Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
سلمان صاحب بے سدھ سے اندھیرے میں کرسی سے بندھے ہوئے تھے۔فاطمہ کو تو وہ لوگ کل رات ہی ان کے پاس سے لے گئے تھے۔سلمان صاحب جانتے تھے کہ انہیں ہمیشہ کی طرح زرش کا پتہ جاننے کے لیے ٹارچر کیا جائے گا اور سلمان صاحب یہ بھی جانتے تھے کہ وہ ہمیشہ کی طرح خاموش ہی رہیں گی۔
دروازہ کھلنے کی وجہ سے کمرے میں تھوڑی سی روشنی ہوئی تو سلمان صاحب نے دروازے کی طرف دیکھا لیکن انہیں بس ایک ہیولا ہی نظر آیا تھا
‘کیسے ہو سلمان؟حالت تو اچھی نہیں لگ رہی تمہاری۔’
اس شیطان کی آواز سلمان صاحب کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
‘خیر میں تمہیں بتانے آیا تھا کہ میرا نکاح ہونے جا رہا ہے چاہتا تو تھا کہ تم بھی اس میں شامل ہوتے اپنی آنکھوں سے سب دیکھتے لیکن افسوس تمہیں یہاں سے شفٹ کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔’
آر بی نے سلمان صاحب کے قریب آ کر انکی کرسی کے بازؤں پر اپنے ہاتھ رکھے۔
‘پوچھو گے نہیں کہ کس سے ہو رہا ہے میرا نکاح؟’
سلمان صاحب نے پریشانی سے نظریں اٹھا کر اسکے خوبصورت لیکن شیطانی چہرے کو دیکھا۔
‘تمہاری۔۔۔۔آں ہاں۔۔۔۔میری نور زرش سے۔’
آر بی نے سلمان صاحب پر بم گرایا تھا۔سلمان صاحب کو لگا کہ ان الفاظ نے ان کی روح تک کھینچ لی تھی ایسا کیسے ہو سکتا تھا زرش تو وجدان کے پاس تھی بلکل محفوظ۔
‘سوچا بیٹی کے نکاح میں شرکت تو کر نہیں پاؤ گے تو تمہیں مبارکباد ہی دے دوں آخر کار ہونے والے سسر جو ہو میرے۔’
آر بی مسکرا کر ان سے دور ہوا۔
‘کاش تب تم نے میری بات مانی ہوتی سلمان اپنی مرضی سے زرش کو میرے نکاح میں دے دیا ہوتا تو تب اتنا ظلم نہ کرتا میں ۔’
سلمان صاحب روتے ہوئے اس درندے کو دیکھ رہے تھے۔
‘لیکن اب میں تمہاری مرضی کا محتاج نہیں ہوں زرش اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے اور اب اسے میری ہونے سے کوئی بھی نہیں روک پائے گا خود زرش بھی نہیں۔’
آر بی پھر سے ان کے قریب آیا۔
‘لیکن فکر مت کرو تم میں نکاح کے کچھ دنوں بعد اسے تم سے ملوانے لے کر آؤں گا اور اب تو میں خوش ہوں اسی لیے تمہاری بیوی کو بھی تمہارے پاس ہی رہنے دیا جائے گا۔کیا یاد کرو گے کس سخی دل سے پالا پڑا تھا۔’
آر بی نے احسان جتانے والے انداز میں کہا اور ایک آخری نگاہ زارو قطار روتے ہوئے سلمان صاحب پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔
‘یا اللہ پاک میری بچی کی حفاظت کرنا اسے بچا لینا اس شیطان سے بچا لینا۔’
سلمان صاحب نے روتے ہوئے دعا کی وہ نہیں جانتے تھے کہ آر بی زرش کے نکاح کے بارے میں جان کر کیا کرے گا کہیں زرش کو۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔سلمان صاحب تو ایسا کچھ سوچ بھی نہیں پائے تھے۔
🌈🌈🌈🌈
زرش نہیں جانتی تھی کہ اسے اس اندھیرے میں قید ہوئے کتنے دن ہو چکے تھے۔وہ دروازہ بس اسے کھانا دینے کے لیے ہی کھلتا تھا۔زرش کی حالت اس پرندے کی ماند تھی جسے قید میں رکھ کر اسکا خیال رکھا جا رہا تھا مگر تھی تو وہ قید ہی نا ایک غلام۔اور یہی سب تو اس کے ساتھ چھے سال پہلے بھی ہوا تھا۔وہ سب یاد کر زرش پھر سے خود میں سمٹ کر رو دی۔
بارہ سالہ زرش میں فاطمہ بیگم کی جان بستی تھی۔جانان اور زرش کی بھرپور شرارتوں سے ہی تو گھر میں رونق رہتی تھی۔مگر جہاں جانان بہت سی چیزوں سے ڈر کے اپنی شرارتوں کو ایک حد میں رکھتی تھی وہیں زرش بہت مرتبہ اپنی بہادری پر سلمان صاحب سے مار کھا چکی تھی۔انہیں شرارتوں میں تو ایک دن وہ اپنی گاڑی میں جانے کی بجائے اپنی دوست ربیعہ کے ساتھ بس میں سوار ہو گئی۔ وہ جانتی تھی کہ اس شرارت پر اسکی بہت شامت آئے گی لیکن جو اسکے ساتھ ہوا تھا وہ تو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔
بس کے چلنے کے کچھ دیر بعد ہی کچھ نقاب پوش لوگ انکی بس میں داخل ہوئے تھے اور انکے کنڈکٹر کو گولی مار کر مار دیا۔سب لڑکیاں خوف کے مارے چلانے لگیں۔
‘چپپپپ۔۔۔۔اگر کسی کی آواز بھی نکلی نا تو اگلا نشانہ وہ خود بنے گی۔’
ایک نقاب پوش کی اس بات پر سب لڑکیاں خاموش ہو چکی تھیں۔جبکہ ایک اور نقاب پوش ڈرائیور کے سر پر بندوق رکھ کر اسے چلنے کا کہہ رہا تھا۔ان دہشتگردوں کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچنے کے بعد وہ لوگ اس ڈرائیور کو بھی گولیوں سے چھلنی کر چکے تھے۔
ان سب لڑکیوں کو اندھیرے کمروں میں قید کیا گیا تھا۔جہاں سب لڑکیاں ان لوگوں سے سہم جاتی وہاں صرف ایک زرش ہی ایسی لڑکی تھی جو کبھی چلا کر تو کبھی ان لوگوں پر چیزیں پھینک کر انہیں سب سے دور رکھتی۔ ربیعہ کو تو ہاتھ لگانے پر زرش نے سٹیل کے گلاس سے ایک آدمی کا سر ہی پھاڑ دیا تھا۔
‘کمینی۔۔۔۔۔۔۔’
وہ آدمی اپنے ماتھے سے نکلتے خون پر ایک ہاتھ رکھتا زرش کی طرف بڑھا اور اسے تھپڑ مارنے کے لیے اپنا دوسرا ہاتھ اٹھایا جو کوئی ہوا میں ہی تھام چکا تھا۔
‘نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔اتنے حسین چہرے کو بگاڑنے کا دل کرتا ہے کیا؟’
زرش نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹا کر اس آدمی کو دیکھا جو ایک غلیظ مسکراہٹ کے ساتھ زرش کو دیکھ رہا تھا۔اس نظروں سے وہ معصوم سی بچی گھبرا کر دور ہوئی تھی۔
‘نام کیا ہے تمہارا؟’
وہ آدمی اپنی انگلی میں موجود انگوٹھی کو گھماتے ہوئے پوچھنے لگا۔
‘ننن۔۔۔۔۔۔۔نورِ زرش۔’
‘نام کا مطلب جانتی ہو اپنے۔نور یعنی روشنی اور زرش معنی چمکتا پھول۔۔چمکتے پھول کی روشنی۔کیا اس بھی ذیادہ خوبصورت نام ہو سکتا ہے بھلا؟’
اس شخص کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی جو کسی چیز کے پسند آ جانے پر آتی ہے۔
‘بہت جلد ملاقات ہو گی ہماری لیکن تنہائی میں۔’
اس نے شہادت کی انگلی سے زرش کے گال کو چھو کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔اس کے جاتے ہی زرش کو لگا تھا کہ بلا ٹل چکی ہے مگر اسکی مشکلات تو ابھی شروع ہوئی تھیں۔
اگلی رات ہی وہ دونوں آدمی پھر سے اس کمرے میں داخل ہوئے اور زرش کے پاس آ کر اسے ساتھ چلنے کا کہا تھا۔یہ سن کر ربیعہ نے فوراً زرش کا ہاتھ بہت زور سے پکڑ لیا تھا۔
‘ڈرو نہیں بیا کچھ نہیں ہو گا۔’
زرش نے ربیعہ کو حوصلہ دینے کی کوشش کی تھی لیکن وہ زور زور سے انکار میں سر ہلانے لگی۔
‘اے لڑکی ذیادہ ڈرامے نہیں کر اور چل میرے ساتھ ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔’
اس آدمی کو ربیعہ کی طرف بڑھتا دیکھ کر زرش جلدی سے خود کو چھڑوا کر کھڑی ہوئی تھی۔
‘نن۔۔۔۔۔۔نہیں دور رہو میں چل رہی ہوں تمہارے ساتھ۔’
زرش نے کھینچ کر اپنا ہاتھ ربیعہ سے چھڑوایا تھا۔ربیعہ روتے ہوئے زرش کو دیکھ رہی تھی۔
‘فکر مت کرو بیا سب ٹھیک ہو جائے گا۔’
زرش نے پھر سے اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی تھی حالانکہ اسکا اپنا دل بھی دہل رہا تھا۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے ساتھ اب کیا ہو گا۔وہ لوگ زرش کو ایک کمرے میں چھوڑ کر خود وہاں سے چلے گئے تھے۔زرش نے گھبراتے ہوئے ارد گرد کا جائزہ لیا تھا۔وہ کمرہ کافی بڑا تھا اور وہاں روشنی نہ ہونے کے برابر تھی جو کہ صرف ایک کونے میں پڑے بڑے سے دیے سے نمودار ہو رہی تھی۔
‘ارے ڈرو نہیں یہاں آؤ گڑیا۔’
اسی شخص کی آواز پر زرش نے گھبراتے ہوئے اسے اندھیرے میں تلاش کرنا چاہا تھا۔
‘پپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز ہمیں جانیں دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
زرش کی نہ چاہتے ہوئے بھی آواز میں نمی پیدا ہوئی تھی۔
‘ارے تم کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔تم ان لڑکیوں کی طرح بلکل بھی نہیں ہو تم خاص ہو بہت خاص انکا مقدر کنیز بننا ہے لیکن تمہارا نہیں۔تمہاری تقدیر میں میرا ساتھ لکھا ہے نورِ زرش۔تم میری ملکہ بنو گی۔’
اس گھٹیا شخص کی باتیں زرش کے سر پر سے گزر گئی تھیں۔
‘پپپ۔۔۔۔۔۔پلیز ہمیں جانے دیں۔۔۔۔۔۔۔’
زرش نے پھر سے منت کی تو وہ شخص مسکراتے ہوئے اسکے قریب آیا۔
‘تمہارے بابا آئے ہیں باہر وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ تمہیں چھوڑ دوں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن میں ایسا نہیں کروں گا نور زرش۔تم میری ہو۔یہ تو تمہارے باپ کا خواب ہی ہو گا کہ میں تمہیں جانے دوں گا۔’
اس نے آگے بڑھ کر زرش کا بازو پکڑا تو زرش روتے ہوئے چلانے لگی اور اپنے آپ کو چھڑوانے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگی۔
‘چپ۔۔۔۔۔۔۔۔آواز نہیں نکلے تمہاری ورنہ سزا بہت بری ہو گی۔پہلے ہی تمہارے اس کمینے باپ کے کیے کی سزا بھگتو گی تم۔میں نے شرافت سے اس سے کہا کہ تمہیں میرے نکاح میں دے دے مگر اس کمینے نے انکار کر دیا کہتا ہے میں تمہارے قابل نہیں۔اب میں تمہیں اپنے سوا کسی کے بھی قابل نہیں چھوڑوں گا۔’
آر بی نے چہرے پر شیطانیت سجا کر کہا لیکن زرش اسکی کوئی بھی بات سنے بغیر مقابلہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔جب زرش کو کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے اپنے دانت اسکی کلائی میں گاڑ دیے۔
‘ آہ۔۔۔۔۔۔۔’
آر بی نے زرش کو اسکے بالوں سے دور کر کے ایک زور دار تھپڑ اسکے گال پر رسید کیا تھا جسکی شدت کے باعث اس کا نازک جسم بہت زور سے زمین پر گرا تھا۔
‘کچھ زیادہ ہی بہادر ہو تم۔۔۔۔۔۔۔آج کے بعد نہیں رہو گی۔’
آر بی ایک غلیظ مسکراہٹ کے ساتھ زرش کی طرف بڑھا تھا جبکہ زرش اسکو دیکھ کر خوف سے چلاتی رہی تھی۔آر بی نے آگے بڑھ کر ایک رسی سے زرش کے دونوں ہاتھ بھاری بھرکم بیڈ سے باندھ دیے تھے۔
‘شششششش۔۔۔۔’
ایک چاقو زرش کے چلاتے ہوئے ہونٹوں پر رکھا گیا تھا۔
‘اب تمہاری آواز نکلی نا تو اس چاقو سے تمہاری اس دوست کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دوں گا۔’
زرش فوراً خاموش ہو کر سہمی ہوئی آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے اس درندے کو دیکھنے لگی۔
میں تم پر اپنی مہر لگاؤں گا بلکل جیسے پرانے زمانے میں اپنے غلاموں پر لگا کر ملکیت ظاہر کی جاتی تھی اور اگر اس سب کے دوران تمہاری آواز بھی نکلی نا تو تمہاری دوست زندہ نہیں بچے گی سمجھی۔۔۔۔۔’
زرش کے جسم میں خوف سوئیوں کی طرح چبھ رہا تھا لیکن پھر بھی اس نے اپنے ہونٹوں کو سختی سے بند کر کے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
Good girl.
آر بی نے اسکے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی اور پھر اپنے انیشیل والی انگوٹھی اتار کر اسے پاس موجود دیے پر گرم کرنے لگا۔زرش خوف سے آنکھیں پھاڑے اسکی ہر حرکت کو دیکھ رہی تھی۔وہ مسکراتے ہوئے زرش کے پاس آیا اور اس کی شرٹ کو کھینچ کر کندھے سے پھاڑ دیا۔زرش نے اپنی چیخ کو بہت مشکل سے روکا ۔
‘ریڈی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
آر بی نے مسکرا کر وہ جلتی ہوئی انگوٹھی اسکے کندھے پر گاڑ دی تھی۔اس مرتبہ زرش اپنی چیخ کو نہیں روک پائی تھی۔اسکی ہر چیخ اسکے درد کی گواہی دے رہی تھی۔
‘نونونو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ چیٹنگ ہے یار تمہیں چلانا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔تم ہار گی۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن چلو کوئی بات نہیں ایک اور چانس دیا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔’
اتنا کہہ کر وہ اس انگوٹھی کو پھر سے گرم کرنے لگا جبکہ تکلیف سے زرش کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔
‘،آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
اس دفعہ انگوٹھی اس نے اسکی گردن کے پیچھے گاڑی تھی اور ایک چیخ مار کر زرش بے سدھ ہو کر زمین پر گری تھی۔
‘لو تم تو پھر سے ہار گئی۔۔۔۔۔۔۔۔چچچچچ۔۔۔۔۔۔سو سیڈ گڑیا اپنی دوست کی زندگی پیاری نہیں ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔چلو ایک آخری چانس اور اگر اب نہیں چلائی تو جیت جاؤ گی۔۔۔۔۔۔’
اتنا کہہ کر اس نے مسکراتے ہوئے پھر سے انگوٹھی کو جلایا اور اس مرتبہ اسکا نشانہ زرش کے کندھے پر وہ جلا ہوا زخم ہی تھا۔۔کمرہ پھر سے دل دہلا دینے والی چیخوں سے گونج اٹھا تھا۔وہ شخص ہنستے ہوئے زرش سے دور ہوا۔
‘تم تو بہت کمزور نکلی میری بہادر سی گڑیا۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی تم میری ہو۔۔۔۔۔۔۔تمہارے جسم پر یہ سب نشان اس بات کی گواہی ہیں کہ تم آر بی کی ملکیت ہو۔۔۔۔۔میری امانت ہو تم یاد رکھنا یہ۔۔۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی تم کسی کے بھی قابل نہیں رہی ان نشانیوں کو دیکھ کر تمہیں کبھی بھی کوئی بھی نہیں اپنائے گا۔ہر کوئی تمہیں گھٹیا سمجھ کر دھتکار دے گا۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔۔اب دیکھتے ہیں کہ تمہارا وہ کمینہ باپ تمہارے قابل کوئی شخص کہاں سے ڈھونڈتا ہے۔’
اس کے تاثرات مزید خطرناک ہو گئے تھے۔
‘لیکن یہ صرف ہم دونوں جانتے ہیں کہ سچ کیا ہے گڑیا صرف ہم دونوں جانتے ہیں کہ تمہاری عزت پر ہلکی سی بھی آنچ نہیں آئی۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ بات تم کسی تیسرے کو نہیں بتاؤ گی۔۔۔۔۔۔۔تم کسی کو بھی کچھ نہیں بتاؤ گی ورنہ یہ سچ جاننے والا ہر شخص اس دنیا سے اٹھ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔سمجھی۔۔۔۔۔’
زرش کی آنکھیں تکلیف اور خوف سے بند ہو رہی تھیں۔آر بی نے مسکراتے ہوئے اسکے بال چہرے سے ہٹائے تھے۔
‘آر بی کی ہو تم۔۔۔۔صرف میری ملکیت ہو۔۔۔۔تمہارے جسم پر مہر لگی ہے میرے نام کی۔۔۔۔جس نے تمہارے بارے میں سوچا بھی نا اسکی زندگی جہنم سے بھی بدتر کر دوں گا میں اور ساتھ ہی ساتھ تمہاری بھی۔اب تم ڈرو گی مجھ سے ہمیشہ ڈرو گی اور یہی ڈر تمہیں کسی اور کا نہیں ہونے دے گا۔’
کچھ دیر کے بعد آر بی کے آدمی اس کے حکم کے مطابق ربیعہ کو وہاں لے کر آئےتھے۔
‘غلطی کی سزا ضرور ملتی ہے تم نے اپنے باپ کی غلطی کی سزا بھگتی اور تمہاری وہ دوست تمہاری غلطی کی بھگتے گی۔’
آر بی اتنا کہہ کر ربیعہ کے پاس گیا، اس کی گردن کو پکڑا اور اسے ایک جھٹکے سے توڑ اسکی گردن کو توڑ کر زمین پر پھینکا۔ایک آخری چیخ اور بہت سے آنسو زرش کی آنکھوں سے نکلے تھے۔اسکی نظریں مسلسل ربیعہ کے بے جان وجود پر گڑی ہوئی تھیں۔
آر بی زرش کے قریب آنے لگا زرش مزید سہم گئی تھی لیکن تبھی ایک دوسرا آدمی ہانپتے ہوئے اندر آیا۔
‘باس آرمی نے اٹیک کر دیا ہے ہمیں جلدی سے پچھلے راستے سے نکلنا ہو گا۔’
‘کیا بکواس۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
ابھی اسکے الفاظ مکمل طور پر ادا بھی نہیں ہوئے تھے جب باہر سے گولیوں کی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں۔
‘چلیں باس جلدی کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
وہ آدمی اب آر بی کو اپنے ساتھ کھینچنے لگا تھا لیکن آر بی زرش کو اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا اسی لیے اپنے چاقو سے اسکی رسیوں کو کاٹنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ رسیاں بہت ذیادہ مظبوط تھیں۔آر بی جان گیا تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جا سکے گا اسی لیے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔
‘تم کسی کے قابل نہیں ہو ۔۔۔۔۔۔ تمہارے وجود پر میری چھاپ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔صرف آر بی کی ہو تم ۔۔۔۔۔ہمیشہ یاد رکھنا یہ۔ ‘
زرش نے اپنی بند ہوتی آنکھوں سے اسے جاتے دیکھا تھا۔لیکن پھر اپنے ہاتھ آزاد ہونے کے احساس پر اسکی آنکھیں کھلی تھیں اور گہری سبز آنکھوں سے ٹکرائیں۔زرش پلکیں جھپکے بغیر ان آنکھوں میں دیکھتی رہی تھی۔
‘فکر مت کرو تمہیں کچھ نہیں ہو گا اب تم محفوظ ہو۔’
اس مسیحا کے وہ الفاظ ہی زرش نے سنے تھے اور ان سبز آنکھوں کو جھانکتے ہوئے زرش ہوش کی دنیا سے بے غانہ ہو گئی۔
🌈🌈🌈🌈
(ماضی)
وجدان اور ملک اپنے باقی کے ساتھیوں کے ساتھ شیراز حسن کے گھر جانے کو تیار تھے۔شیراز اس وقت شہر سے کافی دور رہ رہا تھا اور اسی بات کا فائدہ ان لوگوں نے اٹھانا تھا۔
وجدان نے تو سوچ لیا تھا کہ اسے کس قدر اذیت میں مبتلا کرے گا وہ موت مانگے گا اور اسے موت بھی نصیب نہیں ہو گی۔ہر گزرتا دن اسکے کرب میں اضافے کا باعث ہی بنے گا۔
‘خان چلو ہمیں چلنا چاہئے۔’
ملک نے کہا تو وجدان نے اثبات میں سر ہلا کر اپنی چیزیں سمیٹیں اور ملک کے ساتھ چل دیا۔پورا راستہ وجدان نے کس طرح بے چینی سے کاٹا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا۔شیراز کی آنکھوں میں خوف اور ہار دیکھنے کی چاہ وجدان کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی تھی۔
‘خان۔۔۔وہ دیکھ۔’
ملک نے گاڑی کی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا جہاں سے شیراز حسن کا گھر نظر آ رہا تھا اور اس وقت وہ گھر آگ کی لپٹوں میں گھرا ہوا تھا۔
‘جلدی چلو۔۔۔۔’
وجدان نے بہت بے چینی سے کہا وجدان نہیں چاہتا تھا کہ شیراز اتنی آسانی سے مر جائے۔۔۔نہیں نہیں اسکی موت اتنی آسان کیسے ہو سکتی تھی ؟ لوگوں کی ہنستی کھیلتی زندگی کو اجاڑنے والا شخص خود اتنی آسانی سے کیسے مر سکتا تھا ۔۔۔۔نہیں بلکل بھی نہیں۔۔۔۔
‘خان رک۔۔۔۔۔’
گاڑی کے رکتے ہی وجدان بہت ذیادہ بے چینی سے اس جلتے گھر کی طرف بڑھا تو ملک نے لپک کر وجدان کو تھاما تھا۔
‘چھوڑ مجھے۔۔۔۔وہ نہیں مر سکتا ملک وہ اتنی آسانی سے نہیں مر سکتا۔۔۔۔۔’
وجدان نے خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بے چینی سے کہا۔
‘نہیں خان آگ بہت سخت ہے تو اس میں جائے گا تو جل جائے گا۔’
ملک نے وجدان کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن یہاں پروا کسے تھی۔وجدان کی نظروں میں صرف ایک گھر نہیں جل رہا تھا اس گھر کے ساتھ وجدان کے جینے کی وجہ اسکا مقصد سب کچھ جل رہا تھا۔
‘نہیں ملک وہ نہیں مر سکتا ۔۔۔۔وہ اتنی آسانی سے نہیں مر سکتا۔۔۔۔۔’
وجدان نے چلا کر کہا اور ملک کی گرفت سے نکل کر زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔
‘اتنی آگ میں کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکتا میرے یار۔’
ملک نے اسکے کندھے کو تھام کر کہا لیکن وجدان تو ان مردہ سبز آنکھوں سے اپنی زندگی کے مقصد کو اپنے سامنے جلتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔تبھی پولیس اور فائر بریگیڈ کے سائرن کی آواز آئی تو ملک نے بے چینی سے وجدان کو ہلایا۔
‘خان چل پولیس آ رہی ہے اسکا الزام ہم پر لگ جائے گا چل۔۔۔۔’
ملک کے لہجے سے بے چینی چھلک رہی تھی لیکن وجدان ابھی بھی بت بنا بس اس آگ کو گھور رہا تھا۔
‘خان چل۔۔۔۔۔’
لیکن ابھی بھی ملک کی بات کا وجدان پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔کافی دیر کوشش کے بعد بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
‘تو چلا جا۔’ وجدان نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
‘خان۔۔۔۔۔!!!’
‘جا۔۔۔۔’
وجدان نے سختی سے کہا تو ملک وجدان کو چھوڑ کر خود اپنے ساتھیوں کو لے کر وہاں سے چلا گیا۔
فائر بریگیڈ والے آگ بجھانے میں مصروف تھے۔مگر وجدان پر نہ تو کسی نے دھیان دیا تھا اور نہ ہی وجدان وہاں سے ہلا تھا وہ تو بس ایک لاش کی مانند اس آگ کو دیکھ رہا تھا۔
‘وجدان۔۔۔۔’
میجر منور صاحب نے وجدان کے کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن وجدان نے کوئی بھی جواب نہیں دیا تھا۔تبھی ریسکیو والوں نے دو لاشیں نکال کر باہر رکھی تھیں جن میں سے ایک لاش تو کسی عورت کی تھی جو اتنی بری طرح سے جل چکی تھی کہ اسے پہچاننا ناممکن ہی تھا۔جبکہ دوسری لاش شیرازحسن کی ہی تھی کیونکہ اسکا پورا جسم جل گیا تھا لیکن چہرہ ابھی بھی پہچاننے کے قابل تھا۔
‘وجدان بیٹا۔۔۔۔۔’
میجر منور صاحب نے ایک اور کوشش کی لیکن وجدان بہت دیر تک شیراز کی لاش کو دیکھتا رہا تھا جو صرف خود نہیں مرا تھا وجدان کے جینے کے ہر مقصد اور چاہ کو ساتھ لے کر مرا تھا اور پھر وہاں پر موجود خاموشی کو وجدان کی درد ناک چیخوں نے توڑا تھا۔جن میں اس قدر کرب تھا کہ ہر کوئی اس جلے گھر اور لاشوں کو نظر انداز کر کے اس نوجوان کو بری طرح سے روتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
وجدان نے بہت سی مشکلات کا سامنا کیا تھا لیکن پھر بھی وجدان کے پاس ایک مقصد تو تھا اور جب کوئی امید ،کوئی مقصد ہی باقی نہ رہے تو زندگی بے کار ہو جاتی ہے۔
اچانک ہی وجدان نے اپنی پاکٹ سے گن نکالی اور اسے سیدھا اپنی کن پٹی پر رکھ کر گولی چلا دی لیکن عین وقت پر میجر منور صاحب نے بندوق کا رخ آسمان کی طرف کر دیا تھا۔
‘پاگل ہو گئے ہو وجدان کیا کر رہے ہو تم؟’
میجر منور صاحب نے وجدان کے ہاتھ سے بندوق چھین کر پھینک دی اور وجدان کو کندھوں سے تھام کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔
‘حرام کی موت مرنا چاہتے ہو؟’
میجر منور صاحب غصے سے چلائے تو وجدان نے آنسوؤں سے بھری سبز آنکھیں اٹھا کر انہیں دیکھا۔کیا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں میں،کرب ،تکلیف،شکست۔
‘کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے مرنا چاہتا ہوں میں۔بس مرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔کوئی مقصد نہیں ہے میری زندگی کا کچھ نہیں بچا اس میں۔۔۔۔۔مجھے مار دیں۔۔۔۔پلیز مار دیں مجھے۔۔۔۔۔’
میجر منور صاحب نے بہت رحم سے اس تباہ حال نوجوان کو دیکھا جو ان کے سامنے ہاتھ جوڑے موت کی بھیک مانگ رہا تھا۔
‘ایسا نہیں ہے وجدان میرے بچے زندگی میں کیسے کوئی مقصد نہیں ہو سکتا،کیونکر زندگی میں اتنی مایوسی ہو سکتی ہے؟زندگی تو خود ایک مقصد ہے بیٹا ۔’
میجر منور صاحب نے وجدان کو سمجھانے کی کوشش کی۔
‘لیکن میری زندگی نہیں ہے انکل میری زندگی میں کچھ بھی نہیں بچا۔مرنا ہے مجھے بس مرنا ہے مجھے۔’
وجدان زارو قطار رو رہا تھا۔
‘ٹھیک ہے مر جانا ۔۔۔۔۔لیکن ایسے نہیں۔۔۔خودکشی کر کے سب سے گھٹیا اور حرام کی موت مت مرو وجدان بلکہ اپنی زندگی کو اللہ کی راہ کے میں لگا دو۔زندگی کو اس کے بندوں کی حفاظت کے لیے استعمال کرو اور ایسا کرتے مر بھی جاؤ گے نا تو کم از کم حلال کی ،ایک شہید کی موت کے ساتھ روز قیامت اپنے والدین کے سامنے سر خرو تو ہو گے۔کیا کہو گے الفاظ درانی کو؟اپنے اس عظیم باپ کو کہ میں حرام کی موت مر کے اپنے مقدر میں جہنم لے کر آیا ہوں۔’
وجدان نے حیرت سے میجر منور صاحب کو دیکھا۔
‘ہاں ہم جانتے ہیں کہ تم کس کے بیٹے ہو۔تمہیں کیا لگا تھا کہ تم نہیں بتاؤ گے تو ہمیں پتہ نہیں چلے گا۔ اسی لیے تو ہم نے تمہیں ہاشم کا نام دیا تھا کیونکہ ہم جانتے تھے کہ تمہارے نام کے ساتھ الفاظ کا نام تمہاری موت کی وجہ بن جائے گا۔اسی لئے تو تمہیں نئی پہچان دی تھی ہم نے وجدان۔تمہیں نئی زندگی دی تا کہ تم اپنے باپ کی طرح ایک عظیم اور بہادر انسان بنو۔نہ کہ اس لیے دی تھی کہ بزدلوں کی طرح خود کو مٹا دو۔’
وجدان نے انکی باتیں سن کر سر جھکایا۔
‘میں کیا کروں؟’
وجدان نے سر جھکا کر پوچھا۔
‘تم خان ہو نا وہ مشہور غنڈہ جسے برے لوگ اپنے لئے موت کا فرشتہ مانتے ہیں کیونکہ تم نے ہر برا کام کرنے والے کو اسکے انجام تک پہنچا دیا۔تم ابھی بھی یہی کام کرو گے وجدان لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر۔میں تمہیں آرمی میں کرواؤں گا اور ملک کے ہر دشمن کے دشمن بنو گے۔’
وجدان نے انہیں حیرت سے دیکھا۔
‘وعدہ کرو وجدان۔۔۔۔وعدہ کرو ایک بہتر زندگی کا۔۔۔۔نیکی اور سچائی کی راہ چننے کا۔۔۔وعدہ کرو وجدان اپنی جان کو صرف اور صرف پاک وطن کے لیے گروی رکھنے کا۔’
کرنل منور صاحب نے وجدان کا ہاتھ تھام کر کہا تو وجدان کافی دیر سوچتا رہا۔ہاں وہ مرنا چاہتا تھا لیکن حرام کی موت مر کر اپنے بابا کو کیا جواب دیتا۔اگر حلال موت مرے گا تو ان کے سامنے سر جھکا کر تو نہیں کھڑے ہو گا۔
‘میں وعدہ کرتا ہوں یہ زندگی صرف اور صرف اس وطن کی ہے اور کوئی مقصد نہیں ہے میرا۔ ‘
وجدان نے انتہائی سپاٹ انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا وہ بس اکیلا رہنا چاہتا تھا۔
🌈🌈🌈
‘بی بی جی۔۔۔۔۔۔۔’
زرش نے اپنے گھٹنوں پر سے سر اٹھا کر اپنے سامنے موجود چندا کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔چندا کو خاص طور پر زرش کے لئے رکھا گیا تھا کیونکہ چندا اسکے اشاروں کی زبان سمجھ لیتی تھی۔اتنے دنوں سے اس نے صرف چندا کی صورت ہی تو دیکھی تھی۔آر بی تو شاید کہیں گیا ہوا تھا۔
‘یہ آپکا جوڑا بی بی جی صاحب جی نے کہا ہے کہ تیار ہو جائیں پھر کچھ دیر میں آپ دونوں کا نکاح ہے۔’
الفاظ تھے یا کانٹے جو زرش کے پورے وجود کو چھلنی کر کر گئے تھے۔زرش نے اٹھ کر اس لباس کو پکڑا اور پھر اسے زمین پر پٹخ کر انکار میں سر ہلانے لگی۔
‘بی بی جی ایسا نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چپ چاپ انکی بات مان لیں’
چندا نے زرش کو بہت رحم کی نگاح سے دیکھا لیکن زرش ابھی بھی انکار میں سر ہلا رہی تھی۔
میں نہیں کر سکتی یہ نکاح ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ تو کیا میں کسی کے ساتھ بھی نکاح نہیں کر سکتی۔
زرش کے ہاتھ بہت تیزی سے ہلے تھے ایک پل کے لیے تو چندا کے لیے بھی سمجھنا مشکل ہو گیا تھا۔
‘کیوں نہیں کر سکتیں؟’
نہ جانے کیوں اسکے اس سوال پر زرش کے لبوں پر مسکان آئی تھی۔
‘کیونکہ میرا نکاح ہو چکا ہے۔کسی کی بیوی ہوں میں اور نکاح پر نکاح نہیں ہوتا’
چندا اب سہم کر زرش کو دیکھ رہی تھی۔
‘ایسا نہ کہیں بی بی جی۔۔۔۔۔۔۔’
خوف سے چندا کی آواز کانپ گئی تھی۔
‘کیا کہہ رہی ہے یہ؟۔۔۔ ۔’
آر بی کی گرجدار آواز پر وہ دونوں لڑکیاں کانپ کر رہ گئیں۔
‘ککککککچھ نہیں صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔’
چندا نے اپنا سر جھکا لیا تھا۔
‘سیدھی طرح سے جواب دو میرے سوال کا۔’
آر بی کی آواز کمرے کے در و دیوار ہلا گئی۔زرش گھبرا کر ایک کونے میں کھڑی تھی۔
‘صاحب جی۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔۔وہ کہہ رہی ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔انکا نننن۔۔۔۔۔۔۔۔نکاح ہو چکا ہے کسی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔’
چٹاخ۔ایک انتہائی زور دار تھپڑ آر بی نے اسکے منہ پر مارا تھا جسکی شدت اتنی زیادہ تھی کہ چندا زمین پر بہت بری طرح سے گری تھی۔
‘دفع ہو جاؤ یہاں سے۔’ چندا جلدی سے وہاں سے چلی گئی اور اسکے جاتے ہی آر بی نے زرش کے قریب آ کر اسے بالوں سے دبوچا۔
‘بولو کہ تم جھوٹ کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔’
آر بی غصے سے دھاڑا ۔زرش ڈر سے کانپتے ہوئے رو رہی تھی لیکن پھر بھی اس نے انکار میں ہی سر ہلایا۔آر بی نے بغیر سوچے سمجھے اسکا سر دیوار کے ساتھ مارا تھا اور اب اسکے سر سے خون کی ایک لکیر نکل رہی تھی۔
‘کیا چھوا اس نے تجھے۔۔۔۔۔۔۔۔بول ۔۔۔۔۔۔ چھوا ہے اس نے تجھے۔۔۔۔’
آر بی کے سوال پر زرش کو اس شام کا وہ واقعہ یاد آیا تو اس نے بغیر سوچے سمجھے ہاں میں سر ہلا دیا۔ایک غضبناک چیخ کے ساتھ آر بی نے اسے فرش پر پھینکا تھا اور اپنے بھاری بوٹ سے اسکے نازک وجود کو مارنے لگا۔
‘کہا تھا میں نے تجھے کہ تو میری ہے صرف میری ہے۔پھر کیسے تو کسی اور کی ہو گئی۔کیسے میرے نام کے نشانات کے باوجود اس نے تجھے اپنا لیا؟’
وہ شخص پاگلوں کی طرح زرش کو مار رہا تھا اور زرش تکیلف سے بے سدھ ہو چکی تھی۔
‘اتنا پیار کیا میں نے تیرے سے۔ہر لڑکی مجھ سے شادی کرنے کے لیے مرتی تھی اور میں نے چھے سال تک تیرا انتظار کیا۔تجھے وقت دیا کہ شادی کے قابل تو ہو جائے اور یہ صلہ ملا مجھے۔’
آر بی نے زرش کے پاس آ کر اس کے منہ کو دبوچا۔
‘اگر چاہوں نا تو تیری وہ حالت کر دوں کہ تجھے اپنانا تو دور کی بات ہے وہ تجھے دیکھنا بھی گوارا نہ کرے۔لیکن کیا ہے نا تو میرے دل میں بسی ہے،محبت ہے تو میری ورنہ تیری دھجیاں اڑا دیتا لیکن یہ بات یاد رکھنا کہ اس گناہ کی سزا بری ہو گی بہت زیادہ بری۔’
آر بی نے جھٹکے سے زرش کو زمین پر پھینکا۔
‘اسے ڈھونڈ کر مار ڈالوں گا اس کے بعد تو میری ہو گی۔آج تک جو بھی میں نے چاہا ہے اسے حاصل کر کے ہی دم لیا ہے تو تجھے کیسے کسی اور کو دے دوں۔اب بھی تو میری
ہی ہو گی لیکن زندگی کا ہر ایک دن کرب میں گزارے گی تو۔’
اتنا کہہ کر وہ تو وہاں سے چلا گیا تھا لیکن زرش بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تکلیف سے بے ہوش ہونے لگی
وجدان۔۔۔۔ ایک آخری بے آواز لفظ اسکے خاموش لبوں نے پکارا اور پھر اسکی آنکھیں بند ہوتی گئیں۔
🌈🌈🌈🌈
یہ تم کیا کہہ رہے ہو وجدان؟میں ایسا نہیں کر سکتا۔یہ پولیس کیس ہے وجدان ہم اس میں نہیں پڑ سکتے۔
کرنل منور صاحب نے وجدان کی بات سن کر اسے صاف صاف انکار کر دیا۔
‘یہ جاننے کے باوجود کہ جس شخص کے پاس زرش ہے وہ ایک سمگر ہے، مافیا ہے۔’
وجدان نے سختی سے پوچھا۔
‘اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے تمہارے پاس وجدان صرف تمہارے دلائل پر اتنا بڑا فیصلہ نہیں لیا جا سکتا۔’
کرنل منور صاحب کی بات پر وجدان نے غصے سے کھڑے ہو کر اپنے دونوں ہاتھ میز پر رکھے۔
‘اتنے سالوں کے بعد بھی آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے۔’
‘بات یقین کی نہیں ہے وجدان۔تم بھی اچھی طرح سے جانتے ہو کہ ریکوایرمینٹس ہیں ان کے بغیر میں کسی قسم کا فیصلہ نہیں لے سکتا۔’
وجدان نے اثبات میں سر ہلایا۔
‘ٹھیک ہے پھر اپنی نور کو خان خود ڈھونڈ لے گا ۔’
وجدان نے کرنل صاحب کو اپنا وہی پرانا وحشی روپ یاد دلایا۔
‘تم وہ سب چھوڑ چکے ہووجدان اور تم نے وعدہ کیا تھا ایک بہتر زندگی کا۔حلف اٹھایا تھا تم نے اس ملک کے لیے اپنی جان کو نچھاور کرنے کا اور آج صرف ایک لڑکی کی خاطر تم اپنی پہچان،اپنا حلف سب کچھ بھولنے کو تیار ہو۔اپنے ملک سے غداری کرنے کے لیے تیار ہو۔’
کرنل صاحب نے بہت ذیادہ غصےسے اسے گھورا۔
‘آپ کے لیے وہ صرف ایک لڑکی ہو گی لیکن میرے لیے وہ میرا سب کچھ ہے۔میری چلتی سانسوں کا مقصد ہے وہ۔آپ ملک سے غداری کی بات کرتے ہیں اس کے لئے تو میں پوری دنیا سے غداری کر سکتا ہوں۔’
وجدان کے لہجے کی مظبوطی اور آگ کو کرنل صاحب نے بہت حیرانی سے دیکھا۔
‘یہ جان لو وجدان کہ اگر تم کسی بھی قسم کی واردات میں پکڑے گئے تو میں تمہیں نہیں بچاؤں گا۔’
کرنل منور صاحب نے بہت افسوس سے یہ بات کہی۔
‘خان کو کسی کی ضرورت نہیں وہ خود ایک آگ ہے اور اگر آپ چاہتے ہیں نا کہ خان اپنی نور کی تلاش میں اس دنیا کو نہ جلائے تو ابھی کے ابھی میرے سینہ گولیوں سے چھلنی کر دیں۔’
وجدان اپنی بات کہہ کر کچھ دیر وہاں کھڑا انہیں دیکھتا رہا اور پھر خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔
کرنل صاحب چاہ کر بھی اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کروا سکتے تھے۔ان کی نظر میں وہ آج بھی وہ انیس سال کا لڑکا ہی تھا جو اپنے جینے کا مقصد اپنے سامنے جلتا دیکھ چلا چلا کر رویا تھا۔وجدان تو انہیں اپنی سگی اولاد سے بھی ذیادہ عزیز تھا اسی لیے اس معاملے میں وہ خاموشی سادھ گئے تھے ورنہ وجدان کی جو کرنا چاہتا تھا وہ پاک فوج کی نظر میں بہت بڑا جرم تھا اور اب یہ راز اپنے سینے میں دبا کر کرنل صاحب خود بھی ایک مجرم بن چکے تھے۔
‘سپاہی کی کزوری اسے بہت مہنگی پڑتی ہے وجدان۔وہ تمہاری کمزوری ہے اور تم میری کمزوری ہو میرے بچے۔’
کرنل صاحب نے ایک گہرا سانس لے کر اپنی آنکھیں موند لیں۔
🌈🌈🌈🌈
میں زرش کو خود ڈھونڈوں گا۔’
وجدان نے سعد اور شایان کو اپنا فیصلہ سنایا ۔
‘ٹھیک ہے وجدان ہم سب مل کر اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
‘نہیں شایان تم اس سب میں شامل نہیں ہو گے۔دارا کو کسی وجہ سے ختم کیا تھا ہم نے اور وہ وجہ وہاں باہر ہے۔تم پھر سے دارا نہیں بنوں گے۔اگر ہو سکے نا تو تم سلمان صاحب اور فاطمہ آنٹی کو ڈھونڈ لو وہ دونوں بھی کافی بڑے خطرے میں ہیں ضرور اسی آر بی کے پاس ہیں وہ۔’
وجدان نے شایان کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی تھی۔
‘ وجدان صحیح کہہ رہا ہے تم اس سب میں شامل نہیں ہو سکتے شایان، پر تم فکر مت کرو میں وجدان کے ساتھ جاؤں گا۔’
سعد نے حتمی فیصلہ سنایا۔
‘نہیں سعد تم پھر سے وہ نہیں کرو گے جو تم نے پہلے کیا ہر بار دوستی میں تم اپنی جان داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ میں خود ہی ڈھونڈ لوں گا زرش کو۔’
وجدان کی بات پر سعد چل کر اسکے سامنے آیا۔
‘روک کر بتاؤ تم مجھے۔میں نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ چل رہا ہوں اسکا مطلب ہے کہ میں تمہارے ساتھ چل رہا ہوں۔’
سعد نے اس بار سختی سے کہا۔
‘اور اسکا کا کیا کرو گے جو باہر ہے جسکی حفاظت کا ذمہ ہے تم پر۔۔۔۔۔’
سعد نے مسکرا کر کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں عشال جانان کو باتوں میں لگا کر اسکا دھیان بٹانے کی ممکن کوشش کر رہی تھی۔
‘اسکی حفاظت کی فکر مت کرو ۔اسکی حفاظت تو اب جینے کا مقصد بن چکی ہے کوئی بھی اس تک میری لاش پر سے گزرے بغیر نہیں پہنچ سکتا۔’
سعد کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ تھی۔
‘جو بھی ہو سعد تم اس سب میں نہیں پڑو گے اور یہ میرا حتمی فیصلہ ہے۔’
وجدان اپنی بات کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔جبکہ سعد نے بے بسی سے شایان کو دیکھا۔
‘تم سکندر کا پتہ لگواؤ اسکا نا جانے کیوں اس سب سے کافی گہرا تعلق لگ رہا ہے۔’
شایان نے اس سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔لیکن سعد کی نظر میں سکندر اتنا بڑا مسلہ نہیں تھا اسکا یہ شک کہ وجدان ہی سکندر ہے یقین میں بدلتا جا رہا تھا لیکن ایک بات کو سمجھنے سے سعد قاصر تھا کہ اگر وجدان خود سکندر ہے تو پھر وہ عشال کے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ اسے کیوں مارنا چاہتا ہے اور اپنے گھر میں رہنے کے باوجود اسے زندہ کیوں چھوڑا ہے؟اور تو اور اگر وہ خود سکندر ہے تو خود کو ہی اتنی محنت سے ڈھونڈنے کا دکھاوا کیوں کر رہا ہے۔سکندر تو ویسے بھی آجکل ایک خاموش طوفان بنا ہوا تھا نا جانے کہاں غائب ہو چکا تھا۔یہ سب باتیں سوچ کر سعد کا دماغ گھوم چکا تھا۔
