315.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 14

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

کیا ہوا ڈر کیوں رہی ہو میں نے تو کچھ کیا کیا ہی نہیں ابھی ؟ “وہ اسکے بہت قریب آگیا تھا اپنی وحشی نظریں اسکی صورت پر گاڑے ” نتھ اُتارو !

“ آپ دور رہے !اسنے اسے دھکیلنہ چاہا مگر اسنے وہ ہاتھ پیچھے باندھ دیے ۔دوسرے ہاتھ سے اسکی نتھ اتار کر پھینک دی ” یہ مجھے اسی دن کردینا چاہیے تھا جس دن تم نے مجھے پہلی بار میری ماں کے سامنے رسوا کیا تھا ” اسکی کلائیوں کو مضبوطی سے پکڑے وہ دبے ہوئے غصُے میں کہہ رہا تھا . ” چچ…چھوڑے مجھے کیا ہوگیا ہے آپ کو ! اسکی کلائیوں میں درد ہونے لگا تھا ” درد ہورہا ہے کسی تکلیف کا تو تمہیں احساس نہیں رہا پتا احساسِ ندامت کیا ہوتا ؟ وہ تو اسکے لہجے سے ہی ڈر گئی تھی سانس روکے اسے یک ٹک دیکھ رہی تھی ” سانس لو ! وہ ابھی بھی اسے دیکھ رہی تھی ” نمزا سانس لو ! اسنے اتنی اونچی آواز میں کہا تھا کہ وہ سر سے پیر تک کانپ گئی تیز تیز سانس لینے لگی ” ہاہاہاہاہاہاہا یہ ہوتا ہے جب احساسِ ندامت سانس نکلنے سے انکار کردیتی ہے ! ” نمزا نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے دور دھکیلہ ” آپ ہماری سوچ سے ..!!!! چٹاک !!!! شششش!!!!! آج تم نہیں صرف میں بولو گا میں انسان تھا جو کسی عورت کے ساتھ زیادتی تو دور اسے بلا ضرورت اسے دیکھتا تک نہیں تھا تم نے مجھے ہاتھ اُٹھانے پر مجبور کردیا ” چٹاک!!! ابھی پہلی گال سے ہاتھ ہٹا نہیں تھادوسرا پر بھی پڑ چکا تھا ” یہ تھپڑ مجھے بے غیرت بنانے کے لیے ! تیسرا تھپڑ ایک اور نشان چھوڑ گیا تھا ” یہ تھپڑ میری روح کی دھجیاں اُڑانے کے لیے چٹاک!!! یہ تھپڑ میری زات پر داغ لگانے کے لیے ! وہ بیڈ پر گِر گئی تھی اسکے بال چہرے سے نیچے گرے اسکا چہرے چھپا گئے تھے اسنا اسکا چہرا بالوں سے پکڑ کر اپنی جانب کیا ” جانتی جب ایک مرد کے ہاتھ کسی عورت کے بال پکڑتے ہین تو وہ اسے دھتکار چکا ہوتا ہے اسکے دل دماغ زہن ہر خیال سے وہ اسے نکال چکا ہوتا ہے میرے دل سے بھی تم اپنی مھبت مِٹا چکی ہوئی میں مرد ہوکر تمہاری عزت کی خاطر چپ رہا جھکتا گیا اور تم توڑتی گئی اج تم نے مجھے میری نظر میں گرا دیا میرا صبر جواب دے گیا تم میری مھبت کے قابل ہی نہیں تھی جتنی مھبت تمہیں میں دے چکا اسے بُرا خواب سمجھ کر بھُلا دوں گا . میں زمر اسیر اپنے پورے ہوش و ھواس میں تمہیں طل……….نہیں میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا ایسے تو تم جیت جاو گی میں تمہیں دھتکارتا ہوں تمہیں اپنے دل سے نکالتا ہوں تم ترسو گی اب مُجھے میرے قربت کو میری محبت کو .!! ایک جھٹکے اسکے بال چھوڑے اور الٹے قدموں چلنے لگا ” یہ کیا کیا ہم نے وہ…وہ چاہتے تو یہ سلوک ہم سے پہلی رات کر سکتے تھےمگر انھوں نے نہیں کیا بلکہ خاموشی سے سب برداشت کرتے رہے صرف ہماری عزت کی خاطر یہ کیا کیا ہم نے ….!!! وہ اوندھے منہ بستر پر ڈھے گئی تھی .” زمر کے ساتھ گُزرے تمام.لمحے آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا ” وہ کتنے پرُسکون رہتے تھے . وہ اسکے ساتھ رقص کر رہا تھا اسکے کانوں میں سرگوشیاں کر رہا تھا .اس پھول کو سونگھ کر وہ ہنس رہا تھا اسکی ہنسی کتنی حسین تھی وہ دیوار سے سر ٹکائے رو رہا تھا .وہ نکاح کی پہلی رات شرمندگی سے سر جھکائے اسکے سامنے کھڑا تھا گھوڑے پر بیٹھے اسکے کانوں میں سرگوشیاں کررہا تھا وہ صدمے زدہ سا سیاہ ہوئے بلبلے کو دیکھ رہا تھا وہ اس سے پیار کررہا تھا وہ زندان میں افسردہ سا بیٹھا تھا اور …..اور آج وہ اس پر ہاتھ اُٹھا رہا تھا اسکے بال پکڑے کھڑا ” اس مقام تک ہم نے پہنچایا انھیں ہم نے مجبور کیا وہ ایسے نہیں تھے ” یہ تھپڑ مجھے بے غیرت بنانے کے لیے ! یہ تھپڑ میری روح دھجیاں اُڑانے کے لیے ! یہ تھپڑ میرے زات پر داغ لگانے کے لیے !…..میں دھتکارتا ہوں تمہیں…….تم ترسو گی مجھے ….!!!! ! نہیں …..نہیں ایسا مت کہیں مجھے مت چھوڑیں !!! وہ روتی نفی میں سر ہلاتی جارہی وہ ٹوٹے قدموں سے باہر جارہا تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ایک عورت پر تشدد کر کے آیا میں ڈاکٹر تھا میری لائف نارمل تھی میں ہنستا تھا سب میری عزت کرتے تھے اور پھر ایک دن لڑکی نے مجھے بے غیرت بنا دیا مجھے رسوا کردیا مجھے اپنی نظروں میں گر دیا آنکھوں کا ڈاکٹر اج اپنے آپ سے آنکھیں نہیں ملا پا رہا تھا.مگر دل کا غبار نکال کر پرُسکون تھا . تو پتھر دل ایں … تینوں ڈر نئی ٹُٹنے دا… اسی قصہ ہی چھڈ دینا … تیرے ہتھوں لُٹنے دا…. اسی پنجرے چ رہ کے تینوں.. پیار کری گئے….. چنگا ہُن پنچھی آزاد ہوندا اے… رات تھی یا عذاب تھا جو دونوں نے مل کر کاٹا تھا سپاہی سناش کے حکم پر زمر کو باہر نکالنے آئے تھے .مگر راکھ ہوا دروازہ دیکھ کر خود ھیران رہ گیے تھے.وہ اسے پورے محل میں ڈھونڈ رہے تھے .وہ محل میں بنی ندی کے پُل پر بیٹھا تھا وہ آگے تو اسنے ہاتھ اُٹھا کر منع کردیا وہ چل پڑا سپاہی اسکے تعاقب میں چلنے لگے وہ دربار پہنچا تو طلسم اور اسیر ار جھکائے بیٹھے تھے اسے بُرا لگا تھا کہ اسکی وجہ سے میرے ماں باپ کو شرمندہ ہونا پڑ رہا ہے وہ سر جھکا کر کھڑا ہوگیا .” آپ زندان سے باہر کیسے ؟”اس بات پر تو اسنے ابھی تک خود نہیں سوچا تھا ” مج….مجھے نہیں معلوم میں کیسے میں نے دیکھا تو دروازہ خود کھُلا تھا .” اسیر اور طلسم نے ھیرت سے اسے دیکھا ” زمر تم جھوٹ بھی بولنے لگے ہو !!! ” ” مام بلیو می مجھے نہیں پتا وہ دروزاہ !” مگر طلسم نے رُخ پھیر ” میں نے سوچا نہیں تھا کہ تم ہمیں اس قدر اس انجان دُنیا شرمندہ کرو گے تم ایسے تو نہیں تھے ” اسیر کے گلے پر وہ خاموشی سے ار جھکا گیا کچھ پل خاموشی کے بعد شور مچ گیا.” شہزادی نمزا ! بغیر زیورات کے ! اے میرے مالک یہ کیا !! ایسی باتوں کو سُنتا اسنے سر اُٹھایا تو سناش اپنی کُرسی سے اُٹھ کھڑا تھا اسنے گردن گھما کر دیکھا تو گہرا سانس لیا ” اب یہ کیا نیا ڈرامہ ہے ! سفید گاون پہنے کھُلے بال سرمے لالی سے عاری چہرا آج تو ناک میں نتھ بھی موجود نہیں تھی آنکھیں سوجی اور پہلی بار وہ بغیر کسی زیور کے دربار کے مرد خانے میں کھڑی تھی اسکی حالت دیکھ کر سناش نے غُصے سے زمر کو دیکھا تھا ضامن نے دوبارہ اسے مارنا چاہا مگر اس بار اسنے ہاتھ بہت قریب سے پکڑ لیا ” میں چپ تھا کیونکہ مجھے عزتوں کا پاس تھا مگر مجھے اب کسی کی فکر نہیں پوچھو اپنی بہن سے کونسا نیا الزام لگانے آیی ہے !”اسنے ضامن کا ہاتھ جھٹک دیا . ” نمزا اب کیا ہوا ؟” سناش نے انتہائی تھکے لہجے میں پوچھا ” ہہ…..ہمیں کچھ اعتراف کر کرنا ہے ابا جان !آنسو ایک بار پھر بہنے لگے تھے مگر اب وہ زمر کے لیے بے مول تھے .” کک…کیسا اعتراف ؟ ” جنابِ زمر ….بب….بے گناہ تھے انھوں ہمارے ساتھ کک…..کبھی کچھ نہیں کیا تھا…..” الفاظ تھے یہ دربار میں بجلی گر گئی تھی پورا دربار کھڑا ہوگیا تھا .زمر نے بے بس سی ہنسی سے رُخ پھیر لیا ” اصل میں ہم ان سے نکاح کرنا ہی نہیں چاہتے تھے مگر ابا جان کی خاطر ہم نے ہاں کردی اور پہلی رات ہم نے جنابِ زمر سے یہ تقاضا کیا تھا کہ ہمیں چھوڑ کر محل سے بھاگ جائیں تاکہ ہم سب سے کہہ سکیں وہ ہمیں چھوڑ کر بھاگ وہ غلط ہیں حقیقت میں ہم اپنی زندگی میں کسی مرد کی حکومت نہیں چاہتے تھے اسلیے ہم اب تک جنابِ زمر جو بھی الزام لگائے تھے وہ سب جھوٹے تھے وہ کبھی بھی ایسے نہیں تھے وہ بہت ……اچھے ہیں نہ انھوں ہمیں کبھی ہماری مرضی بغیر چھوا اور نہ ہمیں تکلیف دی ہمیں معاف کردیں ابا جان !!! وہ ٹوٹ ہی تو رہی تھی اپنا وزن اُٹھانا بھی مشکل لگ رہا تھا .سناش تو کُرسی پر گر گیا تھا فاریہ طلسم زرمیش سب کے ہاتھ منہ پر آگئے تھے ضامن کے اپنے بازو ٹوٹ کر گر رہے تھے .” میں جانتی تھی میرا بیٹا ایسا کچھ نہیں کرسکتا ! طلسم اسکے قریب آئی پیار سے ہاتھ اسکی گال پر رکھا جو اسنے نامحسوس انداز سے ہٹا دیا ” اب یاد آیا کہ میرا زمر کیسا ہے پہلے تو سب مجھے گناہ گار کہہ رہے تھے مام آپ بلیو کرسکتی ہو مجھے کتنا ہرٹ ہوا تھا میرے اپنے والدین مجھ پر یقین نہیں کررہے تھے سوائے میری بہن کے جو ہر پل میرے ساتھ رہی ورنہ آپ نے تو آج مجھے جھوٹا تک کہہ دیا …” اسکا گلہ حق تھا اسیر کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کا سامنا کیسے کرے سناش کا ضبط جواب دے رہا تھا اسکی پرورش آج اسکے اپنے دربار میں نیلام.ہوئی تھی وہ غُصے سے اسکی جانب بڑھ رہا تھا اسکے یہ تیور زمر کے نظروں میں بھی آگئے تھے ” ہم نے آپکی کی پرورش تربیت سیکھ یہ تو نہیں کی تھی آپ بچپن سے ضدی تھیں اور غلط تھے ہم جو اپکی ہر ضد کی پیروی کرتے رہے اور آج اسکا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں ! ” آ….آبا جان غ..غلطی ہوگئی معا…..مگر اس سے پہلے سناش کا ہاتھ اُٹھ گیا اسنے آنکھیں میچ لیں مگر کچھ نہ ہونے پر اسنے آنکھیں نہ کھولیں تو وہ بیچ کھڑا تھا آج پھر اسنے سب کے سامنے زلیل ہوکر تھپڑ کھا کر اسکی عزت رکھ لی تھی “زمر !سناش نے افسوس سے اسے دیکھا ” بابا آپ نے سیکھایا تھا مرد وہ ہوتا جو اپنی ماں بہن اور بیوی کی عزت رکھتا ہے میں کیسے برداشت کرلیتا کہ بھری محفل میں میری بیوی پر ہاتھ اُٹھایا جاتا اور ہاتھ اسلیے نہیں پکڑا کہ اس سناش انکل بے عزتی ہوتی ….” وہ پتھر کا بُت بنے اسے سن رہی تھی آخر ضبط ٹوٹا تو اسکے پیروں میں ہی گر گئی ” ہم اسی لائق ہمیں معاف جنابِ زمر ہمیں !!! وہ اسکے قدموں رو رہی تھی مگر وہ رُخ موڑ کر چلا گیا “زمر ! فاریہ نے اسے پکارہ مگر وہ نہیں رُکا ” آپ کی بیٹی مجھے کھو چکی ہے !” بنا مُڑے ہر رشتہ ختم کرگیا تھا .وہ وہیں روتی رہی اسے سنبھالتا بھی تو کیوں سب تو خود زمر سے شرمندہ تھے جو ناجانے کہا چلا گیا تھا کہاں گیا وہ؟ کون؟ جو ہنستا تھا تو لگتا تھا امن کا فرشتہ ہے کون؟ وہ جسکی آنکھیں پورے چاند جیسی تھیں !کون ؟ وہ جو اتنا نرم تھا کہ محبت بچھ جانے والا تھا وہ ….وہ تو ختم ہوگیا ہے اب جو ہے ویرانی کا سامان ہے ………زرمیش نے ایک افسوس بھری نظر سے سب کو دیکھا اور اس کے پیچھے چل دی .ہر جگہ دیکھنے کے بعد وہ اسے وہاں ملا تھا جہاں اسنے نمزا کو پہلی بار دیکھا تھا ” بھائی ! ” یہی ہے وہ جگہ جہاں سے میری سزا شروع ہوئی تھی اور دیکھو ایک ایک حرف سچ ہوا نازنین کی بددعا کا ” “بھائی !! اسنے تڑپ کر اسے گلے لگایا مگر اسکی آنکھیں پتھر تھیں سو رہی “میں تھک گیا باربی میں تھک گیا میں نے سوچا تھا کہ نمزا اور میرا رشتہ جیسا بھی میں اسے کبھی ظاہر نہیں ہونے دوں مگر اسنے ریپسٹ کہا اور میں خود کو سمجھ بھی بیٹھا میں پل پل مر رہا تھا کہ میں نے ایک لڑکی کے ساتھ نشے یہ سب اتنا بدتر سلوک ……پر اسنے بتایا میں نے کچھ نہیں کیا وہ مجھے کہتی بھاگ جاو اپنی عزت داؤ پر لگاو اور بھاگ جاو بھگوڑا بن جاؤ میں نہیں مانا سب برداشت کیا مگر ریپسٹ تم بتاؤ تمہارا بھائی ریپسٹ ہوسکتا ہے …..” وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی ” میرا بھائی پرنس چارمنگ تھا ہے اور رہے گا …..” ” جس کی قسمت میں پرنسسز نہیں بلیک وِچ آگئی ! وہ بے بسی سے ہنس دیا تھا زرمیش صرف اسکا چہرا دیکھتی رہ گئی . وہ کب سے فاریہ کی گود میں سر رکھے رو رہی تھی ایک لمحہ نہیں گُزرا تھا کہ آنکھ نے کھارا پانی نہ گرایا ہو ” ہمیں معاف کردیں امی جان ہم اپنی ضد میں کبیرا گناہ کر چکے ہیں ہمیں معاف کردیں …..” اسنے گال سے آنسو رگڑ کر فاریہ کو دیکھا ” امی …امی آپ کہیں نے جنابِ زمر سے ہمیں مت چھوڑیں ہم ان سے بہت محبت کرتے ہم مر جائیں گے انکے بغیر ……آنسو کہاں رُک رہے تھے فاریہ کب سے اسکی یہ حالت دیکھ رہی تھی نہ تو اسکی آنکھوں میں غُصہ تھا نہ ہی ترس اسنے نمزا کا سر اپنی گود سے اُٹھایا ” تم اسی لائق ہو میں کس منہ سے بات کروں اس سے تم نے ہمیں شرمندہ ہی اس قدر کر دیا ہے کہ ہم کبھی بھی اسکے سامنے نظر اُٹھا نہیں پائیں گے .ہم زمر سے کچھ نہیں تمہیں کسی مرد کا ساتھ نہیں چاہیے تھا نہ اب تم ترسو اسکی محبت کے لیے …..! وہ اُٹھ کر چلی گئی وہ وہیں بستر میں منہ دیے رو رہی تھی . طلسم اور اسیر کے درمیان ایک گہری خاموشی حائل ہوگئی تھی انکی اولاد کے لیے لیا انکا یہ فیصلہ اتنا غلط ثابت ہوگا نمزا ایسی ہوگی …” ہم واپس چلے جائیں گے ہاں …..ہم واپس چلے جائیں گے نہ زرمیش ہم سے دور ہوگی نہ میرا بیٹا مجھ سے ناراض ہوگا ہاں…؟سب پہلے جیسا ہوجائے گا وہ پھر سے ہنسنے لگے گا ہم نمزا کو یہی چھوڑ جائیں گے زمر کا دوسرا نکاح کردیں گے اپنے بیٹے پر پورا یقیں کریں گے…….” اسیر نے ایک ھیرت انگیز نظر طلسم پر ڈالی جو خود سے باتیں کر رہی تھی .طلسم ! وہ اسکے پاس آکر بیٹھ گیا اسکا ہاتھ پکڑا ” اسیر ہم چلیں جائیں گے اپنی دنیا واپس ہم نہیں رہے گے میں اپنے بیٹے کو کھونا نہیں چاہتی پلیز اسیر واپس چلتے ہیں ! ” تم ٹھیک کہہ رہی ہو ہم چلیں گے اسی واپس نہیں چاہتا تھا …..! ” بھائی میں جانتی آپکے ساتھ جو کچھ بھی وہ سہی نہیں ہوا پر آپکو مام بابا سے ایسے ناراض نہیں چاہیے جیسے آپ کو لگا کہ آپکے ہاتھوں وہ سب ہوا اور اپ نے بول دیا مام بابا کو بھی ویسے ہی لگا …” وہ دونوں پُل پر بیٹھیں تھی وہ نیلے پانی میں ناجانے کس کا عکس ڈھونڈ رہا تھا .” میں کسے ناراض نہیں ہوں بس ابھی کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا اسلیے پلیز جاو ابھی مجھے اکیلا چھوڑ دو ! وہ اسکی سچویشن سمجھتی تھی اسلیے اسلیے چپ چاپ چلی گئی وہ نظر آرہی تھی پانی میں اسی جگہ میز پر اپنی مخروطی انگلیوں سے کاغذ پر لکھتے ہوئے …

درد منداں نو درد ستاوے بے درداں نو یاد نہ آوے …. کیسے گُزرے غم کے موسم … اپنی ہستی آپ مٹاوے….. رویا جیسے بن آنسوں کے یہ دل ہو … ایسے بیتے لمحات …. کھویا جیسے سب زندگی کا حاصل ہو … جینا لگے سزا ….ویچھوڑا کی بلا اے… وے تینوں کی پتہ اے…… وہ اب بھی بستر میں منہ دیے رونے میں مشغول تھی جب کسی نے اسکے بالوں کو چھوا وہ سر اٹھایا تو مخملی قالین پر وہ اسکے ساتھ بیٹھا تھا . ” جنابِ زمر ! ” ” اتنا کیوں رہی ہو اب کیا فائدہ میں واپس تو نہیں آوں گا تم نے کھو دیا میں تو تمہیں محبت دیتا رہا مگر تم مجھے توڑتی رہی اب تو میں جارہا ہوں بہت دور تمہیں چھوڑ کر …..اسکی باتیں سُن کر نفی میں سر ہلا رہی تھی پر وہ تو سیراب تھا جو غائب ہوگیا وہ اکیلی تھی سو ہے ……

تنہایوں میں تنہا نہ چھوڑیں

یادوں کا تیری سلسلہ ..

. بے چینیوں کو آواز دے کر….

اپنے بناؤ کیسے بھلا

نہ دے جدائی آجا وے ماہی

تکدی پھرا تیرا راہ ۔۔۔

کافی دیر ہر پہلو پر سوچنے کے بعد اسیر غفران کے پاس بیٹھا تھا .” کیا تم لوگ چاند کے زریعے سے نہیں آئے تھے ! ” ہاں زرمیش نے جاودات کی تصویر بنائی تھی اسی کے زریعے ہم واپس آیے تھے اب بتائیں ہم وہاں کیسے جاسکتے ہیں .” ” مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ سب…..” ” تو کیا مطلب ہم واپس جائیں گے جاودات کوئی تصویر نہیں ہے اسلیے تم لوگ ابھی واپس نہیں جاسکتے ….” ” ہم واپس جا بھی نہیں رہے ! ان دونوں نے ایک ساتھ پیچھے دیکھا وہ نارمل لگ رہا تھا فریش مگر مسکراہٹ کہیں کھو سی گئی تھی . ” زمر ! اسیر ھسرت بھری نظروں سے اسے دیکھا ” بابا ہم یہاں کیوں آئے تھے ؟ ” زر …زرمیش کے لیے….! ” تو کیا وہ مقصد پورا ہوگیا غفران انکل آپکو امبر پارہ اور جاودات کی پوری کہانی پتہ ہے .” وہ ایک عجیب مخلوق تھی کیسے آئی کہاں سے آئی کسی کو کچھ بھی پتہ نہیں ضامن اور زرمیش امبر پارہ اور جاودات ہیں یہ بات ان دونوں کو بھی نہیں معلوم ….” لیکن جتنا ابھی تک میں نے محسوس کیا ہے زرمیش اور ضامن کافی قریب آگئے ” زمر ایک نقطے کو گھورتے ہوئے سوچ رہا تھا . ایک دن اتنی خاموشی سے گزر گیا تھا جیسے محل سوگ میں ہو کوئی بھی ایک دوسرے سے بات نہیں کررہا تھا زمر اپنے آپ کو پُرسکون دکھا رہا تھا نمزا فاریہ طلسم اپنے کمروں میں قید تھیں وہ ایسے ضامن اور زرمیش کی ھرکات دیکھ رہا تھا کہ جیسے اس سے ضروری کام ہی کوئی نہیں نمزا اور شاید خود تو وہ بھول ہی گیا تھا ان چوبیس گھینٹوں میں محل کے ایک فرد کجا راجہ نے بھی اس سے نظر اُٹھا کر بات نہیں کی تھی اب بھی وہ غفران اور کے ہُجرے کے سامنے سے گزر رہا تھا جب اسنے ان دونوں کی باتیں سنی تو اندر آگیا . “وہ دونوں ایک دوسرے کی بات سُنے لگے ہیں اور ناراض ہوں تو منانے کوشش کرتے ہیں ….”وہ یہ باتیں سوچ رہا تھا جب اسیر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ” تم ٹھیک ہو زمر ؟ ” مجھے کیا ہوا تھا بابا میں بلکل ٹھیک ہوں ……” ” مجھے معاف کردو مجھے نہیں پتا تھا یہ فیصلہ اتنا غلط ثابت ہوگا نمزا….” ” کون نمزا ؟اسنے سوالیہ نگاہوں سے اسیر کو دیکھا تو شاک رہ گیا . ” زمر ! …..” نہیں جانتا کسی کو بھی بس اتنا پتہ ہے کہ اب صرف زرمیش کو اسکی حقیقت لُٹانی ہے مگر اس سے پہلے مجھے ضامن کو اچھی طرح ایگزیمن کرنا ہے!!!! سوچتا وہ اُٹھ کر چلا گیا سامنے سے کنیز ہاتھوں میں تھال لیے آرہی تھی ” کوئی بھی نہیں کھارہا ہم یہاں پکوان کیوں بنا رہے ہیں پھر !!! وہ طلسم کا کمرا تھا اندر وہ بُجھے دل کے ساتھ بیڈ کرؤن کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی . ” مام !!اسنے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا ” زمر ! “ہلکی سی مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئی . ” مام آپ نے کھانا کیوں نہیں کھایا ؟”اسکے ہاتھوں میں کھانے کی تھال تھی .” زمر تم مجھ سے ناراض نہیں ہو نہ ؟” وہ اسکے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گیا ” میں کسی سے بھی ناراض نہیں ہوں بس تب کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا .” اسنے لقمہ بنا کر اسکی جانب کیا جو اسنے خاموشی سے کھا لیا ” مجھے معاف کردو مجھے تم پر یقین کرنا چاہیے تھا ؟” ” جو ھالات بنے کوئی بھی نہیں کرتا !” بات کرتے وہ طلسم کی انگلیوں کی کاروائی دیکھ رہا تھا جو لقمہ بنانے کی تغ و دو میں تھیں اسنے جاموشی کھا لیا .” اب اسے کھایں اور مت سوچیں کہ میں اپ سے ناراض ہوں اوکے ٹیک کئیر ! طلسم کو سکون کا سانس آیا وہ مُڑا ہی تھا جب اسیر پر نظر پڑی وہ مسکرا کر اسکے پاس گیا ” میں ٹھیک ہوں بڈی ! اسنے ہنس کر کہا اسیر نے فوراً اسے گلے لگایا .” آئم سوری ! مگر ہم اسے سہی کریں گے انکے کندھے پر ہاتھ رکھا اثبات میں سر ہلایا مگر جواب کوئی نہیں دیا . زرمیش اداسی جھولے پر بیٹھی تھی آس پاس گجومتی تتلیاں پھول جگنو بھی اسکے چہرے پر مسکراہٹ نہ لا سکے تھے .. ” پھولوں کا تاروں کا … سب کہنا ہے ….. ایک ہزاروں …. میری بہنا …..”مدھم آواز میں گاتا اسے جھولا جھلانے لگا تھا ” بھائی ! اسنے چہک کر پیچھے دیکھا تو وہ مُسکرا رہا تھا .” بھائی آپ ٹھیک ہو ؟ ” او یار مجھ میں کیا ٹرک لگ گیا ہے جو ٹھیک ہو ٹھیک ہو پوچھ رہے ہو میں ٹھیک ہو اور تم نہ اُداس چہرے کے ساتھ بونگی لگتی ہو ….” اسنے دو انگلیوں کے ساتھ اسکے ہونٹوں کو سمائیلی کا لُک دیا…” ویری گُڈ اب یہ سڑی بھنڈی جیسا فیس مت بنانا …….” سناش اور فاریہ دونوں ہی اپنی آرام گاہ میں اُداس بیٹھے تھے انکی بیٹی نے انھیں سب کے سامنے شرمندہ کیا تھا .راجہ شہزادے زمر آپ سے ملنا چاہتے ہیں !سپاہی کے پیغام پر انھوں نے حیرے سے ایک دوسرے کو دیکھا ” اجازت ہے !وہ اندر آیا تو پہلے سے کافی بہتر لگ رہا تھا ” راجہ اور رانی شہر کے نظام سے کام چوری برت رہے ہیں شہر سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گُزارا جا رہا ہے …..” ان دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا ” زمر ہم شرمندہ ہیں جو نمزا نے آپ کے ساتھ کیا ! فاریہ کا سر پھر جھُک گیا تھا ” آپ کیوں شرمندہ میں نے آپ سے کچھ کہا نہیں نہ تو پھر پریشان نہ ہوں میں بلکل ٹھیک ہوں اور مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے…” ” نمزا سے بھی ! فاریہ کے پٹ جواب پر وہ کچھ لمحے کے ہونٹ سُکیڑ گیا .سناش نے ایک ناگوار نظر فاریہ پر ڈالی پھر آگے بھڑ کر زمر کے کندھے پر ہاتھ رکھا ” ہمیں دیکھ کر اچھا لگا کہ آپ ٹھیک ہیں ” اسنے مسکرا کر سناش کو دیکھا ” اب انکل آپ باہر نکلیں اس شرمندگی سے وہ شہر پر توجہ دیں اور ہاں آنٹی کچھ اچھا بنوا لیں بہت بھوک لگی ہے….” ” ہم ابھی بنواتے ہیں ! اسے دیکھ کر وہ دونوں خوش ہوگئے تھے اسکے جانے کے بعد سناش فاریہ کی طرف مُڑا ” نمزا کو اسکی سزا بھگتنے دو ! وہ چپ چاپ باہر چلی گئی . ضامن شیر کے بچوں کو گھورتے ناجانے کہاں کھویا تھا ” اہم ! اہم ! اپنے قریب یہ آواز سُن کر وہ لچھ حیران ہوا ” کہاں دھیان ہے شہزادے سامنے بچے لڑ رہے ہیں ! اسنے سامنے دیکھا تو ایک دوسرے کے اوپر چڑھا تھا اسنے پکڑ کر دونوں کو الگ الگ پنجروں میں بند کردیا ” وہ ہم پریشان تھے آپ کی وجہ سے ؟ ” ہم کیا چھوٹے بچے ہیں جو آپکو شرارتوں سے تنگ کرتے ہیں!!!! اسنے گلہ آمیز نظروں سے اسے دیکھا. ” نہیں اصل میں ہم اسلیے پریشان جو سلوک ہم نے آپ کے ساتھ کیا ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا .مگر ہم کیا کرتے جب ہم نے نمزا کہ وہ …… ” ہمیں آپ سے کوئی گلہ نہیں آپ شرمندہ مت ہوں !!!اسکا نام تو جیسے وہ سُنا ہی نہیں چاہتا تھا .” مگر آپ کا ظرف کتنا بڑھا ہے کتنی آسانی سے آپ نے ہمیں معاف کردیا …” ” حالات ضامن حالات انسان اچھا یا بُرا نہیں ہوتا حالات اچھے یا بُرے ہوتے ہیں وہ جو کچھ بھی ہوا وہ صرف بُرے حالات تھےکسی کا بھی ردِ عمل وہی ہوتا تو اسلیے تم فکر مند نہ ہو اور ان پر توجہ دو ورنہ تمہارا یہ زوو!! میرا مطلب شوق ایک دوسرے کو کھا جائے گا ……! اس بات پر وہ دونوں ہنس دیے تھے . وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی اپنے بے رنگ وجود کو دیکھتے ہوئے زیورات کے بغیر اُداس چہرا سوجھی آنکھیں اُلجھے بال کوئی یہ کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ شہزادی نمزا ہے اچانک اسے اپنی کمر کے گرد حصار بندھتا ہوا اسے پیچھے سے اپنے ساتھ لگائے ٹھوڑی اسکے کندھے پر رکھ دی ” یہ کیا حالت بنائی ہے تم نے !وہ حیرت سے اسکی جانب مُڑی ” جنابِ زمر ! وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا اسکے گال کو چھونے لگی مگر وہ ریت کے زروں کی طرح بکھرتا اُڑتا چلا گیا اور غائب ہوگیا ” جناب ِ زمر !جنابِ زمر ! ایک وہی تھی جسکے پاس وہ نہیں آیا تھا جو اسکے سیرابوں سے جونج رہی تھی آنسو پھر کسی آبشار کی طرح بہنے لگے ….”ہمیں مت چھوڑیں ! محل میں سرگوشیاں لوٹ آئیں تھیں اسنے سب کو اکٹھا کر لیا تھا اسیر سناش سے کوئی بات نہیں کررہا تھا مگر زمر نے انکی صُلح بھی کروا دی تھی ان سب میں انکا کیا قصور تھا .وہ سکون سے کھا رہا تھا اسے بھوک بھی لگی تھی مگر نوالے حلق میں پھنس رہے تھے ۔” رانی شہزادی نے کھانے سے انکار کردیا ہے ! کنیز کی خبر پر منہ کو جاتا نوالہ تھم سا گیا تھا ” نوالے جب حلق میں پھسنے لگے تو کوئی بہت اپنا بھوکا ہے ! کہیں پڑھا تھا اور کہاں یاد آیا تھا مگر وہ کڑوے گھونٹ کی طرح اسے نگل ہی گیا ۔فاریہ نے حسرت سے زمر کو دیکھا اسکی نظروں کا سوال وہ سمجھتا تھا مگر نظر انداز کر گیا وہ آنکھیں موندیں تھکی پلکوں کو تسکین دے رہا تھا نیند تو روٹھ بیٹھی تھی اسے وحشت ہونے لگی تھی چاند کی ٹھنڈی روشنی سے چند موم بتی جلائے پردے گرائے وہ ہر طرف سیاہی پھیلائے لیٹا تھا محبت اتنی خود غرض ہوتی ہے نہ کہ مار بھی دو دفن بھی کردو تو ناجانے کہاں سے سانس لیتی ہے کہ زندہ رہتی ہے وہ بھوکی تھی دو دن سے مگر وہ اسی لائک ہے میں کیوں جاؤں مجھے تو کبھی اپنا نہیں مانا مجھے کیا ۔۔۔دائیں جانب کروٹ لی ” مگر معافی بھی تو مانگی تھی سب کے سامنے اعتراف کیا تھا پر اتنی جلدی معاف کیوں کرو اسے ترسنے دے مجھے اب اس سے کوئی غرض نہیں کھانا پینا چھوڑے گی تو مر ہی جائے گی مر جائے گی ! وہ ایک دم اُٹھا باہر آیا ” بات سُنے ! اسنے سپاہی کو بلایا ” کنیز سے کہیں کھانے کا تھال لیکر شہزادی نمزا کے پاس جائیں اور انھیں کہیں کہ شہزادے زمر نے کہا ہے کہ کھانا کھائیں ۔۔۔۔!! وہ اثبات میں سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا ۔