Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
وجدان نے شایان سے جو فرمائش کی تھی اسے سن کر شایان پچھلے پانچ منٹ سے مسلسل قہقہے لگا رہا تھا۔
‘ایسا بھی کوئی لطیفہ نہیں سنا دیا میں نے۔’
وجدان نے دانت پیس کر کہا۔
‘نہیں یار بات زرا یہ ہے کہ تمہارے جیسا سڑو انسان جسکا ایٹیٹیوڈ اسکی ناک پر رہتا تھا اب جب ایسی بات کرتا ہے نا تو بڑا زیادہ مزہ آتا ہے ۔’
شایان اتنا کہہ کر پھر سے ہنسنے لگا۔
‘تب کا کیا خیال ہے ویسے جب آپ جانان کو پہاڑی کے اس گھر میں لے کر گئے تھے کیا میں نے ایسا کیا تھا اور نخرہ تو تمہارا بھی کم نہیں تھا دراب خان۔’
وجدان نے دراب خان پر زور دیتے ہوئے طنز کیا۔
‘اچھا یار غصہ مت کرو تمہیں بس ایک سرپرائز پلین کرنا ہے نا تو اس میں کیا مشکل ہے میں جانان کو بول دیتا ہوں پھر دیکھنا وہ اور حمنہ مل کے سب سیٹ کر لیں گی۔’
شایان کی بات پر وجدان نے سکون کا سانس لیا اسے یہ سب انکی مدد سے کرنا عجیب لگ رہا تھا لیکن کیا کرتا مجبوری بھی تو تھی نا اپنی متاع جان کو منانا بھی تھا اور اسے کہیں باہر بھی نہیں لے کر جا سکتا تھا۔اسی لیے وجدان نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ گھر پر ہی سرپرائز پلین کرے گا اور اس کے لیے وجدان کو باقی سب کی مدد چاہیے تھی۔ویسے بھی دو دن سے وہ بہت ذیادہ مصروف رہا تھا زرش کو تو ایک بار بھی دیکھ نہیں پایا تھا۔
‘اگر زرش کا معاملہ نہیں ہوتا تو میں کبھی بھی یہ سب برداشت نہیں کرتا۔’
وجدان نے مصنوعی غصے سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ابھی وجدان جا ہی رہا تھا کہ اچانک اسکی ٹکر سامنے سے آتی عشال سے ہوئی جسکی وجہ سے عشال کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر زمین بوس ہو گیا۔وجدان نے ایک نظر موبائل پر کھلی فیس بک کو دیکھا اور پھر موبائل پکڑ کر عشال کو پکڑا دیا۔
‘کبھی اس کی دنیا سے باہر نکل کر بھی چلا کرو۔’
وجدان نے پہلے جیسی سنجیدگی سے کہا۔
‘کبھی اپنا یہ سستا ایٹیٹیوڈ سائیڈ پر رکھ کر بھی بات کیا کرو۔’
عشال نے وجدان کو گھور کر کہا تو وجدان بھی جواباً کافی دیر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے گھورتا رہا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔
‘ہمم سڑا کہیں کا۔’
عشال جو دھوپ کی غرض سے باہر جانے لگی تھی شایان کو وہاں بیٹھا دیکھ رک گئی پتہ نہیں کیوں عشال کو اس شخص کی آنکھوں سے عجیب سی وحشت ہوتی تھی۔
عشال نے شایان سے دھیان ہٹا کر اپنے موبائل کو پھر سے دیکھنا شروع کر دیا جس آدمی کی آئیڈی کو وہ کب سے دیکھ رہی تھی اسے دیکھتے دیکھتے اچانک عشال کی نظر ایک جگہ ٹھہر سی گئی۔گلابی لبوں پر ایک مسکان اور ہری آنکھوں میں چمک آئی تھی۔
‘کافی چالاک ہو۔’
عشال نے مسکرا کر کہا اور پھر اس بندے کی آئی ڈی کو بند کر کے موبائل پینٹ کی پاکٹ میں رکھا۔
‘کون چالاک ہے؟’
عشال کو اپنے پیچھے سے جانان کی آواز سنائی دی ۔عشال مسکراتے ہوئے مڑی ۔
‘تمہارا ہزبینڈ اور کون میں سوچتی ہوں کہ تم جیسی پری کو یہ باگڑ بلا ہی ملا تھا کیا شادی کرنے کے لیے اس سے تو بہتر کنواری زندگی تھی میری طرح کی۔’
عشال نےاترا کر کہا جبکہ جانان کی سوئی تو ایک ہی لفظ پر اٹکی تھی۔
‘ہاہاہا ۔۔۔۔باگڑ بلا ۔۔۔۔ہا ہا کتنا مزہ آئے گا جب شایان کو یہ کہہ کر پکاروں گی میں اف مجھے تو ابھی سے مزہ آ رہا ہے۔’
جانان ہنستے ہوئے اپنی باتوں میں ہی لگ چکی تھی عشال نے بھی سکھ کا سانس لیا اور جانان کے ساتھ باتوں میں لگ گئی۔
‘اچھا عشال تمہیں پتہ ہے شایان نے مجھے کہا ہے کہ ہم نے زرش کے لیے سرپرائز پلین کرنا ہے کل رات تک آؤ نیچے چل کے آپی سے ڈسکشن کرتے ہیں اس بارے میں۔’
عشال بھی دلچسپی سے جانان کے ساتھ چل دی زرش کو انہوں نے بہانے سے فاطمہ بیگم کے پاس بھیج دیا تھا اور انہیں خاص طور پر ہدایت دی کہ زرش کو باہر نہ نکلنے دیا جائے۔
وجدان تو کسی کام سے اپنا حلیہ مکمل طور پر بدل کر باہر چلا گیا تھا اس وقت حال میں سب ہی موجود باتیں کر رہے تھے سوائے سعد کے جو علیحدہ سے ایک صوفے پر سنجیدگی سے بیٹھا تھا۔
‘ارے کیا ہوا کیپٹن آپ کیوں اتنے اداس ہیں؟’
شایان نے سعد کے پاس بیٹھ کر شرارت سے پوچھا۔
‘ارے یار دیکھو نا سب کی زندگی کتنی حسین ہوتی جا رہی ہے۔یہاں تک کہ وجدان کا بھی نکاح ہو گیا جسکی طرف سے ہمیں تو کوئی امید نہیں تھی۔لیکن لگتا ہے میرے نصیب میں شادی کا لفظ ہی نہیں لکھا گیا۔’
سعد نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر دور کھڑی موبائیل استمال کرتی عشال کو حسرت سے دیکھ کر کہا۔کل سے عشال نے بات کرنا تو دور سعد کو بلایا تک نہیں تھا۔
‘تو تمہارے لئے بھی کوئی ڈھونڈ لیتے ہیں۔’
شایان نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
‘ارے اپنے اتنے نصیب کہاں؟ہم تو کنوارے ہی مریں گے۔’
سعد نے اس مرتبہ کافی اونچی آواز میں کہا تا کہ عشال کو متوجہ کر سکے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوا تھا۔
‘ارے کیوں بھلا میرے ہوتے ہوئے آپ کس طرح سے کنوارے رہ سکتے ہیں ایجنٹ جی۔’
عشال جلدی سے اسکے پاس آئی تو سعد اسکی بات پر مسکرا دیا۔
‘یہ دیکھیں نا یہ سوشل میڈیا بڑے کمال کی چیز ہے ابھی ایک سیکنڈ میں آپ کے لئے کوئی نا کوئی ڈھونڈ لوں گی۔’
عشال نے نظریں اپنے موبائل پر گاڑ کر کہا۔
‘آہا دیکھیں مل بھی گئی۔’
عشال نے جلدی سے موبائیل اسکے سامنے کیا تو شایان جو اس وقت پانی پی رہا تھا موبائل پر موجود تصویر دیکھ کر بری طرح سے کھانسنے لگا۔کیونکہ وہاں کسی لڑکی کی نہیں بلکہ ایک بھینس کی تصویر تھی۔جبکہ سعد کا تو دل کر رہا تھا کہ اس لڑکی کا موبائل ہی دیوار میں مار دے۔
‘ارے کیا ہوا پسند نہیں آئی؟چچچ۔۔۔۔سوری ٹو سے ایجنٹ جی جتنا آپکا سٹینڈرڈ ہے نا آپکو تو یہی مل سکتی ہے۔’
عشال نے اتنا کہہ کر اپنا موبائل اسکے ہاتھ سے لیا اور اتراتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔جبکہ سعد ابھی تک سکتے کی حالت میں تھا۔
آخر کار عشال نے اپنا غصہ نکال ہی لیا تھا۔
‘تیکھی مرچ ہے وہ میرے دوست اب پسند آئی ہے تو منہ تو جلائے گی نا تمہارا۔’
شایان نے ایک آنکھ دبا کر کہا تو سعد دانت کچکچا کر رہ گیا۔ایک مرتبہ میری دسترس میں تو آ جائے یہ تیکھی مرچی ہر بات کا بدلہ لوں گا اس سے۔ سعد نے من ہی من میں عشال سے بدلہ لینے کے کئی منصوبے بنا لیے۔
🌈🌈🌈🌈
ان سب نے مل کر سارا دن محنت کی تھی اور شام کو چھت پر ہر چیز بلکل اسی طرح تھی جیسا وجدان نے چاہا تھا ۔جانان تو کب سے زرش کو اپنے ساتھ تیار کرنے لے کر آئی ہوئی تھی اور زرش کے کئی بار پوچھنے کے باوجود جانان نے اسے اتنا ہی بتایا تھا کہ سب اسکے لوٹنے کی خوشی میں پارٹی کرنے لگے ہیں۔
کالے رنگ کی لانگ میکسی میں لمبے بالوں کو کھلا چھوڑے مناسب سے میک اپ اور ریڈ بلڈ لپسٹک کے ساتھ زرش نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔
وجہ کیا ہے اس سب کی؟
زرش نے الجھن میں آ کر اشارہ کیا۔زرش کو نہیں لگتا تھا کہ پارٹی کے لیے اسطرح تیار ہونے کی ضرورت ہے۔
‘کچھ نہیں بس میرا دل کر رہا تھا کہ میں تمہیں حد سے زیادہ پیارا تیار کروں۔یاد ہے بچپن میں ماما کا میک اپ پکڑ کے میں تمہیں لگاتی تھی اور پھر تم مجھے لگاتی اور بھوت بن کے ہم چوکیدار بابا کو کتنا ڈراتے تھے۔’
جانان نے ہنستے ہوئے کہا تو زرش بھی وہ میٹھی یادیں یاد کر کے مسکرا دی۔
‘ چلو اب تم یہ جیولری پہن لو اور مجھے بھی تیار ہونے دو۔’
جانان نے اپنی پلکوں پہ مسکارا لگاتے ہوئے کہا ویسے بھی جانان کو تو بس ایک چھوٹا سا بہانا چاہیے ہوتا تھا اپنی خوشی پوری کرنے کے لیے ۔زرش نے ٹاپس پہنے چونکہ میکسی کا گلا کافی تنگ اور کام والا تھا تو زرش نے ان ٹاپس پر ہی اکتفا کرنا بہتر سمجھا مگر تبھی زرش کی نظر چوڑیوں کے اس ڈبے پر پڑی جو اسے وجدان نے دیا تھا۔
پچھلے دو دن سے وجدان نہ تو اس کے سامنے آیا تھا اور نہ ہی اس سے بات کی تھی تو کہیں وہ ناراض تو نہیں ہو گئے؟زرش نے گھبرا کر سوچا بے ساختہ طور پر آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔
زرش نے جلدی سے چوڑیاں نکالی مگر ان میں کالے رنگ کی چوڑیاں تھی ہی نہیں۔
‘ارے یہ ریڈ پہن لو بہت پیاری ہیں۔’
جانان نے جلدی سے سرخ رنگ کی چوڑیاں اسکی نازک کلائیوں میں پہنا دیں اور پہلے کی طرح ہی انکی کھنکھناہٹ سن کر زرش کا دل بہت تیزی سے دھڑکا تھا۔
وہ بس اتنا چاہتی تھی کہ گھر میں جو بھی فنکشن ہے وجدان اس میں شامل ہو ورنہ ہر رنگ پھیکا پڑھ جائے گا۔
🌈🌈🌈🌈
عشال اور حمنہ نے مل کر سارا چھت بہت ہی خوبصورت طریقے سے ڈیکوریٹ کروایا تھا اور اب سارا کام مکمل ہو چکا تھا بس دونوں مل کر میز پر موجود کانچ کی کینڈلز جلا رہی تھیں۔
‘حمنہ۔۔۔۔’
عثمان کی غصے سے بھری آواز پر حمنہ کے چلتے ہاتھ رکے تھے۔
‘لو ہو گیا مسلہ۔۔’
حمنہ نے منہ بسور کر کہا جب سے خدا نے حمنہ کو امید لگائی تھی عثمان کی محبت میں تو پہلے سے بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہی تھا مگر ساتھ ساتھ ہی عثمان حمنہ کی جان کا عزاب بھی بن گیا تھا۔
ایسے مت چلو گر جاؤ گی، یہ مت کھاؤ تمہارے لئے اچھا نہیں،کام کو ہاتھ بھی مت لگانا آرام کیا کرو تم بس، اداس کیوں ہو ہر وقت ہنستی مسکراتی رہا کرو۔
یہ سب تو عثمان کے پسندیدہ ڈائلاگ بن چکے تھے۔عثمان کا بس چلتا تو وہ حمنہ کو بیڈ سے نیچے قدم بھی نہ رکھنے دیتا۔
‘تم یہاں چھت پر کیا کر رہی ہو پتہ ہے نا ڈاکٹر نے سیڑھیاں چڑھنے سے منع کیا ہے اور تم یہاں تیسرے فلور پر ہو۔۔۔!!’
عثمان نے غصے سے کہا ۔عشال نے اپنی آنکھیں گھمائیں اور وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا ۔ عثمان چلتا ہوا حمنہ کے قریب آیا شلوار قمیض میں گرم چادر اپنے گرد لپیٹے وہ بہت خوبرو لگ رہا تھا لیکن حمنہ اسے خفگی سے ہی گھور رہی تھی۔
‘تم بات کیوں نہیں مانتی جان جہاں؟’
عثمان نے حمنہ کو کمر سے کھینچ کر اپنے قریب کیا اور اپنی چادر کو ان دونوں کے گرد لپٹ دیا۔
‘کیونکہ آپ مجھے بہت تنگ کرتے ہیں عثمان اتنی پابندیاں لگا دیں ہیں آپ نے مجھ پر۔’
حمنہ نے منہ بنا کر شکوہ کیا اور اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔اسکی اس کوشش پر وہ حصار مزید تنگ ہوا تھا۔
‘تمہاری اور ہماری گڑیا کی صحت میری لیے سب سے بڑی ہے اسکے لئے تو مجھے تمہیں سات پردوں میں بھی چھپانا پڑے تو میں وہ بھی کر جاؤں۔’
عثمان نے بہت محبت سے اسکے ماتھے کو چوم کر کہا۔
‘سات پردوں کا تو پتہ نہیں آپکا بس چلے تو مجھے قید ضرور کر دیں اور ضروری تو نہیں کہ یہ گڑیا ہی ہو وہ میرا گڈا بھی تو ہو سکتا ہے۔’
حمنہ کی بات پر عثمان نے ڈھیٹوں کی طرح مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔
‘ویسے جان جہاں اتنی سجاوٹ اور ارینجمینٹ ہم پر تو کبھی اتنی عنایت نہیں کی آپ نے۔’
عثمان کی بات پر حمنہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
‘عثمان آپکے برتھ ڈے پہ اتنا کچھ تو کیا تھا میں نے آپ کو یاد نہیں پھر جب۔۔۔۔’
حمنہ بولتے بولتے رکی اور پھر شرما کر عثمان کی باہوں میں چھپ گئی۔عثمان کا قہقہہ فضا میں بلند ہوا۔
‘وہ رات بھی بھلا میں بھول سکتا ہوں جان جہاں میری زندگی کے سب سے حسین رات تھی وہ۔تم نے تو میری زندگی کو اتنا حسین بنا دیا ہے جان جان جہاں کہ اب مرنے کا بھی غم نہ۔۔۔۔۔’
حمنہ نے فوراً اپنا ہاتھ عثمان کے لبوں پر رکھا اور خفگی سے اسے دیکھنےلگی۔
‘آپ ایسی باتیں مت کیا کریں ورنہ میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی۔’
حمنہ نے آنکھوں میں آنسو لے کر کہا عثمان سے دوری کا صرف خیال ہی اسکی دھڑکنیں روکنے کے لئے کافی تھا۔عثمان نے مسکرا کر اسکی نم آنکھوں کو چوما اور شرارت میں پیار بھری گستاخی کر کے اسے اپنی باہوں میں اٹھالیا۔
‘عثمان یہ یہ آپ۔۔۔۔۔اتاریں مجھے۔۔۔۔کوئی دیکھے گا تو کیا سوچےگا؟’
حمنہ نے گھبراتے ہوئےکہا۔
‘آں ہاں جان جہاں سیڑھیاں چڑھ کر آ تو گئی ہو اب اترنے نہیں دوں گا اور کوئی دیکھ بھی لے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔’
عثمان اسے بازؤں میں اٹھا کر آہستہ سے سیڑھیاں اترنے لگا تبھی انہیں کسی کے سی ٹی بجانے کی آواز آئی۔حمنہ نے گھبرا کر سیڑھیوں کے اوپر کھڑی عشال کو دیکھا جو جینز ٹاپ میں ملبوس ببل چباتے ہوئے موبائل کو دیکھ رہی تھی اور حمنہ کی نظر پڑھتے ہی عشال نے شرارت سے ایک آنکھ دبائی حمنہ کا چہرہ پل بھر میں سرخ ہوا تھا۔جبکہ عثمان تو کسی کی بھی پروا کیے بغیر اسے اپنے کمرے میں نے کر جا چکا تھا۔
‘آپ بہت برے ہیں عثمان۔۔۔’
حمنہ نے گلہ کیا۔
‘میں کتنا برا ہوں اس کا اندازہ تو تمہیں کمرے میں جا کر ہو گا۔’
عثمان کی معنی خیز بات پر حمنہ خود میں ہی سمٹی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
جانان زرش کو اپنے ساتھ چھت پر یہ کہہ کر لے گئی کہ جو پارٹی انہوں نے رکھی ہے وہ چھت پر ہے اور چھت پر پہنچتے ہی جانان نے زرش کو دروازے سے چھت پر بھیجا اور خود مسکرا کر ساتھ موجود کھڑکی سے چھپ کر باہر دیکھنے لگی۔زرش کسی کھوئے ہوئے بچے مانند گھوم گھوم کر ہر چیز کو دیکھ رہی تھی۔جانان نے بہت مشکل سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی کو روکا۔
‘یہ کیا ہو رہا ہے جانان شاہ۔۔۔۔’
شایان کی آواز اپنے کان کے بلکل پاس محسوس کر کے جانان گھبرا کر پلٹی اور شایان کو دیکھا ۔
‘ڈرا دیا آپ نے شایان میں تو اتنے مزے سے زری کی جاسوسی کر رہی تھی۔’
جانان نے ہنستے ہوئے دبارہ اپنا رخ کھڑکی کی طرف کیا ۔
‘بہت بری بات ہے جانان شاہ اتنا گناہ ہوتا ہے کسی کی جاسوسی کرنے کا۔’
شایان نے بہت محبت سے اسے اپنی باہوں میں سمیٹ کر کہا جانان اسکی پکڑ میں مچلنے لگی تھی۔
‘جھوٹ مت بولیں سعد بھائی ایجنٹ ہیں نا اگر جاسوسی کا گناہ ہوتا تو وہ ایجنٹ کیوں ہوتے؟ ‘
جانان نے شایان کو حیران کیا۔
‘ تمہیں کیسے پتہ کہ سعد ایجنٹ۔۔۔۔’
‘عشال نے بتایا۔۔’
جانان نے جلدی سے بتایا تو شایان کو غصہ آ گیا ایسی باتیں جاننا جانان کے لئے خطرناک ہو سکتا تھا شایان کو ویسے ہی یہ عشال لڑکی بڑی مشکوک لگتی تھی اور اب تو معاملہ جانان کا تھا ۔شایان نے سوچ لیا تھا کہ سعد سے کہے گا کہ اسے اپنی زبان میں سمجھا لے۔
اس سے پہلے کہ عشال کو دارا کا سامنا کرنا پڑے۔شایان کی سنہری آنکھوں میں وحشت اتری تھی جسے شایان نے جانان کا معصوم چہرہ دیکھ کر چھپا لیا۔
‘چلو جانان شاہ چلتے ہیں یہاں سے۔۔۔۔’
شایان نے کہا اور جانان کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے اپنے کمرے میں لے آیا تھا۔
‘ویسے ایک بات تو بتاؤ جانان شاہ تم کس خوشی میں اتنا تیار ہوئی ہو؟’
شایان نے شرارت سے پوچھا تو جانان نے منہ پھلا لیا۔
‘کیوں نہیں ہو سکتی میں تیار کیا اور اگر آپ کو اتنی ہی بری لگ رہی ہوں نا تو آنکھیں بند کر لیں باگڑ بلے کہیں کے۔’
جانان نے اپنا نازک ہاتھ بھی اسکی آنکھوں پر رکھ دیا تو شایان اسکی بات پر قہقہہ لگا کر ہنسا اور کمرے میں آ کر دروازہ بند کر کے جانان کو اپنی باہوں میں بھرا۔
‘بری نہیں جانان شاہ تم بہت ذیادہ خوبصورت لگ رہی ہو اتنی کہ یہ دل کہہ رہا ہے تمہیں اپنی باہوں میں لے لوں اور تمہاری سجاوٹ کو اپنے ہونٹوں سے نظرانہ عقیدت پیش کروں۔پھر مجھے یہ بھی تو ثابت کرنا ہے نا کہ میں سچ میں باگڑ بلا ہوں۔’
شایان نے پر تپش نگاہوں سے جانان کے لپسٹک سے سجے گلابی ہونٹوں کو سہلا کر کہا۔جانان ہمیشہ کی طرح گھبرا کر شایان کی پناہوں میں چھپ گئی۔
‘کیا ہوا جانان شاہ تمہیں نہیں جاننا کہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہو؟’
شایان کے سوال پر جانان نے اسکی باہوں سے نکلے بغیر انکار میں سر ہلایا۔
‘لیکن مجھے تو بتانا ہے کہ تم کتنی خوبصورت ہو اور یہ بھی کہ میری زندگی میں آ کر تم نے کیسے اس کو خوابوں کی دنیا بنا دیا ہے۔۔۔’
شایان نے بہت محبت سے کہہ کر اسکا چہرہ اوپر کیا اور بہت نرمی سے جانان کے ہونٹوں کو اپنے لبوں کی قید میں لے لیا۔
باہر موجود چاند بھی شرما کر بادلوں میں چھپا تھا۔
🌈🌈🌈🌈
زرش چھت پر آئی تو بہت ذیادہ حیران ہو گئی۔پورے چھت کو سفید اور سرخ پردوں اے بہت ذیادہ خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔لائٹنگ اور جگہ جگہ جلنے والی موم بتیوں نے سجاوٹ کو چار چاند لگا دیے تھے۔
مگر پریشان تو زرش اس بات پر تھی کہ جانان نے تو بتایا تھا کہ یہاں سب اس کے ملنے کی خوشی میں پارٹی کریں گے لیکن وہاں تو کوئی بھی نہیں تھا۔
زرش کی نظر سرخ غلاف اور پھولوں سے سجے ایک میز پر پڑی جہاں بلکل ویسا ہی کیک پڑا تھا جیسا زرش نے وجدان کے لیے منگوایا تھا۔تبھی زرش کو تاریخ یاد آئی۔آج انکے نکاح کو دو مہینے ہو گئے تھے۔
زرش میز کے پاس گئی تو وہاں کالے رنگ کی تین ڈائریاں پڑی تھیں۔زرش نے پہلی ڈائری کو اٹھایا تو اس میں ایک جگہ پر بک مارک لگا ہوا تھا زرش نے وہ صفحہ کھولا۔ایک سال پہلے کی تاریخ صفحے کے اوپر لکھی گئی تھی۔زرش کو وہ تاریخ یاد تھی تبھی تو جانان اور حمنہ کا ولیمہ ہوا تھا۔زرش نے نیچے لکھی تحریر کو پڑھنا شروع کیا۔
‘آج شایان کے ولیمے پر ایک پری پر نظر پڑی میری۔ٹوٹے پروں والی پری پر۔ اس بھیڑ میں سب سے علیحدہ بیٹھی خود میں ہی کھوئی ہوئی تھی۔اسے میں پہلی نظر میں پہچان گیا تھا۔مجھے وہ بلکل اپنے جیسی لگی کسی سے بھی کوئی سروکار نہیں تھا اسے۔بلکل میری طرح ٹوٹی ہوئی بکھری ہوئی اسے لگتا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی اسکے درد سے واقف نہیں لیکن مجھے پتہ تھا اسکی ہر تکلیف ہر غم سے واقف تھا میں ۔ایک پل کو خیال آیا کو کاش وہ میری ہو جائے میں اسکے درد میں سما جاؤں اور وہ میرے درد میں سما جائے اور یونہی دونوں کا غم مٹ جائے۔’
زرش کی دھڑکنیں تیز ہوئی تھیں جلدی سے اس نے وہ ڈائری چھوڑی اور دوسری ڈائری اٹھا لی جہاں کافی جگہ پر بک مارکس لگے تھے زرش نے کانپتے پہلا صفحہ کھولا ۔دو مہینے پہلے کی تاریخ تھی
سوچا نہیں تھا کہ اس پری کو پھر سے دیکھوں گا یہیں اپنے گھر میں کسی گمشدہ بچے کی طرح گھومتے ہوئے جاننا چاہتا تھا کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟کیا وہ نہیں جانتی کہ مجھے دیکھے بغیر مجھ سے بات کیے بغیر وہ اس دل کو دھڑکا جاتی ہے جو مجھے بلکل بھی پسند نہیں ہے اسے تو خود سے ڈرانا چاہیے ۔مگر اسکی آنکھوں میں خوف نہیں آیا پہچان آئی تھی ،عقیدت آئی تھی،اسے لگتا ہے کہ میں اسکا مسیحا ہوں لیکن میں کوئی مسیحا نہیں بس ایسا شخص ہوں جسے زندگی سے پیار نہیں۔اگر مجھے زندگی سے پیار نہیں تو اسکے بے آواز ہونے کی سچائی جاننے پر اپنے اندر سب کچھ ٹوٹا ہوا کیوں محسوس ہو رہا تھا۔’
زرش کی آنکھیں اب نم ہو چکی تھیں۔اس نے بے چینی سے صفحے پلٹے تھے۔اگلی تاریخ انکے نکاح کی تھی۔
‘قسمت تو دیکھو موت کو چاہنے والے اس وجدان خان کی ٹوٹے پروں والی وہ پری اسے ہی سونپ دی گئی تھی۔وہ تو کوئی حق نہ ہوتے ہوئے بھی مجھے تڑپا جاتی تھی اب کیسے اس سے خود کو دور رکھوں گا؟میں سامنے ہی نہیں جاؤں گا اس کے اور اگر وہ سامنے آ گئی نا تو ڈرا دوں گا اسے ۔اس کا ٹوٹا دل یہ برداشت نہیں کر پائے گا اور نفرت کرے گی وہ مجھ سے ۔ہاں یہی سہی ہو گا تو کیا اسکی ان کانچ سی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میرے سینے میں موجود پتھر ٹوٹ جائے گا۔اس پتھر کو ٹوٹ ہی جانا چاہیے ویسے بھی مجھے وہ پتھر بھی نہیں چاہیے ۔’
زرش اب بہت ذیادہ رونے لگی تھی ہر لفظ زرش کے دل کو کاٹ رہا تھا۔زرش نے کپکپاتے ہاتھوں سے اگلا صفحہ کھولا جو آج سے ایک مہینے پہلے کا تھا۔
‘وہی ہوا نا جو ہونا تھا توڑ دیا میں نے اسے اسکے معصوم دل کے اپنے ہاتھوں سے ٹکڑے کر دیے۔کرتا بھی کیا میں وہ کہتی ہے کہ اسے مجھ سے محبت ہو گئی ہے ۔ایسا کیسے کر سکتی ہے وہ اسے کیا لگتا ہے کہ اس شخص نے اسکے جسم کو تکلیف پہنچا کر اسے توڑ دیا تھا تو وہ برا تھا میں تو وہ ہوں جسکی محبت اسکی روح کو چھلنی کر دے گی اسے موت کے گھاٹ اتار دے گی۔ایسے شخص کو کسے چاہ سکتی ہے وہ؟ لیکن نہیں جانتا تھا کہ اتنی بڑی سزا دے جائے گی وہ دل کے ٹوٹنے کی وہ تو جاتے جاتے مجھے ہی توڑ گئی پورا کا پورا بکھیر گئی مجھے۔’
زرش نے اپنے آنسو پونچھے اور پھر اس ڈائری کو چھوڑ کر نیچے پڑی اس آخری ڈائری کو اٹھایا جو کافی پرانی لگ رہی تھی اور اس میں بس ایک ہی بک مارک لگا ہوا تھا جہاں چھے سال پہلے کی تاریخ تھی۔
‘اپنی زندگی میں بہت سی وحشت دیکھی ہے میں نے ۔میری اپنی زندگی ایک وحشت ہی تو تھی لیکن جو میں نے آج دیکھا وہ تو انسان کے روپ میں چھپے بھیڑیوں کی حیوانگی کی منہ بولتی داستان تھی۔کیا کوئی اتنا ہی گھٹیا ہو سکتا ہے کہ پیسے کی خاطر اپنی قوم کی عزت کا سودا کر دے؟
پھر وہاں پر وہ کانچ سی آنکھوں والی لڑکی جو پھٹے کپڑوں کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ناجانے کیوں باقیوں کی طرح اسے بھی آرمی کے حوالے کرنے کی بجاۓ سب سے چھپا کر ہسپتال لے گیا؟
جانے کیوں میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ وہ ٹھیک تو ہے نا کہیں اس درندے نے اسکے مان کو تو نقصان نہیں پہنچایا؟ جانے کیوں ڈاکٹر کے لبوں سے انکار سن کر سکون کی ایک لہر میرے پورے وجود میں دوڑ گئی تھی۔جانے کیوں اسکے گنہاگار ،اسکے ستم گر کو ڈھونڈ کر تکلیف دینے کی چاہ میں مسلسل ایک مہینا مارا مارا پھرتا رہا تھا۔جانے کیوں اسکی تکلیف اپنے وجود میں محسوس ہو رہی تھی۔میں تو اپنی تکلیف کو بھی محسوس نہیں کرتا تھا پھر اسکی کیوں؟بھول جاؤں گا اسے میں ہاں بھول جاؤ زرش نے روتے ہوئے اس ڈائری کو اپنے سینے سے لگایا اپنی آبرو کی جس داستان کو لے کر وہ ڈرتی تھی اسکا سچ تو وجدان ہمیشہ سے جانتا تھا ۔ جیسے زرش اپنے سبز آنکھوں والے مسیحا سے دور ہوتے ہوئے بھی اسکے قریب رہی تھی اسی طرح وجدان بھی تو رہا تھا۔کیسے زرش اسکے جزبوں کو نا دیکھ پائی؟
‘نور۔۔۔۔۔’
اچانک سے وجدان نے پیچھے سے آ کر اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھا تو زرش جلدی سے پلٹی اور وجدان کے سینے پر سر رکھ کر ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی۔
‘یہ سب میں نے تمہیں اپنی محبت کی سچائی سے واقف کروانے کے لیے کیا تھا نور تمہیں دکھی کرنے کے لیے۔’
وجدان نے اسکا چہرہ اوپر کر کے بہت محبت سے اسکے آنسو پونچھ دیے۔
‘ میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں نور اپنے کہے ہر لفظ کی جسنے تمہیں تکلیف پہنچائی اپنی بے وقوفی میں اپنی ہی بکھر ہوئی پری کی روح کو بھی توڑ دیا میں نے ۔کیا تم مجھے دل سے معاف کرو گی؟’
وجدان کے سوال پر زرش نے ہاں میں سر ہلایا تو وجدان مسکرا کر اسکے چہرے پر جھکا اور آنکھوں سے نکلنے والے وہ آنسو اپنے ہونٹوں سے چن لیے۔
‘تم نے مجھ سے محبت کے بارے میں پوچھا تھا اور میں نے کہا تھا کہ میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا۔محبت کے بارے میں تو آج بھی کچھ نہیں جانتا بلکہ اس عشق کے بارے میں جانتا ہوں جو میں نے تم سے کیا ہے وہ عشق جس نے مجھے جینا سیکھایا ہے۔’
وجدان کی بات پر زرش کی آنکھیں پھر سے نم ہو گئی تھیں۔
‘اب رو مت اور پلیز میرا یہ راز راز ہی رکھنا کہ میں اپنے جزبات ڈائری میں لکھ کر ختم کرتا ہوں کوئی نہیں جانتا یہ۔’
وجدان کی بات پر زرش نے ہاں میں سر ہلایا تو وجدان نے مسکرا کر اسے باہوں میں بھرا اور ہلکے ہلکے سے موو کرنے لگا زرش اسے بتانا چاہتی تھی کہ کوئی میوزک نہیں لگا اور ایسا کرنے کے لیے زرش نے ہاتھ اٹھایا تو چوڑیوں کی کھنک سے ماحول مزید فسوں خیز ہو گیا۔
‘راز آنکھیں تیری سب بیاں کر رہیں
سن رہا دل تیری خاموشیاں
کچھ کہو نا سنو
پاس میرے رہو
عشق کی کیسی ہیں یہ
گہرائیاں
جانتا ہوں کہ کوئی میوزک نہیں لگا نور خان لیکن بس تم دھن کو محسوس کرو جو میرے دل و دماغ میں تمہاری محبت کی وجہ سے بج رہی ہے۔’
وجدان کی بات پر زرش نے حیرت سے وجدان کو دیکھا کیونکہ ابھی تو اس نے کچھ کہا ہی نہیں تھا وجدان اسکی حیرت دیکھ کر مسکرایا۔
‘بتایا تو تھا کہ تمہاری چوڑیاں مجھ سے باتیں کرتی ہیں۔’
وجدان نے اسکی نازک کلائی کو تھام کر سرخ چوڑیوں کو چوما تو زرش شرما کر خود میں ہی سمٹ گئی۔وجدان اسے میز کے پاس لے کر گیا اور کیک کاٹ کر زرش کو کھلایا اور زرش کے ہاتھوں سے خود بھی کھانے لگا۔
‘ اب تم مان گئی ہو؟’
وجدان کے سوال پر زرش نے پر جوشی سے ہاں میں سر ہلایا۔اچانک ہی وجدان نے اسے کھینچ کر اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا وجدان نے کمرے میں آ کر پاؤں سے دروازہ بند کیا اور زرش نیچے اتار کر اپنی باہوں میں قید کر لیا۔
‘تو چلو پھر اب میرے حسابوں کی طرف آ جاتے ہیں۔تمہاری پہلی گستاخی تھی مجھے اپنی ان معصوم حرکتوں اور منصوبوں سے تڑپانے کی پہلے اسکے حساب پر آ جاتے ہیں ۔’
اتنا کہہ کر وجدان سرخ لپسٹک سے سجے نازک لبوں پر جھکا اور اسکی سانسوں کو اپنی سانسوں سے الجھا لیا۔زرش نے گھبرا کر وجدان کے کالر کو پکڑا تھا۔وجدان کے عمل میں بہت شدت تھی اور اس شدت سے زرش کی سانسیں تھم رہی تھیں۔وجدان کے دور ہوتے ہی زرش گہرے سانس بھرنے لگی۔
‘اب اپنی معصوم محبت کے اقرار سے میری نیندیں چرانے کی سزا۔’
اتنا کہہ کر وجدان نے اسکا دوپٹہ کندھے سے ہٹایا اور اسے اٹھا کر بیڈ پر لے آیا زرش نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر مزاحمت کرنا چاہی تو وجدان نے چوڑیوں سے بھری وہ نازک کلائیاں اپنے ہاتھ میں تھام لی اور اپنی ہی منمانیاں کرنے لگا۔زرش کو لگ رہا تھا کہ وہ سانس بھی نہیں لے پائے گی۔
‘اور گھر سے بھاگنے کی سزا تو تمہیں پوری رات سہنی ہے۔’
وجدان نے زرش کے کان میں سر گوشی کی تو زرش کانپ کر رہ گئی لیکن وجدان کی شدت بھری محبت کے طوفان کے سامنے وہ کمزور لڑکی بہت آسانی سے ہار گئی تھی ۔
🌈🌈🌈🌈
آدھی رات کا وقت ہو رہا تھا اور اس وقت کالے کپڑوں میں ملبوس اپنا چہرہ کالے رومال سے چھپائے اور ہاتھ میں بندوق لیے سکندر ایک گھر میں داخل ہوا۔اپنے شکار کی ہر حرکت کو اس نے ٹریک کیا تھا اور اس کے خیال میں ابھی تو وہ ایک ہوٹل میں موجود تھا جو بظاہر تو ایک ہوٹل تھا لیکن اسکے اندر فحاشی اور عیاشی والا ہر کام مل سکتا تھا۔
سکندر یہ تک جانتا تھا کہ وہ شخص کون سے کمرے میں آئے گا اس لیے وہ ایک پائیپ کے ذریعے سیکنڈ فلور پر چڑھ کر کھڑکی سے کمرے میں داخل ہوا اور پردے کے پیچھے چھپ گیا۔ابھی اسے دس منٹ ہی ہوئے تھے جب ایک نشے میں ڈوبا آدمی لڑکی کو اپنی باہوں میں لیے کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ لاک کر لیا۔
لڑکی کے چہرے سے اسکی مجبوری چھلک رہی تھی لیکن اسکے باوجود وہ مسکرا رہی تھی۔اچانک اس آدمی نے لڑکی کو بیڈ پر دھکا دیا مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا سکندر نے پردے کے پیچھے سے نکل کر ایک ریوالور کو اس آدمی کی کن پٹی پر رکھا اور دوسری ریوالور لڑکی کی طرف تانی۔
‘یہاں سے جا اور اپنے آپ کو باتھ روم میں بند کر لے۔’
سکندر نے وحشت زدہ آواز میں کہا تو لڑکی جلدی سے وہاں سے بھاگی اور باتھ روم میں بند ہو گئی۔سکندر کو اتنا تو پتہ تھا کہ وہ باتھ روم سے کسی کو نہیں بلا سکے گی۔آخر کار سکندر اپنے شکار کی طرف مڑا جسکا اب سارا کا سارا نشہ اتر چکا تھا۔
‘سیدھا سیدھا سوال ہے اس کا سیدھا سیدھا جواب دے دے آر بی کہاں ملے گا ؟’
سکندر نے دانت پیس کر پوچھا ۔
‘میں نہیں۔۔۔۔’
ابھی الفاظ اسکے منہ میں ہی تھے جب سکندر نے ریوالور کو ایک انچ اسکے سر سے ہٹایا اور گولی چلا دی۔گولی اپنے اتنے قریب سے گزرنے کی وجہ سے وہ آدمی کانپ کر رہ گیا۔
‘اگلی بار بندوق نہیں ہٹے گی۔’
سکندر نے سختی سے ریوالور کو اسکی کن پٹی پر رکھا۔
‘نہیں نہیں بتاتا ہوں آر بی کہاں ہے یہ صرف ایک آدمی جانتا ہے فیض شاکر۔’
اس آدمی نے اتنا سا ہی کہا اور ایک زور دار دھکا سکندر کو دے کر اپنی کمر کے پاس سے بندوق نکالی اور سکندر کا نشانہ لے کر گولی چلا دی ۔مگر عین وقت پر سکندر نے جھک کر خود کو اس گولی سے بچایا اور فوراً ہی اٹھ کر گولی سیدھا اس آدمی کے دماغ میں مار دی۔وہ آدمی فوراً ہی زمین پر ڈھیر ہو گیا۔
‘باہر آ جا لڑکی۔’
سکندر کے کہنے پر وہ لڑکی کانپتے ہوئے باہر آئی۔
‘ددد ۔۔۔۔۔دیکھو میں نے۔۔۔۔’
لڑکی نے زارو قطار روتے ہوئے بولنے کی کوشش کی جبکہ سکندر نے اطمینان سے اپنی بندوق سے گولیاں نکالی اور اپنے دستانے پہنے ہاتھوں سے وہ بندوق اس لڑکی کے ہاتھ میں پکڑا دی۔
‘تجھے پتہ ہے ہمارا قانون عورت کو پھانسی کی سزا اتنی آسانی سے نہیں دیتا اور مجھے لگتا ہے کہ ایسی ذلت کی زندگی سے جیل میں رہنا بہتر ہو گا۔’
سکندر اتنا کہہ کر کھڑکی سے باہر نکلا اور آدھے پائیپ سے اتر کر باقی کا فاصلہ کود کر طہ کر لیا۔اسکی توقع کے عین مطابق ہوٹل کی انتظامیہ اس کمرے میں پہنچ چکی تھی اور ابھی وہاں پولیس نے بھی آ جانا تھا اس سے پہلے پہلے سکندر کو وہاں سے نکلنا تھا۔
ابھی سکندر ہوٹل سے تھوڑا دور ایک سنسان سی جگہ پہنچا تھا جب اچانک ایک جانی پہچانی آواز نے اسکا نام پکارا لیکن اس آواز نے اسکو سکندر الفاظ درانی نہیں بلکہ اسکے اصلی نام سے پکارا تھا۔سبز آنکھوں میں چمک اور نقاب میں چھپے ہونٹوں پر ایک مسکان آئی تھی۔
‘پتہ تھا کافی چالاک ہو تم وجدان خان لیکن مجھے پہچاننے میں بہت دیر لگا دی۔’
سکندر اپنے ہاتھ اوپر کر کے پلٹا اور وجدان کو دیکھا جو سکندر پر بندوق تانے کھڑا تھا۔اچانک ہی سکندر کے ہاتھ سے کچھ چھوٹ کر زمین پر گرا جسے پکڑنے کے لیے سکندر جھکا اور زمین سے پتھر اٹھا کر بہت تیزی سے وجدان کے ہاتھ پر پھینکا جسکی وجہ سے وجدان کے ہاتھ سے بندوق چھوٹ کر گر گئی۔سکندر موقع پا کر وہاں سے بھاگنے لگا۔
‘بھاگ جانا تم لیکن کم از کم میری پہچان اپنانے کی وجہ تو بتا کر جاؤ؟’
وجدان کی بات پر سکندر کے قدم اپنی جگہ پر ہی رکے تھے ہری آنکھوں میں حیرت آئی اور اسی حیرت کے ساتھ سکندر نے پلٹ کر وجدان کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔
