Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 20
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
وہ غُصے سے بھرا کھڑکی کی جانب منہ کیے جب وہ کمرے میں آئی وہ جان تو گئی تھی کہ آج اسے اس پر کتنا غُصہ ہے وہ یہ زخم اپنے آپ کو سزا دینے کے لیے ٹھیک نہیں کر رہی تھی مگر زمر اسکی وجہ سے اسکے قریب آنے لگا تھا اسکی فکر کرنے لگا تھا . اسلیے وہ لالچ میں آگئی تھی ” جج….جنابِ …جنابِ زمر !! وہ ہچکچاتے ہوئے اسے بلا رہی تھی . مگر وہ کوئی جواب نہیں دے رہا تھا اسنے ڈرتے ڈرتے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا جب وہ ایکدم مُڑا اسکی کلائی دبوچ لی” آہ!!!” ” تم نہیں بدلی نہ تم جھوٹی کی جھوٹی ہی رہی وہ سب اپنے آپ کو بار بار تکلیف دینا سب فنکاری تھی میرے قریب آنا چاہتی تھی جو مجھے برداشت نہیں !!! اسنے بے دردی سے اسکی کلائی دبوچ رکھی تھی جو درد کرنے لگی تھی .” ہمیں معاف کردیں ہم آپ کو کھونا نہیں چاہتے ہمیں آپ سے محبت ہے ہم ….ہم آپ پر نثار ہونے کے لیے تیار ہیں ہم وہی کریں گے جو آپ کہیں گے !! وہ زبردستی اسکے گلے لگنے کی کوشش کررہی تھی مگر اسنے کھنچ کر دور کردیا ” مجھے کچھ نہیں چاہیے تم سے میں نفرت کرتا ہوں تم سے اتنی نفرت کے تمہاری صورت سے بھی گھِن آتی ہے مجھے دور رہا کرو مجھ سے اور آج کے بعد میرے قریب آنے کی کوشش مت کرنا !! ہاتھ جھٹک کر چلا گیا اوروہ وہیں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر روتی رہ گئی . کھو گیا !! گُم ہوگیا !! وقت سے چُرایا تھا جو!! اپنا بنایا تھا !! وہ تیرا وہ میرا !! ساتھ نبھایا تھا جو!! اپنا بنایا تھا !!! جو دریا جینی رے جینی !! آنکھیں بھینی رے بھینی !!
………………••••••••………….
زرمیش اشتیاق سے نفاست سے بنا یہ کمرے دیکھ رہی تھی جہاں ایک بیڈ کرسیاں میز پھولوں سے بھرے گلدان موم بتیوں والا جھومر سوندھی سوندھی چنبیلی کی خشبو وہ حیرت سے گلدان میں رکھے پھولوں کو دیکھ رہی تھی جب اسکی کمر کے گرد حصار بنتا ہوا محسوس ہوا اسنے کندھے پر تھوڑی اٹکا لی اسکی گرفت سے اسے جلن ہونی شروع ہوئی تھی مگر وہ پھر بھی نظر انداز کر گئی ” ضامن انکی خوشبو کتنی مسحورکن ہے نہ ! اسنے وہ پھول اسکی جانب کیے مگر اسنے چہرا اسکی گردن مین گُم کرلیا ” یہ خوشبو زیادہ مسحورکن ہے جو مجھے بہکنے پر مجبور کر رہی ہے ! اپنی گرفت مضبوط کرتا وہ اسے زیادہ قریب کرگیا وہ اسکی گردن پر محبت کے پھول پرو رہا تھا پر اسکا حد سے زیادہ باڈی ٹمپریچر اسے تکلیف دے رہا تھا اوپر سے اسکا جھلساتا لمس وہ مکمل کوشش کر رہے تھی کہ وہ کوئی ایسے حرکت نہ کرے جو اسے بُری لگے فسٹ نائٹ میں تو وہ کرگئی تھی وہ چھو رہا تھا اور اسے جلن ہورہی تھی آخر اسکی بس ہوئی تو وہ دور ہوگئی “ضض۔۔۔۔ضامن پلیز !’
“ مگر کیوں ؟” اس بار وہ سچ میں خفا ہوگیا تھا ۔” کیونکہ جب بھی تم میرے قریب آتے ہو مجھے چھوتے ہو مجھے جلن ہوتی ہے میں جلنے لگتی یہ دیکھو !! اسنے گردن سے بال پیچھے ہٹا کر دکھائی جہاں سُرخ نشان بنے ہوئے تھے ” یہ ہوتا ہے جب بھی تم میرے قریب آتے ہو تمہارا جسم بھٹی کی طرح جلتا ہے کوئی کیسے آگ کے قریب جاسکتا ہے ۔۔۔۔” اسکی بات سن کر وہ آگ بگولہ ہوگیا تھا غُصے سے اسکی جانب بڑھا ” تو کیا مطلب تم میرے قریب نہیں آؤ گی !!! اسنے چیخ کر کہا تو وہ ڈر گئی “نن۔۔۔۔نہیں میں کیا کروں ضامن وہ برداشت نہیں ہو پاتا تم ۔۔۔تم دور رہو مجھ سے !!! وہ اسکے ہاتھ کمر سے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی وہ اس سے دور سے تو ضرور ہوگیا تھا مگر غُصے میں بھی آگیا تھا سر سے پیر تک اسکی تمام رگیں تن گئی تھیں ” یہ میں کیا کر رہی ہوں میں محبت کرتی اس سے اور میں قربت تک برداشت نہیں کر پاتی وہ میرے قریب آتا ہے اور میں اسے دھکیل دیتی ہوں !!! اسنے گہرا سانس لیا اور اسکی پیچھے کھڑی ہوگئی اسکا رُخ اپنی جانب کیا اسکی آنکھیں لال سُرخ ہوئیں پڑی تھیں اسنے دھیان دیے بغیر اسکے لبوں کو چھو لیا اسکا لمس ہاتھ ہی پل بھر میں اسکے تنے عصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی وہ اسکے قریب تھی دھکیل نہیں رہی کچھ دیر بعد وہ اس سے الگ ہوگئی ” ائم سوری میں نے صرف اپنے بارے میں سوچا !! وہ خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا پھر اچانک اسنے اسے باہوں میں اٹھا لیا بڑے پیار سے بستر پر بیٹھا کر وہ اس پر جھکتا جارہا تھا آج کی رات انکا ملن طے تھا سو ہوگیا شہرِ سحر کے پہلے پنے میں قید ان قیدیوں کی محبت تکمیل کو پہنچ گئی تھی اب یہ ملن کیا رنگ لانے والا تھا یہ تو سورج کی کرنوں نے ہی بتانا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔•••••••••••۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے صبح زمر اور نمزا کی آنکھ شور کی وجہ سے کھُلی تھی وہ باہر جاتا اس سے پہلے آدم ہڑبڑی میں اسکے پاس آیا اسنے دروازہ کھولا تو آدم کو دیکھ کر کچھ پریشان ہوگیا تھا ” کیا ہوا دادا جان !”
“ تمہارے ساتھ !!! اسے حیرت سے دیکھتا جملہ ادھورا چھوڑ گیا ” میرے ساتھ ضامن اور زرمیش کیا ہوا انھیں !!!
چلو میرے ساتھ !!اسے لیے وہ باہر گلی میں آیا جہاں تمام لوگ باہر آسمان کی طرف نظریں اٹھائے دیکھ رہے تھے جہاں سفید لباسوں میں ملبوس دو فرشتے ہوا میں اُڑ رہے تھے انکے پر آسمان میں پھیلے ہل رہے تھے ریشمی سفید لباس ہوا میں اُڑ رہا تھی اسکی باریکی اسکے انگ انگ کو نمایا کر رہی تھی اور دوسرے نے تو قمیض پہن ہی نہیں رکھے تھی صرف نچلے حصے کو ڈھانپ رکھا تھا وہ شرارتیں کرتے محبت کرتے ہر جگہ گھوم رہے تھے زمر تو پتھر ہی ہوگیا تھا ” یہ کیسی مخلوق ہے!”
“ کیا یہ فرشتے ہیں نہیں ایک فرشتہ دوسری حور ہے !!!!
“ یہ کرشمہ ہے انکے پر تو دیکھو یہ کتنے خوبصورت ہیں !!! ۔۔۔۔۔۔” لوگوں کی چہ مگیوں کو دیکھ کر آدم نے خنجر زمر کی گردن پر رکھ دیا ” جنابِ آدم!!!! نمزا نے تڑپ کر آدم کا ہاتھ پیچھے کھینچا مگر وہ غُصے سے بھرا پڑا تھا ” سچ سچ بتاؤ کیا آفت ہیں یہ ۔۔۔۔یہ تمہارے ساتھی ہیں نہ کون ہیں یہ !!! زمر حیرت سے آدم کو دیکھ رہا ” امبر پارہ اور جاودات!!! ہمیں کال جنگل جانا ہوگا !!! اسکے ہاتھ کو پیچھے کی طرف دھکیلتا وہ بھاگنے لگا تھا ننگے پیر سر پٹ دوڑتا آدم اور نمزا اسکے پیچھے بھاگ رہے تھی جب ایک قالین نے انھیں اُٹھا لیا ان دونوں نے حیرت سے آدم کو دیکھا ” بہت جلد باز ہو تم دونوں !!! قالین ہوا میں اُڑ رہا تھا وہ نیچے کال جنگل کو دیکھ رہا تھا جب قالین خودبخود جنگل میں اُتر گیا ” ضامن !!! زرمیش !!! زرمیش !!! وہ چیخ چیخ کر ان کو بلا رہا تھا جب انکے چیخنے سے ایک ساتھ کوے اور پرندوں کی ڈار کال جنگل سے اُڑ گئی تھی انھیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہ سب کیا ہورہا ہے وہ پاگلوں کی طرح انھیں ڈھونڈ رہے تھے جب ایک غار کے اندر انھیں ہنسنے کی آواز آئی وہ بھاگ کر اس طرف گئے تو سامنے جاودات اپنی امبر پارہ کو گود میں لیے بیٹھا تھا انھیں دیکھ کر امبر پارہ ڈر گئی تھی وہی چہرا مگر الگ انداز کالے سیاہ بال ناک میں موتی سُرمے سے بھری آنکھیں سفید گلے سے نظر آتیں سبز ناڑیں بیوٹی بون سے نیچے نظر آتی سفید باریک لباس اسکی نسوانیت اور ہاتھوں کی مروڑتی انگلیاں گلابی ہونٹ ڈر سے کپکپا رہے تھے ” باربی !! وہ اسکی طرف بڑھا تو وہ ڈر کو جاودات کے پیچھے چھپ گئی اسکے کندھوں کو مضبوطی سے تھام لیا وہ آنکھوں میں تجسس لیے انھیں دیکھ رہے تھے وہ بلکل ویسے ہی تھا سنجیدہ چہرا مضبوط جسامت اور پشت پر پَر وہ سیاہ نہیں تھے وہ سفید تھے ” کون !!”
” ضامن میں زمر اور یہ تم دونوں کو ہوا کیا ہے وہ انکے قریب آیا تو ضامن نے ہاتھ آگے کردیا جس سے ایک طاقت نکلی جسنے زمر کو غار سے باہر ہی پھینک دیا اسکے کمر تقریباً ٹوٹ ہی گئی تھی اس پر حملہ آدم نے کیا تھا سترنگی روشنی تھی جو جاودات کی طرف بڑھی تھی مگر اس سے پہلے ہی جاودات نے اسے آدم کی طرف موڑ دیا جو بروقت سر نیچے کرنے کی وجہ سے گُزر گئی آدم غُصے سے اسکی جانب بڑھا تو وہ بھی سیدھا ہوگیا زمر آدم کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا نمزا خاموش خوف زدہ سے دیکھ رہی تھی یہ سب کیا ہورہا ہے آدم نے جاودات پر قابو پاتے سے ایک طاقت میں جکڑ دیا تھا جس نے نہ تو ہل پا رہا تھا نہ مکمل سانس لے پارہا تھا ” دادا جان چھوڑیں اسے !!! زمر چیخ رہا تھا مگر وہ صرف غُصے سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے نمزا کو اچانک اپنی گردن اور گلے میں چبھن ہوئی تو اسنے چہرا موڑا امبر پارہ اپنے خوبصورت ہاتھوں میں تیز دھار نوکیلے ناخن اسکے گلے میں پھیر رہی تھی وہ بھاگنے لگی تو اسنے جکڑ کر اسکی گردن کو نشانہ بنا لیا ” زرمیش یہ کیا کر رہی ہو ؟؟” زمر نے چیخ کر کہا تھا اسنے مُڑ کر اسکی جانب دیکھا اور ایک ائی برو اٹھا اگلے ہی لمحے زمر کے ہونٹ بلکل جُڑ ہی گئے تھے اس سے بولا جا ہی نہیں رہا تھا ” جاودات کو چھوڑو ورنہ یہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گی!! آدم نے ابھی امبر پارہ کی طرف ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اسنے نمزا کی گردن میں ناخن باریکی سے پھیر دیا ” آہ!!!! اسکی گردن سے خون رسنے لگا تھا زمر کی سانس وہیں ساکن ہوگئی تھی ” کوئی ہوشیاری نہیں جاودات کو چھوڑو !!!! چاہ ناچار آدم نے اسے آزاد کردیا تھا نمزا چھوڑ وہ جاودات کے پاس چلی گئی تھی آدم نے زمر کا منہ کھولا ۔
زمر تو جیسے بلکل صدمے زدہ ہی ہوگیا تھا اسکی بہن بہنوئی انھیں پہچانتے بھی نہیں تھے اور اب زیادہ بات کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا وہ ٹوٹے قدموں سے غار سے باہر نکل گیا آدم اور نمزا بھی اسکے پیچھے چلے گئے تھے آدم پریشان تھے کہ اس بات کی خبر وہ راجہ کو کیسے دے گا کہ جو مخلوق شہرِ سحر میں آپکی ہے وہ اسی کے گھر سے نکلی ہے نمزا اور زمر کو دوبارہ اپنے گھر چھوڑ آیا تھا نفیسہ کو اسنے سب بتایا تھا اسلیے وہ خاموش تھی وہ بستر پر بیٹھا بلکل خاموش ہی ہوگیا تھا نمزا ڈرتی ڈرتی اسکے قریب آئی ” زُمر ! اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ہمت باندھی اور اسکے پاس بیٹھ گئی ” آپ فکر مت کریں سب ٹھیک ہوجائے گا ہم آپکے ساتھ ہیں آپ اکیلے نہیں ہیں !!” اسنے پُرنم آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر اچانک اسے گلے سے لگا لیا ” سب غلط ہورہا سب کچھ ہم شہر سحر اسی لیے آئے تھے کہ ضامن اور زرمیش ایک ہوجائیں مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ ہمیں ہی بھول جائے گی مصیبت میں پھنس گئے ہیں ہم پتہ نہیں وہاں سب ہمیں ڈھونڈ رہے ہوں گے ہمیں یہاں جانے کا کوئی طریقہ نہیں مل رہا اور اب یہ نئی مشکل آگئی ہے میں بابا کو کیا جواب دوں گا .میں اپنی زمہ داری پر لایا تھا اسے اور مجھے ہی نہیں پہچان رہی میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا !! وہ جو خاموشی سے اسے سُن رہی تھی اسے الگ کیا اور چہرا ہاتھوں میں تھام لیا ” پر مجھے سب سمجھ آگیا ہے آپکو یاد ہے ادم کی موت ایک راز تھا پہلا پنہ گُم ہونا بھی ایک راز یاد ہے آپ نے کہا تھا ہوسکتا ہے آدم یہ چاہتا ہو اسکی موت کا راز کوئی کھولے پہلا پنہ مکمل ہو وہ چاہتا ہے وہ ہم مکمل کریں کیوں غائب ہوا پہلا پنہ بابا اسیر غفران کسی کی بجائے ہمیں نظر آیا کیوں ہمیں ماضی نے بلایا کیونکہ آپ خاص ہیں !! اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” آپ خاص ہیں سب سے الگ ہیں سب سے سمجھدار پُرسکون علقمند حالات کو سنبھالنے والے آپ ہر مشکل کا حل نکالنا جانتے ہیں اسلیے پہلا پنہ آپکو دکھایا جارہا ہے میں نہیں جانتی ہمارا کام یہاں کیا ہے مگر ہمیں اتنا ضرور یقین ہے کہ قسمت کچھ تو چاہتی ہے ہم سے جو ہمیں پورا کرنا ہے اور آپ پریشان مت ہوں ہم آپکے ساتھ ہے ہمیں یہاں سرد راتوں میں باہر بھی رہنا پڑا تو ہم رہیں گے تپتی زمیں پر ننگے پیر بھی چلنا پڑا تو چلیں گے ہمیں بھوک بھی برداشت ہے بس آپ ساتھ رہیں ہمیں جان بھی دینی پڑی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے !! اسکی نظر اسکی گردن پر پڑی جہاں اس زخم سے خون نکل نکل کر جم گیا تھا کلاٹ بن چکا تھا اسنے اسکے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹائے ” یہ گردن والا ز خم ٹھیک کرلینا اب میں بے وقوف نہیں بنو گا !!” وہ اُٹھ کر چلا جب وہ بولی ” آپ بھی تو ڈاک…..ڈاکٹر ہیں !!! اسنے حیرت سے پلٹ کردیکھا ” کیا ہم نے غلط بولا !! کس نے سکھایا !! !” زرمیش نے بتایا تھا اور سو….سوری ….تھی…..تھینکس …… او شِ۔۔۔شِٹ !! یہ بھی سکھایا تھا …اسکے آخری بات پر وہ اسے عجیب نظروں سے دیکھتا چلا گیا . ” سوری یعنی معزرت تھینکس یعنی شُکریہ او شِٹ کا کیا بتایا تھا ” جنابِ زمر ¡ وہ اسکے پیچھے بھاگی جہاں نفیسہ ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی وہ بھاگی آئی تو سیدھا زمر کی پُشت سے ٹکرا گئی ” آپ کچھ کھائیں گیں ؟” نفیسہ جانتے تو انھیں نہیں تھی مگر جتنا جانتی تھی وہ یہ تھا کہ یہ اسکی آنے والی اولاد کی اولاد ہے !”
” نہیں دادی جان ہمیں کچھ نہیں کھانا ! نمزا نے ایک نظر اسکے ممتا بھرے وجود کو دیکھا وہ جھک کر میز کھینچنے لگی تو نمزا خود آگے آگئی ” میں مدد کرتی ہوں !” اسنے مسکرا کر اسے دیکھا ” ہاں یہ یہاں سے وہاں کرنا ! ایک کونے کی طرف اشارہ کرتے وہ ان دونوں سے کہہ رہی تھی وہ میز کی جگہ تبدیل کررہے تھے نمزا کو وزن اٹھانے کی عادت نہیں وہ پھر بھی زمر کے لیے سب کر رہی تھی جب پھر کچھ یاد آیا ” جنابِ زمر آئی لو یو !!! زمر کے ہاتھوں سے ایکدم میز گِرا اور اسکے پیر پر لگ گیا تھا ” آہ!!!” میز چھوڑتی وہ اسکے پاس آئی ” کک کیا ہوا چوٹ لگ گئی ! پیر پکڑے وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ” یہ بھی ۔۔۔۔زرمیش نے سکھایا تھا!”
“ جی کیا اسکا مطلب کچھ غلط ہے ؟” ۔۔۔۔” جب تمہیں اسکا مطلب ہی نہیں پتا تو کیوں بولا ۔۔۔۔” وہ سر جھکا گئی ” سوری !!!ناجانے کیوں اسکا انگلش بولنا اسے بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا ” مجھے تم سے محبت ہے !” اسنے ایکدم سر اٹھایا ” آئی لو یو کا مطلب ہے .” لنگڑاتا ہوا کمرے کی جانب چلا گیا اور وہ مسکراتی ہوئی باورچی خانے نفیسہ کی مدد کرنے چلی گئی وہ کچھ بنا رہی تھی ” ہم آپکی مدد کردیں ! اسنے پلٹ کر دیکھا اسکی حالت کے پیشِ نظر نمزا چاہتی تھی وہ کچھ نہ کرے اسلیے آگئی تھی ” نہیں سب ہوگیا !” نمزا نے اسکے ہاتھ سے پھر بھی برتن لے لیے ” وہ تمہارا شوہر ہے ! کرسی پر بیٹھتے اسنے نمزا کو بھی بیٹھنے کا کہا ” جی ہاں وہ میرے شوہر ہیں !”
” یہ بتا رہے تھے وہ میرا پوتا ہے کیا تم لوگ سچ کہہ رہے ہو دیکھو میرا تو بچہ ابھی آیا بھی نہیں ….”نفیسہ معصومیت سے اس سے پوچھ رہی تھی ” ہاہاہا تھوڑا عجیب ضرور ہے مگر سچ یہی ہے ہم مسقبل سے آئیں ہیں .”
“ اچھا تو تم لوگوں کے مطابق میرا بیٹا ہوگا ۔” ۔۔۔۔۔۔” جی آپکے دو بیٹے ہوں گے اور ان میں سے ایک نجات دہندہ بنے گا اور دوسرا ۔۔۔۔۔”
“ نمزا !!!!! اسکی بات مکمل کرنے سے پہلے ہی زمر وہاں آگیا تھا ” مم۔۔۔میری بات سُنو ! وہ غُصے میں تھا وہ چلا تو نمزا بھی اسکے پیچھے چلی گئی کمرے میں آنے کے بعد اسنے دروازہ بند ” تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا یہ کیا کر رہی تھی تم ؟” غصے سے اسکی جانب بڑھا تو دیوار سے جالگی ” وہ۔۔۔وہ پوچھ رہیں تھے اسلیے بتا ۔۔۔بتا ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ تمہارا دماغ سچ میں خراب ہوگیا انکی حالت دیکھی ہے شوک دینا ہے انھیں کہ انکا۔ایک بچہ اور وہ سب عنقریب مرنے والے ہیں تب مرتے آج مر جانا تھا انھوں نے !!!”
اسکے گرد بازو ٹکائے وہ اس پر گُرا رہا تھا ۔وہ شرمندگی سے نظریں جھکا گئی وہ یک ٹک اسکے چہرے کو دیکھنے لگا کافی لمحے اسی لمحے کی نظر ہوگئے تھے اسکے چہرے کا ایک ایک نقش اسے اُکسا رہا تھا نظر دنتوں تلے شہید ہوتے ہونٹوں پر رُک سی گئی تھی ” نمزا میری طرف دیکھو ! ایک تو زمر دوسرا اسکا خمار آلودہ لہجہ وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی وہ اسکے چہرے پر جھکتا جارہا تھا کہ لبوں کو چھونے سے پہلے ایک آواز گونج اُٹھی
” میں آپکو اپنا آپ سونپنے کے لیے تیار ہوں یہ لمحے صرف آپکے لیے ہونگے مگر۔۔۔۔۔۔سورج کی پہلی کرن نکلنے سے پہلے آپکو محل چھوڑ کر جانا ہوگا !!!…….” جناب ِ زمر جھوٹ کیوں بول رہے ہیں آپ نے ہمیں دھکا دیا تھا ۔۔۔۔” بزرگ وقت کی یادوں کے ساتھ زمر کا تنفس بھی تیز ہوتا جارہا تھا ” ہم سو رہے تھے جنابِ زمر کمرے میں مہ پی کر آگئے اور ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نفرت کرتے ہیں آپ سے !!! وہ کانوں پر ہاتھ رکھتا پیچھے ہوگیا ” زیادتی کی ہے شہزادی کے ساتھ رہپسٹ زمر اسیر کا رہپسٹ ہے زانی ہے !!!!! کانوں پر ہاتھ رکھے وہ چیخنے لگا تھا ” نہیں نو۔۔۔نو میں رہپسٹ نہیں ہوں میں نے کسی کا ریپ نہیں کیا نو۔۔۔۔۔۔نو میں نے نمزا کے ساتھ زیادتی نہیں کی!!!! زمر کی حالت دیکھ کر نمزا کانپنے لگی تھی ” میں نے ایسا کچھ نہیں کیا !؟ وہ روتا نیچے بیٹھتا جارہا تھا نمزا خود صدمے میں تھا اسکی اس حالت کی زمہ دار وہ تھی وہ شرمندگی کے گڑھوں میں گر گئی تھی اسلیے آنسوں پونچتی باہر نکل گئی ۔پیچھے وہ دیوار سے سر ٹکائے ہر زخم ادھیڑ بیٹھا تھا
محبت کو سرِ بازار رسوا کیا تو نے ۔۔۔
اے سوداگر میرے دل کے یہ کیا سودہ کی تونے۔۔۔
یہ کیسی تیری خود غرضی سنی نہ دل کی عرضی۔۔۔
میرے آنسو نہ دیکھے تو تیری مرضی ۔۔تیری مرضی ۔۔۔۔
تیری مرضی ۔۔۔۔تیری مرضی۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیسی خود تیری خودغرضی
