64.4K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

‘آپ فکر کیوں کرتے ہیں مشتاق صاحب میں ہوں نا الیکشن تو آپ ہی جیتیں گے۔زیادہ مشکل کام نہیں ہے میں ایک مال میں حملہ کرواؤں گا کافی سارے لوگوں کی موت ہو گی اور اسکا الزام آپوزیشن پر ڈال دیں گے۔پھر تو وہ لوگ کبھی بھی الیکشن نہیں جیت سکیں گے۔’
رات کے دو بجے آر بی اپنے گھر کے مہنگے آفس میں ٹیبل کے پاس موجود کرسی پر بیٹھا فون پر بات کر رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ شراب کا گلاس ہاتھوں میں بہت ادا سے گھما تھا۔
‘ہاہاہاہا ارے تین چار لوگ مر جائیں گے تو کیا جیت کے لئے قربانیاں تو دینی ہی پڑتی ہیں نا۔بس آپ پیسہ تیار رکھیے گا اور فکر مت کریں جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہی ہو گا۔
آر بی کے چہرے سے شیطانی ٹپک رہی تھی۔تبھی فیض پریشانی کے عالم میں وہاں آیا۔
‘باس ۔۔۔’
آر بی نے غصے سے فیض کو گھور کر دیکھا اور دوسری طرف موجود شخص کو جواب دیے بغیر ہی فون بند کر دیا۔
‘بکو۔۔۔’
آر بی غصے سے دھاڑا۔
‘باس وہ سکندر نے مجھ سے کانٹیک کیا ہے ہمارے ایک آدمی کے ذریعے۔۔۔۔’
فیض نے بہت ذیادہ ڈر کے عالم میں کہا۔جبکہ اسکی بات پر آر بی نے حیرت سے اسے دیکھا ۔
‘یعنی بکرا خود ہی ہمارے جال میں پھنسنے جا رہا ہے۔’
آر بی نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔فیض بھی ہلکے سے مسکرا دیا۔
‘کہتا کیا ہے وہ؟’
آر بی نے دلچسپی سے پوچھتے ہوئے اپنی شراب ایک ہی گھونٹ میں پی کر گلاس میز پر رکھا اور اپنا ریوالور اٹھایا۔
‘کہتا ہے اس کے پاس کچھ ایسا ہے جو آپکو اس دنیا میں سب سے ذیادہ چاہیے مگر وہ اسے صرف آپکو ہی دے گا وہ بھی آمنے سامنے۔’
آر بی کے چہرے پر بہت ذیادہ حیرت کے آثار آئے تھے۔بھلا سکندر خود ہی کیوں اپنی بیوی رومان کو دینا چاہے گا؟
‘بدلے میں کیا چاہتا ہے وہ؟’
آر بی بہت سوچنے کے بعد بولا وہ سکندر کی خواہش سمجھنے سے قاصر تھا۔
‘بدلے میں وہ صرف آپ سے ملنا چاہتا ہے باس آمنے سامنے۔’
فیض کی بات پر آر بی کے لبوں پر خطرناک سی مسکان آ گئی۔
‘بہت زیادہ چالاک بنتا ہے یہ سکندر اسے کیا لگتا ہے کہ اپنی بیوی کو بلی کا بکرا بنا کر وہ آر بی تک پہنچ جائے گا ۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا خواب ہے یہ اسکا ۔بلکہ اپنے بچھائے جال میں خود ہی بہت بری طرح سے پھنسے گا وہ۔’
آر بی نے غصے سے کہتے ہوئے اپنی مٹھیاں کسیں
‘کل شام کو ہی بلا لو اسے فیض اپنی مخصوص جگہ پر وہاں میرا ہر آدمی ہونا چاہیے۔سکندر نے جو بھی منصوبہ بنایا ہو وہ اس پر ہی الٹا پڑے گا ۔ وہاں سے زندہ نہیں جا پائے گا وہ بلکہ وہیں اسکی آنکھوں کے سامنے اسکی بیوی کو نوچ کر اسی جگہ کو اسکی قبر بنا دوں گا۔’
آر بی دانت پیستے ہوئے وحشت سے بول رہا تھا اور اسکی اس وحشت سے فیض کو بھی خوف آ رہا تھا۔
‘ جی باس جیسا آپ چاہیں۔’
آر بی نے ہاں میں سر ہلا کر فیض کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔
‘اب وقت آ گیا ہے پھر سے آمنے سامنے آنے کا سکندر الفاظ درانی اور میرا وعدہ ہے کہ اس بار زندہ نہیں بچو گے تم لیکن تمہیں مارنے سے پہلے زرش کا وہ حال کروں گا نا کہ تمہیں صیح معنوں میں کرب سے گزرنے کا اندازہ ہو گا۔’
آر بی نے اپنے سامنے موجود جام کی مہنگی بوتل اٹھا کر بہت غصے سے دیوار پر مار کر توڑ دی۔
🌈🌈🌈🌈
گھر میں موجود سب لوگ بہت ذیادہ پریشان تھے زرش کل رات سے گھر میں نہیں تھی انہیں صبح فجر کے وقت پتہ چلا تھا جب وجدان گھر واپس آیا اور اس نے زرش کو گھر میں نہیں پایا تھا۔اس کے بعد ہی وجدان فوراً باہر چلا گیا ۔ تب سے ہی عثمان اور شایان زرش کو ڈھونڈنے کی جو توڑ کوشش کر رہے تھے مگر ایسا تھا جیسے زرش گھر سے غائب ہی ہو گئی ہو۔
اسی وجہ سے سب لوگ بہت زیادہ پریشان تھے فاطمہ بیگم حمنہ اور جانان کا تو رو رو کر برا حال ہو گیا تھا۔عثمان کی اصل پریشانی تو حمنہ کے آنسو تھے وہ بار بار انہیں تسلیاں دے رہا تھا لیکن وہ سب تسلیاں اس وقت بے سود تھیں۔جب عثمان کی ہمت جواب دے گئی تو وہ حمنہ کو اپنے ساتھ چکن میں لے آیا اور اس سمجھانے لگا کہ عثمان پر بھروسہ رکھے وہ وعدہ کرتا ہے کہ سب ٹھیک کر دے گا۔
‘آپ فکر مت کریں وجدان اور میں مل کر ڈھونڈ لیں گے زرش کو کچھ نہیں ہو گا اسے وعدہ ہے یہ ہمارا۔’
شایان نے انہیں حوصلہ دینے کی کوشش کی اور ایک آخری نگاہ روتی ہوئی جانان پر ڈال کر وہ بھی گھر سے چلا گیا۔
‘ابھی کل ہی تو اپنی بیٹیوں کی خوشیاں دیکھ کر دعا کی تھی کہ انہیں کسی کی نظر نہ لگے لیکن لگتا مجھ بدنصیب کی ہی نظر کھا گئی میری بیٹی کو نا جانے کہاں ہے وہ کس حال میں ہے۔۔۔۔’
فاطمہ بیگم نے زارو قطار روتے ہوئے کہا جانان اور حمنہ انکو روتے دیکھ کر مزید رونے لگی تھیں۔
‘فاطمہ ہمت سے کام لو وہ سب گئے تو ہیں زرش کو ڈھونڈنے وہ ضرور ڈھونڈ لیں گے۔’
سلمان صاحب نے فاطمہ بیگم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر انہیں ہمت دینے کی کوشش کی لیکن اس ماں کو کہاں سے سکون آتا۔
‘اللہ میری بیٹی کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ابھی تو اس نے خوشیوں کا چہرہ بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا تھا اور پھر سے یہ سب۔۔۔۔’
فاطمہ بیگم ہاتھ جوڑ کر اللہ سے فریاد کرنے لگیں جبکہ حمنہ تو نا جانے کب سے انہیں حوصلہ دلا رہی تھی پر اسکی ہر کوشش بے اثر ہی ثابت ہو رہی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
زرش کو ہوش آیا تو وہ ایک اندھیرے کمرے میں بند تھی ۔کئی جھماکے ایک ساتھ اسکے ذہن میں ہوئے تھے۔وہ تو لان میں وجدان سے ملنے گئی تھی نا پھر وہاں سعد آ گیا تھا اور پھر سعد نے وہ رومال اسکے منہ پر رکھا اس کے بعد زرش کو کچھ بھی یاد نہیں تھا۔
زرش نے اپنے ارد گرد غور کرنے کی کوشش کی تو اسے پتہ چلا کہ وہ کمرہ ایک کال کوٹھری کی مانند ہی تھا چھے سال پہلے کی قید زرش کو یاد آ گئی سب ویسا ہی تھا سوائے اس بات کے کہ یہ کمرہ بلکل خالی تھا۔وہاں پر کچھ بھی نہیں تھا۔زرش ٹھنڈی زمین سے اٹھ کر بیٹھی تھی اسکا روم روم خوف سے کانپ رہا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ سعد نے ایسا کیوں کیا؟وہ تو وجدان کا سب سے اچھا دوست تھا اور زرش کو تو وہ اپنی بہنوں کی طرح ہی مانتا تھا نا تو کیوں کیا سعد نے ایسا ؟
زرش اٹھ کر لڑکھڑاتے قدموں سے دروازے تک گئی اور زور زور سے دروازہ بجانے لگی وہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ وقت کونسا تھا۔نا جانے کتنی ہی دیر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد بھی دروازہ نہ کھلا تو زرش دروازے کے ساتھ بیٹھ کر زارو قطار رونے لگی۔
اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔خوف کی لہر اسکے پورے وجود میں گردش کر رہی تھی ایک بار پھر سے وہ ویسی ہی جگہ پر قید کر دی گئی تھی ایسا آخر اس کے ساتھ ہی کیوں کیا جاتا تھا کیا گناہ تھا زرش کا۔۔۔۔کیوں ہر ایک کا ظلم اسی کمزور پر چلتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ زرش نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہار نہیں مانے گی مگر وہ کر بھی کیا سکتی تھی وہ تو کمزور تھی بہت بہت زیادہ کمزور۔
تبھی اچانک سے دروازہ کھلا اور سعد اسی حلیے میں کھانے کی پلیٹ پکڑے کمرے میں داخل ہوا۔زرش سہم کر اس سے دور ہوئی تھی۔
‘تم یہ کھا لو ابھی اور مراحل سے گزرنا ہے تمہیں خود کو تیار کرو اس کے لئے۔’
سعد نے کھانے کی پلیٹ اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔زرش سہم کر مزید دیوار کے ساتھ لگ گئی پھر اپنے کپکپاتے ہاتھ اٹھائے۔
آپ ایسا کیوں کر رہے؟
تمہیں جواب دینا میں ضروری نہیں سمجھتا بس اتنا سمجھ لو کہ تمہارا یہ جو خوف ہے نا اسی نے تمہیں اس مقام پر لایا ہے۔تم جتنا اندھیرے اور بند کمرے سے ڈرتی ہو نا اتنا ہی تمہیں اس میں بند کیا جاتا ہے۔یہ تو اصول ہے دنیا کا زرش جب ہم ڈرتے ہیں دنیا ہمیں اور ڈراتی ہے۔’
سعد کی کسی بات کا تعلق زرش کے پوچھے گئے سوال سے نہیں تھا۔زرش روتے ہوئے سعد کو دیکھنے لگی۔
پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں ۔۔۔۔۔۔مجھے گھر جانے دیں۔۔۔۔۔
زرش نے روتے ہوئے اشارہ کیا اور پھر اپنے ہاتھ سعد کے سامنے جوڑ دیے۔سعد اپنا سر جھٹک کر اٹھ کھڑا ہوا۔
‘مانگنے سے یہ دنیا کچھ نہیں دیتی زرش انسان کو محنت کرنی پڑتی ہے۔تمہیں بھی یہاں مانگنے سے کچھ بھی نہیں ملنے والا ۔’
سعد بے رخی سے کہتا ہوا باہر چلا گیا جانے کتنی ہی دیر زرش وہاں بیٹھ کر روتی رہی تھی کھانے کو تو اس نے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا وہ اپنی قسمت کا لکھا پڑھ نہیں پا رہی تھی۔کیا یہ سچ میں اسکی بزدلی کی سزا تھی کہ ہر کوئی اسے قید کر لیتا تھا اگر اسکے بھی پنجے ہوتے تو خود کو چھونے والے کو وہ کھروچ دیتی مگر وہ تو مجبور تھی بہت مجبور۔اپنے ڈر اور خوف کے ہاتھوں مجبور تھی وہ کیا بگاڑ سکتی تھی وہ ایک مظبوط انسان کا کچھ بھی تو نہیں۔
ایک بار ہی تو اس نے بہادری دیکھائی تھی اور اس بہادری کی سزا اسکی معصوم دوست نے بھگتی تھی جس کی وجہ سے زرش بزدل ہوئی اسے لگا تھا کہ بزدل رہنا ہی بہتر ہے جب کسی کی بات مان لو تو وہ آپکو نقصان نہیں پہنچائے گا۔لیکن وہ غلط تھی بہت بہت غلط ۔خاموش رہ کر ظلم سہنے سے ظلم کبھی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔
زرش اپنی بے بسی پر نا جانے کتنی ہی دیر آنسو بہاتی رہی تھی۔اپنے بے آواز لبوں سے وجدان کو پکارتی رہی تھی لیکن اگر وجدان نہیں آتا تو زرش کیا کرتی؟اتنا سوچ کر ہی زرش پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
وہ کتنی ہی دیر ایسے روتی رہی تھی یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھی۔کافی دیر کے بعد سعد وہاں دوبارہ آیا اور اسکے ہاتھوں کو پکڑ کر باندھنے لگا۔زرش نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ سعد کے مقابلے میں کمزور تھی بہت زیادہ کمزور۔
‘تم کمزور ہو لڑکی بہت کمزور اور اسی کمزوری اور بزدلی کی سزا بھگتو گی تم۔۔۔۔’
سعد کافی مظبوطی سے اسکے پیر باندھتے ہوئے بولا۔زرش بے بسی سے زمین پر پڑی رہی تھی۔سعد اسے مکمل طور پر باندھ کر وہاں سے ہٹا۔
‘جانتی ہو تمہاری اس بزدلی کی سزا کیا ہو گی؟اپنی آخری سانس تک اس کال کوٹھری میں بند رہنا۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا تم تو اتنی بے بس ہو کہ کسی کو اپنی مدد کے لیے پکار بھی نہیں سکتی۔قید رہو گی اس کال کوٹھری میں اور کوئی ڈھونڈ نہیں پائے گا تمہیں کبھی بھی پکارتا رہ جائے گا وہ تمہیں اور تم جواب بھی نہیں دے سکو گی۔’
زرش مسلسل روتے ہوئے انکار میں سر ہلا رہی تھی لیکن سعد نے اسے باندھ کر زمین پر پھینکا اور دروازہ کھول کر باہر چلا گیا۔زرش زمین پر پڑی سسکتی رہی تھی۔
وجدان آپ آ جائیں نا پلیز آ جائیں۔’
زرش نے دل میں ہی کہا اور پھر سے رونے لگی اسے لگتا تھا کہ سچ میں وہ اسی کال کوٹھری میں رو رو کر اور گھٹ گھٹ کر ہی مرے گی۔تبھی زرش کو بند دروازے کے پار سے سعد کی آواز سنائی دی وہ شاید کسی سے بات کر رہا تھا۔
‘ہاں جیسا تم نے کہا تھا بلکل ویسا ہی کر دیا ہے آگے بتاؤ کیا کروں؟’
ایک پل کو خاموشی چھائی تھی۔
‘ہممم۔۔۔۔ٹھیک ہے آ رہا ہوں میں۔’
اس کے بعد زرش نے صرف سعد کے دور جانے کی آواز سنائی دی تھی زرش نے ہلنے کی کوشش کی لیکن جس طرح سے اسے باندھا گیا تھا وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔اپنی بے بسی پر وہ پھر سے آنسو بہانے لگی۔
🌈🌈🌈🌈
آر بی نے ہر طرح سے جائزہ لیا تھا جیسا اس نے چاہا تھا فیض نے سارا بندوبست بلکل ویسا ہی کیا تھا۔سکندر آر بی کے پاس نہیں اپنی موت کے جال میں آ رہا تھا۔ آر بی کا ہر بڑا چھوٹا آدمی وہاں موجود تھا۔ویسے تو آر بی اپنے کسی آدمی کے سامنے نہیں آتا تھا لیکن آج بات کچھ اور ہی تھی۔آج آر بی کے جزبات، حسد،جنونیت،آگ ہر چیز کو سکون حاصل ہونا تھا۔
‘باس سب انتظام ہو چکا ہے یہ خفیہ جگہ ہے سکندر کے علاوہ کوئی بھی نہیں آ پائے گا اندر۔۔۔۔۔ باہر ہمارے کم از کم بھی تیس آدمی ہیں جو ہمارا سگنل ملتے ہی اندر آ جائیں گے۔سکندر کی بھی تلاشی لے کر ہی اسے اندر بھیجا جائے گا باقی ہمارا تقریباً ہر خاص آدمی ہے ادھر اگر دور دور تک کوئی اور ہمیں نظر آیا تو زندہ نہیں بچے گا وہ باس۔سکندر کا جو بھی پلین اس پر ہی الٹا چلے گا۔’
آر بی کے چہرے پر خوفناک سی مسکان آئی۔
‘اچھا کام کیا ہے تم نے فیض وفاداری کا ثبوت دیا ہے اور یہ جگہ مجھے پسند آئی صیح ہے نا جہاں سے یہ کہانی شروع ہوئی وہیں ختم بھی کرتے ہیں۔’
آر بی نے اسی اندرون زمین خفیہ جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں کبھی اس نے ان سکول کی بچیوں کو اگوا کر کے قید کیا تھا۔اسکے ساتھ نیچے تو کوئی چودہ پندرہ آدمی ہی تھے زیادہ آدمی اس نے باہر کی عمارت میں ہی تعینات کیے تھے اور اب انہیں بس سکندر کا انتظار کرنا تھا جو آر بی بہت ہی ذیادہ بے چینی سے کر رہا تھا۔
تبھی اسکے آدمیوں میں حل چل ہوئی انہیں ایک اکیلا آدمی گلابی شلوار قمیض میں ملبوس ایک لڑکی کو کندھے پر ڈالے وہیں آ رہا تھا۔اس نے کالی جینز پر کالی ہی ہڈی پہنی ہوئی تھی اور چہرے کو بھی رومال سے کوور کیا ہوا تھا۔سبز آنکھوں میں عجیب سے وحشت تھی۔
سکندر کے قریب پہنچتے ہی ایک آدمی نے زرش کو سکندر کے کندھے پر سے لینا چاہا تو سکندر نے اپنی سبز آنکھوں سے اسے گھور کر دیکھا۔
‘اپنے ہاتھ خود تک رکھ ورنہ کبھی بھی یہ ہاتھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ ‘
نا جانے اس آواز میں ایسا کیا تھا کہ خوف کے مارے اس آدمی کے ہاتھ ہوا میں ہی رک گئے تھے۔ایک دوسرے آدمی نے آگے بڑھ کر سکندر کی اچھی طرح سے تلاشی لی۔زرش کے چہرے سے بال ہٹا کر اسکے چہرے اور بند آنکھوں کو دیکھ کر ہاں میں سر ہلا کر لڑکی کی تصدیق کی۔سکندر کے پاس کوئی بھی ہتھیار نہیں تھا نہ ہی کوئی بندوق اور نہ ہی کوئی چاقو۔
وہ لوگ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اس آدمی کی بہادری کو داد دیں یا اسکی بے وقوفی پر ماتم کریں وہ موت کے منہ میں چل کر آیا تھا۔
تلاشی مکمل ہوتے ہی سکندر آگے بڑھ گیا۔ایک آدمی زمین کے اندر موجود خفیہ راستے سے سکندر کو اندر لے کر گیا جہاں بوسیدہ سیڑھیوں سے گزرتے ہی اس ہال نما تہہ خانے میں آر بی بے سکندر کی طرف پیٹھ کیے کھڑا تھا۔
سکندر نے ارد گرد کا جائزہ لیا جہاں پر تقریبا چودہ یا پندہ آدمی اپنی بندوقوں کا رخ سکندر کی طرف کیے کھڑے تھے۔فیض بھی وہیں ایک سائیڈ پر کھڑا سارا منظر دیکھ رہا تھا۔
‘باس۔۔۔۔’
فیض کے مخاطب کرتے ہی آر بی نے مڑ کر سکندر کو دیکھا جبکہ اپنے بلکل سامنے رومان کو دیکھ کر سکندر نے غصے سے اپنے دانت پیسے ۔
‘لو کر دی تمہاری خواہش پوری سکندر آ گیا میں تمہارے سامنے۔قسمت والے ہو جو آر بی خود تمہارے سامنے کھڑا ہے۔’
سکندر کچھ دیر وہیں کھڑا اسے غصے سے دیکھتا رہا پھر آگے بڑھا اور گلابی لباس میں ملبوس زرش کو آر بی کے قدموں میں پھینکا۔زرش شاید بے ہوش تھی اور زمین پر گرتے ہی اسکے تمام بال اسکے چہرے پر پھیل گئے تھے۔
‘اور لو کر دی تمہاری خواہش پوری جس لڑکی کو چاہتے تھے وہ اس وقت تمارے قدموں میں ہے۔’
سکندر کی غصے سے بھر پور آواز اس جگہ پر گونجی۔آر بی زرش کو نظر انداز کر کے مسکراتا ہوا سکندر کے پاس آیا۔
‘تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تمہیں پہچان نہیں پاؤں گا کہ سکندر کون ہو،سکندر الفاظ درانی،یا پھر یوں کہوں وجدان ہاشم خان۔’
آر بی نے کھینچ کر نقاب وجدان کے چہرے سے ہٹایا۔وجدان نے غصے سے اپنی مٹھیاں کس لیں سبز آنکھوں میں غصے کے شرارے تھے جبکہ آر بی اسے مسکرا کر دیکھتا رہا۔
‘حیران میں اس بات پر نہیں کہ تم زندہ کیسے بچ گئے اپنی آنکھوں سے تمہیں اس بم دھماکے میں مرتے دیکھا تھا حیران تو میں اس بات پر ہوں کہ تم یہ کیسے جان گئے کہ میں زندہ ہوں تمہاری آنکھوں کے سامنے تو مجھے گولی لگی تھی تم نے روتے ہوئے چلا کر بھائی پکارا تھا۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔’
آر بی وجدان کے قریب ہوا وجدان مسلسل اپنی سبز آنکھوں سے آر بی کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہا تھا۔
‘لیکن نہ صرف تم نے یہ جان لیا کہ میں زندہ ہوں بلکہ تم یہ بھی جاننے میں کامیاب ہو گئے کہ تمہارے اس باپ کو پھنسانے والا میں تھا وہ سب کروانے والا میں تھا۔۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔تبھی تو تم دو سال سے وہ خفیہ سکندر بن کے مجھے برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔۔۔۔’
آر بی نے آگے بڑھ کر وجدان کے منہ کو دبوچ لیا مگر وجدان ابھی بھی خاموش ہی کھڑا تھا۔
‘تمہیں کیا لگا تھا کہ سکندر بن کر تم میرے ان دو کوڑی کے آدمیوں کو مار دو گے تو میں تباہ و برباد ہو جاؤں گا۔۔۔۔نہیں سکندر دارنی بلکل بھی نہیں۔۔۔۔میں اب وہ فقیر بلو نہیں جسے تمہارا باپ رحم کھا کر پناہ دیدے ۔۔۔۔۔۔یا رومان نہیں جس پر احسان کر کے کاروبار کا ایک حصہ اسے دیا جائے اور باقی سب اپنے لاڈلے ،اپنے وارث کو دے دیں۔۔۔۔میں آر بی ہوں وہ آر بی جس کے بلبوتے پر اس ملک کا ہر برا کام چلتا ہے۔۔۔ وہ آر بی جسکے حکمران بھی تلوے چاٹتے ہیں اگر پولیس بھی مجھے پہچان کر پکڑ لے تو بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ میرا دو فون کر کے آزاد ہو جاؤں گا میں۔۔۔۔’
آر بی نے ایک جھٹکے سے وجدان کے منہ کو چھوڑا۔
‘ تمہیں کیا لگا تھا کہ سکندر بن کر تم مجھ جیسی طاقت سے بھڑ سکو گے۔۔۔۔غلط تھے تم سکندر بہت غلط ہمیشہ ہی بے وقوف اور جزباتی۔اب اپنی بےوقوفی میں اس اپنی بیوی کو ہی چارہ بنا کر لے آئے تم۔۔۔۔یہ بھی نہیں سوچا کہ کیا حال کروں گا میں اسکا۔’
آر بی نے پلٹ کر بہت غلیظ نظروں سے زمین پر پڑے اس نازک وجود کو دیکھا۔آر بی نے زرش کے قریب ہونے کی کوشش کی۔
‘ابھی ہماری بات مکمل نہیں ہوئی ۔ ‘
آخر کار وجدان کے لبوں سے بھی کچھ لفظ ادا ہوئے تھے۔آر بی نے اس نازک وجود سے اپنا دھیان ہٹا کر پھر سے وجدان کو دیکھا۔
‘مقصد کیا تھا تمہارا سکندر اس سب کے پیچھے؟’
آر بی کی بات پر وجدان کے لبوں پر خطرناک سی مسکان آئی۔
‘صرف تم سے یہ پوچھنا کہ تم نے ایسا کیا کیوں؟’
وجدان نے اپنی عادت کے مطابق مختصر سی بات کہی لیکن اس سوال پر آر بی کا غصہ بہت بڑھ گیا تھا۔
‘تمہیں کیا لگتا ہے کیوں کیا میں نے یہ سب؟؟؟ جلتا تھا میں تم سے سکندر بہت ذیادہ جلتا تھا تمہیں وہ سب ملا جو مجھے چاہیے تھا سب کچھ چھین لیا تم نے مجھ سے سب کچھ ۔میری ماں کا پیار اور وقت، بابا کی توجہ سب کچھ تم نے صرف پیدا ہونے سے ہی چھین لیا۔۔۔۔’
آر بی نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا ۔
‘کیسی بات ہے کہ اس دنیا میں بہت سے لوگ کئی چیزوں کے لیے ترس ترس کر مر جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کو صرف پیدا ہوتے ہی صرف اپنی وراثت کی وجہ سے سب مل جاتا ہے۔ جیسے تمہیں ملا جلتا تھا میں تم سے تمہاری قسمت سے۔۔۔۔جب جب تم ہنستے تھے مجھے تکلیف ہوتی تھی،جب جب ماما بابا تمہیں پیار کرتے تھے میرا روم روم ایک آگ میں جل سا جاتا تھا۔سوچ لیا تھا میں نے کہ تمہیں اتنا ہی جلاؤں گا اتنا ہی رلاؤں گا جتنا تم مجھے جلاتے تھے۔۔۔۔۔ہاہاہاہا اور وہی کیا تھا میں نے ۔سب ویسا ہی ہوا جیسا میں نے چاہا۔’
آر بی کے چہرے پر غرور اور بہت زیادہ شیطانی تھی۔وجدان تو ابھی بھی خاموشی سے وہاں کھڑا اپنی مٹھیاں بھینچ رہا تھا۔
‘اور دیکھو نا وہ سب چھین کر تمہارا دل نہیں بھرا جو تم نے میری محبت بھی مجھ سے چھین لی زرش کو میں نے چاہا تھا اپنی مہر لگائی اس پر ،چھ سال اسکا انتظار کیا،پل پل اسکو ہی اپنی آغوش میں سوچا اور تم۔۔۔۔۔تم نے اسے بھی چھین لیا مجھ سے۔۔۔ ‘
آر بی نے غصے سے چلا کر کہا اور پھر اپنی مٹھیاں بھینچ کر اپنا دھیان اس نازک وجود سے ہٹا کر وجدان کو دیکھا۔
‘لیکن اب میں رومان نہیں جو اپنی خواہش کے چھن جانے پر رو کر چپ کر جاؤں میں آر بی ہوں جو جو چاہتا ہے اسے حاصل کر کے ہی دم لیتا ہے۔۔۔۔۔اب تم دیکھو کے تمہاری آنکھوں کے سامنے کس طرح تمہاری محبت،تمہاری بیوی کی دھجیاں اڑاتا ہوں۔’
آر بی اتنا کہہ کر زرش کے قریب گیا ابھی اس نے اپنا ہاتھ زرش کی طرف بڑھایا ہی تھا جب اسکے کانوں میں وجدان کی آواز پڑی۔
‘تم غلط تھے آر بی۔۔۔۔تم میری وجہ سے یا ماما بابا کی وجہ سے تکلیف میں نہیں رہے تھے۔وہ تو تمہیں بھی بہت ذیادہ چاہتے تھے۔۔۔۔۔تم غلط تھے ۔۔۔۔۔میں نے تم سے کچھ نہیں چھینا تم ہی خیرات میں ملی چیز کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھے۔۔۔۔تم غلط تھے جو تم نے خود کو ایک شہزادہ تصور کر لیا ۔۔۔۔۔ حالانکہ تم تو صرف ایک نالی کے کیڑے ۔۔۔۔’
آر بی غصے سے چلایا اور آگے بڑھ کر وجدان کو اسکی ہڈی کے گریبان سے پکڑ لیا۔آر بی کی آنکھوں سے غصے اور نفرت کے شرارے نکل رہے تھے۔
‘نہیں۔۔۔سکندر نہیں۔۔۔میں کیا ہوں اسکا اندازہ تو تمہیں ابھی ہو جائے گا۔’
آر بی نے غصے سے وجدان کو کہا اور اسے ایک جھٹکے سے چھوڑ کر زرش کی طرف بڑھا۔وجدان کے لبوں پر خطرناک سی مسکان آئی۔
‘تم تو ابھی بھی غلط ہی ہو آر بی۔’
اس بات پر آر بی کے چلتے قدم رکے اور اس نے پلٹ کر سوالیہ نظروں سے وجدان کو دیکھا۔
‘میں وہ سکندر نہیں ہوں جس نے تمہارے آدمیوں کو مارا میں تو صرف وہ سکندر ہوں جسے تم نو سال کی عمر میں ہی مار چکے ہو ۔۔۔’
آر بی نے حیرت سے وجدان کو دیکھا۔
‘جھوٹ۔۔۔۔۔’
وجدان مسکرایا۔
‘تم غلط ہو آر بی یہ جھوٹ نہیں سچ ہے میں سکندر نہیں ہوں۔سکندر تو کوئی اور ہے۔۔۔۔’
وجدان نے مسکرا کر کہا آر بی کے ماتھے پر بل پڑے لیکن اس سے پہلے کہ وہاں موجود ہر شخص کچھ سمجھتا۔زمین پر کب سے پڑا وہ نازک وجود بہت تیزی سے اٹھا اور انتہائی زیادہ مہارت اور تیزی سے قریب کھڑے آدمیوں کی گردن میں گولی مار کر فوراً اپنا ریوالور آر بی کے ماتھے پر رکھ دیا ۔
آر بی کے آدمیوں نے ہڑبڑا کر اپنا دھیان وجدان سے ہٹا کر اس لڑکی پر کیا۔لیکن ہاتھ میں بندوق ہوتے ہوئے بھی وہ کچھ نہیں کر پائے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر اس لڑکی کو گولیوں سے چھلنی بھی کر دیں تو اسے مرنے سے پہلے ایک سیکنڈ نہیں لگے گا انکے باس کے دماغ میں گولی مارتے ہوئے۔
‘سکندر میں ہوں۔۔۔۔’
آر بی نے خوف اور حیرت سے سامنے کھڑی ہری آنکھوں والی اس لڑکی کو دیکھا جسکا صرف چہرہ ہی زرش کا تھا آنکھیں اور آواز نہیں۔پھر سامنے کھڑی لڑکی نے اپنے چہرے پر سے ماسک ہٹا کر آر بی کی یہ کنفیوژن بھی مٹا دی۔اس لڑکی کو آر بی نے نو سال کی عمر میں دیکھا تھا لیکن پھر بھی ایک سیکنڈ میں اسے پہچان گیا تھا۔گیارہ سال پہلے کا ہر واقعہ آر بی کی آنکھوں کے سامنے سے گزرا تھا۔
‘ع۔۔۔۔عشال درانی۔۔۔۔۔’
آر بی اپنے ماتھے پر بندوق دیکھ کر ڈر گیا ۔اس نے عشال کو دھکا دینے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو عشال نے ایک سیکنڈ کے وقت میں ریوالور اسکے سر سے ہٹا کر اسکے ہاتھ پر گولی ماری اور ریوالور کا رخ واپس اسکے سر کی طرف کر دیا۔آر بی تڑپ کر زمین پر گرا تھا اور پر خوف نگاہوں سے اپنے آدمیوں کو دیکھا کر اشارہ کیا۔
پہلی گولی کی آواز پر ہی عشال بہت تیزی سے ایک پلر کے پیچھے چھپی تھی۔جبکہ وجدان بھی آر بی کی گردن اور اسکے ہاتھ کو دبوچ کر اسے اپنی ڈھال بنا چکا تھا۔
تبھی اندھیرے میں سے پانچ آدمیوں نے نکل کر آر بی کے آدمیوں پر حملہ کر دیا جن میں سے ایک سعد بھی تھا جو اپنے ماہر نشانے سے ہر سامنے آنے والے آدمی کو ڈھیر کرنے لگا۔لیکن سعد کا دھیان اپنے پیچھے موجود آدمی پر نہیں گیا جو سعد کے سر کا نشانہ لے چکا تھا ۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ گولی چلاتا ایک گولی اس آدمی کی گردن کو چیر کر آر پار ہو گئی تھی۔سعد نے پہلے حیرت سے اپنے پیچھے ڈھیر ہونے والے اس آدمی کو دیکھا اور پھر اس نے گولی چلانے والے کو دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔وہ گولی کسی اور نے نہیں عشال نے چلائی تھی ۔سعد عشال اور اس آدمی کے فاصلے کو دیکھتے ہوئے عشال کے نشانے کو داد دیے بغیر نہیں رہ پایا تھا۔
آر بی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو گیا تھا۔آر بی کا جال تو بہت ذیادہ مظبوط تھا پھر کیسے وہ اس میں خود ہی پھنس گیا؟اور،اسکے اتنے آدمی باہر بھی تو موجود تھے انکا کیا وہ اندر کیوں نہیں آئے؟
‘باہر والوں کی فکر مت کرو وہ تو کب سے آرمی کے ہاتھ لگ گئے ہوں گے۔’
وجدان ہی بات پر آر بی حیران اور پریشان ہوا تھا۔تبھی آر بی کی نظر فیض پر پڑی جو سہم کر ہر چیز کو دیکھ رہا تھا اور پھر فیض کی نظر اپنے آپ کو گھورتے ہوئے آر بی پر پڑی۔
‘مم۔۔۔۔۔میں مجبور تھا باس ان سب کے پاس میرے بیوی بچے ہیں۔۔۔’
فیض نے سر جھکا کر کہا۔آر پہلے تو ضبط کر کے کھڑا رہا پھر غصے سے اپنی پوری طاقت لگا کر وجدان کو دھکا دیا اور جلدی سے فیض کے پاس جا کر اسکے ہاتھ سے بندوق چھین کر ایک گولی فیض کے دماغ میں ماری اور پھر فوراً اپنی بندوق کا رخ وجدان کی طرف کیا لیکن وہاں تو کوئی بھی نہیں تھا۔
تبھی بہت مظبوط ہاتھ نے پیچھے سے آر بی کی گردن کو دبوچا۔
‘بس بلو اب تیری ہر کوشش بے کار ہے۔ہار چکا ہے تو۔’
وجدان نے اسکو دھکا دیا آر بی نے فوراً بندوق آگے کر کے گولی چلانے کی کوشش کی تھی لیکن وجدان اس سے پہلے ہی گلے کے لاکٹ میں چھپایا ہوا وہ چھوٹا سا نوکیلا ہڈی کی مانن چاقو چین سے نکال کر آر بی کے بندوق والے ہاتھ میں گاڑ چکا تھا۔ایک دردناک چیخ کے ساتھ بندوق آر بی کے ہاتھ سے چھوٹی جسے وجدان نے پکڑ لیا تھا۔
‘تیری ہار تیرے سامنے ہے بلو۔۔۔’
وجدان کے مسکرا کے ایسا کہنے پر آر بی نے پریشانی سے ارد گرد دیکھا۔اسکا ہر آدمی مر چکا تھا۔کوئی بھی زندہ نہیں تھا سوائے آر بی کے۔
تبھی آر بی کی نظر عشال پر گئی جو وہ انتہائی زیادہ غصے سے آر بی کو دیکھ رہی تھی۔اسکی مظبوطی دیکھ کر آر بی حیران ہوا تھا۔
‘ایسے کیوں دیکھ رہے ہو آر بی ایک مظبوط عورت تم سے برداشت نہیں ہو رہی کیا؟۔۔۔ ہاں یاد ہے مجھے کہ تم نے کہا تھا کہ میں ایک لڑکی ہوں جو پیدا ہی کمزور ہوتی ہے کچھ نہیں کر پاؤں گی تمہارے خلاف سوائے تمہیں بدعا دے کر خاموش ہو جانے کے۔۔۔۔۔لیکن افسوس میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں ۔۔۔۔’
عشال انتہائی غصے سے آگے بڑھی اور آر بی کو گریبان سے پکڑ کر ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا۔آر بی نے خود کو بچانے کی کوشش کی تھی لیکن عشال بغیر کچھ دیکھے یا سوچے سمجھے آر بی کو پہلے اپنے ہاتھوں اور پھر اپنے پیروں سے مار رہی تھی۔
آر بی نے اپنے بچاؤ کی کوشش میں عشال کو کئ بار مارنے کی کوشش کی لیکن اسکی ہر کوشش ناکام رہی ۔عشال نے انتہائی زیادہ غصے کے عالم میں اپنا پیر آر بی کے پیٹ میں مارا جس سے آر بی تڑپ اٹھا۔
‘ہر گنہگار کا وقت آتا ہے آر بی تمہیں کیا لگا تھا کہ تم کبھی نہیں پکڑے جاؤ گے۔ہمیشہ اپنی خود غرضی میں دوسروں کو تکلیف پہنچاتے رہو گے۔’
عشال نے دور ہو کر اپنا ریوالور پھر سے آر بی پر تانا ۔کیا کچھ نہ تھا عشال کی آنکھوں میں نفرت ، غصہ ،تکلیف ،کرب۔۔۔
‘نہیں عشال۔۔۔۔’
وجدان کی بات پر عشال نے ایک نظر وجدان کو دیکھا اور پھر غصے سے اپنے ریوالور کا رخ بدل کر آر بی کی ٹانگ میں بھی گولی مار دی۔آر بی درد سے بلبلا اٹھا تھا آج سچ میں اسکے گناہوں کا گھڑا بھر چکا تھا۔
تبھی سعد بھی وہاں بھاگ کر آیا جو نا جانے کب سے یہ سب حیرت سے دیکھ رہا تھا اب اسکی حیرت کا سارا مرکز عشال تھی۔
وجدان نے آگے بڑھ کر آر بی کو گریبان سے جکڑا۔ خالی عشال نے ہی مار مار کر اسکی حالت خراب کر دی تھی۔
‘تت۔۔۔م کچھ ثابت نہیں کر پاؤ گے۔۔۔۔۔دو دن میں چھوٹ جاؤں گا میں جیل سے۔۔۔۔۔’
آر بی کی بات پر وجدان مسکرا دیا ۔
‘فکر مت کرو تم جیل نہیں جا رہے لیکن جہاں جاؤ گے نا وہاں دعا کرو گے کہ کاش میں جیل میں ہی ہوتا۔۔۔’
وجدان نے غصے سے کہا اور آر بی کا سر پکڑ کر بہت زور سے دیوار پر مارا خون کی ایک لکیر آر بی کے سر پر سے نکلی اس کے بعد وجدان نے اسے ویسے ہی مارا جیسے وجدان نے زرش کی کمر پر چوٹوں کے نشان دیکھے تھے۔کچھ دیر بعد ہی آر بی بے ہوش ہو چکا تھا۔وجدان غصے کے عالم میں اس سے دور ہوا۔
‘ہمیں اسے یہاں سے لے کر جانا ہو گا ورنہ یہ مر جائے گا۔’
وجدان نے مڑ کر سعد سے کہا لیکن سعد تو مسلسل عشال کو گھورنے میں مصروف تھا اور جواباً عشال بھی اسے ہی گھور رہی تھی
‘وجدان مجھے بتاؤ یار کیا سچ میں یہی سکندر ہے پلیز مجھے بتاؤ میں پاگل ہو جاؤں گا۔’
سعد نے بے چینی سے عشال کو دیکھتے ہوئے اپنی بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔
‘کیوں ایجنٹ جی آپکو ابھی بھی کوئی شک ہے ۔۔۔۔؟؟؟ ویسے دنیا میں صرف آپکا ہی نشانہ اچھا نہیں ہے۔’
عشال نے اسکی جان بچانے والے واقعے کر چوٹ کی۔
‘مطلب تم اتنا عرصہ ہمیں بے وقوف بناتی رہی یہ کہہ کر کہ سکندر تمہیں مارنا چاہتا ہے حالانکہ سکندر تم خود تھی۔’
سعد نے انتہائی ذیادہ حیرت سے کہا۔
‘سعد اس سب کا وقت نہیں ہے چلو یہاں سے۔’
وجدان کی بات پر سعد نے بہت مشکل سے اپنا رخ عشال پر سے ہٹایا اور وجدان کے ساتھ مل کر آر بی کو اسی خفیہ راستے سے نکالا جہاں سے چھے سال پہلے آر بی بھاگا تھا اور آج سعد چھپ کر وہاں سے داخل ہوا تھا۔وجدان نے آربی کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پھینکا اور دروازہ لاک کردیا۔عشال خاموشی سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی اور وجدان نے ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لی ۔
‘سعد وہیں پہنچو جہاں زرش ہے۔’
سعد کے اثبات میں سر ہلاتے ہی وجدان وہاں سے چلا گیا۔سعد کتنی ہی دیر وہاں کھڑا سوچتا رہا۔
کل ہی تو وجدان نے سعد کو یہ کہا تھا کہ اسے سکندر بن کر زرش کو گھر سے ہی کڈنیپ کرے اور عثمان کی ایک پرانی فیکٹری میں بند کرے۔سعد نے بہت ذیادہ حیرت سے وجدان سے اس سب کی وجہ پوچھی تو جواب میں وجدان نے اتنا ہی کہا تھا کہ سعد اس پر بھروسہ رکھے۔سعد نے زرش کو ڈرانےکے لیے جو کچھ کہا تھا اسے ایسا کہنے کے لیے وجدان نے ہی بولا تھا۔
سعد اس اب کی وجہ تو نہیں جانتا تھا لیکن اسے وجدان پر بھروسہ تھا۔حیران تو سعد تب ہوا جب وجدان کی بتائی ہوئی جگہ پر زرش کو بند کرنے کے بعد اسے وہاں عثمان بھی ملا ۔ زرش کو جس کمرے میں بند کیا گیا تھا وہاں پر طرف خفیہ کیمرے لگائے گئے تھے تا کہ اگر زرش کی طبیعت تھوڑی سی بھی خراب ہوتی تو وہ لوگ فوراً زرش کے پاس پہنچ سکتے۔
زرش کو اس کمرے میں بند کر کے سعد نے وجدان کو فون کر کے سب بتایا تو وجدان نے ہی اسے عثمان کے گارڈز کو لے کر اس جگہ پر بلایا اور وہاں کے بارے میں سب بتا دیا۔اسی لیے سعد اور گارڈز انتہائ خاموشی سے وہاں پر آ کر چھپ گئے تھے۔
عثمان نے وجدان کے کہنے پر ہی فیض کی بیوی اور بچوں کو اٹھوا لیا تھا اور پھر فیض نے ڈر کر انکی سلامتی کے لیے آر بی کا تمام پلین وجدان کو بتا دیا جس میں وجدان نے الٹا آر بی کو ہی پھنسا دیا تھا۔
شایان بھی وجدان کے بتانے پر ہی وہاں آرمی لے کر پہنچا تھا۔آرمی نے مقابلہ کر کے باہر موجود تمام آدمیوں کو پکڑ لیا تھا لیکن زمین کے اندر موجود خفیہ جگہ کہ بارے میں وہ لوگ کچھ نہیں جانتے تھے اسی لیے باہر موجود تمام دہشتگردوں کو آرمی پکڑ چکی تھی ۔
وجدان کا پلین بہت ذیادہ اچھا تھا اور انہیں کامیابی بھی حاصل ہوئی تھی مگر ایک بات سعد سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ عشال کیوں اور کیسے سکندر ہو سکتی ہے۔مقصد کیا تھا اسکا؟ اور وہ کیوں آر بی سے اتنی نفرت کرتی ہے؟سعد کو اس بات کا تو اندازہ ہو ہی گیا تھا کہ عشال کوئی بے وقوف سی نازک مزاج لڑکی نہیں ہے جیسا کہ وہ دکھاوا کرتی رہی۔لیکن وہ ایسی کیونکر بنی اور اسے ضرورت کیوں پیش آئی؟
بہت سے سوال سعد کے ذہن میں گردش کر رہے تھے جن کا جواب صرف وجدان یا عشال ہی دے سکتے تھے۔
‘یار اتنا عرصہ اس لڑکی نے ہم ایجنٹس کو بے وقوف بنایا۔کہاں کہاں ڈھونڈتے رہے ہم اس سکندر کو اور دوسری طرف سکندر کی حفاظت بھی خود ہی کرتا رہا میں۔۔۔۔۔میں نے اس بات پر غور کیوں نہیں کیا کہ پہلے سکندر کا شکار جو لوگ ہوتے تھے وہ ملک کے مختلف حصوں میں ہوتے لیکن جب سے عشال ہمارے ساتھ آئی تو لوگ وہیں مرنے لگے جہاں ہم جاتے تھے۔کوہاٹ زیارت ۔اف اب پتہ چلا اسکے ہر وقت موبائل اور ٹیب پر وقت گزارنے کی وجہ عشال ہیکر ہے اور اپنے شکار کی ساری انفارمیشن وہ آن لائن ہی حاصل کر لیتی ہے۔اسی لیے رات دیر تک جاگ کر دن دو دو بجے تک سوتی رہتی تھی کیونکہ ہمارے سونے کے بعد وہ شکار کر کے واپس بھی آ جاتی تھی۔۔۔۔۔افففف کبھی اسکا سامان کیوں نہیں چیک کیا میں نے اور نہ ہی ک
اسکا موبائل وغیرہ۔۔۔۔’
سعد نے یہ سب سوچتے ہوئے اپنے بال بے چینی سے نوچے۔
‘اس قدر چالاک نکلی یہ پٹاخہ اففف تیرا کیا ہو گا سعدے۔۔۔۔’
سعد اتنا سوچ کر مسکرا دیا وہاں کھڑی بائیک پکڑ کر وہ بھی انکے پیچھے چلا گیا۔