64.4K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

وجدان زرش کو لے کر اس چھوٹے سے گھر میں واپس آیا جو انہوں نے کچھ دن کے لیے کرائے پر لیا تھا۔سعد جو کافی دیر سے وجدان کا انتظار کر رہا تھا اسکے دروازہ کھٹکھٹاتے ہی دروازے کی طرف چل دیا۔جب اس نے وجدان کے ساتھ زرش کو دیکھا تو ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ جلدی سے انہیں اندر بلایا۔
‘زرش تم ٹھیک ہو گڑیا؟’
سعد نے پریشانی سے پوچھا ۔جبکہ زرش کے ذکر پر ہی عشال بھاگ کر دروازے کے پاس آئی اور زرش کو کھینچ کر اپنے گلے لگا لیا۔زرش بھی کسی کا سہارا پا کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔وجدان دروازے کو لاک کر کے اندر داخل ہوا۔زرش کے وہ آنسو اس سے برداشت نہیں ہو رہے تھے وہ نہیں جانتا تھا کہ ان آنسوؤں میں اسکا کون کون سا درد چھپا تھا۔
Hey little doll stop crying or I am going to kill that bast……”
عشال کافی غصے میں تھی بہت مشکل سے اس نے اپنے آپ کو وہ جملہ مکمل کرنے سے روکا۔
‘عشال تم اسے کمرے میں لے جاؤ اور کوئی گرم کپڑے دو اسے پہننے کے لیے۔’
عشال ہاں میں سر ہلا کر زرش کو دوسرے کمرے میں لے گئی۔
‘کہاں سے ملی وہ تمہیں؟’
سعد نے پریشانی سے پوچھا۔
‘یہ سب اتنا بھی ضروری نہیں ہے سعد زیادہ ضروری چیز اس وقت زرش کی حفاظت ہے اور ہمیں اسی کا خیال رکھنا ہو گا۔’
سعد نے اثبات میں سر ہلایا۔
‘وہ ٹھیک تو ہے نا؟’
پتہ نہیں بس ایک بت کو چلا کر اپنے ساتھ لایا ہوں میں کچھ نہیں جانتا کہ اسکے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔’
سعد وجدان کی آواز میں چھپی پریشانی محسوس کر سکتا تھا۔
‘وجدان ہمیں زرش سے پوچھ کر آر بی پر حملہ۔۔۔۔۔’
‘کوئی فائدہ نہیں ہے سعد وہ ایک بزدل انسان ہے ابھی تک تو وہ یہاں سے چلا بھی گیا ہو گا لیکن اسکی پہنچ کافی ذیادہ ہے اس کا مطلب بہت سے لوگ زرش کو ڈھونڈ رہے ہوں گے۔’
سعد کو وجدان کی بات میں مصلحت نظر آئی۔
‘پھر ہمیں جلد از جلد زرش کو یہاں سے لے کر جانا ہو گا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سے نکلنا بہت زیادہ مشکل ہے۔یہ مشکل کام آرمی کی مدد سے بہت آسان ہو جاتا لیکن اب ہم دونوں ہی اس کا حصہ نہیں ہیں۔ ‘
سعد کے لہجے میں افسوس تھا کیونکہ سعد کو اپنے وطن اور فوج سے بہت ذیادہ پیار تھا،اپنی جان سے بھی ذیادہ لیکن اپنی دوستی کی خاطر یہ سب چیزیں قربان کر کے سعد نے دوستی کی مثال قائم کی تھی اور ایسا ہی اس نے شایان کی باری بھی تو کیا تھا۔
‘ہم شایان سے کانٹیکٹ کرتے ہیں شاید وہ کچھ کر پائے۔’
سعد کی بات پر وجدان نے کچھ دیر غور کیا اور پھر جیب سے اپنا موبائل نکالا جس پر سروس بلکل بھی نہیں تھی۔
‘ضرور ان لوگوں نے اس علاقے کی تمام سروسز بند کر دیں ہیں تا کہ ہم کسی سے بھی رابطہ نہ کر سکیں۔’
وجدان کی بات پر سعد نے مٹھیاں کسیں۔
‘تو اسے نقاب کروا کر یہاں سے لے جاتے ہیں اپنے ساتھ۔’
سعد نے ایک اور حل بتانا چاہا۔
‘مگر یہاں کے پولیس والے بھی آر بی کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جن تین لوگوں سے آج میں بھڑا ان میں سے ایک پولیس والا تھا۔اسکو تو میں نے زندہ چھوڑ دیا مگر باقی اتنے خوش قسمت نہیں نکلے۔’
وجدان نے ضبط سے مٹھیاں کسیں۔
‘پھر اب؟’
‘ہم یہاں سے نکلنے کی مکمل کوشش کریں گے بس کے ذریعے اور اگر کسی نے ٹانگ اڑائی تو اس سے خود ہی نمٹ لیں گے۔لیکن اگر کوئی بھی مسلہ ہوا تو تم اور عشال اس میں نہیں پڑو گے۔ان لوگوں نے تم دونوں کو نہیں دیکھا اس لئے خاموشی سے چلے جانا اور پھر وادی کے اختتام پر ایک ہائی وے ہے جہاں ایک اکلوتا چائے ولا ہے وہاں ملنا مجھے دو دن بعد ٹھیک صبح دس بجے اور اگر نہیں ملوں تو اس سے اگلے دن ۔ایسا دس دن تک کرتے رہنا۔’
سعد نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔
‘اور اگر نہیں۔۔۔۔۔۔۔’
‘فکر مت کرو سعد میں تمہیں ضرور ملوں گا۔وعدہ رہا۔’
وجدان کی بات پر سعد نے اثبات میں سر ہلایا۔
‘خدا کرے اس سب کی نوبت ہی نہ آئے۔’
سعد وہاں سے چلا گیا تو وجدان نے اس کمرے کی طرف دیکھا جہاں کافی دیر سے زرش گئی ہوئی تھی۔اسے ڈھونڈ تو لیا تھا لیکن اب اسکے پاس جانے کی ہمت ہی نہیں کر پا رہا تھا۔اپنا کہا ہر لفظ،ہر جملہ اسکے کانوں میں گونج رہا تھا۔کافی دیر وجدان باہر بیٹھا اس دروازے کو دیکھتا رہا تھا۔تبھی عشال کھانے کی خالی ٹرے لے کر باہر آئی۔
‘سنو۔۔۔۔’
‘بتاؤ۔’
عشال بلکل اسی کے انداز میں بولی۔
‘کیسی ہے وہ؟کچھ بتایا اس نے؟’
عشال اسے پھر سے کافی باتیں سنا دیتی اگر اس نے اسکے لہجے میں چھپی پریشانی نہ محسوس کی ہوتی تو۔
‘کچھ بتایا تو نہیں اس نے لیکن کافی زیادہ ڈری ہوئی ہے۔آئی تھنک آپ خود جا کر اس سے پوچھیں گے تو وہ اپنی فیلنگز بہتر طریقے سے بتا سکے گی۔آخر بیوی ہے آپکی’
عشال کی بات پر وجدان نے گہرا سانس لیا۔
‘مجھے ایسا نہیں لگتا۔’
Really?
آپ لوگ عورتوں کو کہتے ہیں کہ ہمارا دماغ گھٹنوں میں ہوتا ہے ۔شاید ایسا ہوتا بھی ہو۔لیکن آپ مردوں کا دل تو یقیناً گھٹنوں میں ہوتا ہے جزبات کو سمجھتے ہی نہیں ہیں۔’
وجدان اسے خطرناک آنکھوں سے گھور رہا تھا لیکن اسکے باوجود عشال کا چلتا منہ بند نہیں ہوا تھا۔
‘قسم سے آپ سے نا جزبات اور دل کی بات کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔’
عشال اپنی بات کہہ کر غصے سے وہاں سے چلی گئی اور وجدان وہاں بیٹھ کر دروازے کو دیکھتا رہا۔
‘سچ میں ابھی تک یہیں ہیں آپ۔قسم سے اب تو مجھے یہ لگ رہا ہے کہ بھینس کے آگے بین بجانا زیادہ بہتر تھا۔’
وجدان نے اس پٹاخہ کو غصے سے دیکھا۔
‘تمہاری زبان کچھ زیادہ ہی بے لگام نہیں ہوتی جا رہی؟’
وجدان نے اسے اپنی خطرناک سبز آنکھوں سے زیر کرنے کی کوشش کی مگر عشال نے اپنی ہری آنکھیں اسکی آنکھوں میں بہادری سے گاڑھیں۔
‘میری زبان کو لگام لگا ہی کب تھا؟’
عشال نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے اسے دیکھا اور سعد کے پیچھے چلی گئی۔جبکہ وجدان کافی دیر بیٹھ کر یہ سوچتا رہا تھا کہ کیسے وہ اسکے دکھ کا اور کرب کا اندازہ لگائے کیسے معلوم کرے کہ وہ ٹھیک تو ہےاتنا تو وہ جانتا تھا کہ زرش سے دور رہنا اب اسکے بس میں نہیں۔جس پتھر کو زرش نے اپنی محبت سے صرف اور صرف اپنے لئے موم بنایا تھا وہ اب زرش کی محبت کا طلبگار ہو چکا تھا۔
پھر کافی دیر باہر بیٹھے سوچنے پر ایک ترکیب وجدان کے ذہن میں آئی تھی جس کی بنا پر وہ اسکی کیفیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اسکی حرکت یا تو مقابل کو بہت ذیادہ ڈرا دے گی یا غصہ دلا دے گی اور وجدان دعا کرتا تھا کیفیت دوسری والی ہی ہو۔
🌈🌈🌈🌈
زرش کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح سے وہ اس قید خانے سے نکل آئی تھی۔اپنوں میں آ گئی تھی۔لیکن اسکا یہ مطلب تو نہیں تھا نا کہ اسکی مشکلات ختم ہو چکی تھیں۔آر بی کے الفاظ اسکے ذہن میں گھوم رہے تھے کہ کوئی بھی مرد گھر سے باہر رہنے والی عورت کو نہیں اپناتا۔تو کیا سچ میں وجدان اسے طلاق دے دے گا؟یہ سوچتے ہی زرش پھر سے رونے لگی۔وہ صبح سے اس کے پاس بھی تو نہیں آیا تھا ایک بار بھی اس سے اسکا درد جاننے کی کوشش نہیں کی وہ ابھی بھی بلکل پہلے جیسا ہی سنگ دل تھا تو پھر وہ یہاں کیا کر رہا تھا؟
یہ سب سوچ کر زرش کو وجدان پر مزید غصہ آنے لگا تھا۔ہاں وہی تو بے وقوف تھی نا جو اپنے آپ کو یوں اس کے سامنے پیش کرتی رہی اسکے پتھر دل سے سر پھوڑتی رہی۔لیکن اب ایسا نہیں ہو گا۔زرش نے بہت بے دردی سے اپنے آنسو صاف کیے اور خود سے عہد کیا کہ اسے اب وجدان کی بے رخی یا کسی بھی عمل سے فرق نہیں پڑے گا۔لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکا پتھر دل محبوب کیا سوچے بیٹھا ہے؟اپنے خیالات میں اس قدر محو تھی کہ اسے دروازہ کھلنے اور لاک ہونے کی آواز ہی سنائی نہیں دی۔
‘کس کی اجازت سے گئی تھی تم گھر سے باہر؟’
وجدان کی گرج دار آواز پر زرش چونک کر اسے دیکھنے لگی اور اسکی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر خوف کے عالم میں بیڈ کراؤن سے جا لگی۔
‘جواب دو کیوں نکلی تھی تم گھر سے باہر؟’
وجدان کا لہجہ کافی سخت تھا اور اس لہجے کے زیر اثر زرش مزید ڈر گئی تھی۔
آپ نے ہی کہا تھا جانے کو۔
زرش نے گھبراتے ہوئے اشارہ کیا تو وجدان طوفان کی تیزی سے اسکے پاس آیا اور اسے کندھوں سے تھام کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔زرش لڑکھڑا کر اسی کے سہارے کھڑی ہو گئی ۔وہ دونوں اتنے قریب تھے کہ زرش اسکی سانسوں کی گرماہٹ اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی۔زرش حیرت سے اپنی آنکھیں بڑی کیے وجدان کو دیکھنے لگی۔
‘پاگل لڑکی کمرے سے نکلنے کو کہا تھا میں نے گھر سے نہیں۔سراپا امتحان بنی ہوئی تھی تم میرے لیے۔دل کی دنیا ہلا گئی تھی تم۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا کہ کیسے تمہیں دور کرتا اسی لیے کہا وہ سب ۔’
وجدان نے اسے مزید اپنے قریب کیا تو زرش کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ایک نیا سا احساس اسکے دل میں اجاگر ہوا۔خوف کی جگہ اب گھبراہٹ نے لے لی تھی۔
‘اب بتا رہا ہوں اگر پھر کبھی ایسا کچھ کیا نا تو ٹانگیں کاٹ دوں گا تمہاری تا کہ چھوڑ کر جانا تو دور کی بات ہے ہل بھی نہ پاؤ اپنی جگہ سے ۔’
زرش آنکھیں بڑی کیےاسے دیکھ رہی تھی۔وہ اسے بہت کچھ سنانا چاہتی تھی اسے پوچھنا چاہتی تھی کہ کس حق سے وہ یہ باتیں کر رہا ہے۔یہ رشتہ تو ایک مزاق تھا نا اسکے لیے۔ لیکن وجدان نے اسے یہ سب پوچھنے کا موقع ہی کہاں دیا تھا اسکے دونوں ہاتھ تو وجدان کی گرفت میں تھے جنہیں وہ چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔وجدان کی نظر اسکے ماتھے پر موجود کافی گہرے زخم پر پڑی جو ضرور بہت زور سے کسی چیز کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے آیا تھا اور اب کافی حد تک بھر چکا تھا لیکن پھر بھی وہ وجدان کے اندر ابلتے غصے کے لاوے کو مزید بھڑکا گیا تھا۔
‘وعدہ کرتا ہوں نور اسے میں جہنم سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا اور پھر تمہاری ہر تکلیف کا مداوا کرنا ہو گا اسے اپنی آخری سانس تک۔اسکی زندگی ہی جہنم سے بھی بدتر بنا دوں گا۔’
زرش وجدان کے غصے کا اندازہ اسکی آواز سے لگا سکتی تھی لیکن پریشان تو وہ اس بات پر تھی کہ جیسا آر بی نے کہا تھا ویسا تو کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا وجدان اسے ڈانٹ کر گھٹیا نہیں کہہ رہا تھا تو کیا آر بی نے جھوٹ کہا تھا؟
اچانک ہی وجدان نے اپنے دہکتے لب زرش کے ماتھے پر موجود چوٹ پر رکھے تو زرش اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آئی اور گھبرا کر وجدان کو دیکھنے لگی۔جو اب اسے ماتھے سے اپنے ہونٹ ہٹا کر اسکے گال پر موجود آر بی کے دیے تھپڑ کے نشان پر رکھ چکا تھا۔اسکے بعد جب وجدان نے وہاں سے بھی اپنے لب ہٹا کر اسکے ہونٹ کے پاس بنے زخم پر رکھ دیے تو زرش نے کانپتے ہوئے اپنی آنکھیں موند لیں اور اپنے ہاتھوں کو وجدان کے سینے پر رکھ کر اسے خود سے دور کرنے لگی جبکہ وجدان تو بے خود سا ہوا اسکے ہر زخم پر اپنے پیار کا مرہم لگا رہا تھا جیسے اسکی ہر تکلیف کو اپنے ہونٹوں سے چن رہا ہو۔
زرش کو تو لگ رہا تھا کہ اسکی سانسیں ہی تھم جائیں گی۔وہ کہاں وجدان کی اس قدر قربت کی عادی تھی۔جب اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیسے وجدان کو خود سے دور کرے تو گھبرا کر اپنے لب کاٹنے لگی جبکہ اسکی اس حرکت پر وجدان کی نظر ان سرخ لبوں پر ٹھہر سی گئی۔
‘تم نے اس سینے میں موجود پتھر کو دھڑکنا سیکھایا ہے نور آئندہ مجھ سے دور مت جانا ورنہ یہ دھڑکتا دل رک جائے گا۔’
وجدان نے بوجھل سے لہجے میں کہا زرش آنکھیں بند کیے اسکی سانسوں کی گرمائش اپنے ہونٹوں کے بہت قریب محسوس کر رہی تھی اور اسی وجہ سے اسکی سانس اب مکمل طور پر سینے میں اٹک گئی تھی۔وہ اسکی بولتی آنکھوں اور معنی خیز باتوں کو نہیں سمجھ پا رہی تھی۔
‘ابھی تو پیار سے سمجھایا ہے جان وجدان اگلی بار تم نے دوری کا سوچا بھی نا تو اسکی سزا کے لیے بھی تیار رہنا۔’
وجدان نے اسکی بند آنکھوں اور دہکتے گالوں کو دیکھ کر مسکرا کر کہا اور اسے چھوڑ کر دور ہو گیا۔جو وہ جاننا چاہتا تھا اسکی قربت میں جان چکا تھا۔یہ خدا کا کرنا ہی تھا کہ وہ جس طرح سے وجدان کے پاس سے گئی تھی اسی طرح سے واپس بھی آئی تھی۔اس دیو کی قید میں بھی خدا نے اسکی اور اسکی معصومیت کی حفاظت کی تھی کیونکہ ایسا نہ ہوتا تو ابھی اسکے چہرے پر شرم و حیا کی سرخی کی بجاۓ خوف و ہراس کی سفیدی ہوتی۔
وجدان کا دل کر رہا تھا کہ وہ ابھی اسی وقت خدا کے سامنے سجدہ شکر میں گر جائے۔وجدان کے دور ہوتے ہی زرش نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے پہلے سے گلابی چہرے کو خفگی سے سجا کر اسے دیکھا۔
آپ آئندہ بلکل بھی میرے قریب مت آئے گا آپ مجھے بلکل بھی اچھے نہیں لگتے۔اب کس محبت کی بات کر رہے ہیں یہ سب تو صرف سمجھوتا اور مزاق تھا نا آپکے لیئے تو پھر اب میری تکلیف اور دوری سے کیا فرق پڑتا ہے آپکو؟
زرش نے روتے ہوئے اسے اشارہ کیا تو وجدان سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے دیکھنے لگا۔وہ اسکی باتیں مکمل طور پر نہیں سمجھ سکا تھا لیکن اسکی آنکھوں میں موجود شکوے دیکھ کر سب سمجھ گیا تھا۔
‘اور اس محبت کا کیا جانم جسکے سوال تم نے مجھ سے کیے تھے؟
وجدان کے لہجے میں بلا کا اطمینان تھا ۔
ختم ہو گئی وہ محبت آپکے لفظوں نے بہت زیادہ بے دردی سے مار ڈالا تھا میری محبت کو ۔
زرش نے شکوہ کنا بھیگی آنکھوں سے وجدان کو دیکھا جو اب بہت بے چینی سے اسکی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسوؤں کو دیکھ رہا تھا۔زرش کی بات اسکے دل کو بہت تکلیف دے گئی تھی لیکن وجدان نے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔اتنا تو وہ جانتا تھا کہ وہ زرش کے اسی سلوک کے قابل ہے۔
‘مرہم بھی میں ہی بنوں گا نورِ خان۔تمہارے دل کے ہر زخم کو اپنی بے پناہ محبت سے بھروں گا۔اتنا عشق کروں گا تم سے کہ میری محبتوں سے پناہ مانگو گی تم۔وعدہ ہے یہ اس دل کا نور جسے تم نے دھڑکنا سکھایا ہے۔
وجدان نے اچانک سے زرش کے قریب آ کر اسکے گال کے ساتھ اپنا گال لگایا تو زرش کانپتے جسم کے ساتھ جلدی سے اس سے دور ہوئی۔گھبراہٹ کے مارے اسکی پلکیں اور لب پھڑپھڑا رہے تھے اور اس حالت میں وہ وجدان کے دل میں ہلچل پیدا کر رہی تھی۔
ناراض ہوں میں آپ سے بہت ذیادہ ناراض ۔دور ہو جائیں آپ مجھ سے۔
اس سے دور ہوتے ہی زرش نے اشارہ کیا تو اس دور ہونے والی بات وجدان کو بلکل بھی پسند نہیں آئی اسی لیے اس نے زرش کو دیوار کے ساتھ لگا کر اپنی قید میں لے لیا۔زرش ابھی بھی آنکھیں بڑی کیے اسکے بدلے ہوئے تیور دیکھ رہی تھی۔لیکن اسکی آنکھوں میں موجود جنون سے بہت زیادہ گھبرا بھی رہی تھی۔
‘ناراض ہو کوئی بات نہیں تمہیں ہزار مرتبہ مناؤں گا لیکن یہ دور جانے والی بات آئندہ غلطی سے بھی مت کرنا سمجھی۔’
اتنا کہہ کر وجدان نے اپنے دہکتے لب اسکے ماتھے پر رکھے تو زرش کانپ کر رہ گئی۔لیکن اگلے ہی وجدان اس سے دور ہو کر ایک دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھنے لگا۔زرش کی پلکیں بھیگی تھیں۔
اگر مجھ سے محبت نہیں کرتے تو کیوں کر رہے ہیں یہ سب؟
زرش نے روتے ہوئے سوال کیا وہ بھلا کیسے وجدان کے نفرت بھرے وہ سب الفاظ بھلا دیتی۔
‘تمہیں یہ لگتا ہے کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا؟
وجدان کے حیرت سے پوچھنے پر زرش نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔وجدان نے گہرا سانس لے کر خود پر قابو کیا تھا۔
‘خود کو تھوڑا مظبوط تو کر لو جان وجدان پھر تمہیں اپنی محبت کا اندازہ اور دیدار سب کروا دیں گے لیکن ابھی تم اس کے لیے بہت نازک ہو۔’
وجدان کے لہجے میں موجود بے خودی اور تڑپ محسوس کر کے زرش نے گھبراہٹ کے مارے اپنا ہاتھ بہت زوروں سے دھڑکتے دل پر رکھا۔
‘آرام کرو نور پھر ہمیں کل ہی یہاں سے جانا ہے۔’
اسکی بند نگاہوں کو دیکھتے ہوئے وجدان نے اتنا ہی کہا اور وہاں سے چلا گیا۔زرش نے آنکھیں کھول کر خالی کمرہ دیکھا تو سکھ کا سانس لیا۔
🌈🌈🌈🌈
آدھی رات کے وقت ہلکی پھلکی برفباری میں کالے کپڑوں میں ملبوس وہ وجود زیارت کے اس مخصوص گھر کی طرف جا رہا تھا۔خبر تو پکی تھی آر بی کا ٹھکانا یہی تھا۔اس نے اس محل نما گھر کے قریب پہنچتے ہی اپنا چہرہ بھی کالے رومال سے ڈھانپ لیا اور کافی مشکل سے اس اونچی دیوار کو پھلانگ کر اس گھر کی حدود میں داخل ہوا۔
گھر اس وقت اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا جیسے وہاں پر کوئی بھی موجود نہ ہو۔ شاید اسکا انکشاف صیح تھا وہ لوگ یہاں سے جا چکے تھے اور اگر ایسا تھا تو اسکا یہاں آنا بے مقصد تھا۔
‘یہیں مل جانا آر بی تمہاری موت آسان ہو جائے گی۔’
اس نے اپنی پینٹ کی جیب سے بندوق نکال کر کہا اور سبز آنکھوں میں وحشت لیے وہ وجود آگے بڑھنے لگا۔ایک کھڑکی کو کافی مہارت سے کھول کر وہ وجود اندر داخل ہوا اور ارد گرد دیکھ کر اپنے مقصد کی چیزیں ڈھونڈنے لگا۔
مگر افسوس کی بات تو یہ تھی کہ پورا کا پورا گھر خالی تھا وہاں اسے کچھ بھی ایسا نہیں ملا جو اسکے کام آ سکے۔
‘اے کون ہے تو وہیں رک جا۔’
ایک آدمی کی آواز پر کالے کپڑوں میں ملبوس شخص اپنی جگہ پر ساکت ہوا ۔
‘کون ہے تو اور یہاں کیا کر رہا ہے؟’
اس شخص نے کافی غصے سے پوچھا تو ایک پل کو تو وہاں خاموشی رہی اور پھر فضا میں سراسرتی سی آواز آئی۔
‘سکندر۔۔۔۔’
کالے کپڑوں میں ملبوس اس وجود نے پلٹ کر اس آدمی کو دیکھا۔
‘جھوٹ بلکل جھوٹ سکندر تو۔۔۔۔’
ابھی اسکے الفاظ مکمل طور پر ادا بھی نہیں ہوئے تھے جب اچانک ہی سکندر نے اپنی بندوق اٹھا کر انتہائی تیزی اور درست نشانے کے ساتھ پہلے ایک گولی اسکے بندوق تھامے ہاتھ اور پھر دوسری گولی اسکی ٹانگ میں مار دی۔اتنا تو سکندر بھی سمجھ ہی چکا تھا کہ یہ بے بس آدمی اس گھر میں بلکل اکیلا تھا۔
‘آر بی کہاں ہے؟’
سکندر نے انتہائی غصے کے عالم میں فرش پر پڑے اس آدمی کو گریبان سے پکڑ کر پوچھا۔
‘نن۔۔۔۔۔نہیں جانت۔۔۔۔۔’
سکندر نے اسے مزید بولنے کا موقع دیے بغیر ہی گولی دوسری ٹانگ میں بھی مار دی۔جس سے وہ شخص کراہ اٹھا۔
‘آر بی کہاں ہے؟’
اس مرتبہ سکندر کے لہجے میں بے پناہ غصہ تھا مگر افسوس کی بات تو یہ تھی کہ اتنی سی تکلیف سے ہی وہ شخص بے سدھ ہو چکا تھا۔سکندر نے اسکی گردن پر ہاتھ رکھ کر معائنہ کیا۔وہ شخص مر چکا تھا۔
‘ناکارہ۔۔۔۔’
سکندر نے غصے سے اسے زمین پر پھینکا اور باہر کی طرف چل دیا۔دیوار کو پھر سے کافی مشکل سے پھلانگ کر وہ باہر آیا اور وہاں سے جانے لگا۔
‘سکندر الفاظ درانی۔۔۔۔’
ایک جانی پہچانی آواز سکندر کی سماعتوں سے ٹکرائی تو سکندر کے چلتے قدم رکے اکسا دل ایک پل کو دہلا تھا۔
‘کب تک چھپو گے تمہیں کیا لگا تھا کہ میں سچ کبھی نہیں جان پاؤں گا؟’
سکندر اب کی بار مڑا ۔سبز آنکھیں بلکل ہی اپنے جیسی سبز آنکھوں سے ٹکرائی تھیں لیکن اچانک ہی سکندر نے اپنی بندوق اٹھائی اور سامنے موجود شخص کے سر کا نشانہ بنا کر گولی چلا دی جو بلکل اسکے کان کے پاس سے گزر کے پیچھے موجود دیوار کو لگی لیکن اس سے پہلے کہ وہ شخص اس سے سمبھلتا سکندر نے وہاں سے دوڑ لگا دی اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔سکندر کا نشانہ کبھی بھی نہیں چوکا تھا مگر اس آدمی کو مارنا اسکا مقصد نہیں تھا کیونکہ سکندر اچھے لوگوں کا دشمن نہیں۔
🌈🌈🌈🌈
صبح زرش کی آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں بلکل اکیلی تھی۔وجدان کی باتوں کو یاد کر کے وہ بہت زیادہ کنفیوز ہو رہی تھی لیکن اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسکی باتوں میں نہیں آئے گی پھر سے اپنی محبت اور جزبات کا مذاق نہیں بننے دے گی۔زرش یہ تو نہیں جانتی تھی کہ اب وجدان یہ سب کیوں کر رہا ہے لیکن اتنا ضرور جانتی تھی کہ اب وہ اتنی آسانی سے اسے معاف نہیں کرے گی۔
‘تم اٹھ گئی۔اچھا ہے چلو اب ہمیں جلدی نکلنا ہے۔’
عشال نے اس کے سامنے آ کر اسے جیکٹ،گرم شوز،دستانے اور ایک عبایہ پہننے کو دیا۔ فجر کا وقت ہو رہا تھا اور وجدان کو لگ رہا تھا کہ یہ وقت یہاں سے جانے کے لیے بہترین رہے گا۔زرش نے اثبات میں سر ہلایا اور جلدی سے وہ سب پکڑ کر پہننے لگی۔وہ بہت زیادہ ڈر بھی رہی تھی کیونکہ نہیں جانتی تھی کہ وہ لوگ یہاں سے کیسے نکلیں گے۔
‘چلو آؤ جلدی سے دیر ہو رہی ہے۔’
سعد نے دروازے میں آ کر کہا تو عشال نے زرش کا ہاتھ تھاما اور اسکے ساتھ باہر آ گئی۔
زرش نے سعد کو دیکھا جو اپنے ہمیشہ والے حلیے میں ہی تھا لیکن وجدان کالی شلوار قمیض پر بلوچی ٹوپی پہنے اور سکن کلر کی مردانہ چادر اوڑھے بہت ذیادہ مختلف اور انتہائی ذیادہ خوبرو لگ رہا تھا۔ایک پل کے لئے تو زرش بھی اسکی وجاہت میں اس قدر کھو کر رہ گئی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب عشال وہاں سے چلی گئی تھی اور اسکی جگہ وجدان اسکے بلکل سامنے آ کر کھڑا تھا۔
‘صرف تمہارا ہی ہوں نورِ خان ساری زندگی دیکھتی رہنا ابھی زرا دیر ہو رہی ہے۔’
وجدان نے مسکراتے ہوئے سرگوشی کی تو زرش اپنی حرکت کو پرکھتے ہوئے دہکتے رخساروں کے ساتھ اس سے دور ہوئی اور پھر اسکو مسکراتے دیکھ کر اپنا منہ پھلا کر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عشال کے پاس چلی گئی۔
‘زما بې ګناه مینه’ (میری معصوم محبت)
وجدان نے انتہائی محبت سے کہا اور پھر ان کے پیچھے چل دیا۔برفباری کی وجہ سے کافی دیر کے بعد انہیں ایک بس ملی وہ لوگ اس میں سوار ہو گئے۔زرش وجدان کے عقب میں بیٹھی تھی۔سعد اور عشال ان دونوں سے کافی فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔سارا راستہ زرش ان سب کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگتی رہی تھی وہ اب اس مصیبت سے نکلنا چاہتی تھی۔اچانک گاڑی رکی تو زرش خوف سے کانپتے ہوئے وجدان کے قریب ہوئی اور اپنا کپکپاتا ہاتھ وجدان کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
‘ڈرو مت انہیں شک ہو جائے گا۔میں تمہارے ساتھ ہوں تمہیں کچھ بھی نہیں ہو گا۔’
وجدان نے اسکا کانپتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے کر اسکا خوف کم کرنا چاہا لیکن زرش اسے کیسے بتاتی کہ وہ اسی کے لئے تو خوفزدہ ہے۔اگر اسکی وجہ سے اسکے مسیحا کو کچھ ہو گیا تو زرش بھی مر جائے گی۔کچھ دیر بعد کچھ لوگ بندوقیں ہاتھوں میں تھام کر بس میں چڑھے اور پوری بس کا جائزہ لینے لگے۔زرش آنکھیں بند کیے آیات کا ورد کر رہی تھی۔
‘اے تم باہر آؤ۔۔۔۔۔۔۔’
اس آدمی نے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا لیکن زرش یہ الفاظ سن کر بری طرح سے کانپنے لگی تھی اور اسکی یہ حرکت اس آدمی کی آنکھوں سے چھپی نہیں رہی تھی۔
‘تم دونوں بھی آو باہر۔’
اس نے وجدان اور زرش کی طرف اشارہ کیا۔وجدان نے ایک گہرا سانس لیا اور زرش کا ہاتھ تھام کر اٹھنے لگا۔عشال یہ منظر دیکھ کر مٹھیاں بھینچے وہاں سے اٹھنے لگی تو سعد نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
‘نہیں۔’
سعد کے منع کرنے پر عشال نے اسے گھور کر دیکھا۔
‘لیکن۔۔۔۔۔’
‘ششش خاموش رہو۔’
سعد کی گرفت اسکے ہاتھ پر مظبوط ہو گئی۔
‘بزدل۔’
عشال نے اسے ایک نئے لقب سے نوازا۔تبھی وجدان زرش کا ہاتھ تھام کر بس سے باہر نکل گیا۔
‘کون ہے یہ؟’
بس میں سے باہر آتے ہی ایک آدمی نے سختی سے پوچھا تو زرش ڈر کر وجدان کے پیچھے چھپی۔
‘بیوی ہے ہمارا۔۔۔۔۔’
وجدان نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔
‘نقاب ہٹاؤ اسکا۔’
وجدان کے ماتھے پر بل پڑے۔
‘اس سے پہلے ہم تیری آنکھیں نکال دے گا۔’
وجدان کا لہجہ مکمل طور پر بلوچی تھا۔اس آدمی نے ایک بندوق وجدان کی کن پٹی پر رکھی۔
‘جو کہا ہے نا کر ورنہ یہ کام میں تجھے مار کے بھی کر سکتا ہوں۔’
لیکن پھر بھی وجدان کی آنکھوں میں زرہ برابر بھی خوف نہیں تھا۔زرش وجدان سے اس طرگ سے چپک رہی تھی جیسے اسکے اندر ہی چھپ جائے گی۔وجدان نے بھی اسکا ہاتھ سختی سے پکڑا اور پھر اپنے سامنے موجود شخص کو دیکھا۔
‘ٹھیک ہے لیکن چہرہ صرف تو دیکھے گا باقی سب نہیں۔’
وجدان نے نظروں سے ہی باقی چار بندوں کی طرف اشارہ کیا۔اس آدمی نے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا اور باقی لوگوں کو پلٹنے کا کہا۔انکے پلٹتے ہی وہ زرش کے قریب آیا اور جیسے ہی اسنے اپنا ہاتھ زرش کے نقاب کی طرف بڑھایا وجدان نے اسکی گردن کے گرد ہاتھ ڈال کر اسکی گردن کو ایک جھٹکے سے توڑ کر اسے چھوڑا اور زرش کا ہاتھ تھام کر سڑک کے ساتھ موجود جنگل میں بھاگ گیا۔
وہ لوگ اپنے ساتھی کے زمین بوس ہونے کی آواز پر پلٹے اور جلدی جلدی سے وجدان اور زرش کے پیچھے بھاگنے لگے۔جبکہ بس تو ان لوگوں کے جاتے ہی وہاں سے چلی گئی۔زرش وجدان کی رفتار سے بھاگنے کی مکمل کوشش کر رہی تھی لیکن اس برف میں ایسا کرنا ناممکن تھا۔اسکا پاؤں برف میں دھنس جاتا تو اسے واپس کھینچنا بہت زیادہ مشکل ہوتا۔لیکن وہ ان لوگوں کے پیچھے آنے کی آواز بھی سن سکتی تھی۔
بہت اچانک وجدان نے ایک درخت کے پیچھے زرش کو چھپایا اور خود بھی اسکے ساتھ اس درخت کی اوٹ میں ہو لیا۔
‘یہ کہاں غائب ہو گئے۔’
ان لوگوں نے قدموں کے نشان دیکھنا چاہے تھے جو کہ تیزی سے گرنے والی برف نے چھپا دیے تھے۔
‘یہیں ہوں گے یہاں سے دور نہیں جا سکیں گے۔انہیں ڈھونڈو اور باقیوں کو بھی خبر کرو کہ لڑکی یہیں پر ہے۔سردار نے جیسا کہا تھا ویسا ہی ہو گا۔وہ یہاں سے نہیں نکل پائیں گے۔ ‘
اس آدمی نے ہاں میں سر ہلایا اور پھر وہ لوگ چاروں طرف پھیل گئے۔وجدان نے ان پر سے نظریں ہٹا کر زرش کو دیکھا جس پر سے اسکا نقاب ہٹ کر کہیں گر چکا تھا اور اب وہ اپنے کھلے بالوں کر ساتھ وجدان کے سینے میں منہ چھپائے کھڑی تھی۔
‘وہ لوگ چلے گئے ہیں۔’
وجدان نے آہستہ سے کہا تو زرش نے آنسوؤں سے بھری کانچ سی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔شاید وہ اس دنیا میں واحد ایسی آنکھیں تھیں جن کی خوبصورتی میں آنسو بے پناہ اضافہ کر دیتے تھے۔لیکن پھر بھی وجدان کو وہ آنسو بلکل بھی پسند نہیں تھے۔وجدان کو چھوٹی چھوٹی بات رونے والی لڑکیوں سے سخت چڑ تھی۔لیکن زرش کی آنکھ سے نکلا ایک ایک آنسو اسکے لیے باعث اذیت ہوتا تھا۔
‘کچھ نہیں ہو گا تمہیں۔صیح سلامت واپس پہنچو گی اپنے گھر یہ وعدہ ہے میرا۔’
وجدان نے بہت نرمی سے اسکے بہتے آنسو اپنی انگلیوں کے پوروں پر چن لیے۔
‘چلو۔۔۔۔۔’
وجدان نے اسکا ہاتھ تھاما اور گھنے جنگل کی طرف چل دیا۔اتنا تو وہ سمجھ چکا تھا کہ سیدھے راستے سے انکا یہاں سے نکلنا ناممکن تھا۔اس لئے اسے یہ کام مشکل طریقے سے کرنا ہو گا۔