33.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

سلمان صاحب کو صبح ہوتے ہی انکی پارٹی کے چیر مین کا فون آیا تھا جو کہ انہیں اسلام آباد بلا رہے تھے۔سلمان صاحب سیاست چھوڑنا چاہ رہے تھے لیکن اس کے لئے بھی چیر مین سے ملنا بہت ضروری تھا۔
‘کیا ہوا سلمان آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟
فاطمہ بیگم نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
‘اسلام آباد جانا پڑے گا مجھے کچھ وقت کے لیے۔چیر مین نے بلایا ہے۔’
‘لیکن آپ تو پارٹی چھوڑنا چاہ رہے تھے نا۔’
فاطمہ بیگم پریشان ہو گئی تھیں کیونکہ سلمان صاحب اس حالت میں کوئی کام نہیں دیکھ سکتے تھے۔
‘اس کے لیے بھی مجھے وہاں جانا پڑے گا فاطمہ اس طرح سے کام نہیں چلے گا۔’
سلمان صاحب ہلکا سا مسکرائے۔
‘آپ اکیلے نہیں جائیں گے میں آپ کے ساتھ چل رہی ہوں۔’
‘نہیں فاطمہ زرش تمہارے بنا نہیں رہ سکتی اور میں اسے یہاں سے لے کر نہیں جا رہا۔’
سلمان صاحب نے دو ٹوک بات کی۔
‘پہلے بھی آپ نے زرش کا نکاح کروا دیا اور مجھے بس یہ کہا کہ آپ پر بھروسہ رکھوں۔اب میں آپ سے کہتی ہوں کہ آپ اپنے فیصلے پر بھروسہ رکھیں۔آج نہیں تو کل زرش کو یہیں تو رہنا ہے اپنے شوہر کے ساتھ اچھا ہے اسے عادت ہو جائے سلمان میں چاہتی ہوں کہ اب وہ میرے سائے سے باہر نکلے۔اپنی زندگی گزارے اور اس خوف کو دل سے نکال دے۔’
فاطمہ بیگم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔
‘لیکن فاطمہ۔۔۔۔’
‘کوئی لیکن ویکن نہیں میں آپ کو اکیلے نہیں بھیج رہی اور آپ زرش کی فکر مت کریں عشال ہے اسکے پاس اور وہ زرش کا بہت ذیادہ خیال رکھتی ہے۔’
فاطمہ بیگم کی بات پر سلمان صاحب نے کافی غور کیا اور پھر اثبات میں سر ہلایا۔
‘اچھی بات ہے میں پیکنگ کر لیتی ہوں پھر ہماری۔’
فاطمہ بیگم اپنی بات کہہ کر وہاں سے جا چکی تھیں۔لیکن سلمان صاحب ابھی بھی اضطراب میں تھے۔اپنی معصوم بچی کو چھوڑنے کا انکا بلکل بھی دل نہیں کر رہا تھا لیکن بیٹیاں تو ہوتی ہی پرایا دھن ہیں اور فاطمہ بیگم کی بات میں مصلحت بھی تھی۔زرش کو اپنے خوف سے نکلنا تھا جو کہ انکے ہوتے ہوئے نہیں ہو سکتا تھا۔پاک پروردگار میری بچی کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا۔زرش کے لیے سلمان صاحب کے دل سے دعا نکلی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
‘زرش چپ کر جاؤ میرا بیٹا۔پلیز رونا تو بند کرو نا۔’
فاطمہ بیگم زرش کو بہت دیر سے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن ان کے جانے کا سن کر زرش انکے ساتھ چپکی روئے جا رہی تھی۔
‘ارے کیا ہو گیا ہے زری میں ہوں نا یہاں اب تم اتنی چھوٹی بچی بھی نہیں ہو ۔ماشااللہ سے شادی ہو گئی ہے۔چپ کرو بس۔’
عشال نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا لیکن زرش کے رونے میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
‘آنٹی آپ جائیں میں اسے سمبھال لوں گی آپ بلکل بے فکر ہو کر جائیں۔’
عشال نے مسکراتے ہوئے فاطمہ بیگم کو کہا تو فاطمہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا اور زرش کے سر پر بوسہ دے کر وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
‘اپنا خیال رکھنا زری اور بلکل بھی گھبرانا نہیں بیٹا یہ تمہارا اپنا گھر ہے۔’
فاطمہ بیگم کی آواز میں نمی پیدا ہوئی تھی۔آخر کار وہ بھی کبھی اپنی بیٹی سے دور نہیں گئی تھیں اور اب ایسا کرنا ان کے لیے بھی بہت مشکل امر ثابت ہونا تھا۔ایک آخری نگاہ عشال سے لپٹی ہوئی زرش پر ڈال کر فاطمہ بیگم باہر کی طرف چل دیں جہاں سلمان صاحب انکا انتظار کر رہے تھے۔
‘ارے بس کرو اب چپ بھی کر جاؤ چھٹکی گڑیا ورنہ سونامی آ جائے گا اس گھر میں اور قسم سے مجھے بھری جوانی میں ڈوب کے نہیں مرنا۔’
عشال نے شرارت سے کہتے ہوئے زرش کو اپنے ساتھ لگایا۔
‘تم رو کیوں رہی ہو؟بھئی کبھی نہ کبھی تو رخصت ہو کر تمہیں اسی بندے کے پاس آنا تھا نا تو ابھی سہی۔’
عشال نے اسکا چہرہ ٹھوڈی سے پکڑ کر اوپر کیا۔
‘پھر اب اس سب میں تمہارا فائدہ بھی تو ہے؟’
عشال نے ایک آنکھ دبا کر شرارت سے کہا تو زرش سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
‘ارے اب اپنے مام ڈیڈ کے ہوتے ہوئے تو تم اپنے ہزبنڈ کے قریب جانے سے کتراتی لیکن اب تو موقع بھی ہے اور محل بھی تو دیوانہ بنا لو وجی جی کو اپنی اداؤں کا۔’
عشال کی بات پر زرش کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
‘ہائے بس ایسی ادائیں ہی پیا جی کو دیکھانی ہیں پھر دیکھنا کیسے لٹو ہوتے ہیں تمہارے پیچھے اور سب بھول بھال کر سیدھا اپنے روم میں لے جا کر رخصتی بھی کروا ہی دیں گے۔’
زرش جو عشال کو آنکھیں بڑی کر کے دیکھ رہی تھی اسکی آخری بات پر شرم کے مارے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔عشال کا قہقہہ کمرے میں گونجا تھا۔
‘یو آر ٹو سویٹ مائے لیٹل ڈال۔’
عشال نے زرش کو اسطرح سے شرماتے ہوئے دیکھ کر کہا اور خود باہر کی طرف چل دی۔ابھی وہ کچھ قدم ہی چلی تھی جب وہ بری طرح سے ایک چٹان کی ماند سینے سے ٹکرائی۔
‘اف اندھے ہو گئے ہیں کیا ایجنٹ جی اور سینا ہے یا کمرشل بورڈ ہے ۔اف سر پھاڑ دیا ہے میرا۔’
سعد پر نظر پڑتے ہی عشال شروع ہو گئی تھی۔
‘قصور تمہارا اپنا ہے دھیان موبائل سے ہٹا کر چلو نا۔’
سعد نے اپنے کمرشل بورڈ کی ماند چھاتی پر بازو باندھ کر کہا۔
‘ DYD
مجھ پر الزام مت لگائیں اب آپ۔ خود کی کہیں پہ نگاہیں اور کہیں پہ نشانہ ہے اور کہہ مجھے رہے ہیں۔
‘DYD?’
سعد نے حیرانی سے پوچھا۔
Don’t you dare۔
عشال کے بتانے پر نہ چاہتے ہوئے بھی سعد کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔
‘تم کوئی بات سیدھی طرح سے بھی کرتی ہو؟’
سعد نے شرارت سے پوچھا۔
‘ہاں بہت سی باتیں ہیں جو میں صاف سیدھی طرح کہہ دیتی ہوں۔’
عشال نے بہت معصومیت سے کہا۔
‘وہ کیا؟’
‘جیسے کے آپ میرے خیال میں اس دنیا کے سب سے نکمے ایجنٹ ہیں جس کو کوئی کام نہیں صرف گھر رہ کر کھانا پکاتا ہے یا مجھے پٹانے کی کوشش کرتا ہے لیکن عشال کسی سے نہیں پٹ سکتی آئی سمجھ اس لیے آپ کی یہ ٹھرکیوں والی ساتھ ٹکرانے کی کوششیں بے کار ہیں۔’
سعد حیرت سے منہ کھولے اس دیکھ رہا۔
‘یہ خوش فہمی تمہیں کس نے ڈال دی کے میں تمہارے جیسی مکھی کو پٹانے کی کوشش کر رہا ہوں؟’
سعد نے اسکے چشمے کی اوڑھ میں چھپی آنکھوں کو دیکھ کر کہا۔
‘ہے ایک کرونا وائرس اس نے۔’
عشال اتنا کہہ کر اپنی پونی جھلاتی وہاں سے چلی گئی جبکہ سعد تو صرف مٹھیاں کستا رہ گیا تھا۔
‘تیکھی مرچی۔’
🌈🌈🌈🌈🌈
زرش کا موڈ بہت زیادہ خراب تھا۔فاطمہ بیگم اور سلمان صاحب کا اس طرح سے چلے جانا اسے بکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔ اسی غم میں زرش نے کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔سلمان صاحب کا جانا ضروری تھا اور فاطمہ بیگم انہیں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں لیکن کم از کم وہ زرش کو اپنے ساتھ تو لے کر جا سکتی تھیں نا بھلا زرش کا یہاں رہنا ضروری تھا۔زرش کو اس وقت سب سے ذیادہ غصہ اسی بات کا تھا جسکی وجہ سے اس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔
‘Hey my little doll what’s going on.”
زرش عشال کی چہکتی ہوئی آواز پر چوک کر اسے دیکھنے لگی جو کہ ہاتھ میں ایک ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
‘چلو جلدی سے اب،کھانا کھا لو۔تمہیں پتہ ہے وہ ایج۔۔۔۔۔۔۔سعد جی نے اپنے ہاتھوں سے پکایا ہے اور کمال مزے کا ہے ۔’
عشال مسلسل بولتے ہوئے فرائیڈ رائس پلیٹ میں نکال رہی تھی۔
‘ویسے اتنے غریب تو نہیں ہیں یہ لوگ مگر پھر بھی گھر میں ایک بھی میڈ نہیں ہے۔سارا کام خود ہی نمٹا لیتے ہیں۔سچی مانو یا نہ مانو مجھے تو حد درجہ کے کنجوس لگتے ہیں دونوں۔’
عشال کی بات پر نہ چاہتے ہوئے بھی زرش کے لبوں کو ایک مسکراہٹ نے چھوا تھا۔عشال پل بھر میں اسکا بگڑا ہوا موڈ ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
‘بس دیکھا ایسے ہی ہنستے مسکراتے ہوئے اچھی لگتی ہو تم میری چھوٹی سی گڑیا۔۔۔۔۔۔چلو اب تم مجھے یہ بتاؤ کے تم یہاں رہنے سے اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔بھئی تمہارے اپنے،ذاتی شوہر کا گھر ہے۔تمہیں تو یہاں حکومت کرنی چاہیے نہ کہ اسطرح سے کمرے میں بیٹھ کر منہ بسورنا چاہیے۔’
عشال نے پلیٹ زرش کے سامنے رکھی تھی اور پھر خود بھی اسکے پاس بیٹھ کر بولنا شروع ہو گئی۔
میں کبھی کہیں بھی اپنی امی کے بغیر نہیں رہی نا اس وجہ سے ۔
زرش نے اشارہ کیا تو عشال نے اپنی آنکھوں کو پھیر لیا۔
‘یہ تو بلکل ایک چھوٹی سی وجہ ہے ڈال ۔بات کچھ اور ہے جو تم چھپا رہی ہو ۔اب جلدی سے بتاؤ مجھے ورنہ ناراض ہو جاؤں گی اور پھر ان کھڑوس لوگوں کے سہارے جینا تم۔سمجھی۔۔۔۔’
عشال نے مصنوعی غصے سے کہا تھا لیکن پھر بھی زرش اپنی بہت اچھی دوست کو پریشانی سے دیکھنے لگی ۔وہ بلکل بھی اپنی دوست کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔اس لئے کافی دیر سوچنے کے بعد زرش نے اپنے ہاتھ اٹھائے تھے۔
وہ۔۔۔۔۔وجدان کو میں اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔۔۔اس لئے میں انکے سامنے نہیں جانا چاہتی ۔
زرش کی بات پر عشال نے اسے پریشانی سے دیکھا۔
‘پہلی بات کہ تمہیں ایسا کیوں لگا کہ وہ آدمی تمہیں پسند نہیں کرتا اور دوسری بات میٹر یہ نہیں کرتا کہ وہ تمہیں پسند کرتا ہے یا نہیں؟میرے لیے میٹر یہ کرتا ہے کہ وہ تمہیں کیسا لگتا ہے؟’
عشال کے سوال پر زرش نے شرمیلی سی مسکان کے ساتھ اپنا سر جھکایا تھا۔زرش تو اس سبز آنکھوں والے فرشتے کو ہمیشہ سے اپنے معصوم دل میں رکھتی تھی اور اب نکاح جیسے پاکیزہ بندھن میں بندھنے کے بعد تو وہ شخص اب اس دل پر اپنی حکومت کا جھنڈا گاڑ بیٹھا تھا۔
‘ارے واہ انکے تو ذکر پر ہی تمہارا چہرہ گلاب ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔’
عشال نے اسکے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا۔
‘میری بات سنو دھیان سے۔۔۔۔۔۔اول تو جیسا تم سوچ رہی ہو نا ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔وجدان بھائی کے پاس کوئی وجہ ہی نہیں ہے تمہیں نا پسند کرنے کی۔ارے انہیں تو شکرانے کے نفل پڑھنے چاہیں کہ اتنی پیاری سی ڈال ملی ہے انہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر کسی وجہ سے تمہیں نہ پسند کرتے بھی ہیں نا تو تمہیں اس وجہ کو دور کرنا ہو گا زری۔۔۔۔۔۔اس آدمی کو خود سے پیار کرنے پر مجبور کرنا ہو گا۔۔۔۔۔اور یہ سب تم اس کمرے میں بیٹھ کر نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔’
عشال نے اسے بہت پیار سے سمجھایا۔جبکہ زرش بھی بہت دیر تک اسکی باتوں پر غور کرتی رہی تھی۔ہاں وہ چاہتی تھی کہ اسکا شہزادہ اس سے محبت کرے۔بلکل جس طرح شایان جانان سے کرتا ہے۔بلکل جیسے عثمان حمنہ کو چاہتا ہے۔ہاں نا زرش اپنی سب کمیوں کے باوجود یہ سب پانا چاہتی تھی۔
تو پھر مجھے کیا کرنا چاہیے۔
زرش نے جلدی سے عشال سے پوچھا جبکہ جواب میں عشال ایک دلفریب سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھنے لگی۔
‘فلحال تو یہ چاول کھاؤ۔۔۔۔۔اسکے بعد وہ وہ کرتی جانا جو میں تمہیں کہہ رہی ہوں اور پھر دیکھنا کس طرح سے محبوب آپکے قدموں میں ہو گا یہ بنگالی بابا عشال کا وعدہ ہے بچہ۔۔۔۔’
عشال نے ایک ہاتھ اوپر کر کے کہا تو زرش ہنس دی۔اسے عشال پر پورا بھروسا تھا۔زرش نے سوچ لیا تھا کہ اب مزید وہ ڈر کر اندھیرے میں چھپنے والی لڑکی نہیں بنے گی۔بلکہ وہ اپنے حصے کی خوشیوں اور محبتوں کا مطالبہ اپنی قسمت سے کرے گی۔کیونکہ وہ زرش کا حق ہیں جسے وہ حاصل کر کے رہے گی۔
🌈🌈🌈🌈
وجدان کی نظر اپنے سامنے موجود کاغزات پر تھی۔سکندر اسکی سوچ سے بھی ذیادہ چالاک نکلا تھا۔وجدان کافی کوششوں کے باوجود سکندر کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں لگا سکا اور یہ بات اسے غصہ دلا رہی تھی۔
آخر کون تھا یہ سکندر اور خود کو اتنا بڑا راز کیوں بنا رہا تھا۔وجدان کو ان سوالوں کے جواب جاننے تھے جو وہ آرمی کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر نہیں کر پا رہا تھا۔
‘تم ایک ایسی آگ ہو خان جو دنیا کو جلا سکتی ہے مگر کسی کی غلامی میں رہے گی تو بجھ جائے گی۔’
ایک پرانے دوست کے الفاظ اسکے کان میں گونجے تھے۔یہ سکندر بھی تو وجدان جیسا ہی تھا۔ایک آگ اور یہی چیز تو اسے دلچسپ بنا رہی تھی ۔ان سب کاغزات اور ثبوتوں کو واپس خفیہ جگہ پر رکھ کر وجدان نے اپنا رخ دروازے میں لگے پول کی طرف کیا اور اپنی شرٹ اتار کر اسے پول کے ساتھ لٹک کر پش اپس کرنے لگا۔
اچانک سے اسے ایک ہلکی سی آواز کے ساتھ کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو وجدان اس پول سے اتر کر خاموشی سے کھڑا ہو گیا ۔ دروازے کے پیچھے سے ایک ہلکی سی آواز سنائی دینے پر وجدان اپنی پسٹل نکال کر دبے پاؤں سے اس طرف چل پڑا ۔اس نے دروازے کے ایک پٹ کو بند کر کے اسکے پیچھے چھپے وجود کو گلے سے تھام کر اپنی پسٹل اس پر تانی تھی۔وہ نازک سا وجود پل بھر میں خوف کے مارے سہم کر جم گیا تھا اور کانچ سی آنکھوں میں ڈر کے مارے نمی اتر آئی تھی۔
‘مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ مرنا چاہتی ہو میرے ہاتھوں سے کیا۔’
وجدان نے غصے سے اپنی چھوٹی سی بیوی کو گھورا کر کہا اور اسکی ملائم گردن سے اپنا بھاری بھرکم ہاتھ ہٹایا تھا۔جبکہ زرش جس جزبے سے یہاں آئی تھی اب وہ ختم ہو چکا تھا۔
‘کیوں آئی ہوں یہاں؟’
وجدان کے چہرے پر بے زاری تھی جو کہ زرش کے دل کو تیر کی طرح لگی تھی مگر پھر بھی وہ ڈٹی رہی اور عشال کی کہی بات پر عمل کرنے لگی۔
مجھے بھوک لگی ہے اور فریج میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
بہت ہمت کر کے زرش نے اشارہ کیا۔
‘کیا مطلب کچھ بھی نہیں ہے۔ سعد نے جو ڈنر بنایا تھا وہ کہاں گیا؟’
وجدان نے حیرت سے پوچھا تو زرش نے جواب میں اپنے کندھے اچکا دیے۔حالانکہ عشال کی اس چالاکی کے بارے میں وہ جانتی تھی کہ سارا کھانا اسی نے غائب کیا تھا اور پھر زرش کو وجدان کے پاس بھیج دیا۔
‘اچھا آؤ میں دیکھتا ہوں۔’
زرش نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور پھر انتہائی خوشی کے ساتھ وجدان کے پیچھے کچن میں آ گئی۔
‘تمہیں کچھ بنانا آتا؟۔۔۔۔۔۔’
وجدان کا سوال ختم ہونے سے پہلے ہی زرش نہ میں سر ہلانے لگی۔وجدان نے ایک گہرا سانس بھرا جیسے کہ خود پر ضبط باندھ رہا ہو۔
‘ٹھیک ہے تم بیٹھو میں کچھ کرتا ہوں’
زرش فوراً سے کرسی پر بیٹھ گئی۔وجدان نے نوٹس کیا تھا کہ وہ بہت آسانی سے ہر بات مان جاتی ہے۔اس کے علاوہ وہ بہت ہی ذیادہ معصوم اور ڈرپوک بھی ہے۔سب سے بڑھ کر وہ کمزور ہے بہت زیادہ کمزور اور کمزوری سے وجدان کو سخت چڑ تھی۔وجدان جتنی دیر کچن میں کام کرتا رہا تھا زرش اپنی چھوٹی سی ٹھوڈی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسے دیکھتی رہی وہ تو اسی بات میں خوش تھی کہ اسکے مسیحا کو اسکی بھوک کی فکر ہے۔
‘یہ لو اپنا کھانا اور براہ مہربانی اب مجھے گھورنا بند کرو۔’
وجدان نے آملیٹ اور ٹوسٹ اس کے سامنے رکھا۔
میں آپ کو گھور نہیں رہی تھی بس دیکھ رہی تھی کہ آملیٹ کیسے بناتے ہیں۔
زرش نے آہستہ سے اشارہ کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ تیزی سے کیا اشارہ وجدان کو سمجھ نہیں آتا۔
‘میں تمہارا کوکنگ شو نہیں ہوں سمجھی۔اپنی آنکھیں محدود رکھا کرو۔’
وجدان اتنا کہہ کر وہاں سے جانے لگا۔زرش اسے اپنے پاس روکنا چاہتی تھی جب اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو آملیٹ کا ٹکڑا منہ میں ڈال کر زور زور سے کھانسنے لگی۔اسکی بڑھتی سانسوں کی آواز سن کر وجدان تیزی سے مڑا اور اسکے پاس آ کر اسکی پیٹھ تھپتھپانے لگا۔
‘آرام سے کھاؤ کوئی چھین نہیں رہا تم سے۔’
وجدان تقریباً دھاڑا تھا۔زرش جہاں اسکے غصے سے ڈر گئی تھی وہیں اسے وجدان کا اس طرح سے فکر کرنا اسے بہت ذیادہ اچھا لگا تھا۔
سوری۔۔۔۔۔۔۔پلیز آپ میرے پاس بیٹھ جائیں۔
زرش نے آہستہ سے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔وجدان بیٹھنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن اگر پھر سے ایسا کچھ ہو جاتا تو وہ شایان کو کیا جواب دیتا کہ اسکی ڈرپوک سی سالی کھانا کھاتے ہوئے مر گئی۔
یہ بہت مزے کا ہے ۔
زرش نے اشارہ کر کے آملیٹ کھانا شروع کر دیا۔وجدان چاہتے ہوئے بھی نگاہیں اس پر سے ہٹا نہیں پا رہا تھا۔کیا تھی وہ لڑکی؟کیوں وہ اسے اس طرح سے نرمی پر مجبور کر رہی تھی۔اسے کمزور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں یہی تو تھی وہ ایک کمزوری۔۔۔۔۔وجدان نے ضبط سے اپنی مٹھیاں کسی تھیں۔جبکہ اس معصوم کے لئے تو یہی کافی تھا کہ اسکا مسیحا اسکے پاس بیٹھا تھا۔زرش نے مسکراتے ہوئے آملیٹ کا چھوٹا سا ٹکڑا کانٹے سے لگا کر وجدان کی طرف بڑھایا جسے وجدان نے سختی سے ہاتھ مار کر گرا دیا تھا۔
‘اپنی حد میں رہو۔۔۔۔۔۔ نفرت ہے مجھے ان چھچھوری حرکتوں سے۔جانتا ہوں کہ تم کم عمر ہو لیکن اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس قسم کی بے حیائی کرتی پھرو۔آخری بار سمجھا رہا ہوں کہ اپنی حد میں رہو۔۔۔۔۔ورنہ میں نے اپنے طریقے سے بتایا تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔’
وجدان نے یہ سب بہت آہستہ سے کہا تھا لیکن اسکے لہجے کی سختی اور بے انتہا کی بے رخی اس معصوم کا دل چیر گئی تھیں۔زرش نے شرمندگی سے سر جھکا کر اثبات میں سر ہلایا اور گلے میں موجود آنسوؤں کے گولے کو واپس دکھیلنے لگی۔ایک آخری نگاہ اس پر ڈال کر وجدان وہاں سے چلے گیا تو کب سے قید آنسوؤں کو آزادی بخش دی گئی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
سعد اپنے کمرے کی طرف مڑا تو اسکی نظر لاؤنج میں سے آتی ہلکی سی روشنی پر پڑی۔تجسس کے مارے سعد کے قدم آہستہ سے لاؤنج کی طرف بڑھے تھے۔ان دونوں کے اپارٹمنٹ کی سیکیورٹی کافی سٹرونگ تھی وہاں کسی کا بھی باہر سے آنا مشکل تھا مگر پھر بھی سعد کا ہاتھ بے ساختہ طور پر اپنی گن کی طرف بڑھا تھا۔مگر تھوڑا آگے بڑھتے ہی وہ صوفے پر بیٹھ کر اپنا ٹیب استعمال کرتی عشال کو پہچان چکا تھا۔لیکن اس وقت وہ یہاں کیا کر رہی تھی۔سعد آہستہ سے اس کے پیچھے گیا تو اسکا پارہ ہائی ہو گیا۔وہ پاگل لڑکی رات کے 2 بجے کانوں میں ہینڈ فری لگا کر pubg کھیلنے میں مصروف تھی۔
Yes yes got you man.”
عشال نے دانت پیستے ہوئے دو پلیرز کو مار گرایا۔سعد نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو عشال نے چلاتے ہوئے وہ ٹیبلیٹ سیدھا سعد کے سر میں مار دیا۔
‘آہ۔۔۔۔۔۔۔پاگل ہو گئی ہو کیا؟’
سعد سر پکڑ کر غصے سے چلایا۔
‘پاگل تو آپ ہو گئے ہیں ایجنٹ جی جان نکال دی میری مجھے لگا سکندر بھائی صاحب یہاں بھی پہنچ گئے ہیں میری گیم اوور کرنے کے لیے۔’
عشال نے بھی بلکل اسی کی طرح غصے سے چلا کر کہا اور پھر سے اپنے ٹیب کو دیکھا جہاں پر اس کا پلیر اب مر چکا تھا۔
‘یار کیا کیا آپ نے جیتنے والی تھی میں اور۔۔۔۔۔۔یییییاررررررر۔۔۔۔۔۔۔’
عشال نے دوبارہ اپنے ٹیب سے سعد کے سر کا نشانہ بنایا تھا مگر اس مرتبہ سعد نے اسکا ہاتھ ہوا میں ہی تھام لیا تھا۔
‘اس چشمے سے خوش نہیں ہو کیا جو اسکا نمبر بڑھانے پر تلی ہوئی ہو۔کچھ تو اپنی آنکھوں پر رحم کرو۔پہلے ہی چھوٹے سے منہ پر یہ بڑھا سا چشمہ لگا کر شہد کی مکھی لگتی ہو بس دو پروں کی کمی ہے۔’
سعد نے شرارت سے اسکے چشمے کا مزاق بنایا۔
‘او اچھا اپنا چہرہ دیکھا ہے گرین کلر لگا لیں تو کرونا وائرس لگیں گے۔’
عشال نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تھا۔لیکن سعد نے اسے نظر انداز کر کے اپنی توجہ اسکے ٹیب پر مرکوز کی تھی۔
‘اب پتہ چلا کہ اس سکندر کو تمہارے بارے میں انفارمیشن کہاں سے ملتی ہے۔تم یہ ٹیکنالوجی ساتھ رکھتی ہو اور وہ اس کے ذریعے تمہیں ٹریک کرتا ہے پاگل لڑکی۔’
سعد نے اسے بتانا ضروری سمجھا۔عشال نے جلدی سے اپنا ٹیب سینے سے لگایا۔
‘سکندر کے ہاتھوں سے شاید میں مر جاؤں گی لیکن اس ٹیبلیٹ اور اپنے موبائل فون کے کے بغیر ضرور مر جاؤں گی۔’
عشال کے ڈرامائی انداز پر سعد کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔عشال نے بھی شرارت سے اسے دیکھا تھا مگر پھر اچانک اسکی نظر زرش پر پڑی جو کہ روتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔
‘لو ہو گیا پنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
سعد کو کچھ بولنے کا موقع دیے بغیر ہی عشال زرش کے پیچھے چلی گئی تھی جبکہ سعد ابھی بھی اسکی باتوں پر مسکرا رہا تھا۔
🌈🌈🌈🌈
آر بی رات کے اس پہر بھی سونے کی بجائے اپنے گھٹیا کاموں میں مصروف تھا۔اسکے آدمیوں کی نگرانی میں باہر کے ملکوں سے ڈرگز ہماری نوجوان نسل کو برباد کرنے کے لیے ملک میں لائے جا رہے تھے۔
‘سر مجھے آپ سے بات کرنی تھی؟’
فیض دروازے میں کھڑے ہو کر اجازت مانگنے لگا۔
‘ہمم۔۔۔’
‘سر سلمان صاحب کا پتہ چل گیا ہے وہ اسلام آباد اپنی پارٹی کے چیر مین کے پاس گئے ہیں۔پہلے بھی ہم نے عثمان ملک اور اسکی بیوی کو اٹھانے کی مکمل کوشش کی تھی لیکن یہ عثمان کافی چالاک انسان ہے۔’
آر بی کے لبوں پر وہی مخصوص خطرناک سی مسکان آئی۔
‘سلمان صاحب کو یہاں لاؤ وقت آ گیا ہے کہ ہماری ملاقات ہو جائے۔’ فیض اثبات میں سر ہلا کر چلا گیا۔
‘بہت ہوگیا چوہے بلی کا کھیل سلمان صاحب اب آپ مجھے خود ہی اپنی بیٹی کا پتہ بتائیں گے ورنہ اپنی بات نکلوانے کے بہت سے طریقے پتہ ہیں مجھے۔’
آر بی نے اپنے، دانت کچکچائے۔
‘تیار رہنا میرے سنہرے پھول جلد ہی ملاقات ہو گی۔امید ہے کہ تم مجھے نہیں بھولی ہو گی۔ آخر کار میں نے تمہیں بھولنے کے قابل چھوڑا ہی کہاں تھا۔’
آر بی کے چہرے سے شیطانی ٹپک رہی تھی ۔
🌈🌈🌈
(ماضی)
الفاظ بہت زیادہ خوش تھے ایک تو انکی زندگی کو انکے دونوں بیٹوں سکندر اور رومان نے حسین بنا دیا تھا اور دوسرا ان کی کنسٹرکشن کمپنی کو گورنمنٹ نے بہت بڑا پل بنانے کا کانٹریکٹ دیا تھا۔
‘تو کیا آپ کو گورنمنٹ کے کانٹریکٹ سے کافی فائدہ ہو گا؟’
شاہانہ نے انکی خوشی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
‘نہیں شاہانہ بات میرے فائدے کی نہیں ہے۔بات لوگوں کی سہولت اور ہمارے ملک کے معیار کی ہے تم دیکھنا ایسا پل بناؤں گا جو کہ ہمارے ملک والوں کو صرف دوسرے ملکوں میں دیکھنے کو ملتا ہے اور پھر اس سے لوگوں کو بہت ذیادہ سہولت بھی تو ہوگی۔’
الفاظ تو اپنے ذہن میں سارا نقشہ بھی بنا چکے تھے۔
‘بابا وہ دیکھیں سکندر کیا کر رہا ہے؟’
تیرہ سالہ رومان کمرے میں بھاگتے ہوئے آیا اور منہ بسور کر کہنے لگا۔
‘ایسا کیا کر دیا اب اس لڑکے نے؟’
شاہانہ بھاگتے ہوئے باہر گئیں تو الفاظ اور رومان بھی انکے پیچھے چل دیے۔باہر سکندر دیوار پر چڑھ کر اس پر لڑکھڑاتے ہوئے چلنے کی کوشش کر رہا تھا۔
‘سکندر یہ کیا کر رہے ہو گر جاؤ گے۔’
شاہانہ پریشانی سے آگے ہوئیں۔
It’s called acrobat mama.
رومان بھائی نے کہا کہ میں نہیں کر سکتا اس لئے میں انہیں کر کے دیکھا رہا تھا۔’
بولتے ہوئے سکندر بری طرح سے لڑکھڑا گیا تو شاہانہ چیخ مار کر آگے ہوئیں۔الفاظ نے آگے ہو کر سکندر کو کھینچا اور اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔
‘ڈر نہیں لگتا تمہیں؟’
الفاظ نے مصنوعی غصے سے پوچھا اپنے لعل پہ تو وہ کبھی غصہ کر ہی نہیں پاتے تھے۔
‘نو بابا سکندر از بریو ۔وہ صرف اللہ تعالی سے ڈرتا ہے آپ نے ہی تو کہا تھا۔’
سکندر کی بات پر الفاظ نے مسکرا کر اسے سینے سے لگایا۔
‘But your mama is not brave.look she is crying right now.
سکندر الفاظ کے پاس سے اتر کر شاہانہ کے سینے سے لگ گیا۔الفاظ ساتھ کھڑے رومان کو دیکھ کر مسکرا دیے۔ان دونوں بھائیوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔سکندر جہاں اپنی شرارتوں اور بہادری میں نئے نئے کارنامے سر انجام دیتا رہتا تھا رومان وہیں ایک مثالی بیٹا تھا جو انہیں بلکل بھی پریشان نہیں کرتا تھا۔
‘سر آپ سے شیراز حسن صاحب ملنے آئے ہیں۔’
چوکیدار نے بتایا تو الفاظ حیران ہو گئے کیونکہ شیراز حسن صاحب منسٹری کے کافی اونچے عہدے پر فائز تھے۔
‘ان کو لاؤنج میں بیٹھاؤ میں آتا ہوں۔’
چوکیدار اثبات میں سر ہلا کر چلا گیا اور کچھ دیر بعد الفاظ بھی لاؤنج کی طرف چل دیے جہاں شیراز صاحب پہلے سے ہی انکا انتظار کر رہے تھے۔
‘کیسے ہیں آپ شیراز صاحب سب خیریت ہے؟’
الفاظ مسکرا کر انکے سامنے والے صوفے پر بیٹھے۔
‘جی جی سب خیریت ہے ۔وہ بس میں نے سنا تھا کہ نیا پل بنانے کا کام گورنمنٹ نے آپکی کمپنی کو دیا ہے اسی سلسلے میں آپکو مبارکباد دینے آیا تھا۔’
شیراز صاحب کے چہرے پر عجیب سی مسکان تھی۔
‘آپ کا بہت بہت شکریہ۔’
الفاظ مسکراتے ہوئے کہنے لگے۔
‘دراصل بات یہ بھی ہے کہ یہ پروجیکٹ کافی مہنگا ہے اور ملک کےمعاشی مسائل تو آپ کے سامنے ہے تو میں سوچ رہا تھا کہ بڑا پل بنانے پر اتنا پیسہ کیوں برباد کرنا۔’
شیراز صاحب نے کافی چالاکی سے کہا۔
‘پیسہ برباد کرنے والی تو کوئی بات نہیں اس میں اس پل سے عوام کو کافی سہولیات فراہم ہو جائیں گی۔’
الفاظ نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
‘نہیں نہیں آپ میری بات سمجھے نہیں۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اتنا پیسہ کیوں لگائیں اس پل پر ہم تھوڑا بھی تو لگا سکتے ہیں۔تھوڑا سستا میٹیریل استمعال کیا جائے گا تو لاگت خود بخود کم ہو جائے گی۔پھر باقی کا جو پیسہ بچے گا اسے آپس میں بانٹ لیں گے۔اس طرح گورنمنٹ بھی خوش،عوام بھی خوش اور ہمارا بھی فائدہ ہو جائے گا۔’
شیراز صاحب نے دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
‘یعنی آپ مجھے کرپشن کرنے کو کہہ رہے ہیں۔’
‘ارے کرپشن کیسی الفاظ صاحب اسے تو پرافٹ کہتے ہیں۔’
شیراز صاحب نے مسکرا کر ایک چیک الفاظ کی طرف بڑھایا۔الفاظ نے پہلے کڑوڑوں کی قیمت کے اس چیک اور پھر شیراز صاحب کو دیکھا۔
‘آپ کو پتہ ہے نا کہ سستا میٹیریل یوز کرنے سے پل گر بھی سکتا ہے اور اس پل کو بہت بڑے دریا پر بنایا جائے گا ۔اندازہ ہے آپ کو کہ یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔’
الفاظ نے انہیں پوری معلومات دی۔
‘تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ مہنگا میٹیریل استمعال کرنے سے پل نہیں گرے گا۔بھئی حادثے تو زندگی کا حصہ ہیں۔جب جب جو جو ہونا ہے تب تب سو سو ہوتا ہے۔ہم ہر چیز کو ہونے سے روک نہیں سکتے۔’
شیراز صاحب کی بات پر الفاظ نے اپنی مٹھیاں کسی تھیں۔
‘جب تک حکومت میں آپ جیسے گھٹیا لوگ رہیں گے نا ہمارا ملک کبھی بھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکے گا کیونکہ ہر شے میں سے آپ لوگوں نے اپنا ذاتی فائدہ ڈھونڈ کر اپنی ہی عوام،اپنے ہی ملک کو لوٹنا ہے۔۔۔۔معاف کیجئے گا میں یہ کبھی بھی نہیں کروں گا۔پل سب سے اچھے میٹیریل کا ہی بنے گا ۔اب آپ یہاں سے جا سکتے ہیں۔خدا حافظ۔’
الفاظ اتنا کہہ کر وہاں سے اٹھ کر چل دیے۔
‘اپنے بیوی بچوں کے بارے میں سوچ لو الفاظ کبھی سوچا ہے کہ تمہیں کچھ ہو گیا تو ان کا کیا بنے گا۔’
شیراز صاحب نے صاف سیدھے الفاظ میں دھمکی دی۔
‘وہی بنے گا شیراز صاحب جو اللہ کو منظور ہو گا اور ویسے بھی ابھی آپ نے ہی تو بتایا کہ جب جب جو جو ہونا ہے تب تب سو سو ہوتا ہے۔تو پھر میں کیوں ڈروں۔’
الفاظ اتنا کہہ کر وہاں سے چلے گئے جبکہ شیراز صاحب مٹھیاں کستے رہ گئے تھے۔
‘تم نے اچھا نہیں کیا الفاظ بلکل بھی اچھا نہیں کیا۔’
اتنا کہہ کر شیراز صاحب بھی غصے کے عالم میں وہاں سے چلے گئے۔