Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 21
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
پورے دربار میں چہ مگوئیاں شروع تھیں کہ آخر یہ عجیب وغریب مخلوق کہاں سے آگئی ہے !” ادم سر جھکائے سب کے سامنے کھڑا تھا ” بتاؤ آدم کیا جواب ہے تمہارے پاس لوگوں کا کہنا ہے اس مخلوق کو تمہارے گھر سے نکلتا دیکھا گیا ہے ؟”
“ راجہ یہ مسافر تھے رات گزارنے کے لیے پناہ ڈھونڈ رہے تھے انھیں پناہ دی تھی ہم نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہیں مگر راجہ ان کے۔۔۔۔۔۔پھر سوچ میں پڑ گیا ” زمر اور نمزا کا انھیں بتا دیا تو یہ انھیں زندان میں ڈال دیں گے انکا تو کوئی قصور نہیں وہ تو انھیں بھی نہیں پہچانتے …..” بس یہی دونوں تھے راجہ وہ دونوں کیا آفات تھیں نہیں جانتے !!” وہ پھر سر جھکا گیا صیاد تب سے چور ہنسی ہنس رہا تھا اب دیکھتے ہیں بھائی جان آدم کو اس غلطی کی کیا سزا دیتے ہیں ” راجہ آدم سے غلطی ہوگئی ہے بغیر تفشیش کے اسنے ان آفات کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی اسے سزا ملنی چاہیے قانون کے مطابق پانچ کوڑے اور تین دن زندان ! راجہ سمیت سب نے حیرت سے صیاد کو دیکھا ” راجہ مانا آدم نے انھیں اپنے گھر میں پناہ دی تھی مگر وہ اس بات سے بلکل انجان تھے کہ وہ کیا ہیں وہ انھیں عام انسانی روپ میں ہی ملے تھے اور اس مخلوق نے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ وہ تو نہایت خوبصورت اور معصوم مخلوق لگتی ہے ۔۔۔!” خزانچی براق نے فوراً آدم کا ساتھ دیا تھا ۔” ہمیں بھی یہی لگتا ہے آدم کا اس میں قصور نہیں !! زبانوں کے ساتھ زبانیں آدم کے حق میں بولنے لگی تھی راجہ خود اس بات سے سہمت تھا ” آدم کیا وہ مخلوق خطرناک ہے” راجہ کے سوال پر غار میں ہونے والا ایک ایک عمل۔یاد آگیا تھا ” جی ۔۔۔راجہ مگر صرف تب جب انکے معاملات میں کوئی دخل کرے یا انھیں کسی سے خطرہ محسوس ہو عام طور پر وہ کسی کو کچھ نہیں کہتے !” راجہ نے اثبات میں سر ہلا دیا ” تو ٹھیک ہے آدم خیال رکھیے گا کہیں یہ مخلوق شہرِ سحر کے لیے خطرا نہ بنے !!! اثبات میں سر ہلاتا وہ وہاں سے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ طلسم بولو سن۔۔۔اش۔۔۔سناش !!!! سناش ایک سال کی طلسم کو اپنے نام لینا سکھا رہا تھا جو اس سے چار سال چھوٹی تھی اپنی موٹی گول گول آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ” ام۔۔۔۔ام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ زبان سے بس ام ہی نکال رہی تھی ۔ ” ام نہیں سناش سناش بولیں !!! وہ اسے تنبیہ کررہا تھا جب اسنے رونا شروع کردیا ” ارے آپ تو کیوں رہی ہیں آپ جانتی ہیں نہ ہم سے آپکا رونا برداشت نہیں ہوتا تائی جان تائی جان !!! وہ رانی کو آوازیں دینے لگا تھا ۔وہ اندر آئی تو سناش بھی رو رہا تھا ” ارے سناش آپ کیوں رونے لگے ؟”
“ تائی ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے جب طلسم روتی ہیں !! اپنے چہرے سے آنسو صاف کرتا وہ طلسم کو دیکھ رہا تھا ” اچھا آپ کو تکلیف کیوں ہوتی ہے !!”
“ کیونکہ ہمیں ان سے بہت محبت ہے نہ جس سے محبت کو انکی تکلیف سے تو تکلیف ہوتی ہے نہ تائی جان انھیں ہوا کیا ہے ؟”
“ انھوں نے کپڑے گیلے کر لیے تھے !! رانی سناش کے سامنے کی طلسم کے کپڑے تبدیل کرنے لگی تھی جب وہ چہرے پر ہاتھ رکھتا مُڑ گیا ” تائی جان ہم جاتے ہیں !!! اور بھاگ گیا پیچھے رانی کھلکھلا کر ہنس دی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاودات ( ضامن ) اور امبر پارہ ( زرمیش ) دونوں نفاس جھیل کے قریب ایک دوسرے مگن تھے وہ کبھی سے اسے قابو میں کیے ہوئے تھے پشت پر بندھے اسکے ہاتھ مسلسل پھڑپھڑا رہے تھے اسکے چہرا پر کوئی ایسی پانی کی بوند نہیں پڑی تھی جو اسنے پی نہ ہو ” جاودات ! آخر تنگ آکر اسکا نام لیا وہ نرمی سے دور ہوا اور سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا جیسے یہ خلل اسے بلکل پسند نہیں آیا تھا ” بس کردیں آپ تھکتے نہیں !! ” اسنے اسے زور سے گلے لگایا ” کبھی محبت کرنے میں بھی تھکا وٹ ہوئی ہے !”وہ ساتھ ساتھ اسکے پروں پر موجود پنکھوں کو دیکھ رہا تھا کومل نرم اور ان سے اُٹھتی خوشبو وہ یہ لمحہ کھونا ہی نہیں چاہتا ” جاودات آپ ہم سے کتنا پیار کرتے ہیں؟”
“ جب ہم کرتے ہیں تب آپ کہتی کیا آپ تھکتے نہیں !” معصوم سے چہرا بنائے وہ اسے دیکھ رہا تھا امبر پارہ نے وہ چہرا ہاتھوں میں تھام لیا ” اگر کبھی ہم الگ ہوگئے تو !” جاودات کے چہرے کی ہنسی غائب ہوگئی تھی اسکا جسم انگاروں کی طرح دہکنے لگا تھا آنکھیں لہو چھلکا نے لگی تھیں ” میں سب ختم کر دوں گا !!! اسنے ہاتھ اٹھایا اور نفاس باغ میں موجود کئی درختوں کو آگ لگ گئی تھی ! امبر پارہ کا تو روم روم کانپ اُٹھا تھا اسنے ایکدم اسے گلے لگایا ” نہیں ہم کبھی جُدا ہونگے کبھی نہیں ہمیشہ ساتھ رہے گے !!! وہ اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھو رہی تھی وہ شانت ہوگیا تھا ” آئندہ ایسی بات کبھی مت کرنا تمہارے بغیر میں میں نہیں رہوں گا ماند پڑ جاؤں گا ! اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ایک بار پھر وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن ہوگئے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ دیکھیں زمر آپ نے ہمیں سب بتایا تو یہ آپکو کیسے نہیں پتا تھا کہ وہ لڑکی اور لڑکی انسان نہیں ہے !”
“ جناب ِ آدم ہم نے مسقبل میں بزرگوں سے امبر پارہ اور جاودات کے بارے میں سنا ضرور تھا مگر ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ سب ایسے ہوگا ہمیں یہ ضرور پتا تھا کہ ضامن اور زرمیش امبر پارہ جاودات ہیں مگر ماضی میں آکر وہ دونوں ایسے ہمیں تو خود سمجھ نہیں آرہا آپکو کیسے سمجھائیں !” رات گئے وہ تینوں ایک ساتھ موجود تھے ۔
“ مگر زمر آپ نہیں جانتے یہ سب کچھ اتنا اچانک ہورہا ہے کہ ہمیں کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہے !! ادم صبح دربار میں ہونے والی باتوں کی بارے میں سوچ رہا تھا جو وہ انھیں بتا چکا تھا نمزا قہوہ لینے چلی گئی تھی ” مگر دادا جان ۔۔۔۔۔۔
“ زمر ہمیں دادا جان نہ کہا کریں ابھی تو ہمیں ابا جان کہنے والا نہیں آیا اور آپ ہاہاہاہا !!” ادم کی بات اور لہجے پر پہلے تو زمر حیران رہ گیا تھا پھر ہنس دیا ” چلیں دیکھتے وقت آگے کیا دیکھاتا ہے اور سُنے آج پورے چاند کی رات ہے کال جنگل میں ایک دیو ہیکل رہتا ہے ہر پورے چاند کی رات ہو شہر میں کسی بھی پہر اجاتا ہے وہ کال ہے وہ اندھا ہےبر کوشش کرنا اسکے کانوں میں کوئی آواز نہ جائے اگر اسنے آواز سن لی تو وہ اس باشندے کو اٹھا لیجاتا ہے رات اختیاط سے گزارنا کوئی بھی حرکت یا آواز سنائی دے تو کوئی ردِ عمل نہیں کچھ نہیں میں نے اس دیو کو ختم کرنے کی بہت کوشش مگر اس پر ہر جادو غیر اثر جاتا وہ دیکھنے میں بہت بھیانک ہے !!” زمر اسکی بات نہایت توجہ سے سُن رہا تھا ۔
نمزا بستر پر تھی زمر پاس پڑے صوفے پر کروٹیں بدل۔رہا تھا جب کسی زور دار گرج کی آواز آئی زمیں ایسے ہلی جیسے زلزلہ آگیا ہو وہ بھاری قدم زمیں پر زلزلہ پیدا کررہے تھے وہ ایکدم اُٹھا تو کھڑکی کے باہر لمبا چوڑا بھدا سا دیو کھڑا تھا وہ چند لمحے تو اسے گھورتا رہا پھر یاد آنے پر بیڈ کی جانب دیکھا آنکھوں کی دھندلاہٹ ہٹا کر اسنے کھڑکی سے باہر دیکھا تو سانس ساکن چیخنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا جب زمر نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور اس پر جھک گیا وہ شاکی نظروں سے اپنے اوپر موجود زمر کو دیکھ رہی تھی جو نفی میں سر ہلا رہا تھا اسنے خود کو اور اسے کمبل میں چھپا لیا تھا بھاری قدموں کی دھمک پوری زمین ہلا رہی تھی اور وہ آنکھیں سانس سب بند کیے زمر سے چپکی تھی کچھ دیر بعد زمر نے کمبل ہٹایا تو کھڑکی میں کوئی نہیں تھا وہ اُٹھنے لگا تو اسنے روک لیا ” مم….مت جائیں مجھے ڈر لگ رہا ! زمر نے ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھا پھر اپنے گریبان پر موجود اسکے ہاتھوں کو جو اسنے فوراً چھوڑ دیا ” وہ چلا گیا ہے چپ چاپ سو جاو ! نمزا گہری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ پھراُٹھنے لگا اسنے پھرروک لیا” ہمیں آپکی محبت چاہیے آپ ہم سے محبت نہیں کرسکتے ! زمر چند لمحے تو اس دیکھتا پھر آخر اُٹھ گئی اور وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھتی رہ گئی ” تم میری محبت کے قربت کے اور میرے قابل نہیں نمزا تم سے نرمی سے پیش آتا ہوں تو تمہیں لگتا ہے تم سے محبت ہے مجھے تمہیں بھول گیا ہو تو دیا دلا دوں میں تمہیں دھتکار چکا ہوں اور دھتکاری ہوئی چیزوں کو محبت نہیں کی جاتی ان پر ترس آجاتا ہے جو.میں تم پر کھاتا ہوں اور کچھ نہیں ….” اسکے الفاظ ختم ہونے تک نمزا کا سب کچھ ختم ہوگیا تھا وہ صوفے پر کروٹ بدل کر لیٹ گیا چند لمحے تو رونے میں صرف ہوگئے پھر اُٹھی اور باہر کی جانب چل دی دروازہ کُھلنے کی آواز سے وہ پلٹا تو اسکی پشت نظر ” نمزا ! مگر وہ سُنی ان سُنی کرکے چل دی وہ اسکے پیچھے بھاگا وہ گھر سے نکل چکی تھی راستوں پر ڈھونڈتی وہ پھر رہی تھی آخر اسے وہ دیو نظر آہی گیا وہ چیخنے لگی تبھی اسکے منہ پر کسی نے ہاتھ رکھ دیا وہ لال انگار چہرا لیے اسے گھور رہا تھا مگر آج تو جیسے پرانی نمزا لوٹ آئی تھی کھینچ کر ہاتھ ہٹا دیا پھر کچھ بولنے لگی پھر منہ پر ہاتھ رکھے اسکے کان کے قریب ہوگیا ” حلق سے ایک لفظ بھی نکلا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا .” اسکا ہاتھ کھینچتا واپس لایا دروازہ بند کرتے ہی اسے بھی دروازے لگا لیا ” یہ کیا تھا!نمزا نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے دور کیا ” آپ ہوتے کون ہیں ہم سے یہ پوچھنے والے ! لہجہ زمر کو کہیں پیچھے نکاح کی پہلی رات میں لے گیا تھا ” کیوں پوچھ رہیں ہیں آپ ہم سے یہ سب کچھ نہیں لگتی نہ آپکی دھتکار چکے ہیں آپ ہمیں اب میں جیو یا مرو کیا فرق پڑتا ہے آپکو مرنے دیں مجھے وہ نگل جائے گا نہ تو اچھا آپکا رویہ ہر روز ہمیں تھوڑا تھوڑا نگل رہا ہے ایک ہی بار میں ختم کریں نہ سب !! وہ پھٹ ہی تو گئی وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی ” اپ کو پتہ ہے ہم ہر روز کتنا ٹوٹتے ہیں ہم نے آپکے ساتھ وہ سلوک کیا تو ایک دن اپکا صبر ٹوٹ گیا کیا میرے صبر کی کوئی حد نہیں ہے زُمر !! وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی آج تو اسنے جناب لگانے کا تکلف بھی نہیں کیا تھا صرف اسکا نام لیا تھا وہ خاموش تھا اور خاموشکی دیکھ کر وہ روتی نیچے بیٹھتی جارہی تھی . ” ہمیں مرنے دیں ہم آپکےسامنے ہاتھ جوڑ رہیں ہمیں مرنے دیں زندہ رہے تو آپکی محبت کو ترستے رہیں گے جو ہم نہیں چاہتے ! چہرا دونوں ہاتھوں میں چھپائے وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی زمر کا اپنی گال پر کچھ لڑکتا ہوا محسوس ہوا آنکھ سے ناجانے کب یہ بے لگَ آنسو نکل لیا تھا وہ اسکی جانب سے رُخ موڑ گیا ” زمر میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں باندھ لو جازب کے سر کا سہرا اپنے سر !!! نازنین کے الفاظ اسکی وہ حالت یاد آگئی تھی ” ہم آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں ہمیں مرنے دیں ! ” اسنے پلٹ کر اسے دیکھا وہ ابھی بھی رو رہی تھی ” مجھے تم پر پیار نہیں آتا نمزا مگر نفرت بھی نہیں ہوتی ترس آتا ہے مگر کیا جو تم مانگ رہی ہو وہ ترس کے جزبے سے دیا جاسکتا ہے نہیں مگر …..مگر محبت تو کی تھی تم سے نازنین کو بھول کر کی تھی پیار تمہیں نہیں دے سکتا مگر ترس کھا سکتا ہوں ” یہ سب وہ دل میں سوچ رہا تھا آہستہ آہستہ چلتا وہ اسکے پاس آیا .گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اسکے روتے کانپتے وجود کو باہوں بھر کر تھوڑی اسکے سر پر رکھ دی اسکے رونے میں اور شدت آگئی تھی . اسلیے اسکی گرفت بھی مضبوط ہوگئی .اتنی خاموشی میں زمر کو اپنے سینے کی بائیں جانب کچھ دھڑکنے کی آواز آئی دھک ! دھک وہ تو دھک دھک کررہا تھا مگر اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے پکار رہا ہو نمزا ! نمزا ! اسنے اسکا چہرا اپنی جانب اُٹھایا سفید رنگت پر مٹے آنسو اور لال گال اسے باہوں میں اُٹھائے بیڈ تک لایا خود بھی اسکے ساتھ لیٹ گیا اسکے سینے پر سر رکھے وہ اسکے کُرتے کے بٹن سے کھیلنے لگی وہ بے تاثر نظروں سے اسکا یہ عمل دیکھ رہا تھا پھر اچانک پوچھ لیا ” تمہیں بٹن لگانا آتا ہے ؟اسنے سوالیہ نگاہوں سے زمر کو دیکھا ” کیا ؟” “بٹن لگانا آتا ہے جسکے ساتھ کھیل رہی ہو؟اسنے بٹن کی جانب دیکھا ” موتی ہمیں تو لگانا آتا !زمر نے آہستہ سے اسکا ہاتھ بٹن سے ہٹایا ” تو توڑ کیوں رہی ہو؟” ” آپ کو لگانا آتا ہے ؟” وہ معصومیت سے پوچھ رہی تھی ” ہاں !”نمزا نے اسکے کرتے کا بٹن پکڑا مروڑا اور وہ اسکے ہاتھوں میں ” آپ لگانا سکھا دیں !! وہ حیرت سے اسکے ہاتھوں موجود بٹن کو دیکھ رہا تھا پھر مسکرا کر رُخ پلٹ گیا اور وہ اسکی مسکراہٹ دیکھتی رہ گئی. . …… ………….
… …………. وہ دیو بھوک سے بے حال واپس جنگل آگیا تھا امبر پارہ جاودات چھپ کر کال جنگل کے درختوں کو دیکھ رہی تھی چاندنی رات میں وہ کسی ستارے کی طرح کال جنگل میں چمک رہی تھی جگنوؤں سے شرارت کرتی وہ اپنے آپ میں مگن تھی جب اچانک زمین ہلی تو گر گئی زمین پر دھمک پڑ رہی تھی کئی گنا بڑھا پیر اسکے سامنے موجود تھا اسنے نظر اُٹھا کر دیکھی تو چیخ مار دی اور بھاگنے لگی مگر جتنا اسنے فاضلہ طے کیا تھا وہ ایک منٹ میں ختم کرچکا تھا ” جاودات !! جاودات بچاؤ !! وہ جاودات کو آوازیں دے رہی تھی وہ دیو ہیکل اسے ہاتھ میں جکڑے منہ کی جانب لے جارہا تھا جب اسے پیچھے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سُنائی دی وہ اسکے چہرے کی دائیں بائیں جانب اُڑ رہا تھا اسنے پہلا حملہ اسکے ہاتھ پر کیا مُٹھی کھلی تو وہ نکل گئی پروں کو حرکت دی اور اسکے مقابل کھڑی ہوگئی وہ دیو انھیں پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا مگر مچھر کی طرح اسے ستا رہے تھے پھر آخر امبر پارہ پھر قبضے میں آگئی ” جاودات کچھ کرو !! اسکا پارہ ساتویں آسمان کو پہنچ گیا تھا اسلیے اسنے اپنی جسمامت بڑھانی شروع کردی وہ اس دیو کے برابر ہوگیا تھا منہ کھولے وہ امبر پارہ کو اندر گرانے کی والا تھا جب جاودات کے ہاتھوں میں ایک تلوار آگئی وہ سونے جیسی تھی اسکی چمک کال جنگل میں سورج کی کرن کی طرح پڑ رہی تھی جو اسنے اس دیو کے حلق میں اتار دی وہ جادوئی تلوار اسکے حلق کو تار تار کرچکی تھی دھڑام سے زمین پر گر ایک پھونک جاودات کے ایک پھونک نے اسے کال جنگل سے باہر پھینک دیا تھا شہر میں جیسے زلزلہ آگیا تھا زمیں ہل گئی تھی نمزا زمر کو مضبوطی سے پکڑے آنکھیں میچیے سو رہی تھی کسی نے بھی باہر نکل کر دیکھنے کی تکلیف نہیں کی تھی کیونکہ سب ڈرے ہوئے تھے وہ دونوں بھی کمبل میں ایک دوسرے کے حصار میں دیو سے چھپے بیٹھے تھے کہ اچانک نمزا ہنس دی زمر نے حیرت سے اسے دیکھا ” کیا ؟”
“ ہم تو ایسے چھپے بیٹھے ہیں جنابِ زمر جیسے وہ دیو ہمیں لینے آیا ہےہاہا !” وہ بے تاثر اسکا چہرا دیکھ رہا تھا پھر کروٹ بدل گیا ” ویری فنی ! پیچھے سے پھر اسکے ساتھ جُڑ گئی ” آئی لو یو !! آگے زمر نے ایک گہرا سانس لیا ” بندر ہاتھ اُسترا آگیاہے اب ناجانے کیا ہوگا ! اپنی سوچ پر خودی ہنسی آگئی ۔” اسکے جواب میں کیا کہتے ہیں ؟” وہ خاموشی سے سوتا بن گیا۔وہ اسکے گال پر جھکی اسکے ہونٹوں کا لمس زمر کو اپنے گال پر محسوس بھی ہوا تھا “ہمیں آپ سے بہت محبت ہے !” اسکے ساتھ چپکی وہ بھی سو گئی ۔اگلی صبح جب اسکی آنکھ کُھلی تو نمزا کا سر اب بھی اسکے سینے پر تھا آہستہ سے تکیے پر رکھا باہر آیاتو آدم پریشانی سے بیٹھا تھا نفیسہ بھی سوچ میں گم تھی ” دادا…..؟جنابِ آدم کیا ہوا ؟” اسنے نظر اُٹھا کر اسے دیکھا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا” زمر جس دیو کے بارے ہم تمہیں بتا رہے تھے اسے کل رات کسی نے مار دیا …! واٹ!!!!! وہ خود حیران رہ گیا تھا ” ہم ہم بھی اسی بات سے پریشان ہیں کہ اسے مارا کس نے جو ہم نہیں کرسکے وہ کس نے کردیا اسکی لاش شہر کے چوراہے پر پڑی ہے ! آدم کی بات سُنتے ہی باہر گیا نمزا بھی باتیں سن چکی تھی وہ بھی اسکے پیچھے ہولی کچھ دیر بعد وہ دونوں بھیڑ کے پیچھے کھڑے تھے .وہ بڑا تھا کسی اونچی عمارت کی طرح وہ دونوں حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے ” اسے کس نے مارا یہ کیسے مر سکتا ہے چلو اچھا ہوا !! لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی .زمر خود پریشان تھاطمگر نمزا جھک کر اسکے ناخن سے کپڑا کھینچ رہی تھی آخر وہ نکل آیا ” اسے جاوادت اور امبر پارہ نے مارا ہے !زمر نے حیرت سے اسےدیکھا ” یہ دیکھیں یہ کپڑا یہ امبر پارہ کے لباس کا یہ اسکے ناخن میں پھنساتھا ہوسکتا ہے کل رات اسنے امبر پارہ پر حملہ کردیا ہواسلیے جاودات نے اسے مار دیا ہو . زمر نے اسکے ہاتھوں سے کپڑا لیا اور واپس آگیا ” جنابِ آدم اس دیو کو……. امبر پارہ اور جاودات نے مارا ہے ! زمر کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی آدم بول پڑاجس پر وہ سر جھکا گیا ” کیا آفات ہیں وہ دونوں اسے میں نہیں مار پایا اس کے پاس ایسا کیا ہے ! ” نہیں جانتے مگر یہ تو اچھی بات ہے نہ کہ یہ مر گیا ! نمزا کی بات پر آدم نے زمر کے کندھے پر ہاتھ رکھا ” بہت اچھی بات ہے میں محل ہوکر آتا ہوں !انھیں خدا حافظ کہہ کر وہ چلا گیانفیسہ اپنے کمرے میں اور نمزا نفیسہ کے پیچھے نفیسہ زیورات کھولے بیٹھی تھی وہ اشتیاق سے انھیں دیکھنے لگی ” جو پسند ہے پہن لو ! اسنے حیرت سے نفیسہ کو دیکھا “ہم اب یہ نہیں پہنتے ! ” کیوں ؟ “ہمیں لگتا ہے سونا چاندی پہن کر انسان تکبر غرور میں آجاتا ہے اور ایک وقت تھا جب اس غرور میں ہم نے سب کھو دیا ….” ” ایسا کوئی بات نہیں ہوتی نمزا غرور اور تکبر انسانی کی شخصیت کا ایسا مادہ ہے جو کبھی کبھی بہت بڑھ جاتا ہے وہ صرف دھن دولت سے ہی نہیں اور بہت سی چیزوں سے بڑھ جاتا ہے اور اسکا بہترین حل ہے یہ سوچنا کہ یہ ابدی نہیں ہے تو پہن لیا کرو اپنے لیے نہ سہی زمر کے لیے ….”اسنے نہایت اختیاط سے کانچ کے موتیوں سے بنی نتھ اُٹھائی نفیسہ نے اسکے چہرے کی مسکراہٹ کو بھانپ لیا ” تمہیں پسند ہے تو پہن لو ! ” نہیں زمر کو پسند نہیں ہے اور جو انھیں پسند نہیں وہ ہمیں پسند نہیں ! زمر جو نفیسہ کو بلانے آیا تھا نمزا کی بات سن چکا تھا ” وہ آپ سے ملنے کوئی آیا ہے !اسکی بات سن کر نفیسہ باہر چلی گئی وہ جانے والا تھا جب نمزا نے یونہی پوچھ لیا “آپ کو زیورات میں کیا اچھا لگتا ہے ؟ اسنے پلٹ کر پہلے اسے پھر زیورات کو دیکھا اور بنا کچھ کہے چلا گیا .وہ کافی دیر زبردستی آنسو روکے وہیں کھڑی رہی پھر باہر آگئی آج سارا دن آسمان پر بادلوں کا راج رہا تھا رات تو اور بھیانک ہوگئی بجلی کڑک رہی تھی وہ کمبل میں دبکی بیٹھی کوئی اسرا ڈھونڈ رہی تھی کمبل ہٹا کر دیکھا تو پرسکون سو رہا تھا .ڈرے ڈرے قدم اُٹھاتی اسکے قریب گئی “زمر ! جنابِ زمر ! آنکھیں کھولیں تو ملگجی سے اندھیرے میں اسکی صورت نظر آئی ” کیا ہوا ؟ ” وہ ….وہ ہمیں ڈر لگ رہا ہے بجلی کڑک رہی ہے آپ ہمارے پاس سو جائیں ! اسنے کڑی نظروں سے اسے دیکھا “تم کوئی موقع نہیں چھوڑتی نہ روز کوئی نہ کوئی بہانہ تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے اب تم میں انجان ہو تم میرے لیے جاو جاکر سو جاو اور مجھے بھی سونے دو ! کروٹ بدل کر وہ پھر لیٹ گیا وہ اسکی الفاظ پر ششد رہ گئی تھی کافی دیر وہ اسے یونہی دیکھتی رہی کہ اچانک بادل اتنی زور سے گرجا کہ پیروں تلے زمیں ہل گئی تھی وہ خود بھی کانپ گئی تھی ہمت جمع کی اور اسکے پیروں کی قریب گئی اور پکڑ کر بیٹھ گئی ” اگر اپکا ساتھ اس طرح میسر ہے تو یونہی سہی !!!
…………….
……..
امبر پارہ سفاک پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھی کڑکڑاتی بجلی اور گرجتے بادلوں کا نظارہ دیکھ رہی تھی اور جاودات ہمیشہ کی طرح اسے اسنے منہ بسور کر اسے دیکھا ” یہ اچھا نہیں ہے جاودات مجھے اچھا نہیں لگ رہا !!! جاوادت اپنی جگہ سے اُٹھا پروں میں حرکت ہوئی وہ ہوا میں اُڑنے لگا اسنے اپنے دونوں ہاتھوں سے سفید روشنی سے بھر لیا وہ خارج ہوئی تو ایک زوردار دھمکا ہوا
……… ………………..
………………….
سناش کب سے بستر کے چکر کاٹ رہا تھا طلسم نے رو رو کر اپنی حالت خراب کر لی تھی ” تائی جان چپ کروائے انھیں ہمیں تکلیف ہورہی ہے !تائی جان نے اسے اپنے قریب کیا ” سناش میری آپ سو جائیں ہم کیسے سو سکتے ہیں تائی جان طلسم رو رہی ہیں ہمیں سکون کیسے ملے گا ! رانی زرینہ بس اسے دیکھتی رہ گئی وہ کھڑکی کی جانب چلا پھر بھاگ کر آیا ” طلسم آپکو کچھ دیکھائیں ! اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں اسے اٹھائے وہ کھڑکی جانب گیا اور آسمان کی طرف اشارہ کردیا سامنے کا منظر دیکھ کر وہ خاموش ہوگئی تھی .
……………….
………………
زمر کو آپنے پیروں پر ٹھنڈی نرم چیز کب سے محسوس ہو رہی تھی .آخر اسنے اُٹھ کر دیکھنے کا تکلف کرہی لیا وہ دونوں ہاتھوں سے اسکا پیر پکڑے سو رہی تھی اسے اچھا خاصا بُرا لگا تھا اور شرمندگی بھی اسنے نرمی سے ہاتھ اسکے بالوں پر رکھا ” نمزا ! اسنے انکھیں ملتے اسے دیکھا اور فوراً ہاتھ ہٹا لیا ” وہ مع….معذرت !! اُٹھ کر جانے لگی تو زمرنے ہاتھ کھینچ لیا وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور اسکے اوپر گر گئی اسکے سینے پر ہاتھ رکھے انکے چہرے ایک دوسرے کے نہایت قریب تھے کہ کھڑکی کے باہر ہوتی آواز نے انھیں اپنی جانب کھینچا اسی پوزیشن میں زمر نے پردہ ہٹا یا تو دونوں آسمان میں کھو سے گئے تھے کالے آسمان پر سفید چمکدار ستارے رکھنے والی کائنات دھنک کے سات رنگوں میں نہا گیا یوں جیسے ملکی وے گلیکسی اپنے جوبن پر ہوں سیاہ لال آسمان میں دھاریاں چاند اور وہ دونوں پروانے اٹکیلیاں کرنے میں مشغول تھے امبر پارہ آزاد تتلی کی طرح اُڑ رہی تھی اور بھنورا اسے پکڑنے کی تغ و دو میں تھا اسکا ریشمی لباس اس سے نظر آتی اسکی نسوانیت رعنایا اور اسکا منتشر کرتا حُسن جاودات کی جان نکل رہی تھی اسنے آسمان کا رنگ بدل.دیا صرف اسکی خوشی کے لیے آخر وہ اسکے ہاتھ آہی گئی چاند کی ٹھنڈک تاثیر اور اوپر سے جاودات کا ٹھنڈا لمس وہ اسکی باہوں میں ہی سمٹنے لگی تھی وہ اسکا پور پور محبت میں بھگونا چاہتا تھا جسکی شروعات اسنے گردن سے کی تھی وہ آہستہ آہستہ اپنی سانسیں اس میں انڈیلنے لگا تھا۔ پورا چاند کالی رات آسمان کا ایک ایک ستارہ سب گواہ تھے انکی بے لوث محبت کے نمزا زمر کے سینے پر سر رکھے یہ منظر دیکھ رہی تھی اسنے چہرا اٹھا کو زمر کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا چہرے قریب سے قریب تر ہوتے جارہے تھے آخر تشنہ لبوں کی پیاس مٹِی ہی تھی کہ زمر نے چہرے کا رُخ موڑ لیا ۔” نمزا اُٹھو ! وہ چپ چاپ اٹھ کر چلی گئی منہ تک کمبل اوڑھے لیٹی گئی وہ حیران تھا آج اسنے کچھ کہا کیوں نہیں اور وہ اندر سانس روکے خود کو رونے سے روک رہی تھی ۔
ہر درد پر شرط لگاتے ہو۔۔۔۔
آواز نہ نکلے سسکیوں کی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح شاید نمزا کے لیے رحمت بن کر اُتری تھی اسنے کروٹ بدلی تو زمر اسکے ساتھ لیٹا تھا اور ایکدم اُٹھی کھلے بال الجھے ہوئے تھے ماتھے پر بال بکھیرے وہ سو رہا تھا اسنے اسکے ماتھے کو چھوا یہ تصدیق کرنے کے لیے یہ خواب تو نہیں ” زز۔۔۔۔زمر ! زمر ! اسنے آنکھیں ملتے اسے دیکھا ” کیا ہے !”
” آپ وہ ۔۔۔۔۔وہاں سے یہاں کک۔۔۔۔۔۔کب !!اسنے صوفے کی طرف اشارہ کیا ” رات کو ! اسنے جمائیاں انگڑایاں لیتے جواب دیا ” کک۔۔۔کیوں ! اسکے کیوں پر وہ اسکی جانب جھکا وہ اس پر جھکتا جارہا تھا اور وہ بستر سے لگتی جارہی تھی ” صوفے پر سو سو کر میری کمر اکڑ گئی ویسے تمہیں مجھ سے بے لوث محبت ہے میرے پیر پکڑ کر سو سکتی ہو مگر ایک بار بھی یہ کہا آپ یہاں سو جائیں میں وہاں سو جاتی ہو !” بنا آنکھیں جھپکائے وہ اسے گھور رہی تھی اسنے چہرا اور بھی قریب کرلیا اتنا ہینڈسم ہوں کہ نظروں سے کھانا ہے ۔”وہ اب بھی اسے دیکھے ہی جارہی تھی وہ سیدھا ہوکر لیٹ گیا وہ سِٹل اسی پوزیشن میں تھی نمزا ! اسنے سرگوشی کے انداز میں کہا پر جواب ندارد نمزا !!! اسنے چیخ کر کہا تو وہ ڈر گئی ” جج۔۔۔جی !
قریب آؤ! اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” کہا قریب آو!وہ ڈرتے ڈرتے اسکی جانب کھسک رہی تھی وہ اس پر جھک گیا ” خواب لگ رہا ہے ! اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ” حقیقت ہے یقین دلاؤں ! وہ اسکے ہونٹوں کو قید کرچکا تھا ! یہ تو پکا خواب اسنے اُٹھنے کی کوشش کی مگر ہاتھ بھی باندھ دیے گئے اسنے آنکھیں میچ لیں وہ اسکی ہر ایک سانس کے ساتھ اسکا ردِ عمل بھی گن رہا تھا کچھ دیر بعد وہ اس سے دور ہوگیا اسکی آنکھیں اب بھی بند تھیں اسنے انکھیں کھولیں تو وہ مسکرا رہا تھا” یقین آیا سچ ہے اب اچھی بیوی کی طرح ُاُٹھو اور میرے لیے بریک فاسٹ مطلب ناشتہ لیکر آو!اسے گھما کر اپنے اوپر کیا بال کان کے پیچھے آڑیس دیے ” اور زیادہ کچھ بھی سوچنے کی ضرورت نہیں ہے !اسکی گال کو چھو کر چھوڑ دیا اور جوتا پہننے کی کوشش کر رہی تھی کنفیوژن سے اسے دیکھ بھی رہی تھی اخر چلی گی ” یہ زمر ہی ہے نہ ! اسکے جانےکے بعد وہ پھر سیدھا لیٹ گیا گزشتہ رات کا ایک ایک لمحہ دوہرانے لگا تھا . گزشتہ رات …. وہ کمبل میں گھسی رونے میں مصروف تھی اسے کسی کروٹ سکون نہیں آرہا تھا وہ سونے کی کوشش بھی کررہا تھا مگر بار بار مناظر تنگ کررہے تھے وہ اسکے پیر پکڑ رہی تھی اس معافیاں مانگ رہی تھی ہر منظر زمر کو شرمندہ کر رہا تھا وہ اُٹھ کمرے سے باہر آگیا ڈرائنگ میں کھڑا وہ انجان سوچ میں مبتلا تھا کہ کچھ دیر بعد نمزا اسکے پیچھے سے گزر گئ ” نمزا اس وقت کہاں جارہی ہو ! وہ چھت کی جانب بڑھ رہی تھی اسے نظر انداز کرتی آگے بڑھ گئی وہ اسکے پیچھے گیا مگر وہ چھت پر جاچکی تھی ” نمزا !!!! زمر کے دیکھتے دیکھتے وہ چھت سے کود گئی اسکا خون سے لت پت وجود نیچے پڑا تھا وہ بے ساختہ کودتا اس سے پہلے ہی اسے کسی نے کھینچ لیا ” دا…دادی وہ…وہ نمزا مجھے اسے دیکھنا ہوگا اسے کچھ ہوگیا تو میں زندہ نہیں رہ پاؤں گا !!! وہ نیچے جانے کے لیے بھاگا تو نفیسہ نے پھر کھینچ کر سامنے کھڑا کرلیا” وہ نمزا نہیں ہے زمر ! اسنے حیرت سے اسے دیکھا اسنے انگلیاں گھمائیں اور خون میں لت پت وجود غائب ہوگیا ” وہ ٹھیک ہے زمر جہاں تم اسے چھوڑ کر آئے تھے یہ تو میں نے بس ایک شرارت کی تھی تمہارے ساتھ !! ” شرارت دادی میری جان نکل گئی تھی مجھے لگ رہا تھا بس آج سب ختم ہو گیا میں نے کھو دیا اسے اور آپ کہہ رہی ہیں یہ مزاق تھا !!! ” اسکے مرنے کی فکر ہے مگر زندگی میں اسکے تڑپنے سے فرق نہیں پڑتا اسکی معافی سے فرق نہیں پڑتا اسکی محبت سے فرق نہیں پڑتا …… ! وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ” ہم اندھے نہیں ہیں زمر مجھے دکھائی دیتا ہے کیسے تم نظر انداز کرتے ہو اسے ہم نے اسے آپکا نام لیکر روتے دیکھا ہے وہ آپ سے معافی مانگتی ہے ہم نہیں جانتے کیا غلطی ہوئی تھی ان سے اور نہ ہی ہم جاننا چاہتے ہیں مگر کوئی بھی غلطی انسان کے جذبات سے بڑی نہیں ہوتی وہ آپ سے عمر میں چھوٹی ہے ہوسکتا ہے اس سے کوئی غلطی ہوگئی ہو مگر اب آپکے لیے مخلص ہے آپسے معذرت چاہتی کیا اسے معاف نہیں کرسکتے اب بھی وقت ہے زمر اسے قبول کرلو اسکے جانے کے بعد اسے معلوم نہیں ہوگا کہ آپ نے اسکے بعد ایک سانس بھی مشکل سے لی تھی ہماری بات کو سوچنا ضرور زمر…..”یہ کہہ کر وہ تو چلی گئی تھی اسے سوچتا چھوڑ کر بوجھل قدم نیچے کی جانب چل دیے تھے ” ہمیں معاف کردیں ! کھلا دیں ! آپ نے ہمیں معاف کردیا ہمیں مر جانے دیں زمر !!! اسکے جملے کانوں میں گونج رہے تھے . ” مر جانے دیں ہمیں زندہ رہے تو آپکی محبت کو ترستے رہیں گے رُک جائیں ہمیں آپکی محبت کی ضرورت ہے !!! وہ کمرے میں پہنچ چکا تھا وہ تو وہیں کمبل میں گھُسی سو رہی تھی کچھ دیر وہ یونہی اسے دیکھتا رہا ” ابھی بھی وقت ہے اسے کرلو قبول ورنہ جانے کے بعد اسے معلوم نہیں ہوگا کہ انکے بعد آپ نے ایک سانس بھی مشکل سے لی تھی ! نفیسہ یہ جملہ اسے اندر تک ڈرا گیا تھا وہ کھو دے گا اسے !! اسکے سرہانے جاکر کمبل آہستہ سے ہٹایا تو رونے کے مِٹے مِٹے داغ لیے سو رہی تھی اسنے اپنے پوروں سے اسکی پلکوں کا چھوا سوکھے پانی سے پلکیں اکڑ گئی تھیں ہاتھ سرکتا سرکتا رخساروں تک آگیا تھا وہ سہلانے لگا تھا انھیں ” مجھے لگتا تھا تم نے جو کچھ بھی میرے ساتھ کیا وہ تم نے انا اور غرور میں کیا مجھے لگتا تھا میں جو کررہا ہوں تمہارا غرور توڑ رہا ہوں مگر انجانے میں تمہیں نیچا دیکھانے لگ گیا میں یہ نہیں سوچا تھا اپنی انا تو تسکین دینے لگا میں تمہیں تکلیف دینے سے لگتا تھا تم اسی لائق مگر میں تو خود وہ بن گیا جو کبھی تم تھی تب مجھے تکلیف ہوتی تھی تو میں تمہاری تکلیف کیسے نہ سمجھ سکا .آئم سور ی آئم رئیلی سوری ! وہ بیڈ کی ایک نکر پر نیم دراز تھا اسکی گال کو سہلاتے وہ رو بھی رہا تھا آنسو صاف کرے اسکی جانب متوجہ ہوا تو نظر خشک ہونٹوں پر رُک گئی وہ جھکا ہی تھا کہ اسکا معصوم چہرا بے چین ہوگیا ” نیند خراب ہوجائے گی !”دوسری جانب آکر لیٹا اور اسے مسکر دیکھنے لگا اندھیرا کمرا کھلی کھڑکی ہوا سے اُڑتے پردے چاند کی جھانکتی روشنی وہ دونوں ہاتھ چہرے نیچے رکھے اسے دیکھے جارہا تھا نیند کب مہربان ہوئی اسے پتا ہی نہ چلا….
حال
……. بستر پر چِت لیٹا وہ من ہی من مسکرا رہا تھا اور باہر نمزا کنفیوز تھی بے دھیانی میں پلیٹ میں روٹیاں رکھ رہی ایک ہی پلیٹ میں اسنے پہاڑ بنا دیا تھا نفیسہ کب سے اسے دیکھ رہی تھی ” کیا ہوا نمزا ؟ ” زمر ہوا ! نفیسہ نے حیرت سے اسے دیکھا ” کیا !! ہمارا مطلب زمر بہت بدل گئے ایک ہی رات میں ! ” کیوں ایسا کیا کردیا انھوں !! نفیسہ نے اشتیاق سے پوچھا ” انھوں نے !!! پھر اچانک خاموش ہوگئی اورجھنجھلا گئی ” کچھ نہیں !” پلیٹ اٹھائی اور باہر آگئی جہاں وہ اور آدم کچھ بات کررہے تھے ” تو ٹھیک ہے کھانے کے بعد سے تمہاری مشق شروع کردیتے ہیں تلوار پکڑنی آتی ہے یا وہ بھی نہیں ! ” نہیں وہ تو آتی ہے ! وہ سب ایک ساتھ میزپر بیٹھے تھے نمزا ڈرتے ڈرتے زمر کو ناشتہ دے رہی تھی کہ کہیں وہ منع نہ کردیا مگر ” نمزا یہاں بیٹھے اور ایک ہی تھالی میں کھاتے ہیں نہ ! اب تو نمزا کا منہ اور آنکھیں دونوں کھُل گئی تھیں وہ اسے دیکھے جارہی تھی آخر اسنے ہاتھ پکڑ کر بیٹھ لیا ” اتنا مت سوچیں !!
