Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 22
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
آہہہہ!!!! تلواروں سے لیس ہاتھ جوتوں سے عاری پیر ٹھنڈے فرش پر آگے پیچھے چل رہے تھے آدم زمر کو تلوار بازی سکھا رہا تھا تلوار بازی کے ساتھ ساتھ وہ نمزا کو پرُ شوکھ نگاہوں سے دیکھ رہا جو نمزا کو کچھ عجیب ہونے کا اندیشہ دے رہی تھیں .” سلام سپہ سالار ! سپاہی اچانک آیا تھا ” خیرت ! ” راجہ نے اپکو محل بلایا ہے ! ” آدم نے اثبات میں سر ہلایا اور اندر کی جانب چلا گیا نفیسہ اسکے پیچھے ہی چلی گئی زمر اپنے کرتے کے بٹن بند کر رہا تھا جب نمزا نظریں چراتی وہاں سے بھاگنے لگی مگر اسکے کھینچنے سے اسکے ساتھ جالگی ” پہلے تو تمہیں میری توجہ چاہیے تھی اور مجھ سے چھپتی پھر رہی ہو !!”اسکے کمر میں ہاتھ ڈالیے اسے اپنے ساتھ لگائے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ” وو…وہ …..ہم…..آ….آپ کو کیا ہوا ہے آپ زمر ہی ہیں نہ !” آخر اسنے ڈرتے ڈرتے اپنا ڈر پو چھ ہی لیا ” نہیں ہم تو نمزا کے جنابِ زمر ہیں ! گرفت مضبوط ہوتی جارہی تھی وہ حیرت سے اسے دیکھے جارہی تھی جو دوبارہ اسکے ہونٹوں پر جھکتا جارہا تھا ! نمزا !!! انکا طلسم نفیسہ کی آواز نے توڑا تھا وہ اپنا آپ چھڑاتی وہاں سے بھاگ گئی اور وہ پیچھے مسکراتا رہ گیا …………………..
…………………… پورے محل میں ہو کا عالم تھا ہر طرف گہری خاموشی تھی دربار کے بیچو بیچ شاہی خزانے کے دربان کھڑے تھے کٹہرے میں وزیر صیاد بھی موجود تھا مگر دربانوں سے چہرے پر چھلکنے والا خوف صیاد کے چہرے پر نہیں تھا .” یہ کیسے ہوسکتا ہے اتنی کڑی نگرانی کے باوجود ہیرا چوری کیسے ہوگیا ! جی ہاں شہر سحر کی بنیاد وہ ہیرا چوری ہوگیا تھا .آدم اور ذولفشان سر پکڑے بیٹھے تھے .” وزیر صیاد کیا آپ ایک ہیرے کی بھی حفاظت نہ کرسکے !صیاد نے معصومیت سے بھرپور چہرا ذولفشان کی جانب اٹھایا ” راجہ میرے ایک کام تو نہیں کل ہمیں ایک ضروری کام سے پار ریاست جانا تھا تو ہم ہیرے کے پرانے نگہبانوں لو ہٹا کر جنابِ آدم سے کہا تھا کہ اپنے اعتماد دار نگہبان لگا دیں مگر ہمیں کیا معلوم تھا جنابِ آدم اتنی لاپرواہی کریں گے .”ذولفشان نے آدم کی جانب دیکھا ” راجہ یہ سچ ہے کل محل کے نگہبانوں کی جگہیں تبدیل ہوئیں تھیں اور وزیر کے کہنے پر ہم نے ہی نگہبان ٹہرائے تھےمگر یقین جانے تمام نگہبان ہمیں جانے بھلے ہیں وہ چوری نہیں کرسکتے آپ انکی تلاشی بھی لیں چکے ہیں کچھ برامد ہوا ؟” ذولفشان نے نہ میں سر ہلا دیا آدم نگہبانوں کی جانب مُڑا ” ہمیں سچ سچ بتاو کہ ہیرا کہاں ہے !” وہ دونوں کب سے سر جھکائے کھڑے تھے کہ اچانک صیاد نے انگلیاں گھمائیں ایک فیروزی روشنی نکلی اور ان دونوں میں جذب ہوگی ” اب تم وہی کہو گے جو میں کہوں گا تو کہوں ہیرا ہم نے چوری کیا ہے ! ” ہیرا ہم نے چوری کیا ہے! صیاد شہباز اور زبیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی تھی ” ہاں ہمیں نے ہیرا چوری کیا ہے جنابِ آدم کے کہنے پر !! آدم اپنی جگہ ساکن رہ گیا مگر ذولفشان تخت سے اٹھ گیا تھا ” یہ کیا بکواس کر رہے ہو ! ” ہم سچ کہہ رہے ہیں !!!!! آدم کی حیران بھٹکتی نظر صیاد پر گئی تو اسکے ہونٹ ہلتے ہوئے نظر آئے ایک منٹ لگا اسے ماجرا سمجھنے میں اسنے اپنے ہاتھوں میں سنہری روشنی کا گولہ بنایا اور صیاد کی طرف اچھال دیا جو اسے ہلا کر رکھ گیا صیاد کا ہاتھ ہلا تو طلسم بھی ٹوٹ گیا وہ دونوں خاموش ہوگئے تھے ” انھوں نے ابھی جو کچھ بھی کہا وہ سب جھوٹ جادو کے زیرِ اثر اور یہ سب وزیر صیاد کررہے تھے !!!ذولفشان نے صیاد کی جانب دیکھا جو غصیل نگاہوں سے آدم کو دیکھ رہا تھا ” کیا یہ سچ ہے صیاد ! ” اگر آپکو میری بات پر یقین ہو تو نہیں ورنہ ہاں اور جہاں تک رہی بات جادو کے زیر اثر ہونے کی تو جنابِ آدم اپنی غلطی چھپا رہے ہیں نگہبانوں نے سچ بتا دیا تو یہ مدعا بدل رہے ہیں “! ” جھوٹ ہے یہ ہیرا ہم نے چوری نہیں کیا بلکہ صیاد نے کیا ہے!” ” ہم ایسا کیوں کریں گے ہم کس چیز کی کمی ہے یہ کام صرف ایک غلام کرسکتا ہے اور آدم غلام ہے !” ” صیاد بس اس سے آگے لفظ نہیں اسکا حل صرف ایک ہے اور وہ ہے تلاشی ! ذولفشان کا فیصلہ سن کر صیاد کے ہونٹوں گہری رازدار مسکراہٹ آگئی تھی آدم مطمئین تھا .تلاشی کے لیے سپاہی منتخب کرلیے گئے تھے جنہوں نے پہلے صیاد کی آرام گاہ اور اسکی تلاشی لی تھی قافلہ اب آدم کے گھر کی جانب رواں دواں تھا.نمزا زمر نفیسہ ھیرت سے تلاشی ہوتے دیکھ رہے تھے ذولفشان نے ایک بغور نظر ان دونوں پر ڈالی ” یہ دونوں کون ہیں ؟” ” رشتہ دار ہیں ہمارے راجہ اور ….. ” ہیرا مل گیا راجہ !! سپاہی کے ہاتھوں میں ہیرا دیکھ سب کے طوطے اُڑ گئے تھے مگر صیاد پرسکون تھا ایک جادو ہی تو تھا اصلی ہیرا جیسا ہیرا بنانا اور آدم کے گھر پر رکھنا یہ مایا جال ہے کوئی تو پھنسے گا ” آدم یہ سب تم نے ہیرا چوری کیا تھا ! آدم پرغور نظروں سے ہیرے کو دیکھ رہا تھا .” دیکھا راجہ غلام آخر غلام ہوتا ہے دیکھا دی نہ اپنی اوقات کر لی نہ چوری ! ” چوری میں نے نہیں کی بلکہ چوری راجہ صاحب نے کی ہے اور آپ نے بھی وزیر صیاد !!! ” دماغ خراب ہوگیا ہے آدم ! ” ذولفشان چیخ پڑا تھا ” معزرت راجہ لیکن اپنی پوشاک میں دیکھیں ! ” اسنے اپنے گاؤن کی ان پوکٹ میں دیکھا تو وہاں بھی ایک ہیرا موجود تھا باہر بکالتے ذولفشان کے ہاتھ کانپ گئے تھے ” آپ بھی دیکھیں وزیر صیاد ! ایک ہیرا صیاد کے پاس بھی تھی اب وہاں تین ہیرے موجود تھے ” اب تو ہم.تینوں ہی چور نکلے اب کیا کریں !” ان دونوں کی نظریں ہیروں کو گھوری جارہی تھیں آدم نے زمر کو دیکھا جس نے تھز اپ کا اشارہ کیا وہ لوگ جب آیے تھے زمر نے تبھی آدم سے پوچھا لیا تھا ” کیا ہوا ؟” ” ہیرا چوری ہوا ہے محل سے !زمر نے ھیرت سے اسے دیکھا ” وہی ہیرا جو شہر سحر کی بنیاد ہے !اب کی بار چونکنے کی باری آدم کی تھی پھر کچھ سوچ کر اثبات میں سر ہلا دیا ” وہ ہیرا تو صیاد زبیر اور شہباز نے چرایا ہے ! ” جانتا ہوں اس میں صیاد کا ہاتھ مگر اسکی تلاشی میں کچھ نہیں ملا …! ” وہ ہیرا انھوں نے شہباز کے محل سے کچھ دور ایک جادوئی غار میں چھپایا ہے وہ غار ان تینوں کے پنجوں سے کھلتی ہے ! “یہ سب نمزا نے بتایا تھا . “اچھا تو یہ بات ہے ! ” اسنے غصے سے صیاد کی جانب دیکھا ” جی مستقبل میں اسیر یعنی اپکا بیٹا یہ تمام راز کھول دے گا ! ” مستقبل کیوں یہ راز تو آج ہی کھلے گا ! ” رُکیں ایسے کچھ مت کہیں انھیں شک ہوجائےگا کہ اپکو کیسے پتا ایک کام کریں انھیں تلاشی لینے دیں اور پھر پورے شہر کی تلاشی ہوگی آپ سمجھ رہے ہیں نہ ! “زمر نے اسے سمھاتے ہوئے کہا جس پر اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ” مگر جنابِ آدم اگر صیاد نے وہ ہیرا اپکو پھسانے کے لیے یہاں رکھا ہوا ہو تو ؟ نمزا کا سوال زمر کو بھی پریشان کر گیا تھا مگر آدم مسکرا دیا تھا ” تو آدم مایا جال بچھا دے گا .! ان دونوں کا ادم سے ایسے باتیں کرتا ذولفشان دیکھ رہا تھا ” یہ دونوں کون ہیں ؟” حال صیاد نے ہیرا غصے سے پھینک دیا جو آدم نے پکڑ لیا ” ارے اختیاط وزیر صاحب اگر یہ اصلی ہیرا ہوا تو شہرِ سحر خطرے میں پڑ جائے گا .” تمہیں کیا لگتا ہے تم اپنی چوری پکڑے جانے کے ڈر سے ہمارے ساتھ جادوئی کھیل کھیل رہے ہو ! ” جی نہیں کھیل میں نہیں کوئی اور کھیل رہا ہے میں تو بس جواب دے رہا ہوں یہ ایک جادوئی شہر ہے یہاں اس طریقے سے کسی کو پھسانا کتنا آسان ہے وہ آپ دیکھ چکے ہیں راجہ اور جہاں تک رہی بات ان ہیروں کی ” اسنے تینوں ہیرے ہوا میں معلق کردیے ” تو یہ تینوں ہیرے ہی نقلی ہیں ! وہ دھڑام سے نیچے گرے اور غائب ہوگئے ” یہ نقلی تھے کیونکہ اصلی ہیرے کی چمک اتنی ہے کہ اسے نظر بھرکر دیکھنا ناممکن ہے وہ آنکھوں کا خیراکردیتا ہے اسکے ہوتے کسی اور روشنی کی ضرورت نہیں پڑتی اور جو ہیرا ہمارے گھر سے ملا وہ ماندہ تھی اسکی چمک میں کچھ خاص نہیں تھااور سب سے بڑا ثبوت ہے ہیرے کے غائب ہونے کے بعد ہم ابھی تک زندہ ہے سب کچھ ٹھیک ہے یعنی یہ اصلی ہیرا نہیں تھا .”
“ تو اصلی ہیرا کہاں ہے ؟” صیاد کھا جانے والی نظروں سے آدم کو گھور رہا تھا ” یہ لمحہ فکریہ ہے راجہ کہ ہیرا اب تک غائب ہے ہمارا خیال ہے کہ پورے شہر کی تلاشی لینی چاہیے ! صیاد نے کرے تیوروں سے اسے دیکھا ” لیکن اس پہلے ہمیں ان نگہبانوں سے پوچھنا ہے ہمارا نام کس کے کہنے پر لیا گیا کون ہے جو ہمیں پھنسانا چاہتا ہے !” اسنے صیاد کی جانب دیکھا جو رُخ بدل گیا ۔” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں آدم ہمیں جلد سے جلد وہ ہیرا ڈھونڈنا ہوگا اگر ہیرے کے نگہبان کو …….!”ادم نے فوراً ذولفشان کو پر کروا دیا ” راجہ یہ وقت اس بات کا نہیں ہے ہمیں دیر نہیں کرنی چلیں !! وہ ذولفشان وہاں سے نکل گئے تھے۔ زمر نے مسکرا کر نمزا کو دیکھا ” اب وہ ہیرا دادا جان کو مل جائے گا اور تمام مسئلہ ہی حل ہوجائے گا نہ ہیرا صیاد کے پاس رہے گا نہ وہ زیادہ طاقتور ہو گا اور نہ وہ رات آئے گی ۔۔” زمر کی باتوں سے نمزا کے ہونٹ سکڑتے جارہے تھے ” نہیں یہ نہیں ہونا چاہیے تھا !” زمر نے حیرت سے نمزا کو دیکھا ” کیا نہیں ہونا چاہیے تھے !”
“ جو ہوچکا ہے ہم وہ بدلنے نہیں آئے تھے اگر آج ہیرا جنابِ آدم کو مل گیا تو تاریخ بدل جائے گی اسیر طلسم کی کہانی ختم ہو جائے گی آدم نہیں مرے گا جنابِ زمر ہم تاریخ کا راز کھولنے آئے ہیں اسے بدلنے نہیں اگر تاریخ بدل گئی تو موجودہ شہر سحر کا نقشہ بدل جائے گا کچھ بھی عام نہیں ہوگا اسیر اور طلسم کبھی ہوں گے نہیں نگہبان کا راز نہیں کھل پائے گا یہ ہم سے غلطی ہو گئی ہمیں آدم کو یہ سب نہیں بتانا تھا سب ختم ہو جائے گا سب کچھ پہلے پنے کے واقعات میں تبدیلی دوسرے پنے کو غارت کر دے گی ہمیں کچھ کرنا ہوگا ہمیں آدم کو روکنا ہوگا !!” زمر کو غلطی کا احساس ہوگیا تھا ۔” مگر کیسے وہ لوگ تو بہت دور نکل گئے ہوں گے !! نمزا سوچ میں پڑ گئی تھی پھر اسے اچانک خیال آیا “نفیسہ بیگم !! وہ ہمیں پتا کرکے دکھا سکتی ہیں آدم اس وقت کہاں ہے پانی ہمیں پانی چاہیے !! نمزا باہر کی جانب لپکی زمر بھی اسکے پیچھے تھا اسنے باورچی خانے بڑا برتن لیا اسے پانی سے بھرا اٹھانے لگی تو زمر آگیا ” میں ہوں نہ !”
“چلیں جلدی !! وہ دونوں نفیسہ کے کمرے میں کھڑی تھی نفیسہ حیرت سے کبھی انھیں کبھی برتن کو دیکھ رہی تھی ” ہمیں پتا چلا ہےکہ آپ پانی میں جادو پتا لگا سکتی ہیں کہ شہر میں کیا ہورہا ہے ہمیں بھی دیکھائیں نہ ! نمزا کی عقل پر زمر کا دل عشق عشق کررہا تھا ۔” کیوں آج کیا خاص بات ہے !”
“ دکھا دیں ہمیں بھی دیکھنا ہے کہ شہر میں کیا ہورہا ہے !”
“ اچھا روکو !وہ دونوں سیدھے ہوکر بیٹھ گئے نفیسہ نے پانی میں جادو کیا تو شہر کے مقامات نظر آنے لگے تھے ان دونوں کی نظریں آدم کی متلاشی تھیں مگر وہ تو وہاں نظر آہی نہیں رہا تھا ۔ “مم۔۔محللات دیکھنے تھے راجہ کا وزیر کا انکے دوستوں کا زبیر شہباز کا !!! نفیسہ حیرت سے انھیں دیکھ رہی تھی آج یہ اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں۔” اسنے پہلے انھیں زولفشان کا محل دیکھایا پھر زبیر کا
بس !! آخر آدم انھیں زبیر کے محل میں مل ہی گیا اب ہم چلتے ہیں ! زمر کا ہاتھ کھینچتی وہ باہر آگئی تھی ” ہمیں آدم کو شہباز کے محل سے آگے جانے سے روکنا ہوگا یا پھر ہمیں وہ غار ہی غائب کرنی ہوگی !”زمر بس اسے دیکھے جارہا تھا وہ کنفیوز ہوگئی ” کک…کیا ہوا کچھ غلط کہا دیا ہم نے !! ” نہیں کچھ غلط نہیں کہا میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ میری معصوم سی نمزا اتنی سمجھدار ہے ! ” وہ لہجہ تھا یا شہد نمزا چند لمحوں کے لیے اسے دیکھتی رہ گئی .” مجھے رات کو دیکھ لینا ابھی غار کا سوچ لیں !”وہ جیسے اب ہوش میں ائی تھی ” ہاں ہم انھیں روک تو نہیں سکتے مگر غار کو غائب مگر اسکے لیے جادو چاہیے ہمارے پاس تو جادو ہی نہیں ہے !! اسنے افسوس سے زمر کو دیکھا جو کچھ سوچ رہا تھا ” کون !!! کون مدد کرسکتا ہے !! ” امبرپارہ جاوادت !!! ان دونوں نے یک زبان کہا زمر نے اسکا ہاتھ پکڑا بھاگ نکلا ” مگر …..زمر ….وہ …ہماری مدد کے لیے کیسے مانے گے !!!اسنے ہنستے ہوئے نمزا کو دیکھا ” ہمیں نکالنے پڑیں گے !! ” کیا نکالنے پڑیں گے !!!! ……” ترلے!!! اور کھلکھلا کر ہنس دیا نمزا حیران پر حیران ہوئے جارہی تھی کچھ دیر بعد وہ کال جنگل میں ان دونوں کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھا تھا نمزا بھی وہی سب کررہی تھی ” خدا کے لیے ہماری مدد کریں اگر محل کے آدمی اس غار تک پہنچ گئے تو وہ اس غار کو تباہ کردیں گے اور وہ معصوم ڈریگن مطلب منہ سے آگ نکالنے والا معصوم جانور مر جائے گا وہ کسی کو کچھ نہیں کہتا بس لوگ اپنے ڈر کی وجہ سے اسے مارنا چاہتے ہیں تم دونوں بھی تو یہاں جانوروں کی حفاظت کرتے ہو وہ بھی تمہاری زمہ داری ہے نہ !! زمر ان دونوں کے ترلے نکال رہا تھا جو مشکل سے انکی بات سننے کے لیے امادہ ہوئے تھے نمزا زمر کا جھوٹ بڑی غور سے سن رہی تھی ” مہربانی کرکے اس بے زبان کی مدد کریں ! ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ” تو آپ کیا چاہتے ہم اسے وہاں سے نکالنے !! ” نہیں !!” ان دونوں نے ایک ساتھ کہا ” مطلب اسے وہاں سے نکالنا نہیں ہے آپ بس اس جگہ کو چھپا دیں ! “کافی سوچ کے بعد آخر وہ مان گئے ان دونوں نے سکھ کا سانس لیا.آدم کا قافلہ شہباز کے محل تک پہنچ چکا تھا وہاں بھی انھیں کچھ نہیں ملا تھا ” ہیرا تو کہیں نہیں ہے اور سپاہیوں نے بھی کوئی خبر نہیں دی ابھی تک ! ادم نے پریشان ذولفشان کو دیکھا تو اسے تسلی دی ” آپ فکر نہ کریں راجہ ہیرا مل جائے گا ابھی بہت مقامات باقی ہے اس محل سے آگے بہت جگہیں ہیں جہاں ہیرا چھپایا جاسکتا ہے !!! اانے صیاد پر نظریں گاڑے کہا شہباز زبیر اور صیاد پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تھے ” اگر انھیں غار کے بارے میں پتا چل گیا تو ؟” ” راجہ میرا خیال ہے کہ ہمہں رُک جانا چاہیے اور ایک بار پھر ان دربانوں سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے !” ” وہ صرف وقت کا ضیاع ہے وہ دربان جو کچھ وقت پہلے میرا نام لے رہے تھے وہ اب ہر بات سے انکاری ہیں انھیں یاد بھی نہیں کہ وہ کیا بول چکے ہیں اسلیے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے ریت بھی ہاتھوں سے لمحہ بہ لمحہ سرکتی ہے اور ایک بار وہ ہاتھوں سے نکال گئی تو اسے سمیٹ پانا ناممکن ہے اسلیے ہمیں آگے بڑھتا رہنا یہاں سوال صرف ہماری زندگی کا نہیں بلکہ ہم سب کی زندگی کا ہے !!! ” آدم ٹھیک کہہ رہا ہے ہمیں تلاش جاری رکھنی چاہیے چلو ! آدم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی مگر وہ تینوں پریشان ہوگئے تھے. امبر پارہ دائیں جانب اور جاودات بائین جانب ہوا معلق اپنی طاقت سے غار کو زمین میں دھنسنے کی کوشش کررہے تھے ابھی تک غار آدھی زمین کے اندر جاچکی تھی زمر اور نمزا راستے پر نگہبانی کر رہے تھے آخر انھیں وہ آتے دکھا دیے انھوں نے پیچھے ان دونوں کو دیکھا غار ابھی بھی تھوڑی سی باہر تھی ” جلدی کریں !! نمزا ڈر گئی تھی .آدم پرجوشی سے وہاں پہنچا مگر وہاں کچھ نہیں آدم حیران تھا اور لوگ چلتے چلتے اتنی آگے بڑھ گئے تھے مگر راستے میں کوئی غار نہیں تھے شہباز اور زبیر گھبرا گئے تھے صیاد نے انکی طرف حیرت سے دیکھا ” غار کہاں ہے ؟”
“ مجھے نہیں پتہ صبح تک تو یہی تھیں راجہ یہاں !! شہباز نے زولفشان کو کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تو صیاد نے اسے چپ کروا دیا ” مرنے کا ارادہ ہے بعد میں دیکھیں آدم کو دیکھا وہ کیسے پریشانی سے دیکھ رہا ہے کیا آدم کو اس غار کے بارے میں پتا تھا ؟”
“ نہیں اس غار میں بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہے یہاں کوئی نہیں آتا مگر وہ غار کہاں ۔۔۔چچ۔۔۔چلی گئی !” صیاد نے پریشانی سے چہرا ہاتھ پر پھیرا ” ابھی بولتی بند رکھو رات میں دیکھیں گے !” وہ لوگ بہت آگے نکل گئے تھے انھیں کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا جب زولفشان نے آدم کو رُکنے کا کہا ” آدم اب ہم تھک چکے ہیں میرا خیال ہے آج کے لیے یہی ختم کرتے ہیں یہ سپاہی بھی تھک گئے ہیں انھیں تبدیل کردو محل سے دوسرے سپاہیوں کو تلاشی کے لیے بھیجو ہم محل جارہے ہیں ! زولفشان جادوئی قالین پر اڑ گیا تھا ان تینوں کے چہروں پر تھوڑا سکون اگیا تھا ۔آدم کو زمر اور نمزا پر غصہ آرہا تھا جو امبر پارہ اور جاودات کے ساتھ وہاں سے جاچکے تھے ۔
