Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 12
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی جب اسکی نظر ضامن پر پڑ گئی سارا دن وہ محل میں نہیں تھا اور اب اسے دیکھ ایکھ دلربا سی مُسکان آگئی تھی گاؤن سنبھالتی وہ اسکی جانب چل دی وہ جلتی ہوئی آگ میں لکڑیاں ڈال رہا تھا جب اسکی نظر آتی زرمیش پر پڑی اسنے مسکرا اسکا استقبال مگر وہ چند قدم دور ہی رُک گئی ” آئیے نہ ! مگر اسنے انگلی سے اسکی دائیں طرف اشارہ کیا اسنے وہاں دیکھا تو چھوٹا سا شیر کا بچہ جس کا رنگ سفد تھا گول مٹول پیارا سا سو رہا تھا ” آجائیں کچھ نہیں کہے گا ! وہ ڈرتی اسکے پاس پڑے لکڑی ہے سیٹر پر بیٹھ گئی ” یہ یہاں کیوں سو رہا ہے باقیوں کے ساتھ کیوں نہیں !اسنے نہایت مدھم آواز سے کہا تھا جسے سُنے کے لیے اسے اپنے کان قریب کرنے پڑے تھے ” ارے یہ! اسنے بلند آواز سے کہا تھا زرمیش اسے ہاتھ کے اشارے سے کم آواز سے بولنے کا کہہ رہی تھی کہ وہ جگ نہ جائے اسے ڈر لگ رہا تھا.” آنکھیں بند کریں ! اسنے بھی مدھم آواز سے کہا ” کیوں ؟! ” کریں نہ ! اسنے زور دیا تو اسنے کرلیں ضامن نے آہستہ سے وہ شیر کا بچہ اسکی گود میں رکھ دیا جب آنکھیں کھولیں تو وہ چیخ پڑتی مگر اسنے اسکے منہ پر رکھ دیا ” جاگ جائے گا!وہ ہاتھ کے اشارے سے اسکی التجا کر رہی تھی اُٹھاو اسے ! اسنے اسکا ہاتھ پکڑا کو وہ پیار سے اسے سہلانے لگا جس سے وہ پیارا.سا.بچہ زرمیش کی گود میں اور سمٹ گیا ” اوووو! سو سویٹ! وہ بغیر ڈر سے اسے چھو رہی تھی اسے انگلیوں سے لاڈ کر رہی تھی .وہ پھر جلتی لکڑیوں سے چھیڑ خانی کرنے لگا تھا.” یہ گیلا کیوں ہے ” آج تالاب پر تمام.جانور گھومنے گیے تھے ہم لیکر گئے تھے جناب شرارتیں کرتے پانی میں گر گئے شام ہوگئی تو ٹھنڈ ہوگئی گیلا تھا سوچا بیمار نہ پڑ جائے تو اگ جلا کر.اسے حرارت دے رہے تھا دیکھیں گرمی ملی تو کتنے سکون سے سو رہا ہے ..اسنے ایک نظر اس شیر کے بچے کو دیکھا کو زرمیش کے ہاتھ پھیرنے پر سمٹتا جارہا تھا . ” آپ کیوں گئے کوئی غلام لے جاتا ! ” نہیں انکے معاملے میں ہم کسی پر اعتماد نہیں کرتے اج اگر ہم نہیں جاتے تو شاید یہ پانی میں ڈوب کر مر جاتا ہمیں تو اسکا ابھی تک بے حد افسوس ہے جو ہمارے ہاتھوں وہ بے زبان بھیڑیا مر گیا .” ” بہت پیار کرتے ہیں آپ ان سے ؟ وہ اشتیاق سے اسے سن رہی تھی ” بہت بچپن سے انکے ساتھ عجیب لگاو ہے ہمیں ان سے بہت اپنے سے لگتے ہیں یہ جیسا بہت گہرا تعلق ہے ان سے ۔۔۔۔۔” وہ لکڑیاں جل رہی تھیں مگر اس سے زیادہ کسی کا تن بدن جل رہا تھا اسے دیکھ کر جو اپنے ہاتھ اپنے بازوؤں پر رگڑ رہی تھی کبھی آگ سے سامنے کرکے گرم کرتی پھر رگڑنے لگتی۔۔” ٹھنڈ بہت ہے ! ضامن کو اپنی طرف دیکھتا پا کر اسنے کہا جس پر ضامن نے اپنی باہیں پھیلا دیں پہلے تو دنگ رہ گئی پھر شرما کر رُخ پھیر گئی وہ اداس سا منہ بنا کر باہیں سکیڑ گیا ۔” ابھی وقت ہے اس مگر ایک چیز ہم کر سکتے ہیں ! وہ شیر اٹھائے اسکے قریب اسے اسکی گود میں رکھا بیٹھ کر باہیں باہوں میں ڈال لیں اور سر کندے پر رکھ دیا۔منظر کتنا مکمل ہوگیا تھا ۔” کل تک ہم لڑ رہے تھے ؟” ضامن نے ناجانے کیوں یہ کہا ۔
“ وہ تو تبھی ختم ہوگیا جب آپ نے مجھے اتنی تتلیاں دیں !”
“ آپ سے کس نے کہا وہ ہم نے دی تھیں؟” زرمیش کے چہرے پر دلنشین مسکراہٹ آگئی تھی ” کسی کی ہمت ہے جو آپکے ہوتے ہمارے ساتھ کچھ کر سکے ! “
“ یہ کیا زرمیش ؟ ” اسنے الجھ کر اسے پوچھا جس پر زرمیش نے چہرا اسکی جانب اُٹھایا ” محبت !” ضامن اسے گلے لگانا لگا تھا پر اسکی حرکت سے وہ شیر کا بچہ بے چین ہوگیا تھا اسکی معصوم۔کی حرکت پر دونوں ہنس دیے تھے ۔۔۔۔۔۔۔یہ منظر کھڑکی سے کسی کی آنکھوں میں بھی نظر آرہا تھا جو اداس تھا طلسم نے محبت سے ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا اسکا چہرا مُڑا تو وہ بھیگا تھا ” اسیر !”
“ وہ قریب آرہے ہیں طلسم ! زرمیش ہم سے دور چلی جائے گی ” طلسم نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں دونوں ایک دوسرے کی قربت میں آنکھیں موندیں بیٹھے تھے ۔” یہ ہونا ہی تھا وہ بیٹی ہے اگر امبر پارہ نہ بھی ہوتی تو بھی اسے جانا تھا بیٹیاں کہاں باپ کے ہمیشہ رہ پاتی ہیں انھیں تو ہر حال میں جانا ۔۔۔۔” مگر اسیر کا دل بہت بے چین تھا سکون کے لیے اسنے طلسم کو گلے سے لگا لیا تھا دونوں کی نظریں زرمیش کے لیے خوش تھی مگر زمر اسکا دُکھ کوئی نہیں جانتا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” راجہ سناش آپ نے ہمارا مشکل حالات میں بہت ساتھ دیا ہم آپکے شکر گزار ہیں اور اس شکر گزاری کی نظر ایک تحفہ بھی ہے۔۔۔۔” غفران دوسری ریاست کے راجہ کی طرف سے آیا خط پڑھ رہا تھا تمام مرد حضرات وہاں موجود تھے ضامن زمر اسیر سناش اور عورتیں پردے کے پیچھے سب سن رہی تھیں عورتوں کے لیے فیصلہ بھی رانی فاریہ کرتی تھی اسلیے انکے لیے بھی ایک الگ دربار بنا دیا گیا تھا ۔وہاں نمزا فاریہ طلسم اور زرمیش موجود تھیں۔” تحفہ کہاں ہے ؟ سناش کے سوال پر غفران نے قاصد کو دیکھا ” میرے ساتھ سب اور باادب رانی اور شہزادیاں بھی !قاصد نے سر جھکا کر کہا ۔
“ ایسا کیا ہے ؟ اسیر نے مشکوک انداز سے پوچھا
“ بہت خوب صورت ہے آپ آئیے ! تمام درباری قاصد کے ساتھ چل دیے تھے وہ انھیں انکے شاہی باغ میں میں لے آیا تھا جو بہت بڑا تھا ۔” کہاں ہے تحفہ ؟ چاروں مردوں نے ایک ساتھ دیکھا ” آسمان کی طرف دیکھیں ! ان سب نے ایک ساتھ آسمان کی طرف دیکھا جہاں کچھ نہیں تھا پھر انھیں اچانک گھوڑوں کی آوازیں آنے لگیں پہلے نیلا پھر گلابی پھر سترنگی پھر نارنجی سناش اور باقی سب کا حیرت سے منہ کھل گیا تھا ” یہ کیسے گھوڑے ہیں جن کے پنکھ ہیں اور ماتھے پر ایک ہی سینگ اور اتنے رنگ برنگے ! غفران نے بھی یہ مخلوق پہلی بار دیکھی تھی زمر نے ایک نظر زرمیش کس دیکھا جس نے چیخ دبانے کے لیے منہ پر دونوں ہاتھ رکھے تھے ” باربی !
“ بھائی اٹس یونی کونز !!!!! وہ اتنی زور سے چیخی تھی کہ ضامن نے کانوں میں انگلیاں دے لیں تھیں شرارت سے ۔۔۔” کیا ہیں ؟ فاریہ نے سوالیہ نگاہوں سے زرمیش کو دیکھا
انھیں یونی کونز کہتے ہیں ! زمر نے ایک کونی کورن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا .” کتنا خوبصورت ہے یہ! ” کتنا نہیں کتنی یہ مادی ہے ! ضامن نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا . ! ہماری ریاست میں انھیں تنگا کہا جاتا ہے .اور محبت کی نشانی سمجھا جاتا ہے مجھے بہت خوشی اگر اس پر جوڑے بیٹھے !قاصد کی بات پر ان سب نے ایک دوسرے کو دیکھا چار یونی کونز تھیں اور چار ہی جوڑے سناش فاریہ کو لیکر اسیر طلسم کو ضامن زرمیش کو لیکر کر بیٹھ چکے تھے نہ تو آگے زمر بڑھا تھا نہ ہی نمزا وہ دونوں ہی خاموش تھے .” زمر بیٹھو ! زمر نے سوالیہ نظروں سے نمزا کو دیکھا جو چپ چاپ گھوڑے پر بیٹھ گئی وہ بھی اسکے تعاقب میں بیٹھ گیا .تمام لڑکیاں اگے تھیں اور لڑکے انکے گرد سے لگامیں تھامے تیار تھے .ان سب نےایک ساتھ انکی لگامیں کھینچی تو گھوڑوں نے پروں میں ہوا بھر ی اور آسمان میں اُڑنے لگے . لگام اور چہرے کے بیچ نمزا کا چہرا آگیا تھا جو بار بار دھیان بھٹکا رہا تھا.جس کی وجہ سے یونی کورن بار بار توازن کھو رہا تھا .” چھوڑیں ہم کرتے ہیں ! تنگ آکر وہ زمر کے ہاتھ سے لگام کھینچنے لگی تھیں . ” نمزا ایسے حرکت مت کریں آپ گِر جائیں گی ! “جس پر وہ کچھ لمحے کے لیے خاموش ہوگئی تھی نارنجی رنگ کے آسمان پر اُڑتے محبت کے پروانے ان پر سوار محبت پر سوداگر اور انکے محبوب پرندے بھی انکی رفتار کا تعین نہیں کر پا رہے تھے . ” طلسم آئی لو یو! اسیر نے طلسم کے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر اسنے حیرت سے اسے دیکھا تو اسنے فورا اسکے ماتھے پر بوسہ دے دیا .” آپ نہیں سُدھرے گے اسیر ! ” فاریہ کیا خیال ہے بھاگ جائیں اسی محبت کی سواری پر اس سلطنت سے دور اس بادشاہت سے دور جہاں صرف آپ ہوں ہم ہوں اور صرف محبت ہو ….” اسنے پیار سے اسکے کان کو چھوا جس پر وہ صرف اسے آنکھیں دکھا سکی اسنے جاندار قہقہ لگایا لگام کھینچی اور سب سے آگے نکل گیا . ” ضامن تمہیں پتا ہے میں نے بچپن میں باربی کی مویز میں دیکھا تھا ایسے یونی کورنز پر پرنس پرنسز فلائے کرتے ہیں آج مجھے سچ میں پرنسسز والی فیلنگ آرہی ہے …..” ” تو پرنس کون ہے ! اسکی باتیں سن سن کر اتنا تو اسے پتہ چل گیا تھا کہ پرنس اورپرنسسز کِسے کہتے ہیں …” “تم ! ….اچھا تو مو..مو….؟وہ جو تم دیکھا کرتی اس پرنس اور پرنسسز اور کیا کرتے ہیں.اسکے سوال پر اسکی آنکھوں کے سامنے آخری کِس سین آگیا تھا .اسنے رُخ موڑ کر اسے دیکھا گلابی ہونٹ مسکرا کر اسے دعوت دے رہے تھے وہ شرما کر رُخ بدل.گئی ” کچھ نہیں کرتے ! وہ لوگ طلسم اور اسیر کے یونی کورن کو کراس کر گئے تھے ” بائے بائے بابا ! زرمیش نے چِلا کر کہا طلسم.تو ہنس دی تھی مگر ضامن اور زرمیش کو ساتھ دیکھ کر اسیر کا موڈ خراب ہوگیا تھا . نمزا منہ بنائے سامنے دیکھ رہی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھاکہ زمر.کو دھکا دے دے وہ زمر کے اتنے قریب تھی کہ اسکے کان اور زمر کے ہونٹوں میں تھوڑا ہی فاصلہ تھا اسے اتنا خاموش دیکھ کر زمر بے چین ہوگیا تھا پھر آنکھوں کے سامنے کل رات کا ایک حسین پل آگیا تھا وہ تھوڑا اسکے کان کے قریب جھُکا ” Don’t you feel something for me when you kissed me last night کییا! وہ ایک دم اسکی جانب مڑی وہ اسے کچھ سمجھ میں نہ آیے اسلیے اسنے انگلیش میں کہا تھا .ان دونوں کا چہرا ایک دوسرے کے نہایت قریب تھا گھوڑے بادلوں سے اوپر اُٹھ آیے تھے زمر گھوڑے کو چھوڑ اسے دیکھنے میں مصروف تھا کہ توازن بگڑا نمزا سنبھال نہیں پائی اور گِر گئی “نمزا !!! اسنے زمر کی طرف ہاتھ بڑھایا جو وہ نہیں پکڑ سکا وہ بادلوں کو پار کرتی نیچے گرتی جارہی تھی زمر نے گھوڑے کی لگام کو نیچے کی طرف موڑا وہ بھی بادلوں سے نیچے جانے لگا مگر زمر کو وہ ٹھیک سے سنبھالنا نہیں آرہا تھا جب تک وہ اس تک پہنچا تب تک غفران اسے ہوا میں ساکن کر چکا تھا اب وہ آہستہ آہستہ اسے نیچے اتار رہا تھا .وہ تمام نیچے پہنچ گئے تھے زمر اترتے ہی نمزا کی طرف بھاگا جو کھڑی بھی کانپ رہی تھی ” آپ ٹھیک ہیں ! اسنے غُصے اور اشتعال بھری نظر سے زمر کو دیکھا فاریہ اور طلسم نے باری باری اپنے ساتھ لگایا “آپ ٹھیک ہیں ! اسنے اثبات میں سر ہلا دیا . ” پر یہ گریں کیسے ؟ ” اسیر نے ڈرے ہوئے زمر کے کندھے پر ہاتھ رکھا. ” بابا وہ ہم لگام سنبھال نہیں پائے گھوڑے توازن بگڑا تو یہ گرِ گئیں .” نمزا نے آنسوؤں سے بھری ھیرت انگیز نظر سے اسے دیکھا ” جھوٹ کیوں بول رہے ہیں آپ آپ نے دھکہ دیا تھا ہمیں گرِایا تھا .” اسکی بات پر ایک لمحے کے لیے تو سب کی سانس ساکن رہ گئی تھی . ” معزرت جنابِ زمر جھوٹ بولنے کی عادت نہیں ہے نہ غلطی سے سچ نکل گیا ابا انھوں نے نہیں گِرایا تھا ہم خودی گِر گئے تھے ……..الفاظ تھے یا زمر کے جسم.میں زہر اتارا جارہا تھا وہ بُت بنا اسے سن رہا تھا . ” یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ …طلسم نے اسکا کندھا کھینچ کر اسکا رُخ اپنی جانب کیا ” ہم کہہ تو رہے ہیں ہم جودی گِرے تھے انھوں نے نہیں گِرایا تھا.” اسنے زمر کو دیکھ کر خود کو ایسے سمیٹا جیسے ناجانے اس سے کتنا ڈرتی ہے . ” آپ جھوٹ بول رہی ہیں یا سچ ہمیں صرف سچ سُننا ہے .” اسنے چیخ کر کہا تووہ اور ڈر گئی ” طلسم ! آپ ہماری بیٹی سے ایسے بات نہیں کرسکتی دیکھیں تو سہی وہ کتنا ڈر گئی ہے ہمیں بتائیں نمزا کیا ہوا تھا ….” اسنے آنکھوں میں بلا کی معصومیت لاکر اسے دیکھا ” امی جان جنابِ زمر نے ہمیں گھوڑے سے گِرایا تھا وہ ہم سے جھگڑ رہے تھےکہ وہ.ہمارے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتے تھے….” ” ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا یہ جھوٹ بول.رہی ہیں وہ تو ہم انھیں دیکھ رہے تھے تو گھوڑے پر توجہ نہیں کرپایے اسلیے یہ گِریں …..” وہ تڑپ ہی تو اُٹھا تھا اسکے الزام پر . ” نہیں امی جان انھوں نے ہمیں دھکیلا تھا نکاح کی پہلی رات بھی ہمیں دھتکار کر چلے گئے تھے . ” سناش اور اسیر نے ھیرت سے زمر کو دیلھا ” کیییا !” بابا وہ سب ایسے نہیں ہوا تھا جیسے یہ بتا رہی ہیں یہ جھوٹ بول.رہی ہیں …” ” جھوٹ آپ بول رہے ہیں! وہ دونوں ایک دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنے میں لگے تھے . ” رُکیں ! ہمارے طریقہ ہے پتہ لگانے کا کہ کون جھوٹ بول.رہا ہے کون سچ ! ان سب نے غفران لی جانب دیکھا اسنے جادو کی مدد سے دوبُلبلے بنائے .” یہ دونوں بُلبُلے شہزادے زمر اور شہزادی نمزا کے پاس ہونگے جو جھوٹ بولے گا اسکا بُلبُلا کالا ہوجائے گا اور سچ بولنے والے کا سفید ہی رہے گے .زمر تو نہیں مگر نمزا پریشان ہوگئی تھی ” یہ کالا ہوگیا تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ ہم جھوٹ بول.رہے ہیں ! وہ بُلبُلے انکے سامنے تھا ” پہلے آپ بتائیں شہزادی ! ” جنابِ زمر نے ہمیں گھوڑے سے خود گِرایا تھا .” ان تمام کی نظریں بُلبُلے پر تھیں وہ اب بھی سفید تھا یعنی نمزا سچ کہہ رہی تھی اب اس بُلبُلے کو دیکھنے میں اتبا مصروف تھے کہ نمزا کی انگلیوں کی حرکت کوئی دیکھ ہی نہیں پایا تھا.اسکے ہونٹوں پر ایک شاطرانہ مسکراہٹ آگئی تھی . ” شہزادے زمر آپ بتائیں ! غفران نے امید بھری نظروں سے زمر کو دیکھا لاش نمزا جھوٹی ہو .” کچھ رہ ہی نہیں گیا اسکے بعد!” وہ اب نمزا کے سفید بُلبُلے کو دیکھ رہا تھا . ” زمر جو نمزا نے کہا سچ ہے یا نہیں ! طلسم ایک دم.سے اسکے پاس آئی ” بتاو زمر بتاو! ” نہیں وہ جھوٹ! اسنے طلسم.کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا ” جھوٹ آپ بول.رہے ہیں زمر ! ضامن کی بات پر دونوں نے ایک ساتھ بُلبُلے کو دیکھا جو کالا ہوگیا تھا ڈیم شِٹ ! اب تک پہلی بار زمر نے یہ لہجہ اپنایا تھا .نمزا کے چہرے پر خباثت بھری مُسکان آگئی تھی . ” ہم نے آپ سے یہ امید نہیں کی تھی زمر آپ اگر ہماری بیٹی سے شادی کرنا ہی چاہتے تھے تو ہامی کیوں بھری تھی . ” سناش میری ایسا کچھ ! طلسم کچھ کہنے لگی تھی جب تو اسنے ہاتھ اُٹھا کر منع کردیا .وہ افسوس کی ایک نگاہ اس پر ڈالی اور چلا گیا .فاریہ بھی بھی نمزا کو لیجانے لگی تو وہ اچانک زمر کی طرف مُڑی ” ہم نے بہت کوشش کی کہ کسی کو نہ پتا چلے آپ ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں مگر آج ہماری جان پر بن آئی تھی . ” مگر شہزادی آپ خود کو ہوا میں ساکن کرسکتی تھیں ! غفران کی بات پر وہ کچھ گھبرا گئی ” وہ ہم ….وہ ہم ڈر اتنا گئے تھے کہ کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا !” زمر نے گلہ امیز نظروں سے اسے دیکھا .مگر اسے نظر انداز کرتی چلی گئی.اسیر بھی جانے لگا تھا ” بابا…! آپ کو تو مجھ پر یقین ہے نہ ؟”اسنے ٹرپ کر اسکا ہاتھ پکڑاجو اسیر نے نامحسوس انداز سے ہٹا دیا اور طلسم کو کندھوں سے تھامتا وہاں سے چلا گیا وہ مُڑتا کہ اسکے چہرے پر ایک مُکا پڑا تھا ” تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کے ساتھ یہ سلوک کرنے کی ہم نے کہا تھا اسے دُکھ مت دینا . اسکا گریبان پکڑے ضامن اسے گھور رہا تھا ” چھوڑو میرے بھائی آپ ہوتے کون ہے میرے بھائی کا کالر پکڑنے والے !! زرمیش نے چیخ کر کہا وہ ضامن کو دھکیل دیا تھا. ” زرمیش آپ یہ کیسے پیش آرہی ہیں ہم سے ! وہ دوگنا چیخا تھا . ” جس لہجے میں آپ میرے بھائی سے بات کر رہے تھے !” اسنے زمر کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا جو بلکل بت بنا کھڑا تھا سانس بھی آرہا تھا یا نہیں معلوم نہیں تھا .” چلیں بھائی کوئی کریں نہ کریں میں مجھے آپ پر ٹرسٹ ہے … ……….
…… ” مام بلیو می میں نے ایسا کچھ نہیں کیا مجھے نہیں پتا وہ ببل بلیک کیسے ہوگیا!” وہ طلسم اور اسیر کے سامنے طلسم کی گود میں سر رکھے بیٹھا تھا .جو طلسم چاہ کر بھی نہیں ہٹا سکی . ” پر تم جھوٹ بول رہے تھے تبھی تو وہ ُبُلبُلا کالا ہوگیا ! ” میجک سے ! زرمیش کی آواز پر ان تینوں نے ایک ساتھ اسے دیکھا. ” فار گوڈ سیک مام یہ کیا یہ شہرِ سحر ہے یعنی دی سٹی آف میجک تو یہاں یہ بات عام ہے ہوسکتا ہے بھائی کو بلیم کرنے کے لیے نمزا نے وہ ببل بلیک کیا ہوا اپنے میجک سے ….! اسیر اور طلسم نے ایک دوسرے کو دیکھا زمر نے آنکھیں قرب سے بند کرلیں تھیں جس میں سے ایک آنسو ٹوٹ کر طلسم کی گود میں جذب ہوگیا .” زمر مجھے بتاو سب کچھ کیا نمزا کا روایہ تمہارے ساتھ ٹھیک نہیں ہے ؟”طلسم نے اسکا چہرا ہاتھوں میں تھاما .مگر وہ خاموش رہا دوبارہ ار گود میں رکھ لیا ” بتاو زمر ! ” سب ٹھیک ہوجائے گا مام میں سب ٹھیک کردوں گا اپ بس مجھ پر ٹرسٹ کرنا مت چھوڑنا پلیز ! اسنے التجایا نظروں سے طلسم اور اسیر کا ہاتھ تھاما اسیر تو نظریں ہی نہیں اُٹھا رہا تھا ” بابا آپ کو ابھی بھی مجھ پر یقین نہیں ہے ؟ ” جو بات زرمیش نے کہی وہ مجھے کہنی چاہیے تھی جو اسنے کیا وہ مجھے کہنا چاہیے تھا مجھے میرے بیٹے پر یقین کرنا چاہیے تھا زرمیش سے تمہارا کوئی خون کا رشتہ!!! بابا ! اسیر پریشانی میں کیا ناجانے کیا کچھ بولتا جارہا تھا جب زمر نے اسے ہوش دِلایا . ” کیا ! کیا کہا بابا آپ نے میرا بھائی کوئی بلڈ ریلیشن نہیں ہے ! َ زرمیش تو الجھ سی گئی تھی . ” سہی ہی تو کہہ رہے تیرا میرے ساتھ بلڈ ریلیشن نہیں برتھ ریلیشن ہے میوچل فنڈ ریلیشن ہے ہارٹ ریلیشن ہے جگر گردے پھیپھڑے سب کا ریلیشن ہے ہم جڑواں ہیں بھول گئی تو اکیلا خون کا کیسے ہوا ! زمر نے چہرا پِرسکون کرتے ہوئے کہا تو وہ ہنس دی ..اسنے بھی نیچے بیٹھ کر سر اسیر کی گود میں رکھ دیا تھا. ” تم نے ضامن سے جھگڑا کیوں کیا ؟” اسکی ہمت کیسے ہوئی آپ پر ہاتھ اُٹھانے کی کوئی میرے پرنس چامنِگ پر ہاتھ اُٹھائے تو اسکی باربی اسے بندر بنا دے گی !….ہاہاہاہاہا ! اس بات پر وہ چاروں ہنس دیے تھے اپنے ماں باپ کو تو اسنے سمجھا لیا تھا مگر اب اسے نمزا کی خبر لینی تھی اسے سمجھانے کی کوشش کرنی تھی . ……………
…………. وہ کب سے آئینے کا سامنے چکر کاٹ رہی تھی اسکی جلد جھریوں زدہ ہونے لگی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا .” کچھ سوچو نحوس کچھ سوچو !” ” کیا کہوں رانی اس وزیر نے محل کے گرد ناجانے کیسی حفاظتی تہ بنا دی ہے کہ کوئی بیرونی طاقت اندر قدم نہیں رکھ پا رہی میں محل میں نہیں جاسکتا ؟” وہ شرمندگی سے گردن جھکا گیا . ” تو کیا نحوس یونہی مجھے ختم ہوتا دیکھتے رہو گے وہ بس ایک بار ایک بار مھبت سے چھو لے مجھے پھر میرے حُسن کے جال سے نکل نہیں پائے گا .” ” یہ صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے اگر وہ محل.سے باہر ہوں اور یہ پھول سونگھ لیں ! اسنے اسکی آنکھوں کے سامنے ایک جامنی رنگ کا پھول.کیا ” یہ کیا کرتا ہے ! ” رانی یہ زہریلا پھول ہے اسکی خوشبو سے شہزادے کا دماغ بلکل خالی ہوجائے گا تب اسے آپ جو کہیں گی وہ کرے گا …مگر یہ پھول.ان تک ایک ہی صورت میں پہنچایا جاسکتا ہے کہ انھیں کو بہت اپنا دیں اجنبیوں پر تو وہ نظر نہیں ڈالتے اور محل کے اندر ہم جا نہیں سکتے !” ” تو ہمیں اسکے محل سے باہر آنے کا انتظار کرنا پڑے گا مگر صرف اسکا نہیں امبر پارہ کا بھی !!! اپنی سوچ پر وہ مُسکرا دی تھی نحوس ھیرت سے اسے دیکھ رہا تھا. ……..
………. رات کا تیسرا پہر تھا وہ پرُسکون نیند سو رہی تھی اچانک اسے اپنے چہرے گرم ہوا محسوس ہوئی پہلے تو نظر انداز کیا مگر نیند میں بھی جب کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو انکھیں کھولیں اپنے اوپر کسی کو جھکا دیلھ کر وہ چیخ مارتی مگر اسنے ہاتھ منہ پر رکھ دیا اور اسکے کان کے قریب سرگوشی کرنے لگا ” آپکے شوہرِ نامدار کے سوا یہ جسارت کوئی نہیں کرسکتا ! اسے پُرسکون ہوتا محسوس وہ کر سکتا تھا آہستہ سے ہاتھ ہٹائے تو اسنے اُٹھنے کی کوشش کی جو زمر نے ناکام بنا دی انگلی اسکے ہونٹوں پر رکھ دی ” شش! آج صرف میں بولو گا اور تم سُنو گی ! اسنے وہیں انگلی اسکے ہونٹوں پر پھیرنی شروع کردی ” بہت درد ہورہا ہے بہت مجھے سکون چاہیے نمزا اور اپنی شریک ِ حیات سے چاہیے !کمرے کے ملگجی اندھیرے میں وہ الجھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ہر الجھن کو بلائے تاک رکھے وہ اسکے ہونٹوں پر جھک گیا.وہ سینے پر ہاتھ رکھے اسے دور کرنے کی کوشش کررہی تھی یہ کوشش بھی ناکام بنا دی گئی ہاتھ بیڈ سے پِن کردیے اس لمس میں غم بھی تھا بے چینی بھی تھی سکون بھی تھا اور غُصہ بھی پھڑپھڑاتے ہاتھ رُکے تو وہ بھی دور ہوگیا وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی اوروہ اسے دیکھے جارہا تھا پھر کان کے قریب جھکا ” کیا ہوا سانس الجھ گیا ارے ! میں نے تو ابھی اپنا پہلا حق سہی سے وصول نہیں کیا اور تمہاری سانس اُکھڑنے لگی اور تم جو مجھ پر روز نیچے جھکاتی ہو رسوا کرتی ہو بدنام کرتی ہو میں تو ابھی پرُسکون انداز سے سانس لے رہا ہوں تو کم ظرف کون ہوا میں یا تم! اسکی بات اسے ایک حد تک شرمندہ کر گئی تھی . ” وہ اسکی گال سے گال رب کر رہا تھا بیرڈ کی چھبن سے اسکے منہ سے بس ایک سسکی نکلی تھی جسے سن کر زمر کی ہنس نکل گئی تھی ” ہاہا شیرنی صرف دور دور سے بن سکتی ہو میرے قریب آنے پر تو منہ سے سسکیاں بھی سرگوشی میں نکلتی ہیں .” اسکی اس بات پر اسے غُصہ آیا تھا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی .اسنے چہرا اسکی جانب کیا وہ غُصے سے لال ہوئی بیٹھی تھی .” نہیں تم مجھے گلاب کا نہیں سورج مُکھی کا پھول ہی اچھی لگتی ہو ! اسنے خوشدلی سے لب اسکے ماتھے پر رکھ دیے
وہ اسے خُود سے دور کر رہی تھی پر وہ تو ناجانے آج کیوں اس پر پیار لُٹانے لگا تھا ” آپ کو پتہ ہے جب ہم نے آپکو پہلی بار دیکھا تھا تو ہمار. وقت تھم گیا آپ کی یہ مخروطی انگلیاں ہمارا انھیں چھونے کا بہت من کیا تھا “اسکا ہاتھ ہاتھوں لیے وہ ایک ایک انگلی پر اپنا لمس چھوڑ رہا تھا لہجہ اور لمس اتنا نرم تھا کہ کچھ لمحے نمزا خود ساکن ہوکر اسے محوس کرنے لگی مگر یہ نفرت اور ضد کی آگ ٹھنڈی کہاں رہتی ہے اسنے بے دردی سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے کھینچ لیا تھا ہوش میں آئیں جنابِ زمر ! اسنے دبے ہوئے غُصے میں آیا پر پھر بھی وہ مسکرانے لگا ” آپ غُصے میں بھی کتنی پیاری لگتی ہیں ! اسکی گال پر پیار کرنے کے بعد اسنے دوبارہ اسے دیکھا نمزا کو اُسکا لہجہ بہکا بہکا لگا وہ بچوں کی طرح اپنا ناک اسکے ناک کے ساتھ رگڑ رہا تھا ” یو آر سو کیوٹ سپیشلی یور لیٹل نوز آپس آپ کو تو انگلیش آتی ہی نہیں آپ بہت پیاری ہیں خاص طور پر آپکی چھوٹی سی ناک ! اسنے پھر اسکی ناک دبائی … ” جناب ِ زمر آپ نے مے پی ہے !” اسنے معصومیت سے اسے دیکھا ” مے پتہ نہیں وہ کیا تھا باہر ایک میز پر صراحی اور جام پڑا تھا میں نے پی لیا پیا س لگی تھی آپ کو پیاس نہیں لگتی ! بات کرتے کرتے وہ اسکی شہ رگ پر لب رکھ گیا اسنے کندھوں سے تھام کر تھوڑا دور کیا وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی اسکی معصوم صورت دیکھ کر نمزا کی ہونٹوں کو مُسکراہٹ چھو گئی تھی اسے دیکھتا وہ اسکی گردن پر جھکتا جارہا تھا اور آخر وہ وہاں تک پہنچ گیا نمزا کے چہرے پر اب بھی مُسکراہٹ تھی پھر اچانک وہ غائب ہوگئ ” کیا کر رہے ہیں ہم وہ ہوش میں نہیں ہم بھی بہک رہے ہیں ! اس سے پہلے وہ دور کرتی اسے اپنی گردن میں چبھن سی ہوئی زمر کے دانت وہاں ایک نشان بنا چُکے تھے وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ” نکلے نہ آپ بھی جانور وحشی کاٹ کھانے والے ! اسنے پورا زور لگا اسے دور دھکیل دیا وہ بستر پر سیدھا لیٹ گیا وہ ایکدم اُٹھنے لگی مگر اسنے ہاتھ کھینچ کر اپنے اوپر گِرا لیا اسکے سینے پر ہاتھ رکھے وہ اُٹھنے کی کوشش کررہی تھی مگر اسکی گرفت زیادہ مضبوط تھی اسکے سارے بال ایک طرف زمر کے چہرے پر تھے جو دیوانوں کی طرح انکی خوشبو اُتار رہا تھا .اسکے بال چہرے دے ہٹائے اسکی گردن سے ہوتا ہاتھ وہ پیچھے بالوں میں پھسا چکا تھاآہستہ آہستہ چہرا قریب کرتا جارہا تھا اور وہ بغیر کوئی مزاحمت کرتے ہوتی جارہی تھی انکی ناک ایک دوسرے سے ٹچ کر رہی تھی جب زمر نے اسے پوچھا ” تمہیں مجھ سے نفرت ہے !” اسنے اثبات میں سر ہلا دیا زمر کا چہرا اُتر گیا تھا ” محبت ہے ! اسنے نفی میں سر ہلا دیا ” کیوں ؟ کیا نہیں تھا اس کیوں میں تجسسس دُکھ محرومی بے بسی درد وہ ایکدم ہوش میں آئی ” مجھے نہیں پتا آپ چھوڑیں مجھے ! مگر آزاد کرنے کی بے جائے وہ اسکے ہونٹوں کو قید کرچکا تھا وہ اسے مسلسل دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر کوئی فائدہ نہیں تھا وہ خود نہیں جانتا تھا وہ کیا کر رہا تھا آخر اسنے اسے چھوڑ دیا مگر سینے سے لگا لیا ” تم تو میری وہ سزا ہو جو مجھے نازنین نے بخشی ہے میں تم سے نفرت نہیں کرسکتا تمہارے آنے سے پہلے میں نے تمہیں قبول کیا تھا تمہیں میرا آج دل نازنین کو بتانے کو چاہ رہا ہے کہ تمہاری بددُعا لگ گئی دیکھو اسنے مجھے رُسوا کیا ہے میری سانسیسں بوجھ بن رہی ہیں میں تِل تِل مر رہا ہو نازنین ! وہ جو خاموشی سے اسے سُن رہی تھی اسکے اچانک خاموش ہونے پر ھیرت کا شکار ہوئی اسنے اسکی گرفت سے آزاد ہونا چاہا جس میں وہ کامیاب ہوگئی وہ بے ہوش ہو رہا تھامگر اس سے پہلے نمزا کو اس سے کچھ پوچھنا تھا ” یہ نازنین کون ہے ؟ جنابِ زمر کون ہے یہ نازنین جسے آپ ہمارے ساتھ ہوتے ہوئے یاد کر رہے تھے ” اسکے چہرے کو تھپتھپاتی وہ اسے ہوش دلا رہی تھی ” ہم آپکو کبھی معاف نہیں کریں گے آپکی ہمت کیسے ہوئی ہم میں سانسیں ڈال کر ان ہونٹوں سے کسی اور کا نام لینے کی ہمارے جسم کو چھو کر آپ کس سے محبت کررہے تھے نہیں…..” مگر وہ تو کب کا بے ہوش ہوگیا “
