Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
سلمان صاحب نہیں جانتے تھے کہ وہ کتنی دیر کے بعد ہوش کی دنیا میں واپس آئے تھے نہ ہی وہ یہ جانتے تھے کہ اس اندھیرے میں قید ہوئے انہیں کتنا عرصہ بیت گیا ہے۔وہ بس اپنے جسم میں اٹھنے والی بے حساب تکلیفوں اور ان کے پاس زمین پر پڑی فاطمہ بیگم کی سسکیوں کے بارے میں جانتے تھے۔وہ لوگ بس صبح شام انہیں کھانا دینے کے لیے ہی آتے تھے یا پھر کبھی کبھار شایان سے بات کروانے کے لیے۔
سلمان صاحب شایان کو کوئی اشارہ دینا چاہتے تھے لیکن فاطمہ بیگم کی زندگی بچانے کے لیے وہ ان لوگوں کے اشاروں پر ناچتے اور انہیں کی کہی ہوئی باتیں شایان کو بتا دیتے۔
وہ نہیں جانتے تھے کہ اب اس اندھیری قید سے وہ کیسے باہر نکلیں گے۔
‘فاطمہ۔۔۔۔۔۔فاطمہ۔۔۔۔۔’
سلمان صاحب نے فاطمہ بیگم کو پکارا تو انہوں نے بہت مشکل سے اپنا سر اٹھا کر سلمان صاحب کو دیکھا۔
‘مجھے معاف کر دو فاطمہ۔۔۔۔میں ہمیشہ سے ایک برا شوہر تھا۔۔۔۔۔اور ابھی بھی تمہارے لیے کچھ نہیں کر پا رہا۔’
سلمان صاحب نے زارو قطار روتے ہوئے کہا۔فاطمہ بیگم نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔
‘آپ نے ہماری زری کو۔۔۔۔اس۔۔۔۔اس شیطان کے پاس آنے سے بچانے۔۔۔۔۔ کے لیے اتنا کچھ کیا۔۔۔۔۔۔میرے لئے وہی کافی ہے۔۔۔۔۔’
فاطمہ بیگم نے اتنا ہی کہا اور پھر سے تکلیف کے باعث بے ہوش ہو گئیں۔انہیں اس حال میں دیکھ کر سلمان صاحب زارو قطار رونےلگے۔
‘یا اللہ حفاظت کرنا میری معصوم بیٹی کی حفاظت کرنا اس درندے کے ہاتھ نہ لگے وہ۔۔۔۔۔کبھی بھی نہ لگے۔۔۔’
سلمان صاحب روتے ہوئے دعا مانگ رہے تھے اور اپنے آپ کو حد سے ذیادہ بے بس محسوس کر رہے تھے۔
🌈🌈🌈
اس دن کے واقعے کے بعد زرش اور وجدان کا سامنہ نہیں ہوا تھا۔زرش کئی کئی گھنٹے اکیلے میں بیٹھ کر اس لمحے اور وجدان کی قربت کے بارے میں سوچتی رہتی تھی۔ایک مرد کے قریب جانے کا سوچ کر ہی اس کالی رات کے سائے زرش کی یادوں پر قابض ہو جاتے تھے۔لیکن وجدان تو اس شیطان کی طرح نہیں تھا ۔وہ تو اسکا شوہر،اسکا محافظ اور مسیحا تھا۔اسکا قریب آنا تو برا نہیں لگنا چاہیے تھا نا۔مگر وجدان نے وہ نشان دیکھ لیا تھا اور اس نشان کو دیکھ کر اتنا ذیادہ غصہ بھی تو کیا تھا۔تو کیا اب وہ بھی زرش سے نفرت کرنے لگا تھا اسکا کوئی قصور نہ ہونے کے باوجود اسے ہی برا سمجھنے لگا تھا۔
‘بوم۔۔۔۔۔۔۔’
اپنے پیچھے سے اچانک سے یہ آواز سن کر زرش بری طرح سے ڈر گئی تھی جبکہ عشال اب قہقہہ لگا کر ہنس رہی تھی۔
‘بہادر بنوں لیٹل ڈال ۔کمزور لڑکیوں کو یہ دنیا بہت آسانی سے نگل جاتی ہے۔’
عشال نے ہنستے ہوئے اسکے بال بکھیرے تھے۔
‘اور تمہارا موڈ کیوں آف ہے؟ لگتا ہے سیاں جی کے ساتھ ملاقات کچھ اچھی نہیں رہی کل رات۔’
عشال مسکراتے ہوئے اسکے پاس بیٹھی ۔جبکہ وجدان کا ذکر سنتے ہی زرش پھر سے پریشان ہو گئی تھی۔وہ نشان دیکھ کر تو وجدان ضرور اس سے نفرت کرتا ہو گا۔وجدان نے تو کبھی سامنے نہ آنے کا بھی کہہ دیا تھا۔
‘ ارے ایسا کیا کر دیا سیاں جی نے کہ تمہاری بولتی بلکل ہی بند ہو گئی ہے۔’
شال نے ایک آنکھ دبا کر اسکے کندھے سے کندھا مارا تو زرش نے گھبرا کر جلدی سے اپنا رخ عشال کی طرف کیا۔
کچھ نہیں بس مجھے ماما کی بہت زیادہ یاد آ رہی ہے۔
زرش نے نم آنکھوں سے ایک بہانہ بنایا۔حالانکہ ابھی کل ہی تو جانان نے اسے بتایا تھا کہ سلمان صاحب اور فاطمہ بیگم اسلام آباد ہیں اور کام میں مصروف ہیں۔زرش کو کافی غصہ بھی آیا تھا کہ ایسی کیا مصروفیات کہ وہ شایان کے علاوہ کسی سے بات ہی نہیں کرتے۔
‘تم جھوٹ بول رہی ہو ڈال تمہارے چہرے سے دکھتا ہے اب فٹافٹ سچ بتاؤ مجھے۔’
عشال نے حکمیہ انداز میں کہا تو زرش کے آنسوؤں میں روانی آ گئی۔
وجدان جی کو شاید پتہ چل گیا ہے اور انہیں بھی لگتا ہے کہ میں بری لڑکی ہوں۔
اشارہ کرتے ہوئے زرش کی پلکیں بھیگ گئیں۔
‘اس نے تمہیں ایسا کچھ کہا؟’
عشال نے سنجیدگی سے پوچھا تو زرش نے کافی دیر سوچ کر انکار میں سر ہلایا اور وجدان کی کہی ہوئی ساری بات عشال کو بتا دی۔
‘فکر ناٹ ڈولی وہ تم پر نہیں اس درندے پر غصہ ہے اور یہ تو بہت زیادہ اچھی بات ہے۔واہ لگتا ہے بنگالی بابا عشال کا محبوب آپکے قدموں میں والا طریقہ کار آمد ثابت ہو رہا ہے ہمیں کچھ اور بھی کرنا پڑے گا۔’
عشال نے پرجوشی سے کہا اور اپنی چھوٹی سی ٹھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھ کر سوچنے لگی۔زرش کو بھی اسکی بات سن کر حوصلہ ہوا تھا۔
‘آئیڈیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پرسوں تم دونوں کے نکاح کو ایک مہینہ پورا ہو جائے گا۔ایک سرپرائز پلین کرتے ہیں تمہارے سیاں جی کے لیے اور ہو سکے تو اپنے دل میں چھپی باتیں انہیں بتا دو۔’
عشال بہت ذیادہ پر جوشی سے بولی جبکہ زرش کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔
کیسے؟
زرش کے پوچھنے پر عشال پھر سوچ میں پڑھ گئی۔
‘پرانے طریقے سے یار ۔۔۔۔ تم نا بس ایک پیار بھرا خط لکھو اور اپنے دل کا حال بیان کر دو اس میں۔پھر ڈیکوریشن کا ذمہ میرا اور اپنے شوہر کے دل میں اترنے کا ذمہ تمہارا۔’
عشال نے مسکراتے ہوئے اسکی چھوٹی سی ناک کو کھینچا تھا۔
مگر وہ میں کیسے کروں گی؟
زرش نے منہ بنا کر اشارہ کیا۔
‘ڈونٹ وری ڈال تمہیں اتنا خوبصورت تیار کروں گی نا کہ تمہیں ضرورت ہی نہیں پڑے گی کچھ کرنے گی۔پھر جو بھی کرنا ہے وہ سیاں جی کریں گے۔’
عشال کی بات پر زرش کے چہرے پر حیا کی لالی بکھر گئی تھی۔ہاں وہ اپنے سنگ دل محبوب کے قریب ہونے کی ایک اور کوشش کرنا چاہتی تھی اور تو اور اس کوشش میں کامیاب ہو کر اسکے دل میں بھی اترنا چاہتی تھی۔زرش نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایسا کر کے ہی دم لے گی۔
🌈🌈🌈🌈
سعد کی نظر ان فائلز پر تھی جو سکندر کے بارے میں میں اس نے جوڑی تھیں۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کوئی اس قدر شاطر کیسے ہو سکتا ہے۔اگر سعد اور وجدان سکندر کے اگلے شکار کے بارے میں کچھ جانتے ہوتے تو اسے پھنسانے کا کوئی نہ کوئی حربہ استعمال کر ہی لیتے۔لیکن سکندر کا اگلا شکار کون ہو گا یہ سکندر کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا خود وہ شکار بھی نہیں۔ایک اور بات تھی جو سعد کو اضطراب میں ڈال رہی تھی۔سکندر کی سبز آنکھیں۔کیا ایسا ممکن تھا کہ وجدان ہی سکندر ہے جیسے اس نے شایان کو دارا بنایا تھا وہ خود بھی ایسا ہی کچھ بن چکا ہو؟ نا جانے کیوں سعد نہیں چاہتا تھا کہ اسکا یہ شک سچ ثابت ہو۔
‘نہیں وجدان کچھ بھی ہو جائے تم سکندر مت ہونا۔وہ دہشت گرد مانا جا رہا ہے بہت برا حال ہو گا تمہارا میرے دوست’
سعد نے خود میں ہی کہا۔اچانک سے دروازہ بجنے کی آواز پر سعد اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آیا اور گہرا سانس لے کر اپنی ساری چیزیں سمیٹنے لگا۔
‘آجاؤ۔’
ہر چیز ہٹا کر اس نے کہا تو عشال کافی کا ایک مگ لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔
‘کافی ایجنٹ جی مجھے لگا آپ تھک گئے ہوں گے اس لئے میں آپ کی تھکاوٹ کی دوا لے آئی۔’
عشال نے بہت زیادہ نرمی سے کہا اور اسکا یہ لہجہ سعد کو کسی گڑبڑ کے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔
‘اس نوازش اور تمہارے اسطرح تمیز کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹانے کی وجہ جان سکتا ہوں؟’
سعد کی بات پر عشال نے اپنی مٹھیاں کسیں لیکن چہرے کی معصومیت کو کم نہیں ہونے دیا۔
‘کچھ خاص نہیں ایجنٹ جی بس ایک چھوٹا سا فیور چاہیے۔’
عشال سیدھا مدے پر آئی۔
‘میں پھر سے میک اپ نہیں لا رہا۔’
سعد کو وہ پچھلا کام یاد آیا تو اس نے غصے سے کہا۔گھنٹوں مارکٹ میں گھومنا اور پاگلوں کی طرح لڑکیوں کی چیزیں دیکھنا سعد کو کہاں بھولا تھا۔
‘ارے نہیں نہیں ایجنٹ جی آپ بلکل فکر مت کریں بہت ہی ذیادہ آسان کام ہے۔’
عشال نے بہت نرمی سے کہا تو سعد نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
‘کل سارا دن آپ کو اپنے اس سڑیل دوست کو گھر سے دور رکھنا ہو گا اور رات کو اس کے آنے کے بعد ہم دونوں کو گھر سے دور جانا ہو گا سمپل۔’
عشال نے مزے سے کہتے ہوئے کافی کا مگ سعد کی طرف کیا۔
‘پہلی بات مشکل ہے سوچا جا سکتا ہے اس کے بارے میں لیکن دوسری بات ناممکن میں اس طرح سے تمہیں بلا وجہ خطرے میں نہیں ڈال سکتا آصف انکل کو کیا جواب دوں گا۔’
سعد نے صاف سیدھی طرح سے انکار کیا۔
‘ارے میری فکر چھوڑیں آپ سکندر بھائی صاحب تو یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں ڈر کے مارے کسی اور شہر میں چلی گئی ہوں اور یہ سب بلا وجہ نہیں ہے یار میری بات سمجھیں نا۔’
عشال نے بے چینی سے کہا۔
‘بلکل نہیں۔’
‘یار کیا مسئلہ ہے آپ نہیں چاہتے کہ آپکا فرینڈ تھوڑا سدھر جائے اپنی بیوی پر دھیان دے کر خود بھی خوش رہے اور اسے بھی خوش رکھے؟’
عشال نے اپنی ایڑھیوں پر کھڑے ہو کر سعد کو گھور کر کہا۔
‘چاہتا ہوں لیکن میں اپنے دوست کو جانتا ہوں اس لیے کوئی ضرورت نہیں۔’
سعد نے پھر سے انکار کیا۔
‘کیا یار ہم انہیں تنہائی میں وقت ہی نہیں دیں گے تو کیا خاک آپکا دوست زری کے پاس جائے گا اسے اپنی محبت جتائے گا اس کے لیے انہیں تنہائی اور خوبصورت سا ماحول دینا پڑے گا تا کہ وہ دونوں۔۔۔۔۔’
عشال اپنی بے باکی میں بہت کچھ بول چکی تھی اور اسکا اندازہ ہوتے ہی اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا اور دہکتے گالوں کے ساتھ سعد کی طرف اپنی پیٹھ کر لی۔
‘مجھے تم بے وقوف لگتی تھی لیکن میں غلط تھا لڑکی تم بے وقوف نہیں ہو۔’
سعد نے کافی نرمی سے کہا تو عشال مڑ کر اسے خوشگوار حیرت سے دیکھنے لگی۔
‘بلکہ اول درجے کی بے حیا لڑکی ہو کم از کم اپنا یہ منہ کھولنے سے پہلے چار ہزار مرتبہ سوچا کرو۔’
سعد وہاں سے مڑ کر جانے لگا۔
‘اچھا اچھا سوری نا پلیز اب ایسا نہیں کرتی آپ پلیز صرف ایک دفعہ میری بات مان لیں اس کے بعد نہ تو کبھی پریشان کروں گی اور نہ ہی کبھی زیادہ بولوں گی پلیز۔’
عشال نے منتیں کرتے ہوئے اپنے ہاتھ بھی جوڑ دیے۔سعد نے کچھ دیر سوچا اور پھر کہا۔
‘نو سوری۔۔۔’
سعد پھر سے جانے کے لئے مڑا ۔
‘ٹھیک ہے پھر میں آپکے دوست کو بتا دیتی ہوں کہ آپ سوچتے ہیں کہ سکندر وہ ہے اور دعا بھی کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کیونکہ آپکا انکی مدد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔’
عشال نے اپنا سب سے قیمتی پتہ بھی پھینک دیا جو کہ اسکے کام بھی آیا تھا۔
‘تمہیں کیسے پتہ۔۔۔؟’
‘ابھی دروازے کے پیچھے کھڑے ہو کر سنا کان تیز ہیں میرے۔’
عشال نے کافی فخر سے کہا۔سعد نے ایک گہرا سانس لیا۔
‘ٹھیک ہے پھر کچھ الٹا ہوا تو اسکی زمہ دار تم ہو گی۔’
عشال نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔سعد نے غصے سے اس پٹاخہ کو گھورا اور وہاں سے چلا گیا۔
‘اب آیا نا ایجنٹ پہاڑ کے نیچے۔’
عشال مسکرا کر کہتی زرش کے کمرے کی طرف چل دی۔اب اسے بہت سی تیاریاں کرنی تھیں۔
🌈🌈🌈
(ماضی)
ہاشم اپنے سب سے اچھے دوست میجر منور سے ملنے آیا تھا جسکی ڈیوٹی انہیں کے ایک ایریا میں الیکشن کمپین پر نکلنے والی عوام کی حفاظت پر لگی تھی۔ہاشم کو اس سب میں کوئی دلچسپی تو نہیں تھی مگر میجر منور اسکا بہت اچھا دوست تھا اور ہاشم کا مقصد صرف اس سے ملنا تھا۔
‘اچھا تم زرا یہ سیاسی تقریریں وغیرہ اینجوائے کرو میں سیکیورٹی کے انتظامات پر نظر ثانی کر لوں۔’
میجر منور کے کہنے پر ہاشم نے برا سا منہ بنا لیا۔
‘تمہیں پتہ ہے کہ مجھے اس سب میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔’
ہاشم نے بے زاری سے کہا۔
‘بس پانچ منٹ۔’
میجر منور اتنا کہہ کر جا چکا تھا۔ہاشم کافی دیر ادھر ادھر دیکھتا رہا پھر اچانک اسکی نظر ایک نو یا دس سالہ بچے پر پڑی جو گرمی کے موسم میں بھی ایک جیکٹ پہنے ہوئے تھا اور ایک مردے کی ماند اس ہجوم کی طرف چلتا آ رہا تھا لیکن پھر اپنا ارادہ بدل کر بلکل ہی مخالف سمت کی طرف چل دیا۔
ہاشم کو یہ بہت عجیب لگا تھا اسی لیے وہ اس بچے کے پیچھے جانے لگا جو اب ایک سنسان سے اجاڑ گھر کی طرف جا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اپنی جیکٹ اتار رہا تھا۔ہاشم کی نظر اسکے جسم پر بندھے بم پر پڑی تو وہ بنا کچھ سوچے سمجھے اس بچے کی طرف لپکا اور اسے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا اور اس بم کو دیکھنے لگا۔جو صرف چار منٹ میں پھٹنے والا تھا۔
‘آپ یہاں سے چلیں جائیں ورنہ آپ بھی مر جائیں گے۔’
بچے نے انتہائی سپاٹ انداز میں کہا تھا۔مگر ہاشم کا سارا دھیان اس بم ہر تھا۔اسے ان چیزوں کا بلکل بھی علم نہیں تھا ۔اس نے سوچا کہ جا کر منور کو بلا لائے لیکن بچے کے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔
‘اپنی جان کی پروا نہیں تمہیں۔’
ہاشم نے پریشانی سے پوچھا۔
‘نہیں میں مرنا چاہتا ہوں۔’
وہ ہاشم کو کہیں سے بھی ایک بچہ نہیں لگ رہا تھا۔
‘مرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں حرام کی موت ہے۔کم از کم حلال کی موت تو مرنا۔’
ہاشم نے غصے سے کہا اور پھر سے بم کو دیکھنے لگا وقت بہت کم رہ چکا تھا۔
ہاشم کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے اپنے گلے میں چین کے ساتھ موجود بلیڈ سے جیکٹ کو کمر کی طرف سے کاٹ دیا اور اسے اس بچے سے جدا کر کے اس بلڈنگ کی طرف پھینکا اور بچے کو اٹھا کر وہاں سے بھاگ کر اپنی گاڑی کی طرف آ گیا۔کچھ دیر بعد اس بلڈنگ میں زور دار دھماکہ ہوا جس سے بہت زیادہ بھگدڑ مچ گئی۔لیکن ہاشم اس بچے کو اپنی گاڑی میں بیٹھا کر وہاں سے جا چکا تھا۔
‘نام کیا ہے تمہارا؟’
تھوڑی دور جا کر ہاشم نے اپنی بھاگتی ہوئی دھڑکنوں کو قابو میں کر کے پوچھا لیکن مقابل نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
‘بیٹا پلیز بتاؤ مجھے کہ نام کیا ہے تمہارا۔’
ہاشم نے پریشانی سے اس بچے کو دیکھا جو کہ اسے دماغی طور پر درست نہیں لگ رہا تھا۔
‘کوئی نام نہیں ہے میرا۔’
لہجہ ہر قسم کے جزبات سے عاری تھا۔ہاشم نے باقی کا سفر خاموشی سے گزارا اور اس بچے کو سیدھا اپنے گھر لے آیا۔
‘دیکھو بچے میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو یا تم پر کیا کچھ بیتا ہے میں بس اتنا جانتا ہوں کہ تمہیں کسی کے ساتھ کی ضرورت ۔۔۔۔’
‘مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے کوئی نہیں چاہیے مجھے۔’
اس معصوم کی نظروں کے سامنے اپنی ماں کا بے جان وجود گھوم گیا تھا۔اسکی گردن سے نکلتا خون،اسکی بند ہوتی آنکھیں۔مگر یہ درد ناک یادیں بھی اسکی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں لا پائی تھیں۔وہ بچہ اندر سے مر چکا تھا اور مردے رویا نہیں کرتے۔
‘پھر یہ سمجھ لو کہ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔میرا ایک بیٹا تھا وجدان دو سال پہلے بیمار ہو کر اسکی موت ہو گئی۔اب میری بیوی اسکی یاد سے نہیں نکل پا رہی اور حد سے ذیادہ بیمار ہے۔’
ہاشم کو اپنی بیوی گل بانو کا خیال آیا جسے بیٹے کی موت کے صدمے نے پاگل بنا دیا تھا۔
‘شاید تمہیں اگر میں وجدان بنا کر لے جاؤں تو وہ ٹھیک ہو جائے۔’
ہاشم کی آواز غم سے رندھ چکی تھی لیکن اس بچے کے چہرے پر ابھی بھی کوئی تاثر نہیں آیا تھا۔
‘بولو بنو گے میرا وجدان؟’
ہاشم صاحب نے بہت امید سے پوچھا لیکن ابھی بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ہاشم نے ایک گہرا سانس لیا۔
‘دیکھو میرے بچے زندگی میں ایسے موڑ آ جاتے ہیں جب ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگی کا کوئی مقصد نہیں رہا لیکن ایسا نہیں ہے زندگی بے مقصد چیز نہیں ہے بس ہمیں امید کی ایک کرن کی ضرورت ہوتی ہے۔’
ہاشم نے مسکرا کر کہا لیکن ابھی بھی وہ بچہ بت بنا سامنے دیکھ رہا تھا۔ہاشم نے گہرا سانس لے کر گاڑی سٹارٹ کرنا چاہی۔
‘میرے پاس نہیں ہے ۔۔۔۔۔ کوئی مقصد ،کوئی امید نہیں ہے۔کچھ بھی نہیں ہے میرے پاس۔’
اس بچے نے بہت زیادہ سنجیدگی سے یہ بات کی تھی۔
‘تو پھر جنہوں نے تم سے یہ سب چھینا ہے انکی بربادی کو اپنا مقصد بنا لو۔’
ہاشم نے غصے سے کہا تو پہلی بار اس بچے نے پلٹ کر ہاشم کو دیکھا تھا۔
‘میں کمزور ہوں۔’
اس کے لہجے میں اب غم تھا جو ہاشم کے دل کو لگا تھا۔
‘ہمیشہ نہیں رہو گے خود کو طاقت ور بنا لینا اور ویسے بھی میرا وجدان کبھی بھی کمزور نہیں ہو سکتا۔’
ہاشم نے عام سے انداز میں مسکرا کر کہا اور گاڑی سٹارٹ کر لی۔اس بچے نے بھی بہت سوچ کر سکندر الفاظ درانی کو وہیں چھوڑا اور خود وجدان خان بن کر ہاشم کے ساتھ نئی زندگی کی جانب چل دیا۔
🌈🌈🌈🌈
سعد نے وجدان کو سکندر کے بارے میں کچھ شبہات بتائے تھے جن کا جائزہ لینے کے لئے وجدان سارا دن گھر سے باہر رہا تھا لیکن اسکا کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا تھا۔وجدان رات کے گیارہ بجے گھر آیا تو گھر میں بلکل اندھیرا تھا جو کہ بہت حیرانی کی بات تھی۔اس لئے وجدان ایک پل میں چوکنا ہوا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔اپنے کمرے میں داخل ہو کر وجدان نے لائٹ آن کی تو اپنے کمرے کا منظر دیکھ کر وہ ٹھٹھکا تھا۔
پورے کمرے کو پھولوں سے سجایا گیا تھا اور کمرے کے عین وسط میں ایک ٹیبل پر ریڈ کلر کا کیک بھی موجود تھا۔وجدان ایک گہرا سانس لے کر اس کیک کی طرف چل دیا۔ اسکا دل کر رہا تھا کہ پورے کمرے کی سجاوٹ کو تہس نہس کر دے یا پھر اس سجے ہوئے ماحول میں اس لڑکی کے ساتھ وہ سلوک کرے کہ اس کے سامنے آنے سے پہلے وہ ہزار مرتبہ سوچے۔اچانک ہی اس کی نظر کیک کے پاس موجود خط پر پڑی تو وجدان نے اسے اٹھا کر پڑھنا شروع کیا۔
‘اسلام و علیکم۔
میں جانتی ہوں کہ آپکو یہ سب اچھا نہیں لگے گا اور شاید آپ مجھ سے ناراض بھی ہو جائیں۔۔۔۔۔۔ لیکن میں پھر بھی آپکو کچھ کہنا چاہتی ہوں ۔میں جانتی ہوں کہ آپ سوچتے ہیں کہ یہ سب میری محبت نہیں میرا بچپنا ہے۔شاید ایسا ہی ہو۔۔۔۔محبت کیا ہے یہ تو میں جانتی بھی نہیں۔۔۔۔۔بس وہی بیان کر سکتی ہوں جو میں نے آپکے لیئے محسوس کیا۔پھر آپ مجھے بتا دینا کہ یہ محبت ہے یا نہیں۔
محبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں کہوں کہ ہمیشہ سائے کی طرح میرے ساتھ رہنے والا ڈر اور خوف صرف آپکی موجودگی میں غائب ہو جاتا ہے تو کیا یہ محبت ہے؟
سارا دن ایک بار آپکو دیکھنے کی چاہ میں آپکا انتظار کرنا محبت ہے؟
آپکی آواز سننے پر روح تک کو سکون مل جانا محبت ہے؟
بس آپ کو دیکھنا آپ کو ہی سننے کی خواہش کرنا محبت ہے؟
یا صرف آپسے بات کرنے کی خواہش میں خدا سے اپنے لیے آواز مانگنا محبت ہے؟
اب آپ ہی مجھے بتا دیں کہ یہ سب محبت ہے یا بچپنا۔کیونکہ یہ احساسات میرے دل میں ہی نہیں میری روح میں بھی بسے ہیں۔
آپکی نورِ زرش۔
خط کو ختم کرتے ہی وجدان کو اپنے پیچھے سے چوڑیوں کی کھنک سنائی دی اور خوشبو کا ایک جھونکا اسکے پاس سے گزرا تھا۔وجدان نے مڑ کر دیکھا تو اسکی نظریں بغاوت پر اتر آئیں اور اس نازک سراپے سے پلٹنا بھول گئیں۔زرش سرخ رنگ کے خوبصورت شارٹ فراک اور کیپری پر دوپٹہ کندھوں پر پھیلائے کھڑی تھی۔مناسب سے میک اپ اور جیولری نے اسکے حسن کو مزید دو آتشنہ بنا دیا تھا۔حسن کی مورت بنی وہ نازک سی لڑکی کسی کے بھی دل میں اتر سکتی تھی۔ لیکن سامنے موجود پتھر دل انسان نے اپنی مٹھیاں غصے سے کسی تھیں۔اسکے چہرے پر بے انتہا غصہ دیکھ کر زرش گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹی تھی لیکن وجدان نے غصے سے آگے بڑھ کر اسکی بازو کو اتنی سختی سے پکڑا تھا کہ اسکی انگلیاں زرش کے بازو میں پیوست ہو گئیں۔
‘یہ سب کیا ہے؟’
وجدان نے ایک نظر زرش کے سجے ہوئے نازک سے سراپے کو اور دوسری نظر اس خط کو دیکھا جس میں زرش نے اپنی معصوم محبت کا اظہار کیا تھا۔
‘جواب دو۔’
زرش جو کہ اسکی آنکھوں سے نکلتے شراروں سے خائف ہو رہی تھی اسکے اسطرح سے چلانے پر باقائدہ کانپنے لگی۔لیکن اسے اپنی محبت کا اظہار کرنا تھا اس پتھر دل کو اپنی معصوم محبت کا احساس دلانا تھا۔
آپ سے محبت کرتی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔اس لئے کیا یہ سب۔
زرش نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے اسے اشارہ کر کے بتایا۔وجدان نے اس اشارے کو سمجھتے ہی سختی سے اسے کندھوں سے تھام کر دیوار کے ساتھ لگایا۔زرش نے کبھی بھی اس سرد مہر شخص کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا اور آج اسکی آنکھوں میں غصے کا لاوا ابل رہا تھا۔
‘کس ناطے سے محبت کرتی ہو تم مجھ سے۔حثیت کیا ہے تمہاری۔جان سے مار دوں گا اگر دوبارہ مجھ سے کوئی ایسی بات کہی تو۔نفرت ہے مجھے تم سے،تمہارے وجود سے،تمہاری اس شکل سے۔
وجدان کی باتوں پر زرش اندر تک کانپ کر رہ گئی۔اسکے دل اور محبت کا وہ شخص اپنی باتوں سے بہت بے دردی سے قتل کر چکا تھا۔زرش نے اپنے خاموش لب کھولے تھے لیکن جب کوئی آواز باہر نہ آئی تو وہ پھر سے بے آواز آنسو بہانے لگی۔مگر اس نے بھی خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہار نہیں مانے گی۔
آپ شوہر ہیں میرے۔۔۔۔۔۔اس لیے محبت کرتی ہوں آپ سے۔
زرش نے اسے خود سے دور کر کے اشارہ کیا تھا اور اب وجدان کا بھاری بھرکم ہاتھ اسکی گردن پہ تھا۔
‘ایسا صرف تمہیں لگتا ہے۔۔۔۔۔جسے تم رشتہ سمجھ رہی ہو وہ میرے لیے صرف ایک سمجھوتا ہے اور کچھ نہیں۔میری نظر میں نہ تو تمہاری کوئی اوقات ہے اور نہ ہی تمہاری محبت کی۔بول تو سکتی نہیں تم اور چاہتی ہو کہ میں ایک گونگی لڑکی کو اپنی بیوی مان لوں؟؟؟ کبھی نہیں۔۔۔۔ یہ رشتہ ایک گالی ہے میرے لیے۔’
وجدان نے اسکی آنسوؤں سے بھری نگاہوں میں جھانک کر اسکی محبت ،اسکی چاہت کا گلا گھونٹا۔زرش کے گلے میں موجود آنسوؤں کا گولا اسکی سانسیں روک رہا تھا۔
‘چلی جاؤ یہاں سے اور اگر اب کبھی مجھے اپنی یہ شکل دیکھائی نا تو اپنے ہاتھوں سے مار کر پھینک دوں گا۔اس لئے اپنی یہ شکل گم کرو یہاں سے۔۔۔۔۔۔دفع ہو جاؤ۔۔۔۔۔’
وجدان ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوا تھا۔جبکہ زرش نے ایک بار پھر سے کچھ کہنے کے لیے اپنے خاموش لب کھولے تھے۔
‘جاؤ۔’
وجدان غصے سے چلایا تو زرش روتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔جس کو وہ جی جان سے چاہتی تھی آج وہ ہی اس پر کیچڑ اچھال کر اسے اسکی اوقت دیکھا چکا تھا۔اسے اپنا وجود بہت ہی ذیادہ بے معنی لگ رہا تھا۔یہ سب اسکے بے آواز ہونے کی وجہ سے ہی تو ہو رہا تھا۔اگر اس جلاد RB نے زرش کے جسم کو داغ کر اس سے اسکی آواز،اسکی عزت اور جینے کا حق چھین لیا تھا تو اس سب میں اسکا کیا قصور تھا۔زرش اسطرح سے اب مزید جینا نہیں چاہتی تھی۔اپنی مری ہوئی محبت کے ساتھ وہ خود کو بھی ختم کرنا چاہ رہی تھی اور اگر خودکشی حرام نہیں ہوتی تو زرش اب تک ہزار دفعہ مر چکی ہوتی۔
گھنٹوں اپنے گھٹنوں میں سر دے کر رونے کے بعد زرش نے ایک فیصلہ کر لیا تھا ۔وہ اس شخص کے لئے ایک سمجھوتا یا گالی بن کر نہیں رہنا چاہتی تھی۔اگر وہ اس سے نفرت کرتا تھا تو کیوں وہ اسے خود سے محبت کروائے کیوں پہلے سے بکھری ہوئی اپنی عزت کا مزید تماشا بنوائے۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں اب وہ مزید وجدان خان پر بوجھ نہیں بنے گی ۔۔۔۔۔۔۔ وجدان اسکی شکل نہیں دیکھنا چاہتا تھا نا تو اب وہ کبھی بھی اسے اپنی شکل نہیں دیکھائے گی۔۔۔۔۔
یہ سوچتے ہی زرش نے اپنے آنسو پونچھے اور اٹھ کر الماری میں سے کچھ پیسے اور چادر نکالی۔چادر اوڑھ کر وہ بہت خاموشی سے باہر کے دروازے کی طرف گئی۔ پھر سے اپنے آنسو صاف کر کے اسنے دروازے کا لاک کھولا اور ایک آخری نگاہ وجدان کے کمرے کی طرف دیکھ کر وہ روتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔اسکی منزل کہاں تھی؟یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھی۔
