Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192

Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Last updated: 30 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safar Zeest

By Harram Shah

زرش ابھی تک نہیں سو پائی تھی آر بی کی باتیں اسکی دھمکیوں کا خوف اسکے دل کو دہلا رہا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اسے کیا کرنا ہو گا وہ کس طرح سے اپنی حفاظت کرے؟ یہ خیال آتے ہی زرش پھر سے ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی۔یا اللہ پاک میری مدد کریں کیسے بھی مجھے آزادی دلا دیں آپ تو ہر چیز پر قادر ہیں میری مدد کر دیں۔زرش زارو قطار روتے ہوئے اپنے لیے دعائیں مانگ رہی تھی اور روتے ہوئے کب اسکی آنکھ لگ گئی یہ اسے بھی علم نہیں ہوا۔ہوش تو اسے تب آیا جب کسی نے اسے جھنجوڑ کر اٹھایا۔ 'زرش بی بی جلدی سے اٹھو وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔' زرش نے حیرانی سے چندا کو دیکھا اور اٹھ بیٹھی ۔چندا نے فوراً ایک چادر اس پر اوڑھا کر اسے چھپایا۔ 'چلو زرش بی بی میں تمہیں لینے آئی ہوں جلدی چلو جانا ہے ہمیں یہاں سے۔' چندا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کرنا چاہا تو زرش جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔زرش کے ذہن میں بہت سارے سوال تھے لیکن چندا اسے کوئی بھی وقت دیے بغیر باہر کی طرف لے کر چل دی اور بہت آہستہ سے گھر سے باہر نکل کر اسے ایک دیوار کے پاس لے آئی جسے پھلانگ کر زرش کو وہاں سے جانا تھا۔زرش کو ایک مہینہ یہاں رہتے ہوئے اب پتہ لگا تھا کہ وہ ایک برفانی علاقے میں تھے کیونکہ جس کمرے میں اسے قید کیا گیا تھا وہاں تو ایک کھڑکی بھی نہیں تھی۔ 'باہر عالیہ بی بی کا نوکر آپکا انتظار کر رہا ہے لیکن بی بی جی عالیہ بیگم کا نام بھی زبان پر مت لانا ورنہ وہ وحشی نہ جانے کیا کر گزرے گا۔انہوں نے تو پہلے ہی یہ بغاوت کر کے اپنے سر بہت بڑا خطرہ مول لیا ہے۔۔۔۔چلی جاؤ آپ یہاں سے وہ لڑکا آپکو یہاں سے لے جائے گا۔اب جلدی جاؤ وقت ضائع مت کرو۔۔۔' چندا نے ایک اندھیرے میں لگی سیڑھی کی طرف اشارہ کیا تو زرش نے تشکرانہ نظروں سے اسے دیکھا اور اس سیڑھی پر چڑھنے لگی۔لیکن دیوار کی دوسری طرف کچھ بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے زرش ایک پل کو گھبرائی لیکن پھر ہمت کر کے وہاں سے کود گئی۔اونچی دیوار سے گرنے کی وجہ سے زرش کو کافی چوٹیں بھی آئی تھیں۔جن کو نظر انداز کر کے وہ لڑکھڑاتے ہوئے کھڑی ہو گئی۔جسم سردی کی شدت سے سن ہو رہا تھا۔ 'چلیں بی بی۔' زرش کی ہی عمر کے ایک لڑکے نے اس کے قریب آ کر اسے وہاں سے چلنے کا کہا تو زرش جلدی سے اسکے ساتھ سامنے موجود گاڑی میں بیٹھ گئی۔کچھ دیر بعد ہی وہ لوگ وہاں سے چل پڑے تھے۔ 'میرا نام اسلم ہے بی بی ۔' کار ڈرائیو کرتے ہوئے لڑکے نے بتایا تو زرش نے صرف اثبات میں سر ہلا دیا اور پھر گھبرا کر پیچھے کو دیکھنے لگی۔ 'کتنی مغرور ہے توبہ انسان کچھ کہہ ہی دیتا ہے۔شکریہ تک ادا نہیں کیا نک چڑی کہیں کی۔' لڑکا ہلکی آواز میں بڑبڑایا تھا لیکن چھوٹی سی کار میں زرش وہ بڑبڑاہٹ سن چکی تھی لیکن پھر بھی وہ صرف گھبراتے ہوئے پیچھے ہی دیکھ رہی تھی کہ کہیں کوئی اسکا پیچھا تو نہیں کر رہا۔ 'ارے فکر مت کریں بی بی جی ہم نے اڑن چھو ہو جانا اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگنا دیکھ لینا آپ۔' اسلم نے چہکتی ہوئی آواز میں کہا ۔زرش اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ اسے کہاں چھوڑ کر آئے گا لیکن ابھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکے ہاتھوں کے اشارے دیکھنے کے لیے وہ بندہ ایک پل کے لیے بھی سڑک پر سے دھیان ہٹائے۔ 'اچھا ویسے اتنی مدد کی ہے نام تو بتا دو بی بی۔۔۔۔۔جانتا ہوں کہ مجھے پہلے سے پتہ ہونا چاہیے تھا لیکن مجھے صرف اتنا کہا گیا تھا کہ ایک لڑکی کو وہاں سے لے کر لاہور چھوڑ آؤں اور کچھ بھی نہیں بتایا تھا اور ویسے بھی جتنا بولا جائے اتنا ہی کرتا ہے اسلم زیادہ بک بک کرنے کی عادت نہیں مجھے۔' اسلم نے ایک اور کوشش کی مگر زرش کبھی پیچھے دیکھتی تو کبھی رونے لگ جاتی۔ 'کچھ بول لو بی بی جی لمبا سفر ہے آسانی سے کٹ جائے گا۔' اسلم نے ایک آخری کوشش کی مگر مقابل کی خاموشی دیکھ کر گہرا سانس لے لیا۔ 'آپکی مرضی ہے بھئی ویسے اللہ بچائے ایسے غرور سے۔' اسلم نے سر جھٹک کر کہا جبکہ زرش ابھی بھی روتے ہوئے آیتوں کے ورد کر رہی تھی۔ 🌈🌈🌈🌈