Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 8
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
کامن سینس بابا ایک انسان جسکا ہم نے ایک ہی روپ ایک ہی بھیس سالوں دیکھا ہو اور وہ اچانک سے بدل کر آجائے تو ظاہر سی بات ہم اسے پہچاننے میں وقت لے گے امبر پارہ نے جاودات کو ہمیشہ وِنگز یعنی پَروں میں دیکھا ہے خوابوں میں بھی اسکے جس بلیک اینجل کو دیکھا وہ بھی کچھ الگ دکھتا تھا شاید اس وجہ سے ضامن بلکل ہم جیسا ہے اور ضامن نے بھی امبر پارہ کو اسی حالت میں دیکھا ہوسکتا ہے وہ ابھی ایک دوسرے اتنی توجہ سے نہیں مل رہے جتنی سے ملنا چاہیے ۔۔۔۔۔! اسلیے ابھی بھی کوئی ایسی رائے بنانا غلط ہوگا ہمیں انھیں وقت دینا انھیں یہ نہیں بتانا وہ دونوں کون انھیں پہلے اپنا آج سمجھنا ہوگا انھیں یہ سب بتائیں گے تو جہاں تک میں زرمیش کو جانتا وہ مانے گی نہیں مگر مان بھی گئی تو وہ اپنے حال ماضی کو لیکر بہت زیادہ الجھن میں الجھ جائیں گے اسلیے انھیں اپنا آج سمجھنے دیں ہوسکتا ہے انھیں ماضی خود یاد آجائیں اور ہمارا مقصد انھیں ایک کرنا ہے اب وہ زرمیش اور ضامن بن کر ایک ہوتے یا امبر پارہ یا جاودات یہ وقت طے کرے گا ۔۔۔”سناش نے حیرت سے اسیر کو دیکھا ” اسے یہ سب کیسے پتا ہے ؟”
“ زمر کو سب پتا ہے اور ہمیں یہاں لیکر بھی وہی آیا ہے میں تو چاہتا ہی نہیں تھا یہاں آنا مگر ۔۔۔۔۔” وہ افسوس سے سر جھکا گیا ۔
“ ہمیں انکی بات بلکل ٹھیک لگ رہی ہے ہمیں انھیں وقت دینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” فاریہ نے مسکرا کر زمر کو دیکھا اور دل میں ایک بات آگئی ” کتنا حسین ہے یہ میری نِمزا جیسا کاش ۔۔۔۔۔” اسنے اپنی دل کی بات ابھی خود بھی نہیں کی تھی ۔
ضامن بقراط کی بات سن کر مہمان خانے میں جارہا تھا جب اسکی نظر پھر سے زرمیش پر پڑی وہ محل کے اسی کونے میں موجود تھی جسے سناش نے اپنی اور طلسم کی خوبصورت یاد بنا کر سنجویا تھا وہی بوڑھا برگد کا درخت لٹکتی جڑیں ان پر موجود بیلیں اڑتی تتلیاں نارنجی پھولوں کی بیل سے لپٹی جھولے کی ڈوریاں گھاس پر اُگے ننھے ننھے پھول اسکی پیروں کی نرماہٹ سے اور کھل رہے تھے اسکے سر پر رکھا چڑیوں کا بنایا گیا تاج اب بھی تازہ تھا ایک دم مصنوعی سا منظر تھا جس میں ضامن کی نظر مقید ہوگئی تھی
مرحمی سا ساز ہے تو ۔ ۔۔۔۔۔
میں مٹیلا سا اندھیرا ۔۔۔۔
ایک دوجے کے لیے ہیں۔۔۔
نیند میرا خواب تیرا ۔۔۔۔۔
تو گھٹا ہے پھوار کی ۔۔۔۔
میں گھڑی انتظار کی ۔۔۔۔
ہمارا ملنا لکھا اسی جنم ہے نہ ۔۔۔۔
جو میری دھڑکنوں کو جاتی ہے ۔۔۔
تیرے نام کی کوئی سڑک ہے ۔۔۔۔
جو میرے دل کو دل بناتی ہے تیرے نام کی کوئی دھڑک ہے نہ ۔۔۔۔
وہ ان سب کو اشتیاق سے دیکھتی بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی ” ایسا سین تو کسی باربی مووی میں نہیں تھا جو میں دیکھ رہی سب کتنا پیارا ہے ! وہ جھولے پر بیٹھ گئی اسکے پیر گھاس سے کافی اوپر اٹھ گئے جھولے کی ڈوریاں کو پکڑے اسنے مسکرا کر سامنے دیکھا تو ضامن کا حلق خشک ہوگیا تھا ۔۔
کوئی باندھنی جوڑا اوڑھ کہ ۔۔۔
بابل کی گلی آؤ چھوڑ کر ۔۔۔
تیرے ہی لیے لاؤ گی پیا۔۔۔۔
سولہ سال کے ساون جوڑ کے ۔۔۔
پیار سے تھامنا ۔۔ڈور باریک ہے ۔۔۔
سات جنموں کی یہ پہلی تاریخ ہے ۔۔۔
ڈور کا ایک میں سرا … تیرا ہے دوسرا …. چھوئے جائے کوئی تڑپ ہے نہ… جو میری دھڑکنوں کو جاتی ہے … تیرے نام کی کوئی سڑک ہے نہ جو میرے دل کو دل بناتی ہے …. تیرے نام کی کوئی دھڑک ہے نہ… ” اوئے بات سنو مجھے جھولا تو جُھولا دو ! اسکی بات سن کر ضامن نے ادھر اُدھر دیکھا ” ادھر اُدھر کیا دیکھ رہے ہو تمہیں ہی بول رہی ہوں! وہ الجھا سا اسکے پاس پہنچا اور جھولے کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور جھولانے لگا ” ویسے تم نے مجھے ہرٹ کیا پر میں اچھی ہو تمہیں معاف کردیا ابھی تو خوشی مناو کہ وہاں پرنس نہیں تھا. ” جی معزرت کون نہیں تھا ؟” اسکی زبان سے وہ اور الجھ رہا تھا . ” پرنس او…….میرا مطلب شہزادے تمہارے شہزادے وہاں نہیں تھے کیا نام تھا انکا ہاں ضامن ورنہ تمہیں سزا ملتی ! اسنے جیسے اسے پتے کی بات بتائی ہو.” اسنے حیرت سے اسے پوچھا جھولے کی ڈوری پر جہاں زرمیش کا ہاتھ تھا وہاں زرا سا اوپر ضامن ہاتھ ڈالے اسے جھولا رہا تھا ” اپ نے شہزادے کو دیکھا ہے ؟ ” ہاں دیکھا ہے ٹھیک ہی تھا بس ویسے اس سے زیادہ خوبصورت تم ہو ! جھولے سے ہلتے وہ پاوں کے آنگوٹھے سے زمیں چھو رہی تھی . ضامن کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی تھی . ” اور وہ مجھے سزا کیوں دیتے ؟” … ” وہ یہاں کا پرنس ہے نہ میں بھی پرنسس ہوں تو میری ان سے شادی ہونے والی ہے تو تم نہ میری ہر بات مانا پھر نہ میں شہزادے سے تمہاری شکایت نہیں کروں گی تم صرف میرے سرونٹ ……سرونٹ کو اُردو میں کیا کہتے ہیں …اسنے دماغ پر زور دیا ” ہاں غلام میرے غلام بن کر رہنا میں جو کہوں گی کرنا ……” اسکی بات پر ضامن کے کان کھڑے ہوگئے تھے ” ہم سے شادی ! مجھے تو پرنس میں کوئی دلچسپی نہیں پر کیا ہے نہ پرنس ہی مجھ پر مر مٹا ہے اسلیے کہہ رہی تم میرے ساتھ ہی رہنا میرے کام کرنا میں شہزادے سے تمہاری شکایت نہیں کروں گی کہ تم نے مجھے ہرٹ مجھے تکلیف پہنچائی تھی ….” اسکی باتیں سن کر ضامن کو جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے تھے ” اچھا!!!!!!!!” ہممممم!!!ویسے تمہارا نام کیا ہے ؟ اسنے چہرا اسکی جانب موڑ کر پوچھا . ” ضامن ! اسنے مصنوعی مسکراہٹ سے کہا . ” شہزادے ضامن اپ دونوں کو دسترخوان پر انتظار کر رہے ہیں ! رومی اسکے سامنے سرجھکائے کھڑا تھا زرمیش کبھی ضامن کو دیکھ رہی تھی کبھی رومی کو .” تم جاو رومی ہم آتے ہیں ! رومی چلا.گیا تھا وہ ایک دم جھولے سے اٹھی زمین سے فاصلے کی وجہ سے وہ گرنے لگی مگر اسنے سنبھال لیا وہ کندھوں سے اسے تھامے کھڑا تھا اسنے جھٹکے سے اسے دور کیا ” تم کب سے میری بکواس سن رہے ہو بتا نہیں سکتے تم ہو شہزادے !” ” آپ اتنی دلجمی سے بکواس کر رہی تھیں میرا رو کنے کا دل ہی نہیں کیا …..” اسنے اسے انگلی دکھائی .مگروہ نظر انداز.کرتا چلا گیا ” ایڈیٹ ! دستر خوان پر سب خاموشی بیٹھے تھے .زرمیش چور نظروں سے ضامن کو دیکھ رہی تھی ” یا اللہ کہیں یہ ہماری بکواس کا ذکر نہ کردے … ضامن نے ایک نظر زرمیش کو دیکھا ” ابا وہ ہماری شا……اسکی بات ابھی ادھوری تھی جب زرمیش بوکھلائی سی بولی ” کھانا کھاتے وقت بات نہیں کرتے …..ایسے بابا کہتے ہیں ….دوسرا جملہ اسنے قدرے دھیما کہا تھا. سناش نے مسکرا کر زرمیش کو دیکھا ” جی بلکل ضامن بعد میں بات کرتے ہیں ! اپنی مسکراہٹ ہونٹوں میں چھپاتا پھر کھانے پر جھُک گیا …. کھانے کے بعد کہوے کا دور چلا زمر نمزا کے سامنے اسکے دائیں ہاتھ بیٹھا تھا وہ اپنے خیالوں میں مگن کچھ سوچ رہی تھی جب اپنا آپ کسی کی نظروں کے حصار میں پایا اسنے سامنے دیکھا تو زمر رُخ پھیر گیا .وہ پھر گردن جھُکا گئی . ” امی جان ہم رومی سے زیادہ حسین ہیں نہ ! ضامن کے اچانک جملے پر زرمیش کے ہاتھوں سے کہوے کا پیالہ تھرک گیا تھا خود رومی اسے منہ کھولے دیکھ رہا تھا .اسنے زرمیش کو دیکھا جو اپنے لب کاٹنے میں مصروف تھی اسے مزا ارہا تھا ” میرا بچہ سب سے حسین ہے !! اسنے ایک بار پھر زرمیش کے ڈرے شرمندہ دھواں چہرے کو دیکھا ” ابا جان ہماری شا……ہی …..شاہی کو اسنے جان بوجھ کر لمبا کھینچا تھا …” سواری کل نانا جان کے پاس جارہی ہے نہ ؟ ” نہیں ضامن ہم نے وہ ملتوی کردی پھر کبھی چلے جانا …..” اسنے چور نظروں سے زرمیش کو دیکھا جس نے گہرا سانس لیکر چھوڑا…؟ ” امی ہم اپکی سب باتیں مانتے ہیں ہم اپکی غلامی بھی کریں گے پر آپ اباجان سے ہماری شکایت مت کیجیے گا…….” اسکی بات پر نمزا نے حیرت سے اسے دیکھا ” بھائی جان لگتا ہے آپ آج مہ پی کر آئے ہیں کیسے باتیں کر رہے ہیں ….” زمر کے کانوں میں دور کہیں صحراوں میں بجتا رباب سنائی دینے لگا تھا بہت وقت بعد معلوم ہوا یہ تو اس رخِگلزار کی آواز تھی جو سُنائی دی تھی . ” ارے ! نہیں نمزا ہم نے مہ نہیں ہم تو کسی پر مر مِٹے ہیں…….” وہ اپنے ایک ایک لفظ سے اسے پانی پانی کر رہا تھا عنقریب تھا اسکے آنسو نکل آتے….. ” کس کی موت آن پہنچی ہے ! اسنے تنظ سے کہا جس پر اسیر نے نمزا کو دیکھا ….” اب جو آپ سے محبت کرے گا وہ موت کو ہی بلاوا دے گا م…!نمزا کی باتیں اسیر کو اور بدگمان کر رہی تھیں…. اور ہم…..ضامن ابھی بولنے لگا تھا ” بابا مجھے نیند آرہی ہے ! زرمیش کی بھرائی آواز سن کر وہ پریشان ہوگیا تھا ” کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو؟” ” جی بابا بس نیند آرہی ہے بہت تھک گئی ہوں ….! رومی انھیں شاہی آرام گاہ میں لیجائیں اور باقیوں کے لیے بھی آرام گاہیں آراستہ کردیں یہ اب سے یہیں رہیں گے …..” سناش کی بات مکمل.ہونے سے پہلے زرمیش اسکے پیچھے چلی گئی تھی .اس.تمام کاروائی میں جو بات فاریہ نے محسوس کی تھی وہ تھی زمر کا نمزا کو بار بار دیکھنا جو اسکے خیال کو اور پختہ کر رہی تھی مگر فاریہ کی یہ ضد زمر کے لیے ظلم بن کر برسنی تھی . تمام لوگ.اپنی اپنی ارام گاہوں میں موجود تھے زرمیش کروٹ پر کروٹ بدلیتی جارہی تھی ” سمجھتا کیا ہے خود کو باتوں باتوں میں اتنی انسلٹ کردی میری رونا آرہا تھا اسے دیکھ دیکھ کر …آخر وہ اُٹھی اور اپنے کمرے کا جائزا لینے لگی موبتیوں کی روشنی سے روشن کمرا ہوا سے اُڑتے ریشمی پردے نم سفید چاند ….. سنگھار میز پر پڑے زیور اور عطر وں کی شیشیاں ….ایک بڑے سے شیشے کے جار میں کوئی محلول پڑا تھا اسنے اسے اٹھایا ہاتھ کی پشت پر گرایا اور سونگھا ….” خوشبودار تیل ….اسنے دوبارہ جار رکھ دیا پھر ایک خیال آیا جار اٹھایا اور دبے پاوں باہر نکل آئی …” روکو شہزادے ضامن کہاں ہیں….! ” شہزادی وہ اس وقت کُتب خانے میں معلم کے ساتھ ہیں انکی طبعیت کچھ ناساز ہے …..” اور یہ کُتب خانہ کدھر ہے ! یہاں سے دائیں جانب سے سیدھا سے تیسرا ہُجرا …..! اسے جانے کی اجازت دے کر وہ اس طرف بڑھ گئی . آخر اسے ہُجرا مل ہی گیا دروازہ تھوڑا سا کھلا تھا جہاں ایک طرف بہت ساری کتابیں میز قلمیں سیاہی اور خالی پنّے پڑے تھے اور دوسری طرف ایک بستر پر سفید کپڑوں میں کوئی بزرگ لیٹا تھا .ضامن نے اسکا ہاتھ تھاما ہوا تھا .موقع دیکھ کر اسنے وہ سارا تیل سنگِ مرمر کے فرش پر گرا دیا اور خود دوبارہ جھاکنے لگی وہ اٹھ رہا تھا خود وہ دوسرے ستون کے پیچھے چھپ گئی ” ون! ٹو! تھری! …….دھڑام!!!! وہ کمر کے بل زمیں پر گرا تھا آواز آئی تع اسنے دونوں کان اور ایک آنکھ بند کرلی دوسری آنکھ سے وہ دیکھ سکتی تھی کی وہ کمر پر ہاتھ رکھے تکلیف برداشت کرنے کی کوشش کر رہا تھا اسنے دوبارہ اُٹھنے کی کوشش مگر فرش پر پھسلن ہونے کی وجہ سے وہ اٹھ ہی نہیں پا رہا تھا .” رومی ! رومی ! آخر اسنے ہار مان کر رومی کی آواز دی ادھر زرمیش کو ہنسی کنٹرول کر رہی تھی ” ارے شہزادے آپ نیچے کیا کر رہے ہیں …..دھڑام ……..رومی کمر کے بل زمیں پر گر گیا تھا .اب کے ضامن کہ ہنسی بھی ہنسی نکل گئی تھی زرمیش کا قہقے مارنے کو دل کر رہا تھا . وہ دونوں ایک دوسرے کو سہارے دے کر اُٹھنےمیں مدد کررہے تھے آخر کامیاب ہوگئے…” ہائے شہزادے ٹوٹ گئی میری کمر ٹوٹ گئی میں نہیں میں مر جاو گا ہائے میرا تو ابھی نکاح بھی نہیں ہوا ہائے میری کمر…!! ضامن نے ایک چپت اسکے سر پر دے ماری وہ خود بھی کمر پکڑے کھڑا تھا ” مگر یہ تیل کیسے گرا یہاں !! ” پتا نہیں شہزادے ! پر میری کمر تو ٹوٹ گئی !….ضامن نے حیرت سے ادھر دیکھا آخر اسے ستون کے پیچھے سے جھانکتا نیلا آنچل نظر آگئی مگر پلک جھپکتے غائب ہوگیا …..پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنستی وہ بھاگ کر اپنےکمرے میں آئی جیسے ہی اسنے دروازہ کھولا وہ سیدھے پانی میں ڈوب گئی تھی ….آخر پانی سے اسنے سر نکالا ” یہ تالاب یہاں کیسے کمرے میں تالاب ! نظر سامنے بستر پر نیم دراز ضامن پر پڑی جو ہوا کی تیزی سے اس سے پہلے کمرے میں پہنچا کپڑے سنبھالتی وہ باہر نکلی” تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی کمرے میں آنے کی! وہ جو نظریں نیچی کیے مسکرانے میں مصروف تھا. دیکھا تو دیکھتا رہ گئی .چھن کر آتی چاند کی ڈھنڈی روشنی اسکے بھیگے چہرے کو چمکا رہی تھی جس سے اسکے کپکپاتے عنابی ہونٹ صاف نظر آرہے تھے گیلے کپڑے جسم سے چپک گئے تھے .دونوں بازو خود پر لپیٹے وہ ٹھنڈ سے کانپ رہی تھی اسنے فورا نظریں چرا لیں ” بب…..بولو یہ کک….کیا بیہودگی تھی !!!! یہ وہی بہودگی تھی جو آپ کتب خانے کے باہر کرکے آئیں ہیں ..” اسنے ایہ چٹکی بجائی اور تالاب وہاں سے غائب ہوگیا اسنے گھور اسے دیکھا ” تت….تمہیں کس نے کہا کہ…..وہ….ممم…….میں نے کیا تھا . تھنڈی ہوا کی وجہ سے اسکی کپکپاہٹ بڑھتی جارہی تھی . ” کیا کیا ؟ اسنے انجانوں کی طرح اسے دیکھا ” ووہیییی…….کتب ….کک…خانے کے ببب…..باہر تیل میں گرایا ہے …..” ” مگر میں نے تو آپکو یہ بتایا ہی نہیں کہ وہاں کیا ہوا تھا آپکو کیسے پتا وہاں تیل گرا تھا .زرمیش کا دل کیا تھا سر پھوڑ لے…….ویسے آپکے اس نیلے آنچل نے جو سزا پاکر سمٹ سا گیا ہے ” اسنے سیدھا حملہ اسکے گیلے لباس پر کیاتھا …اس پر نظر ڈال کر باہر کی جانب بڑھا پھر پلٹ کر دیکھا ” وہ بستر پر بیٹھی کبھی بازو اپنے گرد لپیٹ رہی تھی کبھی ہاتھ رگڑ رہی تھی تو کبھی کانپتے وجود کو کمبل سے چھپا رہی تھی .اسنے ایک نظر کھڑکی کو دیکھا انگلی گھمائی کھڑکی بند کی پردے بھی گرا دیا اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو آپس میں رگڑا ایک لال دہکتی روشنی اسکے ہاتھوں میں نمودار ہوئی جو اسنے پھونک مار کر کمرے میں پھیلا دی … وہ جو اپنے ہاتھ بازوں پر رگڑ رہی تھی گرمی کا احساس ہونے پر ادھر دیکھا وہاں کہیں بھی آگ نہیں جل رہی تھی مگر کمرا گرم تھا اسنے کمبل اتار اسکے کپڑے بھی سوکھ گئے تھے ” آئی تھنک ٹمپریچر سینسر لگا ہے یہاں خودی گرم …..” سکون سے کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی .
……..
…….. “
نہیں فاریہ یہ کیسے ممکن ہے زمر اور نمزا کہ نکاح!!!!! طلسم نے ایکدم سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں سے کھینچا . ” کیوں! یہ کیوں ممکن نہیں ہے کیا تمہں میری نمزا پسند نہیں کیا وہ زمر کے قابل نہیں اور میں نے دیکھا ہے زمر نمزا کو دیکھتا ہے اسے وہ اچھی لگتی ہے ! اس بات پر طلسم نے حیرت سے اسے دیکھا ” اور نمزا ؟ کیا وہ زمر کو پسند کرتی ہے اور بات نمزا میں کمی کی نہیں ہے بات دوری کی ہے نمزا کو جتنا میں نے جانا ہے وہ شہرِ سحر سے کبھی دور نہیں ہوگی اور اسیر یہاں رہنے کے لیے نہیں مانے گے میں نے خود کو ڈھال لیا تھا مگر کیا نمزا یہ کر پائی گی ؟ وہ کر لی گی مجھے اس وقت زمر سے قابل نمزا کے لیے نہیں لگ رہا اگر تمہیں پھر بھی لگتا ہے تو وقت لے لو سوچ لو مگر انکار نہ کرنا َ …..اسنے التجا کی .” میں اسیر سے بات کروں گی .
. ………
……
زمر آنکھوں پر باذو رکھے نازنین اور جازب کے بارے میں سوچ رہا تھا پتا نہیں نازنین نے جازب کے کیساتھ کیسا سلوک رواں رکھا ہوگا وہ اسے ہرٹ تو نہیں کررہی ہوگی ………وہ انھیں دونوں کے بارے میں سوچ رہا تھا انکی شادی کو ایک ہفتہ ہونے والا تھا جازب اس بات سےپریشان تھا کہ زمر کہاں غائب ….رات کے اندھیرے میں کالے بادلوں نے آسمان پر احاطہ کر رکھاتھا دونوں ایک دوسرے سے دور لیٹے تھے نازنین کچی نیند میں تھی جبکہ جازب چت لیٹا چھت کو گھور رہا تھا زور دار بجلی کڑکی جس نازنین نیند میں بھی ڈر گئی تھی …مگر جازب اسے نہیں دیکھ رہا تھا ایک بار پھر بجلی کڑکی تواسکا ضبط جواب دے گیا رُخ موڑا اور جازب کے ساتھ جا لگی اسکے سینے پر منہ چھپاتی اسکی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑ رہی تھی جاذب حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ” ناز…..نازو! ” مم.مجھے لائٹنگ سے ڈر لگتا ہے !! اس میں گھستی وہ بجلی سے پناہ تلاش رہی تھی جب بادلوں کی گرج دار آواز آئی تو گرفت اور مضبوط ہوگئی ” وہ سمجھ گیا کہ وہ صرف اس وقت ڈر کر قریب آئی ہے .” اسنے ایک ہاتھ اسکے گرد حائل کیا دوسرے سے بلینکٹ اسکے چہرے تک کردیا تاکہ اسے آواز کم ایے اسکے گال پر ہاتھ رکھا” ڈونٹ وری میں ہوں نہ تمہارے ہر خوف میں تمہارے ساتھ ….” ساری رات وہ اسی طرح ڈری رہی جازب کی تو خوشی کی انتہا نہیں تھی اسکی محبت اپنی مرضی سے اسکے قریب آئی تھی وہ تو کروٹ بھی نہیں لے رہا تھا کہ وہ دور نہ چلی جائے … اسنے نظر جھکا کر نازنین کے معصوم پرسکون چہرے کو دیکھا دل تھوڑا بے ایمان ہوا تو گرفت بڑھا کر تھوڑا قریب کرلیا جس سے تھوڑی بے چینی ہوئی تھی ” سوری !” تینو اتنا میں پیار کراں … اک پل وچ سو وار کراں … جے جاویں تو مینو چھڈ کے .. موت دا انتظار کراں …. کہ تیرے لیے دنیا چھوڑ دی ہے … تجھ پے ہی سانس آکے رُکے … میں تجھ کو کتنا چاہتا ہوں… یہ تو کبھی سوچ نہ سکے…. وہ بس اسے دیوانوں کی طرح دیکھ رہا تھا کجا کچھ اور کرنا اسکے ڈر اور نیند کا فائدہ اٹھا کر نہیں یہ جازب کی محبت نہیں تھی وہ تو بہت عزت دار تھی.صبح جب نازنین کی آنکھ کھلی تو اپنی کمر کے گرر کسی کا حصار محسوس ہوا توجہ قابل ہوئی تو اپنی پوزیشن کو دیکھا اسکا سر جازب کے سینے پر تھا وہ خود بھی اسکی شرٹ دبوچے لیٹی تھی جو اسنے فوراً چھوڑ دی .رات بھر کی پکڑ کی وجہ سے سلوٹیں بہت زیادہ پکی ہوگئی تھیں.وہ اُٹھنے لگی مگر اسکے بال شرٹ میں پھنس گئے وہ انھیں نکالنے کی تغ و دو میں تھی جب جازب کی انکھ کُھل گئی .” ایک منٹ ! اسے کھینچا تانی کرتے دیکھ اسنے اسکا ہاتھ پکڑا اور بڑی مہارت سے بٹن کے گرد لپٹا بال نکالنے کی کوشش کی مگر ناکام .نازنین شرمندگی سے پانی پانی ہو رہی تھی اسکی یہ حالت دیکھ کر آخر اسنے بٹن ہی توڑ دیا .وہ ایکدم دور ہوگئی اور نظرین جھکا لیں ” رات کو لائٹنگ سے ڈر کر تم میرے پاس آئی گاڈ پرامس کچھ نہیں کوئی غلط فائدہ نہیں اٹھایا .تم جانتی ہو مجھے ڈو یو ٹرسٹ می نہ …..! وہ بیڈ سے نیچے اتر گئی کوئی جواب دیے بغیر جازب کو دل ڈر رہا تھا اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے .جوتا پہنا بال جوڑے میں باندھے ” شرٹ اتار دیں !” وہ نظریں جھکائے بیٹھا تھا شاک ہوگیا ” کیا ! ” شرٹ اتار دیجے گا میں بٹن لگا دوں گی ! اسنے سکھ کا سانس لیا ” نہیں کوئی بات نہیں اتنی محنت کیوں کرنی ! ” یہ آپکی فیورٹ شرٹ ہے نہ تو میں لگا دوں گی اور آپ مجھے ہر چھوٹی چھوٹی بات پر صفایا مت دیا کریں ڈاکٹر ہیں جھاڑو تو نہیں ….وہ مسکرا کر واش روم میں چلی گئی .وہ بس مسکرا کر سر جھکا گیا .
