Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 13
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
یہ آپ نے اچھا نہیں کیا جنابِ زمر یہ لمحے میرے تھے جو آپکے لیے میرے دل.میں نرمی پیدا کررہے تھے مگر آپ نے کسی اور کا نام کیوں لیا کیوں اسکا نام لیکر ہمیں سزا کہا ہم آپکے لیے ایک سزا ہیں وہ سب آپ ہمیں سزا دینے کے لیے کر رہے تھے …” گزُرے لمحوں کو اپنی خوش فہمی سمجھ کر اسکا دل کر رہا تھا پھوٹ پھوٹ کر روئے مگر غلط فہمی تو اب ہوئی تھی ہاتھ غلطی سے گردن پر لگا تھا ایک سسکی نکلی ” اس زخم کو آپکی سزا نہ بنا دیا تو ہمارا نام بھی نمزا نہیں .صبح اپکی بدنامی کا منظر پورا شہرِ سحر دیکھے گا وہ شہر ِ سحر کا دل کر رہا تھا کہ اپنی مغرور شہزادی کے منہ پر کھینچ کر تھپڑ مارے اور اسے ہوش میں لائے. وہ آگ جلائے بیٹھا تھا آگ نکلتے چنگاڑے اسے خود سے لگ رہے تھے وہ بھی جل رہا تھا .اسکی آنکھوں کے سامنے وہ منظر چل رہا تھا جب زرمیش نے اسے زمر سے کھینچ کر اس سے جُدا کیا اسے زرمیش پر غُصہ نہیں خود پر غُصہ آرہا تھا کتنی بڑی بے واقوفی کی ہم نے نمزا لے ساتھ زمر کا سلوک سُن کر ہم غُصے میں آگئے تھے تو اپنے بھائی کے ساتھ وہ یہ سلوک برداشت کیوں کرتی وہ شرمندہ تھا اس سے کس منہ سے وہ اس سے معافی مانگے . “مجھے ضامن سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی وہ بھی تو ایک بھائی تھا مجھے یاد ہے کیسے سکول میں ایک لڑکے نے میرے بال کھینچے تھے اور زمر بھائی نے اسے مارا تھا اور کہا تھا ” تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری بہن کو تکلیف دینے کی….” کمرے میں ٹہلتے وہ سوچ رہی تھی کہ روباش اسکے گرد گھومنے لگا ” زرمیش ! زرمیش ! ضامن کا ہاتھ جل گیا اتنا سارا !!!! زرمیش کے تو دل کسی نے پیر رکھ دیا تھا ” کک…کہاں ہے وہ ……! ” محل کے پیچھے ! گاؤن سنبھالتی وہ بھاگنے لگی تھی . ضامن ! ضامن ! ؛زرمیش کے بعد وہ سیدھا زمر کے پاس آیا تھا ” کیا ہوا زرمیش کو ؟” اسکے نام سے وہ چونک گیا.” وہ محل کے پیچھے گئی تھی اس پر کسی نے حملہ کیا اور اسے مار دیا ” اسنے آو دیکھا نہ تاؤ بھاگ نکلا تھا .” دونوں کو وہاں بھیجنے کے بعد وہ طلسم کے کندھے پر بیٹھ گیا تھا
جو اپنے کمرے میں یہ دونوں منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ” شاباش روباش میں نہیں زمر اور نمزا کی وجہ سے ان میں اختلاف ہو ! روباش نے طلسم کی گال پر پیار کیا ” اب مجھے نیند آرہی ہے ! جمایاں لیتا وہ لاکٹ میں چلا گیا تھا .طلسم نے بھی وہ جادوئی سکرین بند کردی اور ایک نظر سوتے اسیر کو دیکھا بستر پر گئی اسکا ہاتھ ہٹایا اور اسکے سینے پر سر رکھ دیا اسنے بھی حصار باندھتے دیر نہیں لگائی تھی ” کردیا انتطام انکی دوستی کا ! اسنے ھیرت سے اسیر کو دیکھا ” آپ سو رہے تھے ! اسنے گلہ کیا جس پر وہ مُسکرا دیا ” میں نیند میں بھی تمہاری ایک ایک حرکت سے واقف ہوں . وہ دونوں ایک ساتھ محل کے پیچھے پہنچے تھے ایک دوسرے کو دیکھ کر بھاگ آیے اردِگرد دیکھے ” ضامن دیکھائیں مجھے کیا ہوا ہے ؟ وہ دیوانوں کے طرح اسکا چہرا ہاتھ چھو رہی تھی .وہ ھیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا یہ تو بلکل ٹھیک ہے ! ” روباش نے بتایا آپکا ہاتھ جل گیا ہے ! ” مجھے بتایا کہ تمہیں کِسی نے مار دیا ! کچھ لمحے تو ھیرانی سے سوچتے رہے پھر ” ہاہاہاہاہاہاہا! تو یہ اسکی شرارت تھی ہمیں ملانے کی !” زرمیش ہنس رہی تھی مگر وہ بغیر کوئی تاثر دیے اسے دیکھ رہا تھا ” ہمیں معاف کردیں زرمیش ہم نے جو صبح کیا وہ ہمیں نہیں کرنا چاہیے ! اپنی ہنسی کو بریک لگائے وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی پھر مُسکرا دی ” اِٹس اوکے ! میرا مطلب کوئی بات نہیں ! “زرمیش نے تب پہلی بار نظر گھما کر دیکھا ” واؤ ! وہ منہ پر ہاتھ رکھے دائیں جانب دیکھ رہی تھی آپ نے مجھے منانے کے لیے یہ سب کیا؟ ضامن نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا برگد کا درخت اسکی شاخوں سے نیچے تک لٹکتی روشنی کی لڑیاں انکے گرد گھومتے جگنو تتلیاں بیچ پر ایک میز اور دو کُرسیاں میز پر جلتی لال موبتی وہ خود حیران تھا ” یہ ہم نے نہیں کیا پھر ! وہ الجھن میں خود کلامی کررہا تھا وہ آگے بڑھ کر ان جگنوؤں کو پکڑنے کی کوشش کررہی تھی وہ ہاتھ بڑھاتی وہ آگے اُڑ جاتا کبھی تتلی کو پکڑتی کبھی روشنیوں کو چھونے لگتی ! ضامن دم سادھے اسے دیکھ رہا تھا ۔قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا وہ جو ہاتھوں میں لڑی پکڑے کھڑی تھی اسکے آنکھوں کے سامنے آسکے بندھے ہاتھ آگئے اسنے حیرت سے اپنے پیچھے کھڑے ضامن کو دیکھا ۔اسنے اسے سامنے دیکھنے کا اشارہ کیا اسنے دوبارہ اسکے ہاتھوں کو دیکھا جب کھولے تو ڈھیروں جگنو اُڑنے لگے وہ گھوم کر ان میں کھلینے لگی وہ ان سب کے درمیان گھوم اسکی میکسی کا گھیرا بھی پھول کی طرح کِھلا گھوم رہا تھا اور بال بھی طواف میں تھے اچانک اسکے طواف کرتے اسکے پیر رُک گائے کسی نے کلائی تھام لی اُسکا ہاتھ پکڑے وہ سنجیدہ سا اسے دیکھ رہا تھااپنی طرف کھینچا ” یہاں سے جاؤ! اسکی صورت پر نظریں گاڑے وہ جونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا. ” مگر کیوں یہ!!!! سُنائی دیا اپنی خواب میں جائیں ! اسنے چیخ کر کہا تو وہ ڈر گئی اسے گھورتی وہ وہاں سے چلی گئی اسکے جانے کے بعد وہ اس برگد کے درخت کے قریب گیا جہاں کچھ دیر پہلے زرمیش گھوم رہی تھی تلوار نکالے اور اسلے تنے پر زمین سے اوپر پھیرنے لگا ایک مقام پر جاکر کسی کی آہ کی آواز آئی اسنے اسے کھینچ کر باہر نکالا وہ بھیانک تھا سُرمئی اندھیرے میں ایک پتوں سے خالی درخت جیسا ضامن نے اسکا گلہ دبوچ رکھا تھا ” کون ہو تم ؟ ” ظلال ! اانے نہایت تکلیف سے جواب دیا ” شہزادی کو کیوں چھونا چاہتے تھے ؟” جن ہوں عاشق ہوگیا ہوں اس پر ! اسنے اتنی بڑی بات ضامن کے سامنے آسانی سے کہہ دی اسنے سر سے پیر تک اسے دیکھا وہ لکڑی جیسا تھا بلکل اسکا لباس جسم لکڑی جیسا ہی سخت تھا . ” وہ ہماری ہیں !”اسکے گلے پر دباؤ دیتے وہ اسکے ختم کردینا چاہتا تھا .مگر وہ ہنس کر غائب ہوگیا . وہ اسے وہیں تلاش کررہا تھا کہ اسے زرمیش کی چیخ سُنائی دی وہ محل کی اندر کی جانب بھاگا لیکن جب تک وہ اس تک پہنچا ظلال زرمیش کے پاس کھڑا تھا وہ آگے بڑھا مگر اسنے ضامن کے پیر باندھ دیے وہ آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا اسنے ہاتھوں سے ایک آگ کا شعلہ بھی بھیجا مگر وہ تو خود آگ تھا اس پر آگ کا کیا اثر ہونا تھا .اسنےاپنی ہر طاقت اس پر استعمال کیا.مگر وہ زرمیش کی طرف بڑھتا جارہا تھا وہ ڈرتی پیچھے وہ اسے ہاتھ سے چھونے ہی والا تھا کہ اسے اپنا آپ کھینچتا ہوا محسوس ہوا اسنے دائیں جانب دیکھا تو معلم بقراط اسکی جانب انگوٹھی کا رُخ کیے کھڑے تھے ” نہیں! نہیں! مجھے قید مت کرو ! نہیں مگر اسکی نہیں نہیں کے باوجود بقراط نے اسے انگوٹھی میں قید کردیا تھا .زرمیش نے پہلی بار بقراط کو دیکھا تھا سفید پیروں تک چوغہ نورانی چہرا اور چہرے سے پیٹ تک داڑھی اور انگاری آنکھیں انھوں نے دوسری نظر ضامن کے قدموں پر ڈالی جو آزاد ہوگئے وہ بھاگ کر زرمیش کے پاس گیا ” آپ ٹھیک ہیں ؟ بقراط وہاں سے چلا گیا تھا ” وہ…وہ کون تھا ؟ ” وہ ….جن تھا آپ کو لیجانا چاہتا تھا! واٹ! مام ! مام ! بابا ! پلیز یہاں پلیز ! وہ کمرے سے باہر چلا رہی تھی .اسیر اب بھی جاگ رہا تھا اسکی آواز سن کر فوراً بھاگا ” اسیر کیا ہوا ؟”…زرمیش بلا رہی ہے ! وہ باہر کی جانب بھاگا طلسم اسکے پیچھے ۔ . ” بابا ! اسیر کے آتے ہی وہ اسکے گلے لگ کر رونے لگی تھی ” بابا مجھے یہاں نہیں رہنا یہاں پر….یہاں اتنے جن ہیں اس رات میں چھت پر تھی تب بھی کوئی آیلین آیا تھا اور آج …آج وہ جن ہمارے کمرے میں پہنچ گیا تھا .” اسیر دم سادھے اسے سُن رہا تھا .طلسم نے سوالیہ نگاہوں سے ضامن کو دیکھا ” وہ ہم محل کے پیچھے تھے تو وہاں موجود برگد کے درخت میں ایک جن موجود تھا جو….جو نمزا پر عاشق ہوگیا تھا وہ اسے لیجانا چاہتا تھا ہم نے انھیں وہاں سے تو بھیج دیا تھا مگر وہ وہاں بھی پہنچ گیا اگر معلم بقراط وقت پر نہیں پہنچتے تو …..” اسیر کی نظروں کے زاویے کو وہ بخوبی سمجھ رہا تھا .سناش غفران فاریہ سب تھے سوائے زمر اور نمزا کے ” اور چھوڑو میری بیٹی کو اسکے ساتھ اکیلا جب جب اسکے ساتھ ہوتی ہے پریشانی میں گھِر جاتی ہے .” ” اسیر ایسی بات نہیں ہے جادو آزاد ہونے کے بعد ایسے بہت سے حادثے عام ہوگئے ہیں مگر ہم انھیں قابو میں کرنا اچھے سے جانتے ہیں !” سناش نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا ” جنابِ وزیر معلم بقراط آپ کو یاد فرما رہے ہیں !ایک سپاہی نے عفران کے کانوں میں یہ نوید سُنائی .وہ چپ.چاپ چلا.گیا . ” اگر میری بیٹی کو کچھ ہوجاتا تو میں نہیں رہوں گا یہاں میں آج ہی واپس چلا جاوں گا اپنی دُنیا میں میری بیٹی کی جان کو خطرا میرا بیٹا ہنسنا بھول گیا ہے میرے بچوں کو میں یہاں لانا ہی نہیں چاہیے تھا !” ” اسیر تم کہنا کیا چاہتے ہو کہ یہ سب ہماری وجہ سے ہورہا ہے میرے بچے ان سب کے زمہ دار ہیں ! سناش نے ایک دم اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے ہٹایا جس سے اسیر کو احساس ہوا کہ وہ کیا بول گیا ہے.”سناش میرا مطلب وہ نہیں تھا اصل میں زرمیش کو لیکر پریشان ہوں تو ….!اسیر کی بات اسنے پرُسکون سانس لی ” ہم بھی ہیں مگر یوں لڑنے سے کوئی حل تو نکلنے سے رہا .” اپنی باتوں میں سب اس بات کو نظر انداز کر گئے تھے کہ زمر وہاں نہیں ہے . …………..
………… بقراط نے الماری کھولی اپنے جادو سے انگوٹھی سے جن بوتل.میں ڈال.دیا اور الماری بند کردی . ” آپ نے بلایا جنابِ بقراط !” ” غفران محل کی حفاظتی تہ کے باوجود یہ جن محل میں کیسے آیا ؟”غفران شرمندگی سے سر جھکایا گیا .” محل.پر حفاظتی تہ نہیں تھی جنابِ بقراط! ” کیا!! وہ کیسے ٹوٹی ؟ ” انھوں نے غُصے سے ٹیبل پر ہاتھ رکھے . ” صبح تنگا کو شہرِ سحر میں داخل کرنے کے لیے ختم کرنی پڑی دوبارہ ایک ھادثہ پیش اگیا تو میں بھول گیا !” وہ شرمندگی سے نظریں بھی نہیں اُٹھا رہا تھا ” آپ کی ایک غفلت کی وجہ سے شہزادی کو کھو دیتے ہم جاو اور محل کو چاروں طرف سے محفوظ کرو ! وہ چلا گیا تھا بقراط نے ایک بہت بڑی کتاب خالی جس کے پنے خالی تھے کچھ سوچتے ہوئے اسنے پنَے کی بائیں جانب برکھا لکھا دائیں پنے پر ایہ منظر فلم کی طرح چل رہا تھا وہ بے چینی سے کمرے میں ٹہل رہی تھی نحوس بوتل کے اندر سے اسکی لاروائی دیکھ رہا.تھا ” شہزادی ہمارا جن معلم بقراط کی قید میں ہے ! کوے کی سُن کر اسنے گلدان شیشے میں اُٹھا کر مارا اسی کے ساتھ کتاب میں دیکھتا وہ منظر بھی غائب ہوگیا تھا .انھوں نے غُصے سے کتاب بند کردی ” تمہیں ختم ہونا ہوگا برکھا ضامن تمہیں کبھی نہیں ملے گا.” …………
………….
اگلی صُبح زمر کی آنکھ کھُلی تو اسے اپنا سر بہت بھاری بھاری لگ رہا تھا درد سے سر پھٹ رہا تھا نظر گھوما کر کمرے کو دیکھا علم ہوتے ہی پہلو میں نظر دوڑائی تو کوئی نہیں تھا سُکھ کا سانس لیا مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ سورج اسکی زندگی کا گرہن بن کر نکلا ہے وہ اُٹھا حمام پر گیا فریش ہوا سب کے ساتھ آگیا سب پریشان تھا طلسم کی نظر اس پر پڑی تو یاد آیا ” زمر تم کل رات کہاں تھے ۔”
“ مام ایکچولی مجھے خود یاد نہیں میں کل رات اپنے کمرے جا رہا تھا کہ بہت زیادہ کھانسی شروع ہوگئی وہاں ایک میز پانی یا پتا کیا تھا وہ میں پی لیا اسکے مجھے کچھ یاد نہیں کیا ہوا کیا نہیں صبح جب میں اُٹھا تو بستر پر تھا ۔لیکن آپ سب اتنے پریشان کیوں اور زرمیش کو اُداس ہے ؟”
“ طلسم نے کل رات کا سارا واقع اسکے سپرد کردیا وہ حیرت کا شکار ہوتا کبھی زرمیش کو دیکھتا کبھی طلسم کو ” مام اتنا سب کچھ ہوگیا اور مجھے بتایا نہیں جگایا!
زمر پریشانی اتنی ہوگئی میرے زہن سے نکل گیا پر اب سب ٹھیک ہے ! وہ زرمیش کے پاس گیااسے ہنسانے کی کوشش کرنے لگا باتوں میں وقت گُزرا۔تو دستر خوان سج گیا ۔وہ لوگ دستر خوان پر بیٹھے تھے ” نمزا کہاں ہے ؟”
سناش کے پوچھنے زمر نے چاروں اور نظر دوڑائی ” ہمیں نہیں معلوم !
“ راجہ ! راجہ شہزادی نمزا وہ۔۔۔وہ ! کنیز کے لڑکھڑاتے الفاظ کسی انہونی کی گواہی دے رہے تھے ۔” کیا ہوا نمزا کو!
“ راجہ آپ خود دیکھ لیں ! وہ سب ایک ساتھ اسکے کنیز کے پیچھے گئے وہ کتب خانے سے دور ایک کونے وہ چھُپ کر بیٹھی گُھٹنوں سے سر دیے رو رہی تھی گاؤن جگہ جگہ سے پھٹا تھا کلائیوں پر سُرخ نشان اسنے چہرا اُٹھا کر انھیں دیکھا تو سب کے ہوش اُڑ گئے ہونٹ سے نکلتا خون چہرے پر جگہ جگہ خراشیں اور گردن پر زخم جسے بہت زیادہ بڑھا دیا گیا تھا زمر کو تو سانس بند ہوگئی تھی ۔
“ نمزا ! فاریہ نے تڑپ کر اسے تھاما مگر وہ روئی جارہی تھی اب مگر۔مچھ کے آنسو فاریہ کے گلے لگ کر بہائے جارہے تھے طلسم زرمیش بھی گھٹنوں کے بل اسکے پاس بیٹھے تھے ” نمزا ہماری جان نکل جائے گی بتاؤ یہ ۔۔۔یہ کیسے ہوا؟
“ کک۔۔۔۔کل رات ۔۔۔۔جج۔۔۔۔۔جب ہم کمرے سو رہے تھے ۔۔۔۔تت۔۔۔تو جج۔۔۔جنابِ زمر وہاں مہ پی کر آ گئے انھوں مجھ سے کہاکہ تم نے ہماری درمیان کی باتیں سب کو کیوں بتائیں کہ میں تم سےنفرت کرتا ہوں اور تم میرے لیے ایک سزا ہو آج تمہیں سزا دوں گا۔۔۔۔اور۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔اسکے آگے بنا بولے سب سمجھ گئے تھے زمر تو حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا ” زمر یہ کیا کہہ رہی ہے؟”
“ مم۔۔مام میں نے آپ کو بتایا تھا کل ج۔۔۔۔!”
۔۔۔تم نے مہ پی تھی زمر تم نے مجھے خود بتایا تھا ! طلسم کا صدمے سے دوچار لہجہ اسے اور شاک کرگیا تھا۔
“ مام میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ایسا کچھ کہا میں نشے میں بھی اتنا نہیں گر سکتا میں قسم کھاتا میں نے اسے کوئی تکلیف نہیں دی !”
“ آپ نے ایسا کچھ نہیں کہا تو بتائیں نازنین کون ہے کیوں آپ کل رات اسکا نام لیکر ہمیں سزا کہہ رہے تھے ہمیں بدعا کہہ رہے تھے دماغ پر زور دیں کیا آپ زبردستی ہمارے قریب نہیں آئے تھے ! وہ بھاری ہوتی کنپٹیوں کو سہلا رہا تھا دماغ پر زور دے رہا تھا مٹے مٹے سے نقوش زین میں ابھرنے لگے ہر مِٹتا نقش اسے شرمندہ کرتا جارہا تھا جب بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا ” میں نے کیا یہ میں نے اتنا گِر گیا میں کل نشے ہم نے یہ سب !!! زمر خود بھی غلط فہمی کا شکار ہوگیا تھا کیونکہ اسنے سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ ہی ایسے کی تھی
وہاں موجود سب کے ہاتھ بے جان ہوکر گر گئے تھے ۔
ضامن نے پھر اُسکا گلہ پکڑ لیا ” آپ.اپنی ھرکتوں سے باز نہیں آئیں گے! اسنے ایک مُکا اسکے منہ پر مارا اسکا ہونٹ پھٹ گیا تھا ” ضامن !! زرمیش کچھ کہتی زمر نے ہاتھ اُٹھا کر منع کردیا ” وہ کچھ غلط نہیں کررہا ! ضامن اسے پیٹتا جارہا تھا ” سناش روکو اسے ! آخر ایک ماں چیخ اُٹھی ضامن ! سناش کی ایک آواز پر ضامن کے ہاتھ رُک گئے .” غفران زمر کو زندان میں لے جاو !غفران اور اسیر نے حیرت سے سناش کو دیکھا .” راجہ یہ! غفران اسے زندان میں ڈال دو اور اسے وہی سزا دو جو یہاں کے قانون مطابق ایسے مُجرموں کو دی جاتی ہے ! ” نہیں بھائی کہیں نہیں جائیں گے ! مگر زرمیش کی وہاں سُن کون رہا تھا حد تک کے اسیر اور طلسم نے بھی رُخ موڑ گئے تھے وہ چُپ چاپ ان کے ساتھ چل دیا یہ وہی جگہ تھی جہاں سالوں پہلے اُسکا باپ آیا تھا ” جرم؟” کوتوال کی آواز پر اسنے چونک کر اسے دیکھا ” زیادتی !اسنے قرب سے آنکھیں میچ لیں ” ریپسٹ ! قید خانہ شمار چار دس کوڑھے ! ” انھیں یہ سزا دی جایے گی یہ شہزادے ہیں ! کوتوال نے نظر اُٹھا سامنے دیکھا تو ایکدم کھڑا ہوگیا ” یہ…..!!! مگر کوئی بھی جواب دیے بغیر وہ نظریں جھکائے آگے بڑھ گیا .مگر قید خانے کی بجایے وہ تخہ دار کی جانب چل دیا کوٹ اُتارا اور کھڑا ہوگیا ” شہزادے ! ” ہم اسی لائق ہیں سزا دیں ہمیں ! ” ہم نے نہیں مانتے آپ ایسا کچھ کرسکتے ہیں ضرور یہ شہزادی نمزا کی کوئی چال ہے وہ بہت ضدی ہیں”وہ تڑپ ہی تو اُٹھا تھا اپنے پوتے کو یوں دیکھ کر. ” ہم سے یہ غلطی سرزد ہوئی ہے ہم کل رات اپنے حواسوں میں نہیں تھے… ہم مستحق ہیں اسکے ! ” سپاہی نے اسکے ہاتھ تختہ دار سے باندھ دیے تھے غفران نے رُخ موڑ گیا کاش کے جلاد کے دل میں تھوڑا رحم ہوتا تو اتنے مضبوط بدن پر ایک داغ بھی نہ لگاتا مگر وہ رحم دل ہوتا تو جلاد کیوں ہوتا وہ تو بے دردوں کی طرح داغ پر داغ دینے پر لگا تھا مگر اسکے منہ سے تو آہ تک نہیں نکل رہی تھی نمزا کی حالت زہن میں گھومتے دھندلے سے منظر اسے کچھ محسوس کرنے ہی نہیں دے رہے تھے مگر غلط فہمی انسان کو کس انتہا پر پہنچا دیتی ہے وہ یا تو زمر جانتا تھا یا زائر جیسا مسافر اور اس غلط فہمی کو دور نہ کرنے کا کیا نقصان ہونا تھا اس سے واقف نہ تو نمزا ہے نہ لمس تھی .وہ جلاد کوڑے پر کوڑا برسائی جارہا تھا آخر گنتی ختم ہوئی تو اسکے ہاتھ کھول دیے گئے اور قید خانے میں ڈال دیا گیا . ” اسیر ہمارا زمر بھی ایسا کر سکتا ہے ہم نے اسکی پرورش ایسے تو نہیں کی تھی …..” وہ ناجانے کتنی دیر سے اسیر کے گلے لگی رو رہی تھی اسیر تو خود پریشان تھا ” میرا دل نہیں مانتا طلسم زمر ایسا کچھ کر سکتا ہے !” ” پر اُسنے اعتراف کیا کہ اسنے نشے میں وہ سب کیا ہے وہ قبول کررہا ہے .! ” اسی بات پر آکر میں الجھ جاتا ہوں نمزا اور زمر کی شادی ہماری زندگی کا سب سے غلط فیصلہ تھا. ” طلسم نے ھیرت سے اسے دیکھا . زرمیش محل میں بنی ندی کے پُل پر بیٹھی تھی نیچے بہتے پانی میں وہ ناجانے کیا تلاش رہی تھی اسکے چہرے پر صدیوں کی اداسی تھی ضامن بھی اداس سا اسکے ساتھ آکر بیٹھ گیا ” میرا بھائی ایسا نہیں تم لوگوں نے اپنے میجک سے میرے بھائی کی لائف سپوئیل کردی !” اسکی اس غیر زبان سے وہ ہمیشہ.سے تنگ تھا .” ہمیں آپ کی بات سمجھ نہیں آرہی ہے ! ” ! اور مجھے یہ دُنیا سمجھ نہیں آرہی ! وہ اُٹھ کر چلی گئی . سناش شاہی کُرسی پر سر پکڑے بیٹھا تھا فاریہ نمزا کے ساتھ تھی جو اسکی گود میں سر رکھے خباثت بھری مُسکان سے سوچ پکا رہی تھی .” اب آپ کے پاس ایک ہی راستہ ہے آپنی عزت بچانے کا ” فرار ! وہ پھر میں ہمیشہ کے لیے آزاد کسی مرد کی غلام پابند نہیں رہوں گی ! وہ ہنس تو رہی تھی مگر کیا یہ ہنسی دل سے تھی اسنے انکھ بند کی تو اسکا وہی معصوم مسکراتا چہرا بہکا بہکا انداز یاد آرہا تھا جو اُداس کرگیا انکھیں دوباہ کھولی تو سامنے آئینہ تھا اپنا چہرا ناجانے کیوں اسے گھن آئی اسلیے رُخ بدل لیا. ……..
…….. رات کا دوسرا پہر شروع تھا زندان سے نظر.آتی چاند کی روشنی میں اسکا شرمندہ جھکا چہرا قابلِ ترس تھا. ایک ٹانگ سیدھی کیے دیوار سے ٹیک لگایے وہ اپنے بد حواس ہونے پر ماتم کررہا تھا کہ اسے سلاخوں کے پار کھنک سُنائی دی اسنے نظر اُٹھا کردیکھا منحوسیت کا سیاہ لباس اوڑھے وہ سامنے کھڑی تھی وہ شرمندگی سے پھر نظریں نہ ملا پایا ” ہم معزرت خواہ ہیں نمزا ہم اتنے بے حواس ہوجایے گے!! ” معزرت کیوں ؟ نمزا کے پرسکون لہجے پر اسکے سوال پر اسنے تعجب سے اسے دیکھا .” جو کل رات ہم نے کیا ؟” ” کیا کِیا ؟” زمر کو ھیرت پر ھیرت ہوتی جارہی تھی وہ سلاخوں کے قریب آیا ” کیا مطلب ؟” ” ہاہاہاہاہاہاہاہا کل رات …….ہمارے بیچ …کچھ نہیں ہوا تھا ” کچھ نہیں ہوا تھا اسنے سرگوشی کے انداز میں کہا تھا .وہ شاک سا اسکا منہ تکے جارہا تھا ” کل رات آپ مہ پی کر آئے تھے ہمارے قریب بھی آئے تھے مگر وہ …..حالت آپ نے کی تھی وہ تو ہم فنکاری کر رہے تھے .” ” کیوں کیا تم نے ایسا ؟ وہ تو اب بھی صدمے میں تھا . ” آپ کو صاف صاف کہا تھا ہمارے زندگی سے چلیں جائیں فرار ہوجائیں ہم پابند نہیں رہنا چاہتے مگرآپ نے ہمیں یہ سب مجبور کیا آج ہم آپکو آخری موقع دے رہے ہیں چلے جائیں یہاں سے …..” ” آج تم نے ثابت کردیا کہ عورت اگر اپنی ضد پر آجائے کس حد تک گِر سکتی تم نے مجھ اتنا گھٹیا الزام لگایا اور تب سے اپنے آپ سے نظریں نہیں ملا پا رہا کہ میں وہ گناہ کر چکا سب مجھے یہاں ریپسٹ سمجھتے ہیں یعنی عزت لوٹنے والا اور تم مجھے اکیلے میں یہ بتا رہی ہو میں نے تمہارے ساتھ کچھ نہیں کیا وہ فنکاری تھی واہ ! وہ غُصے میں لال ہوچکا تھا. ” آپ نے بھی ضد کرلی ایک ہم نے کر لی بے عزت ہوچکے ہیں بہتر یہی آپ محل چھوڑ کر چلے جائیں !” ” بہت بھاگا ہوں ان سب سے مگر ہر بار ایک لڑکی عزت اور جان بچانے کے لیے بھگوڑا بنا ہوں مگر اب بھاگا تو اپنی عزت جائے گی میں محل چھوڑ کر کبھی نہیں جاوں گا ….” اپنا فیصلہ سُنا کر وہ سلاخوں سے دور کردیا . ” کس قدر ڈھیت ہیں آپ ! پیر پٹخ کر چل دی .پہلی بار تھا کہزمر دل کھول کر رویا تھا ” آئی لو یو ! ” یہ آپ روز کہتی ہیں “……اور تم اتنے بے حس ہو کہ ایک بار بھی جواب دینا نہیں سمجھا …………..میں اپ سے مھبت نہں کرتا ……..تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں باندھ لو جازب کا سہرا اپنے سر………..نازنین کے الفاظ کانوں میں گونج رہے تھے اسنے کانوں پر ہاتھ رکھ دیا مگر یادیں کہاں کسی مواصلات کے زریعے آتی ہیں ……پل پل تڑپی ہوں میں تِل تِل تڑپو گے تم …..میری سانسیں بوجھ بن رہی ہیں تمہاری عذاب بن جائیں گی میری مھبت دھتکاری گئی تمہاری رسوا کردے گی ……….وہ کوس رہا تھا اس پل کو جب اسنے نمزا سے نکاح کے لیے ہاں کی تھی . ” میری زندگی برباد کردی آپ نے آپ کا ایک انکار سب سہی کرسکتا تھا………آپ محل چھوڑ کر مجھے چھوڑ کر چلیں جائے ………مجھے نفرت ہے آپ سے …….جنابِ زمر نفرت کرتے ہیں…….یہ مہ پی کر ہمارے قریب اور …….میں آپ کو اپنا دینے کے لیے تیار ہوں مگر اپ کو سورج کی پہلی کرن نکلنے سے پہلے مھل چھوڑ کر جانا ہوگا….آخر اسکا ضبط جواب دے گیا ” بس ! بہت ہوگیا عزت پاس بہت کرلیا انتظار بہت بُھگت لی سزا بہت دکھا لی اسے محبت اب وہ وحشت دیکھے گی اگروہ رویا پہلی بار تھا تو غصہ بھی پہلی بار ہوا تھا وہ اس قدر غصُے میں تھا کہ اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ ہونے والا تھا اسنے غُصیل بھری نظروں سے سلاخوں کو دیکھا ایک سبز روشنی نکلی اور جل کر بھسم ہوگئی مگر اسلے حواسوں پر تو نمزا سوار تھی اسلیے یہ نظر انداز ہی کر گیا تھا باہر نکل گیا . ” وہ آئینے کے سامنے زمر کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی سارے زیور اُتار کر اسنے صرف نتھ پہن رکھی تھی ” کیا تھے ہم اور کیا سے کیا بنا دیا اتنے گِرے تو نہیں تھے ہم …! وہ دل سوچ رہی تھی کہ اسے آئینے وہ کھڑا نظر آیا اسنے ایکدم پلٹ کر دیکھا وہ اسنے گہری نظر سے سر سے پیر تک اسے دیکھ ” کس کے لیے سجتی ہو یہ حُسن کا قسم کام ہے تمہارے اپنے شوہر کی تو عزت نہیں کی تم نے!
“ آ۔۔۔آپ۔باہر کیسے آئیں ہیں! اسکے اپنے طرف بڑھتے قدموں کو دیکھ کر وہ ڈر گئی تھی
