Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
‘زری اٹھ یار کتنا سوئے گی جلدی اٹھ نا۔’
صبح سویرے ہی عشال زرش کو جھنجوڑ کر اٹھا رہی تھی۔زرش نے جلدی سے اٹھ کر اس دیکھا۔
‘سو سو کے نا اپنے نصیب بھی سلا لو گی تم۔اٹھ جا اب اور اپنے شوہر کا دھیان رکھ۔’
عشال نے اسے کھینچ کر کھڑا کیا۔زرش اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
‘ڈولی دیکھ تیرا ہزبیڈ اس ٹائم جم میں گیا ہے ابھی اس کے پیچھے فریش جوس کا گلاس لے کر جا اور اسے دے پھر وہ جم کرے،تجھے جانے کا کہے یا جو بھی کرے تو نے کہنا ہے کہ تو یہاں اس کے لیے نہیں جم کرنے آئی ہے۔سمجھ رہی ہے نا میری بات۔’
زرش نے کچھ دیر سوچا اور پھر مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔
‘اچھا چل اب فریش ہو کر آ جا۔’
زرش واش روم کی طرف چلی گئی اور جب واپس آئی تو عشال نے پنک کلر کا ایک ڈریس اسے دیا۔
‘یہ پہن کر آ جلدی سے۔’
عشال اسے باقاعدہ ڈریسنگ روم کی طرف دھکے دے رہی تھی۔
زرش نے وہ ڈریس دیکھا تو جلدی سے اسے ڈریسنگ روم سے باہر پھینک دیا۔مطلب صاف تھا کہ زرش وہ ٹراؤزر اور شرٹ نہیں پہن رہی تھی۔
‘اور جم کرنے لہنگا پہنا کر بھیجوں کیا تجھے؟حد ہے اپنے ہزبینڈ کے سامنے لڑکی ٹراؤزر شرٹ نہیں پہن سکتی اور نائٹی کیا خاک پہنے گی۔ہائے عاشی تیرے ارمان۔’
عشال نے منہ بنایا جبکہ زرش تو ڈریسنگ روم میں ہی اسکی باتیں سن کر منہ بنا رہی تھی۔
‘پہن کر آ یہ لڑکی ورنہ مجھے پہنانا بھی آتا ہے۔’
عشال نے ان کپڑوں کو واپس ڈریسنگ روم میں پھینکا جواب میں زرش نے انہیں پھر سے واپس پھینک دیا تو اس بار عشال اندر جا کر کپڑے اسکے ہاتھوں میں پکڑا کر آئی۔
‘دو چوائسیز ہیں تیرے پاس یا یہ کپڑے پہن یا ہزبینڈ بدلوا لے۔’
عشال نے اپنی عینک کے پیچھے سے زرش کو غصے سے گھورا تو زرش گھبرا گئی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔کچھ دیر بعد زرش وہ ٹراؤزر شرٹ پہن کر باہر آئی تو عشال نے اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح سی ٹی بجائی۔
‘چل اب تو دیکھتی جا میرا کمال۔’
عشال نے اسکے بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائی اسکے انکار میں سر ہلانے کے باوجود ہلکا سا میک اپ بھی کر دیا اور اس حلیے میں زرش بہت ذیادہ کیوٹ لگنے لگ گئی تھی۔
‘واہ عشال بیٹا تو تو کمال ہے۔’
عشال نے اپنا فرضی کالر جھاڑا۔
‘تم مجھے اپنے بال بھی کاٹنے دو نا زرا سے تو میرے جیسا ہیر کٹ تمہیں بہت زیادہ سوٹ کرے۔’
عشال نے اپنے چہرے پر موجود آوارہ لٹوں کی طرف اشارہ کیا جن کی وجہ سے عشال بہت پیاری لگتی تھی اور اس پر اسکا وہ گول سا چشمہ اسے علیحدہ ہی روپ دے دیتا تھا۔
‘اچھا چل میری جان اور دیکھا دے سیاں جی کو اپنا جادو۔’
عشال زرش کو سجانے کے بعد وجدان کے پاس جانےکا کہہ کر خود بستر میں گھس گئی تو زرش اسے گھورنے لگی۔
‘کیا؟ساری ساری رات جاگ کر تمہارے لیے آئیڈیاز سوچتی رہوں اور اب مجھے سونے کا بھی حق نہیں واہ کیا صلح مل رہا ہے دوستی کا۔’
عشال نے بھی اسے گھورا۔زرش منہ بنا کر باہر چلی گئی پھر گراؤنڈ فلور پر آ کر کافی دیر اس جم کے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر سوچتی رہی کہ اسے اندر جانا بھی چاہیے یا نہیں۔بہت ہمت کر کے اس نے گہرا سانس لیا اور بند آنکھوں کے ساتھ دروازہ کھول کر جم کر اندر داخل ہو گئی۔ابھی وہ تھوڑا ہی آگے گئی تھی جب اسکے کانوں میں کسی کے سی ٹی بجانے کی آواز پڑی لیکن زرش نے اسے عشال ہی سمجھا اور وہاں کھڑی رہی۔
عشال تم بہت بری ہو میں تم سے بات نہیں کروں گی۔
زرش نے آنکھیں کھولے بغیر اشارہ کیا۔
‘اف ایک تو یہ کمال کا حسن اوپر سے یہ قاتلانہ اشارے جان لے لیں گے میری تو۔’
زرش نے گھبرا کر فوراً آنکھیں کھول دیں تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی روح تک فنا ہو گئی۔وہاں وجدان تو تھا نہیں بلکہ پتہ نہیں کونسے سات یا آٹھ لڑکے تھے جو اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے ۔زرش کا دل کر رہا تھا کہ وہ یہاں سے غائب ہو جائے لیکن خوف سے اسکی ٹانگیں جم گئی تھیں۔
‘ارے یار ہاتھ لگا کر دیکھ لوں حقیقت ہی ہے نا مجھے تو بلکل موم کی گڑیا لگ رہی ہے۔’
ایک آدمی نے چھچھورے پن سے کہا ۔زرش وہاں سے جانے کے لئے مڑی تو بری طرح سے کسی چٹان کی ماند شے سے ٹکرا گئی۔اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ وجدان تھا جو ان لڑکوں کو ایسے دیکھ رہا تھا کہ انہیں یہاں پر زندہ درگو کر دے گا۔وجدان نے سختی سے زرش کا بازو پکڑ کر اسے اپنے قریب کیا۔
‘کیا کہا تو نے ؟’
الفاظ بولنے سے زیادہ غرائے گئے تھے۔
‘بب باس وہ۔۔۔۔’
وہ لڑکا ان سبز آنکھوں میں موجود وحشت دیکھ کر سہم گیا تھا۔زرش وہاں سے جانا چاہ رہی تھی لیکن وجدان کی لوہے کی ماند گرفت سے نکلنا اسکے لئے ناممکن تھا۔
‘بیوی ہے یہ میری اپنی آنکھیں اور زبان قابو میں رکھنا ورنہ انکو اکھاڑ کر اپنی دیواروں کی زینت بنا دوں گا تا کہ میری بیوی پر اٹھنے والی ہر نگاہ کو اپنا انجام معلوم ہو جائے۔’
اس غرانے پر نہ صرف وہ لڑکے بلکہ زرش بھی کانپ کر رہ گئی تھی۔وجدان غصے سے اسے کھینچ کر وہاں سے لے آیا اور لاؤنج میں لا کر ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا۔
‘کیوں گئی تھی تم وہاں؟’
زرش نے اسکے چلانے پر خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور تبھی وجدان کی نظر اسکے حلیے پر پڑی۔سلیو لیس شرٹ میں سے دودھیا بازو چھلک رہے تھے جبکہ اس گلابی ٹراؤزر شرٹ اور ہلکے سے میک اپ میں وہ خود بھی دمکتا گلاب لگ رہی تھی۔
‘یہ کیا پہنا ہے تم نے؟ہمت کیسے ہوئی تمہاری خود کو ایک شو پیس بنا کر ان کے سامنے جانے کی؟ ‘
وجدان نے اسکے قریب آ کر اسے دونوں بازؤں سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔زرش اسکی آنکھوں سے نکلتے شراروں سے اتنا ڈر گئی تھی کہ بازو میں پیوست ہوتی اسکی انگلیاں وہ محسوس ہی نہیں کر رہی تھی۔
‘آئندہ اگر تمہارے جسم کا ایک بھی حصہ نظر آیا یا تم نے ایسا لباس پہنا تو تمہاری کھال ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔آئی سمجھ۔’
زرش نے سہم کر فوراً ہاں میں سر ہلایا۔
جبکہ وجدان کے پورے بدن میں جلن کا احساس غصے کا لاوا بن کر گھوم رہا تھا۔وجدان نے اسکے منہ کو سختی سے دبوچا۔
‘کسی اور کی نظروں کے لئے نہیں ہو تم نہ ہی کسی اور کا حق ہے تم پر اپنے آپ کو چھپا کر رکھو ورنہ تمہیں پرندے کی مانند قید کر دوں گا۔’
وجدان نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا اور اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہاں سے چلا گیا۔جبکہ زرش ابھی بھی سہم کر صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی۔
🌈🌈🌈
سعد کی سمجھ سے باہر تھا کہ وہ کیا کرے۔یہ سکندر کا معاملہ اسکی زندگی میں بہت ذیادہ اہمیت رکھتا تھا۔آخر کار یہ اسکا پہلا مشن تھا لیکن اس میں ابھی تک انہیں تھوڑی سی بھی پراگریس نہیں ملی تھی اور اب تو سکندر نے مزید ایک جان لے لی تھی۔سب تو اس ڈاکٹر کی موت کو خود کشی کہہ رہے تھے لیکن کوئی کیوں کر کسی وجہ کے بغیر خود کشی کرے گا اور وہ بھی شہر سے دور سنسان جگہ ہر جا کر۔
‘ارے ایجنٹ جی آ گئے آپ اچھا ہوا مجھے شاپنگ پر جانا ہے۔’
عشال نے اسکے پاس آ کر نئی ہی فرمائش کی تھی۔
‘تمہیں پتہ ہے تمہارے اس سکندر نے یہاں اس شہر میں ایک آدمی کو مار ڈالا اور تم ایسے حالات میں باہر جانے کی بات کر رہی ہو بلکل بھی نہیں۔’
سعد نے صاف سیدھا انکار کیا۔عشال نے منہ بسور لیا۔
‘ضروری ہے جانا پلیز۔’
عشال نے بہت پیار سے کہا۔
‘نو۔۔۔۔’ عشال کو پل بھر میں غصہ آیا
‘اوکے فائن نہیں جاتی میں باہر آپ جائیں اور یہ چیزیں لے کر آئیں اور اگر ایک بھی پروڈکٹ ، کلر یا کوالٹی کا ردو بدل ہوا نا تو واپس جا کے اسے چینج بھی کروا کر لائیں گے۔’
عشال نے جلدی سے ایک لسٹ بنا کر سعد کے ہاتھ میں تھاما دی۔جس میں ایسی ایسی میک اپ کی چیزوں کے نام تھے جو سعد شاید پہلی مرتبہ پڑھ رہا تھا
‘تم انکا کیا کرو گی میں نے تو تمہیں اتنا میک اپ لگاتے نہیں دیکھا۔’
عشال نے اس بات پر اپنا منہ کھولا۔
‘اسکا مطلب آپ مجھے اتنے غور سے دیکھتے ہیں اپنی اکھیوں کو زرا سا کنٹرول میں رکھیں ایجنٹ جی۔عشال اسکو تاڑنے والوں کی آنکھیں نکال لیتی ہے’
عشال نے سختی سے کہا۔
‘اور رہی بات اس میک اپ کی تو یہ میں آپکے دوست کی زندگی سنوانے کے منصوبے بنا رہی ہوں۔پتہ نہیں کب کونسا کامیاب ہو جائے۔ویسے بھی اس انسان کی بلکل بھی سمجھ نہیں آتی مجھے کہ چاہتا کیا ہے؟’
عشال نے منہ بنا کر کہا۔
‘اب یاد سے لے آئیں چیزیں اور ہلکا سا بھی فرق ہوا تو واپس بھیج دوں گی۔’
عشال اپنی چھوٹی سی انگلی دیکھا کر وارن کرتے ہوئے اندر چلی گئی ۔جبکہ سعد الجھن سے ہاتھ میں موجود اس لسٹ کو دیکھ رہا تھا۔
‘کہاں پھس گیا تو سعد جانی اس سے بہتر تو افغانستان تھا۔’
سعد نے کوفت سے کہا مگر پھر عشال کو یاد کر کے خود ہی ہنس دیا۔
🌈🌈🌈
آر بی غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔اتنے دن سلمان صاحب کو ٹارچر کرنے کے بعد بھی انہوں نے زرش کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔فاطمہ بیگم کی حالت تو اس قدر خراب ہو گئی تھی کہ ڈاکٹر کو بلانا پڑا۔مگر سلمان صاحب اب اپنی بیوی کے بنا تنہا ہو گئے تھے اور وہ معذور انسان تکلیفوں کے باعث مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا لیکن پھر بھی سلمان صاحب نے زرش کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔
‘کچھ پتہ چلا؟’
آر بی نے غصے سے فیض سے پوچھا۔
‘نہیں سر ابھی تک تو کچھ پتہ نہیں لگا پائے ہم اس لڑکی کے بارے میں مگر ہمارے آدمی ہر جگہ پر ہیں اس کی ایک جھلک ملتے ہی اسکو ٹریس کر لیا جائے گا۔آر بی نے ہاں میں سر ہلایا۔
‘کیسے بھی وہ جلد از جلد مجھے اپنے پاس چاہیے فیض۔کیسے بھی۔’
‘سر وہ مجھے لگا تھا کہ اس شایان شاہ کو سلمان کی غیر موجودگی کا شک ہو گیا ہے۔اس لئے میں نے سلمان کے سامنے اسکی بیوی کے سر پر بندوق رکھ کر شایان سے اسکی بات کروا دی تا کہ اسے یہ لگے کہ سب ٹھیک ہے۔’
فیض نے بتانا ضروری سمجھا۔
‘ہمم صیح کیا لیکن دیکھ لینا اس شایان شاہ کو کوئی عام میجر مت سمجھنا بہت ذیادہ شاطر چیز ہے۔’
آر بی نے اسے وارن کیا۔
‘جی سر ۔’
فیض نے اثبات میں سر ہلایا اور آر بی کے اشارہ کرنے پر وہاں سے چلا گیا۔
‘تمہیں تو میں پا کر ہی لوں گا میرے سنہرے پھول۔جنون ہو تم آر بی کا اور اس جنون کی آگ کو دنیا کی کوئی لڑکی بھی ٹھنڈک نہیں بخش سکتی۔تمہیں میرے پاس آنا ہی ہو گا کیونکہ میں ہی تمہاری زیست کی منزل ہوں۔’
آر بی زرش کے خیالی وجود سے اتنا کہہ کر مسکرانے لگا۔معصوم چڑیا کو ایک بھیڑیا قید کرنے کے لیے بے تاب تھا۔
🌈🌈🌈
وجدان ہر طرف سے ایک پراسرار دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔ایک طرف وہ سکندر تھا جو اس مرتبہ ایک ڈاکٹر کی جان لے چکا تھا اور دوسری طرف وہ لڑکی جس نے وجدان کی زندگی عزاب کی ہوئی تھی۔وجدان اس سے جلد از جلد جان چھڑوانا چاہتا تھا اور وہ ایسا کر بھی دیتا اگر معاملہ شایان شاہ کا نہیں ہوتا تو۔
وجدان سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ آخر کیوں وہ لڑکی بار بار اسکے قریب آنے کی کوشش کرتی ہے۔نہ جانے کتنی ہی بار وجدان اسے دھتکار چکا تھا لیکن وہ پھر بھی اسکے آس پاس رہنے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی۔اور یہ بات وجدان کو بے چینی میں مبتلا کر رہی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسکی یہ کوشیشیں بے کار ہیں۔وجدان کو محبت نام کے جزبے سے ہی نفرت تھی اور زرش بس ایک پتھر سے سر پھوڑ رہی تھی اب یہ دیکھنا باقی تھا کہ وہ کب اپنا پھٹا ہوا سر تھام کر ہمت ہارتی ہے۔
وجدان تقریباً رات کے 1 بجے گھر میں داخل ہوا تو اسکی نظر صوفے پر سوئے ہوئے اس نازک سے وجود پر پڑی جواس ٹھٹھرتی سردی میں بھی کسی لحاف کے بغیر وہاں سو رہی تھی۔وجدان نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب اسے اس لڑکی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔پہلے بھی اپنی صبح والی حرکت کو لے کر وہ حیران تھا کہ کیوں وہ اس لڑکی کو لے کر اس قدر پوزیسیسو ہو گیا تھا۔ وجدان خاموشی سے وہاں سے جانے لگا لیکن تبھی زرش کی آنکھ کھلی اور اس نے وجدان کو اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔
کیا مجھے ان سے بات کرنی چاہئے؟اگر انہیں صبح کی طرح برا لگ گیا تو؟ نہیں میں انہیں غصہ نہیں دلاؤں گی اب۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن عشال نے تو کہا تھا کہ مجھے انہیں اپنی اہمیت کا احساس دلانا ہے آخر میں بیوی ہوں انکی۔تو پھر جاؤں کیا ان سے بات کرنے؟
بہت سوچ و بچار کرنے کے بعد زرش اٹھ کر وجدان کے کمرے کی طرف چل دی۔اس نے دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے دروازے کو ہاتھ لگایا تو وہ اپنے آپ کھل گیا۔زرش نے دروازہ کھول کر اندر جھانکا لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔اچانک سے واش روم کا دروازہ کھلا اور وجدان شرٹ کے بغیر کمرے میں داخل ہوا۔زرش کی نگاہ جیسے ہی اسکی چوڑی چھاتی پر پڑی وہ جلدی سے پلٹ کر دروازے کی طرف جانے لگی جبکہ اس پر نظر پڑھتے ہی وجدان کا پارہ ہائی ہوا تھا۔
‘رکو۔۔۔۔۔’
وجدان کی آواز پر زرش رک گئی تھی لیکن پلٹی نہیں۔وجدان خودی چل کر زرش کے سامنے آیا اور اب وہ اسکی زور سے میچی ہوئی بند آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔
‘کیوں آئی ہو تم یہاں؟’
وجدان نے غصے سے اپنے دانت پیس کر پوچھا۔جبکہ اسکی غصہ سے بھری آواز سن کر زرش کی روح تک کانپ گئی تھی۔
آپ کو کھانے کا پوچھنے آئی تھی۔
زرش نے آنکھیں کھولے بغیر ہی اشارہ کیا تھا۔
‘اور کس نے کہا تمہیں ایسے کرنے کو؟’
‘جواب دو۔’
زرش سے کوئی جواب نہ پا کر وجدان نے سختی سے کہا تو زرش نے اپنی آنکھوں کو مزید زور سے بند کر لیا۔
بیوی کا فرض ہے کہ وہ شوہر کا خیال رکھے۔
زرش نے بہت آہستہ سے اشارہ کیا۔
‘او اچھا یعنی بیوی کے فرائض بخوبی سمجھتی ہو تم۔’
زرش نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا۔اچانک ہی وجدان نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا۔زرش نے ہڑبڑا کر اپنی آنکھیں کھول دیں۔سبز آنکھیں کانچ سی بھوری آنکھوں سے ٹکرائی تھیں۔
وجدان اس لڑکی کو ڈرانا چاہتا تھا۔خود سے دور کرنا چاہتا۔اسی لیے اس نے اسے سختی سے اپنے مزید قریب کیا۔
‘اگر ابھی اور اسی وقت اپنا حق حاصل کرنا چاہوں تو؟’
زرش نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ وہ تو حیرت سے آنکھیں کھولے اسکا بدلا ہوا روپ دیکھ رہی تھی۔وجدان کی نظر اسکے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں پر پڑی تو اس نے مزید کچھ سوچے بغیر اپنا جائز حق استمال کرتے ہوئے بہت شدت سے اسکی سانسیں اپنی سانسوں میں اتاریں۔۔۔۔ زرش جو اس حملے کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھی اس کی اس حرکت پر تڑپ کر رہ گئی۔۔۔
وجدان تو اسے سزا دینا چاہتا تھا خود سے دور کرنا چاہتا تھا لیکن اسکی قربت ملتے ہی وہ خود کو بھول چکا تھا ۔کچھ دیر بعد غصے سے اسکے ہونٹوں کو آزادی بخش کر وجدان اسکے چہرے پر آئے خوف کے سائے دیکھنے لگا۔ایک دلفریب مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا۔وہ اسے ڈرانے میں کامیاب ہوا تھا۔
مگر پھر اسکی نظر ان کانچ سی آنکھوں میں موجود آنسوؤں پر گئی۔جہاں پر بے انتہا خوف تھا ۔اس خوف نے وجدان کو پریشان کر دیا۔
‘نور۔۔۔۔۔’
وجدان نے انتہائی نرمی سے اسکے کندھوں کو تھاما زرش تڑپ کر اس سے دور ہوئی اور اپنا کندھا پکڑ کر رونے لگی ایسے جیسے وجدان کے لمس نے اسے بہت تکلیف دی ہو۔وجدان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تو وہ سہم کر دیوار کے ساتھ لگی زرش کے پاس آیا اور اپنا ایک ہاتھ اسکے سر کے پاس دیوار پر رکھا۔
‘کیا ہوا؟ اپنی آنکھوں میں اس خوف کی وجہ بتاؤ مجھے؟کس نے تکلیف پہنچائی تھی تمہیں؟’
زرش وہاں سے غائب ہونا چاہ رہی تھی لیکن وجدان کی پکڑ سے نکلنا ناممکن تھا اسی لئے وہ سر جھکا کر رونے لگی۔وجدان نے پھر سے اسکا کندھا تھامنا چاہا تو زرش نے خوف سے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور زارو قطار رونے لگی۔
‘بتاؤ مجھے۔’
وجدان نے حکم دیا لیکن پھر خود ہی اچانک سے زرش کی شرٹ کو کندھے سے ہٹایا تو اسکی نظر اسکے کندھے پر موجود جلے ہوئے نشان پر پڑی ۔RB صرف دو ہندسے تھے اور وہ ہندسے زرش کے کندھے پر داغے گئے تھے۔وجدان نے غصے سے اپنا ہاتھ بہت زور سے دیوار میں مارا۔
‘کس نے کیا یہ؟بولو کس نے تمہیں تکلیف پہنچائی؟’
وجدان نے تڑپ کر پوچھا لیکن زرش ابھی بھی اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رو رہی تھی۔
‘جس نے بھی تمہیں تکلیف دی ہے اسکی زندگی جہنم بنا دوں گا۔۔۔۔موت مانگے گا وہ لیکن اسے موت بھی نصیب نہیں ہو گی۔۔۔۔۔جتنی تکلیف تم نے سہی ہے نا اس سے دس گناہ ذیادہ تکلیف ہر روز سہے گا وہ شخص۔۔۔۔۔وعدہ ہے یہ خان کا۔۔۔’
وجدان نے زرش کے کان میں سرگوشی کی اور پھر اس سے دور ہو گیا۔
چلی جاؤ یہاں سے نور فوراً چلی جاؤ اور اب میرے سامنے غلطی سے بھی مت آنا ورنہ یہ غصہ سب جلا دے گا۔’
وجدان کے ایسا کہتے ہی زرش روتے ہوئے جلدی سے وہاں سے بھاگ گئی۔اسنے تو ایک مرتبہ مڑ کر بھی پیچھے نہیں دیکھا تھا۔
🌈🌈🌈🌈
(ماضی)
سکندر ،رومان اور شاہانہ الفاظ کی موت سے بلکل ٹوٹ گئے تھے۔اس سب پر الفاظ کی تمام پراپرٹی ڈوب چکی تھی کچھ بھی نہیں بچا تھا ان لوگوں کے پاس۔سکندر کی آنکھوں میں ایک عجیب سی وحشت عجیب سا غم تھا جو کہ ایک نو سالہ بچے کی آنکھوں میں نہیں ہونا چاہئے۔لیکن اس بچے نے ان آنکھوں سے اپنے باپ کی موت دیکھی تھی۔
شاہانہ کے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے اپنے گھر میں رکھ لیا تھا۔اس نے تو شاہانہ سے کہا تھا کہ انہیں فکر کرنے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے وہ ان کا بہت ذیادہ خیال رکھے گا۔مگر انہیں حوصلہ کہاں سے آتا ۔ان کا تو سب کچھ لٹ چکا تھا۔سب کچھ۔
ایک رات اسی طرح شاہانہ اپنے دونوں بچوں کو خود سے لگائے بیٹھی تھیں جب انکا بھائی بھاگتے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔
‘شاہانہ بھاگ جاؤ جلدی کرو وہ لوگ سکندر کو مارنے آئے ہیں جاؤ یہاں سے جلدی۔’
شاہانہ کے بھائی نے ہڑبڑی میں کہا تو شاہانہ نے کانپتے ہاتھوں سے سکندر کو اپنے ساتھ لگایا۔
‘ماما آپ سکندر کو لے کے جاؤ میں ماموں کے ساتھ جاتا ہوں۔’
چودہ سالہ رومان اتنا کہہ کر باہر کی طرف بھاگنے لگا۔
‘نن نہیں رومان۔۔۔’
مگر تب تک رومان وہاں سے جا چکا تھا ۔کچھ ہی دیر بعد شاہانہ کو گولیوں کی آواز کے ساتھ رومان کی چیخیں بھی سنائی دیں۔شاہانہ اور سکندر بھاگ کر کمرے سے باہر نکلے تو ان کی نظر رومان پر پڑی جو خون سے لت پت سیڑھیوں پر پڑا تھا۔سکندر نے رومان کے پاس جانا چاہا تو شاہانہ نے اسے واپس اپنے پاس کھینچ لیا۔
‘وہ رہے وہ دونوں۔۔۔۔’
ایک آدمی نے چلا کر کہا تو شاہانہ نے سکندر کو اپنے ساتھ لپٹایا اور پچھلے دروازے سے بھاگ گئیں۔وہ اپنے شوہر کو تو کھو چکی تھیں اب انکی نشانی کو بھی نہیں کھونا چاہتی تھیں۔
وہ کسی بھی شے کی پرواہ کیے بغیر بھاگتی رہی تھیں۔اپنی اور اپنے بیٹے کی حفاظت کی دعائیں مانگتی رہی تھیں ۔لیکن پھر بھی وہ شیطان ان دونوں کو پکڑ کر قید کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
شاہانہ کا دل کر رہا تھا کہ وہ سکندر کو اپنے اندر چھپا لیں تا کہ اسے کوئی کچھ نہ کر پائے مگر ایسا ناممکن تھا۔جب وہ شیطان کمرے میں آیا تو شاہانہ نے سکندر کو خود میں بھینچ لیا۔
‘ارے ارے شاہانہ جی پریشان مت ہوں ایسے نہیں مار سکتا آپکے بیٹے کو پہلے ہی الفاظ صاحب کے وکیل کی وجہ سے انکی موت کا شک مجھ پر آ رہا ہے اب اگر انکے بیٹے کو بھی گولی مار دوں گا نا تو وہ شک تو یقین میں بدل جائے گا اس لیے میں نے کچھ اور سوچا ہے۔’
شیراش مکرو سی ہنسی ہنسنے لگا۔
‘کیا ملے گا تمہیں یہ سب کر کے پلیز میرے بیٹے کو چھوڑ دو۔خدا کے لئے۔’
شاہانہ نے زارو قطار روتے ہوئے سکندر کو اپنے سینے میں بھینچا تھا۔
‘یہ غلطی تو بلکل نہیں کرنی چاہئے شاہانہ بی بی بڑا ہو کر یہی لڑکا میرا سر کچلنے پہنچ جائے گا ایسا نہیں ہونے دوں گا میں اور ویسے بھی اگر ہم اتنا سب سوچنے لگ جائیں گے تو ترقی کہاں سے کریں گے ذیادہ دولت اور سکون کے لئے ذیادہ محنت بھی تو کرنی پڑتی ہے۔کاش الفاظ نے میری بات مانی ہوتی لیکن اسے ملک عزیز تھا۔’
شیراز نے افسوس سے سر جھٹکا ۔
‘دیکھ لیا بچے سچائی اور انصاف کی راہ پر چلنے کا انجام۔ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔’
شیراز نے سکندر کو کھینچ کر شاہانہ سے جدا کیا۔شاہانہ نے سکندر کو پکڑنے کی کوشش کی تو شیراز نے سکندر کو چھوڑ کر شاہانہ کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
‘سکندر اب تم ایک کام کرو گے۔کل ہماری اپوزیشن پارٹی ریلی نکالے گی ہمارے خلاف اور میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو۔اس لئے تمہیں ہم صرف ایک جیکٹ پہنائیں گے اور تمہیں اس ریلی میں جا کر کھڑے ہونا ہے بس۔’
شیراز کی بات سمجھ کر شاہانہ بری طرح سے تڑپنے لگیں۔
‘ننن۔۔۔نہیں۔۔۔سکندر نہیں۔’
سکندر نے بے بسی سے اپنی ماں کو دیکھا۔
‘اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں تمہاری ماں کو بھی مار دوں گا۔’
شیراز نے شاہانہ کو سختی سے پکڑ کر کہا تو وہ بہادر سا بچہ خوف سے کانپنے لگا۔
‘ننہیں میری مما کو چھوڑ دو میں کچھ بھی کروں گا۔’
سکندر نے زارو قطار روتے ہوئے کہا جبکہ اسے اس طرح سے روتے ہوئے،ان مردودوں کی بات مانتا دیکھ شاہانہ غصے میں آ گئی۔
‘نہیں سکندر کبھی بھی کسی سے مت ڈرنا کسی کے سامنے بھی گھٹنے مت ٹیکنا کمزور مت بنو میرے بچے مت بنوں۔’
شاہانہ نے بری طرح سے روتے ہوئے کہا۔
‘گھٹنوں پر بیٹھو بچے اور پھر کہو کہ میری بات مانو گے۔’
شیراز نے ایک چاقو شاہانہ کی گردن کے پاس رکھ کر کہا تو سکندر فوراً اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا۔ جبکہ اپنے بیٹے کو کمزور پڑتا دیکھ اس ماں میں ایک عجیب ہی طاقت آئی تھی۔اس نے اپنا پورا زور لگا کر شیراز کے ہاتھ سے چاقو چھین کر اسکے پیٹ میں مارا۔شیراز تڑپ کر شاہانہ سے دور ہوا لیکن شیراز کے بہت سے آدمی آگے بڑھ گئے۔
‘کبھی بھی کسی کو اپنی کمزوری مت بنانا سکندر ۔اپنی طاقت خود بنو ایسی طاقت جسکی کوئی کمزوری نہ ہو۔۔۔۔میں اپنے بیٹے کی کمزوری نہیں بنوں گی کبھی نہیں۔’
شاہانہ نے زارو قطار روتے ہوئے اتنا کہا اور وہی تیز دھار چاقو اپنی گردن پر چلا دیا۔
‘ماما۔۔۔۔’
سکندر چلایا اور زارو قطار روتے ہوئے اپنی ماں کے زمین پر پڑے وجود کو دیکھنے لگا اور اسی طرح شیراز کے اشارہ کرنے پر وہ لوگ سکندر کو وہاں سے لے گئے۔اس بت بنے بچے کے جسم پر ایک بم پہنایا گیا اور اس بم کو ایک جیکٹ سے ڈھانپ کر اسے کافی بھیڑ کے پاس چھوڑ کر واپس چلے گئے۔سکندر اپنے باپ،ماں ،بھائی سب کو کھو دینے کے بعد مُردوں کی طرح چلتا رہا تھا۔آنکھوں میں آنسوؤں کی بجائے پچھلے ایک ہفتے کا گزرا ہر منظر دوڑ رہا تھا۔
🌈🌈🌈
جاری ہے۔۔۔۔💞💞
