Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 4
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
جازب آپریشن تھیٹر کے اندر جارہا تھا جب نازنین نے اسے بُلایا اسکی تو جیسے عید ہوگئی ” جی بولیں نازنین !”
“ کِتنی محبت کرتے ہو مجھ سے ؟” اسکے اس سوال نے جازب کو حیرت میں ڈال دیا تھا ” مطلب ؟”
“ کہتے ہو محبت کرتے ہو کتنی کرتے ہو ایک مہینے کے اندر مجھ سے نکاح کرسکتے ہو بھیجو اپنے گھر والوں کو میرے نکاح کا پیغام لیکر ۔۔۔۔۔۔” جازب سانس روکے اسکی باتیں سن رہا تھا ” آپ یہ چاہتی ہیں میں آپ سے نکاح کروں .”
“ فون پر بتا دینا کب آنا ہے تمہارے گھر والوں نے میں ماما بابا کو بتا دوں گی ۔۔۔” دو ٹوک انداز سے بات کرتی وہ چلی گئی تھی جازب وہاں سے سیدھا سیڑھیوں پر بھاگ سامنے وارڈ میں زُمر کسی نرس سے بات کر رہا تھا زُمر میری جان میری گل سُن ۔۔۔۔۔۔۔وہ بھاگتا سیدھا اسکے گلے سے لگ گیا تھا ” گیس واٹ! اسکے چہرے کی خوشی دیکھ کر اسے ایک منٹ لگا تھا جاننے میں ” نازنین نے ہاں کردی !”
“ تو پکا دوست ہے میرا ایک تو ہی تو ہے جو سب جانتا ہے اور تجھے پتا ہے کیا ؟” اس بار اسنے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” وہ اسی مہینے نکاح چاہتی ہے اور سالے چھوڑ یہ رپورٹس چل میرے ساتھ تجھے ٹریٹ دوں.”اس بات نے اسکے پیروں سے زمین کھینچ لی تھی ” نہیں نازنین تم ایسا نہیں کرسکتا میں تمہیں جازب کے ساتھ یہ زیادتی نہیں کرنے دوں گا تم اسکی لائف سپوئیل نہیں کرسکتی ۔” یہ اسنے دل میں ارادہ کیا تھا ” اچھا سن زُمر میں گھر جارہا ہوں مام ڈیڈ کو بھی بتانا ہے شاپنگ کرنی ہے کل اسکے گھر بھی تو جانا بائی کل ملتے ہیں ۔” جاذب چلا گیا وینڈو سے اسنے اسکی گاڑی جاتی دیکھی تھی اسکے جانے کے بعد زُمر نے سیڑھیوں پر بھاگنا شروع کیا تھا وہ جو ابھی کسی روم میں داخل ہو رہی تھی اسنے اسے کھینچ کر ایک خالی جگہ پر لے آیا ” یہ کیا بد تمیزی ڈاکٹر زمر !
آپ نے جازب سے اسی ماہ نکاح مانگا ہے ؟” اسنے گہر سانس کر کے اسکی طرف دیکھا ” تو ؟”
“ آپ اسکے ساتھ غلط کر رہی ہیں ڈاکٹر نازنین !” اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ” جو انسان مجھ سے محبت کا دعویٰ کررہا ہے میں نے اس سے نکاح مانگ کر کیا غلط کیا ہے ؟” اس بات پر زُمر نفی میں سر ہلا رہا تھا ” غلط نکاح مانگنا نہیں اتنی جلدی نکاح مانگنا ہے پلیز اس کے ساتھ کچھ وقت گُزارو اسے ٹائم دو میں شوریٹی دیتا وہ بہت اچھا ہمسفر ثابت ہوگا ۔”
“ میں اسے جان چُکی ہوں میں موو آن کرنا چاہتی ہوں ڈاکٹر زُمر اور نکاح سے پہلے نہیں ہوگا آئی نیڈ سم ون جو مجھے آپکی یاد نہ آنے دے میں آپ کو گارنٹی دیتی ہوں میں جاذب سے کسی قسم کی زیادتی نہیں کروں گی بس اسے محبت دینے میں کتنا وقت لگے وہ مجھے نہیں پتا خدا حافظ !” وہ پیچھے سر جھکائے اسے جاتا دیکھ رہا تھا جب وہ پھر پلٹی ” دعا ہے ڈاکٹر زُمر جس سے آپ منسوب ہیں اس سے آپ کو عشق ہو جائے ! وہ مدھم سا مسکرایا تھا ” شُکریہ !
“ اور وہ آپکو اتنا تڑپائے کہ آپ کی روح اشکبار ہو جائے !” اسے حیرت کے سمندر میں چھوڑ کر خود وہ پُرسکون چلی گئی تھی ۔
شام گئی وہ ہوسپیٹل سے گھر آیا تھا اُداس غمگین اسیر بھی کچھ وقت پہلے ہی آفس سے آیا تھا ” بھائی آپ آگئے میں نے ایک نظم لکھی ہے سُنے نہ مام بھی بزی ہیں اور بابا بھی آپ ہی سُن لیں ۔۔۔۔۔” اسنے ابھی پانی ہی پیا تھا جب زرمیش اسکے سر پر چڑھ گئی ” باربی بعد میں کھانے کے بعد ابھی تھک گیا فریش ہو لو۔۔۔۔۔” اپنی سُنا کر وہ کمرے کی طرف چلا گیا اسیر نے حیرت سے ایک نظر اسے دیکھا وہ زرمیش کو منع کرگیا ۔یعنی کوئی پرابلم ہے ۔” بابا ! مگر وہ زُمر کے کمرے میں چلا گیا تھا سامنے بیڈ پر سر جھُکائے بیٹھا تھا ” زُمر !” اسیر کی آواز پر اُسنے اپنی آنکھوں کو رگڑا ” تم رو رہے ہو ؟
“ نہیں بابا وہ ۔۔۔۔۔۔شاید کچھ چلا گیا ہے آنکھ میں اسلیے .” اسیر اس کے ساتھ بیڈ پر ہی ٹِک گیا ” تو تم نے جاذب اور نازنین کو ایک کر رہی دیا ۔” اسنے ہلکا سا مُسکرا کر سر کو خم دیا ” اور اپنی محبت کو کہاں دفنایا ؟” اس بات پر وہ تڑپ کر اپنے باپ کے گلے سے لگ گیا تھا ” بابا میری محبت سے پہلے جاذب نے اپنی محبت کا اعتراف کیا تھا مجھے بتایا تھا آپ بتائیں میں نازنین کو ہاں کردیتا تو جاذب میرے بارے میں کیا سوچتا بچپن سے لیکر اب تک ہم دونوں نے ہر چیز شئیر کی ہے ٹیفن بُکس سب کچھ لیکن بابا زندگی اتنی بڑی خوشی میں جاذب کو آپشن نہیں دینا چاہتا محبت تو شئیر نہیں ہوتی نہ بابا وہ دونوں ایک ساتھ اچھے لگے گے اور اسی مہینے ان نکاح ہوجائے گا ۔” اسیر اسکی پیٹھ سہلا رہا تھا اور اس کے آنسوں اسکی پشت میں جذب ہورہے تھے
” جو اپنی محبت دبا ہی دی ہے تو یہ غم بھی دبا دو ختم کردے سب اور تیار رہو اس کے لیے جو تمہارے لیے بنائی گئی کوئی میری اور تمہاری ماما کی کہانی سُنے گا تو پہلے تو جی بھر کر ہنسے گا اور پھر یقین ہی نہیں کرے گا دو الگ الگ دُنیا میں رہنے والے لوگ اس طرح بھی ملتے ہیں اتنی محبت بھی ہوسکتی ہے تمہیں بھی ہوجائے گی بس جو جس کا ہوگیا اسی کا مکمل رہنے دو ۔۔” آنسو صاف کر اسنے مسکرا اسے دیکھا ” کہہ کر گئی ہے جو تمہارے لیے ہو اس سے تمہیں عشق ہو جائے ۔”
“ یہ تو اچھی دعا ہوئی آمین ! مگر زُمر اسے ایسے ہی دیکھے جارہا تھا ” بابا عشق آسان ہوتا ہے نہیں نہ وہ کہہ کر گئی ایسا عشق ہو جو میرے روح تک کو جھنجھوڑ دے پر کوئی بات نہیں میں تیار ہوں ہر سزا کے لیے میں لائق ہوں اس سزا کے میں نے نازنین کا دل توڑا ہے ایسا ہونا چاہیے پر بابا میں کیا کرتا جاذب مجھ سے پہلے سے پسند کرتا ہے اسے ۔۔۔۔۔” اسیر نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ” تم نے جو کچھ بھی کیا وہ ٹھیک کیا پریشان مت ہو کوئی بات نہیں ایسا ہوتا آؤ باہر چلیں تمہاری باربی منہ پھُلا کر بیٹھی ہوگی کہ آج بھائی میری بات کیوں نہیں سن کر گیا ۔۔۔۔” اسکا ہاتھ تھامے اسے کھینچنے لگا تھا” آپ چلیں میں آتا ہوں ۔” طلسم ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی اور وہ کُہنیاں ٹیبل پر ٹکائے ہاتھوں کے کٹورے میں پھولا ہوا منہ لیے ٹیبل نظریں مرکوز کیے بیٹھی تھی اسیر آکر بیٹھ چُکا تھا مگر اسکی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا کچھ دیر سادہ ٹی شرٹ ٹراؤزر میں زُمر بھی آ بیٹھا تھا مگر نو ریکشن طلسم نے سب کو کھانا سرو کیا منہ پھُلائے اسنے کھانا کھایا وہ تینوں حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے پھر زُمر ہی بولا ” باربی کیا بات ہے ؟” مگر وہ منہ پھُلائے اٹھ کر صوفے پر جا بیٹھی کُشن باہوں میں دبائے ” بابا ناراض ہوگئی ہم نے اسکی پوئم نہیں سُنی اٹھیں ! وہ تینوں ایک ساتھ اسکی جانب گئی اسیر بائیں طرف طلسم دائیں طرف اور زُمر بلکل اسکے سامنے ٹیبل پر بیٹھ گیا ” بابا آپ کو پتا ہے میری باربی ڈول کتنی انٹیلیجنٹ ہے سٹڈی ہی نہیں کوکیریکولر ایکٹیویٹیس میں بھی زبردست ہے یاد ہے سپیچ ڈبئیٹ کوئی مقابلہ ایسا نہیں جو زرمیش نہ جیتی ہو ۔۔۔” زُمر اسکی خوشامد کررہا تھا ” اور پینٹنگ بھی تو ہے !” طلسم نے بھی حصہ ڈالا ” ارے ہاں پینٹنگ ہمارے زری کی فیورٹ ہوبی اسے بھلا کیسے بھول سکتے ہیں اب تو ہماری زری پوئٹری بھی کرنے لگی ہے کونسی تھی وہ ہاں زری ایک بار سناؤ نہ پلیز !!!! زُمر معصوم سا منہ بنائے اسے منا رہا تھا طلسم اور اسیر بھی اسے ہی دیکھ رہے تھے وہ ابھی بھی خاموش تھی ” گُڑیا پلیج !!! اب کی بار اسیر بولا تھا ۔” سُنا دو ۔۔۔سُنا دو !! طلسم نے اسکے پیٹ میں گُدگُدی شروع کر دی تھی ” ہاہاہا مام یہ کیا کر رہی ہیں چھوڑیں اچھا اچھا سُناتی ہوں ۔” اسکی بات پر وہ سب الرٹ ہوکر بیٹھ گئے تھے میں نے کل رات کو لکھی تھی ایسے اچانک مائنڈ میں آگئی تو سُنے عرض کیا ۔۔۔
ارشاد ! ارشاد ! ان سب نے ایک ساتھ کہا ” جی صاب!!!! ارشاد انکا ڈرائیور بھاگا آیا تھا ” ہاہاہاہا ارے تمہیں نہیں بُلایا جاؤ !” اسیر نے اسے بھیج دیا تھا
“ ہاں تو عرض کیا ہے “وہ سب مسکراتے اسکی طرف متوجہ تھے
“ ایک اجنبی سا احساس ہے ۔۔
لگتا کوئی ہر پل میرے ساتھ ۔۔۔۔”طلسم اور اسیر کے چہرے کی مسکراہٹ ایک دم غائب ہوگئی تھی مگر زُمر مسکراتا ابھی بھی سن رہا تھا
تم بِن بنجر سی راہوں پر ۔۔۔۔
ریت کا ہر ذرہ اداس ہے ۔۔۔۔۔ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا طلسم کے چہرے پر واضح خوف کے سائے تھے
میری روح کا ۔۔۔۔۔۔۔بس زرمیش !! اسکا فقرا مکمل ہونے سے پہلے ہی اسیر نے اسے روک دیا تھا
“ مگر بابا ابھی پوری نہیں سُنے تو ….کہہ دیا نہ بس اپنے کمرے میں جاؤ ۔۔۔۔اسنے دبے ہوئے غصے میں کہا تھا ” بابا آپ یہ کیسے بات ….” سمجھ میں نہیں آیا تم دونوں کو گو ٹو یور رومز ابھی …!” اس بار اسنے چیخ کر کہا تھا زُمر خود حیران بابا اتنا غصہ تو کرتے ہی نہیں ہیں اور وہ بھی زرمیش کے معاملے میں زرمیش غصے میں کُشن پھینک کر وہاں سے چلی گئی ” باربی ! باربی بات سُنو ! زُمر بھی اُسکے پیچھے بھاگا اسیر وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ” میں نے جب آپکو صبح وہ پینٹنگ دکھائی تھی آپ نے کہا کہیں سے دیکھ لی ہوگی عام بات ہے مگر وہ بلکل ویسا ہے جیسا شہرِسحر میں دیکھا تھا وہ اسے لے جائے گا ہم چاہے جتنی کوشش کرلیں وہ اسے لے جائے گا ۔” مگر وہ سر ہاتھوں میں گِرائے خاموش بیٹھا تھا ” اسیر ! اسیر ! وہ اسکے قریب ہوکر بیٹھی جب اسنے اپنا چہرا اسکی گردن میں گُم کرلیا ” میرے بچے نہیں طلسم میرے بچوں کو ان سب سے دور رکھو انھیں وہاں نہیں جانا ہم شہرِ سحر نہیں جائیں گے دلوا تو آیا تھا میں سب کو آزادی ہو تو گیا تھا سب ٹھیک پھر کیوں بلا رہے ہیں وہ لوگ ہمیں کل پھر میرے خواب میں بابا آئے تھے اب کیا چاہتے ہیں نہیں میرے بچے کبھی بھی ان سب کا حصہ نہیں بنے گے پلیز ۔۔۔۔۔۔” طلسم نے اسے خود سے الگ کیا ” زرمیش خود اسکی طرف کھینچی چلی جارہی ہے اسنے جاودات کی بِنا دیکھے تصویر بنا لی شہر سحر کے دروازے کھولنے کی نظم تک اسے خود آگئی ہے سمجھے اسیر وہ اس دُنیا سے نہیں اسے واپس جانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
“ زرمیش کو کہاں جانا ہے مام ! زُمر جو کہ زرمیش کو سمجھا کر اپنے بابا سے پوچھنے آیا تھا طلسم کی بات سن کر وہیں رُک گیا ۔ اسیر نے آنسوں سے تر چہرا چھپا لیا تھا ” کیسی ہے وہ ؟”
“ رو رہی تھی کہ رہی تھی بابا کو آج کیا ہوگیا اتنا غصہ کیوں کیا پہلے بھی میں نے اتنی پوئمز لکھی کبھی کسی پر ایسا ریکشن نہیں دیا اور مام نے بھی انھیں کچھ نہیں کہا ۔” زمر کی بات سن کر وہ جانا لگا تھا جب زمر نے روک دیا ” اسے کچھ وقت اکیلا رہنے دیں اور ادھر آئیں !” وہ اسیر کو واپس صوفےپر لے آیا تھا خود اسکے گھٹنوں کے قریب نیچے بیٹھ گیا ” بابا بتائیں مجھے زرمیش کو کہاں جانا ہے آپ ایسا ریکٹ کیوں کر گئے کون ہے زرمیش ؟”
طلسم نے حیرت سے زُمر کی طرف دیکھا کیا مطلب کون ہے تمہاری بہن ہے !”
“ میں جانتا ہوں وہ میری بہن اور مجھے جان سے پیاری ہے مگر میڈیکل سائنس تو جھوٹ نہیں بول رہی ۔۔۔” اسیر نے حیرت سے سر اٹھا کر زُمر کو دیکھا ” سوری بابا سوری مام مگر کچھ دِنوں پہلے جب میں لائبریری سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا تب مجھے مام کی پریگنینسی رپوٹ ملی اس میں صرف ون بے بی لکھا تھا بے بی بوئے یعنی میں سونوگرافی میں بھی ایک ہی بے بی شو ہورہا تھا مگر آپ دونوں نے کہا میں اور زرمیش جڑُواں ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے وہ رپورٹ غلط تھی ہیں نہ مام وہ رپورٹ غلط تھی نہ پلیز مجھے رئیل رپورٹ دِکھا میں بہت پریشان ہوں .” طلسم نے ایک نظر اسیر کو دیکھا جو کسی غیر مرائی نقطے کو گھور رہا تھا ” وہ رپورٹ سہی ہے زُمر زرمیش تمہاری جڑواں بہن ضرور ہے مگر وہ انسان نہیں ہے ۔۔۔۔” اسیر کے گھُٹن پر موجود زمر کا ہاتھ لڑکھڑا گیا تھا ” اسیر نہیں مت بتائیں اسے کچھ پلیز !”
“ نہیں طلسم زمر کا پورا حق ہے جاننے کا میں تمہیں سب بتاتا ہو زمر مگر پہلے مجھے زرمیش کو دیکھنے دو .” وہ صوفے سے اٹھا زمر اور طلسم بھی اسکے پیچھے تھے اسنے آ ہستہ سے دروازہ کھولا جہاں وہ تکیاں باہوں میں دیے روتے روتے سو گئی تھی طلسم نے اس پر کمفرٹر ٹھیک کیا اسیر اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر واپس آگیا ۔
وہ تینوں اس وقت اسیر کے کمرے میں ہی موجود تھے طلسم اور اسیر صوفے پر بیٹھے تھے اور زمر ڈریسنگ سے ٹیک لگائے منہ پر انگلی رکھے سوچ رہا تھا طلسم اور اسیر نے اسے شہرِ سحر اور اپنی پوری کہانی بتا دی تھی ” میں جانتا ہوں زُمر یہ سب باتیں تمہارے لیے بہت عجیب اور ناقابلِ یقین ہیں تم آج کی جنریشن کے بچے ہو سائنس پر یقین رکھتے ہو یقین کرنا مشکل ہے مگر …..”
“ یہ تو آپ دونوں کی کہانی تھی اب مجھے یہ بتائیں زرمیش کون ہے ؟”
“ پچس سال پہلے جب ہم دونوں شہرِ سحر سے واپس آنے والے تھے اس رات ۔۔
25 years ago at shehr-e-sehar…………………………
ایک اجنبی سا احساس ہے۔
لگتا کوئی ہر پل میرے ساتھ ہے۔۔۔
تم بِن بنجر سی راہوں میں ۔۔۔۔
ریت کا ہر ذرہ اُداس ہے ۔۔
اسیر طلسم ہوں میں ۔۔۔۔
وہ طلسم ساز ہے ۔۔۔
شہرِ سحر کے باشندے ہم ۔۔۔
بے جرم نا قید کا کوئی جواز ہے ۔۔۔
چاند سے دروازہ کھُل چُکا تھا وہ دونوں اندر قدم رکھنے ہی والے تھے جب طلسم اچانک پیچے پیچھے مُڑی ایک تیز دلنشین سی خوشبو اسکے نتھنوں سے گزُری جسے اس نے گہرا سانس لیکر اپنے اندر اتارا مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی اس خوشبو کے ساتھ اس نے کچھ اور ابھی اپنے جسم میں اتار لیا تھا ” کیا ہوا طلسم !”
اسیر سناش غفران فاریہ سب اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے جو مسکرا کر گہرے سانس لے رہی تھی ” اسیر آپ نے وہ خوشبو سونگھی ابھی ابھی کتنی خوبصورت خوشبو تھی جیسے بہت سارے تازہ گلاب ایک ساتھ کھل گئے ہوں ۔”
“ طلسم تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا چلو ۔۔۔۔۔” وہ دونوں دوبارہ اندر قدم رکھنے ہی والے تھے جب تیز آندھی چلی ہر طرف جیسے تباہی کا سامان ہوگیا طلسم فاریہ گر جاتیں اگر انکے ہمسفر ساتھ نہ ہوتے آنکھوں کو دھول سے بچانے کے لیے ہاتھ آنکھوں میں رکھ لیے تھے کچھ وقت بعد طوفان تھم گیا ان سب نے ایک ساتھ ہاتھ پیچھے ہٹائے طلسم نے جب ہاتھ اٹھایا تو سب سانس روکے اسے ہی دیکھ رہے تھے وہ کچھ پوچھتی اس سے پہلے اسے اپنے پیچھے کسی کی گرم سانسوں کا احساس ہوا آہستہ آہستہ گردن موڑتی اسنے پیچھے دیکھا اور دنگ رہ گئی قدآور چوڑی مضبوط جسامت لیے آنکھوں میں سرُخی اور پُشت پر دو کالے سیاہ پَر پھیلائے اُسکے پیچھے کھڑا تھا وہ ڈر کر اسیر کے سینے میں چُھپ گئی تھی مگر اسنے طلسم کا ہاتھ پکڑ لیا تھا ” چچ چھوڑو مجھے کون ہو تم؟ طلسم اور اسیر دونوں اُسکا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کررہے تھے ” تم چھوڑتے ہو یا میں !
“ اُسکا مقابلہ کرنے کی بےواقوفی مت کرنا اسیر تم اسے نہیں ہرا پاؤ گے !” غفران نے اسے تنبیہ کی ۔
“ کون ہے یہ ؟ سناش نے غفران سے پوچھا تھا جو اس مخلوق کے پاس جارہا تھا ڈرتے ڈرتے اس نے اسے پوچھ ہی لیا ” جاودات تم یہاں کیوں آئے ہو؟”
سُرخ آنکھوں کا رُخ غفران کی طرف موڑا ” امبر پارہ! طلسم کا ہاتھ پکڑے وہ امبر پارہ کا نام ہی لیے جارہا تھا ۔
“ نہیں جاودات یہ امبر پارہ نہیں ہے یہ شہزادی طلسم ہیں ذولفشان کی بیٹی امبر پارہ نہیں ہے یہ ! ” غفران اسے سمجھا رہا تھا طلسم کا ہاتھ بھی اسنے نرمی سے اس سے چھُڑا لیا تھا ” امبر پارہ ہے وہاں اس کے پاس ۔۔۔۔” وہ طلسم کے پیٹ کی طرف اشارہ کررہا تھا جس پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا ” کیا !!”
غفران نے اسکی نظروں کے تعاقب میں طلسم کو دیکھا جو اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے اسیر کے پیچھے چھپ رہی تھی ۔
“ غفران یہ کون ہے بتاؤ گے !” سناش نے چیخ کر پوچھا
یہ جاودات ہے شہرِ سحر میں بہت ساری مخلوقات میں سے ایک مگر یہ ایسا نہیں ہے یہ بُرا نہیں ہے خطرناک بھی نہیں ہے جب تک غصے میں نہیں یہ اس کی اس حالت کا زمہ دار بھی صیاد ہے راجہ سناش یہ ایسا نہیں تھا یہ تو اتنا حسین تھا کہ اسکا حُسن سات پردوں سے بھی ظاہر تھا اسکے پَر کالے نہیں سفید تھے جہاں یہ کھڑا ہوتا تھا وہاں سے دور دور تک اسکے پَروں کا نور روشنی کردیتا تھا انکی ہنسی کھنک شہرِ سحر میں چڑیوں کی چہچہاہٹ سے زیادہ خوبصورت تھی ۔اور ان سب کی وجہ امبر پارہ تھی اسکی ہمسفر وہ حور تھی اتنی خوبصورت کے کسی انسان کے لیے اسے چھونا حسرت میں سے ایک تھا اسکے انگ انگ سے نور جھلکتا تھا اُسکی آنکھیں ہرن سے زیادہ خوبصورت تھیں وہ مسکراتی تھی تو کلیاں چٹخنے لگتی تھیں اسکا روم روم گلاب کی پنکھڑی کی طرح نرم تھا جاودات کی روح تھی وہ یہ دونوں شہرِ سحر میں رہتے مگر انکی شراتیں حرکتیں محبت شہرِ سحر کا نظام درہم برہم کررہی تھیں ایسا نہیں تھا یہ تباہی پھیلاتے تھے مگر ستاتے تھے اسلیے آدم نے ان دونوں کو شہر سے چلے جانے کا حکم دیا مگر انھوں نے انکار کردیا راجہ آپکو وہ تلوار یاد ہے جو صیاد کے پاس تھی وہ صیاد کی نہیں جاودات کی تھی آدم نے جاودات سے معاہدہ کیا کہ اگر کوئی اسے تلوار بازی میں ہرا دے تو وہ یہ شہر چھوڑ دے گا اسنے منظور کرلیا تب آدم نے اپنے ایک خاص شاگرد جسکی نہ تو کسی نے شکل دیکھی تھی نہ ہی نام سُنا تھا اسنے جاودات کو ناصرف تلوار بازی میں ہرایا تھا بلکہ اسکی تلوار بھی تباہ کر دی تھی جاودات شہر چھوڑنے کو تیار ہوگیا تھا مگر اسنے آدم سے التجا کی تھی کہ وہ اسکی تلوار کسی طریقے اسے واپس کردے تب آدم نے اپنی طاقتوں کے کچھ حصے سے جاودات کو وہ تلوار لُٹائی تھی امبر پارہ اور جاودات شہر سے دور یہاں کال جنگل میں بس گئے تھے اپنی دُنیا میں خوش مگر صیاد آدم کی طاقتوں کا حصہ وہ تلوار اور امبر پارہ کو چھینا چاہتا تھا اسنے اپنے جادو کے زریعے سے امبر پارہ کا اغواہ کیا اور جاودات کو مار دیا اس سے وہ تلوار لے لی مگر جاودات نہیں مرا امبر پارہ کی موت کے جاودات کو ختم کردیا وہ کالی غاروں میں اداس رہنے لگا اور اداسی امبر پارہ کی موت نے اسی اس حالت میں پہنچا دیا امبر پارہ کی روح آج بھی اسی جنگل میں جاودات کے پاس تھی مگر۔۔۔۔۔” غفران سوچتا خاموش ہوگیا تھا ۔
وہ سب تو ٹھیک ہے غفران پریہ طلسم کے پیچھے کیوں پڑا ہے ۔۔۔۔اسیر نے اُکتا کر کہا تھا کیونکہ وہ مسلسل ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے جارہا تھا پھر اُسنے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اسیر نے اُسکے پیٹ میں مارا بھی مگر اسے کچھ بھی نہیں ہوا ” وہ فولاد ہے اسیر اور اس وقت تو وہ غُصے میں ہے تم اُسکا کچھ نہیں بیگاڑ پاؤ گے ۔” وہ پُرکوشش اسکا ہاتھ چھڑا رہا تھا ۔” تو کیا کروں اسے جانے دو میری طلسم کو لیکر !” وہ چیخا ” میری امبر پارہ میں لیکر کر جاؤں گا اسے ۔۔۔۔۔” اُسکے پیٹ پر نظریں مرکوز کیے خودکلامی کر رہا تھا غفران نے اُسکی نظروں کے زاویے کو سمجھنے کی کوشش کی پھر اُسے یاد امبر پارہ کی روح کال جنگل میں طلسم کو خوشبو آنا اسے سونگھنا ” نہیں یہ نہیں ہونا چاہیے تھا شہزادی آپ نے جو گلابوں کی خوشبو آپ نے سونگھی وہ خوشبو امبر پارہ تھی جو ہوا کے ساتھ آپ کے جسم میں اُتر چکی اور شاید آپکے بچے کی جگہ لے چُکی ہے جاودات اپنی امبر پارہ کو پہچان سکتا ہے اور وہ اس لیے شہزادی طلسم کو لیجانا چاہتا ہے ۔۔۔۔” جاودات اسے کھینچتا اسیر سے حد تک دور کرچُکا تھا مگر اگر امبر نے دوبارہ جنم لیا تب تک جاودات کس حال میں ہوگا ؟” غفران پُرسوچ لہجے میں کہتا جاودات کے سامنے جا کھڑا تھا ” روکو جاودات ایسا نہیں کرو !” مگر اُسنے غفران کو دھکیل دیا تھا مگر غفران کے اگلے لفظوں نے اُسکے قدم جکڑ دیے تھے ” وہ تمہیں ایسے کبھی نہیں ملے گی !”
اُسنے لہو چھلکاتی آنکھوں سے غفران کو دیکھا اسیر سناش فاریہ سورانچھ سب وہیں آگئے تھے ۔” ہاں جاودات تم بکھر جاؤ گے بوسیدہ بدصورت ہوجاو گے اُسکا انتظار کرتے کرتے وقت کی ریت تمہیں تمہارے اس حُسن کو ڈھال دے گی آج تک کوئی جادوگر وقت روک نہیں سکا تم بھی نہیں روک پاؤ گے اگر تمہیں امبر پارہ کو پانا ہے تو تمہیں بھی مرنا ہوگا دوبارہ جنم لینا ہوگا مرنا ہوگا تمہیں !” وہ غفران کی باتیں سُن رہا تھا آخر اُسنے طلسم کا ہاتھ چھوڑ دیا وہ اپنی کلائی سہلاتی اسیر کے پیچھے چھُپ گئی تھی کچھ دیر وہ زمین کو گھورتا رہا پھر اچانک اُسنے اپنے پیچھے لگے کالے پَروں کو اُکھیڑنا شروع کردیا اسکی اس حرکت نے لڑکیاں تو لڑکیاں سناش اور اسیر کو بھی رُخ پھیرنے پر مجبور کرگئی تھی خون کی بوندیں اسکی پُشت ٹپک رہی تھی وہ تکلیف برداشت کرتا انھیں اُکھیڑ پھینکا تھا اب وہ بلکل عام مردوں جیسا لگ رہا تھا اسکے پر ہی اسے ہیبت ناک اور وحشی بناتے تھے اور اُسکی طاقت بھی برہنہ سینا لیے وہ باہیں پھیلا کر غفران کو دیکھ رہا تھا ” مارو مُجھے !
جس پر غفران نے نفی میں سر ہلایا تھا اُسنے تو سوچا تھا یہ سُن کر وہ قدم پیچھے کر لے گا مگر یہ تو مرنا چاہتا ” مارو ! وہ شہر کی طرح دھاڑا تھا مگر غفران ٹس سے ِمس نہیں ہوا اُسنے دوبارہ طلسم کو پکڑ لیا تھا ” اسیر بچائیں مُجھے ! اسیر ! اورتب اسیر نے اپنی اب تک کی سب سے سفاک غلطی کی تھی سناش کی تلوار چھین کر جاودات کے پیٹ میں گُھسا دی ” اسیر نہیں !” مگر وہ جاودات کر مار چُکا تھا جس نے پّر اُکھاڑ کر اپنی طاقتیں بھی ختم کردی تھی وہ کمزور تھا اسلیے مر گیا مگر اسکی روح ایک سفید دھواں بن گئی تھی ۔
Present night …
وہ بات کرتا کرتا اچانک رُک گیا تھا زُمر جو کے خاموش حیرت زدہ ہوتا سُن رہا تھا اسکی طرف متوجہ ہوا ” پھر پھر کیا ہوا !”
اس سے پہلے کے اسیر کچھ بولتا کچن میں کسی ہل چل کی آواز آئی وہ تینوں ایک ساتھ باہر آئے سامنے کچن میں زرمیش فریج سے پانی نکال رہی تھی آنکھوں کو ملتے اُسنے ان سب کی طرف دیکھا ” آپ لوگ سوئے نہیں ابھی تک ؟”
“ زرمیش ! اسیر اسے پیار کرنے کے لیے آگے بڑھا تھا مگر وہ کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کردیا زُمر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا منا لیں گے آپ مجھے یہ بتائیں کہ جاودات کی روح کہاں گئی۔
Past …
جاودات کی روح سفید دھواں بنے انکے سامنے لہرا رہی تھی مگر ایک لمحہ لگا تھا اسے فاریہ کے جسم میں اُترنے میں فاریہ ! وہ حواس سے بیگانہ زمین پر گِرنے سے پہلے سناش کے باہوں میں جھول گئی تھی غفران نے افسوس سے سر جھُکا لیا تھا اسیر کو اپنی غلطی کا احساس اب ہوا تھا ” نہیں ! میں یہاں کبھی نہیں آؤں گا یہ میرا بچہ اسکی امبر پارہ نہیں ہے میں کبھی نہیں آؤں گا یہاں !!!!”
اسیر طلسم کا ہاتھ پکڑے چاند کے دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا فاریہ کو ہوش آگیا تھا وہ دروازہ پار کررہا تھا جب غفران نے اُسکا ہاتھ پکڑا ” اسیر میری بات سُنو ایسے مت جاؤ یہیں روکو ہم کوئی حل نکالتے ہیں !” مگر اسنے اپنا ہاتھ چھڑا لیا ” نہیں چاچو اب نہیں میں میرے بچے کو کچھ نہیں ہونے دوں گا میں قسم کھاتا ہوں میں یہاں دوبارہ کبھی نہیں آؤں گا نہ میں یہاں آؤں گا اور نہ ہی کوئی میرے بچے کو مجھ سے چھین سکے گا ۔۔۔۔” سب کو نظر انداز کرتا اسیر شہرِ سحر کو کبھی واپس نہ آنے کی قسم کھا کر چھوڑ آیا تھا مگر وقت کا پہیہ جب بھی گھومتا ہے ناجانے کتنی دھول لپیٹ کر کہیں کی کہیں پہنچا دیتا ہے ۔۔۔”
Present..
اسیر سر پکڑے صوفے پر بیٹھا تھا ۔ طلسم کے آنسو ایک لمحے کو بھی نہیں رُکے تھے زُمر کسی غیر مرائی نقطے کو گھور رہا تھا ” تم بتاؤ مجھے زُمر کیا میرا ڈر سچ نہیں کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا تمہاری بہن کو تمہاری باربی کو کوئی ہم سے چھین لے گا طلسم کہتی ہے ہمیں شہر سحر واپس جانا ہوگا امانت لوٹانے تب ہمیں لگتا تھا ہماری بیٹی پیدا ہوگی مگر ڈاکٹر نے بتایا ہمارا بیٹا ہے ایک ہی بچہ ہے ہم حیران تھے کہ اگر امبر پارہ ہمارے پاس ہے تو ہمارا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے بیٹی ہونی چاہیے مگر جب ڈیلیوری کے بعد ڈاکٹر نے تمہیں مجھے دینے کے بعد کانپتے ہاتھوں سے ایک بیٹی لاکر دی تو میرے ہاتھوں سے وہ نیچے گِرنے والی تھی مگر میں اُسے نہیں پھینک سکا زُمر وہ نرم تھی روئی کی طرح لال چھوٹی سی اتنی پیاری تھی مجھ سے نہیں ہوا میں اسے خود سے دور نہیں کرسکتا زُمر میں اسلیے ڈرتا ہوں وہ نظم اسے کیسی آئی وہ جاودات کی تصویر کیسے بنائی مجھے کچھ نہیں پتا مجھے بس اتنا پتا ہے کہ وہ میری بیٹی ہے میری زرمیش کسی امبر پارہ نہیں وہ انسان ہو یا روح وہ میری بچی ہے اور میری ہی رہے گی ۔”
ایک گہرا سانس خارج کرتا وہ گھُٹنوں کے بَل اسکے پاس بیٹھ گیا “امبر پارہ ہماری زرمیش ہے تو جاودات کون ہے ؟”
