315.7K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 15

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

وہ ابھی بھی اوندھے منہ قالین پر لیٹی تھی کالا لباس پہنے کالے بال پھیلائے وہ سوگواریت کی زندگی مثال تھی ۔” ٹھک ! ٹھک !دروازے پر دستک سے اسنے ناگوری سے پوچھا ” کیا ہے !

“ شہزادی کھانا کھالیں ! وہ اسکی خاص کنیز تھی جو اکثر اسی کے کام کرتا تھی ۔” ہم نے کہا نہ نہیں کھانا !” اسنے بیزاریت سے کہا ” شہزادے زمر نے بھیجا خاص آپکے لیے ! ” وہ ایکدم اُٹھی دروازہ کھولا ادھر اُدھر دیکھا ” وہ خود نہیں آئے ؟”

“ اسنےنفی میں سر ہلا دیا مگر اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اسے اسکی فکر ہے ” تم جاؤ ! اسنے اسکے ہاتھوں سے تھال لیا اور ننگے پیر باہر چل دی لباس کے ریشمی ٹکڑے ہوا کے دوش پر سوار ہوگئے تھے کمر سے نیچے گرتے بال بھی ہوا سے شراتیں کرنے لگے تھے ٹھنڈے فرش پر پڑتے اسکے قدم اسکے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی تھی ٹھنڈ لگ رہی تھی مگر اسے وہاں جانا تھا جہاں وہ شاید اسکے لیے جاگ رہا تھا ۔کانپتے ہاتھوں سے اسنے دروازہ کھولا تو سامنے وہ کھڑکی کھولے کھڑا تھا . جج..جنابِ زمر ! اسنے حیرت سے پلٹ کر دیکھا وہ تھال پکڑے سامنے کھڑی تھی چہرے پر ناگواری سی آگئی ” یہ …یہ آپ نے بھیجا تھا !” اسنے تھال کی طرف اشارہ کیا ” جی ! ” کِھلا دیں !” زمر کا دل کر رہا تھا اسکی دیدادلیری پر اش اش کرے کتنی اسانی سے اسنے یہ جملہ کہہ دیا .” کیوں ؟” وہ معصومیت سے سر جھکا گئی تھال میز پر رکھا اور جانے لگی ” رُکیں ! پل بھر کے لیے ہی سہی دو دن بعد اسکے ہونٹوں کو مُسکان نے چھوا تھا. تھال اُٹھایا ” بیٹھیں ! ناجانے اسکے دماغ میں کیا چل رہا تھا جو مسکرا رہا تھا نوالہ بنا کر اسکی جانب کیا جسے اسنے اسکے طرف دیکھتے کھا لیے نمزا کی گڑی نظروں سے وہ کنفیوز بھی ہورہا تھا اور بیزار بھی ” آپ نے ہمیں معاف کردیا ! اسکی بات پر اسنے نہایت محبت سے اسکا ہاتھ تھاما کھڑا کیا اور چلنے لگا دروازے تک لاکر اسے کھینچ کر دہلیز سے باہر کردیا ” تم بھوک سے مرو یا شرمندگی سے مجھے فرق نہیں پڑتا پاگل تھا میں جو انسانیت کی خاطر تم سے ہمدردی کر بیٹھا تم تو کچھ اور مطلب سمجھ بیٹھی جاو یہاں سے اور اب تماشا لگاو بھی تو فرق نہیں پڑتا ….” اسکے منہ پر ہی دروازہ بند کردیا .وہ صدمے کے ساتھ دروازے کو دیکھتے رہی وہ رُخ موڑے کھڑا تھا جب دروازہ بجنے لگا ” نہیں ایسا مت کریں آپ کو خُدا کا واسطہ ہمیں مت چھوڑیں ہم مانتے ہیں ہم سے غلطی ہوگئی مگر آپ تو بہت اچھے ایک موقع ہم یقین دلاتے ہیں پھر کبھی شکایت نہیں ہوگی ….ہم آپ سے …..آپ سے …..اسکے آگے الفاظ سُننے کو اسکا دل دھڑک رہا تھا وہ سُنا چاہتا تھا ” ہم آپ سے بے پناہ محبت کرنے لگے ہیں .” وہ دروازے کے ساتھ ہی بیٹھی چلی جارہی تھی ” ہمیں معاف کردیں ! ” اسنے غُصے سے دروازہ کھولا اندر کھینچا اور دیوار سے پِن کردیا گرے آنکھوں میں اشتعال بھر آیا تھا .سانس رُکے وہ اس سے ڈر بھی رہی تھی اور اسے دیکھ بھی “تمہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ نفرت کرتا ہوں تم سے تم گِر چکی ہو میری نظروں میں دھتکار چکا ہوں تمہیں کوئی رشتہ نہیں رکھنا تمہارے ساتھ اور محبت کا تو بلکل بھی نہیں ….”بازو اسکے گرد اٹکائے ہر لفظ چبا چبا کر کہہ رہا تھا .آنکھوں کے کٹورے پھر سے بھر گئے تھے .مگر اس پر کہاں اثر ہونے والا تھا اسنے اسے پھر کمرے سے باہر نکال دیا دروازہ بند کردیا .وہ کچھ دیر بند دروازے کو دیکھتی رہی پھر چلی گئی .دل پتھر ہوگیا تھا اسکے آنسو بھی اثر نہیں کررہے تھے .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤️ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح زرمیش بور سی پھر رہی تھی اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا اوپر سے ضامن وہ بھی ناجانے کہا چلا گیا تھا وہ کسی کام سے محل سے باہر گیا تھا واپس آیا تو وہ باغ میں یونہی آوارہ گھومتی نظر آئی تو چلا گیا اسے دیکھ کر اسنے رُخ ہی موڑ لیا .” ناراض ہیں ؟

“ کس حق سے ؟ ۔۔۔۔” ہم جانتے آپ ہم سے ناراض ہیں اصل میں ہر طرف پریشانی تناؤ اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کیا کریں اسلیے ۔۔۔۔۔”

“ اسلیے تم مجھ سے دور چلے گئے ٹھیک ہے بھائی بھابھی کے بیچ جو کچھ بھی ہوا وہ سب غلط تھا مگر مجھے تمہاری ضرورت تھی مگر نہیں آپ کو تو بس اپنی پڑی ہے چند دن اچھابن کے دکھا لیا سب ہوگیا اب وہی بے رُخی ۔۔۔۔۔” وہ کافی بیزار تھی ۔

“ تو واقع ہی ناراض ہیں ؟ زمین کی گھورتے وہ مسکرا رہا تھا اور زرمیش کو اسکے اطمینان پر کوفت ہورہی تھی ۔

“ میرا دم گھُٹ رہا ہے !۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری موجودگی میں ! زرمیش نے حیرت سے اسے دیکھا ۔” نہیں اس محل کی سوگواریت میں چار دیواری میں قید ہوکر رہ گئے ہیں ہم یہاں کے لوگوں کو تو مہمان نوازی بھی نہیں آتی ۔

سیر کو چلیں ! ضامن کی منہ سے اپنے دل کی بات سُن کر اسے خوشی بھی ہوئی تھی مگر ظاہر نہیں کیا ” تو آخر آپکو یاد آہی گیا !! ” کہاں جانا چاہیں گی ؟” اسنے مسکرا کر اسے دیکھا ” شہرِ سحر کی سب سے خوبصورت جگہ پر ! سپاہی ! سپاہی ! اسنے سپاہی کو آواز دی ” کوچوان سے کہو نفاس جھیل جانا ہے شہزادی کے لیے بگھی تیار کریں …..” ” نو…نو …مجھے بگھی پر نہیں جانا مجھے یونی کورن کیا کہتے ہیں اسے تنگا تنگا پر جانا اور صرف آپ اور ہم پلیز!!! اسنے کیوٹ سا فیس بنا کر کہا جس پر ضامن کا دل پگھل گیا تھا ” رومی سے کہو تنگا تیار کریں!وہ خوش ہوگئی تھی رومی کو وہ دونوں ساتھ اچھے لگتے تھے اسلیے اسنے نہایت محبت سے سترنگی یونی کورن نکالا تھا پرپل گاون کو پیروں سے اوپر اُٹھائے کالے بالوں کے چھلے کمر پر بکھیرے سر پر تاج لگائے وہ اسکی جانب بڑھ رہی تھی جہاں ہم رنگ پرنس کوٹ میں ضامن اسکا انتظار کر رہا تھا بیٹھے یونی کورن پر وہ بیٹھ گئی ضامن اسکے پیچھے بیٹھ گیا تنگا نے پروں میں ہوا بھری اور ہوا میں اُڑنے لگا وہ ڈر گئی تھی اسلیے اسنے ضامن کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور آنکھیں بند کرلیں تھوڑی دیر بعد اسنے آنکھیں کھولیں تو اونچے اونچے سبز درختوں کے اوپر نیلا آسمان سفید کالے اُڑتے پنچھی نیلے آسمان پر سرمے کی دھمک اور رنگوں کی بھر مار دھنک ایک ٹرانس کی کیفیت میں وہ ساکن ہوگئی تھی اسے اپنے ارگرد پروں کے پھڑپھڑانے کی آواز آئی سفید ہنس انکے ساتھ اُڑ رہے تھے وہ دونوں بادلوں سے اوپر تھے وہ تو کھو سی گئی تھی یونی کورن نے نیچے کا رُخ کیا اور سبز گھاس پر اُتر گیا .سامنے پانی کا پھوارا پتھروں کو چیرتا نیچے حوض بنا رپا تھا بڑے بڑے پتھر اسکے گر موجود تھے سبز گھاس پر یوں لگتا تھا جیسے مخملی قالین ہو کونسا پھول نہیں تھا وہ وہاں کالے گلاب بھی اپنے عروج پر تھے تتلیاں جگنو پھر انھیں دیکھنے آگئے تھے ضامن یونی کورن کو ایک جگہ باندھنے گیا تھا کہ وہ کہیں چلا نہ جائے کچھ دیر بعد جب وہ واپس آیا تو سامنے کا منظر اسکی سانس روکنے کے لیے کافی تھا جھرنے کے نیچے عجیب نازیبا لباس پہنے کوئی پتھر پر کھڑی تھی اسکی جانب پیٹھ کیے گلیلے بال کمر اور پشت پر چِپکے پڑے تھے کپڑے سے عاری برہنہ سفید بازو پھیلائے چہرا اوپر اُٹھائے کوئی اپسرا تھی گھٹنوں سے نیچے تک سفید ٹانگیں ٹخنوں پر موجود گھنگروں سے لیس پائلیں اسنے زیور بھی پہن رکھا تھا جسکے بڑے بڑے جھمکے ہل رہے تھے اس منظر کو دیکھنے کے علاو اسے کوئی کام ہی نہ جیسے . اک ملی مینوں اپسرا… اودے کنا دے وچ والیاں… زُلفاں کالیاں کالیاں….. پتا نئی کیتھوں پا لیا… گورا گورا چم ای… جیوے ٹھنڈ چ رّم ای … اک ملی مینوں اپسرا …. اُسنے رُخ پلٹا تو جیسے قیامت آگئی موٹی موٹی آنکھیں سُرمے سے بھری تھیں .چھوٹے سے ناک میں موجود موٹے عنابی ہونٹوں کا احاطہ کرتی نتھ برہنہ کمر میں موجود بڑے ڈھول موتیوں والا کمر بند …. جادو ہے کوئی یا خُدا کی مایا ہے … تارو کہ محفل میں ہائے چاند آیا ہے… تاروں کی محفل میں ہائے چاند آیا ہے…. ” زرمیش ! وہ اپسرا لگ رہی تھی اس قدر حسین کے کسی کا بھی ایمان اسے دیکھ کر ڈول جائے جھرنے کے پانی کی بوند بوند اسے چھو کر نیچے گر رہی تھی اپنے پورے جوبن کے ساتھ وہ ضامن کو شہ مات دے گئی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے چھو لے . تھوڑا تھوڑا مینہ پیا…. اونون چھون نو جی پیا….. کولوں لنگدا فقیر پیا …. کیندا چھڈ عشق وچ کیا پیا …. چندن دا لگی واگ پیی …. میری سُتی قسمت جاگ گئی… اک ملی مینوں اپسرا …….. آخر نہیں رہا گیا تو کوٹ اُتار کر وہیں پھینکا اور اسکے پاس پہنچ گیا نہایت بے باک سی مُسکر اہٹ اسکے چہرے پر آگئی تھی وہ دور جانے لگی مگر اسنے کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیا وہ ایک ساتھ بھیگ رہے تھے شرم و حیا کے تمام تقاظے بھلائے آخر وہ اپنا آپ اس سے چھڑانے میں کامیاب ہوگئی پانی میں ڈوبی اور تیر کر جل پری کی اداوں سے کنارے پر جا بیٹھی وہ اس لباس و ھرکات میں وہ کھُلی دعوت تھی جو ضامن کا ایمان ہلا گئی تھی اسنے ایک پھول لیا اپنے پیر کے انگوٹھے سے شروع کر اسے پھیرتی گردن تک لے گئی تھی وہ ضامن کا ضبط ازما رہی تھی اپنے ہاتھوں سے پانی کو چیرتا جب وہ اس تک پہنچا تو اسنے وہی پھول اسکی طرف کردیا جسکی خوشبو کو اسنے بڑی گہرائی تک اپنی سانسوں میں اتارا تھا .زرمیش کے عنابی ہونٹ گہرا مُسکرا رہے تھے . بقراط بہت دیر سے محل میں ضامن کو ڈھونڈ رہا تھا ” رومی !! ” جی جنابِ معلم !” رومی سر جھکایے اسکے سامنے کھڑا ہوگیا . ” ضامن کہاں ہے ؟” ” شہزادے شہزادی زرمیش کے ساتھ نفاس جھیل گئے ہیں …..” ” کیییا وہ اکیلا گیا ہے تم کیوں نہیں گئے ساتھ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا تھا..!”وہ چیخ کر بولا تھا ” جج…جناب وہ کسی کو ساتھ لیجانا نہیں چاہتے تھے مگر ایسا کیوں انھیں اکیلا کیوں نہیں چھوڑنا …..! ” کیونکہ کوئی گھات لگایے بیٹھا تھا !” وہ کنارے پر بیٹھی تھی ضامن اسکے قریب تر ہوتا جارہا تھا اسکے ہونٹوں کو چھو لیتا مگر وہ مچل کر بھاگ گئی پیچھے اسکے کانوں میں اپنی ہنسی کی گونج چھوڑ گئی تھی جو اسے اور بے تاب کر رہی تھی وہ ایک درخت کی اوٹ میں چھپی تھی جب وہ اسکے پاس آگیا وہ سب کی نظروں سے اوجھل ہوگئے تھے وہ درخت کے ساتھ لگی تھی وہ اسکے بلکل قریب اسکے ایک ایک نقش کو حفظ کرتے ہوئے” اج میرا امتحان کیوں بن بیٹھی ہو ؟” ” محبت کرتے ہیں نہ آپ ہم سے تو کر کے دیکھائے ہم نے کب روکا ! اپنی مخروطی انگلی اسکے ماتھے سے گردن تک پھیرتے وہ اسے مخاطب کر رہی تھی جھک کر نیچے سے اسکے باہوں کے حصار سے نکل بھاگی وہ بھی اسکے پیچھے بھاگا بازو پکڑا کھینچا اور اپنے قریب تر کر لیا انکی ناک ایک دوسرے کو چھو رہی تھی ” برداشت کر سکو کی میری مھبت کو ؟” ” کرکے تو دیکھایے آپ تو دور دور رہتے ہیں……” اسکے اس بے باک لہجے پر اسے ٹوٹ کر پیار آیا تھا وہ اسکے لبوں کی جانب بڑھتا جارہا تھا جب اسکے کانوں میں آواز آئی ” ضامن !! اسنے نظر گھما کر دیکھا تو زرمیش وہاں کھڑی تھی پورے لباس میں وہ ھیرت سے اسے دیکھ رہا تھا جب اسکی باہوں میں موجود اپسرا ریت بن ہوا میں اُڑ گئی وہ کبھی زرمیش کو دیکھتا کبھی اپنے خالی ہاتھوں کو اسے شرٹ لیس دیکھ کر زرمیش نے رُخ پھیر لیا تھا ” ضامن یہ آپ کیا کر رہے تھے ! وہ ابھی تک اپنی عقل پر ماتم کر رہا تھا ” وہ …وہ شہزادی زرمیش مجھے لگتا ہے کوئی چھلاوا تھا جو آپکے روپ میں ہمارے ساتھ….” ” رومینس کر رہا تھا ! یہ بات زرمیش نے زیرِ لب دانت پیس کر کہی . ” آپ ہماری طرف دیکھ سکتی ہیں اصل میں ایسی جوبصورت جگہوں پر ایسے خوبصورت دھوکے عام ہوتے مگر جو کچھ بھی ہورہا تھا ہم تو آپکو سمجھ کر ہی کر رہے تھے نہ !!! ” وہ میں نہیں تھی وہ کوئی وِچ تھی ! ” غُصےمیں تھی جو ضامن محسوس کرکے ہنس دیا تھا ” مگر تھی بہت خوبصورت ! وہ منہ بنا کر چل دی جب اچانک سامنے آگیا ” ہم معزرت خواہ ہیں ! گردن جھکایے بڑے مودب انداز میں کہا گیا تھا جو زرمیش کو مسکرانے پر مجبور کرگیا .” آئیں ہم ایک اور جگہ لیکر چلتے ہیں ! وہ اسکے آگے چلدی پیچے وہی کھڑی تھی اپنے نیم برہنہ لباس میں انگ انگ سے حسن جھاڑتی اپسرا !!!!

وہ اسے ٹھنڈ اور برف سے جمے کسی علاقے میں لے آیا تھا جہاں درخت پر موجود پتوں تک پر برف چڑھی تھی لال چیری 🍒 بھی ٹھنڈ سے سُکٹری پڑی تھی اسنے اپنے بازو اپنے گرد باندھ لیے یہ ۔۔یہ کونسی جگہ ہے !

“ یہ ہماری سب سے پسندیدہ جگہ ہے جہاں مجھے سکون ملتا ہے ۔۔۔۔”

“ اتنی ٹھنڈ میں ہاں آپ کا جسم رہتا بھی تو بہت گرم آپکو ضرورت ہے !”وہ بس مسکرا کر اسے دیکھے جارہا تھا سامنے برف کی پرتوں سے چھپا ایک محل تھا ” آئیں !اسنے مؤدب انداز سے محل کی طرف اشارہ کیا وہ چپ چاپ چل دی جب برف میں چھپی ایک درخت کی موٹی جڑ سے پاؤ اٹکا اور گرنے لگی مگر اسنے ہاتھ تھام لیا زرمیش نے حیرت سے اسے دیکھا اور ہاتھ کھینچ لیا ” تم ضامن نہیں ہو !

“ اسنے ہنس کر اسے دیکھا ” آپکو پھر ہم پر شک ہوگیا ضامن ہی ہیں !”

“ تم ضامن ہو ہی نہیں سکتے تم تو ۔۔۔تم تو برف کی ٹھنڈےہو اس پر تو کچھ اثر نہیں کرتا ۔۔۔۔۔”

“ ہم نے بتایا نہ آپکو ہمیں یہاں سکون ملتا اپنی جسم کی حرارت کو کم کرنے کے لیے ہم یہاں آتے ہیں ۔۔۔۔” وہ اسکے قریب جارہا تھا اور وہ دور ” آچھا ۔۔۔اچھا تو یونی کورن کہا ہے !

“ کون کہاں ہے ؟ اسنے حیرت سے پوچھا ” یونی کورن جو درخت پر لگتا ہے ۔۔۔۔”

“ اچھا ہم ابھی لاتے ہیں ! وہ ایک درخت کے قریب گیا اور چیری توڑ لایا اب تو اسے پکا یقین ہوگیا تھا ” تم ضامن نہیں ہو ضامن کو پتہ تھا یونی کورن کیا ہوتا !!!! اسنے اسے دور جھٹکا تو وہ اپنے اصلی روپ میں آگیا کالا لباس چہرے پر نحوست کے داغ “ہاہاہاہاہا سہی کہا آپ نے شہ۔۔۔۔زادی میں ضامن نہیں نحوس ہوں جن !!! ” وہ تو اسے دیکھ کر سر سے لیکر پیر تک کانپ گئی تھی ” ضامن !!….ضامن کہاں ہے ؟”

اسے تو لے گئی وہ !!!! اسنے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا ” کون ؟”

“ اپسرا ……..! برکھا زرمیش کا روپ لیے ضامن کو بہکانے میں کامیاب ہوگئی تھی اسنے جب اسے وہ پھول سونگھایا تھا تبھی وہ اپنی ساری یاداشت کھو بیٹھا تھا وہ دونوں جب درخت کے آؤٹ میں تھے تبھی برکھا اسکا رستہ بدلوا کر اسے اپنے ساتھ لے آئیے تھے یاداشت کھوئی وہ صرف برکھا کے حسن پر فدا تھا اسے بس اسے پانا تھا۔ جو اپنی اداؤں سے اسے مارنے پر تُلی تھی

“ رانی برکھا اور شہزادے ضامن اگر آج ایک ہوگئے تو امر ہو جائیں گے وہ صرف رانی برکھا کے ہوکر رہ جائیں آپ کھو دیں گی انھیں اور آپ صرف ہماری ہماری جیسی !!! اسے بتاتا وہ اسکے قریب ہوتا جارہا تھا جب زرمیش کو کسی نے کھینچ کر گھوڑے پر بیٹھا لیا اور گنگا ہوا میں اُڑنے لگا ” شہزادی آپ ٹھیک ہیں ؟”

“ہم تو ٹھیک ہیں رومی مگر …..!!!! وہ ابھی اس بات کر رہی تھی جب آگ کا شعلہ انکے قریب سے گُزر گیا !!! وہ ہوا میں اُڑتا انکے پیچھے ہی تھا رومی نے اپنے ہاتھوں میں پہنی انگوٹھی نحوس کے سامنے کی تو وہ اس قید ہوگیا ۔” یہ انگوٹھی تو ۔۔۔۔!! اسنے حیرت سے اس لال انگوٹھی کو دیکھا ” ہمیں جنابِ معلم نے بھیجا ہے انھیں علم ہوگیا تھا کہ برکھا کیا چاہتی ہے ! “رونے لگی تھی ” کون ہے یہ برکھا ؟”

“ برکھا ایک چڑیل ہے اور حسن کا بھنڈار مگر اسکا یہ حسن تب تک قائم رہتا جب تک اسکی زندگی ایک خوبصورت مرد رہتا وہ اپنے حسن کو برقرار رکھنے کے لیے شہزادے ضامن کو حاصل کرنا چاہتی ہے مگر محل کے گرد حفاظتی تہ کے وجہ وہاں آ نہیں سکتی اسلیے وہ انکے باہر آنے کا انتظار کررہی تھی آج شہزادے نفاس جھیل اکیلے تھے صرف آپ تھی انکے ساتھ اور ۔۔۔۔۔”

“ اور وہ میرا روپ لیکر اسے لے گئی ! زرمیش کا دل کررہا تھا اپنا ماتھا پیٹ کے میں نے اسے اکیلا کیوں چھوڑا ” وہ کہاں ہوگی اس وقت ؟”

“ شا۔۔۔۔شاید اپنے محل میں ۔۔۔۔۔۔!!!!

“ نہیں رومی !!! تیسری آواز پر ان دونوں نے ایک ساتھ ہوا میں دیکھا جہاں ایک بڑا سا بُلبُلا اُڑ رہا تھا جس میں بقراط ان سے مخاطب تھا ” وہ محل میں نہیں ہے وہ نفاس جھیل میں ہی ہے پانی کے اندر ضامن اسکے ساتھ ہے انھیں روکو وقت بہت کم ہے !!!! ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور یونی کورن کو ہوا میں اُڑا دیا بقراط پل پل انکے رابطے میں تھا وہ ساتھ ساتھ اپنی جادوئی کتاب میں برکھا کی کاروائی بھی دیکھ رہا تھا جو ضامن کو اپنے قریب کیے جارہی تھی ۔وہ دونوں نفاس جھیل گئی ” میں ۔۔۔میں پانی میں کیسے جاؤ میں سانس کیسے لوں گی ۔۔۔۔۔!!!”

“ شہزادی آپ جائیں اپ کو کچھ نہیں ہوگا !!! بقراط نے اسے تسلی دی تو وہ رومی کے ساتھ پانی کے اندر اُتر گئی

وہ سانس لے پارہی تھی اسنے حیرت سے رومی کے دیکھو جو ہنس دیا ” کیا ہوا شہزادی یہ جادوئی دُنیا ہے یہاں سب ایسے ہوتا ہے !!!

“ باتوں میں وقت ضائع نہ کرو اس ایک میں جاؤ!! بقراط کی آواز پر وہ اس جانب بڑھے تو وہ بڑا سا سیپ منہ کھولے کھڑا تھازرمیش نے جیسے ہی اسکے اندر قدم رکھا چیخ پر باہر نکال لیا مگر رومی نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر چیخ وہیں قید کردی آہستہ سے ہاتھ ہٹایا تو وہ سرگوشی میں بولی ” یہ اتنا نرم اور چِپچپا کیوں ہے جیسے زبان ہے !”

“ اور آپکو لگتا ہے یہ سیپ بے جان ہے نہیں یہ ایک جانور ہے جسکے منہ کے اندر شہزادے اور برکھا ! رومی کی بات پر وہ بدک کر پیچھے ہوئی ” یہ فلحال سو رہا ہے مگر چیخیں گی تو جاگ جائے گا آرام سے اندر آئیں کچھ نہیں ہوگا بغیر کسی آہٹ کے بغیر !! وہ ڈرتی ڈرتی کے اسکے ساتھ چل دی سامنے ایک دروازہ تھا بند تھا ” رانی برکھا اور شہزادے اسکے اندر ہیں !! وہ دونوں ایک ساتھ تھے اکیلے کمرے میں یہ بات زرمیش کو غُصہ دلانے کے بہت تھا ” کھولو اسے ! رومی نے سوالیہ نگاہوں سے بُلبُلے کو دیکھا ” یہ کیسے کھُلے گا !”

“ دروازے کو چھو کر دیکھو ! بقراط کے کہنے پر اسنے دروازے کو ہاتھ لگایا تو اسکی انگلیوں کے پور جل گئے “آہ!!! اسنے ہاتھ فوراً پیچھے کرلیا اسکی چیخ سے وہ جانور بے چین ہوگیا تھا ۔ ” اسے جما دو رومی ! بقراط نے دوسرا حُکم صادر کیا ” رومی نے اپنی انگلیوں کو پوروں کو آپس میں رگڑا تو نیلی ٹھنڈی روشنی دروازے کے جانب چلی اور اسے برف کی طرف ٹھنڈا کردیا جمادیا جسے ضامن نے توڑ دیا اندر پورا حال تھا زرمیش کا تو منہ کھُلا رہ گیا تھا اسنے اندر قدم رکھا زرمیش اندر جاچکی تھی رومی جانے والا تھا جب اسکی گردن پیچھے سے کسی نے پکڑ لی وہ کوئی جائینٹ تھا دیو جس نے اسے اپنا کانٹوں سے بھرا ہتھیار رومی کے سر میں مارا تھا اسکا سر پھٹ گیا تھا ” رومی !! زرمیش باہر آنے لگی تو اسنے روک دیا ” باہر مت آئیں اندر جائیں !! اس دیو نے رومی کو گھومایا اور سیپ سے باہر پھینک دیا سر سے نکلتا خون پانی میں حل ہونے لگا تھا وہ نیم غنودگی میں جارہا تھا جب بند ہوتی آنکھوں میں اسے ایک خوبصورت چہرا نظر آیا جو اسے تھام رہا تھا اسکی جان بچانے کے لیے وہ اسے تیرا کر لے گئی ۔زرمیش اس حال میں اکیلی تھی وہ بھاگنے لگی جب وہ دیو اسکے پیچھے پڑ گیا وہاں کئی دروازے تھے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے کسے کھولے آخر اسنے ایک دروازہ کھولا مگر سامنے شارک تھیں اسنے فوراً بند کردیا ” شہزادی اختیاط سے انھیں کمروں میں سے ایک میں ہےشاید !!! بقراط بتانے والا تھا مگر اسنے دیو نے وہ بُلبُلا پھوڑ دیا وہ اسکے سامنے تھی وہ اسے اٹھا لیتا جب ایک جل پری اس دیو کے سامنے آگئی اسنے ایک نظر زرمیش کو دیکھا ” جائیں امبر پارہ !!! اسنے حیرت سے اس جل پری کو دیکھا اسنے اسے امبر پارہ کیوں کہا وہ جل پری اسے امبر پارہ کیوں کہہ رہی ہے وہ جانے لگی مگر اسے پھر خیال آیا تم ۔۔۔۔۔تم اسے اس دروازے تک لا سکتی ہو ؟” اسنے شارک والے کمرے کی طرف اشارہ کیا جس پر اسنے اثبات میں سر ہلا دیا وہ جل پری اسے اس دروازے تک کے گئی زرمیش نے دروازہ کھولا تو شارک سیدھا اس دیو پر ابل پڑیں وہ اندر گر گیا زرمیش نے دروازہ بند کر دیا ” یس!!! اسنے جل پری کی طرف ہاتھ بڑھایا ہائی فائیو کے لیے جسے وہ حیرت سے دیکھنے لگی زرمیش نے سمجھ کر ہاتھ نیچے کرلیا وہ جانے لگی تو اسنے اسے پکارہ ” تم میرے ساتھ نہیں رہو گی ؟”

“ نہیں مجھے آپکے ساتھی کی جان بچانی ہے وہ زخمی ہیں !”

“ کیا رومی تمہارے پاس ہے ؟ وہ کچھ دیر تو اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی رہی پھر چلی گئی ۔” کیا کرو کیا کرو کونسا دروازہ کھولوں !!!

برکھا اسے اپنی جانب مائل کر رہی تھی اور وہ دیوانوں کی طرح اسکی طرف جاتا جارہا تھا وہ کمرا نہایت خمار آلودہ خواب گاہ تھی یا شاید اسنے اسی لمحے کے لیے آراستہ کی تھی وہ اُلٹے قدم پیچھے کی جانب جارہی تھی ۔جب ٹیبل سے پیتل کا گلدان گر گیا یہ آواز زرمیش کے کانوں میں پڑ گئی تھی اسنے آواز کا حساب لگایا اور اس جانب چل دی کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر اسے آگ لگا گیا تھا برکھا بیڈ پر تھی اور ضامن اس پر جھکا ہوا تھا ” ضامن !!!! اسنے آہستہ سے چہرا موڑ کر اسے دیکھا برکھا سے دور ہوا ” یہ کیا کر رہے ہیں آپ !!! وہ الجھ گیا تھا ایک ہی شکل کی دو لڑکیاں الگ الگ لباس میں اسکےسامنے موجود تھیں ایک جو پورے لباس میں تھی اور دوسری جس نے حیا کے منہ پر تماچہ مار رکھا تھا مگر یہ دونوں کون ہیں ” آپ کون ہیں ؟”اسکے سوال پر زرمیش منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی ” میں زرمیش ہوں ضامن !!! برکھا نے ایک ادا سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا” وہ جو کوئی بھی سچ میں ہوں صرف تمہاری ! اسنے اسکے کان میں سرگوشی کی ” ضامن نے مسکرا کر اسے دیکھا زرمیش اسکی جانب بڑھنے لگی مگر برکھا نے اسکے پیر وہیں جامد کردیے وہ ہل ہی نہیں پارہی تھی ضامن ایک بار پھر برکھا کے قابو میں آگیا تھا جو اسے ادائیں دکھا رہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے جب اسکے کانوں میں آواز گونجی ” کیا آپ مجھے سن پارہی ہیں شہزادی ! ایک چھوٹا سا بُلبُلہ اسکے کان کے قریب بول رہا تھا ” ججج۔۔۔جی سر میرا مطلب معلم میں سُن سکتی ہوں !

“ برکھا سے دور کریں ضامن کو !!! انھوں نے دبے ہوئے غُصہ سے کہا ” میں کیسے کرو مجھے نہیں پتا اس برکھا نے میرے ساتھ کیا کیا ہے میں ہل نہیں پارہی رومی بھی ناجانے کہاں ہے ! بقراط نے سر پکڑ لیا تھا پھر اسے ایک خیال آیا ” شہزادی ضامن کو غُصہ دلائیں شدید غُصہ !! انکے الفاظ پر اسنے حیرت سے دیکھا ” کیا !!!

“ ہاں اسے غُصہ دلائیں غُصے میں وہ کچھ اور ہی بن جاتا ہے !!! ” ۔۔۔۔۔مگر کیسے میں !!!!

“ کچھ بھی کچھ بھی کریں !!!! اسنے پریشانی سے ضامن کے دیکھا جو اسکے سامنے ہی برکھا سے چپکا کھڑا تھا اسے خود غُصہ آگیا ” تم انتہائی گھٹیا ہو ضامن محبت کے نام پر داغ ہو تم نامرد ہو تم !!! وہ جو اسکی گردن پر جھکا تھا اسکے الفاظ سن کر چہرا اسکی جانب کرلیا ” کیا بکواس کررہی ہیں آپ ؟”

“ سچ بول رہی ہو کیسے مرد ہو تم جسموں کے بھوکے جس نے دکھا دیا اسے چکھنے چل دیے غلیظ ہو تم تمہں ایک گھونٹ پانی میں ڈوب مرنا چاہیے !! ضامن کے ماتھے پر بل آگئے تھے ” آپ چھوڑیں ہمیں دیکھیں ! اسنے اسی انداز میں اسے دیکھا ایک ہی شکل اسے دھتکار بھی رہی تھی اور مائل بھی کررہی تھی ۔”

“ یہ بھی تمہارے جیسی ہے گھٹیا نیچ گِری ہوئی دیکھو کیسے اپنے آپ کی نمائش کررہی ہے اور تم بھیڑے بنے اسے نوچنے کے لیے اسے تیار کھڑے ہو جانور کہیں ۔۔۔۔! اسکے الفاظ اسے بے چین کر رہے تھے ” مرد وہ ہوتا جو عزت کرتا ہے ڈھانپتا ہے نہ کہ یوں عیاشی کرتا ہے تم ۔۔۔۔تم ایک ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عزت نوچنے والے بھیڑیےہوا ! یہ وہی جانتی تھی کہ وہ یہ الفاظ کیسے بول رہی تھی مگر وہ اثر کرگئے ایک مرد کی مردانگی پر سوال اُٹھ گیا تھا وہ یاداشت کھو بیٹھا تھا ضمیر نہیں جو یہ سب برداشت کرلیتا اسکی رگیں تن گئی تھیں اسکے جسم سے آگ جیسی گرمی نکلنے لگی تھی آنکھیں لہو چھلکا نے لگی تھی برکھا ایک دم اس سے دور ہوگئی اسنے مُٹھیاں بھینچ لی گھُٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گیا اسکے پشت میں چیرے آنے لگے تھے زرمیش کے دونوں ہاتھ منہ پر اگئیے تھے کچھ دیر بعد سیاہ پر پھن پھیلائے نکل آئے تھے ضامن کو سُلا کر جاودات آگیا تھا ہر چیز ساکن ہوگئی تھی بقراط بھی کچھ دیکھ نہیں پارہا تھا مگر برکھا نہیں ہوئی تھی کیونکہ اسکی موت سامنے تھے وہ اس سے آنکھیں نہیں موند سکتی تھی اسکا گلہ خُشک ہوگیا تھا اپنے اصلی روپ میں کھڑی تھی وہ آہستہ آہستہ اسکے قریب جارہا تھا ” نہیں جاودات تم آگ ہو میں جل جاو گی ! میں جل جاو گی !! مگر وہ اسکے قریب جاتا جارہا تھا بس اسے چھونے کی دیر تھی وہ راکھ کا ڈھیر بن گئی مگر اسکا غُصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا اب اسکی باری جسنے اسے بلایا تھا اسنے پلٹ کر اسے دیکھا وہاں زرمیش نہیں تھی وہاں تو وہ تھی جسکے بغیر وہ ادھورا تھا جو اسکے غُصے کو ٹھنڈا کرنے آتی تھی اسکی امبر پارہ جو سنجیدہ چہرا لیے اس راکھ ڈھیر کو دیکھ رہی تھی ” ہمیں جُدا کرنے میں یہ بھی شامل تھی آج اسکا بھی اختتام ہوا !!! اسنے آگے بڑھ کر جاودات کے گلے لگ گئی تھی ۔ ” بس کچھ وقت اور پھر ہم ہمیشہ کے لیے ایک ہوجائیں گے !!! اسکے گردن میں چہرا چھپا کر جاودات نے آنکھیں موند لیں تھیں ” ہم ایک جائیں گی !! اسنے باہوں کا گھیرا اور مضبوط کرلیا ضامن کی جب آنکھ دوبارہ کھُلی تو اسکے گلے کوئی پرپل گاؤن پہنی لگی تھی جسکے پر نہیں تھے وہ کچھ پل تو الجھن سے اسے دیکھتا رہا پھر کھینچ کر دور دھکیل دیا ” ضامن !

“ تم وہی ہو نہ جو ابھی مجھے اور اسے !!!! اسنے اپنی بائیں جانب دیکھا تو راکھ کر ڈھیر تھا زرمیش خود حیران تھی مگر بقراط کے چہرے پر مُسکان آگئی تھی ” اسے تم نے مار دیا اور اب مجھ سے لپٹ رہی ہو اب بتاؤ بے حیا کون ہے !!!

“ نہیں مجھے نہیں پتا یہ کیسے مری مجھے تو معلم نے آ

تمہیں غُصہ دلانے کو کہا تھا میں نے تو بس وہی کیا تھا اسکے بعد یہ سب کیسے ہوا مجھے نہیں پتا !!!

“ کون معلم ؟اور تم کون اور۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔میرا نام ضامن ہے ؟ اسکے سوالوں پر زرمیش تو زرمیش بقراط کے ہوش اُڑ گئے تھے ” ضامن میں زرمیش تمہاری زرمیش !!! معلم بقراط تمہارے استاد تمہیں کچھ یاد نہیں ہے کیا !!! وہ جو اپنے دماغ پر زور دے رہا تھا سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا کہ اچانک وہ جگہ ہلنے لگی تھی وہ گر جاتی مگر ضامن نے بروقت پکڑ لیا سیدھا کھڑا کیا ” بھاگیں یہاں یہ تباہ ہونے والا !!! ضامن نے حیرت سے بُلبُلے میں بولتے انسان کو دیکھا زرمیش نے اسکا ہاتھ پکڑا اور کھینچنے لگی وقت رہتے وہ باہر آگئے تھے وہ سیپ پلک جھپکتے ہی تباہ ہوگیا تھا وہ برکھا کا ہی کوئی جادو تھا جو اسکے ساتھ ختم ہوگیا ۔” شہزادی ضامن کو لیکر اوپر جائیں ہم آرہے ہیں !!! بقراط کی بات پر عمل کرتی وہ اسے اوپر لیجانے لگی تھی اور وہ اجنبیوں کی طرح یہ حرکات دیکھ رہا تھا ۔”