64.4K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

وہ صبح صادق کی اس ہلکی سی روشنی میں اپنے چہرے کو چادر سے چھپائے وہاں سے جا رہا تھا۔اسکو مخصوص جگہ پر پہنچنا تھا وہ بھی کسی کی نظر میں آئے بغیر۔اگر وہ پکڑا جاتا تو اسکا انجام موت سے بھی کہیں زیادہ بد تر ہونا تھا۔
‘اہو۔۔۔اہو۔۔۔۔’
کسی کے کھانسنے کی آواز پر اس نے چونک کر دیکھا تو اسکی نظر ایک لمبے بالوں والے انتہائی گندے سے شرابی پر پڑی جو کہ اس وقت بھی کھانستے ہوئے سگریٹ کے مزے لے رہا تھا۔
اسے نظر انداز کر کے وہ آگے بڑھا تو وہاں ایک آدمی سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر خود کو چادر سے چھپائے سو رہا تھا۔پر اطمینان سانس لے کر وہ آگے مخصوص گلی کی طرف مڑا تو وہاں ایک بزرگ سا آدمی ہاتھ میں جھاڑو لئے صفائی کر رہا تھا۔
‘شلام شاب۔’
اس بوڑھے نے کانپتی آواز میں کہا تو وہ خاموشی سے اثبات میں سر ہلا کر آگے کی طرف چل دیا اور اب وہ اس مخصوص سنسان حویلی کہ سامنے موجود تھا جو اس علاقے میں اپنی پراسرایت کی وجہ سے مشہور تھی۔لوگ کہتے تھے کہ وہاں بھوت ہیں لیکن ایسی کہانیاں اکثر ہی بہت سے گناہ چھپانے کے لیے گھڑی جاتی تھیں۔
اس آدمی نے ارد گرد دیکھا تو اسکی نظر صرف اس بوڑھے صفائی والے پر پڑی جو اب گلی کے نکر پر صفائی کر رہا تھا۔کافی خاموشی سے وہ اس حویلی میں داخل ہوا اور ایک مخصوص کمرے میں جا کر فرش پر موجود کچرے کے ڈھیر کو ہٹایا۔اسی کے نیچے انکے خفیہ اڈے کا داخلی دروازہ تھا۔
اس نے چادر کے اندر چھپائی ہوئی چابی کو نکال کر وہاں کا دروازہ کھولا لیکن اس سے پہلے کہ وہ اندر جاتا کسی نے پیچھے سے اسکی گردن کو دبوچ لیا۔اس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا تو وہاں وہی بزرگ تھا جو باہر جھاڑو لگا رہا تھا لیکن اسکی پکڑ تو بزرگوں والی نہ تھی بلکہ انتہائی طاقت ور اور جان لیوا پکڑ تھی۔
‘اتنی آسانی سے نہیں شاب۔’
اس بزرگ بنے آدمی کی غراتی ہوئی آواز اسکے کان میں پڑی تو اسکا ہاتھ اپنی کمر کے پاس موجود بندوق کی طرف گیا۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس پر گولی چلاتا ایک بندوق اسکی کن پٹی پر رکھی جا چکی تھی۔
Drop your gun right now or I’ll shoot.
ایسا کہنے والا وہی گندا سا شرابی تھا جو کہ سڑک کے کنارے کھانس رہا تھا۔وہ شخص اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ اب انکا انجام بہت برا ہو گا کیونکہ یہ لوگ کوئی اور نہیں پاک آرمی کی انٹیلیجینس تھی اور ایسا ہی ہوا۔دیکھتے ہی دیکھتے وہاں آرمی کے لباس میں کئی سارے جوان بندوقیں تھامے آ چکے تھے۔
‘موو۔۔۔’
اس بزرگ آدمی نے اسے دھکا دے کر نیچے چلنے کو کہا اور خود پر سے کھینچ کر وہ نقلی سفید بال اور چادر ہٹا دی۔وہ شخص کانپ کر رہ گیا کیونکہ اس سپاہی کی سبز آنکھوں میں عجیب سی وحشت تھی۔
‘بچیوں تک لے چل ورنہ تیری لاش یہیں گرا دیں گے۔’
پاک آرمی کا سبز آنکھوں والا وہ جوان غرایا تو وہ ہاں میں سر ہلا کر کانپتے ہوئے چلنے لگا۔تمام جوان ان کے پیچھے انتہائی ذیادہ خاموشی سے آ رہے تھے۔سیڑھیاں اترتے ہی پاک آرمی کے جوان ہر نظر آنے والے قوم کے دشمنوں پر فائرنگ کرنے لگے۔حملہ اتنی خاموشی سے ہوا تھا کہ ان دہشتگردوں کو سمبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔
اس سبز آنکھوں والے سپاہی نے سب کو پھیلنے کا اشارہ کیا اور خود بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہی جانے والا تھا جب اسکے کانوں میں بہت ہلکی سی آواز میں کسی لڑکی کی انتہائ درد ناک چیخ کی آواز پڑی۔اپنے ساتھیوں کو اشارہ کر کے وہ اس آواز کی سمت کا پتہ لگانے لگا مگر اب وہ آواز بند ہو چکی تھی۔
اس اندھیری جگہ پر جیل نما کافی کمرے تھے
جن میں بہت سی سکول کی بچیوں کو قید کیا گیا تھا۔ابھی کچھ دن پہلے ہی تو انہیں خبر ملی تھی کہ چند دہشتگردوں نے لڑکیوں کی سکول بس کو اگواہ کر لیا تھا۔ان کا ارادہ ان بچیوں کو باہر کے ملکوں میں سپلائی کر کے پیسے کمانے کا تھا۔کیسے جانور تھے وہ لوگ جو عارضی دولت کی خاطر اپنی قوم کی عزت کا سودا کر رہے تھے۔
اس سبز آنکھوں والے سپاہی کی نظریں جیسے جیسے ان کمروں میں بند تباہ حال بچیوں پر پڑھ رہی تھی اسکے پورے وجود میں غصے کا ایک لاوا ابلتا جا رہا تھا۔وہ انہیں آزاد کرنا چاہتا تھا لیکن پہلے اسے ان درد ناک چیخوں کے بارے میں معلوم کرنا تھا۔
وہ دائیں جانب کو مڑا تو اسکی نظر ایک دروازے پر پڑی جو کافی مظبوط نظر آ رہا تھا۔وہ اس دروازے کی طرف بڑھا تو اس کی توقع کے برعکس وہ با آسانی کھل گیا تھا۔اس کمرے میں اندھیرا تھا صرف ایک چھوٹے سے دیے سے روشنی نکل رہی تھی۔لیکن اس روشنی میں بھی وہ زمین پر پڑا ایک نازک سا وجود دیکھ سکتا تھا۔
کمرے میں کسی کو نہ پا کر وہ اس لڑکی کی طرف بڑھا جو بمشکل تیرہ سال کی تھی۔اس سپاہی نے اسکی نبض چیک کی تو زندگی کی وہ ہلکی سی حرکت ساکت تھی۔اس معصوم کو دم توڑے ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی۔
وہ سپاہی مڑا تو اسکی نظر کمرے میں موجود بیڈ پر پڑی جس کے پائندے کے ساتھ ایک بچی کو باندھ کر زمین پر پھینکا گیا تھا۔
سبز آنکھوں میں بلا کی وحشت اتری تھی۔وہ قریب ہوا تو اسکی نظر اس لڑکی کے پھٹے ہوئے لباس اور جسم پر موجود زخموں پر پڑی۔انسانی گوشت جلنے کی بدبو ابھی تک اس کمرے میں موجود تھی۔وہ لڑکی بھی تقریبا بارہ یا تیرہ سال کی تھی اور اپنی بند ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔اس نے اسکے بندھے ہوئے ہاتھوں کو کھولا اور اپنی آرمی کی جیکٹ کو اتار کر اسکے جسم کر گرد لپیٹا ۔
‘فکر مت کرو تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔اب تم محفوظ ہو۔’
وہ سبز آنکھوں والا سپاہی یہ نہیں جانتا تھا کہ اس نے اسے یہ دلاسہ کیوں دیا تھا اور نہ ہی وہ یہ جانتا تھا کہ ایسا کر کے وہ ایک معصوم کا مسیحا بن بیٹھا تھا۔
💖————💖
‘سلمان کیا کر رہے ہیں آپ؟ چھوڑیں سب اور منہ میٹھا کریں۔’
فاطمہ بیگم ہاتھ میں ایک پلیٹ لے کر کمرے میں آئیں اور جلدی سے برفی کا ایک ٹکڑا سلمان صاحب کے منہ میں ڈال دیا۔
‘ارے واہ آج یہ عنایت کیوں ہو رہی ہے؟’
سلمان صاحب نے شرارت سے مسکراتے ہوئے پوچھا تو فاطمہ بیگم کے چہرے کی خوشی میں اضافہ ہو گیا۔
‘ کیونکہ خوشی ہی اتنی بڑی ہے مبارک ہو آپکو ماشااللہ سے نانا بننے والے ہیں آپ۔۔۔’
فاطمہ بیگم کی بات پر سلمان صاحب۔بھی مسکرا دیے۔
‘ ماشااللہ اور یہ خوشی ضرور حمنہ کے ہاں سے آئی ہو گی۔’
‘ارے آپ کو کیسے پتہ؟’
سلمان صاحب کی بات پر فاطمہ بیگم حیران ہوئیں۔
‘کیونکہ شایان کو تو جانان میں ابھی بھی بچپنا ہی نظر آتا ہے اب جانان کا بچپنا کم ہو گا تو ہی وہ اپنے بچوں کے بارے میں کچھ سوچ سکے گا۔’
سلمان صاحب کی بات پر فاطمہ بیگم ہنسنے لگیں۔
‘اچھا زری کو یہ بات نہیں پتہ میں زرا اسے بھی بتا کر آتی ہوں۔’
فاطمہ بیگم اتنا کہہ کر باہر چلی گئیں تو سلمان صاحب مسکراتے ہوئے دوبارہ سے اپنی کتاب پڑھنے لگے۔انکی زندگی میں سکون تھا۔تین بیٹیوں میں سے دو کی تو شادی ہو چکی تھی جو اب اپنے گھروں میں بے انتہا خوش تھیں۔بڑی بیٹی حمنہ کا شوہر عثمان سیاست دان تھا اور حمنہ کو اپنی جان سے بھی ذیادہ چاہتا تھا۔جبکہ حمنہ سے چھوٹی بیٹی جانان کا شوہر شایان شاہ آرمی میں میجر تھا۔
سلمان صاحب کو پریشانی تھی تو صرف اپنی سب سے چھوٹی بیٹی زرش کی جو بول بھی نہیں سکتی تھی۔ایسا نہیں تھا کہ وہ بچپن سے ایسی ہی تھی۔بس کچھ حادثے انسان کی شخصیت پر بہت گہرا اثر چھوڑتے ہیں اور انکی زرش کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
ڈاکٹر بتاتے تھے کہ زرش کے گلے میں ایسا کوئی مسلہ نہیں جس کے باعث وہ بول نہ پائے۔مسلہ اس خوف و ہراس کا تھا جس کے زیر اثر وہ بول نہیں سکتی تھی۔زرش بہت کوشش بھی کرتی لیکن اسکا دماغ ہی اسے بولنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔بہت جگہوں سے علاج کے باوجود زرش کو ہلکا سا بھی فرق نہیں پڑا تھا۔اچانک فون کی آواز پر سلمان صاحب خیالوں کی دنیا سے باہر آئے۔
‘کیسے ہو سلمان؟’
سلمان صاحب کے فون اٹھاتے ہی ایک آدمی کی آواز انہیں سنائی دی تھی۔
‘کون؟’
سلمان صاحب حیران ہوئے۔
‘واہ مجھے پتہ تھا کہ بھول جاؤ گے مجھے تم لیکن اپنا کیا وعدہ تو یاد ہے نا کیونکہ اگر نہیں یاد تو اسکا نقصان تمہیں معلوم ہے۔’
سلمان صاحب کو اچانک سے چھے سال پہلے کا واقعہ یاد آ گیا۔
‘آر بی؟’
سلمان صاحب کے ہاتھ کانپنے لگے۔
‘چلو یاد تو آ گیا نا۔آ رہا ہوں میں سلمان بہت جلد اپنی امانت لینے۔اٹھارہ کی ہو چکی ہے نا وہ اب مزید صبر نہیں ہوتا۔ نکاح کی تیاری کرو تم اپنا کیا وعدہ پورا کرنے کا وقت آ چکا ہے۔’
وہ آدمی اتنا کہہ کر فون بند کر چکا تھا لیکن سلمان صاحب کی روح تک کو جھنجوڑ گیا تھا۔اگر وہ پہلے کی طرح خود غرض ہوتے تو شاید انہیں اس بات کی زیادہ پریشانی نہ ہوتی لیکن حالات نے انہیں مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا۔اب ان کی بیٹیوں میں انکی جان بستی تھی۔وہ کسی کی بھی بری نظر ان پر پڑنے نہیں دے سکتے تھے۔
لیکن انکی مدد کون کر سکتا تھا۔وہ شخص بہت ذیادہ طاقتور تھا دہشتگردوں کی کئی تنظیمیں چلا رہا تھا۔ دنیا کے کسی بھی کونے سے وہ زرش کو ڈھونڈ سکتا تھا۔اگر وہ اسے عثمان کے پاس بھیج دیں تو اس سے حمنہ بھی خطرے میں پڑھ سکتی تھی۔تو پھر کیا وہ شایان سے مدد مانگیں۔ہاں اس معاملے میں شایان سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا۔یہ سوچتے ہی انہوں نے اپنا ہاتھ فون کی طرف بڑھایا۔
‘اسلام علیکم۔’
شایان کے فون اٹھاتے ہی سلمان صاحب کو اسکی آواز سنائی دی۔
‘و علیکم سلام بیٹا۔۔۔۔مجھے تمہاری مدد چاہیے ۔’
نہ چاہتے ہوئے بھی سلمان صاحب کی آواز میں نمی پیدا ہو گئی۔
‘کیا ہوا انکل خیریت تو ہے نا؟’
شایان نے پریشانی سے پوچھا تو سلمان صاحب نے اسے ساری بات بتا دی۔
‘انکل آپ فکر مت کریں میں کچھ کرتا ہوں پھر میں آپکو کال کر کے بتاؤں گا کہ کیا کریں۔’
‘ٹھیک ہے بیٹا مگر پلیز تم اس سب کے بارے میں کسی کو بھی مت بتانا۔میرا خدا جانتا ہے کہ یہ بات تمہارے سوا کوئی نہیں جانتا۔’
سلمان صاحب کو شایان کی بات پر کچھ حوصلہ ہوا تھا۔
‘یہ میرا وعدہ ہے کہ آپکی مرضی کے بغیر اس بات کا ذکر کسی سے نہیں کروں گا۔آپ بس فلحال وہ کریں جو میں آپ سے کہہ رہا ہوں۔زرش کی حفاظت اب میری ذمہ داری ہے۔’
‘ٹھیک ہے بیٹا جیسا تم کہو جانان کو میرا پیار دینا۔’
سلمان صاحب شایان سے بات کر کے فون بند کر چکے تھے لیکن اب وہ جانتے تھے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔
💖————💖
زرش اپنی ماں کو پیکنگ کرتے دیکھ رہی تھی۔وہ بہت کم گھر سے باہر نکلتی تھی۔حمنہ اور جانان کو تو پھر بھی سکول یا کالج جانے کی آزادی رہی تھی مگر اسکے تو ٹیچرز بھی گھر ہی پڑھانے آتے تھے۔سلمان صاحب نے نہ تو اسے کبھی گھر سے باہر جانے دیا تھا اور نہ ہی اسے اسکی کوئی خواہش تھی۔بلکہ اسکی تو کہیں جانے کے خیال سے ہی جان نکل رہی تھی۔
‘لو زری ہو گئی تمہاری پیکنگ کچھ رہ تو نہیں گیا؟’
زرش نے فوراً انکار میں سر ہلایا تو فاطمہ بیگم مسکرا کر اسکے پاس آئیں۔
‘تم نے تو دیکھا بھی نہیں۔’
فاطمہ بیگم نے اسکے گال کو تھام کر پیار سے کہا۔
‘بیٹا فکر مت کرو ہم کوہاٹ جانان کے گھر ہی تو جا رہے ہیں۔’
زرش نے اثبات میں سر ہلایا لیکن اسے کہیں بھی جانے کا خیال اچھا نہیں لگ رہا تھا۔تینوں بیٹیوں میں سے وہ فاطمہ بیگم کے سب سے ذیادہ قریب رہی تھی۔جانان اور حمنہ ذیادہ تر وقت ایک ساتھ رہتی تھیں اور زرش فاطمہ بیگم کا سایہ بنی رہتی تھی۔
‘اچھا پھر اب آپ اپنے کپڑے چینج کرو پھر نکلنا ہے ہمیں دیر ہو رہی ہے۔’
فاطمہ بیگم اسے حکم دے کر چلی گئیں تو زرش آئینے کے سامنے آ کر اپنے لباس کو دیکھنے لگی جسے بدلنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔اسنے ہمیشہ کی طرح آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے خاموش لبوں کو چھوا اور پھر اپنا ہاتھ کندھے پر لے گئی۔وہ زخم بھر چکا تھا لیکن آج بھی اسکی تکلیف زرش کو اندر تک اذیت میں مبتلا کیے ہوئے تھی۔کچی عمر کا وہ واقعہ اسکے لیئے آج بھی بھلانا ناممکن تھا۔اسے نے تکلیف اور کرب سے اپنی آنکھیں بند کیں۔
فکر مت کرو تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔اب تم محفوظ ہو۔’
اپنے مسیحا کی مہربان آواز اور سبز آنکھیں اسکے ذہن میں گردش کرنے لگیں اور ہمیشہ کی طرح اسکو سکون اور اطمینان بخش گئیں۔لیکن پھر اسکی آنکھیں اپنی حالت پر نم ہوگئیں۔
وہ بھی جانان اور حمنہ کی طرح عام زندگی گزارنا چاہتی تھی۔بولنا چاہتی تھی کسی شہزادے کے ساتھ خوش رہنا چاہتی تھی۔مگر وہ تو کسی کے بھی قابل نہیں تھی اور یہ بات وہ بارہ سال کی عمر سے جانتی تھی۔
‘زرش چلو بیٹا۔’
فاطمہ بیگم کی آواز پر زرش کا دھیان آئینے سے ہٹا ۔اپنے آنسوؤں کو غصے اور بے دردی سے صاف کر کے وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
💖————💖
وجدان کو نیند نہیں آ رہی تھی اس لیئے وہ رات کے ایک بجے اپنے گھر کے نچلے پورشن میں موجود جم میں پنچینگ بیگ پر مکوں کی برسات کر رہا تھا اور وہ ایسا تقریبا روز ہی کرتا تھا۔یہ گھر اس نے کافی عرصے پہلے خریدا تھا جس کے فرسٹ پورشن پر جم اور سیکنڈ پورشن پر ماڈرن طرز کا خوبصورت سا گھر تھا۔ہاشم صاحب(وجدان کے والد) تو چاہتے تھے کہ وجدان انکے پاس رہے لیکن وجدان اپنے کام کی وجہ سے ان سے دور ہی رہتا تھا اور آج کل تو وہ ویسے بھی عمرہ کی ادائیگی کے لئے گئے ہوئے تھے۔اب اس گھر میں صرف وجدان اور اسکا دوست سعد رہتے تھے۔
اچانک سیکنڈ فلور پر ایک ہلکی سی آہٹ سن کر وجدان کے چلتے ہاتھ رکے تھے۔ پہلے اسے لگا کہ یہ آہٹ سعد کی ہو گی مگر قدموں کی چاپ بہت ہلکی تھی یعنی وہ وجود سعد سے ہلکا تھا۔
وجدان نے اپنی شرٹ پکڑ کر جسم پہ آیا پسینہ صاف کیا۔اس وقت وہ ایک ٹراؤزر اور کالی بنیان میں ملبوس تھا اور اسی حالت میں وہ باہر نکل کر ساتھ موجود سیڑھیاں چڑھنے لگا۔کچن سے آنے والی ہلکی سی آواز پر وہ دبے قدموں سے اس طرف چل دیا تبھی اسکی نظر ایک نازک سے وجود پر پڑی۔
وہ لڑکی کسی کھوئے ہوئے بچے کی طرح ادھر ادھر کچھ ڈھونڈنے میں مصروف تھی۔وجدان بہت خاموشی سے اسکے پیچھے گیا اور دائیں ہاتھ سے اسکی نازک گردن کو دبوچ لیا۔
‘کون ہو تم اور میرے گھر میں کیا کر رہی ہو؟’
وجدان اسکے کان میں غرایا تو وہ لڑکی خوف کے مارے کانپنے لگی مگر اسنے کوئی جواب نہیں دیا۔
‘جواب دو۔’
وجدان نے اسکی گردن چھوڑے بغیر اسکا رخ اپنی طرف کیا تو اس لڑکی نے اپنی پر خوف کانچ سی آنکھوں سے اسے دیکھا لیکن پھر ان آنکھوں میں خوف کی جگہ حیرت نے لے لی۔کافی دیر اسے یونہی حیرت سے دیکھنے کے بعد اس نے اپنے لب کھولے لیکن کوئی بھی آواز نہیں نکلی۔وجدان کو اب الجھن ہونے لگی۔
‘بولتی کیوں نہیں گونگی ہو کیا؟’
وجدان کے اس طرح سے غرانے پر جب اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔
‘وجدان کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے۔’
سعد کی آواز پر وجدان نے صرف پلٹ کر ایک نظر سعد کو دیکھا لیکن اسکا بھاری بھرکم ہاتھ ابھی بھی اس لڑکی کی گردن پر تھا۔
‘یہ جانان کی بہن ہے زرش۔’
سعد نے بتایا تو وجدان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے زرش کی گردن کو چھوڑ دیا۔جبکہ زرش اب باقاعدہ خوف سے کانپتے ہوئے کھانس رہی تھی۔سعد کی طرح شایان بھی وجدان کا بہت اچھا دوست اور کزن تھا۔وہ تینوں ہی آرمی میں تھے لیکن شایان ان دونوں کی طرح آئی ایس آئی کا حصہ نہیں تھا۔
‘زرش گڑیا ڈرو نہیں یہ وجدان ہے شایان کا بھائی۔’
سعد نے اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی کیونکہ زرش کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ایک پل میں بے ہوش ہو جائے گی۔آنکھیں آنسوؤں سے لبالب بھر چکی تھیں۔
‘اور میں جان سکتا ہوں کہ یہ میرے گھر میں کیا کر رہی ہے؟’
وجدان نے باقائدہ اسکی طرف اشارہ کیا۔
‘شایان نے کہا تھا سلمان صاحب ،انکی بیوی اور بیٹی کو یہاں چند دن رکھنے کے لیئے۔’
‘یعنی کے میرے گھر میں مہمان ہیں اور مجھے ہی نہیں پتہ۔فینٹاسٹک’
وجدان نے سپاٹ سے لہجے میں کہہ کر زرش کو دیکھا جو کہ اب اپنی گردن کو سہلا رہی تھی۔
‘اگر بتا دیتی تو ایسا نہیں ہوتا۔’
وجدان اتنا کہہ کر وہاں سے جانے لگا۔
‘وہ بول نہیں سکتی وجی۔’
سعد کی بات پر وجدان نے کوئی تاثر نہیں دیا لیکن اس کے چلتے قدم رک گئے تھے۔
‘کیا چاہئے تھا تمہیں زرش گڑیا۔’
سعد نے انتہائی نرمی سے زرش سے پوچھا تو اس نے اپنی گردن کو چھوڑ کر اپنے ہاتھ کو لبوں کے قریب کر کے اشارہ کیا۔
‘چائے؟’
سعد کے پوچھنے پر زرش نے انکار میں سر ہلایا اور اپنے کیۓ اشارے کو پھر سے دہرانے لگی۔
‘اوہ اچھا کافی چاہیے تمہیں میری طرح چائے پسند نہیں۔’
زرش نے پھر سے انکار میں سر ہلایا لیکن اس سے پہلے کہ وہ پھر سے اشارہ کرتی وجدان نے پانی کا گلاس اسکے سامنے کیا اور جتلاتی نظروں سے سعد کو دیکھنے لگا۔زرش نے فوراً سے وہ گلاس اپنے لبوں سے لگایا اور پانی کو ایک ہی گھونٹ میں پی کر کمرے میں بھاگ گئی۔
‘یہ سب کیا ہے؟’
وجدان نے کوفت سے منہ بناتے ہوئے اس راستے کی طرف اشارہ کیا جہاں سے ابھی زرش گئی تھی۔
‘بتا تو دیا کہ شایان نے کہا ہے کہ وہ لوگ چند دن یہاں رکیں گے باقی بات وہ کل آ کر بتا دے گا۔’
وجدان نے اثبات میں سر ہلایا۔
‘ہیڈ کوارٹر سے انفارمیشن آئی وہ چاہ رہے تھے کہ ہم دونوں افغانستان چلے جائیں۔میں نے منع کر دیا اپنے وطن کے لیئے یہیں رہ کر کچھ کرنا چاہوں گا۔’
‘تمہاری مرضی ہے مجھے اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بس مشن خطرناک ہونا چاہئے پھر وہ کہیں بھی ہو۔تمہارے برعکس میں یہ سب ملک کے لیئے نہیں کرتا کیپٹن۔’
وجدان نے پانی پیتے ہوئے کہا۔
‘اچھا تو پھر کیا مقصد ہے؟’
سعد نے دلچسپی سے پوچھا۔
‘کوئی مقصد پانا ہی میرا سب سے بڑا مقصد ہے۔’
اس سے پہلے کہ سعد اسے مزید کچھ کہتا وجدان وہاں سے چلا گیا۔
💖————💖
(ماضی)
وہ اپنے نو سال کے بیٹے کو اپنے ساتھ لئے اندھیرے میں بھاگتے ہوئے جا رہی تھی۔اس امید میں کہ شاید کوئی اسکی مدد کر دے۔ایک بیٹے کو تو وہ درندہ پہلے ہی مار چکا تھا اب وہ دوسرے کو بھی نہیں کھونا چاہتی تھی۔
‘شاہانہ رک جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
اپنے پیچھے سے آنے والی آواز پر شاہانہ روح تک کانپ گئی۔اس وقت اس کے پیچھے کوئی شیطان کا بھٹکایا ہوا انسان نہیں بلکہ شیطان خود پڑا تھا۔اس نے اپنی رفتار بڑھانے کی کوشش کی سامنے نظر آنے والا ایک گاؤں اس کے لیئے تاریکی میں ایک زرہ برابر امید کا باعث تھا۔
‘تمہیں کچھ نہیں ہو گا سکندر یہ تمہاری ماں کا وعدہ ہے تم سے۔’
اس نے اپنے بیٹے کو دلاسہ دیا اور پھر اسکی نظر دائیں طرف ایک اصطبل پر پڑی تو وہ جلدی سے اس طرف بھاگنے لگی۔
‘سکندر یہاں سے باہر مت آنا بیٹا چاہے کچھ بھی ہو جائے۔’
شاہانہ نے اسکو ایک اندھیرے کونے میں بیٹھا کر کہا تو سکندر نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
‘آپ پلیز مت جائیں۔’
نو سال کے بچے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
‘نہیں بیٹا میں نے تمہیں بتایا تھا نا کہ تم سکندر ہو اور وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔بلکل اپنے بابا کی طرح۔تم یہیں رہنا مجھے ان لوگوں کا دھیان بھٹکانا ہو گا۔’
شاہانہ نے آنکھوں میں آنسو لے کر اپنے بیٹے کے سر پر ایک بوسہ دیا اور بھاری قدموں سے بھاگنے لگی۔
‘میں سکندر ہوں اور میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔’
سکندر اندھیرے میں بیٹھا اپنی ماں کے الفاظ دہرا کر خود کو حوصلہ دے رہا تھا۔
‘سکندر۔۔۔۔۔۔۔۔سکندر کہاں ہو باہر آؤ۔۔۔’
کچھ دیر کے بعد اس شیطان کی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی تو سکندر ایک پل کو سہم کر اندھیرے میں چھپا۔
‘سکندر اگر اپنی ماں کو زندہ دیکھنا ہے تو باہر آ جاؤ بیٹا میں کچھ نہیں کروں گا۔’
اپنی ماں کے ذکر پر سکندر کا ننھا سا دل کانپا۔
‘بلاؤ اسے شاہانہ۔۔۔۔’
‘کبھی نہیں ۔۔۔۔۔۔میرا بیٹا تمہارے ہاتھ نہیں آئے گا۔۔۔۔ادھوری ہی رہے گی تمہاری ہر خواہش۔۔۔’
شاہانہ انتہائ غصے سے بولی تو وہ شیطان قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔
‘ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ایسا کیا۔۔۔۔۔۔’
اس نے ایک زور دار تھپڑ شاہانہ کے منہ پر مارا جسی کی طاقت کو برداشت نہ کرتے ہوئے شاہانہ زمین پر گری۔اس شیطان نے مسکراتے ہوئے اپنا بیلٹ نکالا اور شاہانہ کو بری طرح سے مارنا شروع کر دیا۔۔۔۔
‘بلاؤ اسے۔۔۔۔’ وہ چلایا۔
‘کبھی نہیں۔۔۔۔۔’
شاہانہ نے مار کھاتے ہوئے ضبط سے کہا۔سکندر کب سے وہاں بیلٹ سے نکلنے والی آواز سن رہا تھا۔وہ اپنی ماں سے کیئے وعدے کو قائم رکھنے کے لیئے وہاں بیٹھا ہوا تھا۔لیکن اب اسکا ضبط ختم ہو چکا تھا۔سکندر نے ارد گرد دیکھا تو اسے صرف ایک چھڑی نظر آئی جسے اسنے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اصطبل سے باہر آ گیا۔
‘چھوڑو میری ماں کو۔۔۔۔’
سکندر نے ڈنڈے پر پکڑ مظبوط کر کے کہا تو اس شیطان نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا۔
‘نہیں سکندر۔۔۔۔’
شاہانہ نے اٹھ کر سکندر کی طرف آنا چاہا تو اس نے شاہانہ کو بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔
‘واہ تم تو بلکل باپ پر گئے ہو۔ڈر نہیں لگ رہا تمہیں؟’
اس شیطان نے مسکراتے ہوئے کہا اور شاہانہ پر اپنی پکڑ مظبوط کی۔
‘سکندر صرف اللہ سے ڈرتا ہے اور کسی سے نہیں۔’
سب کو اسکی بہادری پر تعجب ہوا کیونکہ وہ لوگ اس دس سالہ بچے کے چہرے پر بھی خوف کا کوئی تاثر نہیں دیکھ سکتے تھے۔
‘لاؤ اسے میرے پاس۔۔۔’
شیطان کے حکم دیتے ہی اسکا ایک آدمی سکندر کی طرف بڑھا تھا۔لیکن اسکے قریب آتے ہی سکندر نے اسے ڈنڈے سے مارنا شروع کر دیا۔دوسرے آدمی نے سکندر کو پیچھے سے پکڑ کر ڈنڈا اسکے ہاتھ سے دور کیا مگر پھر بھی سکندر نے اسکے ہاتھ کو اپنے ناخنوں اور دانتوں سے نوچنا شروع کر دیا۔جبکہ یہ منظر کوئی بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
‘تم تو کمال ہو سکندر تمہیں مار کر سچ میں افسوس ہو گا مجھے۔’
وہ شخص شیطانی سے مسکرا رہا تھا۔
‘نہیں ۔۔۔۔۔’
شاہانہ نے غصے اور کرب سے کہا۔
‘دیکھ لینا میری جان ایسا ہی ہو گا اور تمہاری آنکھوں کے سامنے ہو گا۔۔۔۔’
اس نے شاہانہ کے گال کو چاٹا تو وہ اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔
‘چلو اب جو چاہا تھا وہ مجھے مل چکا ہے۔’
اس شیطان نے اپنے آدمیوں سے کہا اور خود شاہانہ کو اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے وہاں سے چل پڑا تھا ۔