33.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

(ماضی)
شاہانہ کیسے اپنے اکلوتے لعل کو مرتے ہوئے دیکھتی۔اس سے پہلے وہ ہزار موت مرنا پسند کرتی اور اپنا گلا کاٹتے وقت اس نے یہی سوچا تھا کہ مر جائے گی تو مزید غم نہیں سہنا پڑے گا اسے۔
لیکن شیراز حسن سکندر کو وہاں سے بھیجتے ہی فوراً شاہانہ کو ہسپتال لے گیا تھا۔ چونکہ گلا شاہانہ نے خود کاٹا تھا تو وہ زیادہ زور نہیں لگا پائی اور وہ کٹ بہت ہلکا سا تھا۔
شاہانہ بچ تو گئی تھی لیکن ڈاکٹر نے کہا کہ وہ پھر کبھی بول نہیں پائے گی۔پھر اپنے ہوش میں آتے ہی شاہانہ نے اپنے سکندر کے بارے میں جاننا چاہا تو شیراز حسن کے سب سے خاص آدمی اور باڈی گارڈ فرمان کو بتانا پڑا کہ اسکا بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا اگلے دن ہی اسے بم پہنا کر ایک دھماکے میں مار دیا گیا تھا۔
یہ جاننا ہی تھا کہ شاہانہ بلکل ہی ٹوٹ گئی۔کیا مقصد تھا اسکی زندگی کا کچھ بھی تو نہیں اسے بس مرنا تھا ہاں وہ مرنا چاہتی تھی۔
ایسا سوچ کر شاہانہ نے فرمان سے ایک چاقو چھینا اور اسے اپنے پیٹ میں مارنے لگی مگر عین وقت پر فرمان نے شاہانہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔
‘پاگل ہو گئی ہو بہن ۔۔۔۔مت کرو ایسا اپنا نہ سہی اپنے ہونے والے بچے کا تو خیال کرو جو ابھی اس دنیا میں آیا ہی نہیں۔’
اس بات پر شاہانہ نے ٹھٹھک کر فرمان کو دیکھا۔
‘ہاں شاہانہ باجی یہی تو آخری نشانی بچی ہے تمہارے پاس الفاظ کی اسے بھی ختم کر دو گی کیا؟’
چاقو خود بخود شاہانہ کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرا تھا۔خدا کے اس فیصلے پر شاہانہ بہت حیران ہوئیں مزید اولاد کی امید تو انہیں نے کبھی کی ہی نہیں تھی انکے لئے تو انکا پورا جہان سکندر تھا۔ ۔ہاں وہ بھلا کیسے اپنی اولاد کی جان لے لیتی اسے اس بے درد دنیا میں جینا تھا اپنی اولاد کی خاطر جینا تھا۔پھر ڈاکٹر نے بھی شاہانہ کو بتایا کہ دو مہینے ہو چکے ہیں اسے امید سے ہوئے لیکن شاہانہ اپنی پریشانی میں اپنی کیفیت کا اندازہ ہی نہیں لگا پائی تھی۔
شیراز کو جب شاہانہ اور اس کے بچے کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے سوچا کہ الفاظ کی اس نشانی کو بھی پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کروا دے لیکن وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کر پایا تھا۔جو گناہ اس نے کیے تھے انکا کرب ناک خوف اسکے دل میں بیٹھ گیاتھا جو اسے رات رات بھر سونے نہیں دیتا تھا۔شیراز کو لگتا تھا کہ یہ شاہانہ کی بدعاوں کی وجہ سے ہوا ہے اسی لیے شیراز نے اسکا خیال رکھنا شروع کر دیا کہ شاید اسکا پچھتاوا اسکا خوف تھوڑا کم ہو جائے۔شیراز نے شاہانہ کو فرمان کے ساتھ انگلستان پہنچا دیا اور خود بھی سکون کی تلاش میں شاہانہ سے ملنے کے لیے جاتا اور اسکے پیر پکڑ کر روتا رہتا تھا۔مگر سکون کبھی بھی شیراز کو حاصل نہیں ہوا تھا۔گناہ کا احساس اسے اندر ہی اندر ختم کر رہا تھا۔
شاہانہ نے بہت ذیادہ دعائیں کیں کہ اللہ اسے ایک بیٹا دے جو مظبوط ہو اسکا سہارا بنے۔جو اسکا سکندر ہو۔لیکن اللہ کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔شاہانہ کے ہاں بہت ہی زیادہ خوبصورت سی بیٹی پیدا ہوئی تھی۔جسکے بارے میں جان کر ہی شاہانہ بہت ذیادہ روئی۔وہ تو ایک بیٹا چاہتی تھی،سکندر چاہتی تھی جو کہ اسکی حفاظت کرتا اسے انصاف دلاتا لیکن اس لڑکی کو شاہانہ اس دنیا سے کیسے بچاتی شیراز حسن سے کیسے بچاتی۔
مگر پھر اس بچی نے اپنی بڑی سی سبز آنکھیں کھول کر شاہانہ کو دیکھا وہ آنکھیں بلکل ویسی ہی تھیں اسکے سکندر جیسی۔
‘تم سکندر ہو بیٹا سکندر ہو تم میرا۔۔۔’
شاہانہ نے روتے ہوئے اپنے خاموش لبوں سےکہا ۔فرمان نے اس بچی کا نام عشال رکھا تھا۔شیراز کو جب اسکا علم ہوا تو وہ عشال کو دیکھنے آیا۔
عشال کی معصوم صورت دیکھ کر شیراز کے اندر وہ سکون اترا جو وہ اتنے ماہ سے تلاش کر رہا تھا۔اس معصوم بچی کی ایک جھلک پر شیراز کا سارا خوف سارا پچھتاوا مٹ گیا تھا اور اس سب کی جگہ سکون نے لے لی تھی۔
شاہانہ کا بس چلتا تو وہ شیراز کا سایہ بھی عشال پر نہیں پڑنے دیتی لیکن شیراز چھپ چھپا کر عشال کو اٹھا ہی لیتا اور پھر اپنی بیٹیوں سے بھی زیادہ وہ عشال سے پیار کرنے لگا۔
عشال نے بڑے ہوتے ہوئے اپنے نام سے بھی زیادہ سکندر کا نام سنا تھا ۔اسکی ماں بولتی تو نہیں تھی لیکن اپنے اشاروں سے عشال کو ہر ظلم ہر ستم کے بارے میں بتا دیتی۔عشال نے کبھی سکندر کی تصویر بھی نہیں دیکھی شاہانہ کے پاس عشال کو دکھانے کے لئے ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔
شاہانہ کی باتوں میں ہر بار ایک ہی بات ہوتی کہ اگر اسکا سکندر زندہ ہوتا تو ان کے ساتھ یہ سب نہیں ہوتا آزاد ہوتے وہ قید نہیں۔
عشال کو شیراز سے کافی محبت تھی کیونکہ شیراز جب بھی انگلستان آتا تو عشال کو بہت ذیادہ پیار کرتا اسے گھمانے لے کر جاتا جس کی عشال کو بلکل بھی اجازت نہیں تھی۔اسکو تو ٹیچرز بھی گھر ہی پڑھانے آتے تھے۔
مگر ایک دفعہ شیراز آیا تو اسکے بلائے بغیر ہی عشال اسکے پاس گئی اور اپنی سبز آنکھوں سے اسے گھورنے لگی۔ان سبز آنکھوں میں غصہ اور بہادری دیکھ کر شیراز کو سکندر یاد آیا تھا۔شیراز کو لگا جیسے اس لڑکی کے جسم میں سکندر کی ہی روح تھی۔
‘آپ برے ہیں۔’
عشال نے انتہائی غصے سے کہا شیراز نے اپنا سر جھکا کر ہاں میں سر ہلایا۔
‘ہاں میرا بچہ میں برا ہوں بہت ذیادہ برائیاں کی ہیں میں نے۔’
شیراز کی آواز میں غم اور پچھتاوا تھا لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔
‘آپ نے میرے بھائی کو مارا؟؟’
عشال کے سوال پر شیراز کا سر مزید جھکا آہستہ سے شیراز نے ہاں میں سر ہلایا۔
‘میں بڑے ہو کر آپ کو مار دوں گی۔۔۔’
عشال بات پر شیراز نے اپنا سر اٹھا کر عشال کو دیکھا ان سبز آنکھوں میں بہت ذیادہ بہادری تھی بلکل سکندر کی طرح۔
عشال سب سے زیادہ اپنی ماں اور فرمان کے قریب ہی تھی کیونکہ سب سے زیادہ وقت وہ ان دونوں کے ساتھ ہی گزارتی۔عشال نو سال کی ہوئی تو شیراز کی پوری فیملی ایک کار ایکسیڈینٹ میں ماری گئی ۔شیراز اس وقت ان لوگوں کے پاس تھا شیراز کو جیسے ہی یہ خبر ملی وہ شاہانہ اور عشال کو واپس پاکستان لے کر آیا اسکے بیوی بچوں کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ انکی لاش تک پہچاننے کے قابل نہیں رہی تھی۔
وہ پوری رات شیراز شاہانہ کے قدموں میں بیٹھ کر روتا رہا اپنے گناہوں کی مافی مانگتا رہا تھا اور شاہانہ مردہ آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی تھی۔
اگلے دن ہی شیراز نے ایک فیصلہ کیا۔اس نے الفاظ درانی کے برباد ہونے پر اسکی کمپنی کے جو شیرز خریدے تھے وہ اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بھی تمام جائیداد عشال کے نام کر دی۔
شیراز نہیں چاہتا تھا کہ اگر اسے کبھی کچھ ہو جائے تو عشال اور شاہانہ در بدر کی ٹھوکریں کھائیں۔
انہیں پاکستان آئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا اور اگلے دن ہی شیراز عشال اور شاہانہ کو لے کر انگلستان واپس جانا چاہتا تھا لیکن اسی رات کچھ لوگ انکے گارڈز کو مار کر گھر میں داخل ہوئے۔ شاہانہ نے سہم کر عشال کو خود میں بھینچا۔
‘کیسے ہو شیراز حسن۔’
اس گینگ کے لیڈر نے شیراز کو گریبان سے پکڑ کر پوچھا۔شیراز کی روح تک کانپ گئی تھی لیکن شاہانہ حیرت سے اس تیئس سالہ لڑکے کو دیکھ رہی تھی۔وہ کیسے نہ پہچانتی اسے وہ اسکا رومان ہی تو تھا۔
شاہانہ عشال کو چھوڑ کر بھاگ کر رومان کے پاس گئی اور اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی اسکا ایک بیٹا زندہ تھا رومان زندہ تھا شاہانہ کو امید نظر آئی۔
رومان نے حیرت سے شاہانہ کو دیکھا۔وہ نہیں جانتا تھا کہ شاہانہ آج تک زندہ تھی ۔
کہاں تھے تم رومان اتنا کچھ ہو گیا ہمارے ساتھ میرے سکندر کو مار دیا انہوں نے رومان تمہارے بھائی کو مار دیا۔
رومان نے حیرت سے شاہانہ کو اشارہ کرتے دیکھا پھر اسکی نظر کمرے کے کونے میں کھڑی عشال پر پڑی۔
دیکھو وہ عشال ہے رومان تمہاری بہن ۔۔۔۔عشال یہ بھائی ہے آپکا۔
شاہانہ نے بے چینی سے اشارہ کیا۔رومان چل کر عشال کے پاس آیا اور پھر اپنے گھٹنوں پر بیٹھ کر عشال کی آنکھوں میں جھانکا۔عشال کو نا جانے کیوں وہ شخص صیح نہیں لگا تھا اسی لئے اپنی آنکھوں کو خطرناک کر کے وہ رومان کو گھورنے لگی تھی۔
‘تم عشال درانی ہو؟’
رومان نے ایک ابرو اچکا کر سوال کیا۔
‘میں سکندر ہوں۔’
عشال نے بہت بہادری سے دانت پیس کر کہا۔رومان کو اس کی آنکھوں سے وحشت ہونے لگی تھی وہ بلکل سکندر کے جیسی تھیں اور رومان کو سکندر کی یاد دلا رہی تھیں۔
‘کیا کہا تو نے۔’
رومان نے غصے سے اتنا کہہ کر عشال کی نازک گردن کو پکڑا اور اسے زور سے دبانے لگا۔عشال اسکی پکڑ میں مچلنے لگی لیکن وہ نازک سی بچی کر بھی کیا سکتی تھی۔
شاہانہ حیرانی اور پریشانی سے رومان کے پاس آئی اور اسے عشال سے دور ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگی۔رومان نے ایک جھٹکے سے عشال کو دھکا دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
‘لڑکی ہے تو کمزور ہے سمجھی ایک لڑکی کچھ نہیں کر سکتی سوائے رو کر بدعا دینے کے جوتی ہے تو پاؤں کی۔’
رومان نے اتنا کہہ کر اپنے بھاری بوٹ سے ایک زور دار ضرب عشال کے پیٹ میں ماری۔
شاہانہ رومان کے آدمی کی پکڑ میں روتے ہوئے مچل رہی تھیں لیکن رومان کسی کی پرواہ کیے بغیر اس چھوٹی سی بچی کو مار رہا تھا۔تیسری ضرب پر ہی عشال بے سدھ ہو گئی لیکن وہ بے ہوش نہیں ہوئی تھی رومان شاہانہ کی طرف پلٹا۔
‘آپ کو کیا لگتا ہے آپکے سکندر کو انہوں نے مارا تھا ۔۔۔۔۔ہاہاہاہا ۔۔۔۔ لیکن مروایا تو میں نے تھا نا آپکے اس سکندر کو’
شاہانہ نے غم اور حیرت سے رومان کو دیکھا ۔
‘ہاں بلکل جیسے ابھی آپکو مار دوں گا۔’
اتنا کہہ کر اس نے شاہانہ پر بندوق تان کر گولی چلا دی۔شاہانہ فوراً زمین پر گری تھیں۔چھوٹی سی عشال وہیں پڑی پڑی تڑپ کر رہ گئی تھی لیکن اس میں اٹھنے کی ہمت بلکل بھی نہیں تھی۔
رومان مسکرا کر شیراز کی طرف مڑا۔
‘تو کہا تھا نا میں نے تجھے کہ الفاظ درانی کی دولت پر میرا حق ہے پھر کیونکر تو نے وہ سب کسی اور کے نام کر دیا؟’
رومان نے بہت غصے سے کہتے ہوئے شیراز کو مارا ۔
‘رومان۔۔۔۔۔’
شیراز نے اسے روکنے کی ناکام کوشش کی ۔
‘نہیں نہیں شیراز حسن اب میں کوئی رومان یا بلو نہیں رہا میں آر بی ہوں سمجھا۔ ایسی طاقت جو کسی کے قابو میں نہیں۔’
رومان نے ایک جھٹکے سے شیراز کو زمین پر پٹخا اور اپنے ایک آدمی سے کچھ پیپرز پکڑ کر شیراز کے سامنے پھینکے۔
‘چل ان پر سائن کر اور شرافت سے ساری جائیداد میرے نام کر دے۔’
رومان کی بات پر شیراز حسن نے اپنا سر انکار میں ہلانا شروع کر دیا۔
‘نہیں اس دولت پر صرف عشال کا حق ہے۔’
رومان نے اپنا بھاری بوٹ بہت شور سے شیراز کے منہ پر مارا اور اپنے ریوالور کا رخ عشال کی طرف کر دیا۔
‘تو پھر اس عشال کو ہی مار دیتا ہوں۔۔۔’
رومان کی بات پر شیراز کانپ کر رہ گئے۔
‘نہیں اسے کچھ مت کرنا میں کرتا ہوں سائن۔’
شیراز نے وہ پیپرز اٹھا کر جلدی سے سائن کیے۔رومان نے وہ پیپرز اسکے ہاتھ سے کھینچے اور پھر اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا۔ان آدمیوں نے اپنی گاڑی میں سے پیٹرول لا کر ہر جگہ پر پھینکنا شروع کر دیا۔شیراز نے مزاحمت کرنا چاہی لیکن چوٹوں کے بائث وہ اٹھ بھی نہیں پا رہا تھا۔شیراز کو پروا تھی تو صرف عشال کی جو ابھی بھی وہاں بے سدھ پڑی تھی جبکہ زندہ تو شاہانہ بھی تھی شیراز اسے ہلکے ہلکے سانس لیتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔
‘رحم کرو ۔۔۔۔’
شیراز نے تھک ہار کر کہا جواب میں رومان قہقہہ لگا کر ہنسا تھا ۔
‘رحم مجھے آتا ہی نہیں۔۔۔۔خدا حافظ شیراز اوپر جا کر میرے باپ اور بھائی کو میرا سلام کہنا۔’
رومان نے ایک ماچس جیب سے نکال کر جلائ اور اس تیلی کو شاہانہ پر پھینک دیا۔شاہانہ تڑپنے لگی۔آہستہ آہستہ آگ ہر طرف پھیلنے لگی تھی لیکن وہ شیطان وہاں سے جا چکے تھے۔شیراز نے اٹھ کر شاہانہ کی مدد کرنی چاہی تو آگ نے اسے بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
عشال ہلکی سی کھلی ہوئی آنکھیں اور بے سدھ جسم کے ساتھ بہت ذیادہ بے بسی سے اپنی ماں کو تڑپ کر مرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔بہت سے آنسو ان سبز آنکھوں سے بہے تھے۔شیراز اور شاہانہ تو جل چکے تھے اب عشال کی باری تھی۔
لیکن تبھی کوئی اس آگ میں داخل ہوا اور عشال کو ایک چادر میں لپیٹ کر پچھلے دروازے سے بھاگ گیا۔
عشال پولیس والوں کے قریب آتے سائرن کی آواز سن سکتی تھی لیکن اس کو باہوں میں اٹھا کر بھاگنے والا شخص کافی دور نکل گیا اور عشال بھی بے ہوش ہو کر اسکی باہوں میں جھول گئی۔
عشال کو کافی دن بعد ہوش آیا۔اسے بچانے والا کوئی اور نہیں شیراز کا باڈی گارڈ فرمان تھا جس نے عشال کو اپنی بیٹیوں کی طرح پالا۔اپنے بیوی بچے ہونے کے باوجود کبھی بھی انہیں عشال کے بارے میں پتہ نہیں چلنے دیا۔فرمان نہیں چاہتا تھا کہ عشال کی جان کو کسی بھی قسم کا خطرہ ہو۔
عشال کئی مہینے کمرے میں بیٹھ کر آنسو بہاتی رہی تھی۔اپنی ماں کی اس قدر درد ناک موت وہ بچی بھلا نہیں پا رہی تھی۔
رومان کا کہا ایک ایک لفظ اسکے ذہن میں گونج رہا تھا لیکن اسکا عشال پر الٹا ہی اثر ہوا تھا۔وہ بزدل نہیں بنی تھی بلکہ سخت ہو گئی بہت بہت ذیادہ مظبوط۔
عشال نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس آر بی کو دیکھائے گی کہ وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں ہے جو خود سے ہوئی زیادتی پر صرف بدعا دے کر آنسو بہا لیں۔عشال اس آر بی کی زندگی جہنم سے بھی بدتر کر دے گی۔
عشال نے فرمان سے کہا تھا کہ اسے بندوق چلانا اور لڑنا سیکھا دے پہلے تو فرمان کو عشال کو اس طرح کے خطرے میں ڈالنا بہتر نہیں لگا تھا لیکن عشال کے لئے یہی اچھا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کر سکے۔اس لیے فرمان نے محض دس سال کی عمر سے ہی عشال کو لڑنا اور بندوق چلانا سیکھا دیا تھا۔ سکول میں اسکی سب سے زیادہ دلچسپی کمپیوٹر میں تھی اسی لئے عشال کمپیوٹر کا ہر طرح کا راز جانتے جانتے بڑی ہوتے تک کافی اچھی ہیکنگ کرنے لگی جبکہ فرمان اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔
فرمان عشال کا بہت خیال رکھتا تھا اسے کبھی کسی طرح کے خطرے میں نہیں پڑھنے دیتا۔لیکن جب عشال سترہ سال کی ہوئی تو فرمان کی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے موت ہو گئی۔بہت عرصہ تو عشال اسی صدمے سے نہیں نکل پائی تھی۔پھر عشال نے ایک فیصلہ کیا۔اس نے آر بی کو نیست و نابود کرنے کا سوچ لیا تھا ۔
مگر بھلا ایک لڑکی یہ سب کیسے کر سکتی تھی۔ایک لڑکی نہیں لیکن سکندر تو کر سکتا تھا نا۔تبھی عشال نے سکندر بن کر ایک آدمی کو مار ڈالا جس نے ایک لڑکی کا ریپ کر کے بہت بے رحمی سے اسکا گلا دبا کر مار دیا تھا لیکن اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے بچ گیا اور یہ سلسلہ عشال نے قائم ہی رکھا۔وہ پہلے بہت اچھی طرح سے چھان بین کر کے اپنے شکار کی تمام معاملات اکھٹی کرتی اسکی خامیاں اور کمزوریاں جان کر پھر ان پر حملہ کرتی۔سکندر کے نقاب کے پیچھے سے ایک لڑکی کی آواز سن کر سب لوگ حیران ہوتے لیکن اپنی حیرانی کسی کو بتانے کے لیے وہ زندہ ہی نہیں رہتے۔
آر بی کے بارے میں پتہ لگاتے ہوئے عشال کی نظر قوم کے ان دشمنوں پر پڑی جو بہت بہادری سے گناہ کر کے بچ جاتے اور پھر سے وہ گناہ کرنے نکل پڑتے تھے۔اس۔ لیے آر بی کو ڈھونڈنے کے ساتھ ساتھ عشال انکی بھی دشمن ہو گئی۔
عشال نے آر بی کا پتہ لگانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن آر بی نے اپنی معلومات کچھ ذیادہ ہی خفیہ رکھی ہوئی تھی۔عشال کے پاس بس اسکے بچپن کی ایک تصویر ہی تھی اور اسکے نام کے علاوہ عشال کچھ نہیں جانتی تھی۔عشال کو اب ایک ہی حل نظر آیا آر بی تک سکندر کا نام پہچانا پھر وہ آر بی کو نہیں آر بی خود اسے ڈھونڈتا۔
اسی لیے اس پارکنگ ایریا میں آدمی کو مارنے کے بعد اپنا حلیہ بدل کر عشال پولیس سٹیشن گئی اور انہیں سکندر کے بارے میں بتانے لگی۔
پولیس نے بھی اسے سرکاری گواہ کے طور پر پروٹیکشن دینے کی کوشش کی لیکن وہ پروٹیکشن عشال کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے لگی۔اسی وجہ سے عشال خود کو ہی چوٹ پہنچا کر کہتی کہ سکندر اسے مارنا چاہتا ہے ۔بہت جگہیں بدلنے کے بعد عشال کو کرنل آصف کے پاس بھیج دیا گیا۔کرنل آصف کے پاس جا کر عشال نے اس ڈاکٹر کے بارے میں ساری انفارمیشن اکٹھی کر لی تھی ۔
مگر کینٹ ایریا کی سکیورٹی کو توڑ کر باہر نکلنا مشکل تھا اسی لئے عشال نے پھر سے خود پر حملے کی ایکٹنگ کی اور پھر سعد کے پاس بھیج دی گئی۔
یہ پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ اسے ایک جوان آدمی کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔عشال نے بہت جلد ہی انکے گھر آ کر چیزوں کو آبزرو کر لیا۔یہاں سے وہ اپنا کام بہت آسانی سے کر سکتی تھی۔
جب عشال نے پہلی مرتبہ وجدان کو دیکھا تو اسے کچھ عجیب سا لگا ۔وجدان خان کی آنکھیں بلکل عشال کی طرح تھیں لیکن یہ ایک اتفاق بھی تو ہو سکتا تھا۔عشال نے معصومیت اور مظلومیت کا دکھاوا کر کے سعد کو تو خود پر پختہ یقین دلا لیا تھا لیکن اتنا وہ سمجھ گئی تھی کہ وجدان خان کافی ذیادہ چالاک آدمی ہے اس سے بچ کر رہنا ہو گا۔
سب کچھ عشال کے پلین کے مطابق ہوا اس نے اس ڈاکٹروں کے نام پر دھبے کو بھی مٹا دیا لیکن عشال نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اسکی دوستی زرش جیسی معصوم لڑکی سے ہو جائے گی اور نہ ہی اس نے یہ سوچا تھا کہ زرش بھی بلکل اس کی طرح اس رومان کے مظالم کا شکار ہو گی ۔
زرش کا سچ جان کر عشال نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آر بی کو اسکے انجام تک پہنچا کر رہے گی پھر چاہے کچھ بھی ہو جائے۔عشال یہ بھی سمجھ گئی کہ وجدان خان اس پر شک کرنے لگا ہے اسی لئے اس نے زرش کو وہ طریقے بتائے تا کہ وجدان اپنی تمام تر توجہ زرش پر دے اور عشال کا یہ پلین بہت کامیاب بھی رہا تھا پر اس نے یہ نہیں سوچا تھا کہ وجدان اس قدر بے حس ہو گا کہ اس لڑکی کے معصوم دل کو چکنا چور کر دے۔نہ ہی اس نے یہ سوچا تھا کہ وجدان کی بے رخی کی وجہ سے زرش گھر چھوڑ کر آر بی کے ہاتھ لگ جائے گی۔
پھر جب وجدان آر بی کو ڈھونڈنے نکلا تو عشال کو یہ موقع بلکل صیح لگا تھا ۔وجدان خان کے ذریعہ وہ بہت آسانی سے آر بی تک پہنچ سکتی تھی۔اسی وجہ سے عشال نے سعد کو وجدان کے ساتھ جانے پر مجبور کیا۔
جب وہ لوگ سبی کے قربستان میں گئے تو دو آدمیوں نے عشال کو پکڑنے کی کوشش کی پہلے تو عشال نے سوچا کہ انکی وہ درگت بنائے کہ وہ زندگی بھر یاد رکھیں لیکن پھر اس نے سوچا کہ بہتر یہی ہے کہ وہ کسی طرح تاشا تک پہنچ جائے تا کہ پھر تاشا سے وہ آر بی کا پتہ لگوا لے اسی لیے پھر سے مظلومیت کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر عشال ان مردوں کے ساتھ چلی گئی۔
جب تاشا نے عشال کو اپنے ساتھ لے جا کر بیڈ پر دھکا دیا تو عشال نے غصے سے اپنی مٹھیاں کسیں اور تاشا کہ قریب آنے کا انتظار کرنے لگی۔پر اس کے قریب آنے سے پہلے ہی وجدان نے وہاں آ کر تاشا کو جو حال کیا تھا وہ عشال کو حد سے زیادہ پسند آیا۔مگر عشال کو ڈرنے کا جھوٹا ڈرامہ تو کرنا ہی تھا۔
زیارت جا کر بھی عشال نے زرش سے آر بی کے گھر کا حلیہ پوچھا اور وہاں چلی گئی وہاں جانے کا عشال کو فائدے سے ذیادہ نقصان ہی ہوا تھا وہ وجدان کے ہاتھ لگتے لگتے بچی تھی اور تو اور وجدان کو عشال پر شک بھی ہو گیا۔
برا تو عشال کو تب لگا جب اسے ان لوگوں نے وہاں سے واپس بھیج دیا۔لیکن ایک بات عشال سمجھ چکی تھی۔زرش آر بی کے لیے کوئی عام چیز نہیں تھی آر بی اس کے لیے کچھ بھی کرسکتا تھا۔اسی لیے عشال نے ایک پلین بنایا کہ وہ آر بی سے رابطہ کر کے اسے زرش دینے کا وعدہ کرے گی لیکن وہ وہاں زرش کو کبھی بھی لے کر نہیں جائے گی بلکہ خود اکیلی ہی آر بی کے سامنے جائے گی۔
وہ اتنا جانتی تھی کہ آر بی کی تمام گینگ اسے زندہ نہیں چھوڑے گی لیکن اس نے خود سے وعدہ کیا کہ مرنے سے پہلے وہ آر بی کو بھی مار دے گی۔
اسی لئے عشال نے ایک آدمی کے بارے میں انفارمیشن اکٹھی کرنی شروع کر دی جو کہ آر بی کے سمگلنگ وغیرہ کے کاموں میں ملوث تھا۔عشال اس سے آر بی کا پتہ لگانے گئی۔آر بی تو نہیں لیکن اسے آر بی کے سب سے خاص آدمی فیض کے بارے میں پتہ چل گیا اور عشال کے لئے یہی کافی تھا۔
عشال باہر آئی تو اسکا سامنا پھر سے وجدان خان سے ہوا۔عشال اس کو چکما دے کر بھاگنے لگی تھی لیکن پھر وجدان کے الفاظ نے اسکے پیر زمین میں گاڑ دیے۔
‘بھاگ جانا لیکن پہلے مجھے میری پہچان استمعال کرنے کی وجہ تو بتا کر جاؤ۔’
وجدان کی پہچان؟عشال نے حیرت سے وجدان کی طرف دیکھا۔
‘یہ تمہاری پہچان نہیں ہے جسکی ہے وہ مر چکا ہے۔’
عشال نے کرب سے مٹھیاں کستے ہوئے کہا۔
‘لگتا ہے میرے بارے میں کافی کچھ جانتی ہو تم لڑکی لیکن سب کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔میں ہی سکندر الفاظ درانی ہوں ۔۔۔۔۔۔ مرا نہیں زندہ ہوں اور اپنی پہچان کو چرانے کی وجہ جاننا چاہتا ہوں۔’
عشال کو لگا تھا کہ اسکی سانسیں ہی تھم جائیں گی۔ایسا کیسے ہو سکتا تھا اسکا بھائی زندہ تھا اسکے سامنے تھا۔اگر وہ زندہ تھا تو کیوں نہیں بچایا اس نے عشال کو کیوں تھی وہ اس حال میں؟
‘ثابت کرو کہ تم سکندر الفاظ درانی ہو۔’
عشال نے کافی غصے سے اس کے قریب آ کر کہا۔
‘یہ ثابت کرنے کے لیے میری آنکھیں ہی کافی ہیں عشال الفاظ درانی۔’
وجدان نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ابھی کل اس سے ٹکرانے کے بعد ہی تو وجدان نے اسکے بارے میں تمام انفارمیشن حاصل کی تھی اور عشال کے بابا کا نام دیکھ کر وجدان کو لگا تھا کہ ایک بم اس پر پھوڑا گیا ہو۔عشال اسکی اپنی بہن تھی۔
‘نہیں۔۔۔۔۔نہیں ہیں آپ میرے بھائی نہیں ہیں آپ سکندر اگر آپ میرے بھائی ہوتے تو کیوں نہیں بچایا آپ نے ہمیں۔۔۔۔کہاں تھے آپ جب اس نے مجھے مارا۔۔۔۔کہاں تھے آپ جب اس نے میری آنکھوں کے سامنے ماما پر تیل ڈال کر انہیں جلا دیا کہاں تھے آپ بھائی جب میں خود سکندر بن کر۔۔۔۔ خود کو آپ بنا کر اپنے دشمن سے لڑتی رہی اسے ڈھونڈتی رہی۔۔۔۔کہاں تھے آپ۔۔۔۔۔’
عشال نے روتے ہوئے وجدان کو گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑا تھا۔آج وہ تین سال بعد رو رہی تھی۔
‘میں نہیں جانتا تھا کہ میرا کوئی اپنا باقی ہے نہیں جانتا تھا کہ میری ماما زندہ تھیں۔۔۔۔نہیں جانتا تھا کہ میری اتنی بہادر بہن بھی ہے۔۔۔۔’
وجدان نے بہت محبت سے کہتے ہوئے عشال کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا تو عشال ہر گلہ بھولا کر اپنے اکلوتے رشتے،اپنے بھائی کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
‘وو۔۔۔۔۔وہ بہت برا تھا بھائی بہت۔۔۔۔۔بہت زیادہ برا۔۔۔۔۔میری آنکھوں کے سامنے اس نے ماما کو جلا کر مر دیا اور میں کچھ نہیں کر پائی۔۔۔۔۔بہت بے بس تھی میں بہت کمزور۔۔۔۔۔’
وجدان نے بھی آنسو بہاتے ہوئے عشال کو خود سے لپٹایا۔
‘معاف کر دو مجھے گڑیا پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔’
وجدان کی رندھی آواز پر عشال نے اپنا سر اٹھا کر وجدان کو دیکھا اور پھر نم سی مسکان کے ساتھ ہاں میں سر ہلایا۔
‘یہ سب اس شیراز حسن کی وجہ سے ہوا ۔صرف انا اور دولت کی خاطر اس نے ہمارے ماں باپ اور بھائی کو مار دیا۔’
عشال کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں۔
‘کونسا بھائی؟’
‘ہمارا ایک اور بھائی تھا گڑیا رومان ہم دونوں سے بڑا تھا وہ۔۔۔’
یہ سنتے ہی عشال نے ضبط سے اپنی مٹھیاں کسیں۔
‘نہیں۔۔۔۔ وہ جلاد ہمارا بھائی نہیں ہے آپ جانتے ہیں شیراز انکل تو صرف ایک کٹ پتلی تھے یہ سب کروانے والا رومان ہی تھا۔’
وجدان کی حیرت دیکھتے ہوئے عشال نے سب کچھ اسے بتا دیا جسے سن کر وجدان نے انتہائی غصے سے اپنا ہاتھ گاڑی کے شیشے میں مار کر وہ شیشہ توڑ دیا۔وجدان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کچھ کر بیٹھے۔جس بھائی کی وہ اتنی عزت کرتا تھا اس سے اتنا پیار کرتا تھا وہ ہی آر بی تھا۔
‘ہمیں اسے پکڑنا ہو گا بھائی اسے پکڑ کر اسے اسکے ہر گناہ کی سزا دیں گے۔وہ ہمارا گناہ گار تو ہے ہی لیکن ہم سے بھی زیادہ وہ ہمارے وطن کا گنہگار ہے۔ایسا درندہ بن چکا ہے جسکو قید کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔’
وجدان نے بھی ہاں میں سر ہلایا۔غصے سے اسکی رگیں تن رہی تھیں۔
‘ایک بات پوچھوں ؟’
‘ہاں ضرور پوچھو۔’
عشال کے سوال پر وجدان نے بہت محبت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔نہ ہی وجدان نے اور نہ ہی عشال نے کبھی خواب میں بھی سوچا تھا کہ ان دونوں کو پھر سے انکا خونی رشتہ مل جائے گا۔
‘اب تو آپ مجھے لڑکی کہہ کر نہیں بلایا کریں گے نا؟’
عشال کی رندھی ہوئی آواز میں پوچھے گئے اس سوال پر وجدان نے عشال کو کھینچ کر پھر سے اپنے سینے سے لگا لیا۔
‘نہیں میری گڑیا کبھی بھی نہیں۔’
وجدان نے بہت محبت سے اسکی پیشانی پر بوسہ دے کر کہا۔وجدان اور عشال دونوں کو لگنے لگا تھا کہ انہیں پورا جہاں مل گیا۔
اسکے بعد عشال اور وجدان نے مل کر آر بی کو پھنسانے کا وہ سارا پلین بنایا۔وجدان کو عشال کی قابلیت پر پورا یقین تھا اسی لئے اس بے عشال کو زرش کے حلیے میں ڈھال کر ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا اور وہ دونوں کامیاب بھی ہوئے تھے۔انکا دشمن اب انکی قید میں تھا ہر طرح کا حساب چکانے کے لیے۔انہیں ایسا لگا کہ انکی زیست کا سفر مکمل ہو گیا ہے۔
🌈🌈🌈
(حال)
سب بتانے کے بعد عشال نے اپنی نم آنکھیں اٹھا کر سعد کو دیکھا۔سعد نے بہت محبت سے عشال کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔وہ اپنی بہادر سی بیوی کا غم کم کرنا چاہتا تھا۔سعد نے خود سے وعدہ کیا کہ وہ ہمیشہ عشال کی ہمت بنے گا اسے مزید مظبوط مزید طاقت ور بنائے گا۔سعد نے بہت نرمی سے اسکا چہرہ اپنے سینے سے نکال کر ہاتھوں میں تھاما اور بہت محبت سے اسکی نم آنکھوں کو چومنے لگا۔عشال نے اپنی آنکھیں مونند لیں۔
‘تم میرا غرور ہو عشال مجھے فخر ہے کہ تم میری بیوی ہو میری محبت ہو۔میں آرمی میں ہو کر بھی ملک کے لیے اتنا سب کچھ نہیں کر پایا جو کچھ تم نے کیا ہے۔
I am proud of you.
سعد کی بات پر عشال مسکرائی ۔
‘ویسے ایک بات تو بتاؤ مجھے ؟’
‘کیا؟’
عشال نے دلچسپی سے پوچھا۔
‘تمہاری اس ساری کہانی میں تم نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ تمہیں مجھ سے محبت کب ہوئی حالانکہ ہم تو آپکو دیکھتے ہی دل ہار بیٹھے تھے۔’
سعد نے خوب ڈرامائی انداز میں کہا تو عشال کھلکھلا کر ہنس دی۔
‘کس نے کہا کہ مجھے آپسے محبت ہے؟’
سعد نے اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے عشال کو گھورا۔
‘تو پھر یہ شادی۔۔۔۔’
‘ارے یہ تو میں نے اپنے بھائی اور بابا کی بات کا مان رکھنے کے لیے کی ہے ورنہ اپنا سٹینڈرڈ تو آپکو یاد ہی ہو گا۔’
عشال نے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر اسے وہ بھینس والا واقعہ یاد کروایا۔
‘تم پھر سے بہت بول رہی ہو وائفی مت بھولو کہ پہلے تمہیں کیسے چپ کروایا تھا۔’
سعد کے ایسا کہنے پر عشال کے گال دہک اٹھے۔عشال نے شرما کر اپنا سر جھکا لیا اور ایسا کرتے ہوئے وہ بہادر سی ہری آنکھوں والی لڑکی سعد کے دل میں اتر گئی تھی۔
I love you Ishaal.I love you more than life.
سعد نے بہت شدت سے کہا تو عشال سٹپٹا کر رہ گئی۔سعد کا دل اسکے چہرے پر آنے والے رنگوں کو دیکھ کر بے ایمان ہونے لگا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ پھر سے کوئی پیار بھری گستاخی کرتا عشال نے اچانک ہی اسکا بازو بہت مظبوط سے پکڑ کر مڑوڑا اور اپنے ساتھ سعد کی کمر کے پیچھے لے گئی۔
‘اب میری شرافت کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیں۔شرافت سے نکل جائیں یہاں سے۔’
عشال نے اسے دروازے کی طرف دھکا دے کر کمرے سے باہر نکالا لیکن اس سے پہلے کہ وہ دروازہ بند کرتی سعد نے اپنے ہاتھ سے اس دروازے کو بند ہونے سے روکا۔
‘ابھی کے لیے تو جا رہا ہوں میری پٹاخہ لیکن کل جب میرے کمرے میں آؤ گی تو راہ فرار نہیں ملے گی۔’
سعد نے انتہائی بے باقی سے کہا۔
‘دیکھیں گے۔’
عشال نے بھی منہ اونچا کر کے ڈھیٹائی سے کہا اور دروازہ سعد کے منہ پر ہی بند کر دیا ۔پھر سعد کی باتیں یاد کر کے شرماتے ہوئے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔
🌈🌈🌈🌈