Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
سیدھے سادے نکاح کی بات ہوئی تھی۔یہ سب کیا ہے؟’
وجدان نے کوفت سے اپنی گولڈن اور سکن کلر کی شیروانی کے بٹن بند کرتے ہوئے کہا۔شایان نے اسکو مسکرا کر دیکھا۔
‘کیا مسلہ ہے یار اتنے اچھے تو لگ رہے ہو تم اس میں۔’
شایان کی بات پر وجدان نے ایک نگاہ اپنے آپ کو آئنے میں دیکھا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اس شیروانی میں وجدان بے انتہا خوبرو لگ رہا تھا۔چھے فٹ سے بھی زیادہ قد،کسرتی جسامت،سرخ وسفید رنگت پر درمیانی سی داڑھی کے ساتھ وہ پہلے ہی بہت زیادہ خوبرو تھا۔اس سب پر اسکی وہ سرد سبز آنکھیں،جن میں آج تک کوئی جھانک نہیں سکا تھا۔اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگانے کے لیے کافی تھیں۔
‘بہت ذیادہ نفرت ہے مجھے اس فضول کے دکھاوے سے اور تو اور بابا بھی اس میں شامل نہیں ہو رہے۔’
وجدان نے غصے سے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھ کر کہا۔
‘ان سے بات کر لی ہے میں نے تمہیں پتہ ہے کہ وہ بات اور مجبوری سمجھ جاتے ہیں۔اچھا چل اب دیر ہو رہی ہے۔’
شایان اسے ساتھ آنے کا کہہ کر خود آگے چل دیا تھا۔وجدان کو وہ اب بلکل ہی ایک الگ انسان نظر آتا تھا۔ایک خوش باش زندگی سے بھرپور انسان اور اس تبدیلی کا باعث جانان کی محبت ہی تو تھی۔تو کیا وجدان بھی اس طرح سے بدل سکتا۔۔۔۔۔۔۔ کبھی نہیں۔شایان کے اندر چھپے ہوئے جزبات پہلے سے موجود تھے جن کو جانان نے آ کر پھر سے جگا دیا ہے۔لیکن وجدان کے اندر نہ تو کوئی جزبہ تھا اور نا ہی اسکے دل میں محبت پانے کی کوئی چاہ تھی۔ان سب چاہتوں کا گلا تو وہ بچپن میں ہی گھونٹ چکا تھا۔
ایک گہرا سانس لے کر وجدان باہر کی طرف چل دیا۔وہ دوستی کی خاطر یہ سمجھوتا کرنے کے لیے تیار تھا۔باہر آتے ہی وجدان کی پہلی نظر زرش پر پڑی تھی۔جو اس سنہری عروسی لباس میں آسمان سے اتری ہوئی پری لگ رہی تھی۔شایان مسکرا کر وجدان کے پاس آیا اور اسے ساتھ چلنے کا کہا۔
‘سعد کہاں ہے؟’
‘آ جائے گا کچھ ہی دیر میں تم جلدی سے یہ سب ختم کرواؤ الجھن ہو رہی ہے اب مجھے۔’
وجدان نے کوفت سے اپنی شیروانی کی طرف دیکھا۔
‘چلیں نکاح شروع کرتے ہیں۔’
شایان نے کہا تو سلمان صاحب بھی اثبات میں سر ہلانے لگے۔
‘زرش شیخ ولد سلمان شیخ آپکا نکاح وجدان خان ولد ہاشم خان کے ساتھ حق مہر پانچ لاکھ روپے سکہ رائج الوقت طہ پایا ہے۔کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے؟’
نکاح خواں کے سوال پر زرش کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگی تھیں۔خوف اسکے پورے وجود کو بچھو کی ماند ڈسنے لگا تھا۔
‘آر بی کو ہو تم۔۔۔۔صرف میری ملکیت ہو۔۔۔۔تمہارے جسم پر مہر لگی ہے میرے نام کی۔۔۔۔جس نے تمہارے بارے میں سوچا بھی نا اسکی زندگی جہنم سے بھی بدتر کر دوں گا میں اور ساتھ ہی ساتھ تمہاری بھی۔’
زرش کے ذہن میں کسی کی باتیں گونج رہی تھیں اور ان باتوں کے زیر اثر زرش خوف سے کانپنے لگی تھی۔
‘زرش بیٹا۔۔۔۔۔۔۔جواب دو۔۔۔۔۔’
سلمان صاحب کی آواز پر زرش ایک جھٹکے سے اپنے سب سے ذیادہ ڈراؤنے خواب سے باہر نکلی تھی۔اس نے ایک نظر اٹھا کر اس طاقتور مرد کو دیکھا تھا جسکے ہاتھوں میں وہ اپنی زندگی کی ڈور سونپنے لگی تھی۔اپنے ہونے والے شوہر کی ان سرد سی سبز آنکھوں میں جھانک کر زرش کا خوف غائب ہو گیا تھا۔ایک سکون سا اسکے دل میں اترنے لگا تھا۔جیسے کہ وہ نگاہیں اس سے وعدہ کر رہی تھیں ۔اسے یقین دلا رہی تھیں کہ اب کوئی بھی اسکو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ان سبز آنکھوں کے سحر میں مبتلا ہو کر زرش نے ہاں میں سر ہلایا تھا اور پھر سامنے رکھے گئے نکاح نامے پر اپنے دستخط کر دیے تھے۔
جبکہ وہ معصوم نہیں جانتی تھی کہ اسکے مثبت جواب پر اسکے ہونے والے شوہر کی رگیں غصے سے تن گئی تھیں۔اس مجبوری اور سمجھوتے کے رشتے کو نبھانے کا خیال ہی اس شخص کو زہر سے بھی بد تر لگ رہا تھا۔اسکا دل کر رہا تھا کہ اسے قبول کرنے والی اس لڑکی کا چہرہ تھپڑوں سے لال کر دے اور اس کے بعد پوچھے کہ کیا وہ اسے اب بھی قبول ہے؟
زرش سے جواب پا کر نکاح خواں وجدان کی طرف متوجہ ہوا اور زندگیوں کو جوڑنے والا وہی سوال وجدان سے پوچھنے لگا۔
‘ ارے واہ یہاں تو شادی ہو رہی ہے۔۔۔۔۔آپ بتا دیتے ایجنٹ جی اچھے کپڑے ہی پہن آتی میں۔اب بھلا کوئی ڈینم میں بھی شادی دیکھتا ہے۔’
وجدان کے جواب دینے سے پہلے ہی ایک چہکتی ہوئی آواز انہیں سنائی دی تو سب حیرت سے سامنے کھڑی عشال کو دیکھنے لگے۔جبکہ سعد اسکا سامان تھامے گھر میں داخل ہو رہا تھا۔
‘ارے آپ لوگ رک کیوں گئے۔میں نے کونسا کسی ڈرامے کی طرح آ کر شادی روک دی ہے۔کیری آن۔۔۔’
جانان نے عشال کو مسکرا کر دیکھا۔آخر بعد میں ان دونوں کی خوب محفل جمنی تھی۔کبھی کبھار ہی تو جانان کو کوئی ایسا انسان ملتا تھا جس سے وہ مقابلے پر باتیں کر سکے۔
‘قبول ہے۔’
وجدان نے ایک گہرا سانس لے کر جواب دیا تھا اور پھر وہی جواب اس نے تین مرتبہ دہرا دیا۔
‘واہ واہ دلہے میاں تو بڑا شرما رہے ہیں اور شرمائیں بھی کیوں نا اتنی چاند سی دلہن جو مل گئی ہے۔’
عشال کی بات پر جانان اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی تھی۔
‘تھوڑی دیر اپنا موٹر کی طرح چلتا ہوا منہ بند کر لو ورنہ اس دلہے میاں نے کھڑے کھڑے ہم دونوں کو گھر سے نکال دینا ہے۔’
سعد اسکے کان میں غرایا کیونکہ وجدان کو وہ مٹھیاں کستے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔
‘مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ایجنٹ جی ہم دونوں کے رہنے کا انتظام آپ نے کرنا ہے اس لیے اس سب کی فکر آپ خود کریں۔’
عشال سعد کو دو ٹوک جواب دے کر آگے بڑھ گئی تھی۔
‘ میرا سامان مت گم کر دیجئے گا۔ورنہ اپنی سیلری میں سے شاپنگ کروائیں گے مجھے۔’
عشال نے ایک پل کو رک کر سعد کو کہا اور پھر مسکراتے ہوئے جانان کی طرف چل پڑی جو اسے پاس آنے کے اشارے کر رہی تھی۔
‘یا اللہ اپنے بندوں کی قوت برداشت بڑھانا۔’
سعد نے گہرا سانس لے کر اپنے اور وجدان کے لئے دعا کی۔
🌈🌈🌈🌈
نکاح کی رسم کے بعد جانان اور عشال زرش کو اسکے کمرے میں لے گئی تھیں۔سعد نے عشال کو بتا دیا تھا کہ وہ زرش کے ساتھ اسی کے کمرے میں رہے گی اور اس بات پر عشال کافی خوش بھی تھی۔
‘یہاں تو سادا سا نکاح ہو رہا تھا اور میں شادی سمجھ کر ایویں خوش ہو رہی تھی۔’
عشال نے منہ بسور کر کہا تو جانان ہنسنے لگی۔گلابی رنگ کی شلوار قمیض میں وہ خود بھی ایک دمکتا گلاب لگ رہی تھی۔
‘وجدان بھائی دا کریلا کا نکاح تھا اتنا بھی بہت زیادہ ہے اس بندے کے لیے۔’
جانان نے زرش کا گرارہ سمبھالتے ہوئے اسے بیڈ پر بیٹھایا تھا۔
‘ویسے بہت ہی کیوٹ بندی ہو تم جانان۔’
عشال نے جانان کے پاس آ کر اسکے بھرے بھرے گالوں کو کھینچا تو زرش مسکرا دی۔جانان کا معصوم سا حسن اسے سب سے مختلف بناتا تھا۔
‘نہیں جی کیوٹ تو میری زری ہے اور آج تو ماشااللہ یہ چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہے۔’
جانان نے بہت محبت سے زرش کے دہکتے ہوئے گالوں کو چھوا۔
‘دلہن صاحبہ آپ بھی کچھ بول لو یا کوئی منت مانگی تھی کہ نکاح ہو جائے گا تو ایک مہینے تک خاموش رہو گی۔’
عشال کی بات پر جہاں جانان کے لبوں کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی وہیں زرش نے اپنا سر شرمندگی سے جھکا لیا تھا۔
‘زری بول نہیں سکتی۔۔۔۔’
جانان نے آہستہ سے عشال کو بتایا تو عشال کو اپنی بے باکی پر افسوس ہوا تھا۔
‘آئی ایم سوری یارا مجھے نہیں پتہ تھا۔۔۔۔’
عشال نے اپنے ہاتھ زرش کے ہاتھوں پر رکھے تو زرش نے ہاں میں سر ہلا دیا۔تبھی اچانک سے انکے کمرے کا دروازہ بجنے لگا۔
‘گڑیا شایان کب سے ڈھونڈ رہا ہے تمہیں اور اب تو اسے غصہ بھی آنے لگا ہے تم جلدی سے پہنچو اس کے پاس۔’
جانان کے دروازہ کھولتے ہی سعد شروع ہو گیا تھا۔شایان کے جانان کہاں ہے والے سوال کو کوئی دس مرتبہ سن کر وہ اب اکتا چکا تھا۔
‘انکا غصہ تو میں ٹھنڈا کرتی ہوں نا۔۔۔’
جانان جلدی سے باہر کی طرف چل دی۔سعد بیڈ پر بیٹھی زرش کو دیکھ کر مسکرایا۔وہ نہیں جانتا تھا کہ وجدان شادی کے لئے کس طرح سے مان گیا لیکن اب وہ چاہتا تھا کہ وجدان بھی شایان کی طرح اپنی زندگی میں سیٹ ہو جائے اور اسی کی طرح خوش رہے۔سعد کو امید تھی کہ سامنے بیٹھی وہ لڑکی یہ کر سکتی تھی۔
‘کیا مسلہ ہے آپکے ساتھ ایجنٹ جی یہاں کسی نے ایلفی لگا کر چپکا دیا ہے کیا جو یوں جم کر کھڑے ہو گئے ہیں۔جائیں اپنے بے کار سے کام کریں۔’
عشال اچانک سے سعد کے سامنے آئی تھی اور اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر سعد کو ٹھیک ٹھاک سنا گئی تھی۔
‘لڑکی اپنی حد میں رہو تم۔’
سعد نے اس چھوٹی سی پٹاخہ کو گھور کر کہا۔
‘میری حد کی فکر چھوڑو ایجنٹ جی اور جا کر نہ اس سکندر کی حد کا دھیان رکھو یہی نہ ہو کہ صبح کمرے میں میری جگہ پہ صرف میری گردن ملے آپکو۔اس لئے مہربانی ہو گی آپکی یہ کام دھیان سے کر لینا زندگی بہت پیاری ہے مجھے اپنی۔’
اتنی بات کہہ کر عشال اسکے منہ پر دروازہ بند کر چکی تھی جبکہ سعد اپنے دانتوں کو پیستا رہ گیا تھا۔
‘مرچی کہیں کی۔’
سعد کی آواز پر دروازے کے پاس کھڑی عشال نے بہت مشکل سے اپنے قہقہے کو روکا تھا۔پھر زرش کی طرف متوجہ ہو گئی۔
‘بھئی تم کیوں اپنا آپ تھکا رہی ہو چینج کر لو۔پتہ نہیں یہ سب برداشت بھی کیسے کر رہی ہو تم۔۔۔۔۔یا پھر سیاں جی کو اپنے حسن کا دیدار عشقم کروانے کی ناتواں خواہشات دل نادان میں پروان چڑھ رہی ہیں؟’
عشال کے اسطرح ڈرامائی انداز میں بات کرنے پر زرش کھلکھلا دی۔
‘کہتی ہو تو بلا لوں سیاں جی کو یہاں؟’
عشال کے سوال پر زرش پوری طرح سے سرخ ہو گئی تھی۔زرش نے جلدی سے انکار میں سر ہلایا۔
‘تو پھر میری پیاری بہن کپڑے بدلو اور بوجھ کم کرو اپنا۔’
عشال نے جلدی سے اسے اٹھا کر کھڑا کیا تو زرش اپنا گرارہ سمبھالتے ہوئے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔سامنے موجود آئینے میں اپنا عکس دیکھا تو خودی حیران ہو گئی ۔وہ تو سچ میں بہت اچھی لگ رہی تھی۔گلابی رنگت کو سنہری لباس بہت نمایاں کر رہا تھا۔جبکہ مناسب میک اپ نے اسکے نین نقش کو مزید خوبصورت بنا دیا تھا۔
‘ہاں ہاں ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔اب اپنے آپ کو خود کی نظر ہی نہ لگا دینا۔اس طرح سے دیکھنے کا کام تم سیاں جی پر چھوڑ دو۔’
عشال نے دروازے میں کھڑے ہو کر کہا اور پھر لڑکوں کی طرح زرش کو دیکھتے ہوئے سی ٹی بجانے لگی۔جبکہ وجدان کے ذکر پر زرش کا دل بہت تیزی سے دھڑکا تھا۔لیکن ایسا خوف کی وجہ سے نہیں ہوا تھا۔وہ تو آج بے تحاشا خوش تھی آخر اس کے خوابوں کے شہزادے اس کے مسیحا کو اسکے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا جسکا صرف خیال ہی زرش کا ہر دکھ اسکی ہر تکلیف مٹا دیتا تھا۔ہاں وہ خوش تھی اور اتنا خوش وہ پورے چھے سال کے بعد ہوئی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
وجدان کی رہی سہی نیند بھی اڑ گئی تھی وہ ساری رات نہیں سو سکا تھا۔رات کا ذیادہ تر وقت اس نے اپنی جم میں ہی گزارا تھا۔ایک عجیب سی بے چینی تھی اسے آخر وہ زندگی سے نفرت کرنے والا شخص اپنی زندگی کسی کے ساتھ جوڑ بیٹھا تھا ۔
پنچنگ بیگ پر مکوں کی برسات زوردار تھی۔اسکا ایسا غصہ بس تنہائی میں ہی باہر آتا کیونکہ دینا کے لیے وہ ایک انتہائی سرد، بے تاثر سا انسان تھا۔مگر اندر جزبات،غصے اور غم کا ایک لاوا ابلنے کو تیار تھا۔اسکا گزرا ہوا بد تر وقت اسکی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چل رہا تھا۔
اسکا یہ سفاک روپ تنہائی کے سوا کبھی کسی نے نہیں دیکھا صرف تنہائی نے ہی تو سیکرٹ ایجنٹ وجدان خان کا وحشی روپ دیکھا تھا اور صرف تنہائی ہی اسکے درد کی ہم راز تھی۔
‘خان ایک انسان نہیں آگ ہے جو سب کچھ جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔تم اسے قید نہیں کر پاؤ گے وجدان۔تم ہمارا حصہ ہو آرمی کا نہیں اور یہ تم بہت جلد سمجھ جاؤ گے کہ تم کسی کی غلامی کے لیے نہیں بنے۔’
ایک پرانے دوست کے کہے ہوئے الفاظ اسکے زہن میں گھوم رہے تھے۔
‘فجر کا ٹائم ہو گیا ہے سوچا تمہیں بتا دوں۔’
شایان دروازے میں کھڑے ہو کر وجدان کو دیکھ رہا تھا۔وجدان اسے اپنے جیسا ہی لگتا تھا دراب کا عکس۔لیکن شایان جانتا تھا کہ اس شخص کے سینے دراب سے بھی زیادہ راز اور طوفان چھپے ہیں۔
‘تم اپنی بیوی کی فکر کرو اکیلے میں جاگ گئی تو چلانے لگے گی۔’
وجدان دوبارہ سے ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر پھر سے پنچنگ بیگ پر مکوں کی برسات کرنے لگا۔
‘بیوی تو تمہاری کہیں ذیادہ ڈرپوک ہے’
شایان نے ایک آنکھ دبا کر شرارت سے کہا۔وجدان کے تاثرات پل بھر میں بدلے تھے۔
‘مجبوری سے بڑھ کر کچھ نہیں وہ۔صرف ایک سمجھوتا ہے اور یہ بات تم مت بھولنا۔’
وجدان نے کافی سختی سے کہا تھا۔
‘میں تو یاد رکھوں گا میرے دوست لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم یہ نہ بھول جاؤ۔’
شایان نے مسکرا کر کہا۔
‘دراب خان نہیں ہوں میں۔’
وجدان کی بات پر شایان قہقہہ لگا کر ہنسا۔
‘پھر تو وجدان خان کی ہمت قابل دید ہو گی۔’
وجدان نے سر جھٹک کر اپنی شرٹ اٹھائی اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
‘جیسے ایک معصوم کی محبت نے میری زندگی میں سکون شامل کر دیا ۔میری دعا ہے کہ اسی طرح وہ معصوم بھی تمہاری زندگی کی خوشیاں اور تمہارے چہرے کی مسکراہٹ کو واپس لے آئے۔تم دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہو وجدان۔اسے تمہاری ضرورت ہے اور تمہیں اس کی۔’
شایان نے خود میں سرگوشی کی اور مسکرا کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
💖💖💖💖
انکا نکاح ہوئے تین دن ہو چکے تھے لیکن اس وقت میں بات کرنا تو دور وجدان اور زرش کا ایک مرتبہ سامنہ بھی نہیں ہوا تھا۔اسکی وجہ سے زرش کافی افسردہ بھی تھی۔اس سبز آنکھوں والے مسیحا کو دیکھ کر جو سکون زرش کے دل میں اترتا تھا وہ زرش روزانہ چاہتی تھی لیکن وہ بے درد سجن کبھی اس کے سامنے ہی نہیں آیا تھا اور نہ ہی زرش کبھی اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی۔
‘تم یہاں کیا کر رہی ہو سب باہر بیٹھے ہیں اور تم یہاں تنہا ہو۔کیوں بھلا۔’
جانان زرش کے پاس آئی تو زرش نے منہ بسور لیا۔ابھی صبح ہی تو زرش کو پتہ چلا تھا کہ جانان کل واپس جا رہی ہے کیونکہ شایان کو اپنی ڈیوٹی پر واپس جانا تھا۔
‘ارے میری جان ناراض تو نہیں ہو نا مجھ سے میں پھر جلدی آ جاؤں گی واپس اور پھر ہم مل کر حمنہ آپی کے پاس چلیں گے۔’
جانان نے زرش کا گال چوم کر کہا مگر وہ زرش کی ناراضگی کم نہیں کر پائی تھی۔
‘اچھا چلو اب باہر آؤ میں اور عشال ٹیرس پر جا رہے ہیں۔’
زرش نے ہاں میں سر ہلایا اور جانان کے پیچھے چل دی مگر تب ہی اسکے کانوں میں اپنے شوہر کی آواز پڑی تو اس کے قدم بے ساختہ طور پر رکے جبکہ جانان اس پر دھیان دے بغیر جا چکی تھی۔زرش بھی وہاں سے جانا چاہتی تھی لیکن اس کی ایک جھلک دیکھنے کی چاہ نے زرش کے قدم اس کمرے کی جانب بڑھائے۔دروازے کے پیچھے چھپ کر زرش ان تینوں دوستوں کو دیکھنے لگی جو اس سے بے خبر اپنی باتوں میں مگن تھے۔
‘اگر تمہیں ملک یا محبت میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو کسے چنو گے؟’
شایان نے اپنے آرمی کے بیج کو فخر سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔اسی اعزاز کو واپس پانے کے لیے اس نے اتنی محنت کی تھی۔
‘اپنے ملک کو ۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ ‘
سعد نے ایک سیکنڈ کا وقت لگائے بغیر جواب دیا۔سعد وطن کی خاطر کچھ بھی کر سکتا تھا۔
‘اور تم کیا چنو گے ایجنٹ وجدان خان۔۔۔؟’
شایان نے دلچسپی سے وجدان کو دیکھا جو بے زاری سے اپنی پسٹل صاف کرتا ان کو برداشت کر رہا تھا۔
‘دونوں ہی نہیں۔۔۔۔محبت تو میں کسی سے بھی نہیں کرتا اور ملک سے میرا کوئی لینا دینا نہیں۔’
وجدان نے اپنی گن کو پاکٹ میں رکھا۔
‘تو پھر آرمی کا شعبہ کیوں چنا تم نے؟’
سعد نے حیرانی سے اس سرد محر شخص کو دیکھا جس کے چہرے پر کبھی کوئی تاثر آیا ہی نہیں تھا۔
‘موت پانے کے لیے آرمی میں آیا تھا میں۔کیونکہ مجھے بزدلوں کی طرح حرام کی نہیں بلکہ بہادروں والی حلال کی موت چاہیے۔’
وجدان کی خواہش سعد اور شایان کو شش و پنج میں مبتلا کرنے کے لیے کافی تھی۔
‘اور اگر تمہیں محبت ہو گئی تو۔’
اس سوال پر وجدان نے ایک ابرو اچکا کر شایان کو دیکھا۔
‘تو دعا کرنا کہ وہ لڑکی پہلے ہی مر جائے۔۔۔۔۔ورنہ میری محبت اسے بہت بے دردی سے مار ڈالے گی۔’
وجدان بے تاثر چہرے سے اپنی بات کہہ چکا تھا جبکہ باہر کھڑی لڑکی کا معصوم سا دل وہ اپنی بات سے چکنا چور کر چکا تھا۔وہ معصوم جسے دل و جان سے چاہنے لگی تھی وہ اسی کی موت کا خواہشمند تھا اور یہ بات زرش کے دل کو سینکڑوں ٹکڑوں میں بکھیر چکی تھی۔آنسؤں سے بھری ایک نگاہ وجدان پر ڈال کر وہ وہاں سے واپس چلی گئی۔
💖💖💖💖💖
جانان اور شایان واپس اپنے گھر جا چکے تھے۔لیکن زرش اب اتنا بھی تنہا محسوس نہیں کر رہی تھی کیونکہ عشال اسکا بہت زیادہ خیال رکھتی۔سب سی اچھی بات تو یہ تھی کہ عشال اشاروں کی زبان بہت اچھے سے سمجھ سکتی تھی۔اس لڑکی نے زرش کو تنہائی کا احساس ایک پل کے لئے بھی نہیں ہونے دیا تھااور اب تو زرش بھی اس سے کہنے لگی تھی کہ وہ اسکی بیسٹ فرینڈ ہے۔
‘اچھا ایسی بات ہے تو جاؤ میرا بچہ بیسٹ فرینڈ کے لئے ایک بڑھیا سی کافی بنا کر لاؤ تا کہ مجھے بھی تو پتہ چلے کہ میری فرینڈ کتنے پانی میں ہے۔’
زرش نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا اور جلدی سے باہر نکل گئی۔اپنی ہڑبڑی میں اسے سامنے سے آتا وجدان بھی دیکھائی نہیں دیا تھا اسی لیے تو وہ بری طرح سے اسکے سینے سے ٹکرائی اور گرنے کے خوف سے اپنی آنکھیں بہت زور سے میچ گئی۔
‘آنکھیں کھولو نہیں گری تم۔’ وجدان کی سنجیدہ سی آواز اسکے کانوں میں پڑی تو زرش نے صرف ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھا اور پھر گھبرا کر اس سے دور ہوئی۔
مجھے معاف کر دیں مجھے پتہ نہیں چلا۔
زرش نے گھبراہٹ میں جلدی سے اشارہ کیا جو وجدان کو بلکل بھی سمجھ نہیں آیا۔
‘کیا؟’
وجدان کے سوال پر زرش مزید کنفیوز ہو گئی۔
‘وہ کہہ رہی ہے کہ اپنی آنکھیں کھلی چھوڑ کر چلا کریں آپکی تو خیر ہے لیکن اس زور۔دار ٹکر سے آپکی معصوم بیوی کی ہڈی پسلی ایک ہو جانی تھی۔’
عشال نے دروازے میں کھڑے ہو کر اپنی ہی بات سنائی جبکہ زرش مسلسل انکار میں سر ہلا رہی تھی۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکا شوہر ناراض ہو جائے ابھی تو زرش یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اسے منائے گی کیسے۔
‘کوئی بات نہیں اور دھیان سے دیکھ کر چلا کرو۔’
وجدان نے کوفت سے زرش کو کہا اور عشال کو تو وہ مکمل طور پر نظر انداز کر گیا تھا اور یہ عشال کو کہاں گوارہ تھا۔
‘اور وہ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اپنا سڑیل سا سستا ایٹیٹیوڈ کسی کو بیچ دیں۔فری کی چیزیں سر پہ سوار نہیں۔۔۔۔’
اونچی آواز میں چلاتی عشال کے منہ پر زرش نے اپنا ہاتھ رکھ کر اسکا منہ بند کروایا تھا۔
‘کیا ڈولی اس کھڑوس کو مزہ تو چکھانے دیتی نہ جانے کیا سمجھتا ہے خود کو۔’
عشال ابھی بھی اسی راستے کو گھور رہی تھی جہاں وجدان گیا تھا۔
تم انہیں ناراض کر دیتی تو میں کیسے مناتی۔
زرش نے غصے سے اشارہ کیا تو عشال کے لبوں پر پہلے ایک ٹھرکیوں والی سی ٹی اور پھر ایک دلفریب مسکان آئی۔
‘آئے ہائے بڑا خیال ہے انکی ناراضگی کا ۔خیر تھی پیار سے منا لیتی انہیں دل خوش ہو جانا تھا انکا بھی۔’
زرش نے شرما کر اپنا سر جھکا لیا۔
‘ایسے گزارہ نہیں چلنا ڈالی اس شخص کو اپنی موجودگی،اپنی اہمیت کا احساس دلاؤ یار ۔نہیں تو یہ ایسا ہی رہے گا۔اپنے کمرے اور اپنے آپ سے باہر نکلو اور اپنی زندگی پر دھیان دو زری اسے سمبھالنے کے لئے تمہیں محنت کرنی پڑے گی۔’
عشال اسے سمجھا کر خود واپس کمرے میں چلی گئی جبکہ زرش وہیں کھڑی اس کی باتوں پر غور کر رہی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
وجدان ان دنوں میں سکندر کے بارے میں پتہ لگانے کی کوشش کر چکا تھا جسکا کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا تھا۔یہ سکندر جو بھی تھا وہ انتہائی ذیادہ چالاک دماغ کا مالک تھا۔
‘تو پھر کیا پتہ چلا ہے اس سکندر کے بارے میں؟’
سعد کے سوال پر وجدان نے کافی دیر سوچا تھا۔
‘کچھ خاص نہیں۔لیکن یہ شخص جو کوئی بھی ہے بلکل اکیلے کام کر رہا ہے۔اسکا کسی بھی کریمنل یا ٹیرریسٹ سے کوئی لینا دینا نہیں۔کوئی بھی اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔اور تو اور جہاں کہیں بھی اس سکندر نے کسی کو مارا ہے وہاں کا سارا نیٹورک ،سی سی ٹی وی،ہیک کر کے اس وقت بند کر دیے گئے تھے۔جسکی وجہ سے ایک ہلکی سی بھی فوٹیج نہیں ہے اس کی۔’
وجدان کافی گہری سوچ میں بول رہا تھا۔
‘فون کا کیا؟یہ سکندر بہت سے لوگوں کو فون سے ہی بلیک میل کرتا رہا ہے نا۔’
سعد نے حیرانی سے پوچھا۔
‘جس بھی موبائل سے فون کرتا رہا ہے وہ چوری کے تھے۔ہر ایک موبائل اور ہر واردات کے بعد موبائل کو پھینک کر نیا موبائل چورا لیتا۔ویسے بھی کوئی بھی قتل سکندر نے براہراست نہیں کیا بلکہ ہر ایک کو خود کشی پر مجبور کیا ہے۔’
وجدان کی آنکھوں میں مخصوص چمک آئی تھی جو کسی چیز کو سراہنے پر ہی آتی ہے۔
‘اس سب کا مطلب؟’
سعد کی دلچسپی میں بھی مزید اضافہ ہو گیا۔
‘مطلب صاف ہے۔ایک سال میں صرف پندرہ لوگوں کی جان اس نے اسی وجہ سے لی ہے کیونکہ وہ پہلے اپنے شکار کے ہر پہلو پر نظر رکھتا ہے اور پھر اسکی کمزوری ڈھونڈ کر اسے اپنی طاقت بناتا ہے۔جیسے دارا اپنی طاقت استعمال کرتا تھا یہ اپنا دماغ استعمال کرتا ہے۔’
‘اور وہ کمزوری اتنی بڑی تو ضرور ہو گی جو ایک انسان کو خود کشی پر مجبور کر دے۔’
سعد کی بات پر وجدان کے تاثرات بہت خطرناک ہو گئے تھے۔
‘بہت ہی چالاک اور شاطر ہے یہ سکندر۔مزا آئے گا اسے ڈھونڈنے میں۔۔۔۔تم اس لڑکی کو بلاؤ۔آخر پتہ تو چلے کہ جانتی کیا ہے وہ اس سکندر کے بارے میں۔’
سعد اثبات میں سر ہلا کر باہر کی طرف چل دیا ۔وجدان نے اپنے سامنے موجود تمام کاغذات کو سمیٹا تھا۔کچھ ہی دیر کے بعد سعد عشال کے ساتھ وہاں آیا تھا۔
‘جلدی بتاؤ بھئ کیا کام ہے۔پتہ نہیں رنگ میں بھنگ ڈالنے کا بہت شوق ہے آپ لوگوں کو۔اتنے مزے سے میں اور زری کیرم کھیل رہے تھے۔’
عشال نے منہ بسورا۔
‘یہاں چھٹیاں منانے نہیں آئی ہو تم ۔بتاؤ مجھے کیا جانتی ہو تم اس سکندر کے بارے میں۔’
وجدان نے سختی سے پوچھا۔
‘کچھ زیادہ تو نہیں۔بس میں ایک بینک میں جاب کرتی تھی۔وہاں کام زیادہ ہونے کی وجہ سے رات کے تقریباً دو بجے کے قریب کام سے فارغ ہو کر پارکنگ ایریا کی طرف گئی۔جب میری نظر ایک آدمی پر گئی۔اس نے بلیک جینز پر بلیک ہوڈی پہنی ہوئی تھی اور بلیک رومال سے ہی اپنا چہرہ کور کیا ہوا تھا۔جبکہ ایک پسٹل کو اس نے وہ ایک دوسرے آدمی پر
تانا ہوا تھا۔میں ایک پلر کے پیچھے چھپ کر دیکھنے لگی۔وہ آدمی بہت ذیادہ رو رہا تھا اور بار بار اس کالے کپڑوں والے آدمی سے پوچھ رہا تھا کہ وہ کون ہے۔’
عشال ایک پل کو رکی تھی اور اسکی آنکھوں میں خوف کا سایہ لہرایا۔
‘پھر۔’
وجدان نے بے چینی سے پوچھا۔
‘پھر اس آدمی نے صرف ایک لفظ بولا تھا۔۔۔۔۔۔۔سکندر۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اس نے اس آدمی کی کنپٹی پر پسٹل رکھ کر گولی چلا دی۔۔۔۔۔۔’
عشال نے گہرا سانس لیا۔
‘اس کے بعد اس سکندر نے وہی بندوق اس مرے ہوئے آدمی کے ہاتھ میں پکڑائی اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔میں بہت ذیادہ ڈر گئی تھی لیکن پھر بھی ہمت کر کے پولیس سٹیشن تک گئی اور انہیں ساری بات بتائی۔مگر اسکے بعد اس سکندر نے مجھے بہت دفعہ مارنے کی کوشش کی۔لیکن کسی نہ کسی طرح میں بچ ہی جاتی۔اسی طرح پروٹیکشن کے لیے پہلے پولیس کے پاس رہی۔پھر کچھ آفیسرز کے گھر۔مگر جب سکندر وہاں بھی پہنچ گیا تو شاہ انکل نے مجھے اصفی انکل کے پاس بھیج دیا۔۔۔۔۔۔اور اب آپکے پاس ہوں مگر دیکھنا وہ یہاں بھی پہنچ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔بہت خطرناک ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔’
عشال اب باقاعدہ خوف سے کانپ رہی تھی۔جبکہ وجدان ابھی بھی اسے گھور رہا تھا۔
‘اس سب کے علاوہ اور کچھ بھی جانتی ہو یا نہیں ؟’
وجدان بے چین ہوا۔عشال نے کچھ دیر سوچا اور پھر ہاں میں سر ہلایا۔
‘ایک بار جب مجھے مارنے آیا تھا تو میں نے اسے قریب سے دیکھا تھا۔۔۔۔بہت قریب سے دیکھا۔۔۔۔’
‘کیا دیکھا تھا تم نے؟’
وجدان نے اپنے سینے پر بازو باندھے۔
‘اسکی آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔سرد سی سبز آنکھیں۔۔۔۔۔۔’
عشال کی بات پر اب تو سعد بھی شش و پنج میں مبتلا ہو گیا تھا۔
‘ٹھیک ہے جاؤ تم۔’
وجدان کے اجازت دیتے ہی عشال وہاں سے چلی گئی تھی۔مگر اب وجدان پہلے سے بھی ذیادہ الجھ چکا تھا۔جبکہ سعد اسے جانچتی نظروں سے دیکھتا رہا تھا۔کچھ تو عجیب تھا۔
