Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
‘سر سلمان شیخ صاحب کا کچھ پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں پر چلے گئے ہیں۔ابھی کچھ دن پہلے وہ لوگ اپنے گھر سے صبح سویرے نکل گئے تھے۔ہم نے انکے رشتہ داروں کے ہاں بھی پتہ لگانے کی کوشش کی لیکن کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا۔’
وہ آدمی خوف سے کانپتے ہوئے سر جھکا کر ٹریڈ مل پر بھاگتے ہوئے آر بی کو سب بتا رہا تھا۔آر بی کی دہشت سے تو سب واقف تھے۔اسکی دہشت دوسرے ملکوں میں بھی پھیلی ہوئی تھی ۔نہ صرف برے لوگ بلکہ بہت سے مہذب سیاستدان، وکلا ، بیروکریٹس آر بی کے ذریعے اپنا کام نکلواتے ۔تقریباً ہر برا کام کرنے والا آدمی آر بی کے کنٹرول میں تھا لیکن اس سب کے باوجود آر بی کی اصلی پہچان کے بارے میں اس کے سب سے خاص اور بھروسہ مند آدمیوں کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔
‘تمہیں صرف ایک کام سونپا تھا نا میں نے کہ سلمان صاحب پر نظر رکھنا وہ بھی ٹھیک سے سر انجام نیں دے پائے تم۔’
آر بی ٹریڈ مل سے اترا اور پاس کھڑے نوکر سے ٹاول لے کر اپنے سینے پر آیا پسینہ صاف کرنے لگا۔35 سالہ وہ مرد وجاہت اور امیری کی نشانی تھا لیکن اس اب کے ساتھ ساتھ وہ کمینگی اور شیطانی کا مجسمہ بھی تھا۔
‘مم معاف کر دیں سر۔۔۔’
وہ آدمی اب باقاعدہ رونے لگا تھا۔
‘معافی ۔۔۔۔ ہممم۔ معافی لفظ کیا ہوتا ہے ؟ میں نے تو آج تک نہیں سنا۔’
آر بی نے پاس پڑے ٹیبل سے ایک بلیڈ اٹھایا۔
‘نن ننہیں سر رحم کریں پلیز۔’
وہ شخص گھٹنوں پر بیٹھ کر رونے لگا تو آر بی مسکرا کر اس بلیڈ سے کھیلنے لگا۔
‘کر دیتا رحم یار میں یقین جانو مجھے رحم آ بھی رہا ہے تمہاری حالت پر۔’
آر بی نے اسکے سامنے کھڑے ہو کر منہ بنا کے کہا لیکن رحم کے آثار اسکے چہرے پر دور دور تک نہیں تھے وہاں وحشت تھی صرف وحشت۔
‘لیکن وہ کیا ہے نا کہ تو نے جس معاملے میں کوتاہی کی ہے وہ آر بی کے لیے سب سے اہم تھا۔ایسا سمجھ کہ اپنی سب قیمتی شے کی نگرانی پر بیٹھایا تھا تجھے اور تو وہی نہیں کر سکا۔’
آر بی گھٹنوں پر بیٹھ کر اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔وہ آدمی زارو قطار رو رہا تھا۔
‘اب مجھے اپنی نور زرش کو ڈھونڈنا پڑے گا اسکا انتظار کرنا پڑے گا اور تو نے میری بے چینی کو مزید بڑھا دیا۔بہت بڑا گناہ ہے تیرا۔’
آر بی نے اسکو بالوں سے پکڑ کر اسکا سر اونچا کیا اور اسکی گردن پر بلیڈ اتنی آہستہ سے پھیرا کہ وہ فوراً نہ مر سکے بلکہ آہستہ آہستہ اسے اسکی موت نصیب ہو۔اسے تڑپتا چھوڑ کر آر بی کھڑا ہو گیا۔
‘فیض پتہ کرو کہ سلمان کہاں لے گیا ہے میری زرش کو ۔ہر شہر ہر جگہ پر ہمارا آدمی ہونا چاہئے۔اسکی ایک جھلک پر وہ اٹھا کر میرے پاس لائی جائے۔’
آر بی حکم دیتا پھر سے ٹریڈ مل پر بھاگنے لگا۔
‘سر ایک اور مسئلہ ہے ۔’
فیض بھی تھوڑا گھبرایا ہوا تھا۔
‘سر کوئی ہے جس نے ہمارے کافی خاص بندوں کو ختم کر دیا ہے ہماری جیب میں پڑے بہت سے وکلا ،سیاست دان اور جج وغیرہ۔ویسے تو یہ بات صرف آرمی اور حکومت کے درمیان ہے لیکن پھر بھی ہمارا آدمی معلوم کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔’
‘کون ہے وہ؟’
آر بی نے زیادہ توجہ نہیں دی تھی کیونکہ اسے اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔اسکے تلوے چاٹنے والے کچھ غلام مر گئے تو کیا وہ جلد ہی نئے بنا لے گا۔ویسے بھی ان سب میں سے اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا تھا۔کسی نے تو اسکی شکل تک نہیں دیکھی تھی پھر اسے کیا ٹینشن۔
‘یہ بات تو ابھی تک پولیس بھی نہیں جان پائی ۔اسکا تو نام بھی نہیں پتہ تھا کچھ عرصہ پہلے ہی اسکا نام بھی سامنے آیا ہے۔’
فیض نے ساری بات تفصیل سے بتا دی۔
‘ہممم۔۔۔’ آر بی نے عام سے انداز میں کہا۔
‘کوئی سکندر ہے سر۔’
آر بی وہیں رک گیا اور اسے گھور کر دیکھنے لگا۔
‘کون؟’ اس نے دوبارہ پوچھا۔
‘سکندر۔’ فیض نے اپنی بات دہرائی۔
‘پتہ لگواؤ اسکا بھی اور زندہ پکڑنا ہے اسے۔’
آر بی کے چہرے پر عجیب سی شیطانی آئی۔
‘جی سر۔’
فیض اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے چلا گیا۔
‘تم کہاں سے نکل آئے سکندر الفاظ درانی تمہیں تو کتے کی موت مارا تھا۔’
آر بی نے اپنی مٹھیاں بھینچیں۔
‘کوئی بات نہیں تمہیں اس بار جہنم واصل ضرور کر دوں گا۔بچ کر رہنا تم سکندر۔’
آر بی کے چہرے پر بہت ہی زیادہ خوفناک آثار نمایاں ہو رہے تھے۔
🌈🌈🌈
سعد ہیڈ کوارٹر سے باہر آیا تو وجدان گاڑی میں بیٹھا پہلے سے ہی اس کا انتظار کر رہا تھا۔سعد آ کر وجدان کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا تو وجدان نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
‘کافی دلچسپ کام لگ رہا ہے نہیں؟مطلب کوئی کافی شاطر انسان ہے اتنی چالاکی سے سب سر انجام دینا ۔کسی سی سی ٹی وی کیمرہ میں بھی نہیں آیا وہ۔’
سعد نے اس کام میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
‘ہمم۔۔۔۔اسکا مطلب کہ اس سکندر کے ساتھ ضرور کوئی ہیکر بھی شامل ہے یا پھر وہ خود ہی ایک ہیکر ہے۔’
وجدان کی بات پر سعد نے اثبات میں سر ہلایا۔پھر اس کو کرنل صاحب کی باتیں اور وجدان کا ایٹیٹیوڈ یاد آیا۔
‘ویسے کرنل صاحب تمہیں صرف تمہارے نام سے کیوں بلا رہے تھے؟پوسٹ کیا ہے تمہاری؟’ سعد نے کافی دلچسپی سے پوچھا۔
‘میری پوسٹ جان کر کیا کر لو گے کام تو مجھے ہی اہم ملا ہے نا تم تو میری ایسسٹینس میں ہو۔’
وجدان نے سعد کا زخم کھریدا۔
‘تم بہت کچھ چھپاتے ہو وجدان خان۔۔۔۔چلتا پھرتا راز ہو تم۔’
سعد اسکے بات بدلنے کے جھانسے میں نہیں آیا تھا۔
‘دعا کرو کہ میرے راز کبھی جان بھی نہ پاؤ بہتر ہو گا تمہارے حق میں۔’
وجدان کینٹ ایریا میں کرنل آصف صاحب کے گھر کی طرف مڑا تو سعد اسے حیرانی سے دیکھنے لگا۔
‘ہم یہاں کیوں جا رہے ہیں؟’
سعد نے حیرانی سے پوچھا۔
‘کرنل آصف کو کام تھا تم سے۔’
وجدان کی بات پر سعد نے گہرا سانس لیا لیکن کرنل آصف صاحب سے ملنے کا خیال دلچسپ تھا۔
‘مگر تمہارے نکاح کا کیا؟’ سعد حیران ہوا۔
‘تمہیں نکاح کے بارے۔۔۔۔شایان۔۔۔’ وجدان نے خود ہی اندازہ لگا لیا تھا۔
‘فکر مت کرو تمہارے بغیر بھی ہو جائے گا میرا نکاح ابھی زرا اپنے کام پہ دھیان دو ۔کرنل آصف صاحب کے پاس وہ لڑکی موجود ہے جس نے سکندر کو دیکھا ہے۔وہ لڑکی ضرور کچھ اہم جانتی ہو گی ۔اس سے اس بارے میں جتنا جان سکتے ہو جان لینا۔’
وجدان نے گاڑی کرنل آصف صاحب کے گھر کے باہر کھڑی کی۔سعد گاڑی سے باہر نکلا اور پھر مڑ کر وجدان کو دیکھا۔
‘امید ہے جلد ہی پکڑ لو گے تم اس چالاک سے سکندر کو ۔ہوشیار تو تم بھی بہت ہو وجدان اب دیکھنا یہ ہے کہ تم دونوں میں سے ذیادہ بہتر کون ہے۔’
سعد کی بات پر وجدان کی آنکھوں میں وہی مخصوص چمک آئی تھی۔لیکن کوئی بھی جواب دیے بغیر وجدان وہاں سے چلا گیا۔
🌈🌈🌈🌈
سعد کرنل آصف علی کے گھر داخل ہوا تھا۔چوکیدار نے اسے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا تھا۔سعد لاؤنج میں داخل ہوا تو اسکی نظر ایک لڑکی پر پڑی جو بڑا سا نظر کا چشمہ لگائے مزے سے صوفے پر بیٹھ کر میز پہ ٹانگیں رکھے کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔
‘آپ بیٹھیں کرنل صاحب ابھی آ جائیں گے۔’
ملازمہ کے کہنے پر سعد اثبات میں سر ہلا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔سعد کے بیٹھتے ہی اس لڑکی نے اپنے چہرے کے سامنے سے کتاب ہٹائی اور اپنے پاؤں فرش پر رکھے۔اس نے سعد کو کافی دیر دلچسپی سے دیکھا اور پھر اپنے بال ٹھیک کر کے ایک ادا سے اپنا ہاتھ سعد کے آگے کیا۔
‘ہائے آئی ایم عشال۔’
سعد نے اس لڑکی کو دیکھا جو جینز پر شارٹ فراک کے ساتھ گلے میں ایک سکارف لپیٹے اپنا چھوٹا سا ہاتھ اسکی طرف بڑھا رہی تھی۔سعد کو اس طرح کی بے باک لڑکیوں سے سخت چڑ تھی جو اپنا آپ ظاہر کرنے کو فیشن کا نام دے دیتی تھیں۔
‘و علیکم السلام۔’
سعد نے ہاتھ ملائے بغیر اسے طنز کیا تھا۔
‘اوپس مجھے لگا کہ آپ باقی پڑھے لکھے لوگوں کی طرح ہیلو ہائے کرتے ہوں گے۔’
عشال نے اپنا گول سا چشمہ سیدھا کیا تھا۔
‘پڑھائی ہماری تہذیب اور دین کی تعلیمات سے دور جانے کا درس نہیں دیتی۔یہ ہمارے دماغوں کا فتور ہے۔’
سعد کی بات پر عشال دلچسپی سے اپنی ٹھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسے دیکھنے لگی۔
‘فلاسفی کے لیکچرار ہو کیا آپ؟باتیں تو شاندار کر رہے ہو۔’
عشال نے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر کہا لیکن اس سے پہلے کہ سعد اسے کوئی جواب دیتا کرنل آصف علی مسکراتے ہوئے سعد کے قریب آئے۔سعد نے فوراً کھڑے ہو کر انہیں سیلیوٹ کیا۔
‘کیسے ہیں آپ کیپٹن سعد؟’
کرنل صاحب نے سعد کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
‘ الحمداللہ سر بلکل ٹھیک۔’
سعد کا انداز بہت مہزبانہ تھا اور ہوتا بھی کیوں نہ سعد آ ج جس مقام پر تھا انہیں کی وجہ سے تو تھا۔اسی شخص نے اس بھٹکے بچے کو ایک سیدھی راہ دیکھائی تھی۔کرنل آصف نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
‘اچھا تو آرمی میں ہیں آپ۔کوئی شکوہ نہیں آپ لوگ تو پیدائشی سنجیدہ ہوتے ہیں۔’
عشال نے ایک طائرانہ نظر سعد کو دیکھ کر کہا تو آصف صاحب ہنس دیے۔
‘یہ تو اچھا ہوا بھئی کہ آپ دونوں کی ملاقات ہو گئی۔ آسانی ہو جائے گی آپ دونوں کے لیے۔کپتان یہ عشال درانی ہیں اور عشال بیٹا یہ کیپٹن سعد رفیق ہیں۔’
کرنل صاحب نے دونوں کا تعارف کروایا۔عشال نے جواب میں اسے منہ چڑا کر دیکھا۔
‘عشال جائیں آپ کافی بنا کر لائیں اپنے ہاتھوں سے۔’
عشال نے کتاب میز پر رکھی اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔اسکی گھٹنوں سے کہیں اوپر فراک کو دیکھ کر سعد کی نظریں خود بخود جھک گئی تھیں۔
‘سعد بیٹا آپ سے بہت ضروری کام تھا مجھے۔’
کرنل آصف صاحب سعد کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولے۔
‘جی سر آپ حکم کریں۔’
سعد نے مسکرا کر کہا۔
‘بیٹا عشال کی جان خطرے میں ہے ۔جس سکندر کے بارے میں اس نے پولیس کو بتایا اب وہ عشال کی جان لینے کے در پہ ہے۔ہمارے ایک بہت عزیز دوست نے ہی عشال کو حفاظت کے لیے ہمارے پاس بھیجا تھا لیکن پتہ نہیں کیسے وہ شخص یہاں بھی پہنچ گیا۔عشال مرتے مرتے بچی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ ایسا دوبارہ ہو اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم اسے کچھ عرصہ اپنے پاس رکھ لو۔اسکی حفاظت کرو۔’
سعد نے ضبط سے اپنی مٹھیاں کسیں کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کرنل صاحب کو وہ منع نہیں کر پائے گا۔ان کے بہت احسان تھے سعد پر۔
‘بیٹا میں آپ کو مشکل میں نہیں ڈالتا لیکن جوان لڑکی ہے میں کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتا۔لیکن اگر تمہیں کوئی دقت ہے تو میں۔۔۔۔’
‘نہیں سر آپ پریشان مت ہوں میں اپنی پوری کوشش کروں گا اسے حفاظت میں رکھنے کی۔’
سعد نے مسکرا کر کہا لیکن وہ مسکان اسکی آنکھوں تک نہیں پہنچی تھی۔تبھی عشال کافی کے دو مگ لے کر لاؤنج میں داخل ہوئی اور دونوں مگ ٹیبل پر رکھے۔
‘عشال بیٹا یہاں آؤ۔’
عشال مسکرا کر کرنل آصف کے پاس بیٹھ گئی۔
‘بیٹا آپ اپنا سامان پیک کر لیں۔آپ کو ان کے ساتھ جانا ہے۔مجھے پورا یقین ہے کہ سعد آپکی حفاظت کا ذمہ بخوبی سر انجام دے لیں گے۔’
عشال نے ناک چڑھا کر سعد کو سر سے پیر تک دیکھا۔
‘ارے اصفی انکل میں نے تو کسی سیکرٹ ایجنٹ کے پاس نہیں جانا تھا۔فون پر تو آپ یہی بات کر رہے تھے۔’
ایشال نے کمر پر ہاتھ رکھ کر سعد کا باقاعدہ جائزہ لیا تھا۔جبکہ اسکی بات پر کرنل آصف حیران رہ گئے۔
‘تمہیں اس بات کا کیسے پتہ؟؟
‘ارے آپ اپنی سٹڈی میں بیٹھ کر اپنے کولیگ سے بات کر رہے تھے نا تب سنا میں نے۔اب قصور سراسر آپکا ہے بندہ راز کی باتیں آہستہ آہستہ کرتا ہے۔’
کرنل صاحب نے گہرا سانس لیا۔
‘ یہی ہیں وہ ایجنٹ عشال بیٹا لیکن اس بات کا آپ نے ڈھنڈھورا نہیں پیٹنا۔’
آصف صاحب نے ہنس کر کہا تھا۔پچھلے دو مہینوں سے انکے پاس رہتے ہوئے عشال انہیں اپنے بچوں کی طرح عزیز ہو گئی تھی۔اسی لئے تو اس پر جان لیوا حملے کی صورت میں وہ اتنا گھبرا گئے تھے۔
‘لو جی پھر تو اپنے سکندر بھائی کی موج لگ گئی ہے۔پکا اب عشال کا جنازہ نکال ہی لے گا وہ بندہ۔’
عشال نے سعد پر طنز کسا تھا۔
‘نہیں عشال آپ فکر نہیں کرو بچہ بہت ذیادہ خیال رکھیں گے یہ آپکا بلکل محفوظ رہو گی آپ انکے پاس۔’
کرنل صاحب نے مسکرا کر سعد کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
‘ چلیں آپ کہتے ہیں تو مان لیتی ہوں اصفی انکل ورنہ گٹس تو ان میں بلکل بھی نہیں لگتے مجھے۔’
عشال منہ بنا کر کہتی ہوئی اپنا سامان پیک کرنے چلی گئی تھی جبکہ سعد ضبط سے اپنی مٹھیاں کستا رہ گیا تھا۔وہ نہیں جانتا تھا کہ اس مصیبت کو کب تک جھیلنا تھا۔
‘اسکی باتوں پر مت جائیے گا کپتان۔کافی چلبلی سی ہے اور جلدی ڈر جاتی ہے۔پتہ نہیں کیسے وہ شخص ساری سیکیورٹی کے باوجود یہاں پر حملہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔لیکن اب مجھے پوری امید ہے کہ آپ عشال کا بہت زیادہ خیال رکھیں گے اور ویسے بھی کرنل صاحب نے مجھے بتایا ہے کہ اس شخص کا پتہ بھی آپ دونوں ہی لگا رہے ہیں تو جیسے ہی وہ پکڑا جائے آپ عشال کو واپس یہاں بھیج دیجئے گا۔’
‘جی سر۔۔’
سعد کے ایسا کہنے پر آصف صاحب نے اسکا کندھا تھپتھپایا اور مسکرا دیے۔جبکہ سعد تو صرف یہ سوچ رہا تھا کہ نہ جانے کتنا عرصہ اسے اس آفت کو برداشت کرنا پڑے گا۔
🌈🌈🌈🌈
زرش حیرانی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی جو کہ ابھی اس کے سامنے ایک سنہری عروسی جوڑا رکھ کر گئی تھیں۔اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسکا کا نکاح ہونے جا رہا ہے وہ بھی اس شخص کے ساتھ جس کو بچپن سے اس نے اپنے ہر خواب میں دیکھا تھا۔مگر یہ رشتہ تو زبردستی جوڑا جا رہا تھا نا بھلا کوئی بھی شخص کیوں اس تباہ حال گونگی لڑکی کو اپنی بیوی بنانا چاہے گا۔
‘زرش نکاح شروع ہونے والا ہے تیار ہو جاؤ ۔’
فاطمہ بیگم نے بہت محبت سے کہا تھا لیکن زرش ابھی بھی انکار میں سر ہلا رہی تھی۔وہ زبردستی کسی کی زندگی میں شامل نہیں ہونا چاہتی تھی۔
‘فاطمہ تم باہر جاؤ میں زرش سے بات کرتا ہوں۔’
سلمان صاحب کی آواز پر فاطمہ بیگم نے انہیں مڑ کر دیکھا اور پھر ہاں میں سر ہلا کر باہر کی طرف چل دیں۔
‘کیا بات ہے بابا کی جان۔کیا آپکو وجدان پسند نہیں ہے۔’
سلمان صاحب نے بہت محبت سے زرش کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔زرش نے اپنی آنسوؤں اور کرب سے بھری آنکھیں اٹھا کر سلمان صاحب کو دیکھا۔
اس نے کہا تھا کہ مجھ سے کوئی بھی پیار نہیں کرے گا۔ہر کوئی نفرت کرے گا مجھ سے۔میں کسی کے قابل نہیں ہوں۔
زرش نے زارو قطار روتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اشارے کیے تھے۔
‘نہیں میرا بچہ۔جھوٹ کہا تھا اس نے بلکل جھوٹ۔ تم سے ہم سب بہت ذیادہ پیار کرتے ہیں اور وجدان بھی کرے گا دیکھنا تم۔’
سلمان صاحب نے اپنے آنسوؤں کو ضبط کیا تھا۔وہ جانتے تھے کہ وجدان یہ نکاح صرف شایان کے کہنے پر کچھ عرصہ کے لئے کر رہا تھا۔ لیکن انہیں پورا یقین تھا کہ زرش اسکو خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گی۔
‘یہاں دیکھو بیٹا خود کو کبھی بھی کم تر مت سمجھنا۔تم قیمتی ہو میرا بچہ بہت ذیادہ قیمتی۔اسی وجہ سے وجدان بھی تمہیں پسند کرے گا بس اسے کچھ وقت دو زرش ۔وہ شخص رشتوں سے دور بھاگنے والا ہے۔تم اسے اپنی اہمیت کا احساس دلاؤ رشتوں کی اہمیت کا احساس دلاؤ۔’
سلمان صاحب نے بہت محبت سے اسکے جھکے ہوئے سر ہلا ہاتھ پھیرا۔لیکن زرش ابھی بھی خوف میں مبتلا تھی۔
‘میں جانان کو بھیجتا ہوں تمہارے پاس۔تم تیار ہو جاؤ اور مجھ پر یقین رکھو بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے میں نے۔اللہ تعالی سب بہتر کریں گے۔’
سلمان صاحب نے انتہائی محبت سے اسکے سر پر بوسہ دیا۔زرش نے بھی ایک بار پھر سے اپنے باپ پر یقین کر کے ہاں میں سر ہلایا اور آنے والے وقت کا انتظار کرنے لگی جس نے نہ جانے اپنی اوٹ میں کیا چھپا رکھا تھا۔
🌈🌈🌈🌈
(ماضی)
انکی زندگی میں جو کمی تھی وہ اس چھوٹے سے بچے کو اپنانے کے بعد پوری ہو گئی تھی۔رومان نام رکھا تھا اس بلو کا انہوں نے۔ وہ چھوٹی سی جان انکے لئے بہت ذیادہ اہم ہو گیا تھا اور پیار کا ترسا ہوا وہ بچہ انکے لاڈ پیار اور توجہ کا اس قدر عادی ہو گیا تھا کہ انکو کھونے کا خیال ہی اسے تڑپا دیتا تھا اور یہ شاید اس معصوم پر کی جانے والی عنایتوں کا ہی نتیجہ تھا کہ اس کے آنے کے ایک سال بعد مایوسی کو امید کی کرن مل گئی۔شاہانہ خود بھی امید سے ہو گئیں اور یہ بات درانی مینشن کے ہر باشندے کو اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی دے گئی۔
شاہانہ تو دن رات شکرانے کے سجدوں میں گری رہتی تھیں جبکہ الفاظ کا تو دل کر رہا تھا کہ اپنی پوری دولت دنیا کے ضرورت مندوں پر لٹا دے اور بدلے میں اپنے ہونے والے بچے کی سلامتی کی دعائیں منگوا لے۔ان کو خوش دیکھ دیکھ کر سب سے ذیادہ خوشی رومان کو ہوتی تھی۔
اور پھر وہ وقت بھی آ گیا جب الفاظ اور شاہانہ کے ہاں اس چھوٹے سے وجود نے اس دنیا میں آ کر مزید خوشیاں بکھیر دیں۔الفاظ تو بس اسکی سبز آنکھوں کے سحر میں مبتلا ہو کر رہ گئے تھے۔
‘شاہانہ؟’
الفاظ اپنے نھنھے سے بچے کے گال کو چھوتے ہوئے کہنے لگے۔
‘جی۔’
‘اسکی آنکھیں کس پر چلی گئیں ہم میں تو کسی کی ایسی نہیں۔’
الفاظ کے لہجے میں خوشگوار حیرت تھی۔
‘فکر نہ کریں بچے جب بڑے ہو جائیں تو ان کی آنکھوں کا رنگ بدل جاتا ہے۔’
شاہانہ نے شرارت سے کہا۔
‘خدا نہ کرے ایسا ہے میں تو چاہتا ہوں کہ اسکی آنکھیں ایسی ہی رہیں انتہائی خوبصورت ۔میرا سبز آنکھوں والا شہزادہ۔’
الفاظ نے اسکے گال کو نرمی سے چوما۔تبھی ان کی نظر رومان پر پڑی جو ہاسپٹل کے کمرے کے دروازے میں کھڑا آنکھوں میں آنسو لیے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔الفاظ نے اس بچے کو شاہانہ کو پکڑایا اور خود اٹھ کر رومان کے پاس آئے۔
‘رومان میرے بچے کیا بات ہے۔’
الفاظ نے بہت محبت سے اسکے گال کو چوم کر اسے اپنے ساتھ لگایا۔
‘آپ مجھے پیار نہیں کرتے نا اسے کرتے۔’
رومان کے شکوے پر الفاظ قہقہہ لگا کر ہنس دیے۔
‘کس نے کہا میرے بچے تم دونوں ہی میرے لیے بہت اہم ہو ۔انمول ہو تم دونوں۔چلو اب چپ کرو اور اندر آ کے اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھو۔’
الفاظ نے رومان کا منہ چوم کر اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اور شاہانہ کے پاس بیٹھا دیا۔شاہانہ نے بہت نرمی سے اس بچے کو رومان کی نھنھی سی گود میں دیا۔
‘تو ہم سوچ رہے تھے کہ اسکا نام کیا رکھیں۔بتاؤ سب کیا نام رکھیں اسکا؟’
الفاظ نے مسکرا کر پوچھا۔
‘گڈا۔’ رومان کی بات پر دونوں نے قہقہہ لگایا۔
‘شاہان کیسا نام ہے ؟’
شاہانہ نے اپنا آئیڈیا دیا۔
‘واہ اپنے نام سے میچنگ نام سوچا ہے بیگم لیکن نہیں میں نے تو نام بہت دیر سے سوچ رکھا ہے۔’
الفاظ نے پیار سے اس نھنھی سی جان کو دیکھا۔
‘ہم تو بتائیں پھر۔’
شاہانہ نے بے چینی سے پوچھا۔
‘سکندر ۔۔۔۔ یہ میرا سکندر ہو گا۔سکندر الفاظ درانی۔’
الفاظ کے لہجے میں اپنے چھوٹے سے لعل کے لئے فخر تھا بھر پور فخر۔
🌈🌈🌈
جاری ہے۔۔۔۔
