33.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

سعد نے گھر میں داخل ہوتے ہی بے چین نظروں سے عشال کو تلاش کیا تھا جو جانان کے پاس کھڑکی مسکراتے ہوئے اس سے باتیں کر رہی تھی اور سعد پر نظر پڑتے ہی عشال نے اپنا منہ بسورا اور پھر پانچ انگلیاں اپنے چہرے کے سامنے کر کے سعد کو لعنت کا اشارہ کیا۔
سعد کا دل کیا کہ وہ قہقہے لگا کر ہنسے کیونکہ ایسا کرتے ہوئے عشال حد سے زیادہ کیوٹ لگی تھی۔سعد جانتا تھا کہ وہ اسے یہاں بھیجنے والے معاملے کو لے کر سعد سے ناراض ہے۔
‘واہ اچھے اشارے ہیں کافی محبت بھرے۔’
شایان نے سعد کے پاس آ کر شرارت سے کہا تو سعد کے چہرے پر موجود مسکان گہری ہوئی۔
‘اب کیا کروں دل پر بھی کسی کا زور چلا ہے بھلا یار خود بھی نہیں جانتا کیسے اور کب یہ دل میں اتر گئی؟’
سعد اپنی نظریں مسلسل عشال پر جما کر کہہ رہا تھا۔
‘مجھ سے پوچھو تو میں بھی حیران ہوں کہ تمہیں اس سے محبت ہو کیسے گئی ؟مجھے تو لگا تھا کہ تمہیں اپنے جیسی دھیمے مزاج کی لڑکی سے محبت ہو گی اور دیکھو تمہیں پسند بھی آئی تو یہ پٹاخہ۔’
شایان کی بات پر سعد ہنسنے لگا۔
‘سچ بتاؤں تو اس سوال کا جواب تو میں خود بھی نہیں جانتا۔’
سعد نے مسکرا کر کہا۔
‘چلو آؤ میرے ساتھ تمہیں اور وجدان کو کچھ انٹرسٹنگ دیکھاتا ہوں۔’
شایان کی بات پر سعد عشال سے اپنا دھیان ہٹا کر اسکے پیچھے چل دیا۔شایان نے وجدان کو بھی ساتھ لیا اور انہیں بتایا کہ عثمان نے وجدان اور سعد کو ایک خاص کمرہ دیا تھا جہاں وہ اپنا کام کر سکیں اور کوئی بھی انہیں ڈسٹرب نہیں کرے۔شایان نے انہیں یہ بھی بتایا کہ وہ لوگ یہاں بہت ذیادہ محفوظ ہیں عثمان نے گارنٹی دی ہے کہ آر بی انہیں کبھی بھی یہاں پر نہیں ڈھونڈ پائے گا۔شایان وجدان اور سعد کو اپنے ساتھ اس کمرے میں لے کر آیا۔
‘اب کام کی طرف واپس آ جاتے ہیں مشن کمپلیٹ کرنے کا ٹائم کافی کم رہ چکا ہے تم دونوں کا۔’
شایان نے انہیں بتانا ضروری سمجھا۔
‘میں اور سعد اب آرمی میں نہیں رہے یاد ہے بغاوت کی تھی ہم نے۔۔۔۔’
وجدان نے اسے یاد دلایا۔
‘یہ تم سے کس نے کہا؟ تمہیں کیا لگتا ہے کہ کرنل منور صاحب اپنے بیٹے کی طرح عزیز وجدان کو اسکے جزبات کی بنا پر اتنی بڑی غلطی کرنے دیں گے۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔’
شایان کی بات پر وجدان شرمندہ ہوا تھا۔وجدان کو ان سے کی گئی ہر بات یاد آئی۔بچپن سے ہی تو انہوں نے اور ہاشم صاحب نے وجدان کو بہت ذیادہ چاہا تھا۔
‘بابا کیسے ہیں؟’
ہاشم صاحب کا خیال آتے ہی وجدان نے شرمندگی سے پوچھا۔
‘آ گیا تمہیں انکا خیال؟؟ اگلے ہفتے واپس آ رہے ہیں پھر تمہاری کلاس خود ہی لے لیں گے۔’
شایان نے مسکرا کر کہا تو وجدان کافی دیر خیالات میں کھویا رہا۔بچپن سے لے کر آج تک اس نے چاہتے ہوئے بھی خود کو ہاشم صاحب کے نزدیک نہیں ہونے دیا تھا لیکن اب وجدان کو ایسا لگتا تھا کہ سب بدل گیا تھا وہ بدل گیا تھا کیونکہ ایک بار پھر سے وجدان خان نے زندگی کو ایک موقع دیا تھا محبت کو ایک موقع دیا تھا۔وجدان نے گہرا سانس لے کر شایان کو دیکھا۔
‘ ہمیں سکندر کا پتہ لگانا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ ضروری اس آر بی کو پکڑنا ہے۔اس لئے ہم دونوں کو ڈھونڈیں گے۔ویسے بھی کہیں نہ کہیں یہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہیں مگر کس طرح سے یہ راز ہمیں معلوم کرنا ہے؟؟
وجدان نے اپنے سامنے موجود میز کو دیکھا جہاں سعد اسکی ساری ریسرچ لا چکا تھا۔
‘لیکن آر بی ہمارا مشن نہیں ہے وجدان۔۔۔۔’
سعد حیران ہوا۔
‘ہمارا مشن تو کسی بھی طرح سے بادشاہ کو پکڑنا نہیں تھا بلکہ مشن تو دارا کو ڈھونڈنا تھا ۔ مگر ہم نے مشن نہیں اصلی گنہاگار دیکھنا ہے۔’
شایان انکے قریب ہوا۔
‘تو تمہیں کیا لگتا ہے کہ سکندر خطرناک نہیں ہے؟’
سوال شایان کی طرف سے آیا۔
‘میں نے ایسا تو نہیں کہا۔سکندر اس آر بی سے بھی ذیادہ بڑا خطرہ ہے مگر صرف ویسے لوگوں کے لیے جن کے لیے دارا خطرہ تھا۔یہ رکارڈز دیکھ لو سکندر نے صرف انہیں ہی مارا ہے جو اس زمین ،اس ملک کے لیے ناثور بنے ہوئے تھے۔’
سعد اور شایان اسکا مطلب سمجھ چکے تھے۔
شایان نے سعد کو نظروں سے اشارہ کیا تو سعد کافی سوچ بچار کے بعد وجدان کی طرف متوجہ ہوا۔
‘وجدان مجھے۔۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ تم ہی سکندر ہو؟’
طویل خاموشی کے بعد سعد نے دل کی بات کہی۔جبکہ وجدان نے اسکی بات پر حیرت سے سعد کو دیکھا۔
‘اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے صرف میری سبز آنکھوں کی وجہ سے؟’
وجدان نے مٹھیاں کستے ہوئے پوچھا۔
‘نہیں میں نے۔۔۔۔۔میں نے تم پر انویسٹیگیشن بھی کی تھی جس کے بعد مجھے یہ پتہ چلا کہ تم ہاشم انکل کے اڈاپٹیڈ بیٹے ہو اور تمہارا اصلی نام سکندر الفاظ درانی تھا۔’
سعد کو لگا تھا کہ اسے اپنا شک وجدان سے بات کر کے دور کر لینا چاہیے وہ بس یہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ شک یقین میں بدلے۔
‘نہیں سعد۔۔۔۔ میں سکندر ضرور ہوں لیکن یہ گینگسٹر سکندر میں نہیں ہوں یوں چھپ کر وار کرنا میرا انداز نہیں مگر یہ کوئی اور ہے جو میرے ہی ماضی کی پہچان استمال کر رہا ہے لیکن کیوں؟اسی سوال کا جواب جاننا ہے ہمیں۔’
وجدان نے اپنے دماغ کے گھوڑے دوڑائے تو اس کا شک ہمیشہ کی طرح ایک ہی انسان پر گیا لیکن کیا ایسا ممکن تھا اور اگر ممکن بھی تھا تو اس سب کی وجہ کیا تھی؟وجدان نے اس سوچ کو جھٹک دینا ہی بہتر سمجھا۔
‘اور یہ بھی وجدان کہ وہ شخص تمہارے بارے میں اتنا سب کچھ کیسے جانتا ہے؟تمہارا ماضی تو ہمیں بھی نہیں معلوم تھا پھر وہ کیسے جانتا ہے ؟’
شایان نے اپنے ذہن میں اٹھتے سوال پوچھے۔
‘تم دونوں اس سکندر کو مجھ پر چھوڑ دو اب ہم سکندر کو نہیں ڈھونڈیں گے بلکہ وہ خود ہمارے سامنے آئے گا۔ہمیں زیادہ فوکس اس آر بی پر کرنا ہے۔’
وجدان کی بات پر سعد نے اثبات میں سر ہلایا ۔سعد کو وجدان پر پورا یقین تھا اگر وجدان کہہ رہا تھا کہ وہ سکندر نہیں ہے تو یہی سچ ہے۔لیکن پھر کون ہے جو سکندر کو اتنی اچھی طرح سے جانتا ہے۔ضرور وہ بچپن میں وجدان کے بہت قریب ہو گا اسی لیے تو وہ خود وجدان کا عکس بنا بیٹھا تھا۔
🌈🌈🌈🌈
زرش نا جانے کتنی ہی دیر سلمان صاحب کے سینے پر سر رکھے روتی رہی تھی۔سلمان صاحب بھی اسے صیح سلامت دیکھ کر اتنے پر سکون ہوئے تھے کہ انہوں نے خود بھی اپنے جگر کے ٹکڑے کو خود سے جدا نہیں کیا تھا۔
فاطمہ بیگم تو تب سے انکے پاس موجود بیڈ پر سو رہی تھیں۔ان لوگوں نے سلمان صاحب سے زیادہ ظلم فاطمہ بیگم کے ساتھ کیا تھا جسکی وجہ سے وہاں سے آنے کے بعد وہ کافی وقت ہسپتال داخل رہی تھیں مگر اب انکی طبیعت بہت حد تک ٹھیک ہو چکی تھی۔
‘چلو زری تم پریشان مت ہو میری جان بابا اور امی بلکل ٹھیک ہیں ابھی ڈاکٹر انہیں چیک کر کے گیا ہے بس تم انہیں آرام کرنے دو۔’
حمنہ کے ایسا کہنے پر زرش سلمان صاحب کے سینے سے ہٹ کر انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
‘ہاں میری جان میں بلکل ٹھیک ہوں تمہیں صیح سلامت اپنی نظروں کے سامنے دیکھ لیا اور بھلا مجھے کیا چاہیے؟’
سلمان صاحب نے بہت محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔جب شایان نے انہیں یہ بتایا تھا کہ وجدان نے زرش کو ڈھونڈ لیا ہے تو سلمان صاحب نے خدا کا شکر ادا کیا تھا اور اب اسے بلکل صیح سلامت دیکھ کر تو سلمان صاحب جی اٹھے تھے۔ورنہ آر بی نے جب انہیں یہ بتایا تھا کہ زرش اسکے پاس ہے تو سلمان صاحب اور فاطمہ بیگم تو بلکل ہی ٹوٹ گئے تھے۔
زرش نے ایک نظر فاطمہ بیگم کو دیکھا جو سو چکی تھیں۔زرش نے اثبات میں سر ہلایا اور حمنہ کے ساتھ باہر کی طرف چل دی۔
‘تم میرے ساتھ کمرے میں چلو میں تمہارے پاؤں کا مساج کر کے اس پر پٹی باندھ دیتی ہوں پھر دیکھنا تم ایک دم ٹھیک ہو جاؤ گی۔’
حمنہ نے زرش کے پاؤں کی طرف اشارہ کیا کیونکہ وہ زرش کی لڑکھڑاہٹ دیکھ چکی تھی۔حمنہ اسے ایک کمرے میں لے کر آئی جہاں جانان پہلے سے ہی بیڈ پر بیٹھی کسی بات پر قہقہے لگا رہی تھیں۔زرش کو دیکھتے ہی جانان اسکے پاس آئی اور بہت محبت سے زرش کا منہ چوم لیا۔
‘تمہیں پتہ ہے زری میں نے آپی نے اور عشال نے مل کر پلین بنایا ہے کہ آج رات ہم لوگ ایک ہی کمرے میں سوئیں گے اور ڈھیر ساری باتیں بھی کریں گے۔’
جانان کی بات پر زرش نے خدا کا شکر ادا کیا اب وہ کسی بھی حال میں وجدان کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
‘آپی میں کیرم بھی لے کر آئی ہوں مل کر کھیلتے ہیں خوب مزہ آئے گا ۔’
جانان نے کافی پر جوشی سے کہا ۔
‘لیکن جانو مجھے لگتا ہے کہ زری کو آرام کرنا چاہیے وہ تھک گئی ہو گی۔’
حمنہ کی بات پر جانان نے اپنے گال پھولا لئے۔
‘تو میں اس سے کیرم ہی کھلوا رہی ہوں کبڈی نہیں۔’
جانان کی بات پر سب ہنسنے لگے تو جانان نے منہ مزید پھولا لیا۔
‘کبڈی چیمپئن اپنے شوہر کو بتا کر آئی ہو تم یہاں پر سونے کے ارادے؟’
عشال نے ایک آنکھ دبا کر شرارت سے پوچھا۔جتنا عرصہ بھی جانان ان کے پاس رہی تھی اس میں عشال یہ تو سمجھ ہی گئی تھی کہ شایان اسے لے کر بہت زیادہ پوزیسیو ہے اور اسے کبھی بھی یہاں نہیں سونے دے گا۔
‘انہیں کیا مسلہ ہو گا بھلا وہ بھی اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اینجوائے کریں میں نے منع کیا ہے کیا؟’
جانان نے منہ بنا کر کہا اور جا کر کیرم بورڈ کے پاس بیٹھ گئی۔تبھی دروازہ کھٹکنے کی آواز آئی تو حمنہ نے شرارت سے جانان کو دیکھا۔
‘لو آ گیا تمہارا بلاوا۔’
حمنہ نے ایک آنکھ دبا کر شرارت سے کہا اور ہنستے ہوئے دروازہ کھولا تو سامنے عثمان سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
‘میرا موبائل نہیں مل رہا۔’
عثمان نے اسے گھور کر کہا تو حمنہ نے بھی جواب میں اسے گھورا تھا۔
‘عثمان روم میں ہی ہو گا۔’
حمنہ نے بے بسی سے کہا۔
‘نہیں ہے جان جہاں پورا کمرہ ڈھونڈا نہیں ملا۔’
‘اور اگر میں نے ڈھونڈ دیا تو؟’
حمنہ نے اسے چیلنج کیا۔
‘تم چل کر ڈھونڈو تو سہی یہ سب بعد میں دیکھ لیں گے۔’
عثمان کی بات پر حمنہ گہرا سانس لے کر عثمان کے پیچھے چل دی۔
‘ہمم۔۔۔۔ ایویں میرا بلاوا آیا ہے اپنے شوہر کو خود ہی قابو میں نہیں رکھا ہوا آپی نے اور کہہ مجھے رہی تھیں۔۔۔۔ارے رکو آپی کو تو آنے دو پھر کھیلتے ہیں۔’
جانان نے عشال کو بورڈ سیٹ کرتے دیکھ کر کہا۔
‘بچہ تمہاری آپی اب واپس نہیں آ رہی فکر مت کرو تم ۔’
عشال نے اپنا چشمہ ایک ادا سے ٹھیک کر کے کہا اور واقعی ہی دو منٹ بعد دروازہ پھر سے ناک ہوا۔
‘جائیں جانو جی آپکے ہزبینڈ کا بھی موبائل نہیں مل رہا۔’
عشال کی بات پر جہاں زرش ہنسی تھی وہیں جانان نے اپنا منہ بسور لیا۔عشال نے دروازہ کھولا تو ایک ملازمہ سامنے کھڑی تھی۔
‘وہ جانان بی بی کو شایان صاحب بلا رہے ہیں۔’
ملازمہ کے ایسا کہنے پر عشال قہقہہ لگا کر ہنسی تو جانان منہ پھولا کر باہر کی طرف چل دی۔
‘شایان صاحب کو تو میں مزہ چکھاتی ہوں۔’
جانان نے غصے سے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
‘،تھینک گاڈ میں ان جھنجھٹوں سے آزاد ہوں میں نے کہاں بھلا کسی آدمی کے اتنے نخرے برداشت کرنے تھے ۔’
عشال نے اپنا موبائل نکال کر کہا اور مسکراتے ہوئے اپنا موبائل دیکھنے لگی۔
‘تھینک گاڈ اس ایریا میں اٹرنیٹ اچھا ہے۔’
عشال نے ایک نظر زرش کو دیکھ کر مسکرا کر کہا۔
‘میں تمہارے پاس سو جاؤں؟
زرش نے سوال کیا تو عشال نے اسے گھور کر دیکھا۔زرش کے سوال پر عشال کو شرارت سوجھی۔
‘تمہیں غلطی لگ رہی ہے میری جان میں تمہارا شوہر نہیں ہوں اس کے پاس جا کر سو جاؤ اپنی بہنوں کی طرح۔’
عشال کی بات پر زرش کے گال پھر سے دہکے۔
اگر تم نہیں سلاتی تو میں جانان کے پاس چلی جاتی ہوں۔
زرش نے منہ بنا کر اشارہ کیا۔
‘وہ تو تم پر اتنی عنایت نہیں کرے گی تمہارے مقابلے کافی عقل مند ہے جانتی ہے کہ اپنے شوہر کے پاس رہنا ہی سب سے ذیادہ بہتر ہے۔’ زرش کا منہ بن گیا۔
تو میں اکیلے سو جاؤں گی۔
زرش نے اشارہ غصے سے کیا تو عشال ہنسنے لگی
‘اچھا بابا سو جاؤ یہیں پر۔ ‘
زرش سکھ کا سانس لیتی بستر میں گھس گئی۔عشال بھی اپنے موبائل پر نظریں جمائے بستر کے دوسری طرف آئی اور آرام سے لیٹ کر فیس بک سکرال کرنے لگی۔تھوڑی ہی دیر کے بعد دروازہ پھر سے ناک ہوا۔عشال نے ٹائم دیکھا تو رات کا ایک بج رہا تھا اور پھر ایک نظر زرش کو دیکھا جو کب کی سو چکی تھی۔
‘لو آ گیا اسکا بھی بلاوا۔’
عشال الجھن سے کہہ کر اٹھی اور دروازہ کھولا تو اس توقع کے عین مطابق وجدان دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔
‘زرش یہاں ہے کیا؟’
‘نہیں وہ تو زرش کا بھوت سو رہا ہے۔’
عشال نے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی عادت کے مطابق الٹا ہی جواب دیا۔
‘کم بولا کرو۔’
وجدان اسکو ہمیشہ والی ہدایت دیتا ہوا سوئی ہوئی زرش کے پاس گیا اور مسکرا کر اسکے چہرے سے بالوں کو ہٹایا۔
‘تمہاری جگہ یہ نہیں ہے نورِ خان۔’
وجدان نے اسکے قریب ہو کر سرگوشی کی اور پھر اسے بازؤں میں اٹھا لیا۔زرش ایک پل کو کسمسائی اور تھکاوٹ کی وجہ سے پھر سے سو گئی۔وجدان اسکو لے کر دروازے کی طرف بڑھا جہاں عشال کھڑی اپنے موبائل کو سکرال کر رہی تھی۔
‘قسم سے پیدائشی بے شرم ہو سارے کے سارے دوست۔’
عشال نے موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر وجدان کو بتایا ۔وجدان اسے نظر انداز کرتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔کمرے میں پہنچ کر اس نے ٹانگ سے دروازہ بند کیا اور زرش کو بیڈ پر لیٹا کر اسے کمبل سے اوڑھا کر خود بھی اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا۔اتنی دیر سے جو بے چینی سے کروٹیں بدل رہا تھا اپنی متاع جان کے قریب آتے ہی سکون سے آنکھیں مونند کر سو گیا۔
🌈🌈🌈
آدھی رات کا وقت ہو رہا تھا اور ایک اندھیرے کمرے میں میز کے پاس چھوٹا سا لیمپ جلا کر کھڑا وہ وجود بہت غور سے اپنے سامنے موجود چیزوں اور کاغذات کو دیکھ رہا تھا۔
ان چیزوں میں کئی لوگوں کی تصویریں تھی جن میں وجدان خان ،شایان شاہ،سعد رفیق،زرش نور اور عشال درانی کی تصویریں بھی شامل تھیں ۔لیکن وہ سبز آنکھیں ان سب تصویروں سے ہٹ کر ایک بچے کی تصویر پر مرکوز تھیں۔
مخروتی انگلیوں نے پین پکڑ کر اس چودہ سالہ بچے کی تصویر کے نیچے کچھ لکھنا شروع کیا تھا۔
‘رومان بلو (RB)’
یہ الفاظ لکھ کر ایک کانٹے کا نشان اس بچے کی تصویر پر بنایا گیا تھا۔
‘بہت جلد ملیں گے ہم آر بی اور وہ دن تمہارا اس زمین پر آخری دن ہو گا۔بس ایک بار میں تمہیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جاؤں پھر تمہیں مجھ سے کوئی بھی نہیں بچا سکے گا۔’
نفرت بھری آواز خالی کمرے میں گونجی تھی۔پھر وہ سبز آنکھیں زرش کی تصویر کے پاس گئیں تو اس نے زرش کی تصویر کو وجدان کی تصویر کے پاس سے اٹھایا۔
‘نور زرش ۔۔۔۔۔ آر بی کی سب سے بڑی کمزوری۔بہترین چارہ بن سکتی ہو تم میرے لئے۔اتنا تو پتہ چل چکا ہے کہ تمہارے لئے آر بی کسی بھی حد تک جائے گا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ تمہاری معصومیت کو مجھے چارہ بنانا پڑے گا۔یقین جانو لڑکی مجھے اس کا بہت افسوس ہے لیکن کیا کروں میرے پاس اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔تمہیں تو میرا چارہ بننا ہی پڑے گا تبھی تو وہ آر بی میرے ہاتھ میں آئے گا اور سکندر کی زندگی کا مقصد پورا ہو جائے گا۔’
سبز آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی اور ان مخروطی انگلیوں نے زرش کی تصویر کو آر بی کی تصویر کے پاس رکھا۔لیکن تب ہی اسکی نظریں بھٹک کر وجدان کی تصویر پر گئیں۔
‘معاف کرنا لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آر بی کی کمزوری ہی تمہاری محبت ہے وجدان خان۔اچھے لوگوں سے سکندر کی کوئی دشمنی نہیں لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ گن کے ساتھ گیہوں تو پستا ہی ہے۔مگر پھر بھی تمہیں کچھ وقت دے گا سکندر کھل کر جی لو اپنی زندگی۔’
وجدان کی تصویر کو دیکھتے ہوئے ان لبوں نے سرگوشی کی اور پھر ان تمام چیزوں کو اکٹھا کر کے بیگ میں رکھا جانے لگا لیکن تب ہی عشال کی تصویر ان ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پر گری۔اس پر نظر پڑتے ہی وہ لب پھر سے مسکرائے۔
‘کمال کر دیا لڑکی انہیں ابھی تک زرا سا بھی شک نہیں ہوا۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔ اب دیکھنا بہت جلد تمہارا انعام تمہارے سامنے ہو گا۔بہت جلد محنت کا صلہ ملے گا تمہیں بلکل جیسا تم نے چاہا تھا۔۔۔۔بہت جلد۔۔۔۔’
لبوں پر مسکراہٹ سجا کر اس وجود نے تمام چیزوں کو اپنے بیگ میں ڈالا تھا اور اتنی سی دیر میں ہی اس شیطانی دماغ نے کئی منصوبے بنا لیے تھے اور تمام منصوبوں کا مرکز صرف ایک شخص تھا ۔۔۔۔۔آر بی۔۔۔