64.4K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

زرش کی آنکھ کھلی تو وہ ایک کمرے میں بند تھی۔اسے کچھ زیادہ تو یاد نہیں تھا بس وہ اتنا جانتی تھی کہ بس سے نکل کر وہ آر بی کے ساتھ کار میں بیٹھی تھی اور آر بی نے اسکے منہ پر رومال رکھا تھا جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔اپنے ارد گرد اندھیرے کے سائے دیکھ کر زرش بری طرح سے رونے لگی ۔وہ قید کر دی گئی تھی بلکل جیسا اس آدمی نے وعدہ کیا تھا۔اچانک سے دروازہ کھلا تو زرش سہم کر بیڈ کے ساتھ لگی تھی۔
‘اچھا ہوا تم جاگ گئی کب سے انتظار کر رہا تھا میں اس پل کا۔’
آر بی مسکرا کر چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور اسکے پیچھے دو ملازمہ ہاتھ میں ٹرے لے کر داخل ہوئیں اور جلدی سے وہ ٹرے بیڈ پر رکھ کر چلی بھی گئیں۔
‘چلو باقی باتیں تو ہوتی رہیں گی ابھی کھانا کھاؤ تم۔’
آر بی نے مسکرا کر کہا تو زرش انکار میں سر ہلانے لگی۔
‘گڑیا بات مانو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
اسکی آنکھوں میں سختی اترتی دیکھ زرش کے کانپتے ہاتھ بے ساختہ طور پر کھانے کی طرف بڑھے تھے۔
Good girl.
تم دیکھنا ہم دونوں ساتھ بہت ذیادہ خوش رہیں گے۔میں نے آج تک جو چاہا ہے اسے پایا ہے اور تم تو میرا سب سے بڑا جنون رہی ہو جان۔ ‘
آر بی نے زرش قریب ہونے کی کوشش کی تو زرش جلدی سے اس سے دور ہو گئی۔لیکن اگلے ہی لمحے آر بی نے اسے سختی سے اپنی طرف کھینچ کر اسکا منہ دبوچ لیا۔
‘تم نے تو بنجے نکال لیے ہیں۔۔۔۔انہیں زرا کنٹرول میں رکھو ورنہ انہیں کاٹنے میں مجھے ایک منٹ بھی نہیں لگے گا اور مجھ سے دور جانے کا انجام بھول چکی ہو۔۔۔۔۔دوبارہ ڈیمو دیکھاؤں۔’
اسکی خطرناک آنکھوں اور باتوں کی وجہ سے زرش خوف سے کانپنے لگی تھی۔
‘ارے ارے ابھی نہیں رونا میری جان ۔جانتا ہوں کہ تمہاری یہ کانچ سی آنکھیں بھیک کر مزید خوبصورت ہو جاتی ہیں ۔ اور ان بھیگی سرخ آنکھوں کی خوبصورتی تو میں نے ساری زندگی دیکھنی ہے۔’
آر بی نے زرش کے گال پر اپنے لب رکھے تھے مگر اس بار زرش نے اس سے دور جانے کی غلطی نہیں کی تھی۔آر بی بے ساختہ طور پر مسکرایا۔
‘ہاں میری گڑیا ایسے ہی ہر بات مانو گی تم میری ورنہ انجام سے تو تم خود واقف ہو نا۔’
زرش نے اثبات میں سر ہلایا تو آر بی نے اپنے لب اسکے ماتھے پر رکھے۔
‘مجھے لگا تھا کہ میرے اس سیاہ سے دل میں کوئی بھی نہیں اتر سکتا ۔میں تو ایک خود غرض سا انسان ہوں محبت جیسا جزبہ میرے سے بہت ذیادہ دور رہے گا لیکن دیکھو نا دل میں اتری بھی تو کون؟محبت ہوئی بھی تو ایک چھوٹی سی نازک سی گڑیا سے۔’
آر بی نے مسکراتے ہوئے زرش کے گال کو سہلا کر کہا جبکہ زرش تو اسکی قربت کے خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔
‘لیکن فکر مت کرو اب بہت جلد تمہیں اپنا بنا کر دنیا سے چھپانے کا ارادہ ہے میرا ۔کیونکہ میری اس محبت کو اب کوئی لگام نہیں۔’
آر بی نے پھر سے اس کے گال کو چوما تو کئی آنسو ٹوٹ کر ان کانچ سی آنکھوں سے گرے۔پھر آر بی اسے تنہا چھوڑ کر چلا گیا۔جبکہ زرش اب فرش پر بیٹھ کر بری طرح سے رو رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے گال کو زور سے رگڑ رگڑ کر صاف کر رہی تھی اس کا گھٹیا لمس وہ خود پر سے مٹانا چاہتی تھی اور اس اثناء میں وہ اپنا گال رگڑ رگڑ کر زخمی کر چکی تھی لیکن جسمانی تکلیف کا اسے احساس ہی کہاں ہو رہا تھا۔
🌈🌈🌈🌈
صبح سے رات ہو چکی تھی اور زرش کا کچھ بھی پتہ نہیں چلا تھا ایک ہلکا سا سراغ بھی نہیں نکال پائے تھے وہ لوگ۔ایسے لگتا تھا جیسے وہ کہیں غائب ہی ہو گئی ہے۔سعد نے شایان کو فون کر کے سارے معاملے سے آگاہ کیا اور اس وقت پولیس ان کے گھر پر شایان اور وجدان کو تمام صورتحال سے آگاہ کر رہی تھی۔
‘میجر شایان شاہ ہم انہیں صبح سے ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کچھ بھی معلوم نہیں ہوا ایسے جیسے وہ کہیں غائب سی ہو گئی ہوں۔روڈ پر لگے سی سی ٹی وی کیمرہ میں بھی بس سڑک پر جاتے تک انکی فوٹیج ہے اسکے بعد شہر کے کسی بھی کیمرہ میں ہمیں وہ نظر نہیں آئیں۔لیکن آپ فکر مت کریں ہمارے سپاہی پوچھ تاچھ کر رہے ہیں کسی نا کسی نے تو انہیں ضرور دیکھا ہو گا۔’
شایان نے اثبات میں سر ہلایا جبکہ وجدان ابھی بھی خاموشی سے دروازے میں کھڑا تھا۔
‘امید ہے کہ آپ جلد از جلد کوئی نہ کوئی سراغ نکال ہی لیں گے۔’
‘جی ضرور ہم اپنی پوری کوشش کریں گے ۔’
اس سے پہلے کہ شایان مزید کچھ کہتا وجدان مٹھیاں کستا وہاں سے جا چکا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ زرش کہاں یا وہ کسی مصیبت میں بھی ہے یا نہیں؟ہو سکتا ہے وہ اپنی کسی دوست کے پاس چلی گئی ہو۔یہی سوچتے ہوئے وجدان تیزی سے اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب اچانک اسکی ٹکر سامنے سے آتی عشال سے ہوئی۔وجدان نے اسے نظر انداز کر کے اندر جانا چاہا تھا۔
‘مبارک ہو آپ کو ۔۔۔۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو۔’
وجدان کے چلتے قدم عشال کی آواز پر رکے تھے۔
‘یہی تو چاہتے تھے نے آپ کہ آپکو تنہا چھوڑ دیا جائے اور اپنی اسی بے مقصد اور بے کار زندگی کے ساتھ آپ مارے مارے پھرتے رہیں۔ آپ سے کوئی بھی محبت نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس کے باوجود وہ پاگل آپ کو اپنا سب کچھ مان بیٹھی جانتے ہیں کیوں؟’
عشال چل کر اسکے سامنے آئی تھی لیکن آج اسکی ہری آنکھوں کو ڈھانپنے والا چشمہ غائب تھا۔
‘آپ کو تو یاد نہیں ہو گا نا لیکن ایک بارہ سال کی بچی کو باقی 35 سکول کی بچیوں کے ساتھ آپ نے ہی تو بچایا تھا جب انہیں اپنے ہی شہر سے اٹھا کر کسی اور ملک میں بیچا جا رہا تھا۔جب انکے پاس کوئی امید نہیں تھی تب آپ نے ایک مسیحا بن کر ان کو آزادی دلائی تھی۔انہیں میں سے ایک لڑکی آپ کی سو کالڈ بیوی بھی تھی۔جو اس سبز آنکھوں والے مسیحا کو خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ سمجھتی رہی۔’
وجدان بت بنا اسکی باتیں سن رہا تھا۔
‘اور پھر چھے سال کے بعد اسے جب اپنے مسیحا کے ساتھ ایک پاکیزہ رشتے میں باندھ دیا گیا تو اسکا معصوم دل محبت کی آگ میں جلنے لگا لیکن اسکی بد قسمتی تو دیکھیں محبت کی وہ آتش بھی آپکو راستہ نہیں دیکھا پائی۔آپکا دل پگھلا نہیں پائی۔شاید وہ پاگل جانتی نہیں تھی کہ اس سینے میں دل ہے ہی نہیں۔’
عشال نے اپنی کرب ناک آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے اسکے سینے پر اپنی انگلی رکھی ۔
‘اس لئے اب آپ بے فکر ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔ آپکے سینے میں موجود پتھر سے اب کوئی بھی سر نہیں پھوڑے گا۔کیونکہ ایسا کرنے والی لڑکی کو آپ کھو چکے ہیں۔’ عشال نے دانت پیس کر کہا۔
‘اور اب وہ آپ کو ملے گی بھی نہیں کیونکہ وہی جانور اسے واپس اپنی قید میں لے چکا ہے۔اب آپ خوشی خوشی اپنی تنہائی اور خود سے ہی کی جانے والی نفرت کو کھل کر اینجوائے کر سکتے ہیں۔’
عشال تو اپنی بات کہہ کر جا چکی تھی لیکن وجدان وہیں بت بنے کھڑا رہا ۔اسے اپنی غلطی پر بے پناہ پچھتاوا ہو رہا تھا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
🌈🌈🌈
(ماضی)
وجدان انیس سال کا ہو چکا تھا جب اسے ملک نے بتایا کہ شیراز حسن ملک واپس آ چکا تھا۔ اسکی ساری فیملی جو پاکستان میں ہی رہتی تھی ایک کار ایکسیڈینٹ میں مر چکی تھی اور وہ شخص کچھ عرصہ پہلے ہی انکی تدفین کے لیے پاکستان آیا تھا۔وجدان کافی غصے کے عالم میں گھر سے باہر نکلنے لگا۔وہ بس اتنا جانتا تھا کہ اسکا انتقام،اسکی زندگی کا مقصد اسکے سامنے موجود تھا۔
‘کہاں جا رہے ہو وجدان؟’
ہاشم صاحب نے تھوڑا سختی سے پوچھا۔
‘دوستوں کے پاس۔’
وجدان نے سنجیدگی سے کہا۔
‘میں جانتا ہوں کہ تم کس قسم کے دوستوں کی بات کر رہے ہو۔دیکھو بیٹا یہ سب صیح نہیں ہے تم اچھے لڑکے ہو اس طرح سے بری صحبت میں تو مت پڑو ۔تمہارے بچپن میں جو بھی ہوا جس کی وجہ سے آج تم زندگی اتنے بد گمان ہو اس سب کو بھول کیوں نہیں جاتے۔مکمل طور پر وجدان خان بن جاؤ کیا میری اور منور کی اتنی سی بھی وقعت نہیں ہے تمہاری نظروں میں۔’
ہاشم صاحب کی بات پر وجدان نے اپنی مٹھیاں کسیں۔
‘کیا چاہتے ہیں منور انکل؟’
بے زاری سے پوچھا۔
‘اس نے تمہیں کئی بار آرمی میں شامل ہونے کا کہا ہے۔’
ہاشم صاحب نے وجدان کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
‘میں نہیں ہونا چاہتا میری زندگی کا ایک ہی مقصد ہے بابا بس ایک اور اس مقصد کے بغیر میں کچھ بھی نہیں۔اگر اپنا یہ مقصد پورا نہیں کر سکا نا تو مر جاؤں گا۔’
وجدان نے ہاشم صاحب کو ایک نظر دیکھ کر کہا۔
‘اپنے بچپن کے بارے میں کچھ تو بتا دو وجدان۔کیا تم اپنے اس نقلی باپ سے اتنی سی بھی محبت نہیں کرتے؟’
ہاشم صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔وجدان انکو بلکل اپنا بیٹا لگتا تھا اپنا غرور لیکن وجدان نے کبھی بھی انہیں ایک باپ کی جگہ نہیں دی تھی۔
‘اگر آپ مرنا چاہتے ہیں تو میں آپ سے محبت کر لیتا ہوں؟کیونکہ میری محبت ایسی ہی ہے بابا سب کی جان لے لیتی ہے۔’
اتنا کہہ کر وجدان رکا نہیں تھا اور ہاشم صاحب کو بہت ذیادہ فکر مند بھی کر گیا اسی لئے وہ ٹیلی فون کے پاس جا کر میجر منور صاحب کو فون کرنے لگے۔
‘منور مجھے فکر ہے وجدان کی اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم اس پر نظر رکھو۔’
ہاشم صاحب نے ساری بات کرنل منور صاحب کو بتائی۔
‘تم فکر مت کرو ہاشم وجدان مجھے بھی اپنے بچوں کی طرح ہی عزیز ہے میں اسے غلط راہ پر نہیں چلنے دوں گا۔’
میجر منور صاحب نے انہیں حوصلہ دیا لیکن ہاشم صاحب کی پریشانی کم نہیں ہوئی تھی۔
وجدان ملک کے پاس پہنچا تو ملک نے اسے شیراز حسن کے ٹھکانے کا بتایا۔وجدان نے غصے سے اپنی مٹھیاں کسیں۔
‘ہم آج رات ہی وہاں جا رہے ہیں۔’
وجدان نے حتمی فیصلہ سنایا۔
‘ہاں خان ہم ضرور چلیں گے۔بس ایک بات ۔۔۔۔میں یہ کام اب چھوڑ رہا ہوں۔۔۔’
ملک کی بات پر وجدان نے حیرت سے اسے دیکھا کیونکہ ملک کو اپنا یہ کام بہت عزیز تھا۔
‘کیوں؟’ وجدان نے حیرت سے پوچھا۔
‘اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں میں خان سب سے ذیادہ میری جان پر انہیں کا حق ہے اور ویسے بھی میرے بابا کو مجھ پر شک ہو گیا ہے۔انہوں نے مجھے اپنی قسم دی ہے کہ میں یہ سب چھوڑ دوں گا لیکن میرے دوست میرے بعد اس گینگ کو تم لیڈ کرو گے۔’
ملک نے وجدان کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
‘میرا مقصد آج پورا ہو جائے گا اور اس کے بعد مجھے نہ تو اس دنیا سے اور نہ ہی یہاں پر بسنے والے کسی انسان سے کوئی سروکار ہو گا۔’
وجدان نے انتہائی ذیادہ بے رخی سے کہا۔
‘تو پھر کوئی اور مقصد تلاش کر لینا خان زیست کا سفر تو موت تک ہے یار اور تم اتنی جلدی تھک رہے ہو۔’
ملک نے مسکرا کر کہا۔
‘ مجھے اس زیست سے ہی نفرت ہے ملک ۔بس آج میرا مقصد پورا ہو جائے گا تو نہ تو مجھے موت سے کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی یہ سفر زیست کوئی اہمیت رکھے گا کیونکہ بنا مقصد یا کسی منزل کے سفر کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔’
وجدان نے سپاٹ سے انداز میں کہا۔
‘اپنی عمر سے بڑی باتیں کرتے ہو تم خان۔’
ملک نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھ کر کہا۔
‘زندگی نے تو مجھے بچپن میں ہی بڑا کر دیا تھا میں تو وہی بتا رہا ہوں جو زندگی کی تپش نے مجھے سیکھایا ہے۔’
وجدان نے اپنی سبز آنکھوں سے ملک کو دیکھ کر کہا۔
‘اگر اس سب کی وجہ شیراز حسن ہے نا خان تو اسے مرتا دیکھ کر مجھے بھی بہت زیادہ خوشی ہو گی۔’
ملک نے دانت پیس کر کہا۔
‘نہیں ملک موت ہی تو اسے نہیں ملے گی۔موت تو بہت چھوٹی سزا ہے ۔سزا تو تب ملے گی نا جب اسکی زندگی کو ہی جہنم بنا دوں گا میں۔’
وجدان نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر کہا اور ملک کے ساتھ اپنے پلین پر نظر ثانی کرنے لگا۔
🌈🌈🌈
زرش کو غائب ہوئے دو دن ہو چکے تھے اور ابھی تک اسکا کوئی بھی سراغ نہیں مل سکا۔وجدان کسی سے بھی بات نہیں کرتا تھا۔زرش کا دیا وہ خط ان دو دنوں میں وجدان نے کتنی مرتبہ پڑھا تھا یہ وہ بھی نہیں جانتا تھا۔ایک احساس اس کے دل میں اٹھ رہا تھا ۔وہ احساس جس سے ہمیشہ خود کو بچانے کی قسم کھائی تھی اس نے لیکن محبت پر کبھی کسی کا زور چلا بھی ہے۔مگر محبت کے اس احساس کو سمجھنے میں وجدان نے بہت ذیادہ دیر لگا دی تھی۔۔۔بہت ذیادہ۔۔۔
‘وجدان۔۔۔۔۔۔۔۔’
شایان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
‘کچھ پتہ چلا؟’
وجدان نے سر اٹھائے بغیر سوال کیا۔
‘نہیں وجدان کچھ بھی پتہ نہیں چلا۔۔۔۔۔۔۔۔اور سب سے ذیادہ پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ سلمان انکل سے بھی کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو رہا۔’
شایان سر جھٹک کر اس کے پاس بیٹھا ۔سب سے ذیادہ پریشان تو وہ جانان کو لے کر تھا جو پریشانی کی وجہ سےبہت ذیادہ بیمار ہو گئی تھی۔جبکہ حمنہ کو تو عثمان نے اس سب کے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں تھا۔
‘مجھے سب کچھ بتاؤ شایان سب کچھ۔’
وجدان کے لہجے میں چٹانوں کی سی مظبوطی تھی۔
‘میں نے وعدہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
‘اب اس سب کا وقت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آدھا سچ تو میں پہلے سے ہی جانتا ہوں اب کی بار مجھے پورا سچ جاننا ہے۔’
شایان نے اثبات میں سر ہلایا اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ اب سچ کو سامنے لانا بہت زیادہ ضروری تھا۔
‘زرش ہمیشہ سے ایسی ڈرپوک نہیں تھی اور نہ ہی وہ بے آواز تھی۔بلکہ کافی ذیادہ چلبلی اور بہادر لڑکی تھی لیکن ایک دن یہی سب اسے مہنگا پڑھ گیا۔شرارت میں گھر آنے کی بجائے اپنی سہیلی کے ساتھ بس میں چلی گئی اور قسمت کا کھیل دیکھو اسی دن کچھ ڈاکوؤں نے اس بس کو ہائی جیک کر کے ان لڑکیوں کو دوسرے ملکوں میں بیچنے کا ارادہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی ہی عزتوں کی نیلامی پر اترے تھے وہ درندے صرف اور صرف دولت کے لیے۔’
شایان نے غصے سے اپنی مٹھیاں کسیں۔اس کے اندر کھویا ہوا دارا باہر آنا چاہتا تھا۔
‘سلمان صاحب نے اپنی دولت اور سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے زرش کا پتہ لگوا لیا ۔انہیں لگا تھا کہ ان لوگوں کو پیسے دے کر وہ زرش کو چھڑوا لیں گے۔لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو انکا سامنا ایک شخص سے ہوا ۔۔۔۔۔۔ آر بی۔۔۔۔۔۔۔ سلمان صاحب نے صرف اسکی آنکھیں دیکھی تھیں کیونکہ اس نے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔ جب انہوں نے اپنی آمد کا مقصد بتایا تو وہ آدمی زرش کو چھوڑنے کے لیے تیار ہو گیا مگر اسکا نام جانتے ہی اس نے انکار کر دیا۔وہ بے ہودہ گھٹیا آدمی ایک بارہ سال کی بچی کو اپنی ملکیت کہہ رہا تھا۔اس نے کہا تھا کہ وہ لڑکی اسکا جنون ہے اور وہ صرف اسی کی ہو گی۔’
وجدان نے اپنی مٹھیوں کو ضبط سے کسا تھا۔جبکہ اگلی بات اسے بتانے لے لئے شایان نے بہت ذیادہ ہمت اکٹھی کی ۔
‘ اس کمینے نے سلمان صاحب کو کہا کہ وہ اس پر اپنی مہر لگائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔۔۔۔پھر سلمان صاحب بے بسی سے دروازے کے باہر کھڑے زرش کی درد ناک چیخیں سنتے رہے تھے۔۔۔۔’
آخری بات کہہ کر شایان نے غصے سے اپنے دانت پیسے۔جبکہ وجدان کے بے تاثر سے چہرے پر وحشت تھی صرف وحشت۔
‘اور کچھ ہی دیر کے بعد اس درندے کے آدمیوں نے سلمان صاحب کو بے ہوش کیا اور انہیں وہاں سے لے گئے۔’
شایان نے ایک گہرا سانس لیا۔
‘لیکن پھر وہاں پر آرمی نے اٹیک کیا ایک انتہائی قابل ایجنٹ نے آرمی کو وہاں تک پہنچایا تھا جسکی وجہ سے زرش وہاں سے آزاد تو ہو گئی تھی لیکن اس حادثے کے بعد وہ لڑکی چھ ماہ تک کوما میں رہی تھی اور ہوش آنے پر وہ اپنی آواز کے ساتھ ساتھ اپنی بہادری،وقار،چنچلہاٹ سب کچھ کھو چکی تھی اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگی تھی وہ۔’
شایان نے اپنے غصے کو کم کرنے کے لیے گہرا سانس لیا تھا۔
‘وجدان تم۔۔۔۔۔۔۔۔’
‘مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔ ‘
وجدان نے سختی سے اسکی بات کو کاٹا تو شایان اسکی حالت کو سمجھتا اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا۔ وجدان وہاں سے اٹھا اپنا ہاتھ بہت ذیادہ زور سے دیوار میں دے مارا ۔اس کا دل کر رہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کر دے۔آر بی پر اسے بہت زیادہ غصہ آ رہا تھا لیکن اس سے بھی زیادہ غصہ اسے خود پر آ رہا تھا۔
وہ معصوم تو جانتی بھی نہیں تھی کہ باہر ایک بھیڑیا اسکی تاک میں لگا ہے۔وجدان کی زمہ داری تھی اسکی حفاظت کرنا اور وجدان اس میں ناکام ہوا تھا بہت بری طرح سے ناکام ہوا تھا۔ایک غضبناک چیخ کے ساتھ وجدان نے پاس پڑی شیشے کی میز کو پٹخ کر توڑ دیا اور پھر اپنے ہاتھ میں موجود خط کو دیکھنے لگا۔
میں نے تم سے وعدہ کیا تھا نور کہ تمہاری حفاظت کروں گا۔تمہیں کوئی بھی چھو نہیں پائے گا اور اب ایسا ہی ہو گا۔یہ میرا میری بے مقصد زندگی سے وعدہ ہے کہ ہر چلتی سانس کا مقصد اب صرف اور صرف تمہاری حفاظت اور مسکراہٹ ہے اور اس مقصد کو پانے کے لیے اپنی آخری سانس تک کوشش کروں گا۔تمہیں میں ڈھونڈ لوں گا نور۔تمہیں میں ضرور ڈھونڈ لوں گا۔
وجدان اپنے ہاتھ میں موجود خط کو دیکھ کر سوچ رہا تھا۔اسکا دل صدیوں بعد کسی کے لیے دھڑکا تھا اور اسی کا دل وجدان نے بہت بری طرح سے توڑ دیا تھا۔لیکن اب وجدان نے اسکی حفاظت کرنی تھی اور اسے بچانے کے لیے وجدان اپنی جان بھی داؤ پر لگاسکتا تھا۔