315.7K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 30 (Last Episode)

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

اسکی گردن میں منہ چھپائے وہ آنسو بہا رہا تھا طلسم نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ” زمر کیا ہوا ! ” مام میں نے آپکو بہت یاد کیا ہم نے ضامن اور زرمیش کو کھو دیا صیاد نے ضامن اور زرمیش کو مار دیا ! اسیر بھی وہیں آگیا تھا ” کیا کسے مار دیا ! وہ اس سے دور ہوا.” میں آپکو سب بتاتا ہوں اس دن جب ہم سب آدم کے جلے ہوئے گھر گئے تو زرمیش نے !!!! وہ کچھ بتاتا تبھی باہر شور مچ گیا وہ سب ایک ساتھ باہر کی جانب بھاگے سناش اور غفران آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے.جہاں وہ سفید فرشتے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اُڑ رہے تھے سب کے منہ حیرت سے کھل گئے تھے نمزا اور زمر نے ایک دوسرے کو دیکھا امبر پارہ اور.جاودات لوٹ آئے تھے وہ دونوں نیچے آئے وہ بلکل ویسے ہی تھے جیسے شہر سحر کے پہلے پنے میں تھے ” زرمیش ! اسیر اسکی طرف بڑھا تو زمر نے اسے روک لیا.اسے اپنی اور امبر پارہ کی پہلی ملاقات یاد تھی . بابا ! امبر پارہ کے منہ سے نکلے الفاظ سن کر سب حیران رہ گئے تھے وہ خوبخود انکے گلے لگ گئی اسیر حیران رہ گیا تھا اسکے پر اسیر کو چھپا سے گئے تھے ” بابا دیکھیں میں کون ہوں ! ” امبر پارہ ! اسنے زمر کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا ” صرف امبر پارہ نہیں اپکی باربی بھی بھائی ہمیں سب یاد آگیا ہے ہم امبر پارہ اور جاودات تھے صیاد ہمیں حاصل کرنا چاہتا تھا مگر ہم.نے موت اختیار کرلی اور پھر ہماری مام کے اندر آگئی اور ہم زرمیش بن گئے . ” صیاد نے جب مجھ سے وہ تلوار اور امبر پارہ کو چھینا ہمیں چھوڑ دیا وہاں سے جانور ہمیں ناجانے کیسے غار میں لے گئے ہمیں ہوش آیا تو ہمارا رنگ سیاہ ہوچکا تھا ہم سمجھ گئے امبر پارہ اس دنیا سے جاچکی ہے پھر بھی ہم نے اسے تلاش کیا صیاد کے پاس بھی گئےگر صیاد نے اپنی طاقتوں سے ہمیں کمزور کردیا اور ہم کال.جنگل میں امبر پارہ کی یاد میں سب بھول گئے پھر جب امبر پارہ شہزادی طلسم میں داخل تو ہمیں احساس ہوگیا کہ وہ واپس آرہی ہیں اور پھر غفران کے کہنے پر ہم نے وہی طریقہ اپنایا جو امبر پارہ نے اپنا یا تھا اوربکل رات کے بعد ہم اپنی اصل حالت میں آگئے ہمیں ماضی یاد آگیا مگر ہم اپنا حال بھی نہیں بھولے یہ وقت کی مہربانی رہی .جاودات نے نمزا اور زمر کو دیکھا ” ہمارے ماضی بلکل تم دونوں جیسا جوڑا تھا جسنے ہم سے مدد لی تھی غار کو چھپانے کے لیے اور ….اور مجھے ہرایا تھا . ” یس بھائی وہ بلکل آپ جیسا تھا مگر اسکا نام شاید زمر نہیں تھا ! ” وہ ہم ہی تھے ! ان دونوں نے ایکساتھ کہا تو سب حیرت سے انھیں دیکھنے لگے ” یہی بتانا چاہتا تھا بابا میں آپکو ہم لوگ شہر سحر کی تاریخ کے پہلے پنے میں قید ہوگئے تھے . ” کیا مطلب ؟ “باربی تمہیں یاد ہے تم آدم کی کتاب لائی تھی جس میں ہمیں پہلا پنہ ملا تھا اور اس پنے نے ہمیں اپنے اندر کھینچ لیا . ” جی بھائی ہمیں تو یاد ہے کہ ہمیں کتاب میں پہلا پنہ ملا تھا مگر اسکے بعد ہمیں کچھ یاد نہیں کیا ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا آگیا جب اندھیرا گیا تو آپ دونوں کمرے میں تھے ہی نہیں کتاب بھی نہیں تھی ! ہم آپکو ڈھوندنے لگے تو ضامن نے روک دیا کہا شاید وہ اکیلے میں وہ کتاب پڑھنا چاہتے ہیں اسلیے ہم دونوں اپنے کمرے میں آگئے . ” نہیں باربی ہم لوگ اس بک میں قید ہوگئے تھے کئی ماہ ہم دادا جان کے ساتھ رہے ہیں ہم نے ماضی میں وہ وقت گزارا تھا . ” غفران آپکو یاد ہے آپ نے جب ہم دونوں کو ساتج دیکھا تھا تو آپ نے کہا تھا کہ ہوبہو ہم جیسے انسانوں کا آدم کے ساتھ اپنے گھر پر دیکھا تھا اور بھائی جان اپ نے ابھی کہا کہ ہم جیسے دکھنے والے نے آپ سے غار چھپانے کے لیے مدد لی تھی اور زمر نے اپکو ہرایا تھا اپکی تلوار توڑ دی تھی وہ ہم ہی تھے ہم بتا تو رہے ہیں ہم اس کتاب میں قید ہوگئے تھے . ” مگر وہ کتاب تو آدم کے گھر پر ہے ہم آج صبح ہی دیکھ کر آئے ہیں ! ” آپ نے اس کتاب کو کھول کر دیکھا ! زمر نے فوراً اس سے سوال کیا . ” نہیں ! غفران نے نفی میں سر ہلا دیا ” تو چلیں اس کتاب کو کھولتے ہیں ! وہ اور نمزا آگے بڑھے باقی سب بھی ناچاہتے ہوئے انکے پیچھے چلے گئے کچھ دیر بعد وہ آدم کے اسے جلے ہوئے گھر میں کھڑے تھے داخل ہوتے ہی نمزا اور زمر کو کئی یادیں یاد آگئی تھیں غفران نے نمزا کے سامنے کتاب کی ” یہ دیکھیں شہزادی کتاب ” نمزا نے کتاب کی طرف دیکھا وہ وہی کتاب تھی جو اسنے آدم سے چھپ کر لکھی تھی آدم سے چھپ کر اسنے ایک نہیں دو کتابیں لکھی تھیں ایک جو جل گئی تھی اور دوسری جو چھپی رہی اور بچ گئی” غفران کھولیں اسے! حکم بجا لاتے غفران نے وہ کتاب کھولی تو اسکے ہاتھ لرز گئے وہاں پہلا پنہ موجود تھا پنے بھرے پڑے تھے تاریخ شہر سحر کی ارتقا سے لیکر جادو اکٹھا ہونے تک سب لکھا تھا ایک ایک چیز جو نمزا نے اپنے ہاتھوں سے لکھی تھی ” یہ سچ کہہ رہی ہیں پہلا پنہ موجود ہے ! نمزا نے اسکے ہاتھوں سے کتاب لی ” کیونکہ یہ ہم نےلکھی ہے اسکا ایک ایک حرف ہم نے لکھا ہے دیکھیں ابا جان یہ ہماری لکھائی ہے نہ ! سناش نے حیرت سے ایک نظر نمزا کو دیکھا اور پھر پنے کو وہ سچ میں نمزا کی لکھائی تھی اسنے کتاب غفران کو پکڑائی جو اسے پڑھنے لگا وہ ایک کمرے کی جانب چلی گئی ” یہاں ….یہاں رہتے تھے ہم اور زمر …..وہ اندر گئی ہر چیز جل چکی تھی اسنے الماری کھولی وہاں جالے لگے تھے جلے کپڑے پڑے تھے کیڑے مکوڑے بھی تھے اسنے اختیاط سے کپڑے کھنگالنے شروع کیے تو ایک آخر اسے وہ جلا ہوا لباس مل ہی گیا .” یہ دیکھیں یہ لباس یہ وہی لباس ہے جو ہم نے پہلے پنے میں قید ہونے سے پہلے پہنا تھا ! وہ سب حیرت سے اسے دیکھ رہے تھآخر غفران بول پڑا ” اگے اس دن جادو اکٹھا کر لیا تھا بھائی جان کی موت کا نہیں لکھا ! غفران کی بات پر زمر اور نمزا نے ایک دوسرے کو دیکھا غفران یاد کرلے بتانے لگا تھا ” بھائی جان نے مجھے تختی دی اور بھاگنے کا کہہ کر گھر میں آگئے میں انکے پیچھے جانے لگا تو مجھے دو سائے آتے ہوئے دکھائی دیے مجھے لگا کہ صیاد آگیا اسلیے میں وہاں سے بھاگ گیا.” ” وہ دو سائے صیاد نہیں میں اور نمزا تھے ہم دادا جان سے ملے تھے وہ دادی جان اور اپنے دوسرے بیٹے کے موت پربہت افسردہ تھے اور پھر اُطم !!! زمر نے نمزا کو دیکھا ان دونوں نے ایکساتھ کہا ” ہمیں اطم مین جانا ہوگا اب آدم کی موت کا راز صرف سنیار بتا سکتا ہے !!!

“ کیا مطلب ؟ اسیر نے زمر کو اپنی جانب کھینچا ” بابا اس رات دادا جان واپس اُطم میں گئے تھے ہم بھی جانے والے تھے مگر واپس یہاں آگئے اسی کتاب کے زریعے بابا اس رات دادا کے ساتھ کیا ہوا تھا وہ راز اُطم میں ہی ہے۔ ہمیں وہاں جانا ہوگا ! اسکی بات سن کر کسی کا بھی انتظار کیے بغیر آدم کال جنگل کے لیے نکل گیا تھا محل سے تین بگھیاں ایک ساتھ کال جنگل کے لیے نکلے تھے وہ لوگ اسی جگہ پہنچ گئے تھے جہاں اُطم تھا ضامن اور زرمیش ہوا کے دوش پر سوار تھے

“ سورانچھ !! سورانچھ !!!وہ بلند آواز سے سورامچھ کو آوازیں دے رہا تھا ۔سر پر ہیرے جڑا تاج پہنے وہ ایک غرور سے چلے آرہا تھا ” سورانچھ اُطم نکالو !

“ کیوں آج اطم سے کیا چاہیے تمہیں ؟ اسنے طنزیہ انداز سے پوچھا جو سب کو اچھا خاصہ محسوس ہوا تھا ۔

“ میرے باپ کی موت کا راز ۔۔۔۔۔۔۔۔دفن ہے اس میں نکالو اسے !! “

“ دیکھو اسیر گڑے مردے اکھاڑنے سے کوئی فایدہ نہیں اطم سالوں سے زمین کے نیچے ہے میں اسے باہر نہیں نکالا وہ صرف ضرورت کے وقت نکالا جاتا ہے !٫

“ ضرورت اس سے بڑی ضرورت کیا ہوگی کہ آج آدم کی موت کا راز آشکار ہوجائے گا پتہ چل جائے گا آدم کو کس نے مارا تھا ! سناش بھی اسیر کے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا ۔

“ آدم کی موت کا راز جان کر ہم سب کیا کریں گے کیا وہ واپس آجائے گا نہیں نہ تو کیوں وہی سب دوہرانہ !

“ یہ ہماری مدد نہیں کرے گا بابا کیونکہ یہ سنیار کی ہی اولاد ہے اور ہو نہ ہو سنیار کے ساتھ یہ بھی ملوث رہا ہے ! سورانچھ نے خونخوار نظروں سے زمر کی طرف دیکھا ” ایسا کچھ نہیں ہر انسان کو اسکے کیے کی سزا ملتی ہے آدم کو بھی مل گئی اور جہاں تک رہی بات اُطم نکالنے کی تو میں اُطم نہیں نکالوں گا !”

“ کیا مگر کیوں تم ایسا کیوں کررہے ہو سورانچھ م۔تو ایک اچھے شیر آدم اور زولفشان نے تمہیں پالا تھا اور تم انھیں کے ساتھ یہ سب !اسیر سورانچھ سے بات ہی کررہا تھا جب سناش نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سامنے اشارہ کیا اُطم زمین سے باہر نکل رہا تھا اور اسے نکال رہے تھے امبر پارہ اور جاودات اپنی پوری طاقت سے جیسے انھوں نے غار چھپا دی تھی ویسے ہی انھوں نے اُطم بھی باہر کھینچ لیا تھا ” تمہیں کیا لگا سورانچھ تم اُطم نہیں نکالو گے تو کوئی نہیں نکالے گا !!!! سورانچھ بس انھیں دیکھے جارہا تھا اطم باہر آچکا تھا اس سے پہلے اسیر اس تک پہنچا اور لگائی ” ابنِ آدم آیا ہے !! زلال نے دروازہ کھولا اسیر فورآ اندر چلا۔گیا اور اسکے پیچھے وہ سب بھی اطم آج بھی اتنا ہی ہیبت ناک تھا جتنا ہونا چاہیے تھے اسیر پاگلوں کی طرح آوازیں دے رہا تھا ” بابا !!! بابا میں آیا ہوں اسیر !!! بابا ؟!! مگر کوئی جواب نہیں نمزا پریشانی سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ اسکی نظر ان تین قبروں پر پڑی وہ انکے قریب چلی گئی وہ قبریں ان شیروں کی ہی تھیں انکے سامنے اسنے نام پکارا ” سنیار !!! اطم میں ہر طرف روشنی پھیل گئی تھی وہ تین چہروں والا شیر ں بھی ویسے کا ویسا ہی تھا اسے دیکھ خواتین ایک پل کے لیے تو ڈر گئی تھیں نمزا کے تو چہرا ہی زمر کے سینے چھپا لیا تھا .” بولو ؟” اسکی کرخ آواز پوری غار میں ہی پھیل گئی تھی آدم نے ہمت کی ” ممم ۔۔۔میرے بابا آئے تھے یہاں میں ۔۔۔۔اسیر ہوں اسیر ابنِ آدم ! آدم کا نام سن کر سنیار کا چہرا بے تاثر ہوگیا تھا

“ اس رات جب صیاد تمام جادوگران کو مار چکا تھا تو آدم یہاں آیا تھا تم سے بات کرنے کہ تم نے اسکے ساتھ ایسا کھیل کیوں کھیلا ! سنیار نے حیرت سے نمزا کو دیکھا ” کیسا کھیل؟

“ تم جانتے تھے ہیرا صیاد کے پاس ہے تم نے پھر بھی آدم کی مدد نہیں کی تم تو خود کو اسکے دوست مدد گار کہتے تھے تم نے اسے جادو اکٹھا کرنے کا غلط مشورہ دیا تم جانتے تھے صیاد ایسا کبھی نہیں کرے گا سب کی طاقتیں کھونے کے بعد وہ سب صیاد کے سامنے بے بس ہوجائیں گے بتاؤ سنیار کیوں کیا تم نے ایسا ؟” نمزا کے سوال پر اسنے ایک نظر سورانچھ کو دیکھا جو اسکے ساتھ آن کھڑا تھا ” کیونکہ مجھے آدم سے بدلہ لینا تھا ! سنیار نے کے الفاظ سب کو ہلا گئے تھے ” ہاں آدم اس رات آیا تھا میرے پاس سب سمجھ آنے کے بعد وہ آیا تھا میرے پاس ۔۔

Back to the secret full Night ..

وہ غصے میں پھنکارتا ہوا اُطم میں آیا تھا سنیار ! سنیار !! وہ چیخ چیخ کر سنیار کو بلا رہا تھا ” کیا ہوا آدم ؟

“ کیا ہوا جیسے تمہیں تو علم ہی نہیں کیا ہوا تم نے دھوکا میرے ساتھ کیا نہ تمہیں پتا تھا ہیرا کہاں ہے ؟ ” سنیار کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی ” ہاں میں جانتا تھا ہیرا صیاد کے پاس ہے ! آدم کا رنگ فک ہوگیا تھا ” کیسے ؟”

“تم اکثر مجھ ملنے آیا کرتے تھے اور یہ بات صیاد کی نظروں میں مشکوک تھی وہ تک سے بدلہ لینا چاہتا تھا اس دن جب تم یہاں تو تمہارا پیچھا کرتے صیاد بھی اطم میں آیا تھا اسنے چھپ کر تمہاری اور میری باتیں سنی تھیں تمہارے جانے کے بعد وہ میرے پاس آیا تھا اسنے مجھ سے پوچھا کہ تم آدم کی مدد کیوں کر رہے ہو تو میں نے اسے بتایا کہ مجھے تم سے ہیرا واپس چاہیے تو صیاد نے میرے ساتھ سودہ کیا کہ اگر وہ ہیرا میں چرا کر تمہیں دے دوں تو !

تو میں نے کہا وہ ہیرا تمہاری خواہش پوری کر سکتا ہے تم اگر مجھے وہ ہیرا لا دو تو میں تمہاری ہر خواہش پوری کرسکتا ہوں ہیرا چوری کرنے میں میں نے صیاد کی مدد کی نگہبان کی نظر میں صیاد آیا ہی نہیں ہیرا ملنے کے بعد میں جانتا تھا ہیرا غلط ہاتھوں میں گیا ہے تو تو میرے قول کے مطابق حکمران واپس آیا اور صیاد نے ہو ہیرا اسے دے دینا تھا ۔”

“ تم میرے ہمدرد تھے آستین کے سانپ نکلے میں تم سے شرمندہ تھا اسلیے میں تک سے بات کرنا تھا مجھے لگا تم مجھے معاف کرچکے ہو مگر تم تو میری جڑیں کاٹ رہے تھے جادو اکٹھا کرنے کا بھی اسلیے کہا تھا کہ پتا صیاد جادو نہیں دے گا اور باقی جادو گر کمزور ہوجائے گا اور صیاد آسانی سے سب کو مار دے گا اور تمہارا بدلہ پورا ہوجائے گا ۔”

ہاں یہی میرا بدلہ تھا میں ہیرا دینے کے لیے تیار مگر تمنے میرے ساتھ دھوکا کیا میرے دل مردہ کردیا اور میں ختم ہوگیا ایک دھوکا تم نے کیا ایک میں نے لیکن تمہاری موت ابھی باقی ہے ! آدم نے حیرت سے سنیار کی جانب دیکھا جو اطم کے دوسرے کونے میں دیکھ رہا تھا ۔آدم نے اس جانب دیکھا تو وہاں وہی شہر کا بچہ تھا سورانچھ جو خاموشی سے آدم کو دیکھ رہا تھا دیکھتے ہی دیکھتے وہ بڑا ببر شیر بن گیا !!!

“ اسے مار دو سورانچھ !سورانچھ نے ایک نظر سنیار کو دیکھا اور پھر آدم پر حملہ کردیا آدم نے اسکے پنجو کو پکڑ تو لیا بہت دیر جد و جہد کے بعد بھی وہ سورانچھ کا مقابلہ نہ کرپا یا سورانچھ نے آدم کی چیر پھاڑ نہیں کی تھی صرف اسکی گردن میں پنجہ مار کر اسکی شہ رگ اندر تک کاٹ دی تھی سفید لباس پر خون کے دھبے پڑ گئے تھے گردن سے خون کا پھوارا نکل رہا تھا ۔” سنیار کا بدلہ پورا ہوگیا تھا آدم مر گیا تھا ۔

حال ۔۔

وہ سب حیرت سے منہ کھولے سورانچھ کر دیکھ رہے تھےجسے ابھی بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا طلسم اور سناش تو حیران تھے سورانچھ نے تو کبھی ہمیں نقصان نہیں پہنچایا جنگل میں کبھی کچھ نہیں کیا تو آدم کے لیے ایسا کیوں ؟اسیر ابھی کنفیوز تھا

” سورانچھ اگر تم نے اپنا بدلہ لینے کے لیے بابا کو مارا تھا تو تم نے صیاد کو مارنے میں ہماری مدد کیوں کی وہ تو تم لوگوں کا ساتھی !”

“ وہ ساتھی نہیں تھا وہ ایک مُہرا تھا جو الُٹی چال چل ہمیں دھوکا دے گیا صیاد نے ہیرا چرا کر مجھے لوٹانا تھا مگر ہیرا دیکھ کر وہ لالچی ہوگیا تھا اسنے ہیرا نہیں دیا آدم کے بیٹے اور اس بیج کی حفاظت بھی میں نے صیاد کے لیے کی تھی وہ ہیرا دیتا تو میں اسے آدم کا بچہ اور وہ بیج دونوں لوٹا دیتا مگر صیاد نے ہیرا نہیں دیا بلکہ سورانچھ کوہی شہر سحر نکال دیا تھا میں سوچا کہ صیاد کی موت آدم کی اولاد ہی کرے گی یہ بیج اور وہ بچہ یعنی تم محفوظ رہو گے اور پھر تم آئے تم نےصیاد کی شکست دی سناش کی جان بچانے کے لیے تمہیں آدم کا جادو چاہیے تھا اور جادو میرے پاس تھا سب ہماری مطابق ہورہا تھا پھر تم آدم کے گھر گئے وہاں جو تمہیں کتاب مل تھی جس میں لکھا تھا کہ وہ ہیرا شیروں کا تھا وہ کتاب تمہیں آدم نے نہیں ہم نے دی تھی ! سب کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی ” ہاں ہم تمہارا ایک ایک عمل دیکھ رہے تھے تم آدم کی روح سے مدد مانگ رہے تھے تو ہم نے کردی کتاب میں تمہیں صرف وہ پنہ دکھایا جو ہمیں دکھانا تھا آدم کی روح تھی مگر اسنے تمہاری مدد نہیں کی تھی ہم نے کی جانتا تھا تمہیں اطم چاہیے اور اطم کے بارے میں صرف آدم جانتا تھا تمہیں یہی لگے گا کہ وہ پنہ تمہں دکھایا ہے اس میں شیروں کا ذکر انکے پڑھتے ہیں پہلا خیال تمہارے ذہن سورانچھ کا آئے گا اور سچ میں تم عقلمند تھے آدم جتنے تم بہت آسانی سے سمجھ گئے کہ سورانچھ کو ہیرا چاہیے ہوگا وہ ہم سے ہیرے مانگے اور تم نے سورانچھ وہ ہیرا لا دیا امانت حکمران پاس آگئی صیاد کی موت اسکے کیے کی سزا تھی ہم برے نہیں تھے مگر ہمارے ساتھ برا کیا گیا ہم نے بس بدلہ لیا اور کسی کو ہم نقصان پہنچانا نہیں چاہتے موت صرف آدم کی چاہیے تھی زولفشان شہوار تو صیاد کی بھینٹ چڑھ گئے شہر سحر کو ہم نقصان پہنچانا نہیں چاہتے تھے ۔” روداد ختم ہونے کے بعد سب کو سانپ سونگھ گیا تھا ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا” مگر جو بھی تھا آپکو بابا کو مارنا نہیں چاہیے تھا میں تم لوگوں کو کبھی معاف نہیں کروں گا اس ہیرے کی وجہ کئی زندگیاں گئی ہیں یہ ہیرا تم لوگوں کے پاس بھی نہیں رہے گے ۔چھین ہوں گا میں !” اسیر کی بات پر سورانچھ نے کرے تیوروں سے اسیر کو دیکھا ” وہی غلطی مت کرو اسیر جو تمہارے باپ نے کی تھی

میرے بابا کی غلطی تھی میں مانتا ہوں مگر وہ پشیمان بھی تھے اپنی شرمندگی میں اور آپکی ہر بات مانتے چلے گئے اور آخر میں موت دے دی گئی یہ ہیرا وجہ ہے تباہی کی ختم کردوں گا اسنے شدید غصے اور اشتعال میں سورانچھ کے تاج میں لگے ہیرے کو دیکھا سبز روشنی آنکھوں سے نکلی اور سورانچھ کی جانب چل.دی مگر ختم ہوگئی کیونکہ غفران سورانچھ کے آگے حفاظتی تہ بنا کر کھڑا تھا .! چچا !! پاگل ہوگئے ہو اسیر ہیرا تباہ ہوگیا تو سب ختم ہوجائے گا ! اسنے غصے سے پیر زمین پر مارا ” کیوں !! اب بھی اس جادوئی دنیا کی سوچو جس نے کیی جانیں لے لیں سنا آپ نے یہ سورانچھ ہمارے درمیاں موجود تھا اسنے ایک بار بھی منہ کھول کر یہ نہیں کہا کہ انھیں میں نے مارا تھا ۔”

“ آدم کو ہم نے مارا تھا لیکن آدم کی موت زمہ دار ہم نہیں تھے ! سنیار کی بات پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا ” کیوں نمزا بتاؤ کون تھا آدم کی موت کا زمہ دار میں یا تم !”

کیا بکواس کررہے ہو تم ! زمر چیخ پڑا تھا نمزا خود حیران تھی ” آدم اُطم سے سہی سلامت واپس گیا شمس سے بھی بچ گیا تھا صیاد بھی اسے نہیں مار۔پایا تو بچا کون تم دونوں تمہیں نے اسے سب بتایا تھا اس رات کہ وہ سارا کھیل میں نے کھیلا تھا تمہاری وجہ سے آدم اس رات واپس اُطم آیا تھا اگر تم اسے کچھ نہ بتاتی تو شاید آج وہ زندہ ہوتا ! سب نے ایک ساتھ مزا کی طرف دیکھا ” زز۔۔۔زمر آپ تو جانتے ہیں نہ کیا ہوا تھا آدم سب کچھ کا زمہ دار ہمیں سمجھ رہا تھا ہم نے تو اسے بس اتنا بتایا تھا کہ وہ سب سنیار نے کروایا اس سے ہم نے اسے روکا بھی کہ مت جائیں مگر ۔۔۔۔”

“ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے نمزا یہ بس ہمیں بھٹکا رہا ہے بابا دادا جان کو لگتا تھا ہمیں سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود بھی ہم نے انھیں کچھ نہیں بتایا اگر ہم بتا دیتے تو سب کچھ بدل جاتا سب کچھ !!!”

“ تمہں کیا لگتا ہے تم ہمیں ہمارے بچوں سے بدگمان کرو گے اور ہم ہوجائیں گے ہمیں بھٹکانے کی کوشش مت کرو ! سناش نے تلوار میان سے نکال لی تھی ۔

“ تلوار میان رکھیں راجہ سناش ہم جنگ نہیں چاہتے ! سورانچھ کی طرف سے تو سب نے منہ پھیر لیا تھا

“ ٹھیک ہے مان لیا ہم نے آدم کو مارا ہم دھوکا کیا مگر کیا کیا آدم نے ہمارے ساتھ کیا تھا حساب برابر کہانی ختم !

“ ایسے کیسے کہانی ختم بابا نے آپ سے دھوکے ہیرا لیا اور آپ نے ان سے مگر اب میں حق آپ سے ہیرا لوں ختم کردوں گا دونوں کو ! اسیر کی بات پر سورانچھ اور سنیار دونوں ہنس دیے ” اسیر تمہں پتا مجھے وہ وقت یاد آرہا ہے جب آدم تمہں ٹوکرہ میں ڈال کر لایا تھا مجھے تو لگ رہا ہے تم بڑھے ہی نہیں ہوئے بچوں جیسے باتوں کرتے ہیں ہمارے پاس ہیرا اگر ہمیں کچھ کرنی کی سوچی تو ہیرا تباہ کردیں خود مریں تم سب کو بھی ساتھ لیکر مریں گے !!!

” تمہاری غلط فہمی ہے کہ ہیرا تمہارے پاس ہے سنیار ہیرا یہاں ہے ! سب نے پیچھے دیکھا جہاں بقراط رومی اور یاقوت یمنی کھڑی تھی اور ہیرا بقراط کے ہاتھ میں تھا ۔سورانچھ نے اپنے تاج کو دیکھا وہ خالی تھا ۔

“ اففف سنیار بے وقوفی تو تم نے بھی کی اتنا یاد رہا کہ ہیرا واپس مل گیا کیوں بھول کہ ہمیں ہمارا جادو بھی واپس مل گیا اور یہ ہمارے جادو کا ہی کمال ہے کہ ہیرا سورانچھ کے تاج سے ہمارے ہاتھوں میں آگیا یہی ہماری طاقت تھی !!! سورانچھ غراتا ہوا بقراط کی جانب بڑھا تھا تبھی امبر پارہ اور جاودات سامنے آگئے ” میرے راستے سے ہٹو!

“ کیوں تاکہ ہمیں کھوکھلی دھمکیاں دے سکو نہیں سورانچھ کھیل ختم وقت آگیا ہے کہ کال جنگل کا راجہ بدل دیا جائے !!!! امبر پارہ ہے گئی تھی آمنے سامنے سورانچھ اور جاودات آگئے تھے سورانچھ جاودات کر کود پڑا تھا مگر وہ پیچھے ہٹ گیا اپنا بچاؤ کرلیا وہ دوبارہ اسکی طرف بڑھا بلکل ویسا ہی منظر پھر ہوگیا تھا جب ضامن نے بھیڑیے کو دو حصوں میں بانٹ دیا تھا ایک لمحہ لگا تھا سفید پروں کو سیاہ ہوتے اسکی آنکھوں میں لہو اترتے سورانچھ اسکی طرف دھاڑتا ہوا آیا تو جاودات نے اسکا جبڑا پکڑ لیا ” نہیں !!! سنیار کے چیخنے سے پہلے ہی سورانچھ دو حصوں میں بانٹ دیا تھا اسکے خون کے چھینٹے ضامن کے پورے جسم کو بھیگا گئے تھے ۔” یہ تم لوگوں نے اچھا نہیں کیا تمہیں اسکی سزا ملے گی !!!سنیار کا غصہ ساتویں آسمان کو پہنچ گیا تھا تبھی ان تین قبروں میں حرکت پیدا ہوگئی اسکی مٹی میں دراڑیں آنے لگی تھیں غفران نے بلند آواز میں کہا ” بھاگو !!!بقراط ہیرا پکڑے سب سے آگے اور باقی سب اسکے پیچھے بھاگ رہے تھے پیچھے سنیار کی قبر ٹوٹتی جارہی تھی اسیر نے بھاگتے ہوئے زلال کو بھی کھینچ لیا تھا وہ اسکے باپ کا جن تھا ۔وہ سب اُطم سے باہر آگئے تھے ۔” ہمیں سنیار کو روکنا وہ قبر وہ سنیار کی ہے اگر سنیار کا جسم اُطم سے باہر آگیا تو اسکی روح آزاد ہوجائے گی ابھی تو وہ اطم میں قید ہے ہمیں اسے باہر نہیں آنے دینا ورنہ تباہی پھیل جائے گی ! اطم لرزتا جارہا تھا سناش نے ہاتھ بڑھا کر کا دروازہ بند کیا مگر وہ پھر کھُل گیا ۔یہ دروازہ بند کیوں نہیں ہورہا !!!

“ یہ نہیں ہوگا سنیار نہیں ہونے دے رہا ہمیں اسے بند رکھنا ہوگا اور اُطم توڑنا ہوگا اطم ٹوٹا تو سب سنیار بھی ختم اسکی قبر ہمیشہ کے لیے دب جائے گی اسکا جسم قبر سے باہر نہیں آئے گا !!!!

“ تو ایک کام کرتے ہیں میں فاریہ نمزا اور امبر پارہ دروازہ بند رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور آپ سب اُطم توڑیں ! وہ چارو اپنی طاقت سے دروازہ بند رکھنے کی کوشش کرنے لگی جاودات سناش اسیر اور زمر ایک سیدھ میں آگئے تھے جاودات اور سناش ہاتھوں سے نکلتی روشنی سے اُطم کو تباہ کرنے کی کوشش کررہے تھے اور اسیر اور زمر آنکھوں سے مگر ہر طاقت اُطم سے ٹکرا کر واپس آتی جارہی تھی ادھر سنیار دروازہ کھولنے کی پوری کوشش کررہا تھا اسے سنبھالنا چاروں لڑکیوں کے لیے مشکل ہوتا جارہا تھا۔ ” اسیر جلدی کریں ہم روک پائیں گے اسے ! وہ تمام اپنی تمام تر کوششیں کررہے تھے مگر انکی تمام طاقتیں ٹکرا کر واپس آتی جارہی تھیں ۔غفران نے بقراط سے ہیرا لیا ” سنیار میری خواہش پوری کرو برائی کا اختتام کرو !!! سب حیرت سے غفران کو دیکھنے لگے تھے یہاں سنیار ہماری جان کے درپے ہے اور غفران سنیار سے خواہش کررہا ہے پر یہ کیا ہیرا چمکنے لگا تھا سنیار ابھی بھی پوری طاقت لگا دیا تھا اپنی قبر سے اپنا مردہ جسم باہر نکالنے کی تاکہ اسکی روح آزاد ہوسکے کہ اچانک دن اندھیرے میں ڈھل گیا ہر طرف اندھیرا چھا گیا چاند اُطم کے بلکل قریب آگیا اسکی روشنی اُطم پر پر رہی تھی اور اسی کے ساتھ کی زمر اور اسیر کی گرے انکھیں بھی چمکنے لگی تھی ان سے نکلی روشنی بھی اُطم پر پڑ رہی تھی چاند زمر اور اسیر کے آنکھوں سے نکلتی روشنی اُطم میں دراڑیں ڈال رہی تھیں دیکھتے ہی دیکھتے اُطم پھٹ کر ٹُکڑے ٹُکڑے ہوگیا اور وہ ٹکڑے زمین نے جذب کرلیتا ۔ سنیار ختم ہوگیا تھا اسکی روح بھی ہمشیہ کے لیے مٹی میں قید ہوگئی تھی وہ سب جیت گئے تھے اُطم کے ٹوٹتے ہی اسیر اور زمر اپنی آنکھوں میں ہاتھ رکھتے پیچھے ہوگئے انکی آنکھوں میں درد ہورہا تھا ۔نمزا اور طلسم انھیں سنبھالنے کی کوشش کررہی تھیں ” زمر کیا ہوا ؟”

میری آنکھیں جل رہی ہیں نمزا !!!اسیر کا بھی یہی حال تھا آخر کچھ دیر بعد انھیں کچھ سکون ہوا تو انھوں نے آنکھیں کھولیں تو باقی سب کے حیرت سے منہ کھُل گئے تھے ” اسیر آپکی آنکھیں !!! نمزا بھی زمر کی طرف حیرانی سے دیکھ رہی تھی ” زمر آپکی آنکھیں !

“ کیا ہوا تم سب کو کیا ہوا ہماری آنکھوں کو ؟

“ سیاہ ہوگئی ہیں !!! سب نے یک زبان ہوکر کہا ” کیا ؟؟؟

طلسم نے اپنے جادو سے ہاتھوں میں شیشیہ بنایا اور ان دونوں کو دکھایا انکی آنکھوں کا رنگ گرے نہیں کالی ہوچکی تھیں ۔ ” یہ۔۔۔یہ کیا ہوا ؟

“ وہ چاند کی طاقت تھی تمہاری آنکھوں چاند کی روشنی جمع تھی شاید وقت جانتا تھا اُطم کیسے ٹوٹے گا اسلیے اسنے تم دونوں میں چاند کی روشنی کی طاقت رکھی تھی جسکا مقصد آج پورا ہوگیا تو تمہاری آنکھوں کا رنگ بھی بدل گیا !!!

“ خدا جانے وقت نے اپنے اندر کیا کیا راز چھپا رکھیں ہیں !!! ان سب نے سرد آہ بھر کر کہا اور دور کہیں سفید چاند میں مسکراہٹ بن گئی تھی وہ سب ایکساتھ محل کی جانب چل دیے تھے زمر نے نمزا کے کان میں سر گوشی کی ” میری کالی آنکھیں دیکھ کر بھاگ تو نہیں جاؤ گے ۔

نمزا رُک گئی تھی اسکا چہرا اپنی جانب کیا ” اب آپ پورے کالے بھی نہ ہوگئے نہ تو بھی کسی کو دیکھنے بھی نہیں دیں گے !!!

“ ہائے سچی !!!! وہ اس پر گرتا جارہا تھا جب باقی سب مُڑ گئے تھے ” اہم اہم !! سب نے کھنگھارا بھرا تو وہ شرمندہ سا ہوکر آگے بڑھ گئے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پورا شہر سحر خوشیاں منا رہا تھا ہر طرف رنگ اڑ رہے تھے انکی زندگیوں سے ایک اور خطرا ٹل گیا تھا ہیرا غفران نے محفوظ کردیا سات پردوں میں کوئی انسان تو کیا مکھی بھی وہاں نہیں جاسکتی تھی دربار میں جشن چل رہا تھا سناش طلسم اسیر فاریہ سب دربار میں جشن دیکھ رہے تھے امبر پارہ اور جاودات تو ہواوں کے باشندے تھے وہ وہیں تھے اب انھیں ضامن اور زرمیش بن کر محل بھی سنبھالنا تھا اور امبر پارہ جاودات بن کر کال جنگل بھی شہوار کی وہ روح آج بھی کبوتر بن کر امبر پارہ کے ساتھ تھی ۔غفران بقراط اور رومی من تن دھن سے محل کی خدمت کررہے تھے اور ایک کمرے میں میز پر مخروطی انگلیاں پنے پر کچھ لکھ رہی تھیں وہ دوسرے پنے کے آخر میں آدم موت کا راز اطم کا ٹوٹنا اور ہیرے کی حفاظت کے مطلق لکھ رہی تھی لکھ کر اسنے کتاب بند کی بولڈ حروف میں لکھے شہر سحر کے نیچے مصنف کا نام نمزا زمر لکھا تھا وہ اپنے نام پر انگلیاں پھیر رہی تھیں جب اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھا ” کام ختم ہوگیا ہو تو چلیں ! ” وہ ہاتھ آگے بڑھائے اسے بلا رہا تھا اسنے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور کھڑی ہوگئی زمر نے بازو کیا تو اسے تھامے وہ پرفیکٹ کپل کی طرح دربار میں جارہے تھے زمر نے رائل بلیک پرنس کوٹ اور نمزا نے فل ریڈ آف شولڈر میکسی پہنی تھی کمرے تک پھیلے کالے بال اور ماتھے پر بے بی کٹ وہ بلا۔کی حسین لگ رہی تھی راہداریوں کو پار کرتے وہ دربار کی جانب جارہے تھے کہ نمزا کو چکر آگیا وہ زمر کی باہوں میں جھول گئی ۔” نمزا !!نمزا!! وہ اسکے گال تھپتھپا رہا تھا اسے باہوں میں اٹھائے وہ کمرے کی طرف بھاگا راستے میں اسے رومی نظر آیا ” رومی طبیب کو بلاو ! وہ فوراً طبیب کو لے آیا اور ساتھ ہی سب کو وہ سب کمرے کے باہر پریشانی سے ٹہل رہے تھے زمر تو پریشانی سے انگلیاں مروڑ رہا تھا اسکی یہ پریشانی اسیر اور طلسم کو اچھی لگ رہی تھی صد شکر ان دونوں کے بیچ سب ٹھیک ہوگیا ۔ آخر کچھ دیر طبیب باہر آیا اسکے چہرے پر خوشی تھی ” مبارک ہو راجہ شہزادی امید سے ہیں ! ” زمر طبیب کا منہ ہی دیکھتا رہ گیا ۔ طلسم اور فاریہ تو خوشی سے ایک دوسرے کے گلے لگ گئی تھیں ان دنوں نے زمر کے سر پر پیار کیا ” مبارک ہو ! پر وہ تو بلکل سٹیٹک ہوگیا تھا اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اسنے ابھی ابھی کیا سنا ! سناش نے خوشی میں آسمان میں آتش بازی بن دی تھی ” غفران سب میں میٹھائیاں بانٹوں ہم نانا بنے والے ہیں ! اسیر زمر کے گلے لگا تھا باپ کی آغوش میں اسے کچھ سکون ملا تھا اسکے گلے لگ کر رو دیا ” کیا ہوا ؟اسیر نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا ” بابا آج محسوس ہورہا ہے جب آپکو ہماری خبر ملی ہوگی آپکو کیسا لگا ہوگا سیم آپ جیسی فیلنگ آرہی ہیں ! اسیر نے اسکے سر تھپکی دی ” گدھا !!! وہ سب خوش تھے خوشی دوگنی ہوگئی تھی اسیر نے طلسم اور زمر کو اکیلے میں بلایا ” کیا ہوا بابا ؟

“ زمر تمہیں نہیں لگتا وقت آگیا ہے واپس جانے کا امبر پارہ اور جاودات ایک ہوگئے بابا کی موت کا راز کھُل گی کتاب مکمل ہوگئی اب ہمیں واپس جانا ہوگا !!” زمر سوچ پر گیا تھا ۔” بابا نمزا کو پتا تو چلے گیا کہ ہم لوگ کسی دوسری دنیا سے آئے ہیں مگر کیا وہ جانے کے لیے مانے گی اوپر سے اسکی کنڈیشن کہیں کچھ ہو ناجائیں پتہ وہ وہ ماحول اڈیپٹ کرپائے گی یا نہیں !”

“ زمر طلسم بھی اسی دنیا سے تھی اسنے بھی تو سب کچھ اپنایا اپنا آپ بدلہ نمزا کو بھی کرنا ہوگا تک اس بات کرو اسے مناؤ ! اسنے منانے کی زمہ داری دے کر اسنے زمر کو اور پریشانی میں ڈال دیا تھا ۔جشن ختم ہونے کے بعد وہ اب کمرے میں جارہا تھا وہ بستر پر کب سے اسکی راہ تک رہی تھی وہ تب سے کمرے میں نہیں گیا تھا اسے وسوسوں نے ان گھیرا تھا ” کیا انھیں اچھا نہیں لگا ؟ کیا وہ خوش نہیں ہیں اس خبر سے !!! وہ سوچ ہی رہی تھی جب وہ کمرے میں آیا اور ایکدم الرٹ ہوگئی مسکرا کر اسے دیکھنے لگی مگر وہ بنا کچھ کہے کپڑے بدلنے چلا گیا کپڑے بدل کر واپس آیا تو چپ چاپ لیٹ گیا نمزا کا منہ اُتر گیا تھا اسنے اسے پکارنے کے لیے ہمت کی پھر ناجانے کیوں چپ ہوگئی کمبل۔میں منہ دے کر رونے لگی رونے کی آواز سن کر انسے بھی چہرا کمبل میں گھسا لیا اسکی چھوٹی سی ناک رونے سے لال ہوگئی تھی اسنے اسکی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھا ” امی جان آپ رو کیوں رہی ہیں ؟ نمزا نے حیرت سے اسے دیکھا ” یہ میں نہیں پوچھ رہا ہمارا بچہ پوچھ رہا ہے !”اسنے اسکے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔نمزا نے اسکا ہاتھ ہٹا کر اپنا رکھ لیا ” اپنے ابا جان سے پوچھو کیا انھیں اپنے آنے کی خبر اچھی نہیں لگی جو وہ بات نہیں کررہے !” زمر نے اسے اٹھا کر بیٹھایا ” نمزا مجھے اچھا نہیں لگا تم جانتی نہیں ہو جب مجھے پتہ چلا تھا چند لمحے تو یقین ہی نہیں کرپایا کی میں باپ بننے والا ہوں ہماری محبت کی نشانی آنے والی ہے میں خوشی رو دیا تھا !!!

“ تو پھر آپ نے ہم سے کچھ کہا کیوں نہیں ؟ اس بات پر وہ پھر شرمندہ ہوگیا تھا ” نمزا مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے جس وجہ سے میں پریشان تھا ۔وہ اسکی جانب متوجہ ہوگئی ” نمزا دیکھو تمہیں پتہ تو چلے چکا ہے کہ ہم کسی اور دنیا سے آئے ہیں تو۔۔۔۔۔ہمیں اب واپس جانا ہوگا تم۔۔۔تمہیں بھی جانا ہے ہمارے ساتھ !” نمزا اسکا چہرا دیکھتی رہ گئی تھی ۔” شہرِ سحر چھوڑ کر آپ یہاں ہی رہ لیں اسی محل میں !

“ نہیں نمزا ہم یہاں نہیں رہ سکتے ہماری دنیا عام ہے وہاں سب اپنے کام سے کام رکھتے وہاں ایسی جادوئی طاقتیں ہم حملہ نہیں کرتی ہمارا اپنا نظام ہے میں وہاں آنکھوں کا ڈاکٹر بابا ایک کاروباری انسان ہیں یہاں آنے کی وجہ سے وہاں سارا کام دُکا پڑا ہے اسلیے ہمیں جانا ہوگا بہت ضروری بس اسی بات کو لیکر پریشان تھا ۔اسکے چہرے کی پریشانی دیکھ نمزا نے اپنا ڈر کہیں دبا لیا تھا اب تو اسکے ساتھ ہی جانا تھا جہاں بھی جانا ہے چاہے وہ یہ دنیا ہو یا کوئی اور اب تو یہی ہمسفر ہے اور جب ہمسفر ہے تو راستوں سے کیسا گھبرانا اسنے زمر کا چہرا تھاما ” ہم جانے کے لیے تیار ہیں آپ جہاں کہیں گے ہم وہاں جائیں گے اور آپکو پتہ ہمیں ڈر نہیں لگ رہا کیونکہ ہمیں پتہ ہے جو زمر وقت کی رفتار سے بچا سکتا ہے وہ اپنی دنیا ہمیں پلکوں پر بیٹھا کر رکھے گا ہمیں کب کچھ نہیں ہونے دے گے ایسا ہے نہ ! زمر نے اسکے ماتھے پر پیار کیا ” تم ۔۔تم جانتی نہیں ہوتم۔نے مجھے کتنی بڑی مشکل سے نکال دیا ہے وہ وعدہ کرتا ہوں میں تمہارا ہمیشہ ساتھ دوں گا کبھی کچھ نہیں ہونے دو گا ! اسے سینے سے لگائے وہ اپنی ہر پریشانی بھول گیا تھا

پھر کچھ دیر بعد بولا ” نمزا ہم اپنی بیٹی کا نام زمرد رکھیں گے ! نمزا نے حیرت سے اسے دیکھا ” بیٹی کیوں بیٹا بھی تو ہوسکتا ہے !

“ نہیں مجھے بیٹی چاہیے تمہارے جیسی !! نمزا نے پرنم آنکھوں سے دیکھا ” جو کچھ ہم نے آپکے ساتھ کیا جیسے ہم تھے اسکے باوجود بھی آپکو ہماری جیسی بیٹی چاہیے ! زمر چپ کرکے لیٹ گیا نمزا نے سر اسکے سینے پر رکھ دیا ” ہنا مجھے پھر بھی تم جیسی بیٹی چاہیے جو بہت سمجھدار ہو ہر مسئلے کا حل نکالنا جانتی ہو اور جو بکھری ہوئی چیزوں کو سمیٹنا جانتی ہو ! نمزا نے مسکرا کر اسکے گرد حصار باندھ کیا زمر کے کانوں میں نازنین کے الفاظ گونج رہے تھے ” اور پھر تمہارا عشق تمہیں سمیٹ لے ! اسنے نمزا کی جانب دیکھا وہ سوچکی تھی اسکے حصار مضبوط کرتے وہ بھی گہری نیند سو گیا تھا ۔اور اسی محل کی چھت پر امبر پارہ جاودات ایک دوسرے کی پناہوں میں وقت گزار رہے تھے مشکلات سے دو چار محبتیں مکمل ہوگئی تھیں ۔