔۔۔’
‘آپ سکندر کو مار دیں گے لیکن ابھی نہیں صیح طرح سے تڑپنے کے بعد ۔مجھے سکندر کو صحیح طرح سے تڑپتے روتے اور پھر مرتے دیکھنا ہے پھر ہی سکون ملے گا مجھے۔’
رومان مٹھیاں بھینچ کر دانت پیستے ہوئے بول رہا تھا۔نفرت کے آثار چودہ سال کے بچے کے چہرے سے چھلک رہے تھے۔شیراز صاحب مسکرائے۔ایک شیطان نے دوسرے شیطان کو پہچان لیا تھا۔
‘اور اگر میں تمہاری بات مانوں تو میں جیسا جیسا کہوں گا تم ویسا ہی کرو گے؟’
شیراز صاحب نے سگار کا کش لگا کر پوچھا۔
‘ہاں۔۔۔’
رومان نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
‘ڈن ہو گیا بچے ہم دونوں ایک دوسرے کی مدد سے اپنا مقصد پورا کریں گے لیکن مجھے ڈبل کراس کیا نا تو ایسی جگہ مار کے پھینکوا دوں گا تمہیں کہ تمہاری لاش تک کسی کو نہیں ملے گی۔’
رومان ایک پل کو سہما اور پھر ہاں میں سر ہلا دیا۔شیراز صاحب نے مسکراتے ہوئے رومان سے ہاتھ ملایا۔
اسکے بعد رومان نے بلکل ویسا ہی کیا جیسا شیراز حسن نے اس سے کہا۔الفاظ کو پھنسانے اس پر جھوٹا الزام لگانے میں آدھا ہاتھ رومان کا تھا کیونکہ الفاظ صاحب کی تمام پرسنل ڈیٹلیز رومان نے ہی تو شیراز کو پہنچائی تھیں۔
پھر ویسا ہی ہوا جیسا رومان نے چاہا تھا الفاظ جیل میں چلے گئے اور دن رات اپنے باپ کے لئے سکندر کو روتا تڑپتا دیکھ ،اسےبخار میں مبتلا دیکھ رومان کو عجیب سا سکون ملتا ۔مگر اسکی چالاکی یہ تھی کہ اس نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی خود پر کسی کو شک نہیں پڑنے دیا تھا۔شاہانہ کی نظر پڑتے ہی رومان مگر مچھ کے کئی آنسو بہا لیتا اور اسے روتے دیکھ شاہانہ اور تڑپ اٹھتیں۔
‘رومان تم تو میرے بہادر بیٹے ہو نا سکندر تو بچہ ہے تم تو ہمت کرو رومان میرا سہارا بنو۔’
شاہانہ تڑپ کر رومان کو خود سے لگا کر کہتیں۔پھر وہ دن بھی آیا جب الفاظ پر عوام میں سے ہی کسی نے گولی چلا دی لیکن یہ بات رومان اور شیراز ہی جانتے تھے کہ ایسا کرنے والا شیراز کا ہی آدمی تھا۔
شیراز نے رومان سے وعدہ کیا تھا کہ اسے الفاظ کی دولت اور سکندر کی موت دیکھنے کو ملے گی مگر اب رومان کو کچھ اور بھی چاہیے تھا اسے شاہانہ کا پیار اسکی مامتا چاہیے تھی اسی لیے تو رومان نے خود پر گولی لگنے کا جھوٹا ڈرامہ کروایا تا کہ سکندر کے مرنے کے بعد جب شاہانہ بلکل تنہا ہو جائے تو رومان انہیں سہارا دے پھر انکا سارا پیار اپنے لیے رکھ لے۔یہ تو وہ بعد میں بہانا بھی لگا سکتے تھے کہ رومان کو گولی لگی تھی لیکن وہ بچ گیا تھا۔
مگر یہاں بھی سکندر ہی جیت گیا جب شاہانہ نے اپنے لعل کی موت کو دیکھنے کی بجائے اپنا گلا کاٹنا پسند کیا۔تب تو رومان کی نفرت مزید پختہ ہو گئی تھی۔
پھر رومان نے آرام سے شیراز کے آدمیوں کے ساتھ ایک کمرے میں بیٹھ کے ہنستے ہوئے ٹی وی پر سکندر کو بم پہنے اس گلی میں جاتے دیکھا اور پھر اس گلی میں ہونے والے اس بڑے سے دھماکے کو دیکھا جس سے سکندر کی ہڈیوں تک کا سورما بن گیا تھا کسی کو تو سکندر کی لاش بھی نہیں مل سکتی تھی۔سکون کی ایک لہر رومان کے پورے جسم میں دوڑی تھی آج اسکے حسد کی آگ کو ٹھنڈک ملی تھی۔ایک ہستا بستا گھر جلانے کے بعد حسد کا وہ جن اطمینان پذیر تھا۔
اسکے بعد رومان نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ خود کو ایک طاقت بنائے گا ایسی طاقت جس کے سامنے سب جھکیں اپنے ہاتھ پھیلائیں بلکل جیسے وہ بچپن میں پھیلاتا تھا۔تب ہی وہ آر بی بنا اس ملک کا سب سے بڑا اور خطرناک گینگسٹر جسکی وحشت سے سب ڈرنے لگے۔ملک کا ہر غیر قانونی کام بلواسطہ یا بلاواسطہ آر بی ہی کرواتا تبھی تو بہت سے سیاست دان بھی آر بی کے تلوے چاٹتے تھے۔
آر بی اب کے لیے ایک دہشت بن گیا ایک ایسا شیطان جس سے سب ڈرتے تھے۔اتنا خطرناک گینگسٹر ہونے کے باوجود آر بی کبھی کسی کی نظر میں نہیں آیا تھا اور نہ ہی کبھی اسکے خلاف کوئی ثبوت ملا۔
لیکن پھر ایک دن اس شیطان کو بھی محبت ہو گئی ایک معصوم سی پری سے جو اس سے بہت چھوٹی تھی۔صرف اسے دیکھ کر بہت عرصے بعد رومان کا دل دھڑکا تھا اس میں پھر سے محبت پانے کی چاہ پیدا ہوئی لیکن ایک شیطان کو پری کیسے ملتی؟
اسی لیے رومان نے اس پری کے دل میں،اسکے ذہن میں ایسی دہشت ڈالنے کا فیصلہ کیا جو اسے رومان سے کبھی بھی دور نہ ہونے دے۔وہ چاہ کر بھی رومان کو بھلا نہ پائے اور اسکے بڑے ہوتے ہی رومان اسے حاصل کر لے۔
مگر یہاں بھی رومان ہار گیا پھر سے سکندر جیت گیا تھا اور یہ بات اب رومان کو گوارہ نہیں تھی۔حسد کی وہ آگ اب پہلے سے بھی کہیں ذیادہ بھڑک چکی تھی اب کی بار تو سکندر نے رومان کے دل پر وار کیا تھا ۔رومان کی چاہت اسکی خواہش،محبت سب کچھ زرش ہی تو تھی اور اب وہ بھی باقی سب کی طرح سکندر کی تھی۔
‘بولا تھا نا تجھے تو کیڑا ہے اور کیڑا ہی رہے گا دیکھ لے ہاہاہا سب کچھ ہے تیرے پاس سب کچھ مگر وہ نہیں وہ میری ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔ میری ہے وہ۔’
رومان کو پھر سے سکندر اپنے سامنے کھڑا قہقہے لگا کر اسکا مذاق بناتے ہوئے نظر آ رہا تھا مگر اب کی بار وہ اکیلا نہیں تھا اسکی باہوں میں زرش تھی۔اسکے بازؤں میں رومان کی خواہش اسکی چاہت تھی۔
‘آہ ۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔’
رومان اوپر کی طرف منہ کر کے بہت زور سے چلایا تھا بہت درد تھا اسکی اس چیخ میں مگر اس درد کے باوجود وہ شیطان کہیں سے بھی قابل رحم نہیں تھا۔بھلا جو حسد کی آگ میں اپنے ساتھ ساتھ باقی سب کو بھی جلا لے اس پر کیا رحم کرنا۔اپنا گنہگار وہ خود تھا۔فیض نے گھبرا کر آر بی کو دیکھا جس کی خوبصورت بھوری آنکھوں میں اب آنسو تھے۔
‘بب۔۔۔۔باس۔۔۔۔’
فیض آہستہ سے آر بی کے پاس گیا اور اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا مگر اچانک ہی بہت تیزی سے آر بی نے اٹھ کر فیض کی گردن کو بہت زور سے جکڑ لیا۔
‘مجھے وہ چاہیے فیض دونوں چاہیں بلکل زندہ ۔۔۔۔۔ اب میرے دل میں جو آگ اس سکندر نے لگائی ہے نا وہ اتنی آسانی سے نہیں بجھے گی۔۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے ہی جب اسکی محبت کی دھجیاں اڑاؤں گا نا تب سکون ملے گا مجھے ۔تب چین آئے گا اس دل کو۔۔۔۔’
فیض ہر ممکن کوشش کروا رہا تھا اپنی گردن کو چھڑانے کی لیکن آر بی کی پکڑ بہت مظبوط تھی آر بی کی رگیں غصے سے تن رہی تھیں۔
‘میری نور زرش کو بھی سزا ملے گی اب اسے سکندر الفاظ درانی سے محبت کرنے کی بہت بری سزا ملے گی۔’
آر بی نے لہو رنگ آنکھوں سے فیض کو دیکھا۔
‘ڈھونڈو انہیں فیض اور میرے ہاس لاؤ ورنہ تمہارے ٹکڑے کر کے جانوروں کو کھلا دوں گا۔ایک ہفتہ ہے بس تمہارے پاس صرف ایک ہفتہ۔’
آر بی نے ایک زور دار جھٹکے سے فیض کو چھوڑا اور فیض بھی اسے موقع غنیمت جان کر وہاں سے کھانستے ہوئے غائب ہو گیا۔
‘نہیں چھوڑوں گا تمہیں اس بار سکندر بہت تڑپاؤں گا میری آنکھوں کے سامنے ہی تڑپ تڑپ کر مرو گے تم دیکھنا۔’
آر بی نے وحشت سے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ بہت زور سے سامنے موجود شیشے کی کھڑکی میں مارا
🌈🌈🌈🌈
زرش اٹھی تو وہ کمرے میں بلکل اکیلی تھی مگر حیران تو وہ اس بات پر تھی کہ وہ اس کمرے میں کیسے آ گئی وہ تو عشال کے پاس نہیں سوئی تھی۔کہیں وجدان ہی تو اسے یہاں لے کر نہیں؟۔۔۔۔ایک شرمیلی سی مسکان نے اسکے لبوں کو چھوا تھا لیکن تبھی اسکی نظر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑی جہاں ایک باکس پڑا تھا زرش نے جلدی سے اٹھ کر ارد گرد دیکھا وہ تو شکر ہے کہ وجدان یہاں نہیں تھی ورنہ زرش کی وہ حالت ہونی تھی کہ بس۔۔۔
زرش نے جلدی سے اس باکس کو پکڑ کر کھولا تو اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔اس باکس میں کئی رنگوں کی انتہائی خوبصورت چوڑیاں تھیں۔زرش نا جانے کتنی دیر ان چوڑیوں کو دیکھتی رہی اور پھر اس کی نظر سائیڈ پر پڑے ایک کارڈ پر گئی۔
‘دنیا میں بہت سی خواہشات ہوتی ہیں نورِ خان لیکن میری خواہش بہت سادہ ہے تمہیں سننے کی تم سے بہت ساری باتیں کرنے کی مگر ایسا نہیں ہو سکا اسی لئے تمہیں یہ چوڑیاں دیں ہیں تا کہ انکی کھنکنھاہٹ سے میرے دل کے اس حصے کو سکون ملے جسے تمہاری آواز سننے کی بہت زیادہ بے تابی ہے۔اگر آج تم انہیں پہن کے نیچے آئی تو میں سمجھ جاؤں گا کہ میری ہر جھوٹی بات کو بھلا کر تم نے میری سچی محبت پر یقین کر لیا۔
صرف اپنی نور کا وجدان۔
زرش کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن پہلی دفعہ وہ آنسو خوف یا غم کے نہیں تھے۔بہت محبت سے زرش نے ان چوڑیوں کو نکال کر اپنی نازک کلائیوں میں پہنا اور کتنی ہی دیر مسکرا کر انہیں دیکھتی رہی۔کیا سچ میں ان کے کھنکنے کی آواز میری زبان ہے؟
زرش نے سوچ کر اپنے ہاتھ ہلائے تو ان چوڑیوں کے کھنکنے کی آواز پر خود ہی اپنا تیزی سے دھڑکتا دل تھام کر بیٹھ گئی۔نظریں حیا سے جھک گئی تھیں اور سرخ لبوں پر ایک شرمیلی سی مسکان تھی۔
اہو اہو۔۔۔۔۔’
کھانسنے کی آواز پر زرش نے گھبرا کر نظریں اٹھائیں تو سامنے ہی عشال اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
‘کیا بات ہے گڑیا میں تو یہاں تمہیں ناشتے کے لئے بلانے آئی تھی مگر تم تو اس قدر ڈوبی ہوئی تھی سیاں جی کی یاد میں اور وہ بھی اتنی خوبصورتی سے۔’
عشال نے شرارت سے اسکے دہکتے گال کو چھوا تو زرش اپنا سر مزید جھکا گئی۔
‘اف یہ ادائیں شکر کرو میری جگہ سیاں جی یہاں نہیں آئے ورنہ ابھی تو صرف یہ گال ہی لال ہوئے ان کی حرکتوں نے تو تمہارا پور پور گلابی کر دینا تھا۔’
عشال کی بات پر زرش شرما کر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔
ہاہاہا۔۔۔یو آر زسٹ ٹو کیوٹ۔’
عشال اتنا کہہ کر واپس چلی گئی ۔ زرش نے ایک مرتبہ پھر سے شرما کر اپنی کلائیوں کو دیکھا اور پھر اپنا منہ بسور لیا۔
میں ناراض ہوں آپ سے اتنا ذیادہ ڈانٹا تھا نا مجھے اب اتنی آسانی سے تو نہیں مانوں گی نا۔
وجدان کو ستانے کا زرش نے سوچتے ہوئے شرارت سے وہ چوڑیاں اتار کر واپس ڈبے میں رکھ دیں اور پھر خود بھی اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی۔
🌈🌈🌈🌈
وجدان صبح ہوتے ہی اپنی عادت کے مطابق ایکسرسائیز کرنے چلا گیا تھا پھر کمرے میں واپس آیا تو اسکی نظر سوئی ہوئی زرش پر پڑی ۔وجدان کے لب مسکرائے اور پھر اسے اس تحفے کا خیال آیا جو وجدان نے کل رات ہی منگوایا تھا۔
وجدان نے اپنے بیگ سے وہ ڈبہ نکالا اور اسے زرش کے پاس رکھ دیا۔نا جانے کتنی ہی دیر وجدان زرش کے معصوم چہرے کو دیکھ کر اپنے دل میں سکون اتارتا رہا ۔جب زرش اسکی نظروں کی تپش سے کسمسانے لگی تو اسکی کا خیال کر کے وجدان وہاں سے چلا گیا۔
وہ جانتا تھا کہ زرش اسکا دیا تحفہ دیکھ کر بہت زیادہ خوش ہو گی لیکن مایوسی اسے تب ہوئی جب وہ کمرے سے باہر خالی کلائیوں کے ساتھ آئی۔وجدان کے ماتھے پر کئی بل پڑے مگر اس سے پہلے کہ وہ زرش کے پاس جاتا سلمان صاحب اپنی ویل چئر پر بیٹھے وجدان کے قریب آئے۔
‘وجدان بیٹا۔’
‘جی ۔۔۔۔’
وجدان نے زرش سے نظریں ہٹا کر انہیں دیکھا۔
‘تمہارا کس زبان میں شکریہ ادا کروں بیٹا تم نے زرش کو بچانے کے لیے اپنی جان مشکل میں ڈالی میں تو تمہارا مقروض۔۔۔۔۔’
‘نہیں انکل ایسا مت کہیں میں نے جو بھی کیا وہ میرا فرض تھا نور بیوی ہے میری مجھے ہمیشہ اس بات کا افسوس رہے گا کہ میں نے یہ فرض سمجھنے میں بہت دیر کر دی۔نور میری ہی وجہ سے اس مصیبت میں پھنسی لیکن اللہ کا لاکھوں شکر ہے کہ اسنے میری نور کی حفاظت کی۔کوشش کروں گا کہ میری باقی کی زندگی اللہ کا شکر ادا کرنے اور اپنی غلطیوں کا مداوا کرنے میں گزرے۔’
وجدان نے مسکرا کر کہا تو سلمان صاحب بھی مسکرا دیے۔
‘بلکل صیح کہا تھا شایان نے کہ تم سے بہتر زرش کے لیے کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔’
‘جی۔۔۔؟؟؟’
وجدان نے حیرت سے پوچھا۔
‘جب میں نے شایان سے مدد مانگی تھی تو شایان نے مجھے کہا تھا کہ وہ چاہے تو ہم سب کو ایسی جگہ پر چھپا دے کہ آر بی کبھی بھی ہمیں نہیں ڈھونڈ پائے لیکن یہ کافی نہیں تھا۔شایان نے کہا تھا کہ زرش کو کسی کی ضرورت ہے کسی کے ساتھ کی ضرورت ہے اور وہ ساتھ تم سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ تمہیں زر ش کی اور زرش کو تمہاری ضرورت ہے ایک دوسرے کے لیے بنے ہو دونوں۔اسی لیے تو ہم دونوں نے تمہیں مجبور کیا تھا اس نکاح کے لیے اور دیکھو نا شایان کی بات درست ثابت ہی ہوئی دیر سے ہی سہی تمہیں اپنے جزبات کا احساس تو ۔’
وجدان حیرت سے سلمان صاحب کو دیکھ رہا تھا اسے اپنے دوست کی چالاکی پر حیرانی ہو رہی تھی کتنی آسانی سے اس نے وجدان کو بے وقوف بنایا تھا ۔وجدان آہستہ سے مسکرایا اور ہاں میں سر ہلایا مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ شایان کی اس چالاکی پر اسے ایک بار داد تو ضرور دے گا۔
‘صدا خوش رہو بیٹا۔’
سلمان صاحب نے اسے دعا دی اچانک ہی وجدان کے ذہن میں ایک بات آئی ۔
‘انکل آپ سے ایک بات پوچھوں؟’
وجدان نے اپنی مٹھیاں کستے ہو پوچھا۔
‘ہاں پوچھو۔’
سلمان صاحب بھی اچانک سے اسکے بدلنے والے رویے کو دیکھ کر حیران ہوئے۔
‘کیا یہ اس حادثے کا اثر ہے جس کی وجہ سے زرش بول نہیں سکتی؟’
سلمان صاحب نے وجدان کے سوال پر گہرا سانس لیا اور پھر ہاں میں سر ہلایا۔
‘میں نے بہت سے ڈاکٹرز کو چیک کروایا لیکن سب نے یہی کہا کہ زرش کو گلے کا کوئی مسلہ نہیں ہے اسکا مسلہ نفسیاتی ہے۔ایسا ہے جیسے ایک خوف ہے اسکے دل میں جو اسے بولنے نہیں دیتا اور ایسا وہ جان بوجھ کر نہیں کرتی اسکا خوف اسے چاہ کر بھی بولنے نہیں دیتا زرش کا اس پر کوئی قابو نہیں ۔اگر وہ خوف نکل جائے تو زرش پھر سے بول سکتی ہے۔مگر ہم نے اور بہت سے سائیکالوجیسٹ نے زرش کا یہ ڈر بھگانے کی کوشش کی مگر ہر طرف سے ناکامی کا ہی سامنا ہوا۔’
سلمان صاحب نے گہرا سانس لیا۔
‘بہت زیادہ کوششوں کے بعد تو میں مایوس ہو گیا پتہ نہیں زرش کا یہ ڈر کیسے نکلے گا اور وہ پھر سے بولنے لگی گی ۔بہت چلبلی تھی میری بچی وجدان زندگی سے بھرپور اس شیطان کی نظر کھا گئی اسکو۔’
سلمان صاحب نے آنکھوں میں آنسو لے کر کہا اور وہاں سے چلے گئے جبکہ وجدان وہیں کھڑا انکی باتوں اور زرش کے خوف کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔
تبھی وجدان کی نظر زرش پر پڑی جو شاید کسی کام کی وجہ سے اسی طرف آ رہی تھی۔وجدان ایک بڑے سے پلر کے پیچھے چھپ گیا اور زرش کے قریب آتے ہی اسے کلائی سے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔زرش کی سانس اسکے سینے میں اٹکی تھی۔
‘تمہاری چوڑیاں کہاں ہیں نور خان جہاں تک مجھے یاد ہے وہ میں نے تمہیں پہننے کو کہا تھا۔’
وجدان نے زرش کو کمر سے کھینچ کر اپنے قریب کیا تو زرش اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود کو چھڑوانے لگی ساتھ ہی ساتھ وہ پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔
میں ناراض ہوں آپ سے تو کیوں پہنتی۔
زرش نے گھبرا کر اشارہ کیا۔
‘مجھے تو لگا تھا کہ تم مان گئی۔’
وجدان نے منہ بنا کر کہا۔
ایسا کب لگا آپ کو ؟
زرش نے آنکھیں بڑی کر کر کے حیرت سے پوچھا۔
‘ارے اب جب میرے واپس آنے پر اس طرح بے چینی سے باہوں میں آئی تھی تو مجھ معصوم کو تو ایسا ہی لگنا تھا نا۔’
وجدان کی بات پر زرش کا چہرہ دہک اٹھا تھا۔
نہیں میں ناراض ہوں اور اتنی آسانی سے نہیں مانوں گی اتنا زیادہ ڈانٹا تھا آپ نے۔
زرش نے اترا کر اشارہ کیا۔وجدان نے اچانک سے اسے کھینچ کر اپنے بہت قریب کر لیا۔زرش کی سانس اسکے حلق میں اٹک گئی تھی وہ وجدان کی گرم سانسیں اپنے کان پر محسوس کر سکتی تھی۔
‘ٹھیک ہے پھر میں مناؤں گا مگر اسکے بعد تمہیں مجھے تڑپانے،میری راتوں کی نیند اپنے معصوم اقرار سے چرانے اور پھر گھر سے باہر جانے والی غلطی کا بھی حساب چکانا ہو گا اس لئے تیار رہنا جان وجدان بہت سے حساب دینے ہیں تم نے۔’
وجدان نے اتنا کہہ کر اسکے کان کی بالی کو چوما اور اسے چھوڑ دیا زرش نے بس ایک نظر اسے اپنے دہکتے چہرے کے ساتھ دیکھا اور پھر جلدی سے وہاں سے بھاگ گئی۔وجدان مسکراتے ہوئے اسے وہاں سے جاتے دیکھ رہا تھا لیکن اسکے جاتے ہی پھر سے اسکی بے آوازی کے بارے میں سوچنے لگا۔
