Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
سعد کو اس طرح بے بسی سے انتظار کرنا بہت زیادہ برا لگ رہا تھا ۔وہ چاہ کر بھی کسی طرح سے وجدان کی مدد نہیں کر پا رہا تھا اور یہ اسے بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
‘کیا سوچ رہے ہو سعد؟’
شایان کی آواز پر سعد خیالوں کی دنیا سے باہر آیا اور انکار میں سر ہلانے لگا۔
‘عشال کی وجہ سے پریشان مت ہو سعد جہاں میں نے اسے بھیجا ہے وہ بہت محفوظ جگہ ہے سکندر وہاں نہیں پہنچ سکے گا۔’
شایان کو لگا تھا کہ سعد عشال کو لے کر پریشان ہے ۔
‘میں اس معاملے میں پریشان نہیں ہوں شایان بس وجدان کو لے کر تھوڑا پریشان ہوں۔’
سعد کے چہرے پر سے بلکل بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ تھوڑا سا پریشان ہے۔ شایان نے اسکے کندھے پر مظبوطی سے اپنا ہاتھ رکھا۔
‘تم بہت اچھے دوست ہو سعد بہت ذیادہ اچھے دعا ہے کہ خدا ہر ایک کو تمہارے جیسا مخلص دوست دے۔’
شایان نے مسکرا کر کہا۔سعد کی دوستی کا قرض تو شایان بھی ابھی تک اتار نہیں پایا تھا مگر سعد کو ایسا نہیں لگتا تھا۔
‘شایان۔۔۔’
‘ہمم۔۔۔۔؟؟؟’
‘مجھے لگتا ہے کہ وجدان ہی سکندر ہے۔’
سعد کی بات پر شایان نے حیرت سے سعد کو دیکھا۔
Are you sure?
شایان نے حیرت سے پوچھا۔
Not completely.
لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ ہی سکندر ہے۔’
شایان بھی سعد کی بات پر سوچ میں پڑھ گیا تھا۔
‘اگر وہ سچ میں سکندر ہوا تو؟کیا انجام ہو گا اسکا شایان؟’
سعد کی بات پر شایان کے چہرے پر پریشانی آئی تھی۔
‘موت تک کال کوٹھری مقدر ہے سکندر کا بہت بڑے بڑے لوگوں کی جان لی ہے اس نے سعد اور ایسے بہت سے کیس بھی اس پر ڈل جائیں گے جو اس نے کیے ہی نہیں۔اپنے ملک کی سیاست سے تو تم واقف ہی ہو ۔’
سعد نے بھی پریشانی سے اثبات میں سر ہلایا۔
‘خدا نہ کرے ایسا ہو شایان امید ہے کہ یہ میرا وہم ہی ہو۔’
شایان نے بھی ہاں میں سر ہلایا اور اب سعد کی طرح وہ بھی سوچ میں پڑھ گیا ۔
🌈🌈🌈🌈
وجدان کو کافی دیر رات رکنے کے لیے کوئی ٹھکانہ نظر نہیں آیا تھا اور اس سب پر زرش کے پاؤں کی وجہ سے انہیں بار بار رکنا پڑ رہا تھا اور افق پر آہستہ آہستہ تاریکی کے سائے بھی چھانے لگے تھے۔وجدان ایک پتھر پر بیٹھی ہوئی زرش کے قریب آیا۔
‘چلو نور ہمیں بس تھوڑا سا دور جانا ہے۔’
وجدان کے ایسا کہنے پر زرش کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
مجھ سے نہیں چلا جا رہا۔آپ مجھے یہیں پر چھوڑ جائیں اور خود یہاں سے چلے جائیں۔
زرش کی بات پر وجدان نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا۔
‘میں نے تمہیں پہلے بھی منع کیا تھا نا اس قسم کی باتیں کرنے کو تم پھر سے شروع ہو گئی اب میں سچ میں تمہارے ہاتھ باندھ دوں گا۔’
وجدان شرارت سے زرش کے قریب ہونے لگا لیکن تب ہی ایک گولی ہوا کی طرح وجدان کے کان کے پاس سے گزری لیکن اسکی آواز نہیں آئی تھی شاید بندوق پر سائلینسر لگا ہوا تھا ۔
زرش گھبرا کر وہاں سے ہٹی۔وجدان نے مڑ کر دیکھا تو اسکی نظر ایک شخص پر پڑی جو کہ دوبارہ سے وجدان کا نشانہ بنا رہا تھا اس نے دوسری گولی چلائی تو وجدان جلدی سے نیچے جھکا اور اپنے جوتے میں چھپائے ہوئے چاقو کو نکال کر اس آدمی پر اس طرح سے پھینکا کہ وہ سیدھا اسکے سینے میں لگا۔
وجدان جانتا تھا کہ انکے باقی ساتھی بھی آس پاس ہی ہوں گے اسی لئے اس نے جلدی سے اپنی کمر کے پاس چھپائی ہوئی پسٹل نکالی اور ارد گرد نظر دوڑانے لگا زرش ایک چوٹی کی اوٹ میں کھڑی سارا منظر دیکھ رہی تھی آنکھیں آنسوؤں سے جلنے گلی تھیں۔وہی ہوا تھا جسکا ڈر تھا وجدان اسکی وجہ سے خود بھی خطرے میں پھنس گیا تھا۔
تبھی ایک آدمی کے بھاگنے کی آواز وجدان کو سنائی دی تو وجدان اس پر اپنی سائلینسر لگی پسٹل سے گولی چلا دی جس کی آواز نہ ہونے کے برابر تھی۔ وجدان کی نظر ایک اور آدمی پر پڑی جو اسکو دیکھ کر ایک چٹان کے پیچھے چھپ گیا تھا اور وہیں چھپے ہوئے اس نے ایک گولی وجدان پر چلانے کے لیے بندوق اٹھائی تو وہاں صرف زرش کھڑی تھی اور اسے ہر حال میں زندہ پکڑنا تھا۔اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تبھی کسی نے اسکی گردن کو پیچھے سے دبوچا اور ایک چاقو کو مظبوطی سے اسکے عقب میں گاڑھ دیا۔اس شخص کو جب اپنے بچاؤ میں کچھ نہ ملا تو اس نے بندوق کا رخ اوپر کی طرف کر کے گولی چلا دی۔
وجدان نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کر زرش کو دیکھا جو ابھی بھی سہم کر اس چٹان کی اوٹ میں کھڑی تھی لیکن اس آدمی کے گولی چلانے کی وجہ سے جو شور ہوا تھا اس کی وجہ سے اس چوٹی پر موجود برف کھسکنے لگی تھی۔
‘نور۔۔۔۔۔۔!!!!’
وجدان چلا کر زرش کی طرف بھاگنے لگا لیکن تب تک برف کا وہ ڈھیر زرش پر گر چکا تھا اور اسکی مقدار اتنی ذیادہ تھی کہ زرش پوری طرح سے اس میں دفن ہو گئی تھی۔
‘ نور۔۔۔۔ نور۔۔۔ ‘
وجدان دیوانہ وار زرش کو آوازیں دیتا اپنے ہاتھوں سے اس برف کو ہٹا رہا تھا۔اسے اپنی جان نکلتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی۔اسے لگ رہا تھا کہ اگر زرش اسے نہ ملی تو اسکی سانسیں تھم جائیں گی۔کافی دیر کی کوشش کے بعد وجدان کو زرش کی چادر کا کونہ نظر آیا تو وجدان نے اپنے کام میں مزید رفتار پیدا کی وہ بس اتنا جانتا تھا کہ اگر اس نے اپنی نور کو کھو دیا تو وہ مر جائے گا۔اسے کسی بھی حال میں اپنے جینے کی اس وجہ کو ڈھونڈنا تھا۔تبھی اسے زرش کا ہاتھ نظر آیا تو وجدان نے جلدی سے اسے کھینچ کر باہر نکالا اور اسکے گال تھپتھپانے لگا۔
‘نور آنکھیں کھولو۔پلیز اٹھ جاؤ۔’
وجدان کی بے چین ،بھیگی ہوئی آواز ان سنسان برفیلی وادیوں میں گونج رہی تھی۔زرش کا وجود سردی کی شدت سے بے حد سرد ہو چکا تھا وجدان جانتا تھا کہ اگر جلد ہی اس نے زرش کو کسی گرم جگہ پر نہیں پہنچایا تو وہ اسے بچا نہیں پائے گا۔وجدان نے جلدی سے زرش کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور شمال کی طرف کو بھاگنے لگا۔زرش تو آنکھیں بھی نہیں کھول رہی تھی۔
یہ شاید وجدان کی خوش قسمتی تھی کہ آدھے گھنٹے کے بعد ہی اسے ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک چھوٹی سی لکڑی اور ٹن کی جھونپڑی نظر آئی تھی۔
‘میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا نور کچھ بھی نہیں۔’
وجدان نے مظبوطی سے زرش کو اپنے ساتھ لگایا اور اس چوٹی پر چڑھنے لگا۔کسی وجود کو اٹھا کر یہ کام کرنا تقریبا ناممکن ہی تھا لیکن وجدان کے لئے وہ جھونپڑی ڈوبنے والے کو تنکے کے سہارے کے برابر تھی۔وجدان اس جھونپڑی کے پاس پہنچا تو دروازے کے سامنے برف کا ڈھر اور ایک تالا اسکا منہ چڑھا رہا تھا۔
وجدان نے جلدی سے زرش کو ایک پتھر کے سہارے بیٹھایا اور اس کے بالوں میں موجود پن کو نکال کر دروازے کی طرف چل دیا۔تالا توڑنا بہت باریکی کا کام ہوتا ہے اور وجدان کے خوف سے کانپتے ہوئے ہاتھوں نے اسے مزید مشکل بنا دیا۔وہ شخص آج زندگی میں پہلی مرتبہ صیح معنوں میں ڈرا تھا۔تالا ٹوٹنے کے بعد وجدان نے جلدی سے دروازے میں موجود برف کو ہٹایا اور زرش کو اپنی باہوں میں تھام کر اندر چل دیا۔
جھونپڑی میں صرف ایک بیڈ ،تین کرسیاں ،ایک کونے میں چھوٹا سا واش روم اور دوسرے کونے میں ایک کچن نما جگہ بنائی گئی تھی۔وجدان نے جلدی سے زرش کو بیڈ پر لٹایا۔
‘نور ۔ نور پلیز اٹھو،آنکھیں کھولو اپنی ۔’
وجدان بے چینی سے کبھی اسکے پیر سہلاتا تو کبھی ہاتھ۔زرش کا لباس بھی برف میں دھنسنے کی وجہ سے بھیگ چکا تھا۔وجدان نے پریشانی سے پہلے زرش کا کانپتا ہوا وجود اور پھر ارد گرد آگ جلانے کے لیے کسی شے کو دیکھا مگر وہاں ایسا کچھ بھی نہ تھا۔بہت سوچنے کے بعد وجدان کو ایک ہی حل نظر آیا۔
وجدان نے اسکی بھیگی ہوئی شال کو اس جدا کیا اور اسکی جیکٹ کے بٹن کھولنے لگا۔زرش نے اپنا کانپتا ہوا سرد ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ کر اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وجدان نے نرمی سے اسے اپنے ہاتھ پر سے ہٹا دیا۔
‘نہیں نور میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دے سکتا ۔’
وجدان نے اسے اپنے ساتھ لگا کر اسکی جیکٹ بھی اتار دی اور بہت آہستہ سے اسکی شرٹ کی زپ کھولنے لگا۔زرش اسکی باہوں میں کسمسا کر مزاحمت کرنے لگی وجدان نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اپنی جیکٹ اتار کر خود بھی بلینکٹ میں گھسا اور زرش کو خود میں بھینچ لیا۔زرش کا پورا جسم سردی کی شدت سے لرز رہا تھا۔
وجدان۔
زرش کے خاموش لبوں نے اسکا نام ادا کرنا چاہا تھا جو کہ وجدان نے پڑھ لیا اور اب اسکی بس ہو چکی تھی۔
‘مجھے معاف کرنا نور لیکن اب میری محبت میرے جزبات کی حد ختم ہو چکی ہے۔تم سے دور رہنا ناممکن ہے نورِ خان۔ناممکن۔’
اتنا کہہ کر وجدان نے اسکے کانپتے ہوئے لبوں کو اپنی گرفت میں لیا اور خود کو سیراب کرنے لگا۔زرش نے اپنے ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کی تو وجدان نے وہ ہاتھ تھام کر تکیے کے ساتھ لگائے اور اپنی ہی منمانیاں کرنے لگا۔
زرش نے اس کی شدتوں سے گھبراتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن اسکی تمام مزاحمتیں بے اثر ثابت ہوئیں۔وجدان اسے اپنی محبت کی بارش میں بھگوتا دنیا کے ہر خیال ،ہر تکلیف سے بہت دور لے گیا۔
🌈🌈🌈🌈
صبح زرش کی آنکھ کھلی تو وہ مظبوط سی باہوں کی گرفت میں تھی۔دماغ میں کئی جھماکے ہوئے۔رات کا گزرا ہر ایک منظر یاد آتے ہی زرش گھبرا کر اٹھنے لگی تو باہوں کا وہ حصار مزید تنگ ہو گیا۔
‘پہلے ایک مرتبہ دور جانے کی گستاخی کر چکی ہو ابھی تو اسکی بھی سزا نہیں دی میں نے۔اب دور جانے کی سوچ کو بھی اپنے اس چھوٹے سے دماغ سے دور رکھنا۔’
وجدان کی آواز پر زرش نے گھبرا کر اسے دیکھا تو اسکے چہرے پر وہ مسکان زرش بہت دیر تک دیکھتی رہی تھی۔آج پہلی مرتبہ اس نے اتنے قریب سے اس شخص کو مسکراتے ہوئے دیکھا تھا اور زرش کو لگا تھا کہ اسکی اس مسکان سے زیادہ خوبصورت کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔اسی مسکان کے زیر اثر وہ اپنی شرم و حیا بھی بھلا چکی تھی۔
‘ایسے مت دیکھو ان ہونٹوں کو جان انکی گستاخیاں پھر سے شروع ہو جائیں گی تو مسلہ تمہیں ہی ہو گا۔’
وجدان کی معنی خیز بات پر زرش نے جلدی سے اپنی نگاہیں جھکائیں تو اسکی نظر وجدان کے سینے سے ہوتے ہوئے خود پر گئی۔خود کو وجدان کی شرٹ میں دیکھ کر زرش پاؤں کے ناخن تک سرخ ہوئی اور جلدی سے آنکھوں کو زور سے میچ کر وجدان کی آغوش میں چھپ گئی۔اسکی اس حرکت پر وجدان قہقہہ لگا کر ہنسا۔
‘سچ میں تمہیں میری محبت کا امتحان لینا بہت ذیادہ پسند ہے۔’
وجدان نے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے زرش خود میں ہی سمٹی تھی۔ان لبوں گستاخی بڑھنے لگی تو زرش نے کافی جدوجہد سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور اسے وجدان کے ہونٹوں پر رکھ دیا۔وجدان نے مسکرا کر اس ہاتھ کو بھی چوم لیا زرش اپنی پوری طاقت لگا کر اس سے دور ہوئی۔
آپ بلکل بھی اچھے نہیں ہیں مجھے تنگ نہیں کریں۔
زرش نے جلدی سے اشارہ کر کے اپنا حیا سے دہکتا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔وجدان مسکرا دیا وہ زرش کو مزید ستانا چاہتا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ اس سب کا مزید وقت نہیں تھا۔سعد اس ہائی وے پر پہنچ چکا ہو گا اور وجدان کو جلد از جلد وہاں تک پہنچنا تھا۔اسی لیے وہ وہاں سے اٹھ کر ساتھ بنے واش روم کی طرف چل دیا۔خوش قسمتی سے وہاں موجود آگ والے گیزر میں کچھ لکڑیاں موجود تھیں۔وجدان فریش ہو کر باہر آیا تو اسکی نظر زرش پر پڑی جو ابھی تک ویسے ہی چہرہ چھپائے بیٹھی تھی۔
‘شرٹ واپس کر دیں بیگم صاحبہ میرے پاس ایک ہی ہے اور ویسے بھی یہ کافی بڑی ہے آپکے لیئے۔’
وجدان نے شرارت سے کہا تو زرش نے کمبل کو اپنے منہ تک لا کر خود کو ہی اسکی نظروں سے چھپا لیا۔خالی کمرے میں وجدان کا قہقہہ بلند ہوا جسے سن کر زرش مزید خود میں سمٹ گئی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد وہ دونوں وہاں سے نکلے تھے۔ہائی وے تک پہنچنے کے لیے انہیں ایک گھنٹہ مزید پیدل چلنا پڑا تھا۔زرش بلکل ٹھیک نہیں تھی اسکے پیر میں درد کے ساتھ ساتھ اب اس پر سردی کے اثرات بھی مرتب ہونے لگے تھے۔وجدان نے پورا راستہ ایک پل کے لیے بھی اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا جبکہ زرش تو بس اسکی بولتی نظروں سے چھپنا چاہ رہی تھی۔
وہ دونوں سڑک پر پہنچے تو انکی نظر سامنے سے آتی گاڑی پر پڑی۔سڑک چوٹی سے کافی نیچے تھی وجدان تو یہ سوچ رہا تھا کہ زرش کو وہاں کیسے لے کر جائے گا ۔سعد نے انکو دیکھتے ہی گاڑی روک کر انہیں وہاں آنے کا اشارہ کیا مگر تب ہی وجدان نے بھاگتے ہوئے قدموں کی آواز سنی جو انہیں کی طرف آ رہے تھے۔
‘بھاگو۔۔۔۔!!!’
وجدان نے زرش کو کہتے ہوئے اپنی بندوق نکالی اور مڑ کر قریب آنے والے لوگوں کو شوٹ کرنے لگا مگر اب کی بار وہ مقدار میں ذیادہ تھے اور دو آدمیوں کو گولی لگتے ہی چھپ گئے تھے۔یہ دیکھ کر وجدان بھی جلدی سے زرش کو لے کر ایک درخت کی اوٹ میں چھپ گیا۔
‘نور پلیز گاڑی میں جاؤ اور انہیں تمہیں یہاں سے لے جانے کا کہو۔’
وجدان نے سختی سے خود سے چپکی ہوئی زرش کو کہا جو اسکی بات سنتے ہی اس سے مزید مظبوطی سے چپک کر انکار میں سر ہلانے لگی تھی۔وجدان کی نظر درختوں کے پیچھے چھپے ان غنڈوں پر تھی جو بار بار ان پر فائرنگ کر رہے تھے۔اچانک ہی ایک آدمی نے وجدان کے پیچھے سے آ کر وجدان کی گردن کو دبوچا وجدان نے اپنے ہاتھ پیچھے لے جا کر اسکی گردن کو دبوچا اور اسے گھما کر اپنے سامنے کیا۔
اس آدمی نے وجدان کو مارنے کی کوشش کی لیکن اس کھیل میں وہ کچا کھلاڑی تھا۔وجدان نے بہت آسانی سے اسے پیچھے دکھا دے کر ایک فائر اسکی ٹانگ میں مارا تھا۔ایسا کر کے وجدان مڑا تو زرش اپنی جگہ پر نہیں تھی۔وجدان کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو زرش کو کندھے پر ڈال کر وہاں سے جا رہا تھا۔
وجدان نے بندوق اٹھا کر اسکا نشانہ بنایا لیکن اسکی گولیاں ختم ہو چکی تھیں۔ لیکن تبھی وجدان کے پیچھے سے کسی نے اس آدمی کی بھاگتی ٹانگوں میں گولی چلائی اور وہ زمین پر ڈھیر ہو گیا۔وجدان نے مڑ کر ایک نظر شایان کو دیکھا جو بہت غصے سے اب باقی کے آدمیوں کی طرف مڑ چکا تھا۔وجدان بھاگ کر زرش کے پاس پہنچا اور اسے اٹھا کر گاڑی کی طرف بھاگنے لگا۔
زرش کو لے کر وجدان کافی مشکل سے اس چوٹی سے اترا اور اسے گاڑی میں بیٹھانے لگا۔
‘سعد تم اسے یہاں سے لے کر جاؤ میں اور شایان خود ہی وہاں پہنچ جائیں گے۔’
وجدان نے اپنی بندوق سعد کے سامنے کی تو سعد نے جلدی سے اسکی بندوق کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنی گولیوں سے بھری بندوق وجدان کو پکڑا دی۔
‘وجدان میں۔۔۔۔’
‘نہیں سعد تم بس نور کو یہاں سے لے جاؤ۔’
سعد چاہتا تھا کہ شایان کے پاس وہ جائے لیکن وجدان نے اسکی بات سنی ہی نہیں تھی۔وجدان مڑ کر وہاں سے جانے لگا لیکن اسکا دوسرا ہاتھ ابھی بھی زرش نے بہت زور سے پکڑا ہوا تھا۔وجدان نے زرش کی طرف دیکھا جو روتے ہوئے انکار میں سر ہلا رہی تھی۔
‘نور۔۔۔!!’
وجدان نے بے بسی سے اتنا ہی کہا اور بہت بے دردی سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر شایان کے پاس بھاگ گیا۔زرش اسکے پیچھے جانے لگی تو سعد نے فوراً کار کو بند کر کے لاک کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔زرش ابھی بھی روتے ہوئے وجدان کو اس پہاڑی پر چڑھتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔اگر اسے کچھ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔
‘اللہ جی پلیز انہیں کچھ نہ ہو ورنہ میں مر جاؤں گی۔پلیز اللہ پاک انکی حفاظت کرنا میری ایک یہ دعا قبول کر لیں میں پھر آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گی۔’
زرش نے زارو قطار روتے ہوئے اپنے سہاگ کے لیے دعا مانگی تھی۔ابھی تو اس نے وجدان کو یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ اس سے ناراض نہیں ہے وہ تو تب ہی اپنی تمام ناراضگی بھلا گئی تھی جب وجدان اسے سڑک پر ملا تھا جب وجدان اسے یہاں بچانے آیا تھا۔ کیا بھلا اپنی روح کے حصے سے بھی کوئی ناراض ہوں سکتا ہے؟
وجدان واپس آیا تو شایان آدھے سے زیادہ آدمیوں کو وہاں پر ڈھیر کر چکا تھا اس نے کسی کی بھی جان نہیں لی تھی لیکن کسی کو بھی حملہ کرنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
باقی کی کسر وجدان نے شایان کے ساتھ شامل ہو کر پوری کر دی تھی وہ دس کے دس آدمی خون میں لت پت بے بسی سے زمین پر پڑے کراہ رہے تھے
‘تم یہاں کیا کر رہے ہو؟’
وجدان نے سنجیدگی سے سوال کیا۔شایان اس وقت اپنے آرمی یونیفارم میں موجود تھا۔
‘تمہیں اس سب سے کیا تمہارے کام تو آیا نا؟’
شایان نے عام سے لہجے میں کہتے ہوئے اپنی جیب سے سیٹلائٹ فون نکالا اور آرمی کو اس بارے میں انفارم کرنے لگا۔
‘ فوجی جوان کچھ دیر تک یہاں پہنچ جائیں گے اور ان دہشتگردوں کو انکے انجام تک لے جائیں گے۔ ‘
وجدان نے اثبات میں اپنا سر ہلایا۔وجدان ایک کراہتے ہوئے آدمی کے پاس گیا۔
‘مجھے نہیں لگتا یہ لوگ آر بی کے بارے میں کچھ بھی جانتے ہوں گے۔اسکا کوئی بھی آدمی اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔کبھی بھی اپنے کسی عام آدمی کے سامنے نہیں آیا وہ۔’
وجدان نے مٹھیاں بھینچ کر کہا۔
‘یہ لوگ جو بھی جانتے ہیں آرمی ان کے منہ سے اگلوا لے گی فلحال ہم زرش کو لے کر یہاں سے جتنی جلدی نکل جائیں اتنا ہی بہتر ہے۔’
وجدان بھی شایان کی بات پر اثبات میں سر ہلاتا ہوا اس کے ساتھ وہاں سے چل دیا۔
🌈🌈🌈🌈
سعد زرش کو اسی ہوٹل میں لے کر آیا تھا جہاں وہ لوگ پہلے سے رکے ہوئے تھے۔سعد زرش کو ایک کمرے میں بیٹھا کر خود شایان سے رابطہ کرنے باہر چلا گیا تھا۔
زرش نہیں جانتی تھی کہ وہ ابھی تک سانس بھی کیسے لے رہی تھی ۔گزرا ہوا ایک ایک منٹ اس پر قیامت بن کر گزرا تھا۔بہت سے وسوسے اسکے ذہن میں گھر کر رہے تھے اور زرش روتے ہوئے بس یہ دعا مانگ رہی تھی کہ وجدان کو کچھ بھی نہ ہو ورنہ وہ تو جیتے جی ہی مر جائے گی۔مگر وہ بھی شاید قبولیت کا وقت تھا۔
کچھ دیر بعد ہی دروازہ کھلا اور وجدان بے چینی سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا جبکہ زرش تو اسکو دیکھتے ہی اس سے لپٹ کر رونے لگی تھی۔وجدان کے لبوں کو ایک مسکان نے سجایا۔
‘اے رو مت دیکھو کچھ بھی نہیں ہوا بلکل ٹھیک ہوں میں۔’
وجدان نے اسے خود سے دور کر کے اپنی طرف اشارہ کیا۔زرش نے بھی تسلی کے لیے اسکے سینے اور بازؤں کو چھو کر دیکھا۔وجدان کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔
‘ڈرا تو تم نے دیا تھا مجھے نورِ خان وہ شخص تمہیں میرے پاس سے دور لے کر جا رہا تھا۔’
وجدان نے ضبط سے اپنی مٹھیاں کسیں۔تبھی زرش نے اپنے کپکپاتے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرنا شروع کیا۔
‘میں نے کوشش کی تھی آپ کو بلانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن میں ڈر گئی تھی بہت ذیادہ ڈر گئی تھی۔’
زرش پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اشارہ کیا تو وجدان نے آگے ہو کر اسے خود میں بھینچ لیا۔
‘میرے ہوتے ہوئے تمہیں کسی بھی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے نور بلکل بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔’
وجدان نے بہت جزبات سے کہتے ہوئے اپنے بازؤں کا حصار مزید تنگ کیا زرش کو ایسا لگ رہا تھا کہ وجدان اسے ہر تکلیف،ہر دکھ سے دور خود میں چھپانا چاہ رہا تھا اور وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوا تھا۔نا جانے کتنی دیر وہ دونوں اسی طرح کھڑے رہے تھے۔
‘آئی تھنک اب ہمیں چلنا چاہئے۔’
شایان کی آواز پر زرش ہڑبڑا کر وجدان سے دور ہوئی۔وجدان نے بھی گھور کر شایان کو دیکھا جو ایک طنزیہ سی مسکراہٹ کے ساتھ وجدان کو دیکھ رہا تھا اور پھر شرارت سے ایک آنکھ دبا کر باہر کی طرف چل دیا۔
‘چلو نور۔۔۔’
وجدان نے مسکرا کر اسکی سرخی مائل چہرے کو دیکھا اور پھر اسکا ہاتھ تھام کر شایان کے پیچھے چلا گیا۔سفر کافی لمبا تھا اور بائے روڈ آنے کی وجہ سے انہیں گھر تک پہنچتے پہنچتے رات کے بارہ بج گئے تھے۔
زرش تو سفر شروع ہوتے ہی سو گئی تھی اور نیند میں کب اس نے اپنا سر ساتھ بیٹھے وجدان کے کندھے پر رکھ دیا تھا اسکی تو اسے بھی خبر نہیں ہوئی تھی۔
‘نور اٹھو ہم پہنچ گئے ہیں۔’
گاڑی رکی تو وجدان نے کافی پیار سے اسکے گال کو تھپتھپایا۔زرش نے آہستہ سے آنکھیں کھول کر وجدان کو دیکھا تو وجدان مسکرا دیا ۔زرش پھر سے اس مسکان کے سحر میں مبتلا ہو گئی۔وجدان نے کب کسی پر اتنی عنایت کی تھی۔
‘دیکھو ہم گھر پہنچ گئے ہیں۔’
وجدان نے اسے کافی نرمی سے بتایا تو زرش ہاں میں سر ہلا کر جلدی سے اس سے دور ہوئی اور گاڑی سے نکل کر حیرانی سے اپنے سامنے موجود بڑی سے حویلی کو دیکھنے لگی۔جوشاید کسی گاؤں میں تھی اور پرانی طرز کی بہت زیادہ بڑی اور خوبصورت عمارت تھی۔ایسے کھو کر گھر کو دیکھتے ہوئے وہ خود بھی خوبصورتی کا پیکر بنے وجدابن کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔وجدان نے زرش سے دھیان ہٹا کر سامنے دیکھا تو شایان اور سعد اپنا منہ اور آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔
‘کون ہو تم؟’
سوال سعد کی طرف سے آیا جبکہ وجدان اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ پاگل ہو گیا ہو۔
‘ہمارے وجدان کا کیا تم نے؟ دا گریٹ وجدان خان جسکی کوئی کمزوری نہیں ہے اور اور کیا کہا تھا تم نے ۔۔۔۔ ہاں میں دراب خان نہیں وجدان خان ہوں۔’
شایان نے بھاری آواز کر کے وجدان کی نقل اتاری تو سعد قہقہے لگا کر ہنسنے لگا۔
‘تمہارا خواب ہے سعد رفیق کہ کوئی لڑکی وجدان خان کے اعصاب پر ہاوی ہو گی۔’
اس مرتبہ سعد نے اسکی نقل اتاری تو وجدان غصے سے گاڑی سے باہر نکلا اور زرش کا ہاتھ تھام کر گھر کی طرف چل دیا جبکہ اسے ایسا کرتا دیکھ سعد اور شایان کے قہقہے فضا میں بلند ہو گئے۔
زرش گھر میں داخل ہوئی تو جانان اور عشال بھاگ کر اسکے پاس آئیں اور پہلے جانان اور پھر عشال نے اسے کس کے اپنے گلے لگایا۔
‘یہ کس کا گھر ہے؟’
‘میرا۔۔’
وجدان نے شایان سے پوچھا تو اس کے جواب دینے سے پہلے عثمان بولا جو ان کے عقب میں کھڑا وجدان کو گھور رہا تھا۔
‘ملک۔۔۔’
بے ساختہ طور پر وجدان کے لبوں سے نکلا۔
‘کیسے ہو خان۔۔۔؟؟؟’
عثمان نے مسکرا کر پوچھا تو وجدان نے گہرا سانس لے کر صرف اثبات میں سر ہلایا۔
‘تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو؟لیکن کیسے؟’
شایان کو اپنے ولیمے کا واقعہ یاد آیا تب بھی تو ان دونوں کا سامنہ یونہی ہوا تھا۔
‘نہ ہی جانو تو بہتر ہے۔’
جواب عثمان کی طرف سے آیا جو ابھی بھی وجدان کو شک کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔عثمان کو آج بھی ڈر تھا کہ خان اسکے جوانی میں کیے گئے کاموں کے راز نہ کھول دے۔جب شایان نے عثمان کو وجدان اور زرش کے بارے میں بتایا تو وجدان کی تصویر دیکھ کر عثمان بہت ذیاد حیرت زدہ اور پریشان ہوا تھا۔ایسا نہیں تھا کہ خان اسکی نظر میں ایک برا آدمی تھا لیکن عثمان کی نظر میں وہ خطرناک تھا بہت ذیادہ خطرناک۔ہر وہ آدمی خطرناک ہی تو ہو جاتا ہے جسے اپنی زندگی پیاری نہ ہو ۔
دوسرا عثمان اس پر بھروسہ بھی نہیں کرتا تھا۔جب عثمان نے اس گینگ کو چھوڑا تو اس گینگ کو سب سے زیادہ ضرورت خان کی تھی لیکن وجدان نے برے لوگوں کو جہنم واصل کرنے والے اس گینگ کو چھوڑ کر آرمی کو چنا تھا اسی لیے عثمان وجدان کے خلاف ہو گیا تھا۔
‘خیر تمہیں کچھ اور بھی دیکھانا ہے۔’
شایان نے گہرا سانس لے کر وجدان سے کہا ۔
‘کیا؟’
وجدان کے سوال پر شایان نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا جہاں پر زرش ویل چیر پر بیٹھے سلمان صاحب کے ساتھ لپٹ کر رو رہی تھی۔جبکہ پیچھے کھڑی حمنہ آنکھوں میں آنسو لئے انہیں دیکھ رہی تھی۔
‘تم نے انہیں ڈھونڈ لیا؟’
وجدان کے لہجے میں حیرت تھی۔
‘تمہیں میری قابلیت پر کوئی شک تھا؟’
شایان نے ایک ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔
‘خیر اس سب میں عثمان نے میری حد سے ذیادہ مدد کی تھی۔اسکی بدولت ہی میں انہیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہوا۔’
شایان کی بات پر وجدان نے عثمان کو دیکھا۔
‘تم لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم سیاست دان کچھ نہیں جانتے لیکن یقین کرو بعض معاملات میں ہماری پہنچ تم لوگوں سے بھی ذیادہ ہوتی ہے۔’
وجدان عثمان کا طنز سمجھ چکا تھا۔جب اس نے عثمان کو آرمی میں جانے کے بارے میں بتایا تھا تو عثمان نے اس چیز کی مزاحمت کی تھی مگر وجدان نے اسکی ایک بھی نہیں سنی ۔
‘شکریہ۔۔۔۔’
وجدان کے منہ سے بے ساختہ طور پر نکلا تو شایان اسے گھورنے لگا۔
‘یار اب اتنا بھی حیران مت کرو مجھے تم۔اس دو انچ کی لڑکی نے تو تمہیں پورا کا پورا بدل کر رکھ دیا ہے۔’
شایان نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔وجدان عثمان کی طرف مڑا جو ابھی بھی اسے گھور رہا تھا۔
‘تم میرا راز مت کھولنا میری زبان تمہارے معاملے میں بند رہے گی۔’
عثمان نے دانت پیس کر کہا۔
‘میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ملک ویسے بھی میں تمہاری مدد کے لئے شکر گزار ہوں۔’
وجدان نے ایک نگاہ زرش پر ڈال کر کہا۔
‘شکریہ کی ضرورت نہیں ہے میں نے بس تمہارے احسان کا بدلہ چکایا ہے خان کبھی تم نے مجھے میری زندگی کو بچانے میں مدد کی تھی۔’
عثمان کی بات پر وجدان نے اثبات میں سر ہلایا اور وجدان کے پاس آ کر اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
‘کبھی سوچا نہیں تھا خان کہ ہم دونوں میں کوئی رشتہ بندھ جائے گا۔میں نہیں جانتا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے یا غم۔بس اتنا چاہوں گا کہ تمہاری وجہ سے میری ہنستی بستی زندگی میں کوئی مشکل نہ آئے ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔’
وجدان عثمان کے لہجے میں چھپی دھمکی کو سن سکتا تھا لیکن پھر بھی خاموشی سے اثبات میں سر ہلا گیا۔وجدان جانتا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے معاملے میں فکر مند تھا بلکل اسی طرح جس طرح وجدان زرش کے معاملے تھا۔
