315.7K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 11

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

رات کی چاندنی میں سفید لباس پہنے وہ محل کے گنبد کے پاس موجود بالکونی میں کھڑی تھی جہاں سے پورا بازار نظر آرہا تھا اندھیروں میں ہر گھر سے شمع کے جلنے کی روشنی پھیل رہی تھی مگر اسکے چہرے کا احاطہ تو چاند کیے بیٹھا تھا ٹھنڈی ہوا اسکے آنچل کو بالوں سے کھیلنے میں مصروف تھی جو ابھی تک اس سوچ میں گم تھی کہ اسکے ڈریس بٹرفلائیز سے بھر کیسے گئی فاریہ آنٹی کی سناش انکل نے کی مام کی بابا نے تو میری کس نے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبوتروں کی ڈار چاند کے قریب سے گُزری تو ایک کبوتر سنگی ساتھی چھوڑ کر زرمیش کے کندھے پر آن بیٹھا اور سرگوشی کرنے لگا ” امبر پارہ ! اسنے مُڑ کر اسے دیکھنا چاہا مگر وہ اُڑ گیا زرمیش کی نظر اپنے ساتھ کھڑے وجود پر پڑی تو اسکی چیخ نکل گئی وہاں ایک اور زرمیش کھڑی تھی بلکل ویسی ہی جیسی وہ تھی سفید لباس کھلے بال ۔۔اس ہم شکل نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا ” چیخیے مت ہم ہیں! آنکھوں کی پُتلیاں کو ہلا کر وہ اس سے اسکا تعارف پوچھ رہی تھی ” پہلے بتائیں آپ چیخے گی تو نہیں !! زرمیش نے فوراً نہ میں سر ہلا دیا اسکے منہ سے ہاتھ ہٹایا پھر وہ ہم شکل اچانک کوئی اور روپ لینے لگی پیروں میں شاہی جوتے چست پجامہ اور کالا پرنس کوٹ اور گلے میں ڈھیروں مالائیں اور۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔یہ تو ضامن تھا جو اب دانت نکالے ہنس رہا تھا ” ہاہاہاہاہا تو محترمہ زرمیش ڈر گئی ! زرمیش کا بس نہیں چل رہا تھا اسکا خون پی جائے ” تم بدتمیز یہ کیا حرکت تھی ! وہ اسے نوچنے کے لیے آگے بڑھی مگر اسنے کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا جس پر وہ ہکا بکا رہ گئی ” یہ تو پیار جتانے کا ایک طریقہ ہے ! وہ اسکے ماتھے پر آئے باپ پیچھے کر رہا تھا جیسے جیسے اسکی انگلی اسکے چہرے پر پھِر رہی تھی اس پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے مگر ایک چیز جو عجیب تھی وہ تھی وہ بے حد ٹھنڈا تھا اسکا جسم ایسے جیسے برف میں لگا تھا پہلی بار جب اسنے اسے چھوا تھا تب بھی وہ تپ رہا تھا ہر بار اسکے لمس میں تپش تھی مگر یہ اتنا ڈھنڈا کیوں ہے ۔” ضض۔۔۔ضامن یہ کیا کر رہے ہو تم ۔۔ایک تو ڈھنڈی ہوا دوسرا کمر میں گھستا اسکا ٹھنڈا لمس اسے کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔

“ پیار کر رہا ہوں تمہیں اور کسے ہمیں آپ سے محبت ہوگئی ہے ! وہ اسکی گردن میں گھُستا جارہا تھا اس سے پہلے کے اسکے لب اسکی گردن کو چھوتے زرمیش کے کانوں میں کسی کی آواز آئی ” شہزادی زرمیش ! ان دونوں نے ایک ساتھ اس جانب مُڑ کر دیکھا تو زرمیش کے ہوش اُڑ گئے وہاں ضامن کھڑا تھا وہ بہروپیہ ایک دم اس سے دور ہوا جب تک ضامن اسکے قریب پہنچتا وہ گھوما اور چمکادڑ بن کر اُڑ گیا زرمیش کی سانس تو وہیں بند ہوگئی تھی ضامن اسکے طرف بھاگ اسنے ہوا میں پہلی چھلانگ ہی لگائی کہ وہ خود ایک باز بن گیا اسکے چلانے کی آواز اتنی تیز تھی کہ ناجانے کہاں سے بازوں کی ڈار وہاں پہنچ گئی وہ سب شور مچا رہے تھےزرنیش کانوں پر ہاتھ رکھتی نیچے بیٹھتی چلی گئی ۔تمام باز اس چمکادڑ کا پیچھے کر رہے تھے پورا آسمان چھان مار رہے تھے مگر وہ نہیں ملا وہ کہیں گم گیا سب کو چکما دے کر وہ چمکادڑ رانی رکھا کے محل کی چھت پر اُترا تھا اسنے اپنا اصلی روپ لینا شروع کیا پورا کالا چوغہ سر پر چوغے کی ٹوپی اور چہرے پر منحوسیت کے داغ وہ بد صورت تھا تو بھیانک کالی رات سے زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکا رُخ اب نیچے کی جانب تھا جہاں بستر پر لیٹی رانی برکھا موجود تھے ” رانی برکھا کا اقبال بلند ہو! اسکے آواز سُنتے ہی وہ ایک دم اُٹھی جسے دیکھ کر لگتا تھا اسکے حسن نے تو وقت کو بھی مات دے دی مگر ایک بہت بڑا راز تھا جو رانی برکھا کے حُسن سے جُڑا تھا اور وہ تھا مرد مرد زات اسے حسین صرف مرد ذات رکھ سکتی تھی مگر جب سے اسنے ضامن کو دیکھا تھا وہ سناش کو چھوڑ ضامن پر عاشق ہوگئی تھی وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ضامن کون ہے اور کیا ہے اسنے ملن کرنا تھا تو بس ضامن سے اور کسی سے نہیں اپنی ضد کی وجہ سے وہ اپنا تھوڑا حُسن کھو چکی تھی وہ ضامن کو حاصل کرنا چاہتی ہمیشہ کے حسن کے لیے مگر بے واقوف عورت یہ بُھلائے بیٹھی تھی کہ موت بھی کسی چیز کا نام ہے ۔

“ بولو نحوس مٹا دیا اس لڑکی کو تم نے ! اس بات پر وہ شرمندگی سے سر جُھکا گیا تھا ” رانی وہ۔۔۔۔یہ نحوس اس لڑکی کو اپنی نحوست میں لے لیتا مگر جیسے ہی میں اسے ہونٹوں سے چھونے لگا وہاں وہ۔۔۔۔۔شہزادہ آگیا !

کیییا !نحوس تم ایک لڑکی کو نہیں مار پائے اور کس حق سے تم خود کو جنات کے سردار کہتے ہو ۔”

“ میں نے کوشش کی تھی پہلے جب میں اسکے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھنے لگا تو ناجانے کہاں سے وہ کبوتر آگیا اور اسکے کندھے پر بیٹھ گیا وہ میری جانب مُڑی تو مجھے انکا روپ لینا پڑا وہ ڈر گئی پھر مجھے ایک خیال آیا اور میں شہزادے میں تبدیل ہوگیا اسکی گردن کو چھولیتا تو وہ میری ہمزاد بن جاتی مگر افسوس ! غصے میں اسکے جسم سے آگ کے چنگاڑھے نکل رہے تھے رانی برکھا نے ایک بوتل لی جسے دیکھ کر وہ تڑپ اُٹھا ” رانی نہیں رحم رانی رحم ۔۔۔۔۔۔! مگر اسکے نا سنتے اسنے اسے اس بوتل میں قید کردیا اب یہ کام میں خود کروں گی تو اپنی نحوست سمندر کی گہراوں میں دیکھانا ۔۔۔وہ بوتل باہر پھینکنے لگی جب وہ چیخا ” رانی میں پھر آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا رانی رحم ! آخر اسے اس پر ترس آگیا اسنے بوتل ساتھ پڑے میز پر رکھ دی ” تمہیں نکالا تب جائے گا جب ہمیں لگے گا کہ ہمیں تمہاری ضرورت ہے تب تک سڑو تم یہاں ۔۔۔۔۔”

“ نہیں اگر یہ دونوں ایک ہوگئے امبر پارہ اور جاودات بن گئے تو میں ختم ہوجاوں گی مجھے ہر حال میں ضامن چاہیے ! کالا لباس لمبے ناخن لال آنکھیں اسنے آئینے میں ایک نظر خود کو دیکھا تو آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ رہے تھے ” نہیں! نہیں ! مجھ۔۔۔۔مجھے بوڑھی نہیں ہونا مجھے ضامن چاہیے ۔۔۔مجھے اسکی قربت اسکی محبت چاہیے مگر وہ مجھ سے محبت کیسے کرے گا کیسے ؟”

بازوں کی وہ ڈار پورے آ سمان کا احاطہ کیے گھوم رہی تھی نیچے سے سورانچھ پریشانی کے عالم میں دیکھ رہا تھا ” محل میں کچھ غلط ہوا ہے اور کیا بھی کسی ہوائی مخلوق نے ہے جو شہزادے باز بنے اسے ڈھونڈ رہے ہیں! وہ تمام باز ایک ساتھ کال جنگل میں اترے تھے صرف ضامن تھا جس نے اپنی اصلی شکل اپنائی تھی انکھوں میں غُصہ اور وحشت لیے وہ سورانچھ کو دیکھ رہا تھا ” چمکادڑوں کا بسیرا !

“ وہ کھوکھلا درخت ! بنا کوئئ اور جواب سوال کیے سورانچھ نے اسے جگہ بتا دی تھی ضامن نے چمکادڑوں کا روپ لیا اور انکی زبان میں انھیں بلانے لگا ” ڈھیر سارے چمکادڈ اسکے سامنے آگئے تھے

“ محل میں کون گیا تھا ! وہ انکی زبان میں ہی ان سے مخاطب تھا ۔” ہم میں سے محل کوئی نہیں جاتا شہزادے ؟

“ میں نے ابھی وہاں سے ایک چمکادڑ کو بھاگتے دیکھا ہے ! “

“ پر شہزادے ہم تو اسی جنگل میں رہتے ہیں ہم کیا کوئی بھی جانور شہر سحر کی حدود پار نہیں کرتا ہوسکتا ہے کوئی جن ہمارا روپ لیکر گیا ہو ۔۔۔۔” یہ بات تو اسنے سوچی ہی نہیں وہ دوبارا باز بنا اور محل کی طرف روانہ ہوگئے باقی تمام تو محل۔کے اندر اُترے تھے جو اپنی سپاہیوں کی شکل لیکر واپس کام میں لگ گئے تھے وہ اکیلا چھت پر اُترا تھا جہاں وہ کانوں پر ہاتھ رکھے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی ” شہزادی زرمیش ! شہزادی زرمیش !

اسنے ڈرتے ڈرتے سامنے اسے دیکھا تو پھر چہرا چھپا لیا ” نہیں ! نہیں ! تم ۔۔۔تم ۔۔۔ضامن نہیں ہو ۔۔تم ایلین ہو جاؤ ! وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی ۔

“ میں ضامن ہی ہوں شہزادی وہ ناجانے کون تھا کیوں آیا تھا ۔۔۔۔۔” اسنے ڈرتے ڈرتے اسے پھر دیکھا شہادت کی انگلی آگے بڑھاتے اسنے اسکے ہاتھ کو چھوا جو کہ گرم تھا ڈر تھوڑا کم ہوا تو ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے دیا تپش پھر سے منتقل ہونے لگی تھی وہ دیوانوں کی طرح اسکا چہرا گردن ہاتھ چھو رہی تھی ” اٹس یو ضامن ! اٹس یو! بے ساختہ میں اسکے گلے لگ گئی ۔وہ پیار سے اسکے بال سہلا رہا تھا کچھ دیر بعد وہ پر سکون ہوگئی مگر ضامن کے ذہن میں تب سے ایک ہی سوال گردش کررہا تھا اسے پر سکون ہوتا دیکھ اسنے پوچھ ہی لیا ” آپ کو یقین کیسے آیا کہ میں ضامن ہی ہوں ؟” اسنے اسکی جانب چہرا اُٹھایا ” تمہارے جسم سے !

“ مطلب کیسے ! اسکا جواب سن کو وہ کچھ حیران ہوا ” تمہارا جسم گرم رہتا ہے وہ ٹھنڈا تھا برف کی طرح اسنے جب مجھے چھوا تو مجھے ٹھنڈ لگنے لگی اور تم میرے کبھی اتنا قریب آتے بھی نہیں تھے تم جب میرے قریب آتے ہو تو۔۔۔۔۔۔” روانی میں بولتے اسے اچانک بریک لگی وہ جو آگے سنا چاہتا تھا اسکی طرف دیکھا ” میں جب قریب آتا ہوں تو؟

“ مجھے گُدگُدی ہوتی ہے ! اسنے ایک دم اپنے آپ کو اسکی باہوں کے حصار سے نکالا ۔

کیییا !! اپکو ہمارے چھونے سے گُدگُدی ہوتی ہے اور جب وہ چھو رہا تھا تب اچھا لگ رہا تھا.!زرمیش کو اسکے لہجے میں جلن محسوس ہورہی تھی وہ اسے چڑانے لگی ” ہاں ٹھنڈا ایسے جیسے میں سویز لینڈ میں ہوں اور وہ تم سے زیادہ حسین لگ رہا تھا …” ہاتھ ہلاتی باتیں کرتی وہ جانے لگی جب اسنے ہاتھ کھینچ کر اپنے قریب کرلیا وہ آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی ” اب کیسا لگ رہا ہے اب بھی گُدگُدی ہورہی ہے ! اسنے لہجے میں بلا کا خمار لے کر بولا تھا کہ زرمیش کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ” بتاو کیسا لگ رہا ہے ؟” ” جج….جلن ہورہی ہے کک..کلائی پر ہاتھ چھوڑیں ! ” اسنے نرمی سے اسکی کلائی چھوڑ دی جو لال ہوچکی تھی اسنے غصے سے اسے دیکھا ” وہ بھی آپ سے زیادہ ٹھنڈی ہوگی .” اسکے پیچھے کی جانب اشارہ کیا اور بھاگ گئی اسنے پیچھے دیکھا تو دیواروں میں لگی مشالوں میں آگ نظر آئی اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی . ………….⌛……… سناش کی آنکھ دروازے پر دستک سے کھُلی ” اس وقت کون ہوگا ! اسنے پریشانی سے دروازہ کھولا تو سامنے ضامن تھا ” ضامن !” معزرت ابا اپکو اس وقت پریشان کیا مگر محل میں قاتلانہ حملہ ہوا ہے !اسنے ھیرت سے اسے دیکھا ” کس پر ؟ ” شہزادی زرمیش پر ہم انکی آرام گاہ میں گئے تو وہ وہاں نہیں تھیں پھر ہمیں پتا چلا وہ گنبد کے پاس ہیں جب ہم وہاں پہنچے تو وہ ……اسنے غصے سے مُٹھیاں بھینچی ” وہ انکے اتنا قریب ہمارا روپ لیے دو ضامن دیکھ کر وہ بہت ڈر گئی تھیں .” ” کییا ! پھر ؟ وہ تو ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہیں اسیر نے سن لے ” جب تک ہم ان کے قریب پہنچے وہ چمکادڑ بن کر غائب ہوگیا تھا ہم نے کال جنگل کے تمام چمکادڑوں سے پوچھا تھا وہ کہہ رہے ہیں ہم میں سے کوئی محل نہیں گیا کہہ رہے شاید کوئی جن ہوسکتا ہے پر ابا شہر سحر کے تمام جن ہمارے حُکم کے تابع ہیں تو پھر وہ ……. برکھا ! سناش.کی بات پر ضامن نے حیرت سے اسے دیکھا. …………⌛……… زمر صبح سے ہی تازہ ہوا میں تھا رات کی بوجھ بنی سانسوں کو خارج کرنے کی کوشش کررہا تھا مگر وہ تھیں کے گلے میں اٹکی تھیں ” شہزادے زمر آپکو رانی فاریہ اور رانی طلسم اپنی آرام گاہ میں بلا رہے ہیں ! کنیز پیغام دے کر چلی گئی تھی .مردہ قدموں سے وہ اس جانب چلا پہنچا تو سامنے کا منظر حیرت انگیز تھا نمزا چہرا ہاتھوں میں چھپائے بیٹھی تھی فاریہ اور طلسم نے اسے کندھے سے تھا رکھا تھا قدموں کی آواز پر اسنے چہرا اُٹھا کر دیکھا نتھ اب بھی آدھے ہونٹوں کا احاطہ کیے بیٹھی تھی زمر نے کوفت سے نظر ہی پھیر لی جو غالباًطلسم اور فاریہ نہ دیکھ لیا نمزا کے آنسوؤں میں روانی آگئی تھی .” جی مام آپ کے بلایا ! طلسم اسکے پاس آئی اسکا ہاتھ تھاما ” مجھے تم سے بات کرنی ہے ! کھینچنے کے انداز سے باہر لیکر گئ ” مام ! مگر اس سے پہلے طلسم نے اس پر ہاتھ اُٹھا دیا وہ بس اسکا منہ تکتا ہی رہ گیا جس کی آنکھوں میں آنسو بھی تھےبھی اور غُصہ بھی “مام ! ” چُپ زمر مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی تم ایسا کیسے کر سکتے ہو !” ” میں نے کیا کیا ہے مام ؟ ” وہ التجایا لہجے سے پوچھ رہا تھا .” کل رات نمزا تمہارے قریب اور تم نے اسے دھکیل دیا ! وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ” یہ اسنے آپ کو بتایا ؟” صبح جب ہم اسکے کمرے میں گئے تو تم وہاں نہیں .اور گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی.پوچھا تو بتایا کہ تم اس سے نفرت کرتے اسنے تمہیں چھونے کی کوشش کی اور تم نے اسے دھکیل دیا ….کیا یہ سچ ہے …” اسکی بات پر اسکی آنکھوں میں کل رات کا منظر چل رہا تھا ” میں نے تو اپنے صبر اور جذبات کی حدود ٹوٹنے سے پہلے اسے دور کرنا مناسب سمجھا تھا مجھے کیا معلوم تھاکہ وہ اسے یہ رنگ دے دے گی ..” یہ اسنے دل میں سوچا تھا بظاہر تو وہ خاموش تھا . ” کیا یہ سچ ہے زمر ! وہ دوبارہ چیخی تو اسنے اثبات میں سر ہلا دیا طلسم کا ہاتھ دوسری بار اُٹھا مگر وہ ضبط کرگئی .اسے وہیں چھوڑ گئی .اسنے سانس روکے سر دیوار سے ٹکا لیا ” میری محبت دھتکاری گئی تھی ….تمہاری تمہیں رسوا کردے گی …میں روئی ہوں …تمہارے آنسوں نکلنے سے انکار کردیں گے…” نازنین پھر سے اسے بددعا یاد دلانے آگئی تھی .دیوار سے سر ٹکائے وہ سانس بھی مشکل سے گلے اتار رہا تھا بند انکھوں آنسوں سے نکلتا پانی اسکی کنپٹیوں سے ہوتا نیچے گر رہا تھا . کھو گیا …. گُم ہوگیا …. وقت سے چُرایا تھا جو… اپنا بنایا تھا جو ….. وہ تیرا …. وہ میرا…. ساتھ نبھایا تھا جو…. اپنا بنایا تھا جو….. جو دریا جینی رے جینی … آنکھیں بھیگی رے بھیگی ….. اسکی حالت کسی کے دل پر ایک ٹھیس لگا گئی تھی .وہ ابھی ابھی فاریہ طلسم کے پاس سے اُٹھ کر آئی تھی ایک قدم اسکی طرف بڑھا پھر سر جھٹک کر چلی گئی .. رات کا دوسرا پہر تھا جب وہ کمرے میں گیا کل رات والی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر سامنے کا منظر اُسکے ہوش اُڑانے کے لیے کافی تھا پورا کمرا گلاب کے پھولوں سے سجا تھا چنبیلی کی خوشبودار موم بتیاں اور آئینے کے سامنے سامنے بڑا گلاب اسکی جان پر وبال بنا کھڑا تھا .لال گاون اتنا جوبصورت تھاکہ اسکی تمام نسوانی رعنایا بخوبی ظاہر کر رہا تھا بغیر آستیوں کے اسکے دودھایا بازو چاند کی روشنی میں چمک رہی تھی کُھلے بال بغیر کسی قید کے ہوا کے دوش پر سوار تھے اور آج تو اسکی نتھ نے بھی زمر کو شہ مات دے دی. اسنے گہرا سانس لیکر خود کو بہکنےسے روکا تھا وہ اس کی طرف بڑھی مگر وہ صوفے کی جانب بڑھ گیا وہ اسے دیکھتی رہ گئی وہ آنکھیں موندیں لیٹ گیا جب تھوڑی دیر بعد خود پر وزن محسوس ہوا آنکھیں کھولیں تو اسکے نہایت قریب اس پر جھکی تھی ایک ہاتھ اسکے گال پر رکھے وہ مُسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی ” یہ کیا نیا ڈرامہ ہے ! اسنے دل میں سوچا تھا اسنے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر اس سے پہلے ہی نمزا نے اسکے الفاظ اپنے پنکھڑی جیسے ہونٹوں میں قید کردیے اسکی آنکھیں پوری کھل گئی تھیں ” یہ مجھ سے پیار کررہی ہے جس سے کل تک نفرت کہیں اسے اپنی غلطی احساس تو نہیں ہوگیا .اسنے تو یہ سوچ کر اسکی کمر کے حصار باندھ لیا تھا اپنے ردِ عمل سے اسے وہ یقین دلا رہا تھا کہ وہ اسے معاف کرچکا ہے .وہ کوئی مزاحمت نہیں کررہی تھی خود سے دور بھی نہیں کر رہی تھی کافی وقت بعد اسکی مدھم ہوتی سانسوں کو محسوس کرکے زمر خود دور ہوگیا کچھ لمحے تو وہ سانس بحال کرتی رہی اور وہ اسکا چہرا دیکھتا رہا پھر وہ مسکرا اسے دیکھنے لگی ” یہ لمحے کتنے فسو خیز ہیں گزرتے پتہ ہی نہیں چلتا یہ پھول چاروں اور بکھری سنہری دھول موم بتیوں کے بھڑکتے شعلے یہ خوشبو سب محبت کی دعوت دیتے ہیں ! وہ چاروں اور دیکھ اسے مخاطب کررہی تھی جو مسکرا صرف اسکے چاند سے مُکھڑے کو دیکھ رہا تھا پھر اچانک وہ اسکے کان کے قریب ہوئی ” میں تمہیں اپنا آپ سوپنے کے لیے تیار ہوں یہ لمحے صرف تمہارے ہوں گے مگر………اسکےمگر پر زمر کے ہونٹ سُکڑ گئے تھے ” تمہیں صبح سورج کی پہلی کرن نکلنے سے پہلے مجھے اورمحل چھوڑ کر جانا ہوگا ..اسنے اسکا چہرا اپنے سامنے کیا کچھ دیر تو سپاٹ تاثرات کے ساتھ اسے دیکھتا رہا پھر بالوں میں انگلیاں پھسا کر اپنے قریب کرنے لگا نمزا فاتح مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہی تھی ” ہر مرد کی کمزوری ہے !” اسکے نہایت قریب کیے وہ اسکے کان میں سر گوشی کرنے لگا ” قتل کردو تبھی ممکن ہے جب تک سانس ہے نہ تو میں یہاں سے جاؤں گا نہ تمہیں چھوڑوں گا …! اور خود سے دور پھینک دیا وہ زمین پر گری اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی ” اتنا گِرا ہوا سمجھا ہے تم نے مجھے کہ میں تمہاری اس گھٹیا پیشکش کو مان کر اپنا ضمیر بیچ دو میں مرد ہوں حوس پرست نہیں لعنت بھیجتا ہوں میں تمہاری قربت پر اور لعنت بھیجتا ہوں میں تمہارے لمس پر……یہ سب اسنے نہایت دھیمے لہجے اور چبا چبا کر کہا تھا اس حالت میں بھی وہ ضامن کی بات نہیں بھولا تھا کہ اونچی آواز سے بات کرنے پر وہ ڈر جاتی ہے اسے اسکو ڈرانا نہیں تھا وہ بس اسے احساس دِلانا چاہتا تھا .وہ وہیں صوفے پر کروٹ لیکر لیٹ گیا وہ اُٹھ کر جانے لگی تو پیر میں کچھ چُبھا وہ گلاب کا پھول تھا جسکے کانٹے پیر میں پیوست ہوگئے تھے منہ سے بس ایک سسکی نکلی جو زمر کے کانوں میں پڑ.گئی تھی اسنے پلٹ کردیکھا تو وہ پیر سے وہ گلاب نکال رہی تھی ” خوبصورت گلاب پیروں میں روندے گی تو انکی ذات سے وابستہ کچھ حقائق آپکو بھی تکلیف دیں گے وہ پیر سمبھالتی بستر تک گئی ور لیٹ گئی مگر کیا رات ہلکی تھی نہیں وہ رات سینے پر رکھا پتھر تھی ” واہ اتنا نیچ سمجھ لیا نمزا کے تمہارا جسم پانے کے لیے میں تمہاری ناجائز خواہش کو پورا کردوں لعنت ہے ! اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے سزا دے . وہ کمبل میں منہ دیے سسک رہی تھی ” اتنا گرِا ہوا سمجھ لیا مجھے …….میں مرد ہوں حوس پرست نہیں …..لعنت بھیجتا ہوں میں تمہاری قربت پر لعنت بھیجتا ہوں تمہارے لمس پر…..زمر کے الفاظ اسے پل پل شرمندہ کررہے تھے .” اتنا کیسے گرگئی میں اسے خود سے دور کرنے کے لیے ہم خود کو بے لباس کرنے چلے تھے لعنت ہے ! یہ سب کرنے پر ہمیں اپ نے ہی مجبور کیا ہے جنابِ زمر آپکی غلطیوں میں ایک غلطی جُڑ گئی جسکی سزا آپکو ضرور ملے گی . .