Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 16
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
رومی کی آنکھ جب کھُلی تو وہ سیپ کے نرم بستر پر سو رہا تھا چاروں طرف پانی رنگی برنگی مچھلیاں سی ہورس کھچوے سٹار فِش گولڈ فِش اور جل پری ۔۔۔۔۔۔جل پری اسنے ایک بار پھر حیرت اپنی دائیں جانب دیکھا سنہری بال خوبصورت چہرا نسوانیت اور آدھی مچھلی ! وہ پرُ شوق نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی چند لمحے تو وہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر رومی نے سر سے لیکر سینے تک اپنے آپ کو چھوا ” شہزادی زرمیش اور شہزادے ضامن !!! وہ اُٹھ جانے لگا مگر وہ لہراتی سامنے آگئی” امبر پارہ جاودات کو لے گئی !”
“کون کس کو لے گئی !” وہ حیرت سے اس جل پری کو دیکھ رہا تھا جسکے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی ” ” امبر پارہ۔۔۔۔۔جاودات کو لے گئی ! اسنے نہایت محبت سے اسکا چہرا اپنی ہاتھوں کی پیالی میں بھرا رومی کبھی اسکے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا اسکی معصوم مسکراتی صورت کو ” میں۔۔۔۔۔بھی جاؤ !! وہ بھاگنے لگا جب وہ پھر گئی اسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی “ ہم نے آپکی جان بچائی ….آپ اب ہمارے ہیں! وہ تو اسکے گلے پڑ گئی تھی ” آپ نے ہماری جان بچائی ہم آپکے ممنون ہیں مگر یہ عشق ہم پر ممنوع ہے …..اسے دھکیل کر وہ چلا گیا ناجانے کیا دل میں آئی جو ایک بار پلٹ کر دیکھنے کا دل کیا پلٹا اپنی دل کی دُنیا لُٹا بیٹھا وہ مکمل انسانی روپ لے چکی تھی لال رنگ کی فیری فراک اس میں سے نظر آتا اسکا بے لوث حُسن لال چِلی ہونٹ چھوٹی سی ناک اور ۔۔۔اور آنسوں سے بھری موٹی موٹی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔اسنے گہرا سانس لیا اور سر جھٹک کر سیپ کے بستر پر بیٹھ گیا وہ معصومیت سے اسکے قدموں میں بیٹھ کر ٹھوڑی اسکے گھُٹنے پر رکھ کر اسے معصومیت سے اسے دیکھنے لگی ” نام کیا ہے آپ کا …”
” یعقوت یمنی ! ” رومی اسکے نام پر ہنس دیا تھا ” اسلیے لال لباس پہنا ہے میرے ساتھ رہو گی ؟” اسنے مسکرا اثبات میں سر ہلا یا “اسی روپ میں میری یمنی بن کر ؟اسنے مسکرا کر پھر اثبات میں سر ہلا دیا اسنے جھک ماتھا اسکے ماتھے کے ساتھ جوڑ لیا یہاں رومی کو بھی اپنا ہمسر مل گیا تھا مگر وہاں کسی کا ہمسر سب بھول بیٹھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقراط جب زرمیش اور ضامن کو لیکر محل واپس آیا انھیں سب بتایا تو کچھ لمحوں کے لیے محل کے درو دیوار ہل گئے تھے ” مگر معلم اتنا سب کچھ ہوگیا آپ نے ہمیں بھنک بھی نہیں لگنے دی !”
“ ہمیں لگا تھا کم سب سنبھال لیں گے مگر اتنا بڑا مسئلہ ہو جائے گا معلوم نہیں تھا رومی ناجانے کہا ہے اور ۔۔۔۔۔۔” اسنے افسوس سے ضامن کو دیکھ جو حیرت سے سب کے چہرے دیکھ رہا تھا “یہ لوگ کون ہیں ؟”اسکے سوال پر سناش فاریہ کجا سب حیرت سے زرمیش اور بقراط کو دیکھ رہے تھے ۔
“ برکھا نے ضامن کی یاداشت ختم کردی ہے اسے کچھ یاد نہیں وہ کون ہے ہم سب کون ہے ؟” بقراط کی بات سن کر فاریہ ضامن کی جانب مُڑی ” ضامن ہم تو یاد ہیں نہ آپکی امی جان ! مگر وہ سوالیہ نگاہوں سے فاریہ کو دیکھنے لگا ۔زمر کو نمزا کی نظروں سے کوفت ہونے لگی تھی وہ اسے دیکھ نہیں رہا تھا اور اسے جیسے اس کے سوا کوئی کام ہی میں تھا اب ہی تو موقع ملا تھا اسے جی بھر کر دیکھنے کا ورنہ وہ تو اجازت ہی نہیں دیتا تھا ۔ضامن کی اسے فکر تھی جب سے اسے اپنے غلط ہونے کا احساس ہوا تھا جب سے اسکا غرور ٹوٹا تھا وہ سب سے اچھا برتاؤ کرنے لگی تھی مگر اب اس سے کوئی بات نہیں کرتا تھا ۔
“ اسکی یاداشت واپس لائیں جنابِ بقراط !
“ اسکی یاداشت واپس لانے کا ایک ہی طریقہ ہے یاداشت واپس لانے والا طلسماتی پھول !”
“ہمارے شاہی باغ میں ہے ؟” سناش نے سوالیہ نگاہوں سے غفران کو دیکھا ” نہیں وہ طلسماتی پھول ہے وہ یہاں سے بہت دور سفاک پہاڑ کے دامن میں ایک غار ہے وہاں شہر سحر کے تمام طلسماتی پھول پائیں جاتے ہیں وہ پھول وہیں ملے گا!”
“میں جاؤ گی !زرمیش کی بات پر اسیر اور زمر نے حیرت سے اسے دیکھا ” نہیں باربی !”
“ واٹ نہیں بھائی یہ مجھے بھول گیا مجھے یاد دلانا کے اسے سب پلیز مجھے جانے دیں !”
“ شہزادی ! مشکل وہاں جانا نہں ہے وہاں سے پھول ک انتخاب کرنا ہے !” بقراط کی بات زمر نے بڑی غور سے سُنی تھی ” کیا مطلب ؟’
“ مطلب وہ غار کوئی عام غار نہیں ہے اسکی حفاظت پر ایک جن معمور ہے جو اصول کا پکا ہے صرف بامقصد لوگ غار کے اندر جاسکتے ہیں وہاں طرح طرح کے پھول ہیں یاداشت مٹانے والے واپس لانے والے روحیں جسم بدلنے والے روپ بدلنے والے کر قسم پھول ہے اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اندر تمہیں بلکل وہی پھول توڑنا ہوگا جو لینے آئے ہو اگر تم نے غلط پھول توڑ لیا تو وہ ضائع ہوجائے پر اگر تم نے ایک ہی دفعہ میں سہی پھول توڑ لیا تو وہاں بلکل ویسا نیا پھول اجائے گا برکھا نے انھیں پھولوں میں سے یاداشت مٹانے والا پھول استمعال کیا ہے اسلیے میرا کوئی بھی جادو اس پر اثر نہیں کررہا اب وہی ایک حل ہے ۔۔۔۔۔
” سب پریشان ہوگئے تھے زرمیش تو رونے لگ گئی تھی زمر اپنی بہن کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا تھا ” میں جاؤں گا ! نمزا نے حیرت سے اسے دیکھا ۔” سب کچھ جاننے کے باوجود ! بقراط نے ایک آس سے اسے دیکھا ” ہاں میں جاؤ گا اور چاہے کچھ بھی ہو جائے میں پھول لیکر ضرور آؤں گا ۔۔۔۔”
“ زمر نہیں یہ خطرے سے خالی نہیں ہے !!”
“ تو کیا کریں اسے اسی حالت میں چھوڑ دیں یہاں میڈیکل سائنس اثر نہیں کرے گی اسکے سر پر چوٹ نہیں لگی ہے وہ جادو کے اثر میں ہے جادو کو جادو ہی زائل کر سکتا ہے میں وہاں ضرور جاؤ گا ۔”
“ تو ٹھیک ہے میں بھی تمہارے ساتھ جاؤ گا اور ہم بھی ! سناش اور اسیر نے ایک ساتھ کہا ۔” نہیں میرے ساتھ کوئی نہیں جائے گا میں اکیلا جاؤ گا بابا آج تو یقین کر لیں مجھ پر !! اسنے التجا نظروں سے اسیر کو دیکھا وہ خاموش ہوگیا تھا “
مجھ یقین ہے زمر تم پھول لے آؤ گے !!!طلسم نے حیرت سے اسیر کو دیکھا ” نہیں میرا بیٹانہں جائے گا پہلے کیا اسنے کم تکلیف برداشت کی ہے ! ” نمزا شرمندگی سے گردن جھکا گئی تھی زمر نے چور نظروں سے اسے دیکھا ” مام مجھے کچھ نہیں ہوگا آپ فکر مت کریں !!
” طلسم یقین کرو اس پر وہ ہمارا بیٹا ہے اور ہم یہ کر چکے ہیں ! سناش طلسم اور اسیر نے فاریہ کی جانب دیکھا طلسم چپ ہو گئی تھی ” تو ٹھیک ہے میں تمہیں ابھی وہاں پہنچا دیتا ہوں ! بقراط ان سب کو لیکر کُتب خانے میں آیا تھا اسنے اپنی جادوئی کتاب کھولی اسکے ایک صفے پر سفاک پہاڑ لکھا دوسری طرف برف سے دکھا ایک پہاڑ دِکھائی دینے لگ وہ ایسے تھا جیسے ایک بہت بڑا دیو سمِٹا بیٹھا ہے اور برف کی چادر تان رکھی ہے ” اس صفے پر ہاتھ رکھو یہ تمہں سفاک پہاڑ پہنچا دے گا ! اسنے گہرا سانس لیا اور ہاتھ رکھنے لگا جب ایک اور ہاتھ ساتھ ہو لیا یہ مخروطی انگلیاں وہ کیسے بھول سکتا ہے ” میں بھی ساتھ جاؤ گی ؟” اسنے غُصے سے اسکا ہاتھ پیچھے دھکیلا ” یہ کیا نیا ڈرامہ ہے !”
“ آپ اپنی بہن کی خاطر یہ سب کر رہے ہیں مگر جسکے کے لیے یہ سب ہورہا ہے وہ میرا بھائی ہے اور اسلیے میرا پورا حق بنتا ہے !!”
“ نمزا تم وہاں نہیں جاؤ گی ! فاریہ نے اسکے کندھے کو کھینچا جو اسنے چھڑوا لیا ” ابا جان ہم جانتے ہیں ہم سے بہت غلطیاں ہوئی ہیں مگر اب ہمیں احساس ہوگیا ہے کہ ہم غلط تھے ہمیں بھائی جان کی جان بچانی ہے ابا جان ہمیں جانے دیں !!” وہ ہاتھ جوڑے سناش کے سامنے کھڑی تھی ضامن تو جو تھا سو تھا زیادہ فکر اسے زمر کے اکیلے جانے کی تھی ابھی تو اسنے اسے محبت کرنا شروع کی تھی ابھی کھو دیتی …..سناش کو شاید اسکے آنکھوں میں یہ سب دکھ گیا تھا شاید اسلیے مان گیا ” ٹھیک ہے آپ جاسکتی ہیں !” وہ خوش ہوگئی تھی زمر نے حیرت سے انھیں دیکھا ” انکی جان خطرے میں پڑ جائے گی !”
“ تو پڑنے دیں آپ کو کیا فِکر ! نمزا کے گلے پر وہ خاموش ہوگیا تھا ” ہاں مجھے کیا مرو !! اسنے کتاب پر ہاتھ رکھا کتاب نے اسے اندر کھینچ لیا اور دوسرے کی لمحے وہ سفاک پہاڑ کے سامنے کھڑا تھا وہ جگہ برفانی تھی ہر طرف برف ہی برف تھی وہ ابھی جائز ہی لے رہا تھا جب پیچھے دانت بجنے کی آواز آنے لگی اسنے مُڑ کر اسے دیکھا تو وہ اپنے بازو اپنے گرد باندھے کھڑی تھی نفرت سے منہ پھیر لیا ” میں کوٹ نہیں دینے والا ! خود کلامی کرتا آگے بڑھ گیا وہ پہاڑ کے اندر پہنچے تو لمبی پتھریلی راہ داری تھی فاصلے پر چاروں اور دیکھتے وہ آگے بڑھتے جارہے تھے جب چمکادڑوں کا جمگھٹا انکے قریب سے گُزرا نمزا نے پیچھے سے اسے پکڑ لیا ” جنابِ زمر !! اسنے اسے دور دھکیل دیا ” میرے قریب آنے کی کوشش مت کریں !! چیختا آگے بڑھ گیا آخر انھیں وہ جگہ دِکھ گئی جہاں بہت سارے پھول اُگے تھے زمر اس جانب بڑھا مگر ایک طاقت نے اسے روک دیا وہ کوشش کر رہا تھا مگر جا نہیں پا رہا تھا ” رُک جائیں جنابِ زمر ! نمزا ہاتھ بڑھا کر خلا میں چھوا تو غائبانہ طور پر بنی دیوار سامنے آگئی ” کوئی ہے !”
“ سفاک پہاڑ کے جن ہمیں تمہاری مدد چاہیے ! ” زمر چارو اور دیکھتا بلند آواز سے بول رہا تھا ۔
“ فرمائیے ! ان دونوں نے ایک ساتھ دیوار کے پیچھے دیکھا سیاہ لباس میں سیاہ چوغے کی ٹوپی سر پر پہنے ہیبت ناک تھا ۔” رانی برکھا یا اسکا کوئی جن یہاں سے کوئی پھول لیکر گیا تھا ۔
“ تم اپنا مقصد بتاؤ ورنہ جاؤ یہاں سے !” زمر نے ایک غصیل نظر نمزا پر ڈالی جو یہ سوال کر رہی تھی ” ہمیں یاداشت واپس لانے والا پھول چاہیے .”
“ کون ہو تم دونوں ؟” ۔۔۔۔” شہر سحر کے راجہ سناش کے اولاد شہزادی نمزا ۔۔۔شہر سحر کے پرانے راجہ ذولفشان کا نواسا !!! نمزا نےاہنی پہچان دی تو زمرنے اپنا تعارف کروایا ۔ہوا میں اُڑتے آس جن نے بغور نظر ان دونوں کو دیکھ نمزا کو کمزوری سی محسوس ہوئی وہ گرنے لگی تھی زمر نے پکڑ لیا ” کیا ہوا ؟”
“ بہت کمزوری لگ رہی ہے جیسے کسی نے کچھ نکال لیا ہوا !!” ۔۔۔۔” آپ دونوں کا تمام جادو وقتی طور پر لے لیا گیا ہے جب تک آپ اس غار میں ہیں پھول لینے کے کچھ اصول ہیں پھول لینے صرف ایک جائے گا ۔۔۔۔
“ اور وہ میں جاؤ گا!! زمر نے اسکی بات کاٹ کر جواب دیا ” میری پوری بات تو سن لے پھول لینے ایک جائے گا دوسرا ضمانت بنے گا !
“ مطلب !! ان دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا ” مطلب وہ جگہ دیکھ رہے ہو ایک کو اس پتھر پر کھڑا ہونا ہوگا !! ان دونوں نے ایک ساتھ اس جگہ دیکھا جہاں کھائی تھی اور نیچے آگ کا لاوا ایک چھوٹا سا پتھر تھا جس پر انھیں کھڑا ہونا تھا “کسی کے کھڑے ہوتے ہی وہ چھوٹا لاوے کے بیچ و بیچ چلا جائے گا اور دوسرا اندر پھول لینے جیسے ہی وہ پھول توڑے گا اگر تو پھول سہی ہوا تو ضمانت دینے والا محفوظ رہے گا مگرتم نے غلطی سے غلط پھول توڑ لیا تو ضمانت دینے والا لاوے میں گر جائے گا۔تو بتاؤ کون جائے گا پھول لینے اور کون بنے گا ضامن ؟”
“ نمزا جائے گی پھول لینے ! اسنے بنا کوئی سوچے سمجھے جواب دیا ” مگر شہزادی نے تو اپنے آپ کو ضامن کے طور پر چُنا ہے !”زمر نے حیرت سے کھائی کی جانب دیکھا جہاں پتھر پر کھڑی نِمزا لاوے کے بیچ و بیچ لٹک رہی تھی ” نمزا!!! اسنے غصے سے اسکا نام پکارہ ” ہم جانتے تھے آپ ہمارا نام ضامن کے طور پر کبھی نہیں لیں گے اپنی جان خطرے میں ڈالیں اسلیے ہم پہلے ہی یہاں آگئے ہمیں آپ پر پورا یقین ہے کہ آپ ہمیں کچھ نہیں ہونے دیں گے !”
“ میری جان عذاب میں ڈالنے کا کوئی موقع مت چھوڑنا ۔۔۔۔” یہ سارا منظر کتب خانے میں بقراط سمیت سب دیکھ رہے تھے ” یہ کیا بے وقوفی کی ہے نمزا نے !” اسیر نے ماتھا پیٹ لیا تھا ” نمزا کو کچھ ہوگا تو نہیں ! فاریہ نے سناش کا بازو پکڑ لیا ” ہمیں زمر پر پورا یقین ہے !”
“یہ حیات ہمیں یا تو آپکی محبت کے ساتھ گزارںی ہے یا آپکے ہاتھوں موت ہی سہی !!! نمزا کے باتیں اسے اور غُصہ دلا رہی تھیں ۔
“ وقت ضائع کرنا ہے تو کہیں اور جا کر کریں میرا مت کریں !!! سفاک پہاڑ کی کرخ آواز نے غار میں بھونچال بنا دیا تھا وہ چپ چاپ پھولوں کی جانب بڑھ گیا اب کی بار کسی دیوار نے اسے نہیں روکا تھا نمزا کی جان داو پر لگی تھی محل کا یقین سب کا بوجھ اسکے کندھوں پر تھا وہ جن تو بس تماشائی بنا اُڑ رہا تھا وہاں عجیب و غریب پھول تھے کسی کی بھی پتی عام پھولوں جیسی نہیں تھی ہر رنگ کا پھول تھا اور ہر ایک کا کوئی نہ کوئی کم تھا سب میں کوئی نہ کوئی طلسم تھا کسی کی پتیاں اتنی بڑی تھیں کے حیرت تھی کہ تنا اسے سنبھالے کیسے کھڑا ہے اور کسی کی اتنی چھوٹی لاکھوں پتاں آپس میں جُڑی تھیں کسی کا رنگ اتنا شوخ تھا کہ آنکھیں چُندھیا جاتیں اور کوئی اتنا ب نما کہ دیکھنے کو دل نہ کرے اور ان سب میں سے اسے یاداشت واپس لانے کا پھول ڈھونڈنا تھا اور موقع بھی صرف ایک ۔۔۔۔۔۔وہ حیرت سے ان سب کو دیکھ رہا تھا جب وہ جن پھر چیخا ” جلدی کرو !”
اسنے غور سے سب پھولوں کو دیکھا اسکی نظر ایک نارنجی رنگ کے پھول پر جا کر رُک گئی وہ سب سے الگ تھا چاند کی طرح گول گول پتا آپس میں جُڑی اسکی چمک سب سے زیادہ تھی ” یہ سب سے الگ ہے یادیں بھی سب کی الگ ہوتی ہیں یہی ہوگا !!!!ڈرتے ڈرتے قدم وہ اس پھول کی جانب لے جارہا تھا اسنے کانپتے ہاتھوں سے اسکے تنے کو پکڑا نمزا جس پر پتھر پر کھڑی تھی وہ ہلنے لگا تھا ” جنابِ زمر غلط پھول ہے !!! وہ لڑکھڑائی اور گر گئی مگر بروقت اسنے اسی پتھر کر پکڑ لیا وہ لٹک گئی “آؤ شِٹ!! زمر نے فوراً پھول چھوڑ دیا “تم نے کہا تھا غلط پھول ٹوٹے گا تو اسے کچھ ہوگا میں نے پھول نہیں توڑا دیکھو وہ ٹھیک اسے دوبارہ پتھر پر کھڑا کردو ! پلیز !!! پلیز!!!وہ اس جن کے سامنے ہاتھ جوڑ رہا تھا پھول ٹوٹا نہیں تھا اسلیے اسے ایک موقع مل گیا تھا جن نے نمزا کو دوبارہ پتھر پر کھڑا کردیا اسکی جان میں جان آگئی تھی ” جناب زمر پرُ سکون ہو جائیں ہمیں آپ پر مکمل اعتماد ہے آپ ہمیں کچھ نہیں ہونے دیں گے سکون سے سوچے یادیں کیسے ہوتی اچھی بری خوش کن اداس عجیب سوچے یہ سب ایک ساتھ کیا رنگ بناتی ہیں انسان کی زندگی میں !!
“ یادیں اچھی ہو بری ہوں اداس خوش کُن ہوتی ہیں جس انسان کو اپنا ماضی یاد نہیں وہ بے رنگ ہیں اور یادوں کے ساتھ زندگی خوبصورت ہے سنہری ہے یادیں سُنہری ہیں The memories are golden yes memories are golden !!!
اسنے متلاشی نظروں سے سارے پھولوں کو دیکھا ایک کونے میں سُنہری رنگ کا پھول چمک رہا تھا اپنے رنگ چھوڑتا چھاپ چھوڑتا وہ ایکدم اسکے پاس پہنچا آیت الکرسی پڑھتے اسنے اسے پکڑا ایک نظر نمزا کی طرف دیکھا جسے کچھ نہیں ہوا تھا اسنے گہرا سانس لیا آنکھیں بند کیں اور پھول توڑ لیا دوبارہ آنکھیں کھولیں تو نمزا وہاں نہیں تھی اسنے ادھر اُدھر دیکھا وہ نہیں تھی وہ اس جن کے پاس پہنچ گیا تھا ” کیا پھول توڑا وہ گر گئی نہیں ایسا نہیں ہوسکتا میں بھی اسکے ساتھ جاؤ گا میں اسکے بغیر کیسے رہوں گا !!! وہ آگ کی جانب چل دیا ” جناب ِ زمر ہم یہاں ہیں ! وہ کھائی سے دور ایک کونے میں بیٹھی تھی ۔اپنے پیر کو اسنے گاؤن کے کپڑے سے چھپا رکھا تھا ” ہم بلکل ٹھیک ہیں !” وہ بھاگ کر اسکی جانب پہنچا اسے گلے سے لگا تھا ” تھینک گاڈ تم ٹھیک ہوا !! چند لمحے ایسے ہی گُزر کے اسکی بری یادیں سر اٹھانے لگی وہ اس سے دور ہوگیا ” چلو! وہ لوگ غار سے باہر نکل گئے
سفاک پہاڑ کے جن نے اسے اسکا جادو واپس کردیا تھا ۔
پھول لیکر وہ اسی طرح واپس آگئے تھے نمزا کو تکلیف تھی پیر میں مگر اسنے کسی کو اسکی بھنک بھی نہیں لگنے دی وہ آتے ہی بیٹھ گئی تھی پیر اسنے گاؤن کے نیچے چھپا لیے تھے زمر نے پھول سیدھا زرمیش کو تھامایا تھا ” یہ لو تمہارے بھائی نے اپنا وعدہ پورا کیا !”
“ ہم سب کو تم پر یقین تھا ! سب نے ایک ساتھ کہا سب زمر کو ہی دیکھ رہے تھے اسے نہیں جو موت کو چھو کر آئی تھی ۔زرمیش وہ پھول لیکر ضامن کے پاس آئی جو ابھی بھی اجنبیوں کی طرح سب کچھ دیکھ رہا تھا اسنے سیدھا پھول اسکی ناک کے قریب کردیا جسکی مسحورکن خوشبو اسے نہایت اچھی لگی تھی اسنے آنکھیں بند کر کے کھولی تو سب اسے ہی دیکھ رہے تھے تجسس سے !!!
“ آپ سب ہمیں ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں اور ہم نفاس جھیل سے کب لوٹے ؟” اسکی یاداشت واپس آگئی تھی سب خوش ہوگئے تھے زرمیش نے اسے برکھا کے بارے میں سب بتایا تھا جو کچھ بھی ہوا ” رومی کہاں ہے؟” ضامن نے پریشانی سے ادھر اُدھر دیکھا ” وہ ٹھیک نفاس جھیل کے اندر جل پری یعقوت یمنی کے پاس ہم انھیں دیکھ چکے ہیں !!! ضامن کو کچھ تسکی ہوگئی تھی اسنے افسوس سے زرمیش کو دیکھا ” کاش وہ آپ ہوتی !!! اسکی بات پر زرمیش کا منہ کھُلا رہ گیا ۔
“ اگر اجازت ہو تو میں کچھ کہوں؟”زمر کی بات پر سب نے اسے حیرت سے دیکھا ” اجازت کی ضرورت ہے !” سناش نے مسکرا کر کہا ۔” ہمیں اب زرمیش اور ضامن کا نکاح کردینا چاہیے !” اس بات پر اسیر کے لب سُکڑ گئے تھے ۔” مگر اتنی جلدی کیوں ؟”
“ جلدی ہمیں یہاں آئے بہت وقت ہوگیا ہے ہمارا نکاح ہوگیا ٹوٹ بھی گیا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔” زمر کی بات پر نمزا کا دل دھک سے رُک گیا تھا باقیوں کا حال بھی کچھ الگ نہیں تھا ۔وہ ایک پیر سے لنگڑاتے وہاں سے روتی چلی گئی تھی ۔” زمر یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ہم جانتے ہماری بیٹی غلطی ہوئی مگر وہ شرمندہ ہے ہم یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ آپ انھیں اتنی جلدی معاف کردیں مگر انھیں چھوڑو تو مت !!! سناش اب ایک بے بس باپ بن گیا تھا ” انکل مجھے اسے چھوڑنا ہوتا تو میں اسے کب کا چھوڑ چکا ہوتا آپ فکر مت کریں میں اسے اپنا نام ضرور دوں گا مگر اپنا آپ نہیں !!! اپنا فیصلہ سُنا کر وہ چلا گیا تھا پیچھے سب اسکا منہ تکتے رہ گئے تھے کمرے میں آنے کے بعد وہ کافی دیر روتی رہی تھی حتیٰ کہ رات سر پر آگئی تھی وہ کمرے سے بھی نہیں نکلی تھی فاریہ اسے خوشخبری دینے آئے تھی کہ کل زرمیش اور ضامن کا نکاح ہے جسے اسنے زبردستی مصنوعی مسکراہٹ سے سُنا تھا ۔ اب روتے روتے اس پر نیند کی دیوی مہربان ہوگئی تھی ۔وہ سو رہی تھی ریشمی لال پردے ٹھنڈی ہوا سے اُڑ رہے تھے چاند کی روشنی بستر میں چھپے اسکے وجود پر پڑ رہی تھی چرچرا نے کی آواز سے دروازہ کھُلا کوئی اندر موم بتی روشن کیے ایک نظر اسکے بستر میں چھپے وجود کو دیکھا پھر پیروں کی جانب چل دیا آہستہ سے کمبل ہٹایا اور موم بتی کی روشنی اس پر ڈالی پیر جھلس چکا تھا انگوٹھے سمیت تین انگلا جلی تھیں اسنے موم بتی نیچے رکھی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکا پیر پکڑا جس سے اسے تکلیف ہوئی وہ اُٹھ بیٹھی تھی ٹیبل پر رکھی موم بتی اسکے چہرے کی جانب کی ” جنابِ زمر !! “
“ یہ تب ہوا جب تم پتھر سے گری تھی !” اسنے اسکے ہاتھوں سے پیر کھینچنے کی کوشش کی جو ناممکن تھی ۔”بولو !”
“ جب ہم پھتر سے نیچے گر اور پکڑ کر لٹک گئے تو لاوا اوپر کی جانب بڑھنے لگا جب تک جن نے ہمیں واپس پتھر پر کھڑا کیا تب تک لاوا پیر تک پہنچ گیا تھا ۔” بتایا کیوں نہیں ؟”
“ تاکہ جتنی تکلیف آپ نے سہی ہے ہم بھی کریں اسلیے نہیں بتایا !!! وہ نرمی سے اسے پیر پر ہاتھ پھیر رہا تھا پھونکے مار رہا تھا پھر موم بتی اُٹھائی آرام گاہ کی تمام مومبتیاں روشن کیں کمرا سُنہری روشنی نہا گیا تھا وہ چپ چاپ اسکی تمام کاروائیاں دیکھ رہی تھی وہ چلا گیا ایک مدھم سی مسکراہٹ اسکے روشن چہرے پر در آئی تھی کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی ” اندر آنے کی اجازت ہے شہزادی !”
“ طبیب ! اجازت ہے! وہ اندر آیا اسکے ہاتھ میں چند کڑی بوٹیاں اور کھرل ( جڑی بوٹیاں پیسنے والا خاص سِل بٹہ ) تھا ” ہمیں شہزادے زمر نے بھیجا ہے کہا پیر جل گیا ہے دیکھائیں !” اسنے آہستہ سے پیر آگے کیا ” بہت جل گیا چھالے بن چکے ہیں میں لیپ لگا دیتا تھوڑی تکلیف ہوگی مگر افاقہ ضرور ہوگا !” طبیب نے ایک لیپ اسکے پیر کے گرد لگا دیا تھا” آہ!!تکلیف کوئی تھی جو پٹی باندھنے تک ناقابلِ برداشت ہوگئی تھی جو اسے برداشت کرنی تھی طبی پٹی کر کے چلا گیا تھا وہ ضبط کے آخری پیمانے پر تھی مرہم جلا رہا تھا آنسو نکل نکل کر بستر میں جذب ہونے لگے تھے اوپر سے ٹھنڈ لگنے لگی تھی پورے وجود پر کپکپی طاری ہوگئی تھی وہ چاہتی تو اپنی انگلی گھما کر سب بند کرسکتی تھی مگر وہ خود کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دینا چاہتی تھی اسلیے بامشکل اُٹھی کھڑکی تک گئی بند کی پھر باری باری موم بتیاں بُجھناے لگی کہ اچانک اسے کسی نے اٹھا لیا باہوں میں بھرا گھور کر دیکھنے لگا ” بہت شوق ہے تکلیف برداشت کرنے کی تو میں دوں !”وہ آنکھیں پوری کھولے اسے دیکھ رہی تھی اسنے غُصے سے اسے بیڈ پر پھینکا وہ اُٹھنے لگی تو کمبل منہ تک کھینچ دیا ” سو جاؤ !
“ اسنے معصومیت سے کمبل ہٹایا ” اتنے درد میں نیند نہیں آرہی ۔۔۔۔۔” تنے عصاب ڈھیلے چھوڑ کر اسنے اسکی جانب دیکھا ” یہ درد تو کچھ نہیں جانتی ہو جتنی تکلیف تب ہوتی نہ جب کوئی کسی کو عزت لوٹنے والا بھیڑیا کہتا اس سے زیادہ کوئی تکلیف ہی نہیں سکتی ” وہ شرمندگی سے سر جھکا گئی ” آپ ہمیں بدکردار کہہ لیں !”
اسنے حیرت سے اسے دیکھا جو اپنے ضبط کے آخری مقام پر تھی اسے اس پر ترس آگیا تھا ” زیادہ تکلیف ہے!”
“ جیا قرق پڑتا ہے کونسا کوئی بانٹنے آئے گا ! سیدھے ہوکر لیٹتے وہ کمبل سہی کرنے لگی تھی وہ کچھ دیر اسے یونہی دیکھتا رہا جو کمبل میں سسک رہی تھی ۔ زخم سے زیادہ درد کسی کے لفظوں کو ہورہا تھا وہ جانے لگا تھا جب اسے کھڑکی سے جھانکتی ایک ننھی سی پری دکھی وہ اسکی جانب چلا گیا ” تم کون ہو ؟” وہ افسوس سے نمزا کو دیکھ رہی تھی وہ سفید تھی مگر سکا رنگ ماند پڑ رہا تھا وہ چمک نہیں رہی تھی ” ہم ہمدردی ہیں جو لوگ بہت کم کرنے لگے ہیں ! زمر نے حیرت سے اسے دیکھا ” کیا مطلب !”
“ ہمدردی ترس کبھی میں بھی بہت چمکتی تھی مگر آج لوگوں میں نفرتیں ضد انا اتنی بڑھ گئی ہے کہ محبت بھی اور ترس کوئی بھی نہیں کھا رہا اپنی آنا کو تسکین دے رہے ہیں سب جیسے آپ کررہے ہیں وہ شرمندہ ہے بے جا تکلیف میں ہے ہمدرد نہیں بنو گے اسکے چند لمحوں کے لیے !!! اسے بنا دیکھے جواب دیا اور غایب ہوگئی ۔وہ کچھ دیر اسی لمحے کو فسو میں رہا یہ کیا تھا پھر اسے کمبل میں سے ہچکیوں کی آواز آئی بیڈ کی دوسری جانب گیا کمبل ہٹایا اور اسکے ساتھ لیٹ گیا گھٹڑی بنی چہرا ہاتھوں میں چھپائے رونے میں مصروف تھی ” نمزا ! ” اسنے ایکدم ہاتھ چہرے سے ہٹائے وہ سامنے لیٹا تھا ” ادھر آؤ ! اسنے ہاتھ بڑھا کر اسے پاس بلایا مگر وہ آنسو پونچھ کر رُخ پھیر گئی ” اب تو ہمیں انکے سیراب بھی ہونے لگے ہیں وہ بھلا ایسے کیوں آئیں گے ہمارے پاس !! اسکی غلط فہمی پر زمر کو تھوڑی ہنسی آئی تھی اسنے کھینچ کر اسکا رُخ اپنی جانب کیا اور سینے سے لگا لیا پیار سے اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا ” سو جائیں ! وہ سچ میں تھا سیراب نہیں تھا وہ اسکے قریب تھا اسکے ساتھ وہ اپنا درد بھلائے اس بات پر غور کر رہی تھی یہ ہوا کیسے ” کہا نہ سو جاؤ ! اسکی دوبارہ آواز پر اسنے آنکھیں میچ لیں ۔مگر اسکے آنکھوں میں نیند کہاں تھا وہ اسے اپنے قریب کیے بیٹھا تھا جسنے اسے سب سے دور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔ کچھ دیر ہی گُزرے تھے جب اسکی پُر سکون سانسوں کی آواز آنے لگی وہ اُٹھنے لگا تو غلطی سے اسکا اپنا پیر اسکے زخمی پیر سے ٹکرا گیا ” آہ!! ” او نو !! مگر وہ کروٹ بدل کر پھر سو گئی ۔اسنے سُکھ کا سانس لیا اور چلا گیا ۔
