315.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 6

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

وہ۔۔۔مام کہہ رہی تھیں کہ زرمیش کو اگر زکام ہوگیا ٹھنڈی جگہوں پر مت جانا ۔۔۔۔”

ماما ڈونٹ وری مجھے کچھ نہیں ہوگا دیکھیں کہاں جائیں انگلنڈ ! امریکہ نہیں سویز لینڈ نو آسٹریلیا بکواس ۔۔۔۔۔شہرِ سحر !! وہ جو سارے ملکوں کو خود چن کر رد کر رہی تھی زمر کے الفاظ پر رک گئی ” کہاں؟”

“ شہرِ سحر ! زمر کے منہ سے نام سن کر اسنے ولڈ میپ دیکھا ” مگر بھائی اس میں تو کوئی ایسی کنٹری یا سٹی نہیں ۔”

“ شہر سحر اپنے آپ میں ایک الگ دُنیا ہے جہاں کے لوگ میجک کرتے ہے انکی عام میں بھی جادو بھر پور ہے ۔۔”

)شہر سحر کا بازار عروج پر تھا خرید و فروخت بڑی گرم جوشی سے چل رہی تھی سامان خوبخود بِک رہا اور دوکان دار صرف انگلی ہلا رہا تھا گوشت کی دوکان پر خود چلتا بُگدا گوشت کے ٹکڑے کرتا جارہا تھا ۔مدرسوں میں اسباق کی رٹائی کا شور چار سو بکھرا تھا طالبعلم پَنوں پر لکھنے میں مصروف تھے کہ ایک بچے نے چور نظروں سےمعلم کو دیکھا متوجہ نہ پاکر اسنے قلم چھوڑا کچھ پڑھ کر انگلی گھمائی اور پنَے پر قلم خود چلنے لگا پر سکون ہوتا وہ انگلیاں چٹکانے لگا جب استاد صاحب نے کان پکڑ لیا ” محنت میں برکت ہے خود لِکھو !” ان سے کان چھڑا کر وہ لکھنے لگا ۔۔۔۔)

“ وہ اتنا خوبصورت ہے کہ اسکا حسن جنت کا شہبہ دیتا ہے اس دنیا جیسا شور شرابا آلودگی وہاں کچھ بھی نہیں تمام شے قدرت کے مطابق ہے ۔۔”

) نفاس جھیل سے گرتا موتیوں کی طرح ٹھنڈا اور شفاف پانی اپنے آ نے والے کو جادو میں بھگو رہا تھا جھیل میں موجود مخلوقات رنگ برنگی مچھلیاں دھنک کے رنگ اوڑھ رکھی تھیں ۔۔سناش کا بلندو بالا محل اور اسکے منار کے پیچھے شام میں گم ہوتا سورج اور مسحور کن ہوا باغوں میں کھلے بے انتہا پھول انکی خوشبو گشت کرتے بھنورے تتلیاں اور رات گئے جگنوؤں کا بسیرا رات کے اندھیرے میں کال جنگل سے اٹھتی بھیڑوں کا آواز سوکھی ٹہنیاں اور پتوں سے محروم کئی درختوں کی وحشت پھل دار بھاری درختوں کی وجہ ہوا میں موجود نمی اور خاموشی ۔۔۔۔ لمبے چوغوں پر بالوں کا ڈھانپے شہر سحر کی خواتین کا چوغوں پر ٹوپیاں پہنے مرد حضرات پاکیزگی کا وہ درس تھے کہ معاشرا آئینے کی طرح شفاف تھا ۔۔۔)

تم نے آج تک سِمبھا اور مافاسا ٹی وی میں دیکھیں میں نے حقیقت میں دیکھے وہ دو شخصیات جن کا بہادری اور سخی پن شہر سحر اور کال جنگل دونوں توازن کو برقرار رکھتا ہے ۔۔اسیر اپنے دوستوں کو یاد کرتا سناش کو تصور میں لے رہا تھا ۔

) سورانچھ اپنی کچھار میں بیٹھا تھا کہ ایک ہرن ڈرتا سامنے سے گزر نہیں رہا تھا اسے ڈر تھا یہ بھوکا شیر کہیں مجھے نگل نہ لے … ” گُزر جاؤ تم میرے جنگل کے باشندے ہو تمہارا گوشت حرام ہے مجھ پر ۔۔۔۔” اسے تنبیہ کرکے وہ خود دوبارہ آنکھیں موند گیا ۔۔۔۔۔سناش سکون سے اپنے سامنے کھڑے ضامن کو دیکھ رہا تھا جو تلوار پکڑے گھٹنوں پر ہاتھ رکھےسانس بحال کر رہا تھا ” ابا اس عمر میں کہاں سے اتنی طاقت آتی ہے آپ میں ۔۔۔۔” وہ دونوں تلوار بازی کی مشق کررہے تھے اور ضامن تھک چکا تھا ” تم چند پینترے سیکھ کر مجھے مات دینا چاہتے ہو جس نے تمہارے پیچھے کھڑے ہونے والا لشکر تیار کیا ہے ۔۔۔)

اسیر اور طلسم اپنی ماضی کی یادوں میں گم تھے زمر مسکرا کر انھیں دیکھ رہا تھا اور زرمیش بور ۔۔۔” مووی نیم بتا دیجیے گا ویسے تو مجھے انگلینڈ جانا ہے ۔۔۔۔!

زرمیش ررکو ! زر۔۔۔۔۔زمر نے طلسم کا ہاتھ تھام کر اسے روک دیا تھا ۔”ہم سہی کر رہے ہیں نہ زمر اسے کچھ ہوگا تو نہیں میں اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ کتنا مشکل ہوگا سمجھنا جب میں نے اسیر کو سمجھایا تھا تب وہ بھی نہیں مانے تھے جلدی ۔۔۔۔۔!”

“ اچھا تو مام پھر بابا آپ مانے کیسے تھے ؟”اسنے اسیر سے سوال کیا .

“ میں اکثر خواب میں دیکھا کرتا تھا کہ چاند سے ایک دروازہ کھُلا اور بابا مجھے وہاں بلاتے ہیں طلسم نے مجھے وہ دروازہ کھول کر دکھایا تھا پھر جاکر میں یقین کر پایا تھا ۔” اسیر کے جواب نے زمر کو حل دے دیا تھا ” تو ہمیں زرمیش کے ساتھ بھی یہی کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔مام آپ کر لیں گی اب بھی ۔۔۔۔۔۔!”

“ زمر پچس سال ہوگئے ہیں میں نے پلٹ کر ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا ناجانے وہاں کیا تبدیلیاں آگئی ہوں ہوسکتا ہے وہ جادو اب کوئی استمعال بھی نہ کرتا ہو ۔۔۔۔۔”

“ مام کو شش تو کر سکتے ہیں !” اس اسنے اثبات میں سر ہلایا ” اوکے آج رات ڈن ! “طلسم اور اسیر دونوں اداس ہوگئے تھے ۔