315.7K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 23

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

باب 4

وقت کا راز

وہ دونوں وہاں سے واپس آگئے تھے آدم غصے میں واپس آیا تھا اور آتے ہی ان دونوں کو بلانے لگا تھا ” زمر نمزا باہر آؤ!”

وہ دونوں کمرے میں تھے وہ جانتے تھے آدم انھیں کیوں بلا رہا تھا ” نمزا ڈرنا نہیں وہ ہم سے پوچھیں گے تو کہہ دیں گے ہمیں نہیں معلوم ہوسکتا ہے زبیر شہباز غائب کردیا ہو ہمیں انھیں کچھ نہیں بتانا چلو!” وہ دونوں ایک ساتھ باہر آئے تھے ” تم دونوں جھوٹے ہو ! غصے سے انکی جانب بڑھا تھا جس وہ دو قدم پیچھے ہوگئے تھے ” کک۔۔۔کیا جھوٹ بولا ہم نے !” زمر نے ہمت کر کے الفاظ نکالے تھے

“ تم دونوں نے ہم سے کہا کہ شہباز کے محل سے کچھ دور ایک ایک غار جہاں وہ ہیرا رکھا گیا !!! اسنے غصے سے زمر کا گریبان پکڑا ” وہاں غار تو کیا ایک پتھر تک نہیں ہے !!”

“ جنابِ آدم کیا کررہے ہیں چھوڑیں انھیں !!! نمزا اسے روک رہی تھی مگر وہ بہت زیادہ غصے میں تھا ” ہہ۔۔۔۔ہمیں نہیں پتا ہم سچ کہہ رہے تھے کہ ہیرا شہباز اور زبیر نے چرایا ہے صیاد نے انکا ساتھ دیا ان تینوں نے ہیرا ایک غار میں چھپایا تھا جسے اسیر ابن آدم یعنی میرے بابا اور آپکے کے بیٹے ڈھونڈا تھا ہمیں تو بس اتنا ہی پتا ہے وہ بھی مام میرا مطلب میری امی نے بتایا تھا !!! ادم نے غور سے اسے دیکھا ” کیا کس نے بتایا تھا !”

“ امی نے اور باقی سب نے بھی یہی بتایا ہے کہ نمزا !”

جی !! وہ بھی اثبات میں سر ہلا رہی تھی اسنے اسکا گریبان چھوڑا ” یعنی تم نے بھی وہ سنا ہی تھا حقیقت میں نہیں دیکھا یعنی ہیرا ابھی بھی لاپتہ ہے مجھے جانا ہوگا ! وہ پھر سے باہر چلا گیا تھا کچھ دیر بعد وہ کال جنگل کے بیچ و بیچ کھڑا تھا اطم اسنے زمیں سے باہر نکال لیا تھا اسنے دروازے پر دستک دی ” کون؟”

“ آدم ! اسنے آہستگی سے کہا اور دروازہ کھل گیا وہ ہیبت ناک جن اسکے سامنے جھک گیا تھا ” خوش آمدید آقا ! اثبات میں سر ہلاتا وہ اندر چلا گیا اطم ہیبت ناک تھا جابجا دیواروں پر خون لگا تھا ایک قبر کے سامنے وہ سر جھکا کر کھڑا ہوگیا ” سِنیار !” اسنے گہرا سانس لیکر پکارہ تو کچھ دیر بعد وہ ایک ایسی روح آگئی تھی جو کسی بھی عام انسان کو ڈر سے مارنے کی طاقت رکھتا تھا وہ تین چہروں والا شیر تھا جو اتنا ہی خوفناک تھا جتنا کسی قیمتی چیز کے نگہبان و مالک ہونا چاہیے !

وہ تمام غصے میں تھے انھیں پتا چل چکا تھا کہ ہیرا چوری ہو گیا ہے آدم سر جھکائے کھڑا تھا ” ہیرا کہاں ہے آدم ؟”

“ وہ چوری ہوچکا ہے

” اسکی حفاظت کس کی زمہ داری تھی !”

“ جانتا ہوں میری تھی مگر شاہی خاندان میں راجہ زولفشان نے اپنی زمہ داری پر اسے شاہی خزانے میں رکھا تھا وہاں سے ناجانے کیسے وہ !!”

“ آدم جانتے ہوں نہ وہ ہیرا تم نے ہم سب کو مار کر چھینا تھا اور ہم نے جاتے ہوئے کہا کہ اگر کبھی بھی ہیرا کو کوئی نقصان پہنچا تو اسکے حکمران یعنی ہم لوٹ آئیں گے اور آج ہیرا چوری ہوکر ناجانے کس غلط ہاتھ میں ہے تو وقت آگیا ہے کسی ایک حکمران کے لوٹنے کا !” ادم نے حیرت سے انکی جانب دیکھا جب اس روح کے وجود سے ایک چھوٹی آگ کا گولہ نکل اور زمین پر بیٹھ گیا دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک شیر کا بچہ بن گیا ” یہ سورانچھ ہے اسے تم پالوں گے اور ایک سہی وقت پر ہیرا اسے لوٹا دیا جائے گا !!!

“ لوٹا دیا جائے گا مطلب آپ جانتے ہیں ہیرا کہاں ہے ؟”

“ ہر چیز کا ایک وقت ہے ابھی وقت حکمران کے لوٹنے کا تھا اور دوسرا وقت ہے تمہاری سزا کا !!”

“ سس۔۔۔سزا کیسی سزا !! وہ ڈر گیا تھا سزا کے نام پر سنیار کی سزا یعنی موت ۔

“ تمہاری سزا یہ ہے جیسے تم نے ہمیں مار کر ہیرا چھینا تھا یہ جگہ چھینی تھی اسی طرح تم سے بھی سب چھین لیا جائے گا تمہارے اپنے بھی تم سے دور ہوجائیں گے سب اکیلے رہ جاؤ گے !”

“ نہیں اتنی بڑی سزا نہ دیں سب تباہ ہوجائے گا نفیسہ میرا بچہ شہر سب ختم ہو جائے گا مہربانی کریں !” مگر سنیار اسکی ایک بھی سنے بغیر چلا گیا وہ ڈھے گیا ” یہ کیا ہوگیا سب ختم ہوگیا ۔اسنے اپنے پیروں کے قریب پڑے شیر کے بچے کو دیکھا اسے ایک خیال آیا ” یہ سنیار کا خون یہ مدد کرے گا میری سنیار کی سزا کم کروانے میں !اسنے بڑے پیار سے اسے ہاتھوں میں اٹھایا ” تم بنو گے کال جنگل کے حاکم سورانچھ شہرِ سحر کے ستونوں میں سے ایک تم میری سزا کم کرواو گے !”

وہ اسے لیے اطم سے باہر آگیا اور اطم پھر سے زمین میں دھنس گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کا کالا اندھیرا چار سو پھیل گیا تھا رات کے چرند پرند زور و شور سے اپنی آوازیں سنا رہے تھے ۔ وہ تینوں اسی جگہ موجود تھے جہاں سے غار غائب ہوئی تھی وہ حیران تھے وہاں کچھ نہیں تھا ” یہ کیسے ممکن ہے شہباز کہ تم نے غار میں ہیرا رکھا اور غار ہیرے سمیت غائب ہوگئی !”

“ ہم آپکی قسم کھا کر کہتے ہیں ہم نے ہیرا غار میں رکھا تھا اور اسے بند کردیا تھا !”

غار ہوتی تو یہاں !!! اچانک صیاد کے پیر میں کچھ چبھا تھا مٹی کے نیچے کوئی نوکیلی چیز تھی اسنے بیٹھ کر مٹی کو پیچھے کیا تھا تو نیچے پتھر ظاہر ہونے لگا ” پیچھے ہٹو!

شہباز زبیر پیچھے ہوئے تو صیاد نے اس چٹان پر طاقت لگانی شروع کردی وہ اپنی طاقت سے اسے باہر نکالنا شروع کردیا۔دیکھا دیکھی شہباز اور زبیر نے بھی طاقت لگائی تھی آہستہ آہستہ غار دوبارہ باہر آگئی تھی ” ہاہا !!! یہ تو یہی تھیں زمین میں چھپ گئی !! انھوں نے فوراً پنجے ملائے غار کا دروازہ کُھلا تو ہیرا وہیں موجود تھا جس نے پوری غار میں چودھویں کا چاند چمکا رکھا تھا ان تینوں نے خود کو سراہا ” کیا بات ہے ہماری اور شہباز تمہاری کا جگہ چُنی ہے جو اپنا بچاؤ کرنا جانتی خودبخود زمین میں چھپ گئی واہ !! شہباز کو کو خود نہیں معلوم تھا کہ یہ ہوا کیسے مگر پھوکٹ میں ملی تعریف کون کھوئے گا ” شکریہ جنابِ وزیر !” وہ دونوں ہیرا کے دلدادہ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے کسی کی زندگی داو پر لگ گئی تھی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورانچھ کو لیکر وہ رات گئے واپس آیا تھا نفیسہ نمزا زمر پریشانی سے اسکا انتظار کر رہے تھے اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے ” آدم آپ کہاں تھے !” نفیسہ پریشانی سے اسکی جانب لپکی پھر سورانچھ کو دیکھ کو حیران رہ گئی ” یہ ۔۔۔یہ کہاں سے آیا !”

“ یہ شیر کا بچہ ہمیں کال جنگل سے ملا ہے جانور مار رہے تھے اسے ہم کے آئے !”

نمزا نے نفی میں سر ہلاتے ہو زیرِ لب کہا ” سورانچھ ۔۔۔۔سورانچھ !!! اسے ایک خیال آیا جو اسنے زمر سے کہنے چاہا پر وہ آدم کی جانب بڑھ گیا ” میں معزرت خواہ جنابِ آدم میری وجہ سے آپکو اتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا !

“ جو ہونا تھا سو ہوگیا اب اس بارے میں بات کرکے کوئی فایدہ نہیں محل سے کوئی خبر آئی ہیرے کے بارے میں !”نفیسہ نے نفی میں سر ہلا دیا ۔وہ اداس چہرے کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب چل دیا اور نفیسہ اسکے پیچھے نمزا زمر کو کھینچ کر کمرے میں لائی ” ارے کیا ہوا رات کا صبر نہیں ہورہا !!! ” اسکا زومعنی لہجہ نمزا کی سمجھ سے باہر تھا۔ ” کیا ہم سمجھے نہیں !!”اسنے نرمی سے اسے اپنے ساتھ لگایا ” سمجھا دوں گا ! تمہیں کچھ کہنے ہے !”

“ وہ شیر دیکھا آپ نے جانتے ہیں وہ کون ہے ؟” زمر نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” وہ سورانچھ ہے !”

“ سورانچھ وہی ببر شیر جس نے بابا کی مدد کی تھی !” نمزا نے اثبات میں سر ہلا یا ” اگر اسیر نے آپکو بتایا ہو کہ شہر سحر کی تاریخ وہ پہلا پنہ جو گم ہوگیا تھا اس میں لکھا تھاکہ آدم نے جب ہیرا شیروں سے لیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ اگر ہیرا غلط ہاتھوں میں گیا تو اسکے حکمران واپس آجائیں گے ہیرا چوری ہوگیا صیاد کے ہاتھ چلا گیا اور آج ہی آدم کو یہ شیر ملا یعنی ۔۔۔۔یعنی آدم اُطم میں گیا تھا مطلب وقت قریب آتا جارہا ہے !”

“ کونسا وقت !” ۔۔۔۔۔۔۔” آدم کی موت کا وقت کا راز عنقریب کھلنے والا آدم کی موت کیسے ہوئی تھی سب پتا چل جائے اور اسکے گواہ ہونگے ہم !!!! “

“ لیکن امبر پارہ اور جاودات ابھی تو وہ بھی باقی ہیں انکا قتل کیوں کیا تھا صیاد نے ؟”

“ کھلیں گے وقت کی سوئیاں چل پڑی ہیں ہر ایک لمحہ ایک ایک راز آشکار کرے گا !” زمر!!! آدم کی آواز پر ان دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا آدم ان سے رُخ پھیرے کھڑا تھا وہ کچھ پل تو حیران ہوئے پھر اپنی پوزیشن دیکھی زمر نے فوراً نمزا کو چھوڑ دیا ” باہر آئیں مجھے آپ سے بات کرنی ہے !”وہ چلا تو زمر بھی اسکے پیچھے ہی چل دیا ” ہمیں اک بات بتاؤ تم مستقبل سے آئے ہو میرے بارے میں میرے گھر والوں کے بارے میرے بچے یعنی اپنے باپ کے بارے کیا ہوگا ہمارے ساتھ !”

“ آ ۔۔۔۔۔۔۔اسنے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تو نظر نمزا پر پڑی جو نفی میں سر ہلا رہی تھی چپ رہنے کا اشارہ کر رہی تھی وہ سمجھ گیا” اگر انھیں میں نے سب بتا دیا تو یہ اسکے حوالے سے پیش رفت کریں گے !” ۔۔۔” مجھے بابا نے زیادہ تو نہیں بتایا ہاں مگر اتنا پتا کہ اسیر ابن آدم یعنی آپکے بیٹے پیدائش یہاں تو ہوگی وہ یہاں رہے گا نہیں پھر شہزادی طلسم اسے واپس لیکر آئیں گی اور تب کھویا ہوا ہیرا واپس مل جائے اور اسے اسکے حکمران کو لوٹا دیا جائے گا صیاد کی ظالمانہ حکومت کو آپکا بیٹا ہی توڑے گا اور پھر اپنی دنیا میں واپس چلا جائے گا وہ ہر راز کھولے گا مگر سوائے آپکی موت کے !!!” زمر نے بہت اختیاط سے لفظوں کا استمعال کرکے جادو اکٹھا کرنے کی بات گول مول کرگیا تھا کہ آدم سب جانتے ہوئے فیصلہ تبدیل نہ کردے وقت کے پنوں میں چند لفظوں کا بھی ہیرا پھیر آنے والی کا کہانی کا نقشہ بدل دیتا ہے تاریخ نازک ہے قیمتی کانچ کے سامان سے بھی زیادہ .آدم حیرت سے زمر کو دیکھ رہا تھا ” میری ۔۔۔۔میری موت کے علاؤہ مطلب کیا ہوگا میرے ساتھ !””

“ یہی بات تو آج تک کوئی نہیں بتا سکا کہ آخر آپکو مارا کس نے تھا ۔” زمر نے پھر پیچھے دیکھا مگر نمزا جاچکی تھی ” صیاد وہی مارے گا مجھے سب کچھ اسکی وجہ سے ہوا اگر آج ہیرا مل جاتا تو سنیار مجھے سزا نہ دیتا !!” اب کے بار حیران ہونے کی باری زمر کی تھی ” سزا ۔۔۔۔کیسی سزا ! آدم کو اپنی بے لگام زبان پر غصہ آیا تھا ” یہی سزا کہ اب سے اس نٹ کھٹ شیر کو میں پالوں گا !!! ان دونوں نے ایک ساتھ کچن کی جانب دیکھا جہاں سورانچھ دودھ کا پورا برتن گرائے زمین سے دودھ چاٹ رہا تھا ۔

“ ہاہاہاہا ! وہ دونوں اپنی پریشانیاں چھپاتے ہنس دیے تھے ۔