315.7K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehle Pana Episode 3

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

” آئیے ڈاکٹر نازنین ! زُمر اپنے کیبن میں کوئی کام کر رہا تھا جب نازنین کمرے میں آئی اور سامنے کُرسی پر بیٹھ گئی ۔” کیسی ہیں آپ کوئی کام تھا ؟” مگر وہ چُپ چاپ اسے دیکھتی جارہی تھی نظریں جُھکائے وہ پھر فائل پر کچھ لکھنے لگا جب وہ کچھ دیر بعد بولی ” آئی لو یو ڈاکٹر زُمر ۔۔۔۔” چہرے نیچے کیے بھی اسکے چہرے پر ایک مُسکان آ گئی تھی ” یہ آپ روز کہتی ہیں .”

“ اور آپ اتنے بے حس ہیں کہ ایک بار بھی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا ۔”…..” یہ کوئی سوال تو نہیں جس کا جواب مانگ رہی ہیں ۔” پین پر کیپ چڑھاتے ہوئے اسنے پُرسکون انداز سے جواب دیا ” مگر کہنے والا سُنا چاہتا ہے کہ اسکے احساسات و جذبات کی کیا قدر ہے ۔” ٹیبل پر جھکتے وہ دبے ہوئے غصے میں بولی ۔

اسنے پین پر کیپ چڑھا کر کُرسی سے ٹیک لگا کر اسکی جانب دیکھا ” ڈاکٹر نازنین میں ٹینتھ کلاس میں تھا جب نائینتھ کلاس کی ایک لڑکی مجھ سے محبت کر بیٹھی تب نہ تو اسے محبت کا پتہ تھا نہ مجھے پھر بھی اسکا جنون اس قدر بڑھ گیا اسنے مجھے مرنے کی دھمکی دے دی میں اتنا پریشان ہوگیا اپنی سٹڈی پرفوکس نہیں کر پارہا تھا اور پھر میں نے وہ سکول ہی چھوڑ دیا کالج میں ویلنٹائن جیسے بکواس دن پر چھے لڑکیوں نے ایک ساتھ میں آئی لو یو کہہ دیا پھر وہی سب کچھ ایک تو چھت تک پہنچ گئی یونی آیا تو سیم کیس میں نے اس وجہ سے ناجانے کتنے انسٹیٹیوٹ بدلے ہیں دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے اور مجھے آپ کی زندگی اور خوشحالی بھی بہت پیاری ہے میں کوئی اور ہوسپیٹل جوائن کر لوں گا۔”

“ یعنی حالات کا سامنا نہیں بھاگنا سیکھا ہے آپ نے !” نازنین کی اس بات پر وہ مسکرا دیا ” اگر میرے بھاگ جانے سے کسی لڑکی کی جان اور اسکی عزت بچ سکتی ہے تو بلکل میں بھگوڑا ہوں ابھی وقت ہے سنبھل جائیں میرے پاس ابھی محبت کے لیے وقت نہیں ہے ۔”

“ انتظار کروں ؟” نازنین کے آنکھوں کے کٹورے بھر چکے تھے ” میں نہیں آؤں گا کیونکہ میں پہلے سے کسی کے ساتھ منسوب ہوں ۔” یہ نازنین کے سر پر بم پھوٹا تھا ” کون ہے وہ .”

“ وہ اس دُنیا سے نہیں وہ سب سے الگ ہوگی ” یہ اسنے دل میں سوچا تھا کہا تو بس یہ ” معزرت میں ان مردوں میں سے نہیں جو اپنی منکوحہ کا ذکر بلاوجہ کریں وہ جو کوئی بھی ہے میرا انتظار کر رہی ہے اور میں اُسکا انتظار رائیگاں نہیں جانے دے سکتا ۔”

“ صرف ماں باپ کی پسند کو مدِ نظر رکھ کر اس سے محبت کرتے ہو ؟” یہ الفاظ اسنے بامُشکل ادا کیے تھے

“ میں آپ سے بھی محبت نہیں کرتا ڈاکٹر نازنین اور میں یہ بلکل بھی نہیں چاہوں گا کہ آپ اپنی زندگی برباد کریں جو محبت آپ میری آنکھوں میں دیکھنا چاہتی ہیں کیا وہ آپ کو ڈاکٹر جازب کی آنکھوں میں نظر نہیں آتا ۔”

“ میں اس سے محبت نہیں کر تی اور نہ کر سکتی ہوں ۔” دو ٹوک لہجے میں جواب آیا تھا ۔

“ اگر ان سے محبت نہیں کر سکتی تو مجھ سے کس طرح کی امید ہے آپکو میرا اور آپ کا تعلق صرف کولیگز کا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔۔۔” اُٹھتا گلے میں سٹیتھوسکوپ ڈالتا وہ باہر نکل گیا تھا اور پیچھے ایک ٹوٹا دل چھوڑ گیا تھا باہر آکر اسنے نازنین کی پُشت کو دیکھا ” میں کبھی بھی مثلث کا تیسرا کونا نہیں بنا چاہتا نازنین میں جازب کا رقیب نہیں بنا چاہتا اور اِسکے لیے مجھے میری محبت دبانی پڑے گی ہاں میں اعتراف کرتا ہوں کے میں تم سے محبت کرتا ہوں مگر میری دوستی اس محبت کی بھینٹ نہیں چڑھے گی۔” دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اسنے چہرا آسمان کی جانب اُٹھایا ” میں فرار چاہتا اس دُنیا اے خُدا کیا ہے کوئی اور دُنیا جس میں مجھے جگہ مل سکے چاہے قبرستان کیوں نہ ہو یا کوئی اور جو مجھے نازنین کو بھولنے میں مدد دے ۔۔۔۔۔”

۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❣️۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نِمزا اپنے محل میں آرام گاہ سے شہرِ سحر کا نظارہ دیکھ رہی تھی جب اسے ضامن آتا دیکھائی دیا اسنے بےزار ہوکر چہرا پلٹا مگر وہ دیکھے بِنا نہیں رہ سکتا تھی اسلیے اسنے دوبارہ چہرا باہر کی جانب موڑ لیا ابھی کچھ دیر میں شہر سحر جنگ کا میدان بنے والا تھا ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی ضامن نے اس لکیر پر پیر رکھا دوسرا پیر ایک پنجے نما آیا تھا ضامن نے ایک نظر اس شیر کو دیکھا ” رومی کالا تیندوا بن کر کیسا لگ رہا ہے ۔” اسنے غُرا کر اثبات میں سر ہلایا تمام عوام نے ہاتھ کے اشارے سے دوکانوں کے باہر پڑا سامان اندر رکھ کر دوکانیں بند کردیں مقابلہ دیکھنے بیٹھ گئے ( اول ) ۔۔۔۔۔۔۔۔ضامن اور رومی دونوں نے دوڑنے کی حالت اپنائی (دوم) مسکرا کر ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھا ( سوم) سر جھاڑ دھول اڑاتے وہ بھاگنے لگے تھے نِمزا انکا مقابلے دیکھنے محل کے سب سے اونچے مینار پر آگئی تھی جہاں سے پورا شہر نظر آتا تھا وہ بھاگ رہے تھے جہاں سے گزرتے واہاں ایک طوفان سا برپا کرڈالتے ” شہزادے ضامن ! شہزادے ضامن ! ہر طرف ضامن کی جیت کے دعائیں ہو رہی تھی رومی اپنی کوشش کررہا تھا مگر ضامن اسکی اولاد تھا جسے ہوا سے تیز ہونے کا انعام مِلا تھا ضامن کو ہر روز جیتا دیکھ نِمزا جل بھُن رہی تھی ” نہیں ضامن آج تم نہیں جیتو گے میں نہیں جیتنے دوں گی ۔” ضامن اور رومی آخری حدود تک پہنچ گئے دوبارہ اسی لکیر تک مگر تب تک نمِزا نے ایک جادوائی روکاوٹ لکیر سے پہلے بنا دی تھی جس ضامن پہنچتے ہی اس سے ٹکرایا اور گِر گیا ضامن کے ٹکرانے سے وہ طاقت تو ختم ہوگئی مگر ضامن کو کمزور کرگئی تھی اور رومی لکیر پار کرگیا ” یہ بات !” مینار پر کھڑی نِمزا نے چہک کر مٹھی بھینچی ” شہزادے ضامن ہار گئے ۔۔۔۔یہ کیسے ممکن ہے ؟ رومی تیندوا بنا لکیر کے پار کھڑا تھا وہ اٹھا سانس بحال کی اور پلٹ کر مینار کو دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا ” شاہین! شاہیں کی مدد سے اسنے دوبارہ رومی کو انسان بنایا اور مسکرا کر اسے دیکھا ” جیت تم جیت گئے آج ! رومی شرمندہ سا اسکے پاس ایا ” یہ کیسے ممکن ہے شہزادے ہم کیسے جیت سکتے ہیں آپ تو ہوا سے تیز دوڑتے ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔” اسنے رومی کے کندھے پر ہاتھ رکھا ” جب گِرانے میں اپنے ملوث ہونا تو پیروں میں رسی ڈال ایسے کھینچتے ہیں کہ انسان گھُٹنوں کے بل گرتا ہے نِمزا کو ہماری جیت منظور نہیں اور بھائی قربان جائے اپنی بہن پر وہ نہیں ہوگا جو وہ نہیں چاہے گی ۔اسےلگتا کہ میں اسکی طاقت سے گِرا ہوں مگر میں تو خود روک گیا راستہ صاف کردیا ۔”

“ جانتے ہیں وہ نفرت کرتی ہیں آپ سے پھر بھی اتنا پیار کرتے ہیں شہزادی سے کیوں .”اسنے مسکرا کر دیکھا ” تمہاری کوئی چھوٹی بہن ہے ؟” اسنے نفی میں سر ہلا دیا ” میری ہے اسلیے !” وہ ایسے ہی گھوما کرتا تھا عام باشندوں کی طرح جیسے عوام میں سے ایک کو ہاتھ پیچھے باندھے پُرسوچ انداز سے چلتا ” امبر پارہ کون ہے”

“ تباہی !” رومی کے منہ سے فوراً ایک ہی لفظ نِکلا تھا جس پر ضامن نے حیرت سے اسے دیکھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ ون ٹو تھری شوٹ!!!!!! آنکھوں پر سیفٹی گلاسسز لگائے پسٹل ہاتھوں میں تھامے وہ سامنے پُتلے پر پڑے تربوز کا نشانہ لے رہی تھی گولی چلی اور ہوا میں تربوز کے لال چیتھڑے اڑ گئے ” ویلڈن زرمیش ! اس ایک شوق کو پورا کرنے کے لیے زُمر نے اسے پرفیکٹ اور کانٹیکٹ لینز بنوا کر دیے تھے بلو جینز کی کیپری پر لائٹ گرین کلر کا گھٹنوں تک کُرتا پہنے سکارف گلے میں ڈالے شولڈر بالوں تک پھیلائے وہ دوسرا نشانہ لے رہی تھی جب اسکا ٹرینر پیچھے آیا اسکے ساتھ لگتا اور ہاتھ اسکے بازو پر پھیرنے لگا تھا اسکے کان کے قریب جا کر سرگوشی کی” یو آر آن فائر ! فوکس سامنے بلکل سامنے ! بات کرتا رینگتا ہاتھ اسکے ہاتھ تک پہنچ گیا تھا کمر کے گرد بھی بازو بغیر اجازت حائل ہوگیا تھا زرمیش نے کِن اکھیوں سے اسے دیکھا اس سے پہلے وہ اسکی گردن کو چھوتا اسنے ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا اور گن اس پر پوئنٹ کردی ٹرینر کی حالت پتلی ہوگئی تھی ” وہ کیا ہے نہ سر ان تھنگز پر پریکٹس بہت ہوگئی کیوں نہ اب رئیل پر ہو آ ۔۔۔۔ایک منٹ …اسنے فون نکالا ” ہیلو پولیس ججج۔۔۔۔۔جی سر میں یہاں شوٹنگ اکیڈمی میں تھی سر یہاں کہ ۔۔۔۔۔اسنے رونا شروع کردیا ۔۔۔۔۔” سر یہاں کے ٹرینر میرا ریپ کرنے کی کوشش کی ہے جی سر جلدی آجائیں پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ہیل۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔اور جان بوجھ کر فون کاٹ دیا ” تمہیں کیا لگا جیسے اپنی پہلی سٹوڈنٹس کو ہریس کر لیتے انھیں بلیک میل مجبور کر کے زرمیش بھی ہوجائے گی ایک ہاتھ سے گن پکڑے دوسرے میں خالی کانچ کی بوتل لیے اسکی جانب بڑھتی جارہی تھی ” دیکھو مجھے معاف کر دو پلیز گن نیچے کرو گیٹ ڈاؤن دی بلڈی گن! ایسے نہیں میری دوست کی تصاویر بنا کر اسے بلیک میل کیا اسے سپوئیل کیا …..اسنے وہ شیشے کی بوتل اسکے سر پر پھوڑ دی جس سے خون کی بوندیں اسکے سر سے نکلنی شروع ہوگئیں سر پکڑے وہ پیچھے جاتا جارہا تھا جب دھندلی ہوتی آنکھوں سے وہ زرمیش کو دیکھ رہا تھا جو اپنی شرٹ کے بازو پھاڑ رہی تھی اپنے بال بکھیر رہی تھی ” یہ ۔۔۔۔یہ کیا کررہی ہو؟”

“ ریپ سین بنا رہی ہوں جب تک میں اپنے کپڑے نہیں پھاڑوں گی بال نہیں بکھیروں گی ۔۔۔۔” ناخُن کے ساتھ ہونٹ پر زخم کر خون بھی نکال لیا ” ہونٹ نہیں زخمی کروں گی تو پتہ کیسے چلے گا تم نے میرے ساتھ زبردستی کی ہے ۔۔۔۔” پولیس کا سائرن سنائی دینے لگا تھا اسنے ہاتھوں میں پکڑی گن سے ایک فائر اسکے پیروں میں کیا اور چلانے لگی جب تک پولیس وہاں پہنچی وہ مظلوم بن چکی تھی ” سر ۔۔سر مجھے بچا لیں سر پلیز ! وہ لیڈی آفیسر کے پیچھے چھپ گئی ٹرینر کو پولیس نے پکڑ لیا تھا اور وہ چور ہنسی ہنس رہی تھی ۔ ” زرمیش ہوں زرمیش یعنی آفت !