315.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 28

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

آدم صبح سویرے ہی شہد میں نگاڑا بجوا دیا تھا انھیں ایک مخصوص جگہ پر بلایا گیا تھا ۔سب حیران تھے کہ اب آدم ان سے کیا کہنا چاہتا ہے اشتیاق سے دو چار وہ آگئے تھے ان میں زمر اور نمزا بھی شامل تھے جن کے پاس کوئی طاقت نہیں تھی مگر عوام میں شامل ہوکر وہ بھی وہاں پہنچ گئے تھے ۔ عوام حیران تھی کہ آج پانچوں جادوگر ایسے ایک ساتھ جمع کیوں ہیں آخر آج چاہتے کیا ہیں “

“ ہم جانتے کے آپ سب کیا سوچ رہے ہیں یہی نہ کہ آج ہم سب ایکساتھ اس جگہ کیوں موجود ہیں کیونکہ آج ہم ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے والے ہیں آج سے ہم جادو ترک کردیں گے !” عوام میں شور مچ گیا تھا ” یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔۔ہم سے جادو چھین کر ہمیں مظلوم بنانا چاہتے ہیں تاکہ آنے ظلم کم پر کرسکیں اور ہم سہتے رہیں صیاد ظلم کی انتہا کردے !” انکے شور کو تھامنے صیاد خود سامنے آیا تھا کہتے ہیں وقت آنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے وہی صیاد کررہا تھا گدھی عوام کو اسے فلحال باپ بنانا تھا ۔” ہم جانتے ہیں ہم سے گزرے وقت میں ہم سے بہت غلطیاں ہوئیں ہیں ہمارے دوست آپکو ڈراتے دھمکاتے رہیں ہیں مگر یقین جانے ہمیں اس بات کا زرا بھی علم نہیں تھا ہم ہمیشہ دوستی نبھاتے رہے اور غلطیاں کرتے رہے اسلیے ہم آپ سب سے معافی چاہتے ہیں ہمیں معاف کردیں ہم آئندہ ایک اچھے وزیر بنے کی کوشش کریں گے !” الفاظ تھے یا شٹ اپ کال جو صیاد نے عوام کو دی تھی وہ تمام چپ کرگئے تھے آدم پھر ان سے مخاطب ہوا ” ہم ایک عام سادہ اور سرل زندگی چاہتے ہیں کیا فایدہ ایسی طاقتوں کو جو ہمارے غصے کا غلط فایدہ اُٹھائے اور ہم سے غلطیاں کروائے بعد میں شرمندگی کا کیا فائدہ ہم ان طاقتوں سے جان چڑھا لیں اور ایک ایسی زندگی سنائے جہاں محنت سکون ہو مشاورت ہو وہاں چھوٹی چھوٹی بات پر ایک دوسرے کو ختم نہیں کیا جائے گا اور نہ اسے نقصان پہنچایا جائے گا فیصلے ہونگے سزائیں لیکن سزائے موت نہیں ہوگی !!! عوام غور سے اسے سن رہی تھی اور صیاد تیزی سے انکے دماغ پر کچھ پڑھ کر پھونک رہا تھا وہ امادہ ہونے لگے تھے ۔ ” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ہمیں جادو چھوڑ دینا چاہیے !!!

“ ہاں ہمیں بھی عام انسان سی عام زندگی چاہیے !!

جہاں ہم پر کوئی اپنی طاقت کا دھونس نا جمائے !!! نمزا اور زمر ارگرد لوگوں کی بات سن رہے تھے ۔ان پانچوں کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی تھی آدم نے سنیار کا دیا ہوا پنہ ہاتھ میں ہاتھ میں لیا ” تو جو میں پڑھوں آنکھیں بند کرکے میرے ساتھ پڑھیں ! تمام لوگوں نے آنکھیں بند کرلیں تھیں سوائے زمر نمزا اور صیاد کے آدم منتر پڑھ رہا تھا تمام لوگ آنکھیں بن کیے الفاظ دوہرانے لگے کچھ ہی دیر سب کے جسموں سے عجیب روشنیاں نکلنے لگی وہ جگہ رنگ برنگی روشنیوں سے بھر گیا تھا جو ان لوگوں کے جسم سے نکل رہی تھی ۔زمر اور نمزا اپنے اردگرد جسموں سے نکلتی روشنیوں دیکھ رہے ۔نمزا کی پھِرتی نظر صیاد پر جاکر رُک گئی جو دبے قدموں وہاں سے کھسک رہا تھا نمزا جانے لگی تو زمر نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور نفی میں سر ہلا دیا ” زمر سب ختم ہو جائے گا نفیسہ آدم غفران شہورا زولفشان نعمت سب ماریں جائیں گے اسیر کو چھپا کر شہر سحر سے نکال دیا جائے ! زمر کی گردن جھکی تھی اسکی آنکھیں بند تھی ” آرورا کو گہری نیند سونا ہی سونا ہے کوئی کچھ نہیں کر سکتا !” اسنے بے بسی سے زمر کو دیکھا اور خاموش ہوگئی ۔کافی دیر بعد آنکھیں کھُلیں تو اس پنے کی جگہ بیج موجود تھا صیاد واپس آگیا تھا وہ اسے چھونے لگا تو آدم نے اسے اٹھا ” ہمیں اسے محفوظ کرنا ہوگا کوئی اس تک نہیں پہنچنا چاہیے ! وہ سب کے درمیان سے بیج لیکر چلا گیا تھا ۔عوام بھی واپس جانے لگی تھی شہباز نے صیاد کے کان میں سرگوشی کی ” چلیں اس سے وہ بیج لے لیں !

“ نہیں پہلے امبر پارہ آدم تو کمزور ہوگیا اسکی ساری طاقتیں تو چکی گئیں اسے بعد میں دیکھیں گے پہلے امبر پارہ کو حاصل کرنے دو ! شہباز زیبر اور وہ تینوں ہی نفاس جھیل کے لیے نکل گئے تھے ۔

پھر سے اسی سفید لباس میں موجود تھی سفید پروں کے ساتھ وہ جنگل تھا مگر خوف ناک نہیں سبز ہرے بھرے درخت درختوں سے نیچے گِرتی پھولوں سے لدی بیلیں ہر طرف پھیلی پھولوں کی سوندھی سوندھی خوشبو چہچہاتی چڑیا اور اسکے کندھے پر بیٹھا کبوتر تمام منظر مصنوعی سا محسوس ہوتا تھا کہ پھر اپنے ہاتھوں میں اسے کسی کا لمس محسوس ہوا دائیں جانب نظر گھمائی تو خوبصورت چہرے پر دلنشین مُسکان اگئی تھی ” کہاں تھے ؟” تمہیں دیکھنے میں مصروف تھا تم وقت کہاں دیتی ہو” سفید پروں کے ساتھ وہ اپنے پورے جمال کے ساتھ اسکے سامنے کھڑا تھا . ان دونوں کے پروں میں تھرتھراہٹ ہونے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتےوہ ہوا کے دوش پر سوار ہوگئے اڑتے اتکیلیاں کرتے اُڑ رہے تھے صیاد نے اپنا روپ بدلہ اور ہنس بنا ہوا میں اُڑنے لگا وہ خوبصورت تھا جو امبر پارہ کو متوجہ کرگیا جاودات ہواؤں میں اسکے لیے راستے ہموار کرتے آگے جارہا تھا ہنس دوسری جانب مُڑا تو امبر پارہ بھی دوسری جانب مُڑ گئی امبر پارہ اس ہنس کی جانب اسلیے آئی تھی کیونکہ اس ہنس کے پر سے خون نکلنے لگا تھا وہ نیچے اُترا تو امبر پارہ بھی اس کے ساتھ ہی اتر گئی وہ درد سے کراہ رہا تھا امبر پارہ نے اسے چھوا تو صیاد نے اسے پکڑ لیا اس سے پہلے وہ کچھ کرتی صیاد نے اسکے جسم کو مفلوج کردیا وہ صرف تھرتھرا سکتی تھی ۔کچھ کر نہیں سکتی تھی صیاد نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا تھا اچانک امبر پارہ کے غائب ہونے پر جاودات نیچے آکر اسے پکارنے لگا ” امبر پارہ ! امبر پارہ ! اسکے منہ پر ہاتھ رکھا تھا وہ اسے پکارنا چاہتی تھی مگر کرنی نہیں پارہی تھی کہ اچانک کئی تیر ایک ساتھ جاودات کے پر برس گئے وہ خون میں لت پت وہیں گرِ گیا ۔ ” جاودات !!! امبر پارہ کا وجود پھڑپھڑا کر ساکن ہوگیا تھا اسے وہیں تڑپتا چھوڑ کر صیاد امبر پارہ کو لیکر غار میں آگیا تھا وہ پتھر ہوگئی تھی اسے کمزوری محسوس ہورہی تھی اسکی آدھی طاقت مفلوج کردی گئی تھی اور آدھی زخمی صیاد اسے دیکھے جارہا تھا پاگلوں کی طرح شہباز اور زبیر تک کو اسنے بھیج دیا تھا ۔وہ اسے چھونے لگا تو کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اسنے نظر گھما کر دیکھا تو وہ شہوار تھا ” یہ کیا کر رہے ہو صیاد ! صیاد کی اس وقت اسکا یہاں ہونا بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا اسلیے اس نے اسے دیوار میں مار دیا .” شہوار کے سر پر چوٹ لگی تھی پر وہ حیران تھا صیاد نے یہ ۔۔” ہاہاہا یہی سوچ رہے ہو نہ کہ ہم نے یہ کیسے کیا تو سنا ہمارا جادو ہمارے پاس !!! شہوار کے ہوش کھوتے جارہے تھے مگر اسکی باتیں وہ اچھے سن پا رہا تھا ” چوں چوں شہوار تم کتنے بھولے تھے یہ آج جو سب کچھ ہورہا ہے نہ یا ہوگا وہ سب تمہاری وجہ ہے ہمارے دوست ہیرا ہم نے چوری کیا تھا شہرِ سحر کے لوگوں دماغ ہم نے پلٹے انھیں جادو دینے پر ہم نے منایا جاودات کو ہم نے مارا اور اب زولفشان اور آدم بھی مرے گے مگر اس سے پہلے تو تم آگئے تو چلو شروعات تم سے کرتے ہیں !اسنے شہوار کے گلے پر گرفت مضبوط بن گئی وہ پاؤں مار رہا تھا مگر بے سدھ آخر سانس ختم ہوئی تو صیاد کا ہاتھ بھی رُک گئے ۔وہ امبر پارہ کی طرف متوجہ ہوگیا یہ دیکھے بغیر کہ شہوار کی روح نکل کر کبوتر کی شکل اختیار کرگئی تھی ۔

اسنے امبر پارہ کے برہنہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبایا تو وہ خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگی اپنی پوری طاقت لگا کر اسنے اسے دھکیلا تھا ” جو مرضی کر لو اب تم صرف میری ہو رانی بنا رکھوں گا تمہیں ؟

امبرپارہ نے نفی میں سر ہلایا ” تمہاری یہ خواہش کبھی پوری نہج ہوگی پری ہوں میں اور پریاں کبھی جنات کو نہیں ملا کرتیں تم مجھے کبھی حاصل نہیں کر پاؤ گے میں ختم ہوجاوں گی مگر تمہیں کبھی ملوں گی !!!

“ اور تمہیں لگتا ہے میں تمہیں ایسا کرنے دو گا میں تمہیں کبھی مرنے نہیں دوں گا !!!

“ میں تمہاری آنکھوں کے سامنے مروں گی اور تم کچھ نہیں کر پاؤ گے مگر اس پہلے تمہیں تمہارے انجام کا پتہ دے دوں مروں صیاد اور حرام موت مرو گے تمہارا غرور سب تباہ کردیا جائے گا سب !!! یہ کہتے ہی اسنے اپنے پَر اُکھیڑنے شروع کردیا ” روکو یہ تم کیا کرہی ہو !” اسنے نظر انداز کرتی وہ اپنا کام جاتے رکھے اپنے پر اکھیڑ پر پھینک چکی تھی اب وہ ایک عام سادہ کی لڑکی لگ رہی تھی جس نے اپنے ہاتھوں کے ناخن چھریوں جیسے بنا لیے تھے صیاد اسکے قریب جانے لگا تو اسنے وہی ناخن اپنی گردن پر پھیر لیے خون کی دھار سیدھا صیاد کے چہرے پر گِری تھی ۔اور وہ اسی وقت دھواں بن کر اُڑ گئی تھی ” امبر پارہ !!!”

وہ وہیں بیٹھ گیا تھا سر پکڑ کر جب شہباز اور زبیر دوبارہ اندر آئے “امبر ۔۔امبر پارہ کہاں گئی ؟

“ مر گئی امبر پارہ میری ہونے کی بجائے اسنے موت کو گلے لگا لیا سب ختم ہوگیا مجھے کیا ملا اتنا سب کچھ کرکے !! وہ رونے لگا تھا ۔” شہرِ سحر! اسنے حیرت سے شہباز کو دیکھا ” اتنا سب کچھ کرکے ہمیں شہر سحر ملا ہے ہمیں اسے کھونا اس وقت سارے کو چھوڑ صرف ہم ہیں جن کا جادو برقرار ہے آؤ سب ختم کردیں سب کو ختم کردیں جاودات کی وہ تلوار جو ہمیں ملی ہے وہ تباہی ہے جو آج ہمارا راج قائم کردے گی ختم کردیے ہیں زولفشان غفران اور آدم کو ….”آدم کا نام سنتے ہی اسکے آنکھوں میں لہو اترنے لگا تھا ۔وہ ایک دم اُٹھا اور باہر کی جانب چل دیا ان تینوں کے جانے کے بعد وہ غار بھی بند ہوگئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدم کب سے سوچ رہا تھا کہ وہ یہ بیج کہاں چھپائے کہ اچانک اسکے سامنے ایک کبوتر اُڑنے لگا وہ بار بار اسے اپنی جانب متوجہ کرنے لگا نمزا اور زمر بھی اسکی جانب متوجہ ہوگئے آدم نقشے میں جگہ تلاش کررہا تھا اور وہ کبھی اسکے کندھے پر بیٹھتا کبھی اسکے بال کھینچتا نمزا کو شہر سحر کی تاریخ لکھ رہی تھی قلم چھوڑ اسے دیکھنے لگی ” ہمیں لگتا ہے یہ ہمیں کچھ بتانا چاہتا ہے اس کبوتر نے نمزا کی جانب دیکھا اور اسکے پاس چلا گیا سیاہی میں چونچ ڈبوئی اور پنے پر لکھنے لگا ” صیاد نے دھوکا کیا ! اسکی لکھی تحریر پڑھ کر نمزا کو سب سمجھ آگیا مگر یہ کون تھا جو انھیں آگاہ کر رہا تھا ” تم کون ہو ؟اسنے پھر سیاہی میں چونچ ڈبوئی اور لکھنے لگا “….”شہوار !” نام پڑھ کر نمزا کی آنکھیں کھولیں رہ گئی تھیں جب غفران بھاگا بھاگا اندر ” بھائی غذب ہوگا !آدم نے حیرت سے انھیں دیکھا ” کیا ہوا ؟

“ صیاد نے راجہ کو مار دیا !وہ تینوں ایک ساتھ اپنی جگہ سے اُٹھ گئے تھے ” کیا کہہ رہے ہو !”

“ جی بھائی جان صیاد نے دھوکا کیا اسنے جادو نہیں دیا اور اب وہ ہم سب کو مارنا چاہتا اس پھول کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں پھول کو محفوظ کرنا ہوگا ! آدم اپنے پیروں پر لرز گیا تھا ” بھائی جان یہ وقت ایسے بیٹھنے کا نہیں جلد از جلد ہمیں اس پھول کو محفوظ کرنا ہوگا وہ کسی بھی وقت ہمیں ختم کر سکتا ہے ! آدم سوچ میں پڑ گیا تھا اتنی جلدی وہ پھول کیسے چھپائے پھر اسے ایک خیال آیا ” اُطم یہ بیج سبسے زیادہ محفوظ اُطم میں رہے گے !!! وہ باہر کی جانب جانے لگا تو زمر بھی اسکے ساتھ چل دیا ۔” ہم بھی آپکے ساتھ جائیں گیں !”

“ نہیں زمر تم ہمارے ساتھ نہیں غفران کے ساتھ جاؤ صیاد اور اسکے ساتھیوں کو روکو ہم بیج کو چھپا کر آتے ہیں !

“ زمر غفران اور آدم تینوں چلیں جائیں گے لیکن بچہ اسیر تو یہیں ہے صیاد نے اسے مار دیا تو یا اسکے کسی ساتھی کو نہیں ۔۔۔۔)رُکیں جنابِ آدم ہمیں لگتا ہے ہمیں بیج چھپانے والے سے پہلے بیج کو پھول بنانے والے کی حفاظت کرنی چاہیے !”

کیا مطلب ؟ …نمزا دو قدم آگے آئی ” یہ بیج آپ کے کہنے کے مطابق صرف اپکی اولاد پھول بنا سکتی یے آپ بیج چھپانے چلے گئے اور پیچھے سے آپکی اولاد کو کچھ ہوگیا تو ہمیں لگتا ہے کہ آپکو بیج اور اسیر دونوں کی حفاظت ایک ساتھ کرنی چاہیے ! ” لیکن اسے کچھ نہیں ہوگا ہم ہےنہ انکی حفاظت صیاد انھیں کچھ نہیں کر پائے گا . ” آپ.سمجھ نہیں رہے آدم یہ بہت ضروری ہے یہ وقت ہم سب پر بہت بھاری ہے ہماری بات مانے اور بیج اور اسیر دونوں کو ایکساتھ بچائیں اسیر کو ایسی جگہ چھپائے جہاں اسے کوئی تلاش نہ کر پائے اگر آپ کے بعد وہ صیاد کے پاس چلا گیا تو وہ اسے صرف اپنے مقصد کے لیے پالے گا اس پر ظلم کرے گا .” آدم اسکی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا تھا .پھر وہ نفیسہ کے کمرے کی جانب بڑھا دونوں بچے جھولے میں لیٹے تھے نفیسہ سو رہی تھی اسیر کے ہاتھ میں کالا دھاگہ باندھا گیا تھا اسلیے اسے انھیں پہنچاننے میں مشکل نہیں ہوئی اسنے اسے باہوں میں اُٹھایا اسکا ماتھا چوما ” جانتا ہوں آپکے ساتھ زیادتی ہورہی ہے مگر وقت بہت برا آگیا ہے اگر ہم آج مارے گیئے اور وہ بیج اور آپ صیاد کو مل گئے تو سب ختم ہوجائے گا اسلیے ہمیں آپ کو اس سے بچانے کے لیے یہ کر رہے ہیں اگر ہم بچ گئے سب ٹھیک ہوگیا تو آپکو واپس لے آئیں گے ورنہ ہم نہیں رہے تو آپکو خود واپس آنا ہوگا شہرِ سحر کو بچانے اپنی امانت اُطم سے واپس لینے ہم آپکو شہرِ سحر میں نہیں چھپائیں گے اپکو دوسری دنیا میں جہاں سے ہم آئے تھے وہاں چھوڑ کر آئیں گے اپکی پہچان کے ساتھ ” اسنے اسے ٹوکری میں رکھا ایک تختی ڈھونڈی اور اس پر لکھنا شروع کیا . ! نام اسیر…. اوقات : اسیرِ طلسم…. پہچان : شہرِ سحر کا باشندہ اسیر اسیروں کا نجات دہندہ !اور تختی ٹوکری میں رکھ دی ” یہ تختی اپکی پہچان ہوگی جب تک یہ تختی آپکے پاس رہے گی شہرِ سحر سے آپ کا رشتہ بنا رہے گا.” نفیسہ کے ماتھےکو چھوا ” ہمیں معاف کردیجیے گا آپ سے بنا پوچھے ہم ہمارے بیٹے کو چھپانے جارہے ہیں اگر اج موت ہے تو ہمیں دونوں کو نہیں کھونا ! اور باہر چلا گیا .کتب خانے آیا بیج اٹھایا ” غفران تم محل جاو صیاد کو دیکھو اسے پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور زمر نمزا تم دونوں گھر پر ہی نفیسہ کے پاس رہو ! جلدی میں باہر نکل گیا غفران بھی پیچھے ہی جانے والا تھا جب زمر نے اسے روکا ” مجھے لگتا ہے ہمیں امبر پارہ اور جاودات کو مدد کے لیے بلا لینا چاہیے ! ” امبر پارہ اور جاودات کو اسنے سب سے پہلے ختم کیا ہے !!! بتایا اور چلا گیا زمر نمزا کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی ” امبر پارہ اور جاودات مر گیے صیاد نے انھیں مار دیا میری باربی میری زرمیش !!!! وہ باہر کی جانب بھاگا ” زمر ر ُکیں !وہ بھی اسکے پیچھے چل دی یہ سوچے بغیر کہ وہ گھر نفیسہ اور نعمت کو اکیلا چھوڑ گئے ہیں .

…………….✨…………..

آدم.پوری طاقت سے بھاگ کر کال جنگل پہنچا تھا ُاطم کے اندر کھڑا وہ سنیار سے مدد کی التجا کررہا تھا ” سنیار صیاد نے دھوکا کردیا ہیرا بھی صیاد نے چوری کیا تھا اور اسنے جادو نہیں دیا جھوٹ بولا اور اب وہ اب ختم.کررہا ہے اسکے پاس طاقتیں ہیں ہیرا بھی اس سے مقابلہ مشکل ہے تو میں یہ امانت آپکے پاس رکھوانے آیا ہوں !” اسنے بیج سنیار کو دکھایا سنیار کی نظر اس ٹوکری پر پڑ گئی ” یہ کیا ہے !! ” یہ میرا بیٹا ہے جو اس بیج کو کھلا سکتا ہے اسے چھپانے آیا ہوں محل میں میں نے کسی یہ نہیں بتایا کہ ہمارے جڑواں بیٹے ہوئے سب کی نظر میں ہمارا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ ہے نعمت اگر آج سب کی موت طے ہے تو اسیر بھی مر جایے گا اور جادو ہمیشہ کے لیے قید صیاد ظلم کے پہاڑ توڑ دے گا ! ” تم سہی کہہ رہے ہو اس بچے کا بچنا بہت ضروری ہے ! ” اور اسکے لیے مجھے آپکی مدد چاہیے مجھے چاند کے پار کی دنیا کا راستہ دیں جہاں اسے میں چھپا سکوں !” اسکی بات سن کر سنیار نے اطم کی چھت کھولی چاند کو قریب کیا اور اس میں دروازہ کھول دیا ” جاو آدم اسے محفوظ کر دو سہی وقت آنے پر شہرِ سحر کا یہ باشندہ لوٹ آئے گا ! آدم نے کوئی بھی وقت ضائع کیے بغیر دروازے کی چوکھٹ پار کی وہ گھاس تھی نرم گھاس اور اس پر بنی ایک عمارت جو اندھیرے میں ڈوبا تھا دیکھنے میں وہ کوئی حویلی لگ رہی تھی آدم نے بہت ہمت جٹا کر ٹوکری وہاں رکھی ” خخ…خُدا نگہبان ! اسے بغیر دوسری بار دیکھے وہ واپس مُڑ گیا اور دروازہ بند ہوگیا اسیر شہرِ سحر سے فیصل آباد زاہد شاہنواذ وِلا پہنچ گیا تھا . ” آدم اس بیج کو تم وہاں اس نم مٹی میں دبا دو ! سنیار نے اسے ایک جگہ دکھائے جہاں لال مٹی موجود تھی اسنے وہی کیا بیج بونے کے بعد وہ واپس جانے لگا تو سنیار نے اسے روک لیا ” ابنِ آدم واپس آئے تو پھول ڈھونڈے گا کیسے کیسے کسی پتہ چلا گا کہ اس پھول کو کھلانے کا راز کیا ہے ؟ سنیار کی بات پر وہ الجھ گیا تھا ” کیا ؟ ” پھول صرف تمہاری اولاد کھلا سکتی ہے جسے تم چھپا چکے ہو اگر کبھی کوئی جادو واپس لانے کے لیے ان دونوں کی تلاش میں نکلا تواسے کیسے پتا چلے گا کہ اسیر کہا ہے اور پھول کہا ں؟بات تو سنیار کی بھی ٹھیک تھی .” تو کیا کرو میں ؟” ” کوئی ایسی نشانی چھوڑو جو سمجھنا مشکل ہو یہ جسے کرنا مشکل ہو ! ” پہیلی !!! پہیلی ہی حل مشکل سے ہوتی یے ہم ایک پہلی لکھیں گے جس میں بیج کی جگہ اوراسیر کے بارے میں لکھا ہوگامگر اسے حل کوئی بہت سمجھدار کر پائے گا ! اسنے سنیار سے ایک تختی اور قلم مانگی اور اس پر پہیلی لکھ ڈالی وہی پہیلی جسے حل کرکے غفران اور طلسم اسیر کو واپس لائے تھے