902.3K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 5

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

نہیں نہیں سناش مجھے یہ بچے نہیں کسی طریقے اسکو ختم کردے میں اسے پیدا نہیں کرنا چاہتی یہ خودبخود آیا ہے میرے جسم میں نہیں چاہتی کسی کو مشکل میں ڈالنا .” وہ بستر پر بیٹھی تھی اور سناش اسکا ہاتھ پکڑے نیچے ” فاریہ میں کیا کہوں مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا یہ کیا ہوگیا ہمارے بچے کی جگہ کوئی اور لے گیا تم سہی کہہ رہی ہو ہمیں ختم کردینا چاہیے مگر کیسے ۔۔۔۔۔۔”

“ راجہ سناش آپ غلط سوچ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں جاودات دوبارہ پیدا ہوا تو عام بچوں کی طرح ہی ہوگا عام طور پر بچے جیسے ہوتے ہیں معصوم خوبصورت وہ میں نے کہا نہ وہ بُرا نہیں دیکھے گا جب وہ اس دنیا میں آئے گا نہ آپ کو اس سے سب سے زیادہ محبت ہو گی رانی فاریہ ۔۔۔۔۔” وہ اپنی کمرے کی کھڑکی میں بیٹھی دن کو تکتے ماضی کی یادوں میں جابسی تھی غفران کی بات سچ تھی فاریہ کو ضامن کے بغیر سانس لینا تک دشوار لگتا تھا وہ حقیقت میں جو بھی تھا مگر بیٹے ہونے کا حق اسنے پورا ادا کیا تھا ۔

” مجھے نہیں پتا زُمر وہ کیسا دِکھتا ہوگا سچ ہوا بھی ہوگا یا نہیں مگر وہ سناش اور فاریہ کے پاس ہے اور وہ دونوں ہم سب سے بہت دور نہیں ہم وہاں نہیں جائیں گے ۔۔۔۔۔” زُمر نے بہت نرمی سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ” بابا میں یہ نہیں کہتا کہ آپ کی کنسرن یا آپکی محبت زرمیش کے لیے کم ہے یا غلط ہے مگر بابا آپ اسے اسکے سچ سے دور رکھ رہے ہیں یہ غلط ہے مجھے بھی مام کی طرح یہی لگتا ہے کہ ہمیں وہاں جانا چاہیے زرمیش کو جاودات سے ملنا ہوگا ۔۔۔” اسیر نے زُمر کے ہاتھ سے ہاتھ کھینچ لیا تھا ” بابا میری بات سُنے بابا وہ ہماری نہیں ہے وہ کسی اور کی ہے جو اپنے آپ کو موت کی گھاٹ اتار کر دوبارہ صرف اُسکے لیے آیا بابا پلیز یہ مت کریں آپ غلط کر رہے ہیں آپ خود سوچے کڑیاں خودبخود جُڑتی جارہی ہیں اور عنقریب وہ اسے لیجائے گا اس سے بہتر یہ ہے بابا کہ ہم کچھ بھی ہونے سے پہلے خود انھیں ملا دیں ۔” ان دونوں کے سامنے ٹہلتا وہ انھیں سمجھانے کی کوشش کررہا تھا ” مگر زُمر میں مانتا ہوں میں غلط کر رہا ہوں مگر ایک باپ ہوں نہ ناجانے وہ کیسا ہوگا وہ دیکھنے میں خوفناک وحشی خطرناک ہوا تھا اسلیے میرا دل نہیں مانتا زُمر ۔۔۔”

“ بابا وہ چاہے جیسا بھی ہو ہم انھیں ایک کریں گے بابا ادھوری محبت کتنی تکلیف دیتی ہے میں جانتا ہوں مگر زندگی بہت کم لوگوں کو یہ موقع دیتی ہے وہ دونوں ایک بار پھر اس دُنیا میں ایک ہونے آئے ہیں اگر وہ ہماری وجہ سے ایک نہ ہوئے تو مجھے بہت دُکھ ہوگا بابا میں اپنے آپ کو اور آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اسکے گھُٹنوں کے بل بیٹھا وہ اپنی بہن کی محبت کی بھیک اپنے باپ سے مانگ رہا تھا ۔اسیر نے اسکا ہاتھ اپنے گُھٹنے سے ہٹایا ” مجھے وقت دو ! اور اٹھ کر چلا گیا زُمر نے سر طلسم کی گود میں رکھ لیا تھا ” مام زرمیش چلی جائے گی اتنی دور کے ہم اس سے کبھی مل نہیں پائیں گے ؟”

مشکل ہے زمر بات ایک شہر سے دوسرے شہر یا جگہ کی نہیں ہے ایک دنیا سے دوسری دنیا کی ہے ۔” اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتی وہ اسے سمجھا رہی تھی ” مام میں نے بابا کو تو سمجھا لیا مگر مجھے ان سے زیادہ ڈر لگ رہا ہے پتا نہیں وہ کیسا ہوگا ہماری زرمیش کو کیسے رکھے گا وحشی ہوا تو ؟”

وہ بڑے اختیاط سے کبوتر کے زخمی پیر سے تار نکال رہا تھا آرام سے طبیب کا بنایا لیپ اسکے پیروں پر لگایا ایک کبوتر اسکے کندھے پر بیٹھا تھا ” یہ کیا کر رہے ہیں شہزادے ضامن ؟ رومی جوکہ ابھی ابھی کسی کے بعد ضامن کے پاس ایا تھا اسے باغ میں نیچے بیٹھے دیکھ پاس ہی بیٹھ گیا ” کسی کے درد کا مرہم کر رہا ہوں رومی یہ پرندہ زخمی ہے اسکا علاج کررہا ہوں …”

“ آپ اتنا پیار کیوں کرتے ہیں قدرت سے مطلب جو جسموں سے تلواریں آرپار کرتا ہو وہ ایک پرندے کی تکلیف اسے فرق کیوں پڑے گا ؟”

“ تلوریں انکے جسموں سے پار ہوتی ہیں جو دوسروں کو دُکھ دیتے ہیں معصوم اور معصومیت کمزوری ہے ہماری تم فکر مت کرو ہمیں محبت سے بے پناہ محبت ہے ۔۔۔۔۔” پرندہ اسکے ہاتھوں میں تھما کر خود وہ اٹھ کر چلا گیا ۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں زرمیش کے کمرے میں گئے تھے جہاں اسیر پہلے سے اسکا سر گود میں رکھے بیٹھا تھا طلسم اسکے پیروں کی طرف اور زمر اسکا ہاتھ تھامے نیچے بیٹھ گیا جو کسی معصوم بچے کی طرح سو رہی تھی زمر نے اسکے ہاتھوں کو لبوں سے لگایا ” وہ خوش رہے گی بابا آپ فکر مت کریں .”

“ زمر میں نہیں چاہتا جو میں نے برداشت کیا وہ میرے بچے برداشت کریں میں زرمیش کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔۔”

“ بابا ہم وہاں جائیں گے اسے دیکھیں ہمیں سہی لگا تو ہم یہ راز ان پر آشکار کریں گے ورنہ ہم اُلٹے قدموں واپس آجائیں گے اتنی جلدی ہم زرمیش کو نہیں سونپے گے۔۔۔۔۔”

“ تم پر یقین کر رہا ہوں زُمر میری بچی تم اپنی زمہ داری سے بھیج رہے ہو میری بچی کچھ ہوا تو یاد رکھنا میں بھول جاؤں گا میرا کوئی بیٹا بھی تھا لے جائیں گے اسے وہاں مگر ان سب کے زمہ دار تم ہوگے ۔۔۔۔! اپنا فیصلہ سُنا کر وہ چلا گیا تھا طلسم اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی اسلیے وہ بھی اسکے پیچھے چل دی وہ اٹھا اسکے ماتھے پر پیار کیا کمفرٹر سہی کیا ” تم فکر مت کرنا باربی تیرا بھائی تیرے ساتھ ہے تجھے تیری محبت مل کر رہے گی مگر وہ محبت تیرے حق میں نہ ہوئی تو تیرا بھائی سب سے لڑ جائے گا ۔۔۔۔۔”

دروازہ بند کرکے قدم اپنے کمرے جانب کرلیے تھے اسنے تین وجودوں کی رات غم غصے تجسس کی بھینٹ چڑھ گئی تھی ۔

“ یہ لے کھا تجھے پتا ہے میرا نکاح ہے پرسوں نازنین کے ساتھ ۔۔۔۔۔” جازب کی بات سن کر اسنے مسکراتے ہوئے لڈو منہ میں رکھا مگر نگلا زہر کے گھونٹ کی طرح تھا ۔دو دن سے پورے گھر میں گہری خاموشی تھی طلسم زرمیش کو منانے کی جدو جہد میں لگی تھی اور اسیر نے خود کو آفس میں ہی گم کرلیا تھا زمر زرمیش کی وجہ سے پہلے سے پریشان تھا جب یہ خوشی کی خبر زمر کے سماعتوں میں زہر بن کر اتری تھی مگر اب تو سب ختم ہونے والا تھا “مبارک ہو یار بڑا تیز نکلا ہے مگر یار میں نہ تیرے نکاح میں شاید نہیں ا پاؤں گا بابا آجکل کام کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں تو مجھے انکی تھوڑی سی ہیلپ کرنی ہے کچھ دن آفس بھی دیکھنا ہے ۔۔۔۔”

“ میں نے نہ منہ توڑ دینا ہے تیرا اگر تو میرے نکاح میں نہیں آیا تو یار اک تو ہی تو دوست ہے میرا تو نہیں آئے گا تو میں نازنین سے نکاح نہیں کروں ۔۔۔۔”

“ جازب تم مجھ سے نکاح زمر کی وجہ سے کر رہے ہو؟” وہ دونوں بات کرہی رہے تھے

جب نازنین وہاں اگئی.زُمر اسے دیکھ کر کچھ پریشان ہوگیا تھا ” نہیں نازنین جازب کے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھاوہ تو…….

میں نےآپ سے پوچھا ڈاکٹر زُمر ؟

“نازنین وہ دیکھو نہ زُمر ہماری شادی میں انے سے انکار کررہا ہے تم اسے کچھ کہو نہ پلیز !”

جس انسان کو خود کوئی فرق نہیں پڑھتا ہو اسے کیا کہیں جسے آنا ہو ائے جسے نا آنا ہو نہ آیے …….”

اپنا فیصلہ سُنا کر چلی گئی تھی اور وہ دونوں اسکا چہرا دیکھتے رہ گئے تھے .پھر زُمر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا” میں کوشش کروں گا جس پر وہ صرف مسکرا سکا تھا .

کھانے کے میز پر گہری خاموشی چھائی تھی پھر زُمر نے ہی بات شروع کی ” باربی تم میجیکل ولڈ میں بلیو کرتی ہو ؟”

اس بات پر طلسم اور اسیر نے حیرت سے اسے دیکھا اسنے انھیں تحمل کا اشارہ کیا .

“میجیکل ولڈ یعنی باربی ڈیزنی نہیں بھائی آپ مجھے باربی کہتے ہو اسکا مطلب یہ نہیں مجھے ان سب میں یقین ہے ….”چاولوں کا چمچ منہ میں ڈالتے وہ اسے ایک منٹ کے لیے چُپ کروا گئی تھی.

اور اگر باربی میں یہ کہوں کہ ایسی دُنیا سچ میں ہےتو ؟

چمچ کو پلیٹ میں چلاتی اسنے حیرت سے زُمر کو دیکھا ” تو میں کہوں گی بھائی اپ نے پھر سے کارٹون دیکھنے شروع کردیے “یہ کہتے اسکی ہنسی چھوٹ گئی تھی مگر دوسرا کوئی نہیں ہنسا تھا .زُمر سرجھکا گیا مگر پھر پوچھا ” باربی وہ بلیک اینجل جسکی پینٹنگ تم نے بنائی ہے وہ کہاں دیکھا تھا ؟

آ…..وہ ڈریم میں بہت عجیب سا ڈریم تھا وہ میں فیری بنی ہوئی تھی میرے وائٹ ونِنگز تھے اور وہ بلیک اینجل وہ میرے ساتھ تھا اینڈ وی ور فلائنگ …..اسکی پکچر مائنڈ میں رہ گئی تو بنا دی ….کیوں ؟اسکا خواب سن کر زُمر کے چہرے پر مسکراہٹ اگئ تھی اسیر نے گہری سانس خارج کی .

اوکے باربی اور وہ جو پوئیم تم اس دن سُنا رہی تھی وہ تو پوری کردو ..”اسنے معصوم سا منہ بنایا جس پر زرمیش نے ایک نظر اسیر کو دیکھا اور سر جھُکا لیا

“زرمیش سُوری بیٹا مجھے اس دن غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا اپنے بابا کو معاف نہیں کرو گی ؟اسیر نے پشیمان نظروں سے زرمیش کو دیکھا جو ابھی بھی سرجھُکائے بیٹھی تھی پھر مُسکرا کر سر اٹھایا ” اتنی جلدی نہیں اے ایس کان پکڑ کر بولیں ….”اسکی بات سن کر وہ اسکے ساتھ والی چئیر پر ایا اور اسکے کان پکڑ کھینچنے لگا ” سوری !!!”

آ….بابا مام دیکھے نہ اچھا ٹھیک ہے چھوڑیں ! اسنے کان سہلاتے ہوئے ناگوار سا چہرا بنایا اسیر نے اسکے ماتھے پر شفقت بھرا بوسہ دیا “اب تو سُنا دووووو! زُمر نے جملہ لمبا کھینچتے ہوئے کہا .زرمیش نے سوالیہ نگاہوں سے اسیر کو دیکھا جس نے مسکرا کا اثبات میں سر ہلایا …

اک اجنبی سا احساس ہے…

لگتا کوئی ہر پل میرے ساتھ ہے….

تم بِن بنجر سی راہوں میں ریت کا ہر زرہ اداس ہے…

میری روح مکین اُس طرف ….

میرا وجود میری ہی آواز ہے….

شہرِسحر کے باشندے ہم بے جرم نا قید کا کوئی جواز ہے ….

درمیان کے دو جملوں پر اسیر اور طلسم نے ایک دوسرے کو دیکھا نظم کے الفاظ بدل دیے اسنے …..” زرمیش تم نے یہ خود لکھی ہےیا کہیں سے پڑھی ہے بیٹا کیونکہ مجھے لگتا ہے تم نے کچھ غلط کہا ہے ؟”سوال طلسم کا تھا مگر جواب سب سُنا چاہتے تھے .

” نو مام میں نے خود لکھی اور ایسے ہی ہے ……”اسنے ایک نظر ان دونوں دیکھا “اوکے مام مجھے پڑھنا ہے گُڈ نائٹ !انھیں پیار کر کے وہ چلی گئی تھی .

کیا ہوا مام کچھ غلط کہا اسنے ہاں زُمر الفاظ یہ نہیں تھے بدلے ہیں …..یہ طلسم نے کہا تھا مگر اسیر کسی غیر مرائی نقطے کو گھور رہا تھا .”بابا !” “کیونکہ اس بار شہرِ سحر ہمیں نہیں زرمیش کو بلا رہا ہے طلسم تمہں یاد پچھلےبار تم اسیرِطلسم کو لینے آئی تھی تو الفاظ میری حقیقت تھے مگر اس بار الفاظ زرمیش کی حقیقت ہیں اسکا ادھورا پن ……”اسکی بات سن کر طلسم افسردگی سے سرجھُکا گئی تھی . پر بابا ہم زرمیش کو وہاں لیکر کیسے جائیں گے ؟اس بات پر وہ دونوں لاجواب ہوگئے تھے. وہ اسی دیوار کے سامنے کھڑی تھی اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہ اچانک اسکے پروں نے اسے پھر اپنی لپیٹ میں لیکر دوسری دُنیا میں پینچا دیا .وہ پھر سے اسی سفید لباس میں موجود تھی سفید پروں کے ساتھ وہ جنگل تھا مگر خوف ناک نہیں سبز ہرے بھرے درخت درختوں سے نیچے گِرتی پھولوں سے لدی بیلیں ہر طرف پھیلی پھولوں کی سوندھی سوندھی خوشبو چہچہاتی چڑیا اور اسکے کندھے پر بیٹھا کبوتر تمام منظر مصنوعی سا محسوس ہوتا تھا کہ پھر اپنے ہاتھوں میں اسے کسی کا لمس محسوس ہوا دائیں جانب نظر گھمائی تو خوبصورت چہرے پر دلنشین مُسکان اگئی تھی ” کہاں تھے ؟” تمہیں دیکھنے میں مصروف تھا تم وقت کہاں دیتی ہو” سفید پروں کے ساتھ وہ اپنے پورے جمال کے ساتھ اسکے سامنے کھڑا تھا . ان دونوں کے پروں میں تھرتھراہٹ ہونے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتےوہ ہوا کے دوش پر سوار ہوگئے اڑتے اتکیلیاں کرتے کہ اچانک امبر پارہ کہیں عائب ہوگئی وہ اسے پکارنے لگا مگر وہ کسی کی گرفت میں پھڑپھڑاتی اسے بے چین ہوتا دیکھ سکتی تھی اور پھر ایک تیر جاوادت کے سینے میں گھُس گیا جاودات!!!! اسے پکارتی وہ نیند سے بیدار ہوئی تھی وہ بلکل پسینے میں شرابور تھی اسنے پانی پینے کے لیے جگ پکڑا مگر وہ گِر گیا طلسم جوکہ اسی پریشانی میں سو نہیں پارہی تھی کانچ ٹوٹنے کی آواز سے اسکے کمرے میں اوراسکی حالت دیکھ کر اور پریشان ہوگئی تھی وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی وہ سنبھل ہی نہیں رہی طلسم اسیر کو بلا لائی تھی آوازیں سن کرذُمر بھی اگیاتھا ” زرمیش ! زرمیش میرا بچہ کیا ہوا ! وہ اسیر کے گلے لگی کانپ رہی تھی طلسم اسکے لیے پانی لائی تھی زُمر اسکے ہاتھ پیر رگڑ رہا تھا پانی پینے کے بعد وہ کچھ سنبھلی اور ڈری ہوا اسیر کے سینے میں چھپی بیٹھی تھی ” باربی ! باربی کیا ہوا ؟ زُمر نے اسکے ماتھے پر بکھرے بال پیچھے کرتے ہوئے پوچھا .اسنے ڈرتے ڈرتے سامنے دیوار کی طرف اشارہ کیا وہ بلیک اینجل اب بھی اپنی پوری وحشت کے ساتھ دیوار کے ساتھ ساکن تھا .” ڈڈ …ڈریم میں دیکھا پھر سے یہی اینجل اسے مار دیا کسی نے ….بابا اسے مار دیا کسی نے !! چہرا اسیر کی طرف اٹھائے ….زُمر اب بھی اس پینٹنگ کو ہی دیکھ رہا تھا کہ اچانک زرمیش کے الفاظ نے اسکے کان کھڑے ہوگئے تھے ” میرے جاودات کو مار دیا بابا جاودات کو مار دیا ……”اسیر کے سینے میں منہ چھپائے خود ہی بولتی جارہی تھی اور پھر غنودگی میں چلی گئی ” زرمیش ! زرمیش ! اسیر نے اسکے گال تھپتھپائے زُمر نے اہستہ سے اسکا سر تکیے پر رکھا اور ان دونوں کو باہر انے کا اشارہ کیا ” اسے جاوادت یاد ہے بابا سُنا اپ نے اسے جاودات یاد ہے مگر ابھی وہ اس کنڈیشن میں نہیں کے. اس سے سوال کیے جائیں اور اپ یہ چاہتے تھے کہ اسے اسکی حقیقت نہ بتائیں تاکہ وہ ساری زندگی ان خوابوں سے جونجتی رہے……” اب زرمیش کو شہرِ سحر میں لیکر جاوں گا اسکے جاودات کے پاس …..ایک عزم سے کہتا زمر سوچتا کمرے میں چلا گیا .اسیر بھی طلسم کو کندھوں سے تھامتا چلا گیا .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام ہال چاندنی میں نہا گیا تھا گلاب اور فرنگی پانی سے سجا ہال پھولوں کی خشبو گلاب سی کِھلی دلہن اور معززین کی توجہ کا مرکز مسکراتا دلہا اور زُمر سلگتا دِل وہ بلیک تھری پیس میں ملبوس سامنے نازنین کو کسی اور کی ہوتا دیکھ رہا تھا . کہ اچانک نازنین نے اسے اشارہ کیا اور اُٹھ کر چلی گئی .اسکے قدموں کے تعاقب میں ایک کمرے میں اگیا تھا نازنین نے اگے بڑھ کر دروازہ بند کیا کچھ پل تو یونہی خاموشی کی نظر ہوگئے زُمر کچھ کہنے والا تھا جب نازنین نے ہاتھ جوڑ دیے ” اب بھی وقت ہے زمر باندھ لو جازب کا سہرا نہیں رہ پاوں گی میں تمہارے بغیر …..”اسنے نرمی سے اسکے ہاتھ نیچے کیے میں تم سے نکاح کروں گا مگر میری ایک شرط ہے …..” اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ” تم ابھی اور اسی وقت جازب کو مار دو گی جسٹ کِل ہِم کیونکہ اسکے وہ بعد زندہ رہا تو میں تمہیں کبھی محبت نہیں دے پاوں گا پل پل مروں گا آستین کا سانپ میں نہیں بنا چاہتا مارو جازب کو تاکہ تمہارا نکاح مجھ سے ہوجائے …..” نازنین نے ہاتھ اسکے ہاتھوں سے کھینچ لیا. ” وہ صدمے زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ” کیوں اب کیوں خاموش ہو کرو کیونکہ میں ایک انسان کی معصومیت خلوص وفا اور مسکراہٹ کا قتل نہیں کرسکتا کِھلواڑ نہیں کرسکتا ….” اور چاہے میری زندگی کے ساتھ کھلواڑ ہوجایے .”لال انگار چہرا لیے وہ اسے گھور رہی تھی ” تم نے خود کیا میں نے تو کہا تھا اسے وقت دو مگر تم اس وقت اپنی میری اور جازب کی زندگی برباد کرنے پر تُلی ہو ” اوکے مسٹر زُمر میں اپ تینوں کی زندگی اگر برباد کر رہی ہوں تو ٹھیک ہے میں نے تم سے محبت کی بھیک مانگی زُمر اور تم نے جازب کا کشکول بھراآج ایک سوالی تمہارے در سے خالی ہاتھ جا رہا ہے تمہیں کبھی فراونی نہیں ملے گی پل پل تڑپی ہوں میں تِل تِل مرو گے تم میری سانسیں بوجھ بن رہی ہیں تمہاری عذاب بن جائیں …میری محبت دھتکاری گئی تمہاری رسوا ہوگی …..”نازنین خدارا بس کرو !!!! میں روئی ہوں تمہارے آنسو سوکھ جائیں گے ……میں ہر روز مری ہوں تم ہزار موت روز مرو گے…… میری زندگی کھلواڑ بن گئی تمہاری بے نشان ہوجایے گی ……اور پھر…….اور پھر مسٹر زُمر تمہارا عشق تمہیں سمیٹ لے تمہیں تمہاری محبت سکون دے ……اسکے آخری الفاظ پر وہ چونک گیا تھا ..سوچ رہے ہو بدعا کیوں نے دی تاکہ اپنی محبت کو آسانی سے پا کر تم مجھے بھول نا جاو تمہیں نازنین یاد رہے بتاو بھولو گے تو نہیں …..نرمی سے اسکا گریبان پکڑے وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی .اسنے نم انکھوں سے اسے دیکھا اور گال پر ہاتھ رکھے نفی میں سر ہلا دیا .اسکے چہرے پر ایک افسردہ مسکان اگئی .اسکا ہاتھ تھامے اسے باہر لایا ادھر اُدھر دیکھ اور چلا گیا وہ بس اسے جاتا دیکھتی رہ گئی ..نازنین فاروق ولد فارق اپکو یہ نکاح جازب ولید ولد ولید علی سے باعوض سکہ رائجلوقت پندرہ لاکھ قبول ہے ….اسنے گہرا سانس لیکر زُمر کی طرف دیکھا جس نے مسکرا کر اثبات میں سرہلایا اسے نظروں کے حصار میں لیے وہ جازب کو قبول کر رہی تھی قبول ہے ..

قبول ہے.

قبول ہے…

. جازب سے اقرار لینے کے بعد ایک لڑکا آکر زمر سے ملا ” مبارک ہو نکاح ہوگیا…اسنے پرنم انکھوں سے اسے دیکھا اور مسکرا دیا .

. بارش تا بدلاں تے…

باقی مور دی قسمت ہے..

. جو کل میری قسمت سی

او اج کسے ہور دی قسمت ہے …

وہ اُلٹے قدموں واپس چلا گیا .. گاڑی ڈرائیو کرتا وہ نازنین کی یادوں سے سر جھٹک رہا تھا .مگر کالج کنٹین میں اسکا ٹکرانا اسکا شرمانا مسکرانا کچھ بھی نہیں بھول پا رہا تھا . او ندی سی دریا لے گیا ..

میں تے ویکھ. دا رہ گیا….

اے تے چن دی مرضی اویے ….

چکور دی قسمت اے …

جو کل میری قسمت سی اج کسے ہور دی قسمت ہے ….

” نازنین میں نے تمہیں اتنا چاہا جتنا چاہ سکتا مگر کیا کرتا میری دوستی مجھ سے پہلے امتحان مانگ بیٹھی ۔۔۔۔”

وہ گھر واپس آیا تو اسیر زرمیش طلسم سب ہی لاوئنج میں پریشان بیٹھے تھے سب کو ایسے دیکھ کر وہ انکے قریب آیا ” کیا ہوا ہے ؟” اسنے پریشانی سے زرمیش کو دیکھا جو طلسم سے چپکی تھی پھر اس سے الگ ہوکر زمر سے مخاطب ہوگئی ” بھائی وہ وال پینٹنگ والا بلیک اینجل اسکی وجہ سے مجھے نائٹ مئیرز آنے لگے ہیں تو میں نے پینٹر سے کہا اسے مٹا دو پر ۔۔۔۔پر پینٹر نے دو بار پینٹ کیا پر وہ پینٹنگ ختم نہیں ہوئی ۔۔۔۔وہ عنقریب رو دینے والی تھی ۔

اسکی بات سن کر اسنے اُسکے کمرے کا رُخ کیا وہاں فرنٹ وال کا پینٹ بدل گیا تھا مگر وہ پینٹنگ اب بھی وہیں کی وہیں تھی ۔اسے دیکھ کر وہ باہر آیا اپنے آپ کو کمپوز کیا ” تو کوئی بات نہیں نہیں جارہی تو ۔۔۔۔۔ اٹس اوکے تم پریشان نہ ہو اور سو جاؤ اور سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھ لینا صبح رزلٹ ہے نہ دیکھتے ہیں اس بار ہماری زرمیش ٹاپ کرتی ہے یا نہیں پر مجھے نہیں لگتا باربی اس بار تھوڑا ۔۔۔۔۔” اسنے انگھوٹھا نیچے کی طرف موڑ کر کہا جس پر زرمیش نے بھنوے اُچکا کر اسکی طرف دیکھا ۔” اور اگر میں نے ٹاپ کرلیا تو مجھے کیا مِلے گا ؟”

“ ہممم جو تم کہو !” اسنے تھوڑی پر انگلی رکھ کر سوچنے کا انداز اپنایا ” تو مجھے آپ ویکیشنز پر لے کر جائیں گے اور سارا خرچہ آپ کریں گے ۔۔۔۔۔” زرمیش کی خواہش نے تو زُمر کا مسئلہ حل کردیا تھا ” ڈن باربی ایسے ایڈونچر پر لیکر جاؤں گا ساری زندگی بھول نہیں پا و گی ۔پھر اسے اچانک کچھ یاد آیا ” باربی کل رات کو کیا ہوا تھا تم ڈر کیوں گئی تھی کوئی نائٹ مئیر دیکھا تھا ۔

“ جی میں اسی پینٹنگ سامنے کھڑی تھی اور اچانک اسکے وننگز نے مجھے اپنے اندر سمیٹ لیا پھر میں کسی عجیب سی جگہ پر تھی بلکل بدلی سی اور وہی بلیک اینجل میرے ساتھ ہم اُڑ رہے تھے اور پھر۔۔۔۔اسے کسی نے مار دیا ۔ ” آخری بات پر وہ افسردہ ہوگئی تھی جو زمر نے واضع محسوس ہوا ” تو اس میں ڈرنے والی کونسی بات تھی کوئی مووی دیکھی ہوگی تم منظر رہ گیا ۔۔۔۔”

“ نہیں بھائی ایسی کوئی مووی نہیں تھی اور میں نہیں دیکھتی پر وہ ایسے تھے جیسے پہلے بھی دیکھا جب وہ جنگل میں بھاگ رہا تھا اور اسکے تیر لگا۔۔۔۔۔” اسکی آنکھیں نم ہوگئی تھیں ۔” باربی بُرا لگ رہا ہے !”

“ پتا نہیں بھائی جب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آتا ہے میرے دل میں درد ہوتا ہے شیک اِٹ آف بھائی مجھے نیند آرہی ہے ۔۔۔۔” اسکی کوئی بھی بات سُنے بغیر وہ کمرے میں چلی گئی اور وہ پیچھے سرد آہ بھر کر رہ گیا ۔

نکاح کے بعد نازنین کو جازب کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا وہ سیج پر بیٹھی آدھے گھنٹے سے اس کا انتظار کر رہی تھی کہ نیند اسکے کانوں میں گنگنانے لگی وہ پیچھے ہوتی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئی پندرہ منٹ ہی گزرے جب اسے اپنے ہاتھ پر کسی چیز کا احساس ہوا اسنے پھٹ سے آنکھیں کھول دیں جازب ہاتھ ہاتھوں لیے انگوٹھی پہنا رہا تھا اسے دیکھ کر کچھ شرمندہ سا ہوگیا ” پوری کوشش کی تھی تمہاری آنکھ نہ کھُلے مگر کُھل گئی ائم سوری ! ” جس پر وہ صرف اثبات میں سر ہلا گئی ” تم نہیں جانتی نازنین تم نے مجھے کتنی بڑھی خوشی دی ہے میں نے تمہیں تب سے محبت کی ہے جب تمہیں پہلی بار کلاس میں دیکھا تھا تب صرف ایک آہ لی تھی جیسے ایک بھوکا فقیر پکوان سے بھری دوکان کو دیکھ کر لیتا کبھی سوچا تھا کہ تم ایک دن اس طرح میرے لیے سج سنور کر بیٹھو یہ انگوٹھی تو پتا نہیں تمہارے معیار کی ہے یا نہیں پر یہ سوچ کر ہمیشہ پہنی رکھنا کہ یہ میری محبت ہے ایک زیور نہیں ۔۔۔۔۔۔اسکی بات پر اسنے اپنی انگلی میں پڑی ڈائمنڈ رنگ کو دیکھا جو کم سے کم بھی ڈیڑھ دو لاکھ کی تھی ۔اسنے پیار سے اسکی گال پر ہاتھ رکھا ” چینج کرلو میں نے تمہیں جی بھر دیکھ لیا جب تم سو رہی تھی ۔۔۔” اسنے اب دیکھ تھا خود تو کپڑے بدل چکا تھا وہ آرام سے اٹھی آئینے کے سامنے اپنا سراپا لیے کھڑی ہوگئی ہاتھ سب سے پہلے ناک پر پڑی نتھ پر گیا تھا دوپٹے کی پنز نکلی اور آہستہ آہستہ زیبائش کا سامان اتارنے لگی اس دوران وہ جازب کی نظریں اپنے پرمحسوس کرسکتی تھی ” میں ہیلپ کردوں ؟” اسنے نفی میں سر ہلا دیا اور کپڑے لے کر واش روم گھس گئی کچھ لمحے بعد وہ سادہ سرخ فراک پجامہ میں باہر آئی تو وہ بیڈ پر لیٹا آنکھیں بند کر چکا تھا وہ چپ چاپ ایک سائیڈ پر نگاہیں چھت پر مرکوز کیے لیٹ گئی ۔” اجازت ہو تو قریب آجاؤ نازنین ؟

اسنے حیرت سے رُخ موڑ کر اسے دیکھا جو محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ” آجاؤں ؟”

آپ تو شوہر ہے میرے حق ہے آپکا میں کون ہوتی روکنے والی !” اسنے بے بسی سے شاید ایک طنز ہی کیا تھا یا اپنا دکھ بتایا تھا ” شوہر ہو اسکا مطلب یہ تو نہیں بغیر اجازت تمہارے قریب آکر تمہاری تزلیل کردوں !” اسکی اس بات نے تو جیسے نازنین کا دل جیت لیا تھا اسے دیکھتے بے ساختہ ایک مسکراہٹ اسکے چہرے پر آگئی تھی جو وہ جلد ہی چھپا گئی ” لو ابھی تو دیکھنے ملی تھی پھر چھپا لی !”

“ میری مسکراہٹ اتنی بے باک نہیں ہے شرم و حیا کے تقاضے پورے کرنا جانتی ہے ۔۔۔” چھت کو گھورتے اسے بنا دیکھے دل کیا تھا اسے جواب دینے کا ” ہائے آپ کے تقاضوں نے ہماری جان لینی ہے ویسے قتل کرنے جتنا بارود تو آنکھ بھر چکی ہے تو مسکراہٹ دکھا کر ہمارے اوپر ملبے نہ گرائے ۔۔۔۔”

“ کچھ زیادہ ہی رومینٹک نہیں ہیں آپ ! وہ کروٹ بدل کر رُخ اسکی طرف کر گئی تھی ۔

“ قسم ہے آپکی جو آپکے علاوا کسی لڑکی کا نام بھی لیا ہوا ہم تو اپنی قسمت پر رشک کر رہے ہیں جسے چاہا وہ محرم بن گیا ۔۔۔۔”اسکی اس بات پر اسکا دل ڈوب گیا ” ہر کسی کی قسمت آپ جیسی کیوں نہیں ہوتی جازب !” اسنے زیر لب کہا تھا ۔

“ آپ نے جواب نہیں دیا ؟” اسنے پھر پوچھا ” کک۔۔۔کس بات کا ؟”

“ قریب آجاوں یا نہیں کے ابھی وقت لگے گا ۔۔۔۔۔۔۔”

“ معزرت !” یہ کہہ کر وہ رخ پلٹ گئی ۔کچھ دیر بعد اسنے خاموشی محسوس کی جب رخ پلٹا تو وہ سو چکا تھا چہرے پر خاموش مسکراہٹ لیے ۔۔۔۔۔۔اسنے ہمدردانہ انداز سے اسکے ماتھے پر ہاتھ پھیرا ” خود نہیں پتا آپ سے محبت کب ہوگی مجھے معاف کردیجیے گا ۔۔۔۔۔۔”

اگلی صبح ڈھیلی سی نائٹی میں ملبوس لیپ ٹاپ لیے صوفے پر بیٹھی تھی اسیر طلسم زرمیش تینوں نے فنگر کراس کی ہوئیں تھیں ٹین ! زمر کیچن میں چارو کے لیے آج سینڈوچ بنا رہا تھا ” نائن ! اسنے سلائس کے کنارے کاٹے ایٹھ! اسنے بنایا گیا میزا سلائس پر ڈالا ! سیون! تکون شکل کے اسنے دو سینڈوچ بنائے سِکس! اسنے دونوں تکون سینڈوچ میکر میں ڈالے فائف! سینڈوچز کو ترتیب سے ٹرے میں لگاتے اب وہ چائے کپس میں ڈال رہا تھا اسنے ایک نظر پاس پڑے نیوز پر ڈالی 14 اپریل2021 14 رجب۔۔” اسنے بے ساختہ تاریخ دوہرائی ” 14 رجب یعنی فُل مون نائٹ !”

آہ !!! وہ ابھی نیوز ہی پڑھ رہا تھا جب زرمیش کے چلانے کی آواز آئی وہ سمجھ گیا اسکے چہرے پر بے ساختہ ایک مسکراہٹ آگئی تو وقت آن پہنچا ۔۔۔۔۔ٹرے اٹھائے وہ باہر آیا چیک کا ٹراؤزر اور بلو ٹی شرٹ پہنے وہ باہر آیا جہاں اسیر اور طلسم اپنی ٹاپر بیٹی کی بلائیں لے رہے تھے اسنے ٹرے میز پر رکھی اور باہیں پھیلا کر کھڑا ہوگیا ” دیکھا بھائی آئی ڈن اِٹ اسکے گلے لگتی وہ اسے جتا رہی تھی ” مجھے تو پہلے ہی پتا تھا میری باربی کبھی ڈاؤن نہیں جائے گی اب ویکیشنز سٹارٹ ۔۔۔۔”

“ یس بھائی اور یہی رُکیں میں ولڈ میپ لیکر آتی ہوں ۔۔۔!” اسے وہیں چھوڑ کر وہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی ” مام بابا آج فُل مون نائٹ ہے تو ہمیں آج ہی زرمیش کو وہاں لیکر جانا ہے ۔۔۔”

“ زمر ضروری تو نہیں جانا وہ یہاں ہمارے پاس رہیے تو تمہیں کیوں نہیں منظور ۔۔۔۔”

“ بابا آپ دیکھ سکتے ہیں اپنی بیٹی کو روز ایک نئے خیال سے جونجتے میں نہیں پلیز بابا ٹرسٹ می مجھ پر تھوڑا تو یقین کریں اسے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔”

“ کسے کچھ نہیں ہوگا ؟میپ ہاتھوں میں لیے وہ انھیں حیرت سے انھیں دیکھ رہی تھی