Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
وجدان ،سعد اور عشال دو دن پہلے ہی زیارت پہنچ گئے تھے لیکن ابھی تک انہیں آر بی کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہوا تھا اور یہی بات وجدان کو بہت زیادہ بے چین کر رہی تھی۔یہ اتنا بھی چھوٹا شہر نہیں تھا کہ یہاں پر انہیں سب کچھ آسانی سے مل جاتا۔
‘کیا سوچا ہے وجدان تم نے؟’
سعد کے سوال پر وجدان نے اپنی مٹھیاں کسیں۔
‘زرش کا پتہ لگانے کے لئے آر بی کو ڈھونڈنا ہو گا اور ایسا جلد از جلد کرنا ہو گا۔’
سعد نے اثبات میں سر ہلایا۔
‘اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم دونوں الگ الگ ہو جائیں تا کہ معلومات جلدی حاصل ہو سکے۔’
سعد نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
‘پریشان مت ہو میرے دوست ہم انشا اللہ بہت جلد اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔’
سعد نے اسے تسلی دی کیونکہ اپنی جس کمزوری کو وجدان اتنے عرصے سے چھپا رہا تھا آج وہ کمزوری وہ پریشانی اسکے چہرے سے چھلک رہی تھی۔
‘میں جا رہا ہوں۔’
وجدان نے سعد کا ہاتھ جھٹکا اور اپنا بیگ پکڑ کر گھر سے باہر نکل آیا۔آنکھوں پر ایک نقلی نظر کا چشمہ لگانے کے بعد اس نے ہاتھ میں ایک ٹوریسٹ میپ پکڑا اور چھان بین کرنے نکل پڑا۔صبح سے شام ہو گئی تھی لیکن اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔جہاں سے وہ چلا تھا وہ ابھی بھی وہیں کھڑا تھا کچھ بھی تو نہیں جان پایا تھا وہ۔ابھی بھی کھانا کھانے کے بعد وہ ایک ہوٹل میں بیٹھا موبائیل پر زرش کی تصویر دیکھ رہا تھا جو کہ جانان نے نکاح پر شرارت سے اسکا موبائیل لے کر بنائی تھی۔کئی مرتبہ وجدان نے اس تصویر کو ڈیلیٹ کرنا چاہا تھا لیکن ایسا وہ چاہ کر بھی نہیں کر پایا۔
‘اب تو مل جاؤ یار اور کتنی سزا دو گی۔مانا کہ مظبوط ہوں سزا سہہ سکتا ہوں مگر ہر انسان کی ایک حد ہوتی ہے نور اور میری وہ حد ختم ہو چکی ہے۔’
وجدان نے بہت ذیادہ نرمی سے اپنے موبائل کی سکرین کو چھوا جیسے وہ اسے محسوس کر لے گا۔تبھی اسکے اوپر برفباری ہونے لگی۔
‘بس اب ایک گزارش۔۔۔۔۔۔۔نہیں یہ حکم ہے میرا کہ تم بلکل ٹھیک ہو گی چاہے وہ شخص کچھ بھی کر لے نور تم اتنا مت ٹوٹ جانا کہ میں پھر جوڑ نہ سکوں۔اتنا مت بکھرنا کہ تمہیں سمیٹنا نا ممکن ہو جائے۔میرے لئے ٹھیک ہونا تم۔بس ایک آخری موقع دے دو نور صرف یہ آخری موقع پھر دیکھنا کہ تمہارا یہ پتھر دل مسیحا تمہیں کتنا چاہتا ہے۔’
ایک پانی کا نھنھا سا قطرہ زرش کی تصویر کے گال پر گرا تھا۔وجدان کو جاننے والا کوئی بھی شخص اسے بارش کا پانی ہی سمجھتا لیکن سچائی وہ پتھر دل جانتا تھا۔
🌈🌈🌈🌈
زرش ابھی تک نہیں سو پائی تھی آر بی کی باتیں اسکی دھمکیوں کا خوف اسکے دل کو دہلا رہا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اسے کیا کرنا ہو گا وہ کس طرح سے اپنی حفاظت کرے؟ یہ خیال آتے ہی زرش پھر سے ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی۔یا اللہ پاک میری مدد کریں کیسے بھی مجھے آزادی دلا دیں آپ تو ہر چیز پر قادر ہیں میری مدد کر دیں۔زرش زارو قطار روتے ہوئے اپنے لیے دعائیں مانگ رہی تھی اور روتے ہوئے کب اسکی آنکھ لگ گئی یہ اسے بھی علم نہیں ہوا۔ہوش تو اسے تب آیا جب کسی نے اسے جھنجوڑ کر اٹھایا۔
‘زرش بی بی جلدی سے اٹھو وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔’
زرش نے حیرانی سے چندا کو دیکھا اور اٹھ بیٹھی ۔چندا نے فوراً ایک چادر اس پر اوڑھا کر اسے چھپایا۔
‘چلو زرش بی بی میں تمہیں لینے آئی ہوں جلدی چلو جانا ہے ہمیں یہاں سے۔’
چندا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کرنا چاہا تو زرش جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔زرش کے ذہن میں بہت سارے سوال تھے لیکن چندا اسے کوئی بھی وقت دیے بغیر باہر کی طرف لے کر چل دی اور بہت آہستہ سے گھر سے باہر نکل کر اسے ایک دیوار کے پاس لے آئی جسے پھلانگ کر زرش کو وہاں سے جانا تھا۔زرش کو ایک مہینہ یہاں رہتے ہوئے اب پتہ لگا تھا کہ وہ ایک برفانی علاقے میں تھے کیونکہ جس کمرے میں اسے قید کیا گیا تھا وہاں تو ایک کھڑکی بھی نہیں تھی۔
‘باہر عالیہ بی بی کا نوکر آپکا انتظار کر رہا ہے لیکن بی بی جی عالیہ بیگم کا نام بھی زبان پر مت لانا ورنہ وہ وحشی نہ جانے کیا کر گزرے گا۔انہوں نے تو پہلے ہی یہ بغاوت کر کے اپنے سر بہت بڑا خطرہ مول لیا ہے۔۔۔۔چلی جاؤ آپ یہاں سے وہ لڑکا آپکو یہاں سے لے جائے گا۔اب جلدی جاؤ وقت ضائع مت کرو۔۔۔’
چندا نے ایک اندھیرے میں لگی سیڑھی کی طرف اشارہ کیا تو زرش نے تشکرانہ نظروں سے اسے دیکھا اور اس سیڑھی پر چڑھنے لگی۔لیکن دیوار کی دوسری طرف کچھ بھی نہیں تھا جس کی وجہ سے زرش ایک پل کو گھبرائی لیکن پھر ہمت کر کے وہاں سے کود گئی۔اونچی دیوار سے گرنے کی وجہ سے زرش کو کافی چوٹیں بھی آئی تھیں۔جن کو نظر انداز کر کے وہ لڑکھڑاتے ہوئے کھڑی ہو گئی۔جسم سردی کی شدت سے سن ہو رہا تھا۔
‘چلیں بی بی۔’
زرش کی ہی عمر کے ایک لڑکے نے اس کے قریب آ کر اسے وہاں سے چلنے کا کہا تو زرش جلدی سے اسکے ساتھ سامنے موجود گاڑی میں بیٹھ گئی۔کچھ دیر بعد ہی وہ لوگ وہاں سے چل پڑے تھے۔
‘میرا نام اسلم ہے بی بی ۔’
کار ڈرائیو کرتے ہوئے لڑکے نے بتایا تو زرش نے صرف اثبات میں سر ہلا دیا اور پھر گھبرا کر پیچھے کو دیکھنے لگی۔
‘کتنی مغرور ہے توبہ انسان کچھ کہہ ہی دیتا ہے۔شکریہ تک ادا نہیں کیا نک چڑی کہیں کی۔’
لڑکا ہلکی آواز میں بڑبڑایا تھا لیکن چھوٹی سی کار میں زرش وہ بڑبڑاہٹ سن چکی تھی لیکن پھر بھی وہ صرف گھبراتے ہوئے پیچھے ہی دیکھ رہی تھی کہ کہیں کوئی اسکا پیچھا تو نہیں کر رہا۔
‘ارے فکر مت کریں بی بی جی ہم نے اڑن چھو ہو جانا اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگنا دیکھ لینا آپ۔’
اسلم نے چہکتی ہوئی آواز میں کہا ۔زرش اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ اسے کہاں چھوڑ کر آئے گا لیکن ابھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکے ہاتھوں کے اشارے دیکھنے کے لیے وہ بندہ ایک پل کے لیے بھی سڑک پر سے دھیان ہٹائے۔
‘اچھا ویسے اتنی مدد کی ہے نام تو بتا دو بی بی۔۔۔۔۔جانتا ہوں کہ مجھے پہلے سے پتہ ہونا چاہیے تھا لیکن مجھے صرف اتنا کہا گیا تھا کہ ایک لڑکی کو وہاں سے لے کر لاہور چھوڑ آؤں اور کچھ بھی نہیں بتایا تھا اور ویسے بھی جتنا بولا جائے اتنا ہی کرتا ہے اسلم زیادہ بک بک کرنے کی عادت نہیں مجھے۔’
اسلم نے ایک اور کوشش کی مگر زرش کبھی پیچھے دیکھتی تو کبھی رونے لگ جاتی۔
‘کچھ بول لو بی بی جی لمبا سفر ہے آسانی سے کٹ جائے گا۔’
اسلم نے ایک آخری کوشش کی مگر مقابل کی خاموشی دیکھ کر گہرا سانس لے لیا۔
‘آپکی مرضی ہے بھئی ویسے اللہ بچائے ایسے غرور سے۔’
اسلم نے سر جھٹک کر کہا جبکہ زرش ابھی بھی روتے ہوئے آیتوں کے ورد کر رہی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
‘کہاں ہے وہ بولو سب؟’
آر بی کے چلانے کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔صرف آدھے گھنٹے میں ہی وہ زرش کی غیر موجوگی کا اندازہ لگا چکا تھا اور اب سب اسکے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے۔
‘ایک گھنٹہ۔۔۔۔۔۔ایک گھنٹے کے اندر وہ مجھے تم لوگوں کے قبضے میں چاہیے۔سمجھے اور یہاں کا سردار میرا وفادار ہے اس سے کہو کہ پولیس والوں سے بھی ناکا بندی کروا دںے نکل نہ پائے وہ یہاں سے۔’
سب آدمی اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلے گئے ۔
‘ہیلی کاپٹر تیار رکھو ہمیں نکلنا ہے یہاں سے اس سے پہلے کہ پھر سے برفباری شروع ہو جائے۔’
آر بی نے اپنے آدمی سے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر چلا گیا لیکن چندا نے اسے بہت حیرت سے دیکھا۔
‘مم۔۔۔۔۔۔مگر ہم کیوں جا رہے ہیں اگر وہ مل گئی تو۔۔۔۔۔۔’
چندا نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔
‘اگر نہیں،میرے آدمی اسے ضرور ڈھونڈ نکالیں گے اور جہاں میں کہوں گا وہاں پہنچا دیں گے۔پولیس تو میرے کنٹرول میں ہے یہاں کی لیکن اگر اس لڑکی نے آرمی کو یہاں پہنچا دیا تو مسلہ ہو جائے گا۔تیاری پکڑو تم بھی’
آر بی اتنا کہہ کر وہاں سے جانے لگا۔
‘بزدل کہیں کا۔۔۔’
چندا اسکی کمر کو دیکھ کر ہلکا سا بڑبڑائی۔
🌈🌈🌈🌈
اسلم اور زرش زیارت کی حدود سے نکلنے والے تھے جب اچانک انکی نظر سامنے ہوئی ناکہ بندی پر گئی۔زرش پل بھر میں گھبرائی۔
‘ارے فکر مت کریں بی بی یہ تو بس پولیس ہے کیا کہہ لے گی ہمیں۔بس یہ مت کہیے گا کہ آپ ہماری معشوقہ ہیں پھر مسلہ کھڑا ہو جائے گا۔’
اسلم نے نرمی سے کہا اور تھوڑا آگے ہو کر گاڑی روکی۔زرش نے فوراً اپنے چہرے کو چادر سے چھپایا۔
‘کہاں جا رہے ہو تم لوگ؟’
ایک پولیس اہلکار کھڑکی کے سامنے ہو کر پوچھنے لگا۔
‘کہاں جائے گا صاحب گھر ہی جا رہا ہے۔’
اسلم نے عام سے بلوچی لہجے میں کہا۔
‘یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟نقاب ہٹاؤ لڑکی۔’
پولیس والے کی گرج دار آواز پر زرش گھبرا کر اسلم کو دیکھنے لگی۔
‘خدا کو خوف کرو صاحب ہمارا بہن کیوں اپنا چہرہ دیکھائے بلوچ ہے ہم آنکھیں نکال لیتا ہے اپنی غیرت پر نظر ڈالنے والوں کی۔’
اسلم کی بات پر پولس والا گہرا سانس لے کر پیچھے ہوا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اسلم کو باہر نکالا۔
‘فضا آپ انکا چہرہ دیکھو۔’
اسکی بات پر لیڈی کانسٹیبل گاڑی کی طرف بڑھی اور زرش کو باہر نکال کر اسکے چہرے سے نقاب ہٹانے لگی۔زرش کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ وہاں سے غائب ہو جائے۔
‘وہی ہے سر۔۔۔۔۔’
کانسٹیبل کی بات پر زرش کی روح تک کانپ گئی تھی جبکہ وہ دوسرا پولیس والا اب موبائیل نکال کر فون ملا رہا تھا۔
‘جی سر وہ لڑکی ہمیں مل گئی ہے آپ بس بتائیں کہ کہاں پہنچانا ہے۔’
زرش کی روح تک کانپ گئی تھی۔کیا یہی اسکے نصیب میں لکھا تھا کیا وہ پھر سے اس قید میں جانے والی تھی؟نہیں۔۔۔۔۔اس بار نہیں۔بہت ہمت کر کے زرش نے ایک زور دار دھکا اس کانسٹیبل کو دیا اور اسکی گرفت سے چھوٹتے ہی وہاں سے دوڑ لگا دی۔دوسرا پولیس کانسٹیبل اسکے پیچھے بھاگنے لگا تو اسلم نے جلدی سے اپنے پاس کھڑے پولیس والے سے بندوق چھین کر اس کانسٹیبل کی ٹانگ میں گولی چلا دی۔
‘بھاگو بی بی انکو ہم دیکھ لے گا۔’
زرش کو اسلم کی آواز سنائی دی تو اس کے بھاگنے میں شدت آ گئی ۔اس کمزور سے دکھائی دینے والے اسلم نے ایک ساتھ دو پولیس والوں کو اپنی گرفت میں پکڑ رکھا تھا۔پھر ان دونوں کو اچانک ہی زور دار دھکا دیا اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی کو زرش کے پیچھے لے جانے لگا۔
زرش کچھ ہی دور گئی تو گاڑی میں سوار کچھ لوگ زرش کے پیچھے آ گئے۔انہیں دیکھ کر زرش کی جان مٹھی میں آ گئی۔
زرش نے جب انہیں اپنے بہت قریب پہنچتے دیکھا تو جلدی سے ساتھ موجود تنگ سی گلی میں گھس گئی جہاں وہ گاڑی نہیں آ سکتی تھی اور اپنی مکمل رفتار سے بھاگنے لگی۔سردی کی شدت سے اسکا وجود سن ہو رہا تھا اور پورے جسم میں درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں لیکن زرش نہیں جانتی تھی کہ پھر بھی اسکے جسم میں اس قدر ہمت کہاں سے پیدا ہو رہی تھی۔
بھاگتے ہوئے زرش اس گلی سے نکل کر واپس ایک سڑک پر آ چکی تھی لیکن اپنے پیچھے آنے والے قدموں کی چاپ وہ با آسانی سن سکتی تھی۔وہ لوگ اسکے قریب پہنچ چکے تھے بہت قریب۔زرش کی ساری امید ختم ہو چکی تھی وہ جانتی تھی کہ وہ پکڑی جائے گی اور یہ بات اسکی تمام ہمت ختم کر گئی ۔زرش نے بھاگتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ لوگ اسکے بلکل قریب پہنچ گئے تھے۔مگر تب ہی زرش ایک چٹان کی ماند شے سے ٹکرائی اور اسکے بھاگتے قدم وہیں رک گئے۔
🌈🌈🌈🌈
وجدان ساری رات آر بی کے ٹھکانے کا پتہ لگانے کی کوشش کرتا رہا تھا جسکے نتیجے میں دو لوگ اسکے ہاتھوں سے بری طرح سے پٹے بھی تھے لیکن افسوس کی بات تو یہ تھی کہ آر بی کے آدمی ہونے کے باوجود وہ لوگ اسکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔آر بی نے اپنے آپ کو بہت ذیادہ چھپا کر رکھا ہوا تھا اور اس بات سے ایک چیز وجدان پر ظاہر ہو گئی تھی کہ وہ بہت ذیادہ ڈرپوک انسان تھا۔
ساری رات وجدان نے سڑکوں پر گزاری تھی اور اب صبح کے وقت وہ مایوسی کی حالت میں واپس جا رہا تھا جب اسکے کانوں میں فجر کی اذان کی آواز پڑی۔بے ساختہ طور پر اسکے قدم مسجد کی طرف اٹھے تھے۔ٹھنڈا علاقہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں بہت کم لوگ تھے کیونکہ ایسے علاقوں میں جب برفباری کا سلسلہ شروع ہوتا تھا تو لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہو جاتا۔نماز ادا کر کے وجدان نے اپنے ہاتھ اٹھائے تو وہ خوبصورت سبز آنکھیں نم تھیں۔
‘مجھ سے بہت غلطیاں ہوئیں ہیں میرے اللہ لیکن غلطیاں تو ہر انسان کرتا ہے اور تو اسے معاف کر دیتا ہے۔لیکن مجھے چاہے تو نہ بخش لیکن اس معصوم کی حفاظت کرنا میرے مولا۔اسے مجھ سے ملا دے تاکہ میں اپنی غلطی سدھار لوں۔اسکے زخموں کا مرحم بن جاؤں،اسکے دکھوں کا مداوا کروں،وہ مسیحا بنوں جو وہ مجھے سمجھتی رہی ہے۔’
کئی آنسو ٹوٹ کر اس پتھر دل کی آنکھوں سے گرے۔
‘لوگ بہت کچھ کھوتے ہیں میرے اللہ لیکن میں نے سب کچھ کھویا ہے کچھ بھی نہیں بچا میرے پاس۔سب لٹ جانے کی جیتی جاگتی مثال ہوں میں لیکن اب اگر اسے بھی کھو دیا نا تو یہ وجود نہیں بچےگا۔مٹ جائے گی میری ہستی۔ بس ایک بار میری دعاقبول کر لے اسے ملا دے مجھ سے میرے مولا ایک بار ملا دے۔’
وجدان نے دعا کے لیے اٹھائے ہوئے ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرے اور خدا کی بارگاہ میں تڑپ کر مانگنے والا وہ شخص ایک مرتبہ پھر سے خود کو پتھر بنا کر باہر چل دیا۔
ابھی وہ چل کر کچھ قدم ہی دور گیا تھا جب ایک نازک سا وجود اسکی کمر سے ٹکرایا وجدان نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک پل کے لیے تو اسے اپنی آنکھوں پر اور قسمت پر یقین ہی نہیں آیا کیا سچ میں دل کی گہرائیوں سے مانگی ہوئی دعا اتنی جلدی قبول ہو سکتی تھی؟کیا معجزے واقعی میں ہو جاتے تھے؟
‘نور۔۔۔۔۔’
بے ساختہ وجدان کے لبوں سے نکلا۔
زرش جو پیچھے دیکھنے میں مصروف تھی یہ آواز سن کر اسے سب ایک خواب لگنے لگا تھا۔وہ محسوس کر سکتی تھی کہ کیسا لگتا ہے جب صحرا میں صدیوں سے بھٹکتے ہوئے پیاسے کو جب پانی مل جائے۔کئی آنسو ٹوٹ کر ان کانچ سی آنکھوں سے گرے۔وجدان نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اس نازک وجود کو خود میں بھینچ کر اپنے آپ کو اسکی موجودگی کا احساس دلایا یقین کرنا چاہا کہ یہ سب ایک سچ ہے کوئی خواب یا سراب نہیں۔سکون کی ایک لہر اسکے پورے وجود میں گردش کرنے لگی تھی۔
‘اے ہیرو چھوڑ اسے آر بی کی ہے ملکیت ہے وہ۔’
ایک آدمی کی آواز پر وجدان نے زرش کو خود سے دور کیے بغیر اپنی لہو رنگ نم نظریں اٹھا کر ان تینوں کو دیکھا۔جبکہ ان سبز آنکھوں میں سے نکلتے غضب ناک شراروں سے ہی ڈر کر وہ لوگ تین قدم دور ہوئے تھے۔وجدان نے پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی زرش کو خود سے دور کیا تو اسکی نظر زرش کے ماتھے پر موجود چوٹ کے نشان پر پڑی جس نے جلی پر تیل کا کام کیا۔ وجدان اپنی مٹھیاں بھینچتا ان تینوں کی طرف بڑھا۔
‘ہے ہمت تو صرف ہاتھ لگا کے بتا اسے۔’
سرد مہر وجدان کی جگہ اب اسکے اندر چھپا درندہ،اسکا خطرناک ترین روپ خان بول رہا تھا۔ایک آدمی نے بندوق اٹھا کر گولی چلائی لیکن وجدان بہت تیزی سے اس گولی سے بچ کر اس شخص کے قریب پہنچا اور اسی کے ہاتھ میں موجود بندوق سے ایک گولی سامنے موجود شخص کے سینے میں ماری ۔دوسرے آدمی نے اپنی پسٹل سے وجدان پر گولی چلائی تو وجدان نے اپنی گرفت میں موجود شخص کو اپنے سامنے کر دیا ۔وہ گولی اسکے سینے میں لگی تو وہ شخص نیچے گر گیا۔وجدان نے اسکے ہاتھ سے بندوق لے کر اس تیسرے آدمی کی ٹانگ پر گولی ماری جس سے وہ کراہتے ہوئے زمین پر ڈھے گیا۔وجدان بندوق لے کر اسکے قریب ہوا تو اس نے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔
‘نن۔۔۔۔۔۔۔ننہیں معاف کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔’
وہ شخص گڑگڑانے لگا۔
‘جا معاف کیا۔’
وجدان نے بندوق نیچے کی اور اسکی دوسری ٹانگ میں بھی گولی مار دی۔وہ شخص اب تڑپنے لگا۔
‘اگر زندہ بچ گیا نا تو بتا دینا اپنے اس آر بی کو کہ زرش صرف خان کی ہے۔نور ہے وہ اسکا اور وجدان خان اسکے نور پر نظر رکھنے والے کی آنکھیں چھین لے گا۔اس لئے دیکھ لے جتنی دنیا دیکھنی ہے بہت جلد اس قابل نہیں رہے گا وہ۔’
وجدان نے حقارت سے بھری ایک آخری نگاہ اس پر ڈالی اور مڑ کر زرش کے پاس گیا جو گھٹنوں میں سر دیے زمین پر بیٹھی تھی۔وجدان نے اسکے پتلے لباس کو دیکھا تو اپنی جیکٹ اتار کر اسکے کندھوں پر ڈال دی۔
‘چلو نور۔۔۔۔۔۔’
وجدان نے اسے کندھوں سے تھام کر کھڑا کیا اور اسے اپنے ساتھ لگا کر چلنے لگا۔اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اسکی دعا اتنی جلدی قبول ہو جائے گی وہ اس کے پاس تھی اسکے بہت قریب ۔وجدان کے جینے کی وجہ اسکے پاس تھی اسے اور کیا چاہیے تھا۔جبکہ زرش تو صرف یہ سوچ رہی تھی کہ وہ یہاں کیسے اور کیونکر تھا؟وہ تو اس سے نفرت کرتا تھا نا پھر یہاں کیوں آیا؟بہت سے سوال اس معصوم ذہن پر حاوی تھے۔جبکہ وجدان اپنی متاع جان کو ساتھ لگائے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کر رہا تھا۔
