Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 24
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
دیر آدم سے بات کرنے کے بعد جب وہ واپس کمرے میں آیا تھا نمزا صوفے پر سو چکی تھی وہ کچھ دیر تو اسے دیکھتا ہی رہا ” اسے ابھی تک سمجھ نہیں آیا ” اسنے نرمی سے اسے باہوں میں اٹھایا مگر پھر بھی اسکی آنکھ کھل گئی اسنے نکلنا چاہا تو اسنے پکڑ اور مضبوط کردی ” وہاں کیوں سو رہی تھی !”
” وہ ۔۔وہ آپ نے صبح کہا تھا کہ بستر پر میں سو گا تو اسلیے !”
“ تو میں نے یہ کب کہا تھا کہ اکیلا سوؤ گا !” اسے بیڈ پر اتارنے کے بعد وہ اس پر ہی جھکا تھا ” ۔وہ۔۔۔وہ دونوں رہتے تو ہم آپکے قریب چلے جاتے ا۔۔۔۔اور آپکو اچھا نہیں لگتا نہ ہمارا قریب آنا آپ آنے نہیں دیتے اسلیے ہم وہاں سو گئے تھے ۔”اسنے چہرے اسکے اور قریب کرلیا ” آج اگر اجازت دوں تو کتنا قریب آؤ گی ! اسکے کان میں سر گوشی کرتے وہ اسکی جان کی لو کو چھو رہا تھا ۔ ” زمر آپ بہت بدل گئے۔۔۔۔ہیں ہم نمزا ہیں آپکو یاد ہے نہ ” اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” ہووو مجھے لگا تم صبا قمر ہو ! نمزا کا منہ بن گیا تھا ” وہ کون ہے ؟”
زمر نے چپت لگائی ” ڈمبو ! مجھے پتا ہے تم نمزا ہو اور میں جو کچھ کر رہا ہوں اپنے ہوش و حواس میں کر رہا ہوں صبحا اتنی محبت کرچکا ابھی بھی پتا نہیں چلا کہ میں تمہیں معاف کر چکا ہوں !”
“ ہیں آپ نے سچ میں ہمیں معاف کردیا !” وہ چہک اُٹھی تھی .اور وہ اسے ہسنتے ہوئے دیکھ رہا تھا آخر صبر کی حدیں ٹوٹتی جارہی تھیں وہ اس پر جھکتا جارہا تھا ” آج تمہیں تمہارے چند سوالوں کے جواب بھی دینے ہیں ! وہ بستر پر لیٹتی جارہی تھی ” کونسے سوال ! ” وہی جو تم نے اپنی آنکھوں میں چھپا رکھے تھے وہی جو غلط وقت پر پوچھے تھے وہی جو رو کر پوچھے تھے جو کبھی ہنستے ہوئے پوچھے تھے ! وہ اسکے کان میں سر گوشیاں کر رہا تھا ” پہلا سوال : میں نے تم سے نکاح کے لیے ہاں کیوں کہا ؟ نمزا نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا اسنے سب سے پہلے لب اسکے ماتھے پر رکھے.” جب مجھے اس بات کا علم ہوا کہ ہمارے نکاح کا فیصلہ ہوچکا ہے تو مجھے امید تھی تم کچھ بولو گی اپنے حق کے لیے مگر تم نہیں بولی میں انکار کرتا تو سناش انکل کو لگتا میری بیٹی کو دھتکار رہا ہے کمی نکال کر منع کردیا تم برداشت کر پاتی ایک لڑکے کا انکار وجہ پوچھے تو کیا جواب دیتا تم نہ کچھ بولی نہ میرے ضمیر نے کچھ بولنے دیا اسلیے ہاں کردی !”نمزا نے محبت سے اسکا چہرا تھاما اور اسکے ماتھے کو چھو لیا ” ہم اس ہاں کے لیے شکر گزار ہیں آپکے !” زمر کے ہونٹوں کا سفر اب آنکھوں تک پہنچ گیا تھا ” تمہارا دوسرا سوال : نکاح کی پہلی رات جب تم مجھ پر گری تھی لمحے کے فسو میں بہک گئی تھی تو میں نے تمہیں دھکیلا کیوں تھا ؟” اس سوال کو جواب تو تب سے سننا چاہتی تھی ” وہ وقت ہی ایسا تم پہلے سے مجھ بد گمان تھی لڑ رہی تھی خود کوچھوڑنے کا کہہ رہی تھی وہ لمحے اگر کوئی گستاخی ہوجاتی تو معملات بہت بگڑجاتے جو شاید کبھی نہ سلجھ پاتے پہلے نظروں میں بدگمان تھا پھر گرِ جاتا !” نمزا نے اپنے ہونٹ اسکی آنکھوں پر رکھے ” وعدہ کریں اب سے اپکی تمام محبت میرے لیے ہوگی !! وعدہ ! ہونٹ اب گالوں پر سراراہٹ کرنے لگے تھے نمزا کو اسکی بیرڈ چبھی تھی منہ سے سسکی نکلتے رہ گئے جو اسے کچھ یاد دلا گئی ” شیرنی صرف دور سے بنتی ہو قریب آنے پر تو سسکیاں بھی سرگوشی میں نکلتی ہیں ! مسکراہٹ اور گہری ہوگئی تھی .” تمہارا تیسرا سوال : تمہارے سب کچھ کرنے کے بعد بھی میں محل چھوڑ کر کیوں نہیں گیا.” ” نہیں زمر اس سوال کا جواب نہیں سننا ہمیں بہت شرمندگی ہوتی ہے ہم یہ وقت شرمندگی کی نظر نہیں کرنا چاہتے .” ” کس سے شرمندہ ہو مجھ سے کوئی ضرورت نہیں ہے میں محل چھوڑ کر اسلیے نہیں گیا تھا کیونکہ اگر میں محل چھوڑ کر چلا جاتا تو میں بھگوڑا بن جاتا زندگی میں بہت بھاگا ہوں عزتیں بچانے کے لئے تب پہلی بار اپنی عزت داؤ پر لگی تھی بھاگ جاتا تو مام بابا زرمیش سب کو طعنے برداشت کرنے پڑتے اور تمہیں بھی ایک بھگوڑے کی زوجہ کہا جاتا اور میں بھاگتا کیوں تم سے محبت کی تھی گناہ تو نہیں اور سنو صاحب محبت زندگی ہے موت نہیں !! اسلیے نہیں گیا .” گالوں سے لب گردن تک پہنچ گئے تھے نمزا بغیر کسی مزاحمت کے بس سُنے جارہی تھی اسکی گردن پر.لب رکھنے کے بعد وہ پھر گویا ہوا تمہارا چوتھا سوال : اسنے گہرا سانس لیا ” نازنین کون ہے ؟” نمزا اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی ” وہ جو کوئی بھی تھیں حقیقت ہم ہیں! ” وہ ….وہ تھی جس نے مجھے تم دی تھی وہ مجھ سے محبت کرتی تھی اور شاید میں بھی ! نمزا نے اسکا چہرا اپنی جانب اٹھایا ” بولا نہ شاید مگر مجھ سے پہلے نازنین کو کسی اور نے چاہا تھا اور وہ تھا جازب میں نے جازب کو نازنین دے دی تو نازنین نے مجھے بد دعا دے دی کہ جس طرح میں نے اسکی محبت دھتکاری ہے اسی طرح میری محبت مجھے دھتکارے گی رُلائے گی رسوا کرگے اور پھر سمیٹ لے گی !! دونوں کی انکھیں بیک وقت بھیگ گئی تھیں ” اور ہم نے اسے پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ! ” ایک ایک حرف پورا کیا تم نے مجھے دھتکارا بے عزت کیا رسوا کیا رُلایا انسوں تک نکلنا بند ہوگئے ! نمزا کا رونا ہچکیوں میں تبدیل.ہوتا جارہا تھا .زمر نے چہرا اسکی گردن میں گم کرلیا تھا آج تو زخم سے خود لہو لہان کیا تھا اسکے کانوں میں پھر سے الفاظ گونجنے لگے تھے ” نام زمر ۔۔۔۔۔۔شہزادی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی زانی زمر زانی ہے رہپسٹ !! مگر آج اسے نمزا سے دور نہیں جانا تھا ۔اسے اسی میں سکون تلاش کرنا تھا ” تمہارا پانچواں سوال : کیا میں تم سے محبت نہیں کرسکتا ؟”
اسنے اسکی بیوٹی بون پر محبتوں کا ہار پرو دیا تھا ” ہاں میری ساری محبت تمہارے لیے ہے تمہارے علاوا کسے کروں گا وہ بس ناراضگی میں خود کو تم سے دور رکھا تھا تاکہ تمہیں احساس ہو کہ تم مجھے کھو چکی ہو !”
نمزا نے اسے اپنے اندر بھینچ لیا تھا ” نہیں ۔۔۔نہیں ہم آپکو کھونا نہیں چاہتے کبھی نہیں ہم مر جائیں گے آپکے بغیر آپ ہمیں معاف تو کر چکیں ہیں تو پھر یہ سب کیوں دُہرا رہے ہیں ہمیں کسی سوال کا جواب نہیں چاہیے ہمیں بس آپ چاہیں!” اسنے بامشکل اپنا آپ اس سے چھڑایا ” یہ سب دُہرانے کا مقصد تمہیں شرمندہ کرنا نہیں ہے میں تو اپنا زہر باہر نکال رہا ہوں ورنہ یہ مجھے اندر سے کھا جاتا ! اور اب تمہارا سب سے اہم اور آخری سوال ” نمزا نے حیرت سے اسے دیکھا ” اہم ؟”
“ سب سے اہم سوال یہ کہ آئی لو یو کے جواب میں کیا کہتے ہیں ؟ روتے روتے بھی وہ ہنس دی تھی ۔
” بولو آئی لو یو ! اسکے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے وہ جیسے حکم صادر کررہاتھا ” ائی۔۔۔لو ۔۔یو !
“ آئی لو یو مور دین ایوری تھنگ ! وہ اسکے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لے چکا تھا اسکی گردن کے گرد بازو حائل کرتی وہ خود کو اسکے سپرد کر چکی تھی بغیر چاند کی چاندنی رات میں بھی محبت نے چار سو نور بکھیر دیا تھا تاروں کی ٹمٹماہٹ گواہ تھی کہ آج زمر کی محبت تکمیل کو پہنچ گئی تھی نمزا کا صبر رنگ لے آیا تھا پہلے پنے کے قیدی نفرتوں کے قفس سے آزاد ہوگئے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح ان دونوں کی زندگی کی خوبصورت شروعات تھی اسکے سینے پر سر رکھے وہ ابھی تک سو رہی تھی مگر زمر اسکی ہاتھوں کی انگلیوں سے کھیل رہا تھا کبھی انھیں لبوں سے لگاتا کبھی اپنی انگلیوں میں پھنسا لیتا یہی تو تھیں جس نے اسے اٹریکٹ کیا تھا اسکے چہرے پر گُزرے وقت کی مسکان تھی اسنے جھک کر اسکے چہرے کو دیکھا وہ سوتے ہوئے کتنی معصوم لگتی تھی اچانک ایک خیال آیا اسکا سر تکیے پر رکھا اور باہر چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدم صبح سویرے ہی سورانچھ کو لیکر محل آگیا تھا اکیلے کمرے وہ اسے سب کچھ بتا چکا تھا آدم پریشان ہوا تھا مگر زولفشان ڈر گیا تھا وہ بستر پر گِر ہی گیا ” اب کیا ہوگا آدم پورا شہر چھان مارا ہے ہیرا نہیں ملا اوپر سے سنیار نے اتنی بڑی سزا دے دی اسکا انجام کیا ہوگا !”
“ انجام ہا۔۔۔موت ہماری ایک ایسی پرُ اسرار موت جسکا سالوں تک پتا نہیں لگ پائے گا ! زولفشان نے حیرت سے اسے دیکھا ” کیا مطلب ؟”
“ مطلب یہ کہ سورانچھ یہی ہے جو ہماری سزا کم کروا سکتا ہے ہمیں اسے پالنا ہوگا ہوسکتا ہے اسکی حفاظت شہرِ سحر کی حفاظت کی ضامن بن جائے ! زولفشان نے سورانچھ کی جانب دیکھا جو کڑی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اسنے اسے ہاتھوں میں اٹھایا ” تو ٹھیک ہے یہ محل میں پرورش پائے گا ہمارا بیٹا بن کر اور بنے کا کال جنگل کا راجہ سورانچھ !”
سورانچھ کو محل چھوڑنے کے بعد وہ شہر کے دورے کے لیے نکلنے والے تھے جسکی تمام تیاریاں مکمل کرلیں گئی تھی ۔وہ شہر میں بازار کے بیچ ہی آئیں ہونگے کہ انکی آنکھیں کھُلی رہ گئی پورا بازار بکھرا پڑا تھا گند پھیلا ہوا تھا ” یہاں کیا ہوا ہے ؟
٫ ایک بُڑھیا روتی ہوئی انکے پاس آئی ” راجہ وہ عجیب و غریب مخلوق جو نہ تو پرندہ ہے نہ انسان انکے پر ہیں انکے پاس منہ زور طاقت ہے میرا بیٹا جنگل میں لڑکیاں کاٹنے گیا تھا اس مخلوق نے اس پر حملہ کردیا جب سے وہاں وہ مخلوق آئی ہے کال جنگل میں جانا جان جوکھم کا کم ہوگیا لوگ مارے جارہے ہیں کہتے ہیں یہ کمرا جنگل ہے اسکی لکڑی تو ایک پتہ نہیں لیجانے دیں گیں میرے بچے کو مارا آدھ مواد کردیا سارا بازار بکھیر گئے !” اس بُڑھیا کی رُوداد نے زولفشان اور آدم دونوں کو پریشان کردیا “راجہ صرف لوگوں کبھی بھی بازار میں آجاتے ہیں شرارتیں کرتے ہیں بے حیائی پھیلاتے ہیں ! دوسرے باشندے نے کہا ” انھیں نے حیا کا پتہ ہے نہ تہذیب کا کچھ کریں راجہ انھیں شہر سحر سے دور رکھیں !” بازار کے حالات و واقعیات سُننے کے بعد وہ سب محل آگئے تھے اسکا حل سوچنے کے لیے .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمزا کی جب آنکھ کھلی تو وہ بستر پر اکیلی تھی اور ایکدم اٹھ بیٹھی تھی ایک نظر اپنی حالت دیکھے بکھرے بال اپنے آپ سے اتنی کسی اور کی خوشبو ” کہیں وہ سب خواب تو نہیں تھا ! وہ ایک دم بستر سے اٹھی گاؤن سنبھالتی وہ باہر کی جانب بھاگی کہ اچانک پیروں کے نیچے کچھ نرم محسوس ہوا نیچے دیکھا تو تازہ سُرخ گلاب کی پتیاں بِچھی پڑی تھیں ایسے جیسے کسی منزل کی اور لے جارہی ہوں وہ اسی راستے پر چل دی گھر کے پیچھے جاکر ختم ہوگیا اور وہاں سے شروع ہوگیا لازوال محبت کا سفر جھولے کو خبصورت بیلوں سے سجائے چاروں اور پھول کھلائے تتلیاں اُڑائے بھنورے بلائے وہ اسکا انتظار کر رہا تھا رُخ موڑے وہ سورج کو بہت کوشش سے تک رہا تھا ” آج سورج کی شعاعیں بہت زیادہ روشنی نہیں پھیلا رہی آج اتنا نور کیوں ہے دن میں !
“ رات کی سیاہی میں نور پھوٹا تھا محبت کا دن کے اجالے نے اسے قبول کرکے اپنا آپ پُرنور کرلیا !” آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی جواب دیتی وہ اسکی جانب چل دی تھی ” کس محبت کا ؟” اسکے سوال پر نمزا مسکرا دی تھی ۔
“ وہ محبت جسکی شروعات بد گمانی اور مجبورے کے پتھریلے راستے سے ہوئی تھی وہ محبت جس نے غرور اور تکبر کے طوفانوں کا سامنا کیا وہ محبت جو سرِ بازار رسوا ہوئے تو بند کمرے میں بے عزت وہ محبت جسنے تہمتیں سہی وہ محبت جسنے ظلم و ستم سہے وہ محبت جو صبر ٹوٹنے پر پتھر ہوگئی وہ محبت جسنے ایک نک بڑی شہزادی کو اپنی کنیز بنایا وہ محبت جسنے بے مول کیا تو وجود مٹا وہ محبت کہ جسنے عشق کیا تو روم روم چھنکا دیا وہ محبت جو مان بنی تو شنگار بن گئ وہ محبت جسنے مردہ جسم میں جان ڈال دی وہی محبت جسنے دن کو نور بخشا وہ محبت جسنے رات کی سیاہی میں بھی تاروں سی چمک پا لی وہ محبت جو پتھریلے راستے کو پھولوں کی راہ بنا گئی وہ محبت جو نمزا کو زمر سے ہوگئی ۔۔۔۔۔” وہ جھولے تک پہنچ چکی تھی جھولے کی رسی کو پکڑے اسنے پلٹ کر اسے دیکھا وہ خوش تھی حسین لگ رہی تھی اسنے کندھوں سے پکڑ کر اسے جھولے پر بٹھایا اور جھولانے لگا ” یہ فلسفہ نگاری کہاں سے سیکھی !
“ آپ سے !” اسکے جواب پر وہ کچھ حیران رہ گیا ” مجھ سے وہ کیسے !”
ایک ایک حرف ایک ایک لفظ آپ نے سکھایا آپ نے سمجھایا کہ محبت کیا ہے وہ صبر ہے عزت ہے مان ہے شنگار ہے سب کچھ ہے !”وہ اسکے ساتھ جھولے پر آکر بیٹھ گیا کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے قریب کرلیا ” بہت کچھ نہیں سکھا دیا میں تمہیں ! “
“ میں بھی تو آپ ہی ہوں جب عشق ہوتا محبت ہوتی دو وجود دو کب رہتے ہیں ایک ہو جاتے پھر اس میں وہ نہیں اسکا محبوب بولتا ہے اور آپ تو پہلے ہی بہت سمجھدار ہیں !” زمر کے اسکے ماتھے پر لب رکھے ” آئی لو یو !
“ آئی لو مم۔۔۔مور۔۔۔۔۔۔دی۔۔۔۔ہمیں نہیں کہنا نہیں آتا جو آپ نے رات کو بتایا اسکا جواب ہمیں نہیں آتا ! اسکا منہ اُتر گیا تھا۔
اسنے اسکا چہرا ہاتھوں میں تھاما ” تمہیں خود کو بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی جواب دینے کی میں نے پوچھا تھوڑی ہے کہا ہے تمہیں بس مجھے سُنا کرو !
“ زمر ہم بھی آپ سے بہت پیار کرتے ہیں اتنا کہ آپ کبھی ماپ نہیں سکیں گے ہمیں آپ سے بے حد محبت ہے !”اسنے بھی اسکا چہرا پکڑ لیا تھا وہ دونوں ایک دوسرے میں کھو سے گئے تھے جب آدم کے کھانسنے کی آواز سے ہوش میں آئے ” اہم اہم!! اگر تم دونوں کے محبت کے پروانے اُڑ چکے ہوں تو کیا ہم بات کر سکتے ہیں ؟اپنی بات کہہ کر وہ اندر کی جانب چل گیا وہ کچھ دیر تو ساکن سوچتے ہی رہے کہ کیا ہوا پھر ہنس دیے اور اندر آگئے جہاں آدم پریشانی سے ٹہل رہا تھا ” کیا ہوا جنابِ آدم ؟
“ امبر پارہ اور جاودات نے شہرِ سحر میں طوفان اٹھا رکھا ہے کلی بازار سارا تحس نہس کردیا انھوں اور کال جنگل پر قبضہ جما رکھا ہے انھوں نے کسی کو آنے نہیں دے رہے کچھ کرنے نہیں دے اور آج جب محل کے چند سپاہی انھیں لینے گئے تو جانتے ہو کیا ہوا !” اسنے ہوا میں انگلیاں گھمائیں تو ایک منظر بن گیا کال جنگل میں بنا بھونڈر اور اس میں دم توڑتے سپاہی وہ دونوں انھیں ایسے دیکھ کر خوش ہورہے تھے آدم نے منظر ختم کردیا ” راجہ نے اس مسئلہ کا حل ہمیں نکالنے کے لیے کہا ہے تو بتاؤ زمر کیا کرو میں ان دونوں کے ساتھ ؟”
ان دونوں کی تو بولتی منظر دیکھتے ہی بند ہوگئی پھر آخر نمزا ہڑبڑا کر بولی ” دیکھیں جنابِ آدم وہ بچے ہیں !
“ بچے ہیں ! آدم نے ایسے دوہرا یا جیسے تنز کر رہا ہو
” ہمارا مطلب ہے وہ تھوڑے حساس ہیں ڈر جاتے ہیں کہ ہو بھی آئے گا انھیں نقصان پہنچائے گا ورنہ دل۔کے بہت اچھے ہیں ؟” آدم نے زمر کی جانب دیکھا کو خاموشی سے گردن جھکائے کھڑا تھا ۔
“ جانتے ہو آج ان اچھے بچوں نے کیا کیا ایک بوڑھی عورت کے جوان بیٹے کو اپنی طاقت میں جکڑ کر معزور بنا دیا وہ واحد کفیل تھا جو لکڑی کا سامان بناتا تھا کال جنگل سے لکڑی لاتا تھا اب بتاو اچھے بچے ایسا کرتے ہیں ؟”وہ دونوں شرمندگی سے سر جھکائے کھڑے تھے ” جانتے ہو یہاں لوگ جادوگر ہونے کے باوجود بھی محنت کیوں کرتے ہیں کیونکہ انھیں میں سمجھایا تھا کہ محنت میں برکت ہے وہ جادو سے زیادہ اپنے ہاتھوں سے کام لیتے ہیں شہر سحر ایک کاروائی دُنیا ضرور ہے مگر میں نے کبھی انھیں جادوگر بن کر رہنے کا کہا نہیں اسلیے وہ لوگ محنت کرتے ہیں میرے ایک بار کہنے پر وہ جادو سے باز رہتے ہیں تو میرا بھی فرض بنتا ہے کہ میں انکی حفاظت کروں تو میرا فیصلہ یہ ہے کہ امبر پارہ اور جاودات کو !!!ان دونوں نے بے چینی اسکی جانب دیکھا جیسے التجا کررہے ہو ” تم دونوں کے لیے ایک اور موقع دیتا ہوں ان سے بات چیت میں فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں !”
“ تھینک یو دادا جان ! زمر بھاگ کر اسکے گلے لگ گیا جس پر آدم نے اسکے کان میں سر گوشی کی ” محبت کا اظہار کرتے وقت جگہ اور موقع دونوں دیکھ لیا کرو !” اس بات پر وہ شرمندہ ہوکر پیچھے ہوگیا ” تلوار بازی سبق یاد ہے ! ” پختہ استاد کا لہجہ تھا۔
“ جی !کمر بلکل سیدھے رکھے وہ جواب دے رہا تھا ” تو چلو وقت ضائع نہ کرو !” آدم اسے کھینچتا ہوا صحن میں لے آیا تھا اسے تلوار دی وہ تلوار کو جانچ رہا تھا جب آدم نے اچانک حملہ کردیا پر اچانک افتادہ پر بھی اسنے تلوار سے اپنا بچاؤ کرلیا تھا ” کیا !!
“ لڑو !!! آدم نے گھوم کر اسکے بازو پر حملہ کرنا چاہا تو وہ نیچے بیٹھ گیا ” آج کیا ہوگیا ؟”
“ ہمیں دیکھنا ہے آپ اتنے دِنوں میں کیا سیکھے !!! وہ اس پر تلوار چلاتا جارہا تھا اور وہ بچاؤ کرتا پیچھے ہوتا جارہا تھا ۔زمر نے بھی مقابلہ کرنا شروع کردیا تھا وہ کبھی ڈیفنس کرتا تو کبھی اٹیک پر وہ سب آدم کے لیے عام سے بات تھی زمر تھک رہا تھا اور آدم اور زیادہ پرجوش ہوتا جارہا تھا آخر زمر کی بس ہوئی تو اسے غصہ آگیا اپنے پیروں پر ایسا گھوما کہ زمین سے اوپر ہوگیا اور تلوار آدم پر برسا دی آدم نے بچاو تو کرلیا مگر اسکے ہاتھوں سے تلوار گر گئی زمر نے تبھی تلوار اسکی گردن پر رکھ دی پھر ہٹا دی ! آدم تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا ” معزرت دادا!
“ نہیں معذرت کیوں تم تو شاباش کے حقدار ہو تم ہم سے بھی اچھی تلوار بازی کرنے لگے ہو !”
“شاگرد چاہے دنیا جیت لے اپنے استاد کے مقابل نہیں آتا وہ استاد جس نے چلنا سکھایا ہو قلم پکڑنا سکھایا ہو اس آگے کوئی نہیں ہو سکتا ! اسنے تلوار آدم کے قدموں میں رکھ دی تھی ۔ آدم نے فخر سے ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا اور اندر کی جانب چل دیے جہاں نمزا کچھ لکھ رہی تھی وہ دونوں اسکی جانب چل دیے آدم نے اسکے سامنے سے پنے اُٹھائے ” یہ کی لکھ رہی ہیں آپ !”
“ کہانی ہمیں کہانی لکھنے کا بہت شوق ہے تو وہی لکھ رہے تھے ! آدم پنے پلٹ کر دیکھ رہا رسم الخط کا بہتیرن نمونظ تھی اسکی لکھائی ایسے جیسے پّنے پر موتی اتار دیے ہوں آدم کے دل میں ایک خیال آیا ” آپ ہمارے لیے کچھ لکھیں گئیں ؟”
“ جی بتائیں ہم ضرور لکھیں گے ! اسکی بات سن کر وہ دونوں اسکے قریب ہی بیٹھ گئے آدم نے ایک نیا صفحہ اسکے سامنے کیا ” کیا آپ شہر سحر کی تاریخ لکھیں گی میں شہرِ سحر کی تاریخ لکھوانا چاہتا تاکہ لوگوں پتا چلے کہ شہر سحر نے کیا مشکلات برداشت کی ہیں ؟” آدم کی بات سن کر نمزا کے قلم زدہ ہاتھ تھرتھرا گئے تھے ۔ ” ممم۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔شہر سحر ہی تاریخی کتاب کی مورخ !
“ آدم نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا ۔” لکھو میں لکھواتا ہوں !” کانپتا ہوا ہاتھ ورق پر جھک گیا تھا ” باب اول !”
“ رُکیں باب اول مت لکھیں اسکی جگہ لکھیں اسنے کچھ دیر سوچا پھر کہا لکھیں “پہلا پنہ” ان دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کا دیکھا ” پپ۔۔۔پہلا پنہ کیوں !
“ تاکہ شہرِ سحر کے راز پنے در پنے کھُلیں آگے لکھو شہرِ سحر ایک ایسی جگہ جہاں جادو عام تھا۔اسکی بنیاد ایک ہیرا تھا اور وہ ہیرا ایک طلسماتی مخلوق جو شیر جیسا دکھتا تھا جسکا نام سنیار تھا اس سے لیا گیا تھا ۔” آدم نے سراسر جھوٹ بولا تھا ہیرا سنیار سے لیا نہیں چھینا گیا تھا سنیار کی ایک ہی کمزوری تھی اور وہ یہ کہ ان تین منہ والے شیر کا دل اسکے جسم سے باہر تھا جو آدم نے ڈھونڈ نکالا تھا سنیار نے اس سے کہا تھا مجھے چھوڑ مجھے مت مارو مگر آدم اور زولفشان نے اس سے سودہ کیا تھا کہ وہ اسکے دل کو نشانہ نہیں بنائے گے اگر وہ ہیرا اسے دے دے تو اپنی جان بچانے کے لیے سنیار نے آدم کو وہ ہیرا دے دیا تھا مگر زولفشان کے کہنے پر آدم سے ایک غلطی ہوگئی اسنے پھر بھی سنیار کے دل میں تیر آرپار کردیا سنیار مر رہا تھا ” یہ تم اچھا نہیں کیا آدم میرے جسم کو مار رہے ہو مگر مت سوچنا میں مر جاؤ گا میں رہوں گا اسی گا اپنے اطم تمہاری ایک ایک سانس پر نظر کیے یہ ہیرا کوئی عام نہیں یہ جس کے ہاتھ لگ گیا وہ طلسم یعنی جادو کا راجہ بن جائے گا لیکن اگر اسکا غلط استعمال ہوا انتشار پھیلا تو میں یا میرا وراث ہیرا لینے لوٹ آئے گا ! آدم کے دماغ میں وہ منظر چل رہا تھا مگر زبان ساتھ کب دینا چاہتی تھی ۔اور ایک ایک کرکے اب تک ہونے والے تمام واقعات لکھواتا جارہا تھا ہیرے کی چوری کے متعلق بھی اسنے صرف چوری لکھوائی تھی یہ نہیں کہ غار کے متعلق اسے پتا ہونا اور اسکا غائب ہونا امبر پارہ اور جاودات کا ذکر شہرِ سحر کی خوبصورتی کے تذکرے پر ہوا تھا مگر اس میں زمر اور نمزا کہیں نہیں تھے ۔۔۔۔۔۔۔! وہ جا چکا تھا نمزا پنے پر لکھی تحریر پر ہاتھ پھیر رہی تھی اسنے بولڈ حروف میں لکھے پہلا پنہ کو چھونا چاہا تو زمر نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ” نہیں یاد ہے نہ انھیں لفظوں کو چھو کر ہم یہاں آگئے تھے اگر دوبارہ انھیں ایسے چھونے سے ہم واپس چلے گئے تو وقت کا راز یعنی آدم کی موت کا راز کبھی پتہ نہیں چلے گا اور ضامن اور زرمیش بھی تو نہیں ہمارے ساتھ !”اسنے مسکرا کو زمر کو گلے لگایا اسکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ” زمر آپکو پتہ ہے ہمیں جب علم ہوا تھا کہ شہر سحر کی کتاب کا پہلا پنہ غائب ہے ادھورا ہے جاودات امبر پارہ کی ادھوری کہانی آدم کی موت کا سب راز ہے تو ہم سوچا کرتے تھے کہ وہ پہلا پنہ ہم لکھیں گے ہم تو ایسے ہی کہہ دیتے تھے مگر نہیں جانتے تھے کہ ہمارے قول کو پورا کرنے کے لیے وقت ہمیں پیچھے کھینچ لائے گا وہ کتاب جسے ہم پڑھنا چاہتے تھے چھونا چاہتے تھے مگر ابا کی وجہ سے کبھی کر نہیں پائے آج ہم وہ لکھ رہے ہیں وہ کتاب ہم لکھ رہے ہیں ! خوشی کے آنسو آہستہ آہستہ اسکے کندھے میں جذب ہوتے جارہے تھے ۔زمر نے اسے خود سے دور کیا ” ہمیں لگتا ہے کہ جو لفظ جو بات جو جملہ کہتے ہیں وہ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے نہیں وہ بات گھڑی کی سوئیوں میں قید ہوجاتا ہے وہ اس بات کو لیکر ایک اپنا سفر شروع کرتی ہیں اور جہاں انھیں لگیں کہ یہی وہ موقع ہے جہاں یہ بات ثابت ہوسکتی ہے وہ وہاں وہ بات کررہی ہے ہم بھول جاتے ہیں مگر وقت نہیں یہ وقت ہی تو ہے جو ہمیں جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے وقت اگر مشکل ہے تو وہ ہمیں مشکل سے نکلنے کا راستہ بھی دکھاتا ہے گھڑی کی سوئیاں ایک چیز سکھاتی وقت کبھی نہیں رُکتا وہ چلتا رہتا کھیلتا رہتا ہے ایک ایسے لامتناہی کھلاڑی کی طرح جسے صرف کھیلنا ہے انعام نہیں جیتنا بس کھیلتے جانا ہے کبھی دکھوں سے کبھی خوشیوں سے کبھی غموں سے تو کبھی رازو سے ہر راز کو آشکار کرتا یہ چلتا جاتا ہے !”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدم زولفشان صیاد اور زمر کال جنگل میں امبر پارہ اور جاودات سے ملنے آئے تھے صیاد کی پہلی بار ہی امبر پارہ کو دیکھ کر دیکھتا ہی رہ گیا تھا وہ اپسرا تھی حور تھی کیا تھی وہ اوپر سے کسی کو ابھی اُکساتی اسکے لباس کی باریکی اسکی رال ٹپکنے لگی تھی انجان لوگوں کو دیکھ کر وہ ان پر حملہ کرنے لگے تو زمر اچانک سامنے آگیا ۔” روکو ! روکو! ہم تم دونوں سے بات کرنے آئے ہیں !”
“ جاودات نے ناگواریت سے اسے دیکھا ” اب تمہیں پھر ہماری مدد چاہیے !” جاودات کی بات نے زمر کے کان کھڑے کردیے تھے اسنے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا ” دیکھو ہم لوگ تم دونوں سے صرف یہ کہنے ہیں کہ تم دونوں جنگل میں رہو ضرور رہو مگر لوگوں کو نقصان مت پہنچاؤ !
“ کیا نقصان ہم نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا بس سبق سکھایا تھا وہ بے جا درخت کاٹ رہا تھا اپنی ضرورت سے زیادہ اور سپاہی وہ صرف ہم لینے نہیں آئے تھے ہمیں دیکھ کر اپنی نیت خراب کرنے بھی آئے تھے جیسے کر رہا ہے !!امبر پارہ نے سیدھا حملہ صیاد کی آنکھوں میں کیا تھا جو اسنے اپنی بنائی حفاظتی تہ سے روک دیا ! اسے غصہ آگیا تھا اسنے آگ کا شعلہ جاودات کی طرف چھوڑا جسے امبر پارہ نے راستے میں بجھا دیا !
جاودات کے ہاتھوں میں تلوار آگئی تھی اسنے وہ اٹھائی کہ آدم درمیان میں آگیا ” وزیر اس سے پہلے یہاں سنگرام ہوجائے جائیں یہاں سے !”صیاد نے حیرت سے اسے دیکھا تم ہوتے کون ہو مجھے حکم دینے والے ! آدم نے بھی صیاد کی امبر پارہ پر نظر دیکھ لی تھی ۔”وقت کی ضرورت ہے وزہر جائیں یہاں سے اگر یہاں لڑائی شروع ہوگئی تھی امن تباہ ہوجائے گا ہم امن کا پیغام لیکر آئے ہیں !”
“ آدم سہی کہہ رہا صیاد تم اس وقت جاؤ انھیں تم پر غصہ ہے وہ تہیں کچھ کر نہ دیں !”
“ لیکن بھائی جان ! امبر پارہ کے ہاتھوں کی نکلے ناخن جو خون پینے کے لیے تیار تھے انھیں دیکھ کر اسنے رُخ پھیر لیا ۔اسکے جانے کے بعد امبر پارہ کچھ پُرسکون ہوئی تھی ۔” چلو مان لیا کہ اس نوجوان اور سپاہیوں کی یہ غلطی تھی بازار کو تحس نحس کیوں کیا !”اس بات پر وہ دونوں خاموش ہوگئے تھے ۔” بات کو لمبا کھینچے بغیر جاودات اور امبر پارہ تم دونوں شہر نہیں آؤں گے .”
“ شہرِ سحر کا کوئی باشندہ کال جنگل میں نہیں آئے گا ! جاودات نے دو ٹوک جواب دیا تھا “مگر ایسے کیسے ہوسکتا ہے لوگ اکثر یہاں کام کی وجہ سے آتے رہتے ہیں !”
“ ایک فیصلہ آپ سب نے سنایا ایک فیصلہ ہم نے سنا دیا منظور ہے تو ٹھیک ورنہ آپ جاسکتے ہیں !” جاودات نے رُخ پھیر لیا تھا ۔” یہ غلط ہے جاودات تم ناجانے کہاں سے آئے ہو اور اس جنگل میں قبضہ جما کر بیٹھ گئے ہو!!! آدم کی بات پر جاودات غصے سے لال ہوگیا تھا اسنے شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھا ” تو جہاں آپ نے شہر سحر بنایا ہے وہ جگہ آپ وراثت میں لائے تھے !
“ جاودات !! زولفشان کا صبر جواب دیتا جارہا تھا زمر خاموشی سے ان سب کی گفتگو سن رہا تھا ” آپ لوگ جاسکتے ہیں !” امبر پارہ کا ہاتھ پکڑے وہ غار میں جارہا تھا جب آدم بولا ” چلو ایک مقابلہ کرتے ہیں ! ان دونوں نے حیرت سے پلٹ کر اسے دیکھا ” تمہاری سب سے بڑی طاقت یہ تلوار ہے نہ چلو تلوار بازی کا مقابلہ کرتے ہیں اگر تم جیتے تو تم جو چاہو کر سکتے ہو لیکن اگر ہم جیتے تو لوگ کال جنگل چھوڑ دو گے !”
“ ہاہاہاہا تلوار بازی کا مقابلہ وہ بھی مجھ سے کیوں قربانیاں دینا چاہتے ہو اپنے سپاہیوں کی !”آدم کی بات کو جاودات نے حقارت سنا تھا
“ قربان کون ہوگا کون نہیں یہ وقت بتائے گا جاودات بہادر ہو تو بولو کرو گے تلوار بازی کا مقابلہ !” اسنے ایک نظر امبر پارہ کو دیکھا اور ہاں کردی ” منظور ہے !
آدم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی اسنے فخر سے زمر کو دیکھا جو پریشانی سے کچھ سوچ رہا تھا لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اسکے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حُسن نہیں ہے برکھا وہ کانچ کا گڑیا ہے اپسرا ہے حور ہے یا بلا ہے تم تو کچھ نہیں ہو اسکے سامنے اسکی آنکھیں ایسی ہیں جیسی گھائل ہرنی شکاری کو دیکھتی ہے وہ چلتی ہے تو مور اپنی چال بھول جاتے ہیں اسکے بال نہیں کال جنگل کی سیاہ رات ہے اسکے جسم کی شفاف جلد سے اسکی ایک ایک رگ دکھتی وہ پانی بھی پیتی ہوگی تو نظر آتا ہوگا وہ بلا ہے بلا !!! وہ تینوں برکھا کے کوٹھے پر موجود تھے صیاد نے آج کھل کر شراب پی تھی اور امبر پارہ کو محوِ گفتگو بنایا ہوا تھا امبر پارہ کی تعارفیں سن سن کر اسے جلن ہونے لگی تھی ۔” اگر اتنی ہی حسین تھی تو پا لیتے آہیں کیوں بھر رہے ہیں !”
“ پا لیتا کیسے پا لیتا اسکے ساتھ وہ جلاد بھی تو ہے اور وہ خود بھی تو شیرنی نے شیرنی کسی کو دیکھنے نہیں دیتی چھونا تو دور کی بات !”
“ آپ کے لیے کیا مشکل وزیر آپکے پاس تو وہ ہیرا ہے جو کچھ بھی کرسکتا ہے آپکی طاقتیں بڑھا سکتا ہے اسے استعمال کریں کردے ختم جاودات کو اور پا لیں امبر پارہ کو ! اسنے بغور برکھا کے چہرے کو دیکھا ” شکل سے تو بے وقوفی لگتی ہو مگر ہو نہیں سہی کہہ رہی ہو تم !”صیاد کی سوچ شیطانی ہوگئی تھی جس سے ان تینوں کا فایدہ ممکن تھا ۔
