Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 10
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
زمر اپنی آرام گاہ کی چھت کو چِت لیٹے گھور رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی خوش ہویا پریشان اسنے آنکھیں بند کی تو سورج مُکھی کا پھول مسکرا رہا تھا چہرے پر مُسکان آگئی کہ چند الفاظ کانوں میں گونجنے لگے ” پل پل مری ہوں میں تِل تِل مرو گے تم میری سانسیں بوجھ بن رہی ہیں تمہاری عذاب بن جائیں گی ۔۔۔اسنے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں ” کہیں نازنین کی بدعا لگ تو نہیں جائیں گی کہیں نمزا میرے لیے آزمائش تو نہیں بن جائے گی نہیں ایسا نہیں ہوگا ایسا ہوتا تو وہ نکاح کے لیے ہاں کیوں کرتی اپنی مرضی سے کی اسنے میں بہت زیادہ سوچ رہا ہوں پتا نہیں نازنین اور جاذب قریب آئیں ہونگے یا نہیں ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نازنین اپنے کمرے کی چھت کو گھور رہی تھی اسکے کانوں میں آج جاذب کے الفاظ گونج رہے تھے آج وہ اسکے ساتھ ایک پارٹی میں گئی تھی جہاں ایک لڑکے نے اسکے ساتھ بدتمیزی کی تھی اور سب کے سامنے الزام نازنین پر ڈال دیا وہ کہتی رہی کہ میں نے کچھ نہیں کیا مگر سب اسے ہی مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے پھر اچانک اس لڑکے کے گال پر ایک تھپڑ رسید ہوا تھا ۔” خبردار جو میری بیوی کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو وہ ایسا بلکل نہیں کرسکتی ! وہ غصے سے لال اسے گریبان سے دبوچے کھڑا تھا ۔” اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہے تو پوچھو اس ویٹر سے کیا یہ اس کمرے میں نہیں گئی تھی جہاں میں تھا” اسنے سوالیہ نگاہوں سے ویٹر کی بجائے نازنین کو دیکھا ” وو۔۔۔۔ویٹر سے مم۔۔۔میری ڈریس جوس گرگیا تھا اسی نے مجھے اس کمرے میں بھیجا تھا مجھے۔۔۔۔نن۔۔نہیں پتا تھا کہ یہ وہاں ہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جاذب یہ جھوٹ بول رہا ہے الزام لگا رہا مجھ بلکہ اسنے میرا ہاتھ پیچھے سے پکڑا تھا۔۔۔۔
“ اور وہاں جا کر تمہاری نیت بدل گئی میں نے جب انکار کیا تو اب یہ ڈراما ڈرامے!!! اسکے الفاظ منہ میں تھے جب ایک تھپڑ اسکی گال لال کرگیا تھا اسنے ویٹر کو بھی دھر لیا تھا ‘ سچ بولو!”
“ صص۔۔صاب ۔۔۔انھیں صاب نے مجھے پیسے دیے میڈم کو وہاں بھیجنے کے صص۔۔۔صاب مجھے معاف کردیں میرے بچے ہیں صاب۔۔۔۔۔۔۔۔!!!! جاذب خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اور پھر اس پر ہاتھ صاف کرنے لگا سب اسے روک رہے تھے مگر وہ مارے جارہا تھا بڑبڑا رہا تھا ” تیری ہمت کیسے ہوئی ہاتھ لگانے اسے ہاتھ تو اسکی مرضی کے بغیر میں نہیں لگاتا مجھے اسکے چہرے پر اداسی پسند نہیں اور تو نے اسے اتنا رُلایا ! ٹانگے مکے مارتا وہ اسے تکلیف دے رہا وہ حیرت سے اسکےجنون کو دیکھ رہی تھی ” بھابھی پلیز آپ روکیں اسے وہ مار دے گا اسے ! ایک لڑکا نازنین کے پاس ایا وہ ڈرتی ڈرتی اسکے پاس گئی اسکا ہاتھ پکڑ لیا ” چچ ۔۔۔چھوڑ دیں جاذب اسے وہ مر جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔گگ۔۔۔گا ۔۔۔۔۔” ایک لمحہ لگا تھا اسے پر سکون ہوتے وہ پیچھے ہوگیا اسے کندھے سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا ” مجھے اس پر خود سے زیادہ یقین ہے تب سے اب تک وہ اس منظر کو بھلا نہیں پائی تھی ” کتنا یقین کرتا ہےمجھ پر کتنا اعتبار اتنی عزت اتنی محبت اور تو تو کیا کر رہی ہے اسکے ساتھ اسے تڑپا رہی ہے کتنا صبر ازامائے گی اسکا مان لو کہ ہوگئی ہے محبت اس سے بھا گیا ہے تجھے اسکا صبر اتنے دنوں سے جو تو اسکے لیے محسوس کررہی ہے وہ محبت ہی ہے ۔اسنے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا چہرے پر بلا کی معصومیت لیے وہ سو رہا تھا ماتھے پر بال بھی بکھرے پڑے تھے اسنے آہستہ سے اسکے بال پیچھے کیے پہلی بار وہ اسکا چہرا اتنی قریب سے دیکھ رہی تھی گول چہرا گھنی داڑھی موٹی آنکھیں جو بند تھیں وہ حسین تھا شانت بہتے دریا جیسا اسنے اسکے ماتھے پر لب رکھے دیے کچھ دیر وہیں رہنے دیے سیدھی ہوئی تو آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر اسکے چہرے پر گرا جس سے اسکی نیند کھل گئی ” نازو ! کیا ہوا ؟ تم ابھی بھی اس بات سے آپ سیٹ ہو سب کے سامنے ثابت کیا تھا اسے جھوٹا اب کیا ہوا ؟ اسکے چہرے کو ہاتھوں میں تھامے وہ پریشان ہوگیا تھا ۔
وہ بے ساختہ اسکے گلے لگ گئی ” آئی لو یو جازب آئی رئیلی لو یو اینڈ ایم سوری ٹو میں غلط سلوک کیا تمہارے ساتھ اتنی بے رُخی لیکن تم نے پھر بھی مجھ سے محبت اتنی محبت کی کبھی زبردستی نہیں کی کبھی کوئی گلہ کوئی شکائت نہیں کی ہمیشہ محبت کیسے اتنا صبر کہاں سے آیا ؟ وہ پر سکون مسکرا کر صرف اسے سن رہا تھا آہستہ سے بازو اسکی کمر کے گرد حائل کردیے ” محبت سے جب تم سے محبت کی تھی تو سب سے پہلے صبر ہی تو سیکھا تھا اور کہتے ہیں نہ صبر خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے تو خدا نے میرا ساتھ دیا اور دیکھو اج تم میرے ساتھ ہو میرے پاس ۔۔۔۔۔۔۔”اسکی بات سن کر اسنے چہرا اسکی جانب کیا ان دونوں کے چہرے اتنے قریب تھے کہ انکے ناک ٹچ کررہے تھے نازنین نے بازو اب بھی اسکی گردن کے گرد باندھ لیے تھے کچھ پل تو ایک دوسرے کو یونہی دیکھتے رہے پھر وہ اچانک بولی
Do you love me ?
اسنے کمر سے پکڑ کر اور قریب کرلیا ۔۔۔
Yes I really love you wait I’ll show you !
اسنے نرمی سے اسکے ہونٹوں اپنے لبوں میں قید کیا جس پر نازنین نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی بلکہ ہاتھ گردن سے بالوں میں چلا گیا تھا وہ سکون میں تھی یہ بھول کر کے اسنے کسی کو بدعا بھی دی تھی جسکی سزا شروع ہونے والی تھی کچھ دیر بعد وہ اس سے الگ ہوا ” آؤ سوری ڈاکٹر اپائنٹمنٹ تو لیا ہی نہیں تھا پھر بھی ٹریٹمنٹ کروا لیا ۔۔۔” اسکے شرارتی لہجے پر وہ مسکرا دی تھی۔
“ تو ایک کام کرتے ہیں نہ ڈاکٹر کو ایکسڑا پیمنٹ بھی دیتے ہیں ! اسکے گردن میں منہ چھپائے وہ خمار آلودہ لہجے میں بولا گردن پر اسکے لبوں کی چھاپ سے وہ سمجھی کہ وہ کس بلا کو چھیڑ چکی ہے ۔اپنی کمر سے وہ اسکے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کررہی تھی مگر گرفت اسکی جان سے زیادہ مضبوط تھی ” جازب پلیز چھوڑیں مجھے ! وہ ایک دم اس سے الگ ہوا اور ہینڈز اپ کرلیے ” چھوڑ دیا !وہ پریشان ہوگئی تھی کہ کہیں وہ ناراض تو نہیں ہوگیا ” جازب میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔”
میں نے کچھ کہا سو جاؤ سکون سے اپنے آپ کو تیار کرو تمہاری مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا اور میں اپنی آخری سانس تک تمہاری مرضی کا انتظار کروں گا ۔۔۔” وہ گرنے کے انداز سے بیڈ پر لیٹا تھا اور آنکھیں بند کرلیں وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اسکے سینے پر سر رکھ لیا اسنے آنکھ کھول کر اسے دیکھا اسکے گرد حصار بنا بالوں پر لب رکھے پھر اچانک کچھ یاد آیا ” نازنین زمر لاپتہ ہے !اسنے ایکدم اسکی جانب دیکھا ” کیا ؟” ” ہاں دو ہفتے ہوگئے ہیں وہ ہوسپٹل نہیں ارہا میں اسکے گھر گیا تھا تو ارشاد نے کہا پتہ نہیں اچانک سب کہیں چلے گئے پھر انکے گھر میں علی انکل اور انکی فیملی آگئے تو انہوں نے بتایا کہ وہ کہیں چھُٹیاں منانے گئے ہیں انھیں بھی رحیم بابا نے بلایا تھا ” علی انکل کہہ رہے ہیں تو ہوسکتا ہے وکیشنز پر گئے ہوں ..” اور اسیر علی سے اس بات کا زکر کر چکا تھا کہ وہ جانے والے ہیں اسلیے جب انھیں انکے لاپتہ ہونے کی خبر ملی تو فوراً آگیا ” ہممم !!! ویسے وکیشنز سے یاد آیا ہنی مون پے کہاں جانا ہے ؟” آئی لو یو جازب ! اسنے ھیرت سے اسے دیکھا ” میں نے کچھ اور.پوچھا ہے ! ” نہیں مجھے کہیں نہیں جانا مجھے بس آپکی باہوں میں رہنا ہے ! اسکی بات پر اسکے چہرے پر ایک مدھم مسکراہٹ آگئی تھی بازؤں کا گھیرا اور تنگ کرلیا .یہاں اگر جازب اور نازنین کی محبت شروع ہوگئ تھی تو دور کسی دوسری دُنیا میں کسی کی سزا کا آغاز ہوگیا تھا. پورا محل لال گلابوں سے سجا تھا چھوٹی چھوٹی ہر رنگ پریاں پھولوں پر اُڑ رہی تھیں جنہیں زرمیش اشتیاق سے دیکھ رہی تھی ” ٹِنکر بیل !وہ ایک پری کو چھونے لگی ” روکو انھیں مت چھوؤ ! مگر جیسے ہی اسنے اسے ہاتھ لگایا وہ پارہ بن کر غائب ہوگئی ” ارے یہ کہاں گئی تبھی ضامن اسکے قریب آیا اپنے ہاتھوں کی انگلیوں ہو چھوا ایک سنہری پارہ نمودار ہوا اسنے پھونک ماری تو وہی پارہ ایک سنہری پری بن گیا ” واؤ میجک ! زرمیش اور محضوض ہوئی تھی اسنے ایک نظر زرمیش کے سراپے کو لمبی پیلے رنگ کی میکسی جسکے سولڈرز آف تھے جس سے اسکے سفید کندھے نظر آرہے تھے گلہ زیادہ گہرا نہیں تھا کمر تک آتے بال جو نیچے سے کرلی کیے گئی تھی عنابی ہونٹوں پر لائٹ پنک رنگ موٹی آنکھیں سُرمے سے لدی ہوئیں باقی سب تو ٹھیک تھا مگر ضامن کو اسکی میکسی رنگ پسند نہیں آیا تھا اسلیے اسنے چُٹکی بجائی تو ڈریس بدل گئی ڈارک ریڈ کلر کی میکسی تھی وہ بھی شولڈر آف ہی تھے .وہ منہ کھولے اپنے کپڑے دیکھ رہی تھی ” یہ کیا یہ تو ییلو تھی ….” وہ مُسکر کر آگے بڑھ گیا . مام وہ مجھے آپ سے ……..زمر کچھ پریشان ہوتا طلسم کے پاس آیا تو سامنے کا منظر اسے خاموش کرگیا آئینے میں کوئی پری اُتر آئی تھی چمکدار سُرخ لہنگا کندھے پر ایک طرف ٹکایا دوپٹہ کمر تک آتے کالے بال اور ان میں پھیلا موتیوں کا جال سُرمے سے لدی آنکھیں اور ان پر سُرخ آئی شیڈ سر پر لال جڑے تاج ” ہاتھوں میں چوڑیاں اور بازؤں پر بازو بند تن پر ہاف بلاؤز اور لہنگا کمر سے سُنہرے بڑے موتیوں والا کمر بند …طلسم نے محبت سے اسکے سر پر پلو دیا …..کسی کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ دروازے میں کھڑا اسے تکنے میں مصروف تھا.طلسم اسے نتھ پہنانے لگی جب وہ بول پڑا ” مام یہ نہیں پہنائے مجھے پسند نہیں !سب نے ایک ساتھ دروازے کی جانب دیکھا “زمر تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ ” مام وہ مجھے آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ بابا کہاں نظر نہیں آرہے ؟ ” وہ سناش شہر کے دورے پر گئے ہیں ! فاریہ نے جواب دیا وہ مُسکرا کر جانے لگا پھر مُڑا ” مام وہ …وہ جیولری مت پہنائے گا وہ مجھے پسند نہیں ! ” واہ ابھی تمہاری ہوئی نہیں کہ اپنی پسند نا پسند تھوپنے لگے اس پر ….! ” حق نہیں التجا کر رہا ہوں اگر وہ چاہیں تو پہن سکتی ہیں ! اسنے بلند آواز سے کہا اور چلا گیا مگر آواز آئینے میں سر جھُکائے نمزا کے کانوں میں پڑ گئی تھی . طلسم نے اسکی آدھی پہنائی نتھ اتارنی چاہی جب اسنے ہاتھ پکڑ لیا ” مجھے پہنی ہے یہ !فاریہ اور طلسم نے ایک دوسرے کو دیکھا ” مگر زمر کو پسند نہیں ہے ! فاریہ نے سنجیدہ لہجے میں کہا ” ابھی تو نکاح نہیں ہوا ابھی تو میری خواہش کو اہمیت دے دیں !” ” کیوں نہیں پہنو ضرور پہنو میری بچی کی ہر جواہش پوری ہوگی پھر ان کے تابع ہی تو رہتی ہیں ہم ! طلسم نے اسے نتھ پہنا دی جو اسکے ہونٹوں کے چوتھے حصے کا احاطہ کرگئی جو خباثت سے مسکرا رہے تھے ” دیکھیں گے کون کس کے تابع رہتا ہے !” نکاح کی رسم کے لیے وہ کب سے اسکا انتظار کررہا تھا سفید پرنس کوٹ میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہا تھا ضامن رومی اسیر سناش سب معلم بقراط کا انتظار کررہے تھے آخر وہ باہر آئے ” مبارک ہو ! ہر طرف مبارک باد کی چیخیں سُنائی دینے لگی تھی نمزا زمر کی ہوچکی تھی وہ خوش تھا مگر پریشان بھی کچھ غلط ہونے کا احساس ہورہا تھا .کچھ دیر بعد نمزا کو بھی وہاں لایا گیا ناچاہتے ہوئے بھی اُسنے نظر اُٹھاکر زمر کو دیکھا دل ایک دھڑکن چھوڑ گیا تھا اسکو دیکھ کر سانسیں منتشر ہوگئی تھیں نظروں کا رُخ پھیرا گہرا سانس لے کر خود کو پرُ سکون کیا زمر کا دل تو اسے دیکھتے ہی دُکھ گیا تھا زندگی میں اسکا پہلا قدم ہی ہرٹ کر گیا ایک تو اسکا نظریں چُرانا اور دوسرا اسکی ناک میں موجود نتھ ” میری پہلی خواہش ہی رد کردی گئ آگے کیا ہوگا ……!وہ افسردہ سا بیٹھ گیا تھا ضامن کی بنائی جاودوئی پریاں زمر اور نمزا کے گرد گھوم رہی تھی انھیں گدگدی کرتی زرمیش اداسی سے انھیں دیکھ رہی تھی کیونکہ کوئی بھی اسکے قریب نہیں آرہی تھیں ضامن نے ایک نظر انھیں دیکھا پھر زرمیش کو انگلیاں آپس سے مسلی ست رنگی روشنی نکلی اور زرمیش کے گرد پھیل گئی پھر اچانک سب کی توجہ کا مرکز زرمیش بن گئی سب مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے دلہا دلہن بھی نظروں سے الجھتی اسنے اپنے آپ کو دیکھا اسکی ڈریس تتلیوں سے بھری پڑی تھی ہلتی زندہ تتلیاں رنگ برنگی ضامن نے ایک نظر مسکرا کر اسے دیکھا اور وہاں سے چلا گیا ۔سناش بھی اسے نہایت غور سے دیکھ رہا تھا ضامن کا یہ عمل اسے بہت پسند آیا تھا مگر ایک کمی تھی مگر اسکی فاریہ اسنے اپنا ہاتھ سر کے پیچھے گھمایا نیلے رنگ کی روشنی نے فاریہ کا احاطہ کرلیا فاریہ ! طلسم کی آواز پر اسنے اسکی طرف دیکھا ” اپنے آپ کو دیکھو اسنے اپنے آپ کو دیکھا وہ اسکا لباس سنہری ہوگیا تھا اور سب سے خوبصورت تھے اسکی پشت چھوٹے چھوٹے سنہری پر اسکی ڈریس کو جو چھو رہا تھا اسکا رنگ اسکی جلد پر چھپتا جارہا تھا وہ حیران تھی یہ کیسے ہوا پھر سامنے سناش کو دیکھا جو دل تھامے کھڑا شرما کر اسنے سر جھکا لیا تھا ۔طلسم نے سوالیہ نگاہوں سے اسیر کو دیکھا جو پر سکون تھا ” مجھے نہیں آتا یہ خودی کر لو ! طلسم کا منہ اُتر گیا تھا جب وہ اسکے قریب آیا اسکی شہادت کی انگلی تھامی اور اسے اپنے گرد گھمانے لگا گھماتے گھماتے اسنے اسے کمر سے پکڑ اوپر اٹھایا آہستہ آہستہ نیچے تارا نیچے اتر کر اسنے اپنا گاؤن سنبھالے کے لیے کپڑوں کو ہاتھ لگایا تو نرماہٹ محسوس ہوئی اسنے نظریں جھکا کر دیکھا تو وہ کپڑا نہیں یوں لگتا تھا کسی نے گلاب کے پھولوں کو پرو کر لباس بنا دیا سڑیت کالے بال اور ماتھے پر بے بھی کٹ اس لباس کے بازو نہیں تھے مگر ہاتھوں سے کُہنی تک لال دستانے ضرور تھے اور خود بھی وہ ہم رنگ بن گیا تھا ۔طلسم نے بغیر کسی کی پرواہ کیے اسے گلے لگا لیا تھا ۔زمر اداسی سے سوچ رہا تھا وہ کیا کرے میرے پاس تو میجک نہیں جو یہ سب کرو پھر اسے ایک خیال آیا اسنے نمزا کا ہاتھ تھاما اسنے حیرت سے اسے دیکھا وہ اسے ہال کے بیچ و بیچ لے آیا حال نہایت بڑھا تھا جو ہر طرف سے پھولوں سے سجا تھا بیچ میں ایک بڑا سا جھومر تھا سنہری فرش سونے کا لگ رہا تھا اسکا ایک ہاتھ تھامے کھڑا تھا سب حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے جب اسنے نمزا کے کمر میں ہاتھ ڈال کر ساتھ لگا لیا سب اتنا اچانک ہوا کہ نمزا ہاتھ خود بخود اسکے کندھے پر چلا گیا وہ مسکرا کا اسے دیکھنے لگا کہ اچانک کہیں سے رومانوی بانسری کی آواز آنے لگی سب نے اس جانب دیکھا تو وہ رومی تھا جو نہایت مہارت سے ایک خوبصورت ساز بجا رہا تھا ۔قدم آگے پیچھے چلنے لگے وہ جیسے جیسے قدم ہلا رہا تھا نمزا خوبخود ہلتی جارہی تھی اسکے نہایت قریب اسنے اسکے کان میں سرگوشی کی ” آپ بہت حسین لگ رہی ہے سن فلاور ! اسکی جانب چہرا کرنے لگی تو لب اسکے گال کو چھو گئے وہ دو لمحے تو اسے دیکھتا پھر مسکرا دیا تھینک یو ! اسی کے ساتھ اسے گھما کر اسکی پشت کو سینے سے لگا لیا اپنے ہاتھ کے ساتھ اسکا ہاتھ بھی نمزا کے گلے میں موجود تھا وہ پھر اسکے کان میں سرگوشی کر رہا تھا ” ہم نے کہا تھا ہمیں یہ نتھ پسند نہیں آپ نے پھر پہنی کیوں ؟”ہاتھ ہٹاتے ہوئے وہ اسکی نتھ بھی ساتھ ہی اتار چکا تھا ۔وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی اسنے اسے اپنی جانب کھینچا ہاتھ چھوڑ دیے نمزا کے ہاتھ خوبخود اسکے سینے پر ٹِک گئے تھے
اسنے گہری نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
مریضِ عشق ہو میں ۔۔۔
کردے دوا ۔۔۔۔۔
ہاتھ رکھ دے تو دل پے زرا۔۔۔۔
اسنے بڑی محبت سے اسکے ہاتھوں کو تھاما اور پھر سی محوِ رقص ہوگیا طلسم خوش ہوتی زمر اور نمزا کو دیکھ رہی تھی جب اسے اپنے کمر میں کچھ احساس ہوا وہ اسیر کا ہاتھ تھا جو اسکا ہاتھ تھامے کھڑا تھا ” چلیں ! اسے گھما کر وہ بھی زمر اور نمزا کے قریب آگیا تھا اپنے محبتوں کی کمروں میں ہاتھ ڈالے انھیں اپنے ساتھ لگائے وہ مسکرا رہے تھے ۔جب سناش نے ہاتھ فاریہ کے سامنے بڑھایا ” اجازت ہے !” اسنے مسکرا کر ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے دیا سناش نے نہایت غور سے اسیر اور زمر کو دیکھا اور ان جیسی ہی پوزیشن لے لی انکے ساتھ اور بھی جوڑے تھے جو آگئے تھے محبت کے سکون بانسری کی دُھن نے ایک الگ ہی ساز ماحول بنا دیا تھا اکیلے تھے تو صرف ضامن اور زرمیش ۔۔۔۔ان کو دیکھ کر ان تینوں جوڑوں کے دل میں ایک ہی خیال تھا یہ کب ایک ہونگے ….نمزا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمر کو دھکیل دے آخر اسنے کر بھی دیا اسنے زبردستی اسکے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا اور دھکیل دیا سب کے قدم وہیں رُک گئے تھے وہ غصیل نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی پھر معصوم سا منہ بنا کر سناش کو دیکھا ” پیر مُڑ گیاتھا ابا جان ! اسکی بات سن کو زمر اسکے پیر کی طرف بڑھا مگر وہ پیچھے ہوگئی ” وہ…..ہم کمرے میں جاسکتے ہیں ابا جان !وہ زمر کو دیکھنے سے بھی گریز کر رہی تھی .سناش نے اثبات میں سر ہلا دیا .وہ چلی گئی تھی طلسم نے ایک نظر اپنے بیٹے کے اُداس چہرے کو دیکھا ” اسیر ہمارا فیصلہ غلط تو ثابت نہیں ہوگا ! ” طلسم تم کیسی باتیں سوچ رہی ہو ایسا کیوں ہوگا وہ دیکھو زمر خوش ہے اور نمزا بچی ہے تھک گئی ہوگی اسلیے چلی گئی تم ادھ دیکھو میرا موڈ کچھ اور ہورہا یے اسنے کمر سے کھینچ کر اسے بلکل اپنے ساتھ لگا لیا تھا ” اسیر کیا کر رہے ہیں یہ وقت ہے یا عمر ہے اس رومینس کی !وہ اسے دور کررہی تھی .” ارے تمہیں کس نے کہا ہم بُڈھے ہیں ہمیں دیکھ کر کون کہے گا .اج ہمارے بیٹے کی شادی ہوئی ہے ….مگر وہ مسلسل اسے دور کررہی تھی اسنے نظر بچا کر اسکے ماتھے پر بوسہ دے دیا وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی ” آئی لو یو ! طلسم نے مسکرا کر سر سینے پر رکھ دیا . ……….
…….. رات کے دوسرے پہر وہ اپنے کمرے کو دیکھ رہی تھی جو پھولوں موبتیوں اور چنبیلی کی خوشبو سے معطر کررکھا تھا.” اسکی ہمت کیسے ہوئی میری نتھ اتارنے کی .سمجھتا کیا خود کو ……نظر بٹھک بٹھک کمرے کی حالت پر جارہی تھی اسنے چٹکی بجائی پھول دھواں بن کر اُڑ گئے تھے اب وہ ایک عام کمرا ہی لگ رہا تھا ایک نظر خود کو دیکھا ” ہم اسکلیے اس سیج پر بیٹھے ہیں اسنےاُٹھ کر لباس تبدل اسنے سر سے پیر تک سیاہ لباس پہن لیا تھا آنکھیں رات کا منظر پیش کر رہی تھیں اسنے سارے زیور اُتار کر صرف نتھ پہنی تھی ” جس چیز سے تمہیں سب سے زیادہ نفرت ہوگی نمزا اسے دل و جان سے عزیز رکھے گی کُھلے بکھرے بالوں کو وہ سمیٹ رہی تھی جب وہ کمرے آیا مگر سامنے کا منظر اسے مسرور نہیں وحشت محسوس کروا رہا تھا بجھی مومبتیاں کُھلی کھڑکی اُڑتے سفید پردے اور آئینے کے سامنے وہ کالا وجود اسنے خُشک ہونٹوں کو زبان سے تر کیا. ” نن…نمزا ! اسنے پلٹ کر اسے دیکھا جو بالوں کی لٹ سے کھیلتی اسے دیکھ رہی تھی ” جی!وہ آگے بڑھا جب وہ اچانک بولی ” ارے کہاں آرہے ہیں اس وقت ہمارے کمرے میں کیا کررہے ہیں …” اسنے الجھی سی نظروں سے نمزا کو دیکھا ” یہاں اس وقت میں نہیں ہوں گا تو کب ہوں گا ؟ ” تم یہاں کیا کر رہے ہو دیکھیں یہ نکاح میں نے صرف اپنے ابا جان کی خواہش پر کیا ہے اس سے زیادہ کی امید مجھ سے مت رکھنا ….” ” اگر یہ نکاح منظور نہیں تھا تو انکار کیوں نہیں کیا ؟ اسکےالفاظ تو اس پر پہاڑ توڑ رہے تھے . ” آپ نے کیوں نہیں کیا آپکا ایک انکار میری زندگی تباہ ہونے سے بچا لیتا مگر آپ نے نہیں کیا مجھے نفرت آپ سے ….”نمزا کا انکشاف زمر کی آنکھیں پُر نم بھی کر گیا تھا اور اسے شرمندہ بھی اسے ٹوٹ کر نازنین یاد آئی تھی جو اسے اس جنجال میں ڈال کر خود جاذب کی محبت قبول کر چکی تھی .” تو لگ گئی بد دعا ! یہ اسنے زیر لب کہا تھا ” ہم معزرت چاہتے ہیں آپ اگر چاہیں تو ہم کو طلاق دے سکتے ہیں زبردستی کوئی رشتہ ہم نہیں رکھیں گے .”نمزا نے حیرت سے اسے دیکھا ” کیا دے سکتے ہیں؟ ” طلاق یعنی الگ ہونا رشتہ ختم کرنا آپ آزاد ہوجائیں گی .” ” ہاہا طلاق الگ ہونا رشتہ ختم کرنا ہم نہیں جانتے جس ریاست سے آپ آئیں وہاں کیا رسم و رواج ہے پر یہاں جو رشتہ ایک بار بن جائے وہ سانس ٹوٹنے کے بعد ہی ختم ہوتا ہے آپکی ایک غلطی کی وجہ آپ جانتے ہیں ہم تکلیف میں ہیں ….! ” اور میں تو بہت سکون میں ہوں! نظریں جھکائے یہ سب اسنے اتنی آہستہ آواز میں کہا تھا کہ وہ سن نہیں پائی تھی ” آپ ایک کام کریں ! اسنے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” بھاگ جائیں جہاں سے آئیں ہیں بھاگ جائیں غائب میرے زندگی سے ……! وہ تو جیسے اسے آج زندہ مارنے میں لگی تھی ” کیییا!! بھاگ جاؤ چوروں کی طرح میں پوچھتا ہوں آخر میری غلطی کیا ہے جو میں بھاگ جاو اپنے آپ سے ۔۔۔۔اپ سے اپنی گھر والوں کا سے بھاگ جاؤں اور کیوں ۔۔۔۔”
“ تمہاری غلطی یہ ہے کہ تم نے میری اجازت کے بغیر نکاح کے لیے ہامی بھر دی میں تم سے نکاح کرنا کرنا ہی نہیں چاہتی تھی مگر ابا جان نے اپنا فیصلہ مجھے اس طریقے سے سُنایا کہ میں انکار ہی نہیں کر پائی مگر اب بھی کچھ نہیں بگڑا تم مجھے چھوڑ کر بھاگ جاؤ گے تم میں اکیلی ہوجاوں گی اپنی زندگی میں آزاد کسی کی پابند کسی کی مرضی مجھ پر نہیں چلے گی ۔۔۔”زمر نے اسکی ناک میں موجود نتھ کو دیکھا ” آپ تو ابھی بھی کسی کی مرضی کا احترام نہیں کرتیں پر آپ جو کہہ رہی ہیں وہ ناممکن ہے میں آپ کو چھوڑ کر کہیں جانے والا ہاں آپکی چاہ کے مطابق آپ سے دور ضرور رہ سکتا ہوں ۔۔۔۔” نمزا کو اسکے جواب پر شدید غصہ آیا تھا وہ غصے سے اسکی جانب بڑھی جب اپنے ہی گاؤن میں پیر پھسلا اور اسکے اوپر گر گئی اگر پیچھے بستر نہ ہوتا تو شاید زمر کی کمر ٹوٹ چکی ہوتی زمر کے چہرے پر اسکے بال تھا جو اسنے کوفت سے پیچھے کیے سامنے اسکا چہرا اسکے قریب تھا اسکے ناک کی نتھ زمر کے چہرے کو چھو رہی تھی کھوئے ہوئے انداز میں وہ اسے دیکھ رہی تھی جیسے اپنی آنکھوں میں ہی جذب کرکے گی مگر زمر نے اسے خود سے دور کردیا اور کھڑا ہوگیا ناجانے کیوں یہ بات بھی اب نمزا کو بری لگ گئی تھی ” جاؤ یہاں سے ! “اسے بِنا دیکھے وہ وہاں سے چلا گیا جو کالے لباس میں منحوسیت کی سیاہی لگ رہی تھی ۔چھت پر لگے جھومر کا عکس اسکی آنکھوں میں دکھ رہا تھا ” آپ کو رسوا کروں گی آپ نے اچھا نہیں کیا میری بات نہ مان کر اپنے ہونے پر پھچتائیں گے آپ !
نمزا کے پاس سے وہ اپنی آرام گاہ میں آگیا تھا اور بیڈ پر رہے کی طرح بکھر گیا تھا ” تمہاری بدعا لگ گئی نازنین اب یہ کتنا توڑے کب سمیٹے کچھ علم نہیں میں کیا اتنا بُرا تھا کیا اس لائق کا کہ مجھے ایسی بد دعا دی جاتی ایسا ہمسفر دیا جاتا میں نے تو جاذب کی خوشی دیکھی ہاں شاید نازنین کے ساتھ زیادتی کر گیا میں مگر مجھے یہ سزا قبول ہے۔کتنی قریب تھی وہ میرے مگر اسکا ایک نقش بھی غور سے دیکھ نہیں پایا ۔خود سے دور کردیا کہ ماحول کے فسو میں کوئی گُستاخی نہ کر بیٹھو نفرت تو پہلے ہی کرتی ہے مجھ سے کتنا مشکل تھا اسے خود سے دور کرنا مگر مجھے اپنے حدود میں رہنا اور دوسرا اس سے دور رہنا ! اسنے اپنی آنکھیں پونچھی اور مسکرا دیا ” تجھے ہسنا ہے زمر سب کے سامنے ماں باپ بہن کے سامنے ۔۔۔۔۔۔۔!
