Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 26
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
جاودات ہار چکا تھا اور تو اسکی تلوار بھی ختم ہوگئی تھی وہ آدھی طاقت تھی اسکی امبر پارہ اسکے ساتھ آن کھڑی تھی وہ افسردہ تھی مگر اسکا جاودات ٹھیک تھی اسنے ایک نظر گردن جھکا کر کھڑے زمر کو دیکھا ! آدم ہوا میں کھڑا ہوگیا تھا وہ خوش تھا ہمیشہ۔کی طرح آج بھی اسکا انتخاب سب کو شہ مات دے گی تھا ” جاودات اور حکومت کے درمیان مقابلے میں حکومت جیت گئی شرط کے مطابق جاودات اور امبر پارہ کو کال جنگل سے اپنی تسلط ختم کرنی ہوگی ایسا ہی ہے جاودات !”
“ وہ سر جھکائے خاموشی سے کھڑا تھا ” چلیں جائیں گے وعدے مطابق چلے جائیں گے مگر ہماری ایک التجا ہے ! آدم کے ماتھے پر سلوٹیں آگئی تھیں اور حیرت بھی ” کیا ؟
“ میری جادوئی تلوار جو آپکے سپاہی نے ختم کی ہے مجھے واپس کردیں ؟” زمر نے حیرت سے اسے دیکھا ” یہ کیسے ممکن ہے ؟”کہا صیاد نے تھا آدم تو خاموش تھا پھر آخر بولا مل جائے گی ! جاودات خوش ہوگیا تھا وہ دونوں ہوا میں آرام بھرتے نکل گئے تھے ۔تمام شہر خوش ہوگیا تھا اب وہ ہر جگہ باآسانی کسی خوف کے بغیر جا سکتے تھے کال جنگل سے قبضہ ہٹ گیا تھا۔
زمر اور نمزا دونوں گھر واپس آگئے تھے جو سوال زمر کے دل میں تھے وہی نمزا کے بھی تھے مگر زمر کی پریشانی کی وجہ سے اسنے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا وہ کمرے میں گم سم سا بیٹھا تھا جب وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتی اسکے ساتھ بیٹھ گئی ” زمر آپ خوش نہیں ہیں !” اسنے خاموش نظروں سے اسے دیکھا ” میں کون ہو نمزا وہ کون تھا جو جاودات کو مارنے جارہا تھا وہ کون تھا جو آنکھوں سے روشنی نکال رہا تھا وہ کون تھا جو ہوا میں اُڑ رہا تھا مجھے کچھ ہوش نہیں تھا میں کون ہوں ؟ اسکا ہاتھ تھامے سوال کر رہا تھا۔
“ تم زمر ابن اسیر ابنِ آدم ہو ! آدم دروازے میں کھرا اسکی الجھن سُن رہا تھا وہ دونوں کھڑے ہوگئے ” آج ثابت ہوگیا کہ تم حرف بہ حرف سچ ہو تم میرے ہی خون ہو جانتے ہو وہ سبز روشنی جو تمہاری آنکھوں سے نکلی جو ہر طاقت کو ختم کرسکتی ہے وہ آدم یعنی میری پہچان ہے ! اسنے اسے کندھوں سے تھاما ہوا تھا ” مگر مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ میری طاقت ہے !”
“ کیونکہ میں سمجھ گیا ہوں تمہاری یہ طاقتیں صرف تب استعمال ہوتے ہیں جب تم غصے اور اشتعال میں ہوتے ہو عام زندگی میں تمہیں غصہ بہت کم آتا ہے اسی وجہ سے تمہیں کبھی پتہ نہیں چل سکا کہ تم ہو کون یہ پریشانی کی بات نہیں ہے یہ تو خوشی کی بات ہے کہ اک تمہیں تمہاری میراث مل گئی ! آؤ نمزا اسے پنوں پر لکھ دیں ! وہ تینوں ایک ساتھ کتب خانے میں گئے تھے وہ چھوٹا ساتھ کمرا تھا جہاں چند کتابیں تھیں میز قلم اور ایک لالٹین تھی قلم پکڑے وہ میز پر بیٹھ گئی ” لکھو کہ جاودات اور امبر پارہ کو شہر سحر سے دور رکھنے کے لیے آدم کا شاگرد جسکے بارے میں نہ تو کوئی جانتا تھا نہ اسے پہنچاتا تھا مقابلے کے لیے چنا گیا !
“ زمر کا نام نہیں لکھنا ! آدم سوچ میں پڑ گیا تاریخ کے پنوں پر وہ کیسے وقت کی گُتھی سلجھائے گا آنے والے کیسے سمجھ پائے گے یہ تو آگے کے وقت سے آئیں ہیں ” نہیں لکھو شاگرد جسے کوئی نہیں جانتا تھا ! نمزا کو کچھ سمجھ نہیں آیا مگر وہ لکھتی گئی تمام واقع پنے پر اُتر چکا تھا شہر سحر کی تاریخ کا پہلا پنہ تیزی سے مکمل ہوتا جارہا تھا نمزا کتاب میں قید پنوں پر لکھ رہی تھی مگر تحریر کتاب کے ان پنوں پر بھی ہوتا جارہا تھا جو وقت کے آگے شہر سحر میں نمزا اور زمر کے کمرے کے بستر پر تن تنہا پڑی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کب سے نمزا کو سامنے بیٹھائے اسے تکے جارہا تھا اور وہ مسکرائے جارہی تھی ” زمر آپ کیا دیکھ رہے ہیں . تمہیں ! وہ کچھ کنفیوز ہوگئی ” کیا روز تو دیکھتے ہیں آج ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ ” مجھے نہ تمہارے چہرے کے ایک ایک نقش کو حفظ کرنا ہے تاکہ مرنے کے بعد بھی میں بھول نہ سکوں ! نمزا کا منہ بن گیا تھا اسنے اپنا چہرا اسکے سینے میں چھپا لیا ” آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں اب تو سب ٹھیک ہوگیا نہ ؟ ” تم.جانتی ہو آج جب میں مر رہا تھا تو آخری چہرا جو میری آنکھوں کے سامنے تھا وہ تمہارا تھا میں تمہیں کھو رہا تھا تم سے دور جارہا تھا اور وہ سب ہورہا تھا جاودات کی وجہ سے اسلیے ہمیں اس پر غصہ آیا یعنی آج اگر میں زندہ ہوں تو تمہاری وجہ سے اسلیے تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ کیسے مھبت مرتے ہوئے کو زندگی دیتی ہے ! نمزا نے چہرا اسکی جانب اُٹھا یا اور جذبات سے بھری آنکھوں سے اسے گھورنے لگی .اسکی معصومیت اسکا حسن زمر کو اکسا رہا تھا .وہ جذبات کے بے لگام گھوڑے پر سوار ہو چکے تھے محبتوں کی شمع جل چکی تھی رات ان دونوں کے لیے حسین تھی تو آدم کے لیے فقط کالی غفران ذولفشان کےلیے پرُ سکون تو صیاد کے لیے پرُ اسرار وہ ہیرا ہاتھوں میں تھامے اسے چندھیا آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اسے اس میں بھی امبر پارہ ہی دکھائی دے رہی تھی وہ اسکے حواس پر چھا چکی تھی ” مگر یہ ہیرا طاقت دیتا کیسے ہے کون ہے جو مجھے اسے استمعال کرنا کون ! پھر اچانک اسے ایک شخص کا خیال آیا وہ جو ایسا جادو گر تھا جو زمیں نے جڑیں نکال کر کسی کو بھی پھانس دے سکتا تھا اسکی طاقت اتنی بے پناہ تھی کہ وہ کسی کو چھو بھی نہیں سکتا تھا وہ عالم بھی تھا اور دانشور بھی وہ آدم کا جگری اسلیے کبوتر کی شکل میں نفاس جھیل رہتا تھا دماغ کے تانے بانے بن کر وہ نفاس جھیل کے لیے نکل گیا اسے اسکے متعلق پوچھنا تھا مگر اسے اس بات کی علم دیا بغیر کے ہیرا اسکے پاس ہے .وہ نفاس جھیل میں ایک درخت پر بنے گھونسلے کے سامنے کھڑا تھا اسنے سرگوشی کی صورت اسکا نام لیا ” شہوار ! وہ سفید کبوتر گوٹر گو کرتا باہر آیا صیاد کو دیکھ کر وہ انسانی روپ میں آیا اسکا لباس سفید تھا اسکے بازوں پر بیلیں لپٹی تھیں جی ہاں شہوار وہی سفید کبوتر ہے جو زرمیش کے شہرِ سحر آتے ہی اسکے کندھے پر بیٹھا تھا جس نے اسے نحوس سے بچایا تھا .اب اسکا تعلق امبر پارہ سے کیا تھا یہ بھی وقت کے رازوں میں سے ایک تھا . ” آج شہرِ سحر کے وزیر کو ہماری یاد کیسے آگئی ! ” کیا شہوار ہم دوست ہیں تم نے تو اپنی طاقت کو کمزوری بنا لیا اور شہر چھوڑ دیا .” ” شہر چھوڑنا میری مجبوری نہیں میری مرضی تھی تم اپنا کام بتاؤ ! اسکے کڑے تیور دیکھ کر صیاد کو کام مشکل لگ رہا تھا ” صرف کام سے تو یہاں نہیں آ سکتے تمہیں شہر کے حالات سے آگاہ کرنے آیا تھا تمہیں پتا ہے شہرِ سحر کی بنیاد وہ ہیرا چوری ہوگیا ! ” کیا !!!مگر کیسے اور وہ ملا نہیں کیا! ” کہاں آدم بھائی جان ہل سب اپنی پوری طاقت لگا چکے ہیں ہیرا مل ہی نہیں رہا میں تو یہ سوچ رہا ہوں اگر ہیرا چورنے کرنے والے کو ہیرا استمعال کرنا آگیا تو کیا ہوگا ؟ صیاد نے پتہ پھینک دیا تھا . ” اس ہیرے استمعال کرنا اتنا آسان نہیں ہے وہ ہیرا بس جائز خواہش پوری کرتا ہے !صیاد نے بات آگے بڑھائی .” تو تمہیں اسے استمعال کرنا آتاہے ! ” نہیں کبھی کیا نہیں تھا مگر آدم نے بتایا تھا وہ ہیرا صرف جائز خواہش پوری کرنا اسے پکڑ کہنا پڑتا ہے ” سنیار میری خواہش پوری کرو مانگنی پڑتی ہے اپنی خواہش اگر وہ جائز ہوگی تو ہیرا چمکے گا اگر نہیں تو اسکی چمک بھی ماند پڑ جائے گی !! شہوار نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی غلطی کردی تھی بندر ہاتھ بندوق دی تھی اب سب مریں گے اور اسکی شروعات شہوار سے ہی ہونی تھی وقت آگیا تھا شہر سحر کا پہلا ستون گرانے کا .وہ اسی لمحے وہاں سے چلا گیا ” اچھا میں چلتا ہوں سناش میرا انتظار کررہا ہوگا اور کبھی شہر آجایا کرو ! کہتے وہ قالین پر سوار اُڑ گیا شہوار کبوتر بنے گھونسلے میں واپس جارہا تھاکہ اچانک نفاس جھیل میں ایک اپسرا دکھائی دی جو تتلیوں کو اپنے جسم پر بیٹھنے سے روک رہی تھی ہر پرندہ اسے چھونا چاہتا تھا نظر شہوار کی بھی وہیں ساکن تھی وہ اُڑ کر اسکے قریب گیا اور اسکے سامنے اپنی اصل حالت میں کھڑا ہوگیا وہ پتھر پر بیٹھی اٹکیلیاں کررہی تھیں شہوار نے انگلیاں گھمائیں تو زمیں نے بیلیں پتھر کے اوپر چڑھنے لگی دیکھتے دیکھتے سارا پتھر ہریالی میں نہا گیا تھا ان پھولوں پر نرمی سے پھیر رہی تھی اسکے ہاتھوں کی نرماہٹ اسے اپنے جسم پر محسوس ہورہی تھی وہ آنکھیں بند کیے اس لمس کو محسوس کر رہا تھا کہ اچانک اسے گھٹن ہونے لگی ایسے جیسے کوئی اسکا گلہ دبا رہا ہو اسنے آنکھیں کھولیں تو امبر پارہ انھیں بیلوں کو ہاتھوں میں جکڑے کھڑی تھی ” کون ہو سامنے آو ! وہ حیران تھا اسے کیسے پتا چلا امبر پارہ نے ہوا میں تحلیل خوشبو کو سونگھا ” سامنے آو ! بیلوں کو دباتی وہ ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی یہاں شہوار کی حالت خراب ہورہی تھی ” ان بیلوں کو ….چچ….چھوڑ دو میں سامنے آتا ہوں ! امبر پارہ نے اسی وقت بیلوں کو چھوڑ دیا اسکی جان کو سکون ملا تو اسنے بیلیں واپس کھینچ لیں آخر کبوتر بن گیا وہ اسکے سامنے گیا ” کون ہو تم ؟ ” شہوار اسکے سامنے آگیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ” غلام ! ” امبر پارہ نے ھیرت سے اسے دیکھا ” غلام ہمارے غلام ! ” جی اپ قدرت کا وہ بےمثال شہکار ہیں جو حُسن کا بھنڈار ہیں آپ قدرت ہیں آپکی زلفیں کال جنگل کی سیاہی کا عکس دیتی ہیں آپکی پیشانی آسمان پر سورج کی طرح چمکدار ہے آپکی آنکھیں سات بحروں سے بھی گہری ہیں اپکے ہونٹ یاقوت سے بھی لال آپکی جسامت نسوانیت کا شہکار ہے آپ ہر لحاظ سے اپسرا ہیں اور میں شہوار قدرت کا ایک معمولی رکن جسکی طاقت محظ سبزا ہے آپکا غلام ہوں اور ہمیشہ.آپکی خدمت میں رہو گا میری نیت اس جھیل کے پانی جیسی شفاف ہے اس میں گندگی نہیں ہے میں اپکا مداح ہو طلب گار نہیں ! وہ سر جھکا ئے اسکی تعریف کر رہا تھا ” قبول ہے تمہاری غلامی قبول ہے ! شہوار کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی وہ سفید کبوتر بنا امبر پارہ کے کندھے پر جا بیٹھا تھا اسکے کان میں سرگوشی کرنے ” امبر پارہ !” ………………..
………………
وہ ہیرا ہاتھوں میں لیے بیٹھا تھا وہ خوش تھا اسے ہر چیز ملنے والی تھی شہباز برکھا اور زبیر بھی رال ٹپکاتے دیکھ رہے تھےوہ ایسے سر جوڑے کھڑے تھے جیسے جہاں چار یار مل جائیں … وہاں رات ہو گلزار ……. جہاں یار ……… برکھا پہلے تم مانگو ہمیں دیکھنا ہے شہوار نے جو کہا وہ سچ ہے یا نہیں ! صیاد نے ہیرا برکھا کو پکڑا دیا اسنے گہرا سانس لیا ” سنیار میری خواہش پوری کرو مجھے لازوال حسن چاہیے ! ہیرا ماند پڑ گیا تھا وہ حیران تھے کہ اس میں ناجائز کیا تھا لازوال حسن ہر چیز کو بزرگی ہے لازوال کچھ بھی نہیں جو آیا ہے اسے جانا بھی ہوگا ! ” سنیار مجھے ایسا حسن چاہیے جو.مردوں کو پاگل کردے اور ختم ہونے پر انھیں کے زریعے واپس ملے ! ہیرا چمک اُٹھا تھا برکھا چند لمحوں میں نور سے نہا گئی تھی وہ خوبصورت ہوگئی تھی۔ ان تینوں کے منہ کُھلے رہ گئے تھے زبیر نے ہیرا برکھا کے ہاتھوں سے لیا “سنیار میری خواہش پوری کرو مجھے شہر سحر کے خزانے پر حکمرانی ہے مجھے وزیرِ خزانہ بنا ہے ! صیاد ور شہباز حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے مگر ہیرا چمک رہا تھا ” یہ تو تب بھی ہوجاتا جب ہم راجہ بنتے ہیرے سے مانگنے کا کیا مطلب تھا۔”
“ آپ کا کیا بھروسہ وقت آنے پر بدل جائیں ! شہباز نے اسکے ہاتھوں سے ہیرا لیا ” کہہ تو زبیر سچ رہا ہے ” سنیار میرے خواہش پوری کرو مجھے صیاد کی جگہ لینی ہے وزیر بنا ہے ! ہیرے چمکنے لگا تھا سب کو انکی خواہشیں مل گئی تھیں ۔اب صیاد کی باری تھی اسنے ہیرا ہاتھوں میں لیا ۔اسنے آنکھیں بند کیں تو امبر پارہ نظر آنے لگی وہ اسکی سب سے بڑی خواہش بن گئی تھی ۔ ” سنیار میری خواہش پوری کرو مجھے امبر پارہ دے دو ! ہیرا ماند پڑ گیا تھا صیاد کا منہ اُتر گیا تھا یہ تو صیاد بھی جانتا تھا کہ یہ خواہش ناجائز ہے امبر پارہ جاودات کی ہے وہ دو جسم ایک جان ہیں وہ افسردہ ہوگیا تھا اسنے ہیرا نیچے رکھا ” وہ ہمیں کبھی نہیں مل سکتی !” برکھا نے اسکے اپنے جانب کھینچا وہ اس وقت حسن کی دیوی بنی گھوم رہی تھی ۔” امبر پارہ میں کیا خاص ہے جو ہم میں نہیں ! وہ اسکا ہاتھ اپنے چہرے پر پھیر رہی تھی صیاد نے اکتاہٹ سے اسے دور پھینکا ” حد میں رہو !”
“ ناجائز خواہش کو جائز بنا کر مانگو ! اسنے حیرت سے شہباز کو دیکھا ” مطلب !”
“ مطلب بلواسطہ امبر پارہ کو نہیں مانگو ہیرے سے بے پناہ طاقت مانگو اور اس طاقت سے امبر پارہ کو حاصل کرو !” صیاد کو اسکی بات میں وزن لگا تھا اسنے ہیرا اٹھایا ” سنیار میری خواہش پوری کرو مجھے طاقت چاہیے دماغ کی جادو کی علم ! ہیرا چمکنے لگا تھا اسکی خواہش پوری ہوگئی تھی اسے اپنے اندر تبدیلی محسوس ہورہی تھی ۔سنیار نے خواہش پوری کرکے شہر سحر پر لگی بددعا کے راستے ہموار کردیے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدم ساری رات تیخانے میں کچھ تیار کرنے میں لگا تھا۔سورج کی کرن کے ساتھ ہی اسکا کام ختم ہوگیا تھا اسنے بکل ویسی ہی تلوار بنائی تھی جیسی جاودات کی تھی لیکن اس میں طاقتیں جاودات کی نہیں تھی اس میں آدم نے اپنی طاقتیں بھر دیں تھی یہ تلوار اب اپنا شکار خود تلاش کر سکتی تھی پلٹ کر واپس آسکتی تھی اور تو اپنے شکار کا تعاقب کرسکتی تھی ۔وہ تلوار لیکر محل پہنچا جہاں صیاد اور زولفشان دونوں ہی موجود تھے ۔ آدم کے ہاتھوں میں تلوار دیکھ کر وہ کچھ حیران ہوگئے تھے ۔” یہ کیا ہے آدم ؟”
“ راجہ آپکو یاد ہے جاودات نے ہم سے مانگ کی تھی کہ اسے اسکی تلوار واپس چاہیے یہ تلوار اسکی تو نہیں مگر ہماری ہے یہ تلوار ہم اپنی طاقتوں سے تیار کی ہے یہ اپنے شکار کو تلاش کرسکتی ہے اسکا تعاقب کرسکتی ہے اور تو اور کام کے بعد اپنے مالک کے پاس واپس آسکتی ہے اور اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ غائب ہوسکتی ہے یعنی جس وقت ضرورت ہوگی ہم اسے پکاریں گے تو یہ خوںخود سجائے گی !! بات کرتے کرتے آدم نے وہ تلوار غائب کردی تھی پھر اچانک ہاتھ بڑھایا تو تلوار دوبارہ اسکے ہاتھ میں آگئی ۔” واہ کیا بات ہے یہ تو شہکار بنا دیا آپ نے آدم !
“ اب شہر سحر سے پہلی بار کسی نے کچھ مانگا تھا تو بے مثال دینا چاہیے ہم آج ہی یہ اسے واپس لوٹا دیں گے !”
“ وہ دونوں کا بسیرا اب کہاں ہے ؟”
معلومات سے پتا چلا ہے کہ نفاس جھیل میں قیام کیا ہے انھوں نے آج جائیں گے وہاں ” آدم چلا گیا تھا مگر صیاد کی نظروں میں وہ تلوار آگئی تھی ” آدم کی طاقت !
صیاد شہر میں گھومنے نکلا تھا ہر طرف امن سکون تھا لوگ جادو جانتے تھے مگر عام زندگی میں استمعال کرنا نہیں چاہتے تھے سب سکون میں تھا مگر وہ صیاد ہی کیا جو آدم کا پھیلایا امن رہنے دے اسنے آنکھیں بند کی منہ میں کچھ پڑھا اور پھونک دیا ” اُلٹ دو سب کے دماغ بنا دو انھیں ایک دوسرے کا دشمن ! وہ ہوا ہر ایک باشندے ہو چھوتی جارہی تھی ایک راہگیر غلطی سے دوسرے میں لگ گیا تھا انھیں غصہ آیا ” اندھے ہو دیکھ کر نہیں چل سکتے !
“ مجھے تو تم اتنے اندھے لگتے ہو کہ اتنے بڑے انسان نظر نہیں آتے ! “
کیا تم نے مجھے اندھا کہا ! اسنے انگلیاں گھمائی تو دوسرا شخص ہوا میں اڑتا دیوار میں جا لگا تھا بازار میں بھگدڑ مچ گئی۔ تمام لوگ ایک دوسرے سے لڑنے لگے تو امن غارت ہوگیا تھا ۔
…………….
………………
آدم اکیلا ہی نفاس جھیل جاودات کو وہ تلوار دینے آیا تھا .اسے تلوار لوٹا کر واپس چلا گیا تھا اسکی طاقت واپس آگئی تھی . امبر پارہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ” آگئی واپس ! اسنے مسکرا اسے دیکھے وہ دونوں غار کے اندر آگئے تھے تلوار جاودات نے غائب کردی تھی امبر پارہ اسکے سامنے ایک ادا سے کھڑی تھی .جو اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی اور وہ کھنچتا چلا جارہا تھا وہ پتھر پر بیٹھ گئی اسکی بیوٹی بون پر انگلیاں پھیرتا وہ پیچھے جا کھڑا تھا اسکے کمر کے گرد بازو لپیٹتا اسکی گردن پر جھکتا جارہا تھا اپنے لب اسکی گردن پر رکھتا وہ جابجا اپنا لمس چھوڑ رہا تھا اسکی کمر پر گرفت بڑھتی جارہی تھی اسکا سفر اسکی پشت تک پہنچ گیا تھا اسکے کپڑوں کی ڈوری اسنے دانتوں سے کھولی تھی جاودات کے ایک ایک لمس سے اسکا روم روم پرنور ہوتا جارہا تھا وہ چمکنے لگی تھی اسنے چہرا اسکی جانب کیا اور ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھ دیا انکے ملن نے پوری غار میں ایسی روشنی کردی تھی.جیسے ہزوروں بلب ایک ساتھ روشن کردیے ہوں وہ ایک تھے دو نہیں اب تو انکا جسم بھی ایک تھا ظالم ہیں وہ لوگ جو محبت کرنے والوں کو الگ کردیتے ہیں دو روحیں جب الگ ہوتی ہیں تو آسمان تک لرز جاتا ہے !” ………………
……………
آدم واپس آیا تو سارا بازار گتھم گھتا ہوا پڑا تھا کہیں کسی نے کسی کو الٹا لٹکایا ہوا تھا کہیں کو مکڑی کے جال میں الجھا پڑا تھا کوئی سر تک زمیں میں دھنسا تھا تو کوئی ہوا میں لٹک رہا تھا اسکے حواس اُڑ گئے تھے .اسنے ایک بُڑھیا کو مخاطب کیا ” یہ سب کیسے ہوا ؟” ” یہ سب آپس میں جھگڑا کررہے تھے جنابِ آدم بات صرف یہاں سے شروع کہ دو لوگ آپس میں ٹکرا گئے تھے .ایک دوسرے کو اندھے کہنے پر وہ لڑنے لگے اور لڑتے لڑتے سب آپس میں الجھ گئے اور یہ سب ہوگی . آدم پریشان ہوگیا تھا یہ سب کیا اسے پریشانی کے عالم میں وہ محل لوٹ آیا تھا جہاں دو عالم ایک دوسرے کا گریبان پکڑے کھڑے تھے ” زیادہ کام میں کرو اور راجہ کی نظر محنتی تم بن جاؤ میرے سارے کام جان بوجھ کر تم کرتے ہو ! ایک غلام کہہ رہا تھا ۔
“ میں تمہارے کام اسلیے کرتا ہوں کیونکہ تم وقت پر کرتے نہیں ہو اسلیے اور میرا گلہ چھوڑو ! وہ اس سے گریبان چھڑا رہا تھا مگر وہ چھوڑنے میں نہ دے رہا تھا پھر اچانک س غلام نے اسکے پیٹ میں مُکا مارا تو ہوا میں اڑتا درخت سے جا لٹکا !!! یہ دیکھ آدم خود حیران رہ گیا تھا وہ درخت سے اتر کر اب اسکی جان کے درپے تھے اس سے پہلے وہ کچھ کرتا آدم نے انھیں روک۔دیا ” یہ کیا کر رہے ہو تم دونوں جانوروں کی طرح لڑ رہے ہو !”آدم کو دیکھ وہ ڈر گئے تھے ” راجہ یہ !
“ کیا ہو کیا گیا ہے تم سب کو ! جانتے ہو نہ عام زندگی میں جادو منع ہے اپنے فائدے کے لیے اسے استعمال نہیں کرنا جاؤ جاکر اپنا کام کرو اور دوبارہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا ! انھیں بھیج کر وہ اندر آگیاتمام دربار پریشان بیٹھا تھا سوائے صیاد کے انتشار پھیلا کر وہ بہت خوش ہوگیا تھا ۔ آدم کی اہمیت جو کم ہورہی تھی ۔
“ کیا ہوا ہے ؟ اسنے سب کے چہروں کی طرف دیکھ کر کہا ۔
“ کیا ہوا ہاہا جیسے آپکو تو پتہ ہی نہیں کہ کیا باشندے ایک دوسرے جان لے رہے ہیں شمس بتاؤ آدم کو آج کیاکیا ہوا ! اسنے راجہ کے پیچھے کھڑے شمس سے کہا ” جس نے پنے پر لکھی تحریر پڑھنی شروع کی ” آج شہرِ سحر کے کلی بازار میں دو لوگوں کی لڑائی میں پورا بازار الجھ پڑا لوگوں نے اپنی طاقتیں استمعال کر ایک دوسرے کو نقصان پہنچایا ایک کسان نے دوسرے کسان سے تضاد میں اسکا سارا گھر زمین بوس کردیا دریا پر مچھوارے باند بنا کر بیٹھ گئے ہیں ہر طرف بس تباہی ہی تباہی ہے !شمس کی زبان کے ساتھ آدم کا دماغ بھی ماؤف ہوگیا تھا۔
“ اب بتائیں آدم کیا کہا کرتے تھے آپ کے ہم نے عوام کو اتنا سمجھا رکھا ہے کہ ہمارے حکم کے بغیر وہ کچھ نہیں کرتے وہ اپنا جادو استعمال نہیں کرتے اور اب ….چھوٹی چھوٹی باتیں جو دربار میں حل کی جاتی تھیں آج وہ لوگ اپنے جادو سے حل کررہے ہیں !!! صیاد ابھی بات کرہی رہا تھا کہ سپاہی بھاگا بھاگا آیا ” راجہ کال جنگل میں لکڑ ہارا تمام درخت جڑوں سے اکھیڑ رہا ہے اور شکاری تمام جانوروں کا شکار کر رہے ہیں ! صیاد نے پھر غصے سے آدم کو دیکھا ” بتائیں آدم کیا ہے یہ سب !”آدم پریشانی سے سر جھکائے کھڑا تھا ۔” ہم نہیں جانتے یہ سب کیا ہورہا عوام ایک دوسرے کی خون کی پیاسی کیوں ہوگئی ایک دوسرے نفرت کرنے لگی ہے وہ پہلے تو اپنے جادو کا استمعال نہیں کرتی تھی ۔”
“ اس کا کوئی حل نکالنا ہوگا آدم ورنہ کل وہی باشندے محل پر چڑھ دوڑیں گے .”
“ ہم بھی وہی سوچ رہے ہیں ہم عوام سے بات کرتے ہیں !” یہ سوچ کر وہ شہر سحر کے چوراہے میں ان کھڑا تھا نگاڑے کی آواز پر تمام لوگ گرد جما ہوچکے تھے انکے چہروں پر اب وہ سنجیدگی نہیں ایک غرور تکبر آگیا تھا۔
“ شہر ِ سحر کے لوگو آج کیا ہوگیا تم سب کو تم لوگوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ۔ کہ تم لوگ اپنی ذاتی مفاد کے لیے اپنا جادو استمعال نہیں کرو گے اور آج تم لوگ ایک دوسرے مارنے تُلے ہو !”
“ ہم لوگ اپنی جان کی حفاظت کر رہے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچائے گا ہم بھی اسے نقصان پہنچائیں گے ! عوام میں سے ایک باشندے نہیں کہا ۔
“ نقصان ہم ایک شہر کے باسی ہیں ہمیں ایک دوسرے سے کیسا خطرا ہم مانتے ہیں کہ کام میں اونچ نیچ ہوجاتی ہے مگر مشاورت بھی کسی چیزا کا نام ہے پہلے بھی مشاورت ہوتی تھی ۔
