Safar Zeest By Haram Shah Readelle50192 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
سعد اور عشال کوئٹہ پہنچ چکے تھے اور اب کوئٹہ پہنچتے ہی سعد شایان کو فون کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کر چکا تھا۔
‘فکر مت کر سعد می فلائٹ سے کل ہی وہاں پہنچ جاؤں گا اور تو وجدان کی ٹینشن مت لے اپنے ایک مشن میں گلیشیئر میں رکنا پڑا تھا اسے اور ایک مہینے کے بعد بھی زندہ واپس آ گیا تھا وہ۔ کیسی بھی سیچویشن سے گزر سکتا ہے ۔’
سعد نے گہرا سانس لیا۔
‘یار بات وجدان کی نہیں زرش کی ہے اس سب کی عادی نہیں ہے وہ۔’
سعد نے پریشانی سے کہا تو ایک پل کو دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
‘ہمم۔۔۔۔۔تو صیح کہہ رہا ہے یار ۔۔۔۔ چل میں کل ہی آ رہا ہوں وہاں۔’
شایان نے اتنا کہہ کر فون بند کر دیا ۔سعد نے ایک نظر ریسٹورنٹ کے ٹیبل پر بیٹھی عشال کو دیکھا اور اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
‘تم نے کھانا نہیں کھایا؟’
سعد نے اسکے سامنے موجود کھانے کی طرف اشارہ کیا جو ابھی تک بلکل ویسے ہی پڑا تھا۔
‘آپ نے بہت غلط کیا ایجنٹ جی صرف چار یا پانچ آدمی تھے وہ آپ دونوں مل کر آرام سے ڈھیر کر سکتے تھے انہیں۔’
عشال نے انتہائی غصے سے کہا۔
‘عشال وہ صرف شروعات تھی تم نے خود نہیں دیکھا تھا آگے کتنی ہی جگہ مزید لوگ اور پولیس والے ناکہ بندی کر کے کھڑے تھے۔ہر جگہ سے یوں نہیں گزر سکتے تھے ہم۔’
سعد نے بے بسی سے کہا۔
‘تو پھر ہمیں بھی اس وقت یہاں نہیں ان دونوں کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔’
عشال نے اسے چشمے کے پیچھے سے گھورا تو سعد نے گہرا سانس لیا۔
‘ ہمیں ان کی مدد کرنی ہے عشال اور وہ ہم یہاں رہ کر بہتر طریقے سے کر سکتے تھے۔تم وجدان کو اتنا ہلکے میں مت لو وہ ہینڈل کر لے گا سب۔’
سعد نے اسکا غصہ کم کرنے کے لیے کافی نرمی سے کہا تو عشال نے بھی ایک گہرا سانس لیا اور پھر خاموشی سے کھانا کھانے لگی۔
‘آئی ایم سوری مجھے آپ سے اتنی بدتمیزی نہیں کرنی چاہئے تھی۔’
تھوڑی دیر بعد عشال نے کہا۔سعد نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔
‘کوئی بات نہیں مجھے پتہ ہے کہ تم زرش کو لے کر پریشان ہو۔’
سعد نے کافی نرمی سے کہا۔
‘میں بس نہیں چاہتی کہ کسی کو بھی کچھ ہو بہت دیر کے بعد کسی سے پھر سے مانوس ہو گئی ہوں اور نہیں چاہتی کہ انہیں بھی کھو دوں۔’
عشال کی آواز میں نمی محسوس کر کے سعد نے پریشانی سے عشال کو دیکھا جو دوسری طرف چہرہ کیے اپنے آنسو چھپانے کی مکمل کوشش کر رہی تھی۔سعد نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھا۔
‘کچھ نہیں ہو گا عشال تم فکر مت کرو بس دو دن کا وقت دو انہیں بلکل صیح سلامت یہاں لے کر آؤں گا وعدہ رہا۔’
عشال کافی دیر سعد کی بھوری آنکھوں کو دیکھتی رہی اور پھر سعد کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔
‘آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا ہے میری تو خیر ہے لیکن آپکی تہذیب ڈسٹرب ہو جائے گی۔’
سعد نے اسے پھر سے مذاق کرتے دیکھا تو ہنستے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر سے ہٹایا اور خود بھی کھانا کھانے لگا۔
🌈🌈🌈🌈
زرش کب سے وجدان کے ساتھ چلتی جا رہی تھی اور اب وہ بری طرح سے تھک چکی تھی لیکن پھر بھی وجدان ایک بار بھی مڑے بغیر یا اسکی بات سنے بغیر چلتا گیا۔اس سب پر اس قدر ٹھٹھرتی سردی میں زرش کا جسم سن ہو رہا تھا۔جب زرش کو لگا کہ اسکے پاؤں اور ٹانگیں اب مزید اسکا ساتھ نہیں دیں گیں تو اپنا ہمیشہ والا رونے کا شغل منانے لگی۔اسکے رونے کی آواز پر وجدان کے چلتے قدم رکے۔
‘کیا ہوا رو کیوں رہی ہو؟’
وجدان نے رک کر کافی نرمی سے پوچھا۔تو زرش نے انکار میں سر ہلا دیا۔
‘چلو پھر۔۔۔’
وجدان کے کہنے پر زرش چل تو پڑی لیکن وہ پھر سے رونے لگی مگر اس بار وجدان اسکے رونے کی وجہ سمجھ گیا تھا۔
‘زیادہ تھک گئی ہو تو اٹھا کر لے جاؤں؟’
وجدان نے مسکرا کر کہا تو زرش نے اپنے آنسو روک کر پہلے آنکھیں بڑی کر کے وجدان کو حیرت سے دیکھا اور پھر ناراضگی سے اپنا منہ پھلا لیا تھا ایسا کر کے وہ بہت زیادہ کیوٹ لگنے لگی۔وجدان نے اس پر سے اپنی نظریں پھیر لیں۔
‘چلو۔’
وجدان نے اسے پھر سے کھینچنے کی کوشش کی لیکن اس مرتبہ زرش نے بھرپور مزاحمت کی اور اپنا ہاتھ چھڑوا کر اشارہ کرنے لگی۔
میں تھک گئی ہوں۔
وجدان نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر ایک جگہ دیکھ کر وہاں اسے لے گیا۔وجدان نے ارد گرد دیکھا وہ لوگ اسے کہیں بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔مشکل کی بات تو یہ تھی کہ انہیں ایک رات وادی کے اس جنگل میں گزارنی تھی۔جو اس ٹھٹرتی سردی میں لگ بھگ ناممکن ہی تھا۔لیکن ایسی جگہوں پر پہاڑوں کے دامن میں ایسی بہت سی جگہیں مل جاتی ہیں جہاں پر برف نہیں پہنچ پاتی اور وجدان کو ایسی ہی جگہ کی تلاش تھی۔
‘تمہیں بھوک لگی ہے؟’
وجدان کے سوال پر زرش کی آنکھیں پھر سے نم ہو چکی تھیں۔وجدان نے ایک گہرا سانس لیا۔
‘تو پھر اس میں رونے کی کیا بات ہے؟’
وجدان نے اپنے بیگ میں سے ایک بند نکال کر زرش کے ہاتھ میں پکڑایا اور خود ارد گرد جگہ تلاش کرنے لگا۔تبھی اسکی نظر ایک بڑے سے پہاڑ پر پڑی جسکے نیچے ایک چھوٹا سا غار موجود تھا اور وہاں برف بھی موجود نہیں تھی۔
‘چلو نور ہمیں وہاں چلنا ہے۔’
وجدان نے پہاڑ کی طرف اشارہ کیا تو زرش نے انکار میں سر ہلا دیا وہ اب ایک بھی قدم نہیں چلنا چاہتی تھی۔
‘چل کر جاؤ گی یا اٹھا کر لے جاؤں؟’
وجدان کے سوال پر زرش نے اپنی آنکھیں بڑی کیں اور فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔وجدان کے لبوں کو ایک مسکراہٹ نے چھوا ۔
‘چلو پھر۔’
وجدان اسے وہاں پر لے آیا اور اپنے بیگ سے ایک چادر نکال کر اسکا لحاف بنا لیا۔آج رات انہیں اسی سے گزارا کرنا تھا۔وجدان کو اپنی تو فکر نہیں تھی لیکن زرش کے لئے یہ سب سروائوو کرنا ناممکن تھا۔اس سب پر وجدان آگ بھی نہیں جلا سکتا تھا کیونکہ اس وجہ سے وہ بہت سے لوگوں کی نظر میں آ سکتے تھے۔زرش سہم کر اس پہاڑ کی اوٹ میں بیٹھی ہوئی تھی۔وجدان اسکے پاس جا کر بیٹھ گیا تو زرش نے اسے دیکھا۔
ہم یہاں سے کب باہر نکلیں گے۔
زرش نے پوچھا تو وجدان نے گہرا سانس لیا۔
‘ابھی تو میں خود بھی نہیں جانتا اس بارے میں کچھ بھی نور میں جانتا ہوں کہ یہ سفر تمہارے لیے مشکل ہے لیکن یہی ایک راستہ ہے اب ہمارے پاس’
وجدان نے اسے درست بات بتانا صیح سمجھا۔
کیاآپ سے کچھ پوچھ لوں؟
‘ہمم۔۔۔۔’
وجدان کا دھیان زرش سے ذیادہ ارد گرد تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ کچھ بھی الٹا ہو انکے ساتھ۔
آپ یہاں کیوں آئے؟
زرش کے سوال پر وجدان کے ماتھے پر بل پڑے۔
‘کیونکہ مجھے منفی درجہ حرارت میں اس طرح باہر سونے کا بہت شوق ہے۔بچپن کا سپنا تھا یہ میرا۔’
وجدان نے مزاق کیا لیکن وہ مذاق بھی اس معصوم کے دل پر لگا تھا۔
آپ کو یہاں نہیں آنا چاہئے تھا اب میری وجہ سے آپ بھی مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔
کافی دیر کے بعد زرش نے اشارہ کیا تو وجدان کا دل چاہا کہ اسکا چہرہ تھپڑوں سے لال کر دے۔آخر وہ خود کو سمجھ کیا رہی تھی۔اسکے دل کی دنیا ہلا کر کس طرح سے وہ ایسی باتیں کر سکتی تھی۔
‘اب اگر تم نے یہ بکواس بند نہیں کی نا تو تمہارے دونوں ہاتھ باندھ دوں گا سمجھی۔’
وجدان کی سختی پر زرش منہ بنا کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔
جھوٹ بولتے ہیں یہ بلکل بھی نہیں بدلے ایک دم ویسے ہی ہیں۔
زرش نے روتے ہوئے سوچا جبکہ وجدان نے اسکے رونے کی آواز پر بے چینی سے زرش کو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔
‘بہت ظلم کرتی ہو تم ان خوبصورت آنکھوں پر میری جان اور یہ اب مجھے گوارہ نہیں ہے کیونکہ تمہارے ساتھ ساتھ یہ آنکھیں بھی میری ہیں۔آئندہ کبھی بھی انہیں ایسے نم نہ دیکھوں۔’
وجدان نے کافی جزبات سے کہہ کر اسکے آنسوؤں کو کافی نرمی سے صاف کیا اور پھر پانی کی بوتل نکال کر زرش کے ہاتھ میں پکڑا دی۔
زرش نے پانی پیا اور پھر اپنی ٹانگیں سینے سے لگا کر بیٹھ گئی۔زرش بہت دیر تک سامنے موجود نظارے کو دیکھتی رہی۔اگر وہ لوگ اس قدر مشکل میں نہیں ہوتے تو زرش اس برف میں کھیلتی ،اسے اپنے اوپر گراتی،وجدان کے اوپر گراتی۔یہ سوچتے ہی ایک شرمیلی سی مسکان نے زرش کے لبوں کو چھوا۔
نہیں ۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔میں تو ناراض ہوں ان سے پھر بھلا کیوں انہیں اپنے ساتھ کھیلاتی۔
زرش نے کافی معصومیت سے سوچا اور پھر سے اپنے سامنے موجود چمکتی سفیدی ،درختوں کو،پہاڑوں کو اپنی اوٹ میں چھپاتی برف،بادلوں سے بھرے آسمان اور قدرت کے حسین شاہکاروں کو دیکھتی رہی۔
کیا کچھ اتنا حسین بھی ہو سکتا ہے؟
زرش نے مسکرا کر سوچا۔جبکہ اتنی دیر سے اسے یوں کھوئے ہوئے دیکھتا وجدان بھی تو یہی سوچ رہا تھا۔جہاں زرش کے لئے وہ سب دل موہ لینے والے نظارے تھے وجدان کے لیے وہ خود دل کی گہرائیوں میں اترنے والا نظارہ بنی ہوئی تھی۔
کافی دیر تک وہ دونوں وہیں بیٹھے رہے تھے۔رات گہری ہونے لگی تو وجدان نے ساتھ موجود دیوار سے اپنی کمر ٹکائی اور زرش کو کھینچ کر اپنے سینے پر گرا لیا۔زرش گھبرا کر اس سے دور ہونے لگی۔
‘دیکھو نور ایڈجسٹ کرو اگر چاہتی ہو نا کہ ہم دونوں کی قلفی نہ جم جائے تو چپ چاپ یہاں آؤ۔’
وجدان نے کھینچ کر اسے اپنے سینے میں بھینچا۔زرش نے مزاحمت کرنا چاہی تو وجدان نے بہت زیادہ سختی سے اسکی کمر کو پکڑا۔
‘ابھی تو صرف اپنے سے لپٹایا ہے سکون سے لیٹی رہو ورنہ ہر حد پار کر جاؤں گا۔’
وجدان کی دھمکی کار آمد ثابت ہوئی تھی۔ہلنا تو دور کی بات ہے زرش تو سانس بھی بہت آہستہ سے لے رہی تھی۔اف میری معصوم سی جان۔وجدان کے لبوں کو ایک دلفریب مسکراہٹ نے چھوا اور اسنے مسکراتے ہوئے اپنی جیکٹ اور چادر میں زرش کو چھپا کر اپنی آنکھیں موند لیں جبکہ زرش تو اسکے وجود سے ملنے والی گرمائش کی وجہ سے بہت جلد ہی سو گئی۔مگر وجدان نہیں سو پایا تھا کافی دیر تک وہ اس تھوڑی سی روشنی میں زرش کے معصوم چہرے کو دیکھ کر ڈھیروں سکون اپنے اندر اتارتا رہا تھا ۔
‘ایسا مت کرو نور تمہیں اپنے دل تک رسائی دی تھی میں نے اور تم روح تک میں بستی جا رہی ہو۔جن سے بھی محبت کی ان کی محبت نے مجھے تڑپایا ہی تھا تم سے تو عشق کر چکا ہوں نور تم نا جانے میرا کیا حشر کرو گی۔’
وجدان نے اسکے معصوم چہرے کو دیکھتے ہوئے سرگوشی کی اور پھر آنکھیں موند کر خود بھی سو گیا۔
🌈🌈🌈🌈
وجدان کی آنکھیں کھلی تو صبح کی ہلکی سی روشنی افق پر پھیلی ہوئی تھی لیکن دھند کی وجہ سے وقت کا اندازہ لگانا بہت مشکل تھا۔وجدان نے نظریں جھکا کر اپنے سینے پر موجود اس موم کی گڑیا کو دیکھا جو ابھی تک اسکی جیکٹ میں چہرہ گھسائے سکون سے سو رہی تھی۔وجدان کو اسکا معصوم چہرہ اس دنیا کا سب سے حسین نظارہ لگ رہا تھا۔
‘نور۔۔۔۔’
وجدان نے اسکے بالوں میں ہلکے سے ہاتھ پھیرا تو ایک چھوٹی بلی کی طرح زرش کسمسا کر اسکے مزید قریب ہوئی۔وہ وجدان کے صبر کا صیح معنوں میں امتحان لے رہی تھی۔اسکے سینے میں اٹھتے جزبات خود سری پر اترے ہوئے تھے۔
‘نور اٹھو۔۔۔۔’
وجدان نے اس مرتبہ سختی سے کہا تو زرش نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھول دیں اور اپنے انتہائی قریب وجدان کو دیکھ کر جلدی سے اس سے دور ہوئی۔لیکن اس سے پہلے کہ وجدان اس سے کچھ کہتا کچھ لوگوں کے قدموں کی ہلکی ہلکی چاپ وجدان کو سنائی دی۔وجدان نے زرش کو خاموش رہنے کا اشارہ کر کے اسے مزید اس پہاڑ کی اوٹ میں چھپایا اور خود اسکی ڈھال بن کر سامنے کھڑا ہو گیا۔اب وہ ان لوگوں کے بولنے کی سرگوشیاں بھی سن سکتا تھا۔لیکن دھند اور پہاڑ کی اوٹ میں موجود اندھیرے کی باعث وہ لوگ ان دونوں کو دیکھ نہیں پائے تھے۔زرش ہمیشہ کی طرح آنکھیں بند کیے ورد کر رہی تھی اور وجدان کی نظر بار بار ان گلابی لبوں پر ٹھہر رہی تھی۔وجدان انکے قدموں کی چاپ قریب آتے سن سکتا تھا لیکن جانتا تھا کہ وہ یہاں پر انہیں نہیں دیکھ سکتے۔
‘مجھے نہیں لگتا کہ وہ دونوں یہاں ہیں چلو ہمیں کہیں اور دیکھنا ہو گا۔’
وجدان کو ایک آدمی کی آواز سنائی دی اور اسکے بعد وہ لوگ پھر سے وہاں سے چلے گئے۔وجدان جانتا تھا کہ وہ لوگ جا چکے ہیں لیکن پھر بھی وہ زرش سے دور نہیں ہوا تھا۔
‘تم غلط کر رہی ہو نور بہت غلط کر رہی ہو۔’
وجدان کی بات پر زرش نے اپنی کانچ سی آنکھوں میں سوال لے کر اسے دیکھا۔وہ دونوں ابھی بھی اس قدر ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے کہ ایک دوسرے کی سانسوں کی تپش بھی محسوس کر سکتے تھے۔
‘میرے اندر جینے کی چاہ پیدا کر رہی ہو۔پھر سے کچھ چاہنے کی خواہش کو ابھار رہی ہو۔میرے قفل لگے دل پر دستک دے رہی ہو تم اور اب میں اپنے دل سے ہونے والی اس جنگ سے تھک چکا ہوں۔’
وجدان اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے نازک لبوں پر جھکا اور اپنے سلگتے دل کو قرار بخشنے لگا۔زرش جو اسکی باتوں میں پوری طرح سے ڈوبی ہوئی تھی اس حملہ کے لیے تیار نہیں تھی اسی لیے وہ لڑکھڑا کر گرنے لگی تو وجدان نے اسکی کمر کو تھام کر خود کے مزید قریب کر لیا۔اسکی پکڑ اس قدر مظبوط تھی کہ زرش کو مزاحمت کا موقع بھی نہیں مل رہا تھا۔
زرش کو لگ رہا تھا کہ اسکی سانسیں ہی تھم جائیں گی اسی لیے تو وجدان کی جیکٹ کو زور سے جکڑ کر مزاحمت کرنے لگی۔جبکہ وجدان تو کسی بھی شے کی پروا کیے بغیر خود میں سکون اتار رہا تھا۔کافی دیر کے بعد زرش کی بند ہوتی سانسوں کی پروا کر کے وجدان اس سے دور ہوا تو زرش آنکھیں بند کر کے گہرے گہرے سانس لینے لگی۔جبکہ رخساروں کی سرخی اسے ایک انوکھا روپ بخش گئی۔اپنے بے لگام جزباتوں کو قابو میں کر کے وجدان اس سے دور ہوا۔
‘چلو اب ہمیں چلنا ہیں یہاں سے۔’
وجدان نے اپنا سامان سمیٹا اور وہ دونوں پھر سے آگے بڑھنے لگے۔
🌈🌈🌈🌈
آر بی کافی ذیادہ غصے میں تھا ایک پوری رات گزر چکی تھی اور اس کے آدمی ابھی تک زرش کو نہیں ڈھونڈ پائے تھے۔ہر گزرتے پل کے ساتھ آر بی کی بے چینی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔آخر کار اسنے اپنے جنون کے اتنے قریب آ کر اسے پھر سے کھو دیا تھا۔
‘پتہ چلا کہاں ہے وہ؟’
فیض کے وہاں آتے ہی آر بی غصے سے دھاڑا ۔
‘باس وہ کوشش کر رہے ہیں ہمارے آدمی پولیس بھی اپنی مکمل کوشش کر رہی ہے۔ابھی تک وہ دونوں اس وادی میں ہی ہیں وہاں سے نکل نہیں پائیں گے۔’
فیض نے گھبراتے ہوئے کہا۔
‘دونوں؟’
آر بی نے ایک ابرو اچکا کر سوال کیا۔
‘جج۔۔۔جی باس کوئی وجدان خان ہے اس لڑکی کے ساتھ شوہر ہے شاید۔۔۔۔’
دھڑام ۔۔۔۔آر بی نے بہت زور سے اپنے سامنے موجود شیشے میز کو ٹانگ مار کر پھینک دیا ۔فیض جیسا مظبوط مرد بھی کانپ کر رہ گیا تھا۔
‘فیض میری زرش مجھے واپس چاہیے کسی بھی حال میں ورنہ تم سب کے ٹکڑے کر دوں گا اس شیشے کی طرح۔’
آر بی نے دانت پیستے ہوئے فرش کی طرف اشارہ کیا۔اسکی بھوری آنکھوں میں بلا کی وحشت تاری تھی۔
‘اور مجھے اس وجدان خان کے بارے میں سب جاننا ہے چھوٹی سے چھوٹی بات۔اس خان کو میں نے ہلکے میں لے کر غلطی کی ہے کوئی عام انسان نہیں ہے وہ۔پتہ لگاؤ اسکا فیض۔’
آر بی کی بات پر فیض نے کانپتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔
‘جج۔۔۔جی باس۔۔’
فیض اتنا کہہ کر وہاں سے جا چکا تھا لیکن آر بی ابھی تک وہیں بیٹھا وجدان کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
‘تم نے اچھا نہیں کیا وجدان خان میری زرش کو مجھ سے چھین کر ،اسے چھو کر ۔تمہیں اس کی سزا بھگتنی پڑے گی بہت بری سزا۔’
آر بی نے غصے سے کہتے ہوئے اپنے ہاتھ میں پکڑا گلاس زمین پر پھینک کر توڑ دیا۔
🌈🌈🌈🌈
شایان صبح صبح ہی سعد کے بتائے ہوئے ہوٹل پر پہنچ چکا تھا۔اس کے ساتھ علی اور دا اور سپاہی موجود تھے۔سعد نے اسے تمام بات بتائی جسے شایان نے کافی سنجیدگی سے سنا تھا۔
‘شایان اب۔۔۔؟’
سعد کافی پریشان تھا۔
‘تم فکر مت کرو سعد اگر وجدان نے کہا ہے کہ وہ وہاں پہنچے گا تو ایسا ہی ہو گا۔وجدان پر تو مجھے خود سے بھی زیادہ یقین ہے اور رہی زرش کی بات تو وجدان سے ذیادہ محفوظ تو وہ کسی کے بھی پاس نہیں ہے۔’
شایان نے کافی یقین سے کہا۔
‘تو پھر ہمیں کیا کرنا ہو گا؟’ سعد نے سوال کیا۔
‘فلحال تو اس لڑکی کو یہاں سے نکالو جو دروازے کے پیچھے چھپ کر ہماری باتیں سن رہی ہے۔’ شایان نے غصے سے کہا۔شایان کا سنجیدہ دراب والا روپ کبھی کبھار ہی سامنے آتا تھا۔
‘میں کیوں جاؤں بھلا یہاں سے؟’ عشال خود ہی دروازے کے پیچھے سے نکل کر باہر آئی اور اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر شایان کو گھورنے لگی۔
‘کیونکہ تمہاری یہاں ضرورت نہیں ہے اور الٹا تم ہمارے لیے مشکل میں اضافہ ہی کرو گی۔’
عشال منہ کھولے شایان کو دیکھ رہی تھی۔
‘کیپٹن علی آپ خود اس لڑکی کو ساتھ لے کر جائیں اور اسے مخصوص جگہ پر پہنچا دیں۔’
عشال کو بولنے کا موقع دیے بغیر ہی شایان نے علی سے کہا تو وہ ‘یس سر’ کے ساتھ عشال کے قریب ہوا۔
‘میں یہاں سے نہیں جا رہی۔’
عشال نے کافی غصے سے شایان کے سامنے آ کر کہا تو شایان نے بہت خطرناک سنہری آنکھوں سے اسے گھورا۔نا جانے ان آنکھوں میں ایسا کیا تھا کہ ایک پل کے لئے عشال جیسی بہادر لڑکی بھی کانپ کر رہ گئی۔
‘تم سے پوچھا نہیں تمہیں بتایا ہے اور شرافت سے بات مانو ورنہ تمہیں بے ہوش کر کے بھی وہاں پہنچایا جا سکتا ہے۔’
شایان اپنی بات کہہ کر وہاں سے چلا گیا تو عشال منہ بسور کر سعد کو دیکھنے لگی۔
‘ایجنٹ جی۔۔۔۔’
‘وہ صحیح کہہ رہا ہے عشال بات مانو۔’ سعد نے بھی سختی سے کہا تو عشال اپنا پیر پٹخ کر وہاں سے چلی گئی۔
Best of luck captain.
سعد نے مسکرا کر علی سے کہا جو ابھی بھی سکتے کے عالم میں اس دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے عشال گئی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
صبح سے شام ہونے کو تھی سارا دن چل چل کر زرش کا برا حال ہو چکا تھا اب تو اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ دونوں گم گئے ہیں اور اسی برف میں اب انکی قبر بننی تھی۔ان کے پاس کھانا اور پانی تو تھا لیکن وہ پانی بھی اس قدر ٹھنڈا ہو چکا تھا کہ اسکا ایک گھونٹ لینا بھی مشکل تھا۔
اچانک ہی چلتے چلتے زرش کا پاؤں ایک گہری جگہ پر جا کر بہت سختی سے مڑا۔ایک سسکی کے ساتھ زرش زمین پر بیٹھی تھی۔وجدان پریشانی سے زرش کے پاس آیا ۔
‘نور کیا ہوا؟’
وجدان کی نظر اسکے پیر پر پڑی جو گرم جوتوں میں ہی کافی بری طرح سے مڑا ہوا لگ رہا تھا۔وجدان نے ایک گہرا سانس لیا پہلے ہی وہ لوگ ان کے پیچھے پڑے تھے اور اب اس سب میں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا۔وجدان نے آگے بڑھ کر زرش کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور چلنے لگا۔زرش روتے ہوئے اسکے سینے میں چھپ رہی تھی ۔زرش کو پکا یقین تھا کہ اسکا پاؤں ٹوٹ چکا ہے۔
‘ششش چپ ہو جاؤ نور ابھی ٹھیک ہو جائے گا ۔ ‘
وجدان نے اسے کافی نرمی سے دلاسہ دیا لیکن زرش اپنی پیر میں اٹھنے والے بے تحاشہ درد کے سامنے کہاں کچھ اور محسوس کر سکتی تھی۔ اچانک چلتے ہوئے وجدان کی نظر ایک جمے ہوئے چھوٹے سے تالاب پر پڑی تو وجدان گہرا سانس لے کر اس طرف چل دیا۔وہ جانتا تھا کہ یہ طریقہ زرش کے لئے بہت درد ناک ثابت ہو گا مگر اس کے پاس اب کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔
وجدان نے ایک جگہ پر زرش کو بیٹھایا اور خود جمے ہوئے اس تالاب کے پاس آ کر مخصوص جگہ سے برف توڑنے لگا جو کہ کچی ہونے کی وجہ سے با آسانی ٹوٹ بھی گئی تھی۔وجدان نے آگے بڑھ کر زرش کے پاؤں سے شوز اور جراب اتاری اور اسکی گلابی چھوٹے سے پاؤں کا معائنہ کرنے لگا۔
‘شکر ہے زیادہ زور سے نہیں مڑا بلکہ تم دیکھنا ایک پل میں ٹھیک ہو جائے گا۔’
وجدان نے نرمی سے کہتے ہوئے اسکا پاؤں پانی کی طرف بڑھانا چاہا تو زرش نے فوراً اپنا پاؤں واپس کھینچ لیا اور اس جھٹکے سے اٹھنے والے درد بے پھر سے سسک کر رونے لگی۔
‘نور تم مجھ سے ابھی بھی ناراض ہو؟’
وجدان کے سوال پر زرش نے اسے ایسے دیکھا جیسے وہ پاگل ہو گیا ہو پھر منہ بنا کر اثبات میں سر ہلایا۔
‘تو پھر رات کو میرے ساتھ اتنا چپک کیوں رہی تھی۔کتنی ہی بار تمہیں خود سے دور کیا میں نے لیکن تم پھر سے میرے ساتھ ہی چپک رہی تھی۔’
وجدان نے نرمی سے اسکا پیر پکڑ کر کہا تو زرش زور زور سے انکار میں سر ہلانے لگی۔اسے تو کل رات کے بارے میں بس اتنا ہی یاد تھا کہ وہ بہت ذیادہ تھکاوٹ کی وجہ سے وجدان کی جیکٹ میں منہ دے کر۔۔۔۔اتنا سوچتے ہی زرش نے شرما کر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔
‘اور یہ تو کچھ بھی نہیں جان تم نے تو مجھے کس بھی کیا تھا۔’
نہیں جھوٹ سراسر جھوٹ ایسا تو کچھ بھی زرش کو یاد نہیں تھا۔زرش نے فوراً ہاتھ ہٹا کر وجدان کے چہرے کو دیکھا جو خود بھی دلچسپی سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔
‘یہاں پر۔’
وجدان نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا تو زرش زور زور سے انکار میں سر ہلانے لگی۔اپنی حرکتوں کے بارے میں وہ اس قدر پریشان ہو گئی تھی کہ اسے تو یہ تک محسوس نہیں ہوا تھا کہ اسکا پاؤں وجدان نے کافی دیر سے ٹھنڈے پانی میں رکھا ہوا تھا۔
‘پھر یہاں پر۔’ وجدان نے اپنے گال پر انگلی رکھی۔
‘اور پھر یہاں پر۔’ وجدان نے انگلی اپنے ہونٹوں پر رکھی تو زرش فوراً ہی زور زور سے انکار میں سر ہلانے لگی۔مگر تبھی وجدان نے اسکے پاؤں کو پانی میں سے باہر نکال کر ایک جھٹکے سے سیدھا کیا تو زرش سسک کر اسکے سینے سے لگ گئی۔
‘آپ بہت برے ہیں مجھے بلکل بھی پسند نہیں کبھی بھی بات نہیں کروں گی آپ سے۔’
زرش نے یہ الفاظ روتے ہوئے اپنے ذہن میں کہے تھے لیکن انہیں بول نہیں پائی تھی۔
وجدان نے اسے خود سے دور کر کے اسے اسکی جراب تو واپس پہنائی ہی تھی لیکن اپنی دونوں جرابیں بھی اتار کر اسی کے پاؤں میں پہنا دی تھیں۔زرش اب چلنے کے قابل تو ہو چکی تھی لیکن بہت آہستہ آہستہ اور درد کے ساتھ۔وجدان اتنا سمجھ گیا تھا کہ اب وہ کل صبح تک سعد کو بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ نہیں پائے گا۔اسی لیے وہ ایک اور رات اسی سنسان جگہ پر گزارنے کے لیے کوئی ٹھکانہ ڈھونڈنے لگا۔
