315.7K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 18

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

باب 3

پہلے پنّے کے قیدی

کچھ رسومات ادا کرنے بعد زرمیش کو ضامن کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا موبتیوں کی شب خوابی میں بستر پر ناگن کی طرح کُنڈلی مارے بیٹھی تھی ۔لال خون جیسا لہنگا اور اس پر سیپ سے نکلے سُچّے موتیوں کا کام جو مومبتیوں کی شب خوابی میں اور بھی چمک رہے تھے ہاف بلاؤز اور سُرخ آنچل سے نکلا ڈھکا گھونگھٹ جسکے کے نیچے سِرخ ہونٹ دانتوں کے زد میں آئے ہوئے تھے ۔

وہ صدیوں کے بھٹکے مسافر اندر آیا تو یوں جیسے اسے منزل مل گئی ہو چہرے پر ایک شرمیلی سی مُسکان آگئی تھی گھونگھٹ کے پیچھے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی تھی ۔وہ خود کنفیوز تھا بات شروع کرے بھی تو کیسے وہ لڑتے رہے ہیں وہ ایک ساتھ وقت بھی گُزار چکے ہیں مگر اچانک اس رشتے کے بعد جھِجھک کیوں آگئی اسنے نہایت محبت سے اسکا ہاتھ تھا جس وہ شرما گئی تھی ” زرمیش !”

“جج۔۔۔۔جی !!! اسنے نہایت معصومانہ انداز سے کہا ” اتنا شرما کیوں رہی ہو ہمیں ہنسی آرہی !!!! وہ مکمل ہنس دیا تھا اسنے ایکدم گھونگھٹ اور اسے گھورنے لگی ” میں یہاں ایسے گھونگھٹ نکالے تمہارے انتظار کررہی ہو تو اپنی مرضی سے آرہے ہو اوپرسے میرا مذاق اُڑا رہے ہو تم عزت کے لائق ہی نہیں تمہارے تو بال نوچ لینے چاہیے !!! وہ اسکے بال نوچنے کے لیے آگے بڑھی تو اسنے کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کرلیا چہرے دونوں کا ایک دوسرے کے نہایت قریب تھا ” بس ہمیں ہماری زرمیش ایسی ہی اچھی لگتی شرماتی اور جھجھکتی نہیں !!! اسکی کمر میں دھنستی اسکی انگلیاں اوپر سے اسکا عام انسانوں سے زیادہ باڈی ٹمپریچر اسکی جلد جلنے لگی تھی اور وہ اُسکے ہونٹوں کی جانب بڑھتا جارہا تھا جیسے ہی اسنے اسکے لبوں کو چھوا زرمیش کی بس ہوگئی تھی اسنے اسے خود سے دور دھکیل دیا وہ ہکا بکا سا اسکا منہ دیکھ رہا تھا جب وہ زبردستی مسکراتی اسکے قریب ہوئی پیار سے اسکی گال پر ہاتھ رکھا ” ائم سوری وہ ۔۔۔۔اچانک سے کچھ بہت زور سے چبھا تھا اسلیے ایم سوری !! وہ اچانک اسکے گلے لگ گئی اور وہ اسکے بدلتے رنگ دیکھتا رہ گیا ” ضامن میں بہت تھک گئی ہوں پھر۔۔۔۔۔پھر کبھی پلیززز!!!! وہ اسکے کان کے قریب بول رہی تھی اسکا لہجہ اتنا ماندہ تھا کہ وہ انکار کر ہی نہیں سکا ۔” ٹھیک ہے آپ آرام کریں !” اسنے نرمی سے اسکا سر تکیے پر رکھا اسکا ماتھا چوما اور اسکے پہلو میں ہی دراز ہوگیا ۔اسکے سونے کے کچھ وقت بعد وہ اٹھی آئینے سامنے گئی دوپٹہ ہٹایا برہنہ کمر پر اسکی انگلیاں چھپ چکی تھی جو لال ہوئیں پڑی تھی اسنے ہاتھ لگایا تو جلن ہوئی..!! وہ حیرت سے اس سوتے وجود کو دیکھتی رہ گئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤️۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے پیر کا درد کافی حد تک ٹھیک تھا اب جلن اور تکلیف بہت کم ہوگئی تھی ۔وہ چِت لیٹی چھت گھور رہی تھی گمان کو اسنے سزا دی تھی خود سے دور کردیا تھا بس اور کچھ اب وہ کرتی نہیں تھی وہ گھور ہی رہی تھی جب وہ مسکراتا اسکے اوپر آگیا چہرے پر مُسکراہٹ لیے وہ اسکے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا جو خود حیرت سے دوچار تھی ” جنابِ زمر !”

“ درد ہے پاؤں ؟” اسکی گال پر ہاتھ رکھتی اسنے نفی میں سر ہلایا ” اب ٹھیک ہے !”

“ میں نے تم سے اتنی محبت کی اور تم نے مجھے سوائے نفرت کے کچھ نہیں دیا کیوں ؟” اچانک سے وہ یہ سوال کیوں کر رہا تھا مگر وہ جواب دینا چاہتی تھی ” ہم غلطی پر تھے ہمیں ہمیشہ سے اس بات کا ڈر رہتا تھا کہ ایک دن میرے وجود پر میرے فیصلوں پر میرے سانوں تک پر حکمرانی کرلے گا ہم وہ نہیں چاہتے تھے اسلیے نکاح کرنا بھی کبھی نہیں چاہتے تھے اور جب آپ آئے تو ہمیں آپ کو دیکھ کر لگا کہ آپ بہت مغرور ہونگے آپ کا چہرا جتنا حسین تھا مجھے لگا آپ ہمیں دبا کر رکھے گیں اسلیے ہم کو آپکو اپنی زندگی سے نکالنا چاہتے تھے ۔”

“ میرا چہرا تم نے مکمل دیکھا تھا کبھی ؟” ۔۔۔۔۔۔” دیکھا تھا جب آپ ہنس رہے تھے اپکی ہنسی بہت خوبصورت تھی آپکی داڑھی میں چھپا آپکے گال پر وہ گڑھا اور آپکی آنکھیں !!!”

“ میری آنکھیں !وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا ” آپکی آنکھیں ایسی ہیں جیسے چودھویں کا پورا چاند ان میں سما گیا یو پرُنور دوسرے کے اپنے مایا جال پھنسا لینے والا اور ہم آخر پھنس ہی گئی ناچاہتے ہوئے آپ سے اتنی محبت کرنے لگ گئے مگر تب تک ہم آپکو خود سے بہت دور کر بیٹھے .”

“ دور کہاں کیا ہم ہیں تو سہی آپکے پاس آپکے قریب !! وہ اسکے چہرے پر جھکتا جارہا تھا اسنے سکون سے آنکھیں بند کرلیں لمحے بعد کھولی تو وہاں کوئی نہیں تھا وہ نیند میں تھی وہ خواب تھا جو ٹوٹ گیا اسنے ادھر ادھر دیکھا مگر بے سود ” اب آپ ہمارے خوابوں میں ہی ہمارے قریب آتے ہیں !”گرنے کے انداز سے وہ تکیے پر سر رکھتی آنکھیں بند کرگئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نمزا کی یہ صبح خوشگوار اور تازہ تھی وہ اٹھی شاہی حمام پر گئی نہا کر وہ تیار ہوئی اور دستر خوان میں چلی آئی کہاں سب موجود تھے سب نے اسے دیکھ کر مسکراہٹ اُچھالی سوائے زُمر کے جو اسے دیکھ پھر نظر پھیر گیا ۔” آپ کا پاؤں کیسا ہے نمزا ؟”

“ جی بہتر بہت بہتر ! اسنے مسکراتے ہوئے زمر کو دیکھا کل جب یہ سب زرمیش کو اسکے کمرے میں چھوڑنے گئے تھے تب زرمیش نے اسے بتایا تھا کہ اسکے ہوش میں آنے سے پہلے وہی اسکے پاس بیٹھا تھا ۔ اور اسے بستر تک لایا بھی وہی تھی مگر اب تو ایسے تھا جیسے اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا مگر اب وہ جان گئی تھی کہ اسے فرق پڑتا ہے ۔زرمیش اور ضامن ایک دوسرے کو دیکھنے میں مصروف تھے ” اہم اہم !! زمر کی آواز پر وہ دونوں گڑبڑا گئے نمزا ہنس دی تھے ہی ہنس دیے تھے ” مُجھے انکے لیے کچھ خاص کرنا چاہیے مگر کیا ؟” نمزا زمر کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی اچانک بولی ” ابا جان آج ہم سب جنابِ آدم کے گھر چلیں جناب زمر اور زر ۔۔۔۔۔۔۔۔بھابھی جان نے ابھی تک وہ جگہ نہیں دیکھی !”

“ مگر نمزا وہ تو سارا جلا ہوا ہے وہاں دیکھنے لائق کچھ نہیں ….”

“ وہاں ابا ہیں !!! اسیر کو جیسے بھولی بسری بات یاد آئی تھی اتنے دن ہوئے شہر سحر آئے اور وہ گھر جانا بھول گیا .” گرینڈ پا ! دادا جان ! زمر زرمیش نے ایک ساتھ زیرِ لب کہا ” ہاں انکی روح ہے وہاں چلتے ہیں !” اسیر کی آنکھوں میں نمی اگئی تھی طلسم نے اسکے کندھے پر ہاتھ

اثبات میں سر ہلایا ” مجھے یاد ہے بابا آپ نے بتایا تھا دادا کی موت ایک پرُاسرار معمہ ہے کوئی نہیں آپ بھی نہیں حقیقت نہیں جان پائے تھے !” زُمر نے اسیر کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا ” نہیں میں نہیں جان پایا تھا !!”

” اسیر تمہیں وہ کتاب یاد ہے شہر سحر کی تاریخ کی وہ کتاب جہاں اسکی تاریخ کے چند پنے لکھے تھے جہاں سے تم نے یہ جانا تھا کہ ہیرے کے حکمران سورانچھ ہے وہ پہلا پنہ گُم ہوگیا ہے ؟”۔۔۔۔۔” کیییا!!!!” اسیر کو کافی حیرت ہوئی تھی پھر سناش نے اسے سارا ماجرا سُنایا جسے سُن کر وہ کافی پریشان ہوگیا تھا ” نہیں سناش میں پہلا پنہ کیسے پورا سکتا ہوں مجھے نہیں پتا میرے شہرسحر آنے سے پہلے کیا ہوا تھا بابا کیسے مرے میں کچھ نہیں جانتا تو میں کیسے اسے پورا کرسکتا ہوں !!!”

“مگر اسیر شہر سحر کوئی عام شہر نہیں ہے یہ ایک جادوئی دُنیا ہے جسکی ارتقا ابتدا ترقی سب پڑھنا چاہتے ہیں جاننا چاہتے مدارس میں اسکی تعلیم دی جانی چاہیے !!!”

“ سناش مجھے بتاؤ میں جیسے مکمل کروں اسے جن حادثات کے بارے چچا جان تم اور معلمین نہیں جانتے وہ کیسے جان سکتاہوں جسے پیدا ہوتے ہی اس دُنیا سے دور بھیج دیا گیا !!” اسیر کے اس جملے پر ضامن اور نمزا کنفیوز ہوگئے تھے ” میری مانوں تو چند لوگوں سے پوچھ گچھ کرکے پہلا پنہ خود ہی لکھ دو !!”

“ اسیر آدام کی موت ایک معمہ ہے اور پہلا پنہ آدام کی موت کا راز کُھلے بغیر کبھی پورا نہیں ہوسکتا !!”

“ تو پھر وہ جہاں محفوظ ہے اسے محفوظ رہنے دو بابا خودی ہوتا کرلیں گے !!”

“ لیکن اگر آدام کی روح خود اس کتاب کو پورا کرنی چاہتی تھی تو پہلہ پنہ غائب کیوں ہوگیا اور واپس رکھنے پر واپس کیوں نہیں آیا !!!”

“ ناجانے بابا کیا چاہتے ہیں اب !!!”۔۔۔۔۔۔” کہیں وہ یہ تو نہیں چاہتے کے کوئی انکی موت کا راز کھولے اور وہ کتاب پوری کرے !!! زمر کی بات پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا ” وہ کیسے ؟؟ سب نے ایک ساتھ پوچھا تو وہ کندھے آچکا گیا ” پتہ نہیں !!!”

” وہ جہاں ہے وہیں رہنے دیں !!!” اسیر نے بات ہی ختم کردی تھی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سب آدام کے جلے ہوئے گھر میں موجود تھے ضامن زرمیش زمر تو حیرت سے گردوپیش کس جائزہ لے رہے تھے نمزا ہمیشہ کی طرح صرف زمر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھ رہی تھی اسیر اور طلسم شہر سحر کی کتاب کھولے بیٹھے تھے جہاں صرف دوسرا پنہ تھا پہلا پنہ جو اسیر نے کبھی پڑھا تھا وہ نہیں تھا اسنے گہرا سانس لیا ” بابا !!! اسنے چارو اور نظر دوڑا کر صدا لگائی سب اسکی جانب متوجہ ہوگئے ” بابا کیا چاہتے ہیں آپ ؟؟” اسنے جواب کا انتظار کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا اُسنے کتاب رکھی اور اس درودیوار کو چھونے لگا زرمیش کی اچانک نظر کتاب پر پڑی بہت بڑی چوڑی کتاب جس کا کور بہت مضبوط تھا کالے رنگ کے کور پر سناش کے شاہی محل کی تصویر اُبھری تھی اور اوپر سُنہرے لفظوں شُہر سحر لکھا تھا اسنے اٹھائی کھولی تو نظر ساکن ہوگئی وہ بولنے لگی پھر کچھ سوچ کر چُپ کر گئی ” ہمارا خیال ہے ہمیں چلنا چاہیے !” غفران کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلایا زرمیش نے سب سے چھپا کر وہ کتاب اپنے گاون میں چھپا لی اور باہر آگئی کسی کو بھی دھیان نہیں رہا کہ کتاب اپنی جگہ پر ہے یا نہیں وہ یہ کتاب اسیر اور طلسم کی کہانی پڑھنے کے لیے لے جارہے تھے مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا سب باہر آئے غفران نے گھر کے گرد حفاظتی تے بنائی سب وہاں سے چلے گئے جہاں پیچھے آدام کی روح مُسکرا رہی تھی ” اب کھُلے گا میری موت کا راز !!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❣️۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو کھانے کے بعد وہ اسیر اور طلسم کی کہانی کے آخری صفے پر تھی ضامن ابھی تک کمرے میں نہیں آیا تھا جیسے ہی اسنے نظم سے آگے پنہ پلٹا تو حیرت سے آنکھیں پھٹ گئیں تبھی ضامن کمرے میں آیا تو اسکا فق چہرا دیکھ ڈر گیا ” زرمیش کیا ہوا !” وہ جلدی سے بستر سے اتری ” چلو !!! وہ اسے کھینچتی نمزا کے کمرے میں لے آئی جہاں زمر صرف اسکی خیریت دریافت کرنے آیا تھا ان دونوں کو ایسے دیکھ وہ حیران رہ گئے ” بیٹھو آپ سب کو کچھ بتانا ہے !!!ان سب کو بستر پر بیٹھاتی وہ چاروں دائرے کی طرح بیٹھ گئے زرمیش نے درمیان میں کتاب رکھ دی جسے دیکھ کر نمزا کچھ بولنے لگی ” شششش!!! صرف میری بات سُنو !!! اسنے تاکید کی تو وہ سب اسے دیکھنے لگے ” سناش انکل نے کہا تھا شہد سحر کی تاریخ کا پہلا پنہ گُم ہوگیا ہے وہ ۔۔۔جھوووٹ بول رہے تھے!!!”

“ کیا مطلب !!!! زرمیش نے ضامن کے منہ پر ہاتھ رکھا ” ششش!!آہستہ بولو !!” ضامن نے اپنا لہجہ دھیما کیا ” کیا مطلب جھوٹ بول رہے ہیں ۔”

اسنے کتاب کھولی جہاں بولڈ الفاظ میں دوسرا پنہ لکھا تھا اسنے اس پر انگلی رکھی ” یہ دیکھو !”

“ یہ تو دوسرا پنہ ہے طلسم اور جنابِ اسیر کی واپسی کا ” نمزا نے بھی دھیمے لہجے میں کہا اسکا لہجہ اتنا سرگوشی بھرا ملایم تھا جو زمر چند لمحے اسے دیکھتا رہ گیا ۔زرمیش نے اثبات میں سر ہلایا اور چند پنے پلٹ کر جب ایک صدی نکالا تھا تو سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگا وہاں تِرچھے بولڈ الفاظ میں ” پہلا پنہ” لکھا تھا ۔” یہ دیکھو میں نے جھوٹ نہیں بولا تھا !!! سب حیرت سے کنگ زرمیش کو دیکھ رہے تھے سوائے نمزا کے جسنے خود دیکھا تھا یہ پنہ خالی تھا پھر یہ تحریر اسنے بے ساختہ ہاتھ ان الفاظ پر پھیرا تو اس پنے نے ان چاروں کو اپنے اندر کھینچ لیا اور کتاب بند ہوگئی موبتوں کے روشنی سے عاری کمرا چاند کی روشنی میں منور خالی منہ چڑا رہا تھا وہاں اب کوئی نہیں تھے سوائے اس کتاب کے جو ان چاروں کو نگل گئی تھی وہ گرنے کے انداز میں ایک جگہ اُترے روشن دن میں کر طرف شور ہی شور تھا انھوں نے بے بے ساختہ ہاتھ کانوں پر رکھ دیا سامنے کا منظر حیران کن تھا پھولوں کی دوکان میں دوکاندار گلدانوں میں پھول لگا رہا تھا کچھ سامنے میز پر پڑے تھے دوسرا دوکاندار لوگوں سے بھاؤ تاؤ کر رہا تھا سائیڈ میں کپڑوں میں دوکانیں تھیں عجیب پرانی طرز کی گلیاں ہوا میں جھاڑو پر اڑتے لوگ ہاتھ کے اشارے سے پکڑتے اشیاء لوگ کوئی کہیں گھُس رہا تھا کچھ دیر ماحول کو بھانپنے کے بعد انھوں نے کانوں سے کاتھ ہٹائے ” یہ ہم کہا آگئے !!! زمر نے حیرت سے اردگرد دیکھا ” یہ شہر سحر کی کلی بازار ہے !!!” نمزا نے پر سکون ہوکر کہا ۔

“ یہ کلی بازار ہے یا فیصل آباد کا انارکلی بازار ہے !!! زرمیش نے شور کی وجہ سے یہ کہا تھا وہاں بھی اتنا ہی رش رہتا ہے اور چیزیں ایک سے بڑھ کر ایک !!!

“ فکر مت کریں وہ کوئی جادو تھا شاید ہم اپنے ہی شہر میں ہیں مگر ہم رات کے اندھیرے اور اپنے کمرے سے سیدھا کلی بازار کیسے آگئے ؟؟”

“ شاید کوئی جادو ہو اس کتاب میں !!! وہ ابھی ان باتوں ہی میں الجھے تھے جب چاروں طرف صدا لگی ” با ادب با ملاحظہ ہوشیار شہر سحر کے راجہ تشریف لا رہے ہیں !!!”

“ ابا آرہے ہیں شاید صبح ہوگئی ہے ابا دورے پر نکل گئے ہیں !!! ضامن بھی پر سکون تھا زرمیش نے کندھے اچکائے چلو محل بُک نہیں پڑھنی !! وہ ان سب سے مخاطب تھی کہ اچانک راجہ کی شاہی سواری پاس سے گُزری مگر شاہی سواری میں بیٹھے شخص کو دیکھ کر انکے ماتھے پر الجھن کے آثار نمودار ہوگئے تھے ۔” یہ ۔۔۔یہ کون ہے ؟ ان تینوں نے سوالیہ نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا لوگ جھُک کر اس راجہ کو تعظیم پیش کررہے تھے جو عمر سے چالیس پینتالیس سال کا لگ رہا تھا سفید چوغہ کالی بڑی داڑھی سر پر ہیروں سے لیس تاج ہاتھ میں شاہی تلوار اور پیچھے ہزاروں شہسوار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ یہ کون ہے وہ تو پتہ نہیں مگر وہ پیچھے گھوڑے والا بابا جیسا لگ رہا ہے !!” زرمیش نے اشارہ کیا تو زمر سمیت سب نے اس جانب دیکھا گھوڑے پر سوار تن پر شاہی لباس عمر کوئی تیس سال سیاہ نفاست بنی داڑھی اور ۔۔۔اور کالی آنکھیں وہ اسیر تو نہیں تھا مگر اس جیسا ضرور تھا وہ حیرت سے دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ سواری جاچکی ” یہ ۔۔۔۔یہ راجہ !!!”

“ بات سُنیے گا !! زمر نے راستے سے گزرتے ایک شخص کو روکا جو حیرت اور سوال کے ملے جلے تاثرات سے انھیں دیکھنے لگا ” یہ جو شاہی سواری ابھی گئی ہے وہ کون تھے ؟”

“ ارے کون۔۔۔۔ کون ہو بھائی جو انھیں نہیں جانتے !! اسنے تنظ سے کہا تو ضامن غصے سے اسکی جانب بڑھا ” ہمیں نہیں جانتے ہم شہزادے ہیں اس سلطنت کے !!!”

“ شہزادے !! مگر راجہ کی تو چھے ماہ کی بیٹی ہی ایک !!”

“ کیا بکواس کررہے ہو راجہ کے دو بچے ہیں ایک بیٹا یعنی ہم ضامن ابنِ سناش اور۔۔۔۔۔۔”

“ روکو کیا کہا تم نے ابنِ سناش… ہاہاہاہاہا تم واقع ہی کوئی پاگل ہو شہزادے سناش کی عمر تو ابھی صرف پانچ سال ہے !!”

“ کیییا!!! تم پاگل تو نہیں ہو؟ ۔۔۔۔ہم انکی بیٹی نمزا وہ اس ملک کے راجہ ہیں ….”

“ معاف کریے گا محترمہ اس ملک کے راجہ سناش نہیں ذولفشان ہیں !!!!اور وہ شاہی سواری راجہ ذولفشان کی ہی تھی اور انکی ایک ہی بیٹی ہے جو انھوں نے سالوں ترسنے کے بعد حاصل کی ہے شہزادی طلسم !!!!!

” یا تو تم اس ریاست میں نئے آئے ہو یا تم پاگل ہو کیا بکواس کیے جارہے ہو !”

“ ہم چند سال پہلے ہی اس شہر میں آئے ہیں مگر ہم پاگل نہیں ہیں پاگل تم لوگ ہو جو یہاں کے حکمرانوں کو نہیں جانتے یا شاید تم لوگ نئے ہو پہلے کبھی دیکھا نہیں تمہیں !!! وہ مشکوک ہوگیا تھا ” زمر ہمیں انکی بات سُنی ہی نہیں چاہیے چلو محل چلتے ہیں !!” ضامن زمر سے مخاطب تھا مگر اسکی آنکھوں میں تو کسی کا چہرا گھوم رہا تھا جو اسیر جیسا تھا ” اور وہ گھوڑے پر سفید شاہی لباس میں راجہ کے ساتھ کون تھے ۔

“ وہ مسیحا ہمدرد دانش جنگباز تلوار باز ور اور شہر سحر کے لشکر کے سپہ سالار جناب ِ آدم تھے ۔” اس راہگیر کی بات چاروں ایکدم خاموش ہوگئے تھے وہ راہگیر حیرت سے انھیں دیکھتا وہاں سے چلا گیا ۔

وہ کچھ دیر تو اس پہلو پر سوچتے رہے پھر ضامن اُکتا گیا ” چلو محل چلتے ہیں !!! اسنے کوئی سواری بنانے کے لیے جادو کرنا چاہا مگر انگلیوں کی حرکت سے کچھ نہیں ہورہا تھا وہ بار بار یہ عمل دوہرا رہا تھا ” کیا ہوا بھائی جان !!! ضامن کو بار بار ہاتھ گھماتا دیکھ نمزا نے اس سے پوچھا ” ہم جادو نہیں کر پارہے !! سب نے حیرت سے اسے دیکھا جو پریشان ہوگیا تھا نمزا بھی اپنے ہاتھوں کو حرکت دینے لگی تھی ” ہم بھی نہیں کر پارہے !!” ہمارا جادو کہاں چلا گیا!!!

“ کیونکہ شہر سحر کی تاریخ پہلے پنے میں قید ہوگئے ہیں !!! زمر کے الفاظ سب پر پہاڑ بن کر گرے تھے ۔” کیا مطلب ؟” نمزا اسکے سامنے کھڑی ہوگئی تھی ۔

مطلب …جب زرمیش نے ہمیں وہ کتاب دکھائی اور غائب ہوا پہلا پنہ دکھا اور اسکے بعد ہم یہاں پہنچ گئے تو مجھے شک ہورہا تھا اور اسکے بعد اس آدمی کی باتیں مجھے پورا یقین ہے کہ ہم وقت میں پیچھے آگئے ہیں تب جب راجہ ذولفشان تھے یعنی نانا جان !!!

“ ہمیں نہیں لگتا ایسا کچھ نہیں ہے ہم محل چلتے ہیں کلی بازار سے زیادہ دور نہیں ہے وہ ۔۔۔۔۔۔”ضامن کہتا آگے چلدیا اور وہ تینوں نا چاہ و لاچار اسکے پیچھے چل دیے تقریباً کچھ وقت کے بعد وہ تینوں محل کے باہر موجود تھا جس پر قصرِ ذولفشان لکھا تھا مگر اسکا آرکیٹیکچر بہت پرُانا تھا ویسا نہیں تھا جیسا اب دکھتا ہے یہ گنبد تو لال ہے مگر اب والا تو آسمانی رنگ کا ہے مینار کی بلندی بھی کم ہے ضامن اور نمزا دیکھ کر پریشان تھے کہ کہیں زمر کی بات سچ تو نہیں وہ اندر جانے لگا تو سپاہیوں نے پکڑ لیا ” کون ہو اور کدھر جارہے ہو ؟”

“ ضامن نے غور سے اس سپاہی کو دیکھا محل کے ہر پہرا دار کو وہ جانتا تھا مگر یہ ان میں سے کوئی نہیں تھا” تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمیں روکنے کی ہم اس سلطنت کے شہزادے !!”سپاہیوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا “تم ہمیں پاگل سمجھتے ہو اس سلطنت کے شہزادے !!! اس سلطنت کے شہزادے اور شہزادی ابھی بچے ہیں اور اتنی جلدی جوان بھی ہوگئے !!!”

تم ہمارا !!!! زمر نے ضامن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کروا دیا ۔” ہمیں راجہ سے ملنا ہمارا ان سے ملنا بہت ضروری ہے !”

“ کون ہو تم لوگ پہلے تو کبھی نہیں دیکھا تم لوگوں کو ؟؟”

“ مسافر ہیں بھٹک گئے ہیں اسلیے راجہ سے ملنا ہے !!” سپاہی نے ایک نظر غور سے انھیں دیکھا لباس نفیس ہونے کی وجہ سے ان پر زیادہ شک نہیں کیا گیا ” انتظار کریں !!”

“ ہمیں ہمارے ہی محل میں جانے کے لیے انتظار کرنا پڑے گا یعنی ہم واقع ہی وقت میں پیچھے آگئے ہیں!!!” نمزا افسردہ سے بیٹھ گئی تھی اسکے پاؤں میں بھی درد ہونے لگا تھا ” یہ سب آپکی کی وجہ سے ہوا ہے زرمیش نہ آپ وہ کتاب لاتیں اور نہ وہ ہمیں اپنے اندر کھینچتی !!!” ضامن نے ناگواری سے زرمیش کو دیکھا

“ ہوووو!!!! مجھے کیا پتا تھا یہ سب ہوجائے گا ۔اور ساری غلطی میری کیسے اس پیج کو ٹچ تو نمزا نے کیا تھا ۔۔۔۔۔”زمر اور نمزا نے حیرت سے زرمیش کو دیکھا ” اب سارا الزام ہماری بہن پر لگادیں وہ کتاب چُرا کر تھوڑی لائیں تھیں آپ ہمیشہ اُلٹے کام اور بات کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔”

“ واہ کیا بات ہے سارا ملبا مجھ پر ڈال دو خود تو جیسے بہت معصوم کیسے اس برکھا سے چپک رہے تھے اسکے قریب ہورہے تھے ۔۔۔۔۔”ضامن کو اس پر غُصہ آنے لگا تھا ” یہ کونسی بات لیکر کر بیٹھ گئی آپ ۔۔۔۔آپ اس بات کا تعلق اس سے کیسے جوڑ سکتی ہیں اور ۔۔۔۔۔۔”

“ بسس!!!! بس کردیں آپ دونوں !!!! نمزا نے چیخ کر کہا تھا وہ دونوں کب سے ان دونوں کو لڑتا دیکھ رہے تھے زمر پریشانی سے انھیں دیکھ رہا تھا ” دیکھو غلطی کسی کی نہیں تھی وہ ایک حادثہ تھا وہ دادا جان کی کتاب تھی تو ابھی ہمیں ان سے ملنا ہے وہی اب واپس جانے کا کوئی راستہ بتا سکتے ہیں !!!”

سپاہی جب اندر آیا تو دربار میں کوئی مسئلہ حل کیا جارہا تھا ” خلل کے لیے معزرت راجہ !!” آدم اور ذولفشان نے حیرت سے سپاہی کو دیکھا ” کوئی اہم بات !!” آدم نے ناگوری سے پوچھا ” جنابِ سپہ سالار کچھ مسافر ہیں دو مرد اور دو خواتین آپ سے ملنا چاہتے ہیں کہتے ہیں مسافر ہیں راستہ بھٹک گئے ہیں ملنا ضروری ہے !!!”

“ ٹھیک انھیں اندر لے آؤ !!” ذولفشان نے حکم دیا اور دوبارہ سنوائی سُنے لگا وہ چاروں اندر آگئے تھے اب انتظار تھا تو راجہ کی پکار کا ۔

“ راجہ اس شخص چند ماہ پہلے مجھ سے بیس سونے کے سکے ادھار لیے تھے میں ایک لوہار ہوں محنت کرتا ہوں وہی جمع پونجی تھی یہ قرض میں تھا تب میں نے اسکی قرض اتارنے میں مدد کی اب میں وہ قرض اس سے واپس مانگ رہا ہوں تو کہتا ہے ابھی میرے پاس نہیں ہے حلانکہ اسکے پاس ہیں ۔۔۔۔” ایک حریف نے بتایا ۔

“ راجہ میرے پاس جو سونے کے سکے ہیں ان سے میں اپنی بیٹی کی شادی کرنے والا ہوں اگر اسے دے دیے تو میری بیٹی بنِ بیاہی رہ جائے گی تو بتائیں کیا کروں …”دوسرے حریف نے کہا ۔

‘ راجہ میری بھی بیٹی کی شادی ہے مجھے بھی ضرورت ہے میرے ساتھ انصاف کریں اسکی بیٹی کی عمر ابھی سولہ سترا سال ہے اور میری بیٹی چھبیس سال کی ہے میری بیٹی کی عمر گُزر گئی تو اسے کون بیاہے گا ۔۔۔۔”

دونوں حریفوں کی بات سُن کر ذولفشان پریشان ہوگیا تھا کیا کرے اسنے سوالیہ نگاہوں سے اپنے سے دوسری کرُسی پر بیٹھے کالے چوغے میں مونچھوں کو تاؤ دیتے بالوں سب عاری سر لیے صیاد کو دیکھا جو پرُ سوچ نگاہوں سے انھیں دیکھ رہا تھا ” راجہ میرا خیال ہے کہ ہمیں فیصلہ مچھوارے کے حق میں دینا چاہیے کیونکہ کے لوہار کا پیشہ مچھوارے سے زیادہ بہتر ہے وہ اتنی رقم دوبارہ بنا سکتا ہے مگر مچھوارے کو وہ رقم بناتے وقت لگے اس لوہار کا بنی بہت ساری تلواریں اور تیر حکومت خریدتی ہے یہ وہ رقم دوبارہ بنا سکتا ہے .”

یہ کیسا انصاف ہے راجہ میری بیٹی کی شادی ٹوٹ جائے گی میں کیسے اتنی بڑی رقم اتنی جلدی کیسے جمع کر پاؤ گا میں نے رحم دلی اسلیے تو نہیں کی تھی کہ میری بیٹی کو روگ لگ جائے !!!

ذولفشان صیاد کے فیصلے سے کچھ زیادہ متاثر نہیں ہوا تھا اسنے سوالیہ نگاہوں سے آدم کو دیکھا جو قابلِ ترس نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا اور وہی نظر زُمر کی تھی ان دونوں کے دل میں ایک ہی فیصلہ جو وہ دل میں سوچ رہے تھے ” فیصلہ لوہار کے حق میں ہونا چاہیے !”۔۔۔” بولو آدم فیصلہ کیا ہونا چاہیے .”

تیس سال کی عمر سیاہ آنکھیں سیاہ داڑھی جوان لڑکوں جیسے مضبوط جسامت کو پُرسکون چہرا اسنے گہرا سانس لیا ” راجہ میں فیصلہ لوہار کے حق میں دیتا راجہ انسان کی سب سے بڑی پہچان اور اسکی ایمانداری کا ثبوت زبان ہے ایماندار شخص کبھی اپنی زبان سے نہیں پھِرتا اور رحم دلی بہت بڑی چیز ہے لوہار نے اس مچھوارے کی مدد تب کی جب اسکی جان اور عزت دونوں پر داؤ پر لگی تھی اور زبان دی تھی اسکے پاس جب بھی رقم ہوگی وہ اسے ضرور دے گا رقم آتے ہی اسنے اپنی کم عمر بچی کی شادی رکھ دی یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ قرض دار ہے اسے کرنا نہیں چاہیے تھا اور آج اس لوہار کی صرف عزت نہیں اسکی بیٹی کی عزت اور جان بھی داؤ پر لگی مچھوارے کو وعدے کے مطابق لوہار کو رقم لوٹا دینی چاہیے !!” اپنی صلاح دے کر وہ سر جھکا گیا تھا زمر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی ” ویلڈن گرینڈ پا !!”

ذولفشان کچھ لمحے دونوں مشوروں کو سُوچتا رہا پھر کچھ سوچ کر بولا ” لوہار نے چونکہ مچھاورے کی مدد تب کی جب وہ مشکل میں تھا اور اسی مشکل میں لوہار پھنسا ہے جسکی بیٹی کی عمر بڑھتی جارہی ہے اور اگر یہ رقم وہ سہی وقت پر پوری نہیں کر پایا تو اسکی عزت اور جان دونوں خطرے میں ہے اسلیے فیصلہ لوہار کے حق میں دیا جاتا ہے !!! صیاد نے حیرت سے ایک نظر ذولفشان کو دیکھا اور پھر نفرت سے آدم کو ” ہمارے فیصلے پر اسکے فیصلے کو ترجیح دی گئی وہ غصے سے چلا گیا تھا مچھاورے نے ناچاہ و لا چار وہ رقم لوہار کو دے دی اور خود پریشانی سے چلا گیا ۔” اگلا مقدمہ !!!”ذولفشان کی آواز پر وہ چاروں آگے آگئے کچھ دیر تو وہ ایک دوسرے کو ہی دیکھتے رہے کہ کون بات شروع کرے آخر ان تینوں نے زمر کو آگے دھکیل دیا ” ہائی ۔۔۔۔۔۔اسلاعلیکم !!! اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے نانا اور دادا سے بات کرے بھی تو کیسے جنہیں شاید یہ پتا ہی نہیں کہ وہ انکار نواسا اور ہوتا ہے ۔”

“ مدعا بیان کرو ناجوان !!! درباریوں میں سے کسی ایک نے کہا ” وہ ۔۔۔۔ہمیں دادا ۔۔۔۔میرا جنابِ آدم سے اکیلے میں بات کرنی ہے !!” اسنے ایک ہی سانس میں کہہ دیا ۔

“ جو بھی مدعا ہے سب کے سامنے بیان کریں !!!”

“ ہم مسافر ہیں راستہ بھٹک گئے اور ہمیں لگتا ہے صرف جنابِ آدم ہی ہماری مدد کرسکتے ہیں اطمینان رکھیں ہم کوئی جاسوس ڈاکو یا کسی کو کوئی خطرا پہچانے نہیں آئے ہیں !!” وہ چند لمحے تو ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پورے دربار میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی تھیں ” ٹھیک ہے !!! ان چاروں کو ایک الگ کمرے میں انتظار کے لیے بیٹھا دیا گیا تھا ” مگر بھائی گرینڈ پا سے آپ کہیں گے کیا ؟”

“ جو سچ ہے میں انھیں ساری صورتحال سے آگاہ کردوں گا تو شاید ہمیں واپس حال میں جانے میں مدد کریں !!!”

“ کہیے کیا کہنے چاہتے ہیں آپ ؟” وہ ابھی بات ہی کررہے تھے جب وہ شان کے ساتھ سیدھا اندر آگیا وہ چند لمحے تو اسے دیکھتے رہے پھر زمر اچانک اسکے گلے لگ گیا ” دادا جان آپ نہیں جانتے میں آپ سے مل کر کتنا خوش ہوں !!اسکی حرکت اور الفاظ آدم کو ساکن کرگئے تھے زرمیش بھی آکر چمٹ گئی ” ہائی گرینڈ پا میں زرمیش !!!

اسنے ایک دم انھیں دور کردیا ” کیا کہا آپ نے ہمیں دادا جان ہم آپکے دادا جان کیسے ہوسکتے ہیں !!”

“ میں آپکو سب سمجھاتا ہوں ہم لوگ مسافر وقت کے مسافر ہم آپکے مستقبل سے یہاں آئے ہیں !!!” زمر کی بات پر آدم حیرت سے اسکی جانب دیکھا ” کیا مطلب !”

“ میں زمر ابنِ اسیر ہو آپکا پوتا اپکے بیٹے اسیر کا بیٹا اور یہ میری بہن اور یہ ضامن اور نمزا سناش ابن صیاد نے بے ہیں ہم مستقبل سے آئے ہیں آپ نے ایک کتاب لکھی ہے شہر سحر کی تاریخ ہم وہ کتاب پڑھ رہے تھے اور کتاب پڑھتے پڑھتے ہم یہاں پہنچ گئے آپ ہمیں وہ کتاب دے دیں جو آپ نے لکھی ہے ہم اپنے وقت میں واپس چلے جائیں گے !!”

“ کیا۔کتاب کونسی کتاب میں نے کوئی کتاب نہیں لکھی اور یہ کس طرح کا بیہودہ مذاق ہے وقت کے مسافر کوئی وقت کو پار کرکے کیسے آ سکتا ہے !!”

“ آؤ پلیز گرینڈ پا ایسا کچھ نہیں ہے آپکو پتہ ہے آئن سٹائن کیا کہتا ہے اگر کوئی انسان اپنی سپیڈ لائٹ کی سپیڈ سے زیادہ کرلے تو وہ ٹائم ٹریول کرسکتا ہے ویسے بھائی ہم ٹائم ٹریولرز ہیں تو کیا ہماری سپیڈ لائٹ کی سپیڈ سے زیادہ ہوگئی تھی مگر ہم تو بیڈ پر بیٹھے تھے چل بھی نہیں رہے تھے اور۔۔۔۔۔۔بات کرتے کرتے اسنے سب کے چہرے دیکھے سب کے سروں پر چڑیاں اُڑ رہی تھی ” دادا جان میری بات سُنے آپ نے کتاب لکھی ہے اس کتاب کے پہلے پنے کو جیسے ہی ہم نے کھولا ہم یہاں پہنچ گیا یقین کریں ہمارا ۔۔۔۔۔” آدم ابھی بھی ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا

“ آپ کی موت کیسے ہوئی تھی جنابِ آدم !!!” ضامن کا سوال سب سے زیادہ حیران کُن تھا سب پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے ” کیا!!!”

“ مستقبل کے شہرِ سحر میں آپکی موت ایک پُر اسرار معمہ ہے تو اب تو انکی مہربانی سے آپ ہمیں مل ہی گئے ہیں !!! اسنے زرمیش کو گھور کر دیکھا جو خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔

“ مجھے لگتا ہے تم سب دماغی مریض ہو اور ہمارا دماغ بھی خراب کررہے ہو کوئی ہمیں دادا جان کہہ رہا ہے کوئی ہم سے ہماری موت کا راز پوچھ خود کو وقت کے سفیر کہہ رہے ہو آپ سب نفسیاتی مریض ہیں !!!” وہ غُصے میں آگیا تھا ۔

“ میری بات سُنے دادا جان ہم!!!”نمزا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اس سارے وقت میں وہی خاموش تھی ” جنابِ آدم آپ ایک جادوگر ہیں کیا آپکا جادو اتنا کامل نہیں کہ آپ اس بات پر یقین کر سکیں کے کوئی وقت کو پار کرکے آسکے ؟”

“ ہاں ہم جادوگر مگر کبھی سُنا نہیں کوئی جادوگر کسی وقت کے اتنے آگے پہنچا دے وقت کا سفیر کوئی کیسے بن سکتا ہے ؟”

“ بات پر یقین کرنا مشکل ہے مگر ہم سچ کہہ رہے ہیں ہم آپکی تیسری پیڑی سے آئے ہیں آپ ایک کتاب لکھے گے جو اس شہر کی تاریخ ہوگی ہم اسی کتاب سے یہاں پہنچ گئے ہم خود حیران ہے کے یہ ہوا کیسے مگر یہ حقیقت ہے ۔۔۔” پہلی دفعہ اسکے ماتھے سے بل ہٹا تھا ” پر ہم نے تو کوئی کتاب لکھی ہی نہیں ہے ابھی تک !”

“ شہر سحر کے بنے کتنے وقت ہوا ہے ابھی ؟”سوچ سمجھ کر اگلا سوال کیا تھا نمزا نے ” چند سال یہی زیادہ وقت نہیں ہوا !!!”

“ یعنی ابھی تو بہت کم وقت ہوا ہے آچھا ایک بات بتائیں ہم بھی جادو جانتے تھے مگر جیسے ہی ہم وقت میں پیچھے آئے ہمارا جادو ختم ہوگیا ایسا کیوں ؟”

“ مجھے اس بات پر ہی یقین نہیں کہ آپ سب وقت سے آئے ہیں تو میں یہ کیسے بتا دوں کہ ایسا کیوں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اکتا گیا ایک تو وہ ان سب کو جانتا نہیں تھا دوسرا انکی باتیں !!!

“ تم پھر ہم واپس کیسے جائیں گے آپ ہمارے مدد کریں کتاب لکھنا شروع کردیں !!!” زرمیش نے منہ بناتے ہوئے کہا ” میرے پاس کتاب لکھنے کے لیے وقت نہیں ہے اور نہ ہی آپ لوگوں کے فضول بحث سُننے کا ۔۔۔۔۔۔” اسلیے آپ لوگ جائیں !!! باہر کی جانب چل دیا ” مگر دادا!!!!!”

“ سپاہی انھیں محل سے باہر نکالو !!!! ” حکم صادر کرتا اسی شان سے یہ جا وہ جا “سپاہیوں نے انھیں دھکیل کر باہر نکال دیا تھا ضامن کو انتہا کا غصہ آرہا تھا اس سے پہلے کہ اسکی آنکھیں سُرخ ہوتی کسی کا جان دار قہقہہ فضا میں گونجا “ہاہاہاہاہا!!! پیٹ پر ہاتھ رکھے دوسرے ہاتھ ضامن کے کندھے پر رکھے وہ ہسنے میں مشغول تھی ” کیا ہوا بھی ہوا پھُس ہوگئی گرینڈ پا نے تو دھکے دے کر محل سے نکال دیا آپ تو کہہ رہے تھے وہ دانشور ہیں ہماری بات سمجھے گے مگر ہاہاہاہاہا!!!” وہ تینوں اسکی اس حرکت پر افسوس سے سر جھٹک کر رہ گئے تھے ۔ زمر پریشان حال آگے چل دیا نمزا اسکے پیچھے آئی ” جنابِ زمر !!! اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتی اسے روکتی سامنے آنے لگی جب پیر میں ٹیس اُٹھی ” آہ ہ !!!”اسنے کندھوں پر پکڑ کر سنبھالا اسے ” نمزا کس بات کی جلدی ہے !!! اسنے دبے ہوئے غُصے میں کہا “آ۔۔۔آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟”

“ اب بہت فکر ہے تمہیں میری اب کس بات کی ہمدردی ہے مجھ سے جو جلے پیر کے ساتھ بھی میرے پیچھے بھاگنا ہے !!! سیدھا کھڑا کیا اور چھوڑ دیا وہ کنگ سی اسے دیکھنے لگی ” مگر ہم تو!!!

“ آپ تو اب کچھ ہی مت کریں اپکی وجہ سے اس مصیبت میں پھنسے ہیں زرمیش نے صرف پہلا پنہ دیکھا تھا آپ نے اسے چھوا وہ طلسماتی لفظ ہمیں اپنے اندر کھینچ چکے ہیں آپکی وجہ سے ہم کسی کو یہ یقین نہیں دلا پا رہے کہ ہم مستقبل سے ائے ہیں صرف آپکی وجہ سے !!!” آگے بڑھ گیا اور وہ موٹے موٹے آنسو لیے صرف اسے دیکھتی رہ گئی ۔