64.4K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

صبح ہوتے ہی سب بارات کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے تھے۔وجدان اور سعد کو ہاشم صاحب اپنے ساتھ ہوٹل لے گئے تھے۔انہوں نے عثمان کو بارات کے استقبال کا کہا خود اپنے دونوں بیٹوں کی بارات لانے کا فیصلہ کیا۔
لیکن انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس طرح سے وجدان کا فرض پورا کر کے وہ پھر صرف اور صرف عشال کے بابا ہوں گے۔
حمنہ اور جانان عشال اور زرش کو پارلر لے کر آئی تھیں۔دونوں دلہنوں کے جوڑے بلکل ایک جیسے تھے۔سرخ رنگ کے بھاری کام دار جوڑے پر برائیڈل میک اپ اور گولڈ کے زیورات پہنے وہ دونوں چاند کا ٹکڑا ہی لگ رہی تھیں۔
زرش تو ٹھیک لیکن عشال بھی ایک بار خود کو دیکھ کر نظریں جھکا گئی تھی۔جانان اور حمنہ نے آج بھی بلکل ایک جیسے رائل بلو کلر میں شارٹ فراک اور کیپری پہنی تھی۔
ان دونوں کو دیکھ کر عشال نے سی ٹی بجانے کے لیے اپنے ہونٹ گول کیے لیکن حمنہ نے اسے روک دیا۔
‘نہیں عشال آج نا تم یہ ٹھرکی سی حرکتیں کسی اور کے لیے چھوڑ دو۔’
حمنہ کی بات پر جانان بھی سامنے آئی۔
‘میں تو سعد بھائی سے کہوں گی کہ عشال جب جب تیار ہو نا وہ ایسے ہی سی ٹی بجایا کریں۔’
اس بات پر اپنی مہندی اور چوڑیوں کو دیکھتی زرش بھی کھلکھلا کر ہنس دی۔عجیب سی کیفیت تھی زرش کی وہ ڈر رہی تھی کہ اب اسکی ان خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگ جائے ۔یہ تمام خوشیاں اسکو بہت ذیادہ محنت کے بعد تو نصیب ہوئی تھیں۔
‘تم دونوں رہنے دو ویسے بھی اتنی پیاری نہیں لگ رہی کہ میں اپنی سی ٹی ضائع کروں وہ تو میں اپنی لٹل ڈال کو دیکھ کر بھی بجا سکتی ہوں۔’
عشال نے زرش کو دیکھ کر اسی مخصوص ٹھرکیوں والے انداز میں سی ٹی بجائی تو زرش دہکتے گالوں کے ساتھ اپنا چہرہ جھکا گئی۔
گارڈز ان چاروں کو لینے آئے عثمان تبسے باہر انکا انتظار کر رہا تھا۔ان لوگوں کے باہر آتے ہی جب عثمان کی نظر حمنہ پر پڑی تو پلٹنا ہی بھول گئی۔اس رائل بلو لباس میں نفاست سے کیے میک اپ،جیولری اور کھلے بالوں پر اپنا دوپٹہ سمبھالتی اسکی بیوی اسے دنیا کی سب سے زیادہ حسین لڑکی لگ رہی تھی۔
‘افسوس۔’
حمنہ عشال کو گاڑی میں بیٹھا کر مڑی تو عثمان نے اسکے کان میں سر گوشی کی۔
‘کیا ہوا؟’
‘کاش یہاں سب نہ ہوتے تو جتنی تم خوبصورت لگ رہی ہو نا جان جہاں میں فرصت سے تمہیں خراج دیتا۔’
عثمان کی بات پر حمنہ اپنے پاؤں کے ناخن تک سرخ ہو گئی اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھنے لگی۔
میرج ہال میں پہنچتے ہی انکا استقبال پھولوں کی بارش سے ہوا۔زرش تو میرج ہال کی خوبصورتی اپنی آنکھیں بڑی کر کے دیکھ رہی تھی۔
وہ میرج ہال خزاں کے تھیم پر تھا اسی وجہ سے اندر بہت سے سوکھے پتوں والے مصنوعی درخت تھے جنہیں لائٹنگ سے سجایا گیا تھا۔باقی سب کچھ اور فرنیچر گولڈن اینڈ وائٹ تھیم پر تھا۔سٹیج کے سینٹر میں ہی بہت بڑا فانوس چمک رہا تھا۔
پھر زرش کی نظر سٹیج پر اسکے استقبال کے لیے کھڑے وجدان پر پڑی۔جو سنہری شیروانی پر مہرون پگڑی سی پہنے انتہائی زیادہ خوبرو لگ رہا تھا۔زرش کتنی ہی دیر پلکیں جھپکائے بغیر اپنے شوہر ،اپنے اس مسیحا کو دیکھتی رہی جس نے زرش کے سفر زیست کو ایک منزل پر پہنچایا اور وہ منزل بہت ذیادہ حسین تھی۔
عشال نے تو سعد کو ایٹیٹیوڈ دیکھانے کے چکر میں اسے آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں تھا بلکہ سارا وقت وہ ایسے دکھاوا کرتی رہی جیسے یہاں پر صرف وہی ہے اور اسکی شادی اپنے آپ سے ہی ہو رہی ہے۔
‘بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو۔’
سعد نے سرگوشی کی جو عشال نے سننا تک گوارہ نہیں کی۔
‘کر لو میری جان اپنی منمانیاں لیکن جب میرے کمرے میں آؤ گی تو میری منمانیوں کے لیے تیار کر کے آنا اپنے آپ کو۔’
سعد کی معنی خیز بات پر جہاں عشال اپنے پاؤں کے ناخن تک سرخ ہو گئی تھی وہیں اسنے خود سے عہد کیا کہ سعد کو مزا تو چکھا کر رہے گی۔
زرش ہر چیز کی پرواہ کیے بغیر سارا فنکشن اینجوائے کرتی رہی۔مزا تو اسے تب آیا جب جانان نے اسکے پاس آ کر سیلفیز بنانا شروع کر دیں اور پھر اس نے اور عشال نے خوب ٹھیڑے منہ بنا کر سیلفیز بھی بنائیں۔
فاطمہ بیگم اور سلمان صاحب اپنی بیٹیوں کی ان خوشیوں کو دیکھ کر کئی بار خدا کا شکر ادا کر بیٹھے۔
اسی طرح رخصتی کا وقت آیا تو ہاشم صاحب وجدان اور زرش کے ساتھ ساتھ جانان اور شایان کو بھی اپنے ساتھ ہوٹل میں لے گئے جو انہوں نے بک کروایا تھا اور وہاں دلہا دلہن کے استقبال کے لیے ہر چیز انہوں نے بہت شوق سے تیار کروائی جبکہ عشال کو عثمان کے گھر انہوں نے بلکل ایک بیٹی کی طرح رخصت کیا ۔
زرش کو جانان کمرے میں چھوڑ آئی اور پھر خود باہر کھڑے ہو کر مسکراتے ہوئے وجدان کا انتظار کرنے لگی۔
‘جانان آؤ تمہیں ہمارا روم دیکھاؤں کتنا زبردست ہے۔’
شایان کی بات پر جانان نے جلدی سے انکار میں سر ہلا دیا۔اسے تو ڈبل ڈبل نیگ لینا تھا۔وجدان کی بہن ہونے کا بھی اور سالی ہونے کا بھی پھر اس نے سوچا کہ وہ وجدان کی بھابھی بھی تو لگتی ہے اور یہ سوچ کر جانان مزید چہک اٹھی۔
‘جسکا آپ انتظار کر رہی ہیں نا جانان دراب وہ تو کب سے بالکونی کے راستے کمرے میں جا چکا ہے۔’
شایان کی بات پر جانان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
‘توبہ ہے بھئ آپکا یہ بھائی صرف کریلا ہی نہیں اول درجے کا کنجوس بھی ہے۔’
جانان نے منہ بنا کر کہا اور شایان کے ساتھ کمرہ دیکھنے چکی گئی۔
زرش سجے ہوئے بیڈ پر بیٹھی کبھی کمرے کی سجاوٹ کو دیکھتی تو کبھی گھبرا کے دروازے کو۔
اس طرح سے سج سنور کر وجدان کا انتظار کرنا اسکی گھبراہٹ میں بہت اضافہ کر رہا تھا۔اپنی گھبراہٹ کے مارے وہ یہ تک نہ جان پائی کہ وجدان کب سے بالکونی کے راستے کمرے میں داخل ہو گیا تھا اور اب اپنے سینے پر ہاتھ باندھے اپنی حسین پری کو گھبراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
اچانک ہی وجدان دوسری طرف سے زرش کے سامنے آیا تو زرش نے گھبراہٹ کے مارے ہلکی سی چیخ مار دی۔
‘اللہ ۔۔۔۔۔ڈرا دیا آپ نے مجھے۔’
زرش کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وجدان نے یونہی کھڑے کھڑے زرش کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔گھبراہٹ کے مارے زرش کی پلکیں جھک گئی تھیں۔
‘بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو نور خان۔’
وجدان نے اسکے حسین چہرے کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے بہت ذیادہ محبت سے کہا۔اسکی قربت پر کانپتے ہوئے زرش نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
‘آآ۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔میں وہ۔۔۔۔’
زرش جانتی بھی نہیں تھی کہ وہ اسے کیا کہنا چاہ رہی تھی وہ تو بس کسی طرح سے اسکی بولتی آنکھوں سے دور ہونا چاہ رہی تھی لیکن اب یہ ناممکن ہی تو تھا۔
‘کیا ہوا نورِ خان آج تمہاری بولتی کیسے بند ہو گئی۔’
وجدان نے شرارت سے پوچھا تو زرش آنکھیں بڑی کر کے جلدی سے انکار میں سر ہلانے لگی۔
‘مم۔۔۔۔۔میں تو بس ۔۔۔۔۔میرا تحفہ کہاں ہے۔؟’
زرش کے اچانک سے یہ سوال کرنے پر وجدان قہقہہ لگا کر ہنس دیا اور پھر اپنی جیب سے ایک مخمل کی ڈبیا نکالی جس میں ایک انتہائی خوبصورت سا پینڈنٹ تھا جس صرف دو حرف تھے N اور W۔ اور ایسا لگ رہا تھا کہ W نے N و اپنے اندر چھپایا ہوا تھا۔زرش نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
‘یہ بہت ذیادہ پیارا ہے وجدان۔’
زرش نے دل سے کہتے ہوئے اپنا گلا آگے کیا جس میں وجدان نے بہت محبت سے وہ پینڈنٹ پہنایا اور پھر اپنے دہکتے ہوئے لب اسکی گردن پر رکھ دیے۔زرش نے مچل کر دو ہونے کی کوشش کی تو وجدان کی پکڑ مزید مظبوط ہو گئی۔
‘ابھی کہاں نور خان ابھی تو تم نے اتنے دنوں کا حساب چکانا ہے۔’
وجدان نے اسکے سجے سنورے روپ کو اپنی پگھلا دینے والی نظروں سے دیکھ کر کہا۔سبز آنکھوں میں جزبات کا سمندر ٹھاٹیں مار رہا تھا۔
‘وو۔۔۔۔وجدان آپ۔۔۔۔۔’
وجدان نے بہت محبت سے اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو چوما تو زرش اسکی باہوں میں کانپ کر رہ گئی۔وجدان اسکے لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں پر جھکنے لگا تو زرش زور سے اپنی آنکھیں میچ کر وجدان کی پناہوں میں چھپ گئی۔
‘آج کوئی راہ فرار نہیں ملے گی جان تمہیں میری پناہوں میں بھی نہیں۔’
وجدان نے زرش کا چہرہ اپنے سینے سے نکال کر کہا اور پھر اسکے ہونٹوں پر بہت شدت سے جھک کر اسکی سانسیں اپنی سانسوں میں اتارنے لگا۔
زرش اسکی شدتوں سے گھبراتی کبھی اسکی پناہوں میں چھپتی تو کبھی خود میں ہی سمٹ جاتی۔
گزرتی رات نے زرش پر وجدان کی محبت کو مکمل طور پر ظاہر کر دیا۔اسکی پناہوں میں اپنا آپ زرش کو بہت قیمتی لگنے لگا تھا۔
🌈🌈🌈
سعد کمرے میں آیا تو عشال دلہن کے روپ میں بیڈ پر بیٹھی موبائل پر پب جی کھیلنے میں مصروف تھی۔سعد نے اسکی اس حرکت پر چڑ کر عشال کے ہاتھ سے موبائل چھینا۔
‘اف کیا بدتمیزی ہے یہ ایجنٹ جی موبائل واپس کریں میرا۔’
عشال نے چڑ کر کہا۔
‘بد تمیزی یہ ہے میری بیگم صاحبہ کہ آج کی رات آپ کو یہاں بیڈ پر بیٹھ کر شرماتے ہوئے میرا انتظار کرنا تھا نا کہ یوں فالتو کی گیمز کھیلنی تھیں۔’
سعد نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے کہا۔
‘ہاں تو انتظار ہی تو کر رہی تھی۔فارغ بیٹھ کر کرتی تو بور ہو کر سو جاتی اس لیے سوچا کہ گیم کھیل لوں اور رہی بات شرمانے کی نا تو وہ مجھے بلکل بھی نہیں آتا۔۔۔۔۔امم۔۔۔۔بلکہ آپ نا ایک کام کریں۔’
عشال نے سعد کو پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔سعد اسکے حسین چہرے کو دیکھتے ہوئے وہاں بیٹھ گیا۔عشال نے جلدی سے اپنے سر سے دوپٹہ ہٹایا اور اسے سعد کے سر پر پھیلا دیا۔سعد آنکھیں پھاڑے عشال کی اس حرکت کو دیکھنے لگا۔
‘یہ سب کیا ہے؟’
سعد نے دوپٹے کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔عشال نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی ظبط کی تھی۔
‘آپ نا مجھے ٹریننگ دیں کہ دلہن کیسے شرماتی ہے پھر میں آپکو شرما کر دکھاتی ہوں۔’
سعد ہکا بکا سا اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو اپنی چھوٹی سی ٹھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھے اسے دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔سعد نے اس دوپٹے کو سائیڈ پر پھینکا اور عشال کا ہاتھ پکڑ کر اسے بہت اچانک سے اپنی باہوں میں کھینچ لیا۔عشال نے اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے سعد کو گھورا۔
‘ فکر مت کرو وائفی شرمانے کے لیے تمہیں کسی ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جو میں کروں گا نا اس پر تم خود ہی شرما شرما کر میری پناہوں میں چھپو گی۔’
سعد کی معنی خیز بات اور بولتی آنکھوں ل
کو دیکھ کر عشال کے گال دہک اٹھے لیکن اس نے اپنی ڈگمگاتی بہادری پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔
‘دیکھیں ایجنٹ۔۔۔۔۔’
ابھی عشال کے الفاظ اسکے منہ میں ہی تھے جب سعد نے اسکے ہونٹوں پر جھک کر اسکے الفاظ کا گلا گھونٹ دیا۔عشال نے مچل کر اس سے دور ہونے کی کوشش کی تو سعد کا عمل شدت اختیار کر گیا۔
آخر وہ کب تک مقابلہ کرتی تھوڑی دیر کے بعد وہ سچ میں شرما کر سعد کی پناہوں میں چھپنے لگی تھی۔سعد بھی سرشار سا ہوتا اس پر جھکا اپنی شدتیں اس پر لٹاتا رہا۔وہ بہادر سی لڑکی اسکی پناہوں میں چھپتی اپنا آپ مکمل طور پر اسے سونپ گئی تھی۔
🌈🌈🌈
سب کی زندگی بہت ذیادہ حسین ہو گئی تھی۔جانان اور شایان شادی کے کچھ عرصے کے بعد ہی حسن صاحب کے ساتھ واپس چلے گئے تھے۔ہاشم صاحب بھی وجدان اور زرش کے ساتھ ساتھ سعد اور عشال کو بھی اپنے ساتھ پشاور لے گئے تھے لیکن سعد نے وہاں اپنا علیحدہ سے گھر لے لیا اور ہاشم صاحب نے بھی اسکی اس خود داری کو سراہا جبکہ عثمان نے حمنہ کی صحت کی خاطر گاؤں میں رکنا ہی بہتر سمجھا تھا اور تو اور اس نے فاطمہ بیگم اور سلمان صاحب کو بھی اپنے پاس ہی رکھ لیا تھا۔
وجدان نے آر بی کو اپنے ساتھ پشاور شفٹ کر لیا اور اسے وہاں اپنی اسی مخصوص جگہ پر قید کیا جو اسنے اور شایان نے مل کر گنہگاروں کو سزا دینے کے لئے بنائی تھی۔جہاں آر بی کو وہ روز اسی ازیت سے گزارتا تھا جس سے اس کمینے نے زرش کو گزارا تھا۔آر بی کے جسم پر جگہ جگہ وجدان نے جلا کر نشان بنائے تھے۔اب تو یہ حالت تھی کہ رومان خود بھی موت چاہنے لگا تھا۔زندگی کو اتنی ازیت سے سہنے سے بہتر اسے مرنا لگنے لگا۔
حمنہ کے ہاں بھی ایک بیٹے کی پیدائیش ہوئی جس کا نام انہوں نے سالار رکھا اور اسی طرح خوشیوں میں چار سال کس طرح گزر گئے انہیں اندازہ ہی نہیں ہوا۔ان سب کی زندگی بہت خوشی اور معمول سے چل رہی تھی اور اس معمول سے چلتی زندگی میں پریشانی اچانک ہی زرش کے بے ہوش ہونے پر آئی تھی جو ڈاکٹر کو بلاتے ہی خوشی میں تبدیل ہو گئی تھی۔
وجدان کو تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یوں اچانک اسکی زندگی کی اتنی حسین خبر اسے مل جائے گی جبکہ ہاشم صاحب تو بہت سا پیسا اپنی بہو کے صدقے میں لوگوں کو دے چکے تھے۔
سب سے زیادہ خوشی تو عشال کو ہوئی تھی جو پھپھو بننے پر بہت زیادہ ایکسائٹڈ ہو رہی تھی۔جبکہ ان سب میں وہ معصوم شرما شرما کر اپنا چہرہ چھپاتی جا رہی تھی۔
ابھی بھی وجدان نے زرش سے یہ کہا تھا کہ وہ اسے کوئی سرپرائز دینا چاہتا ہے اسی لیے زرش جلدی سے تیار ہو کر وجدان کے ساتھ آئی اور پورا راستہ اس سرپرائز کے بارے میں پوچھ پوچھ کر وجدان کا سر کھا گئی۔
وجدان نے ایک پرانی سی عمارت کے سامنے گاڑی روک کر زرش کو کار سے باہر نکالا۔
‘اپنی آنکھیں بند کرو۔’
وجدان کے ایسا کہنے پر زرش نے جلدی سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔
‘نو چیٹنگ۔۔۔’
وجدان کے ایسا کہنے پر زرش نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا۔وجدان اسے اپنے ساتھ چلا کر لے آیا اور پھر ایک دروازے کے باہر آ کر وجدان نے زرش کو آنکھیں کھولنے کا کہا ۔
زرش نے ہڑبڑا کر اس تباہ حال جگہ کو دیکھا۔
وجدان نے سامنے موجود دروازہ کھولا اور زرش کو لے کر اندر داخل ہوا۔سامنے زخموں سے چور نڈھال سے کرسی سے بندھے آر بی کو دیکھ کر زرش ایک چیخ کے ساتھ وجدان کے سینے سے لپٹ گئی تھی۔
وہ چیخ سن کر آر بی نے بھی اپنا دھیان زرش کی طرف کیا اور اپنی چاہت کو اس طرح سے وجدان کی پناہوں میں دیکھ کر ایک آگ آر بی کے اندر سلگ اٹھی تھی۔
‘نہیں نور ڈرو نہیں دیکھو اب یہ شخص کچھ بھی نہیں کر سکتا کسی قابل نہیں چھوڑا اسے میں نے۔۔۔۔تم سے وعدہ کیا تھا نا کہ بہت ذیادہ ازیت سہے گا یہ تو دیکھو اپنی زندگی کو سچ میں ایک کیڑے کی مانند ہی گزار رہا ہے۔’
وجدان نے آر بی کو دیکھتے ہوئے دانت پیس کر کہا جسکا سارا دھیان زرش پر تھا لیکن زرش تو ایسے لگ رہا تھا جیسے وجدان کے اندر ہی چھپ جائے گی۔
‘دیکھو اسے نور اور بتاؤ اسے کہ تم کمزور نہیں ہو تم بہادر ہو بہت بہادر اور اب تم اس سے نہیں ڈرتی بلکل بھی نہیں ڈرتی۔’
زرش نے اپنا سر اٹھا کر وجدان کی آنکھوں میں اپنی کانچ سی نم آنکھوں سے دیکھا پھر سہمتے ہوئے کرسی سے بندھے آر بی کو دیکھا۔اس شخص کا کیا ہوا ہر ستم زرش کی آنکھوں کے سامنے آیا تھا۔
‘مم۔۔۔۔میں تم سے۔۔۔۔نہیں ڈرتی۔۔۔۔۔سنا تم نے نہیں ڈرتی میں تم سے۔۔۔۔۔’
زرش نے زارو قطار روتے ہوئے کہا اور اسکی پر خوف آواز سن کر آر بی کے لبوں پر طنزیہ سی مسکراہٹ آئی۔وجدان نے وہ مسکراہٹ دیکھ کر اپنی مٹھیاں کس لیں۔
لیکن تبھی زرش کانپتے ہوئے آر بی کے سامنے گئی وہ بس اتنا جانتی تھی کہ اسے اپنے ڈر کا سامنا کرنا ہے۔اتنا سوچتے ہی زرش نے ہاتھ اٹھایا اور ایک تھپڑ آر بی کے چہرے پر مار دیا۔آر بی کے ساتھ ساتھ وجدان نے بھی بہت حیرت سے زرش کو دیکھا۔
‘برے ہو تم بہت برے تم نے بیا کو مارا تھا۔۔۔۔بیا کو مارا تھا ۔۔۔۔۔’
زرش روتے ہوئے چلانے لگی اور ساتھ ہی زور زور سے آر بی کے چہرے اور سینے پر تھپڑ اپنے نازک ہاتھوں سے تھپڑ اور مکے مارنے لگی۔
‘نہیں ڈرتی میں تم جیسے برے انسان سے نہیں ڈرتی۔۔۔’
زرش نے اپنا پورا زور لگا کر اسکے چہرے پر تھپڑ مارا لیکن پھر وجدان نے آگے بڑھ کر زرش کا ہاتھ تھام لیا۔
‘بس نور تھک جاؤ گی تم۔۔۔’
وجدان نے بہت محبت سے زرش کو اپنے ساتھ لگا کر کہا زرش اپنے آنسو ضبط کرنے لگی۔
‘تو تمہاری خوش فہمی دور ہو گئی نا کہ زرش تم سے ڈرتی ہے جو خوف تم نے اسکے دل میں ڈالا تھا وہ عمر بھر تک ایک چھاپ بنا رہے گا ۔۔۔۔لیکن حقیقت تمہارے سامنے ہے تمہارے خوف کا ایک سایہ تک نہیں ہے میری نور پر۔’
وجدان نے بہت محبت سے زرش کو دیکھ کر کہا۔اسکی آنکھوں میں یہ محبت آر بی کو اندر تک سلگا گئی تھی۔وہ اپنے تمام زخم بھلا کر دل میں جلنے والی آگ سے سلگ اٹھا تھا۔
‘ارے ہاں یاد آیا رومان میں تو تمہیں مبارکباد دینے آیا تھا۔۔۔’
آر بی نے حیرت سے وجدان کو دیکھا۔
‘مبارک ہو بہت بہت تم تایا بننے والے ہو معاف کرنا میں مٹھائی لانا بھول گیا۔’
وجدان نے مسکرا کر کہا تو زرش فوراً اپنا دہکتا چہرہ وجدان کے سینے میں چھپا گئی جبکہ وجدان کی بات اور وہ منظر آر بی کو اندر تک سلگا گیا تھا۔سکندر سچ میں جیت چکا تھا اور رومان بہت بری طرح سے ہارا تھا۔
‘یہ میری ہے رومان صرف اپنے خان کی نور۔۔یاد رکھنا۔’
وجدان نے زرش کو اپنے سینے میں کستے ہوئے کہا اور مسکرا کر رومان کو دیکھنے لگا جو ہمیشہ کی طرح پھر سے حسد کی آگ میں اندر ہی اندر جل رہا تھا۔
وجدان تو زرش کو وہاں سے لے گیا لیکن رومان اپنے جسم سے اٹھتی تکلیفوں کو نظر انداز کر کے اپنے سینے میں اٹھنے والی آگ پر چلا اٹھا تھا۔وہ ہار گیا تھا اتنا طاقتور ہونے کے باوجود ہار گیا کیونکہ برائی کبھی بھی ہمیشہ کے لیے نہیں رہتی ۔
اللہ نے بس برے انسان کی رسی دراز کی ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی برائی کی ہر حد دیکھ لے لیکن جب وہ رسی کھینچی جاتی ہے تو اس شخص کی قابل رحم حالت پر بھی کسی کو رحم نہیں آتا اس رحمن کو بھی نہیں۔ یہی تو رومان کے ساتھ بھی ہوا تھا اسکے گناہوں نے اسے مکمل طور پر برباد کر دیا اور وہ اس بند کمرے میں اپنی ہار پر بربادی پر بس چلاتا رہ گیا۔
🌈🌈🌈
وجدان ہیڈ کوارٹر آیا تھا اسے اپنے مشن کے بارے میں انفارمیشن دینی تھی۔ساری انفارمیشن دیکھنے کے بعد کرنل منور صاحب وجدان کو گھور رہے تھے۔
‘میں مان نہیں سکتا وجدان کہ تم ناکام ہو گئے ہو سکندر کو پکڑنے میں۔’
وجدان انکی بات پر مسکرا دیا ۔
‘کیوں میں کیوں ناکام نہیں ہو سکتا بس اتنی سی بات ہے کہ یہ سکندر میری سوچ سے کچھ زیادہ ہی چالاک نکلا ۔’
کرنل منور صاحب نے اسے گھورا ۔
‘بات اتنی سی نہیں ہے وجدان خان مجھے لگتا ہے کہ تم مجھ سے کیا وعدہ توڑ چکے ہو۔’
منور صاحب نے صدمے سے کہا۔
‘نہیں انکل آپ کو غلط لگ رہا ہے میں نے اپنا وعدہ نہیں توڑا غلط راہ پر نہیں چلا اور میں سکندر نہیں ہوں ۔لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ سکندر جو کوئی بھی ہے وہ تب تک ایک انسان کے لیے خطرہ نہیں ہے جب تک وہ انسان دوسروں کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔’
وجدان کی بات کا مطلب سمجھ کر منور صاحب سوچ میں پڑھ گئے۔
‘مجھے تم پر بھروسا ہے وجدان پورا پورا بھروسہ ہے لیکن مجھے یہ مشن کسی اور کو دینا ہو گا اور امید ہے کہ تمہارا سکندر اس معاملے میں محتاط رہے گا۔’
وجدان نے ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے اٹھ کر منور صاحب کو سیلیوٹ کرنے لگا۔منور صاحب نے حیرت سے وجدان کو دیکھا اتنے سالوں کی سروس میں آج پہلی مرتبہ وجدان نے انہیں سیلیوٹ کیا تھا۔
‘تم نے ہمیشہ سے اپنی پوسٹ لینے سے انکار کیا اور خفیہ طور پر ملک کے کام آتے رہے لیکن کیا تم ابھی بھی اپنی پوسٹ لینے سے انکار کرو گے میجر وجدان خان؟’
وجدان نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔وجدان نے میجر ہوتے ہوئے بھی کبھی اپنی پوسٹ قبول نہیں کی تھی اور سب جانتے تھے کہ وجدان اپنے نام کے ساتھ کوئی عہدہ پسند نہیں کرتا اسی لئے وہ اسے صرف نام سے ہی بلاتے ہیں۔
‘مجھے پوسٹ سے کوئی سروکار نہیں جب تک میں ہر برے انسان کو اسکے انجام تک پہنچاتا رہوں گا میری زیست کا سفر چلتا رہے گا انکل اور یہی تو میرا وہ مقصد تھا جسے سمجھنے میں میں نے اتنا وقت لگا دیا۔’
وجدان اتنا کہہ کر وہاں سے چلا گیا منور صاحب بھی اسکے معاملے میں مطمئین ہو گئے تھے۔
وجدان باہر آ کر گاڑی میں بیٹھا تو اسکا موبائل بجنے لگا۔وجدان نے دیکھا تو فراز کا فون تھا جسے وجدان نے آر بی کی نگرانی پر رکھا تھا ۔
‘ہیلو بولو فراز۔’
‘سر وہ۔۔۔وہ آر بی یہاں نہیں ہے سر بھاگ گیا ہے وہ رات میں نا جانے کہاں غائب ہو گیا۔۔’
فراز کی گھبراہٹ سے بھری آواز وجدان کو سنائی دی۔وجدان نے فون بند کیا اور زرش کو فون کرنے لگا لیکن زرش فون نہیں اٹھا رہی تھی۔وجدان نے بے چینی سے ہاشم صاحب کو فون کیا۔
‘ہاں بولو وجدان۔۔’
‘بابا زرش کہاں ہے؟’
وجدان کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں اس نے بے چینی سے پوچھا۔
‘بیٹا وہ تو گھر ہے میں زرا دوست کی طرف آیا کیوں خیریت۔۔۔’
اتنا سنتے ہی وجدان نے فون بند کیا اور کار سٹارٹ کر کے فل سپیڈ میں بھگانے لگا۔اسے جکد از جلد زرش کے پاس پہنچنا تھا۔آر بی کا سب سے پہلا نشانہ وہی تو ہونی تھی اور وجدان اسے کچھ بھی نہیں ہونے دے سکتا تھا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔