Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Last updated: 30 December 2025
No Download Link
315.7K
30
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 1Pehla Pana Episode 2Pehle Pana Episode 3Pehla Pana Episode 4Pehla Pana Episode 5Pehla Pana Episode 6Pehla Pana Episode 7Pehla Pana Episode 8Pehla Pana Episode 9Pehla Pana Episode 10Pehla Pana Episode 11Pehla Pana Episode 12Pehla Pana Episode 13Pehla Pana Episode 14Pehla Pana Episode 15Pehla Pana Episode 16Pehla Pana Episode 17Pehla Pana Episode 18Pehla Pana Episode 19Pehla Pana Episode 20Pehla Pana Episode 21Pehla Pana Episode 22Pehla Pana Episode 23Pehla Pana Episode 24Pehla Pana Episode 25Pehla Pana Episode 26Pehla Pana Episode 27Pehla Pana Episode 28Pehla Pana Episode 29Pehla Pana Episode 30 (Last Episode)
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
Novel Code: NovelR50473
“ انتظار کروں ؟" نازنین کے آنکھوں کے کٹورے بھر چکے تھے " میں نہیں آؤں گا کیونکہ میں پہلے سے کسی کے ساتھ منسوب ہوں ۔" یہ نازنین کے سر پر بم پھوٹا تھا " کون ہے وہ ."
“ وہ اس دُنیا سے نہیں وہ سب سے الگ ہوگی " یہ اسنے دل میں سوچا تھا کہا تو بس یہ " معزرت میں ان مردوں میں سے نہیں جو اپنی منکوحہ کا ذکر بلاوجہ کریں وہ جو کوئی بھی ہے میرا انتظار کر رہی ہے اور میں اُسکا انتظار رائیگاں نہیں جانے دے سکتا ۔"
“ صرف ماں باپ کی پسند کو مدِ نظر رکھ کر اس سے محبت کرتے ہو ؟" یہ الفاظ اسنے بامُشکل ادا کیے تھے
“ میں آپ سے بھی محبت نہیں کرتا ڈاکٹر نازنین اور میں یہ بلکل بھی نہیں چاہوں گا کہ آپ اپنی زندگی برباد کریں جو محبت آپ میری آنکھوں میں دیکھنا چاہتی ہیں کیا وہ آپ کو ڈاکٹر جازب کی آنکھوں میں نظر نہیں آتا ۔"
“ میں اس سے محبت نہیں کر تی اور نہ کر سکتی ہوں ۔" دو ٹوک لہجے میں جواب آیا تھا ۔
“ اگر ان سے محبت نہیں کر سکتی تو مجھ سے کس طرح کی امید ہے آپکو میرا اور آپ کا تعلق صرف کولیگز کا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔۔۔" اُٹھتا گلے میں سٹیتھوسکوپ ڈالتا وہ باہر نکل گیا تھا اور پیچھے ایک ٹوٹا دل چھوڑ گیا تھا باہر آکر اسنے نازنین کی پُشت کو دیکھا " میں کبھی بھی مثلث کا تیسرا کونا نہیں بنا چاہتا نازنین میں جازب کا رقیب نہیں بنا چاہتا اور اِسکے لیے مجھے میری محبت دبانی پڑے گی ہاں میں اعتراف کرتا ہوں کے میں تم سے محبت کرتا ہوں مگر میری دوستی اس محبت کی بھینٹ نہیں چڑھے گی۔" دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اسنے چہرا آسمان کی جانب اُٹھایا " میں فرار چاہتا اس دُنیا اے خُدا کیا ہے کوئی اور دُنیا جس میں مجھے جگہ مل سکے چاہے قبرستان کیوں نہ ہو یا کوئی اور جو مجھے نازنین کو بھولنے میں مدد دے ۔۔۔۔۔"
