315.7K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 17

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

اگلے دن پورے محل میں شور شرابا تھا پورا محل سجایا جا رہا تھا کوئی انگلی گھما کر لال گلاب لگا کر جاتا تو دوسرا انگلی گھما کر چنبیلی کردیتا ہر طرف ایک ہی شور تھا شہزادے ضامن کو ہمارا کام پسند آئے گا اور خود وہ معصومیت کا مجسمہ بنا دوسرے شہزادوں میں گھرا کھڑا تھا زمر کی تو خوشی کی انتہا نہیں تھا اسکی باربی کو پرنس جارمنگ ملنے والا تھا اور اسکی اپنی وِچ اپنے جلے پیر کی وجہ سے کمرے میں بند تھی ۔وہ اسکے بال کبھی کسی طریقے سا بناتا کبھی کچھ کرتا مہرون کلر کے پرنس کوٹ میں وہ انتہا کا حسین لگ رہا تھا جسکو زمر کے رائیل بلو پرنس کوٹ نے مات دے دی تھی ۔ادھر طلسم فاریہ اور کئی دوسری شہزادیاں زرمیش کو گھیرے کھڑی تھیں وہ ریڈ کلر کے لہنگے میں ملبوس زیورات سے لدی پڑی تھی ” مام مجھے کیا نمائش میں چھوڑنا ہے !”

“ یہ سارے زیورات پہننے پڑیں گے کیوں کے یہ تمام زیورات طلسم نے خود اپنی بیٹی کے لیے بنائے ہیں ! اسنے حیرت سے طلسم کو دیکھا جو پرُنم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی اسنے جھُک کر ماتھا چوما زرمیش نے اسکے آنسو صاف کیے ” نو مام پلیز !” وہ خود بھی نہیں رونا چاہتی تھا اسلیے اسے بھی روک دیا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✍️۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہزادی چلیں نہ دیکھیں باہر سب کتنا حسین لگ رہا ہے اور آپ ہیں کہ کمرے میں بند ہیں ۔۔۔۔” اسکی خاص کنیز اس سے التجا کر رہی تھی ۔

“ مجھے نہیں جانا گمان ! تم جانا چاہتی ہے تو جاؤ !” اسنے نرمی سے مُسکرا کر جواب دیا ۔” نہیں شہزادی آپ بیمار ہیں تو میں کیسے جاسکتی ہوں ! وہ بیچارا سا منہ بنا کر بیٹھ گئی ۔اسنے سنبھلتے ہوئے پیر نیچے رکھا اور کھڑی ہوگئی گمان نے خوش ہوکر اسکا ہاتھ تھامنا چاہا تو اسنے انکار کردیا ” میں چل سکتی ہوں !” پیر سنبھلتی وہ آگے بڑھنے لگی گمان جیسے ہی باہر آئی دوسرے کنیزیں اسے لیں گئی تھیں نمزا نے بھی اسے روکا نہیں تھا اسکا رُخ زرمیش کے سنگھار گاہ کی طرف تھا کہ شہزادیوں کے گزرے جھرمٹ میں سے ایک نے سیدھا پیر اسکے پیر پر رکھ دیا وہ سِسک اٹھی تھی پیر سے دوبارہ خون نکلنا شروع ہوگیا تھا وہ نیچے جھُکتی پیر دیکھ رہی تھی تکلیف اس قدر بڑھ گئی تھی کہ وہ غنودگی میں جانے لگی تھی وہ گرِتی اس سے پہلے اسے کسی نے باہوں میں بھر لیا تھا وہ مکمل بے ہوش ہوگئی تھی وہ سیدھا اسے اسکی خواب گاہ لایا تھا بیڈ پر لیٹایا ” نمزا ! نمزا !! وہ اسکا چہرا تھپتھپا رہا تھا اسکے گالوں میں پر مِٹا مِٹا کھارا پانی جذب ہوگیا تھا ۔اسنے ایک نظر اسکے پیر کو دیکھا سفید کپڑا لال ہوچکا تھا وہ فوراً باہر کی طرف دوڑا رش کو چِیرتا وہ طبیب خانے پہنچا طبیب کو لیا اور پہنچ گیا “زخم پر دباؤ پڑا تو خون دوبارہ رسنے لگا ہے !” طبیب اسکی پڑی کھول رہا تھا اور وہ اسکا سر گود میں لیے بیٹھا تھا ” وہ تو ٹھیک ہے یہ بے ہوش کیوں ہوگئی ہے !”

“ شہزادی نمزا گلاب کی پنکھڑیوں سے زیادہ نرم ہیں وہ شہزادی ہیں پریوں جیسی اور پریاں بے انتہا تکلیف برداشت نہیں کرسکتی کسی کی زرا سی بے رُخی تکلیف انکی چمک ماند کردیتی ہے میں نے شہزادی نمزا کو تب سے دیکھا ہے جب وہ رانی فاریہ کی گود میں لال مخمل کے کپڑے میں لپٹی آرام سے سو رہی تھیں اسکے بعد چاند کے دورانیے کی طرح شہزادی نمزا منور ہوئی ہیں تھوڑی ضدی اور اڑیل ضرور ہیں مگر زرا سے اونچی آواز انھیں ڈرانے کے لیے کافی ہے تو وہ یہ تکلیف کیسے برداشت کرلیتی !!” طبیب نے ساتھ ساتھ زخم صاف کرکے دوبارہ لیپ لگا کر پٹی کردی تھی اور وہ بس طبیب کا منہ دیکھتا رہ گیا جو اپنا سامان اٹھا کر اجازت طلب نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اسنے اثبات میں سر ہلایا تو وہ چلا گیا ۔اسنے آہستگی سے اسکا سر تکیے پر رکھا کمبل اوڑھایا اور اسکے خاموش چہرے کو دیکھنے لگا اسنے اس بات پر تو اتنے دونوں سے دھیان ہی نہیں دیا کہ وہ نتھ پہنا چھوڑ چکی ہے بلکہ کوئی بھی زہور نہیں پہنتی یہ تو وہ نمزا تھی ہی نہیں جو اس سے پہلی دفعہ ملی تھی وہ مغرور چہرا کہاں گیا یہ تو کوئی بے بس معصوم چہرا تھا جس میں روتی بلکتی آنکھوں سے نکلے آنسوں جذب تھے کتنے دنوں سے ہورہے تھے وہ اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا جب ایک ہاتھ نمزا کی طرف بڑھنے لگا ” رُکو ! اسنے بنا دیکھے ہی اسے منع کردیا ” مگر شہزادے شہزادی !

“ شہزادی اکیلی باہر کیا کررہی تھیں !” گمان کا گلہ خُشک ہوگیا تھا وہ پہلی بار اس نرمدل شہزادے کو اس قدر غُصے دیکھا تھا ۔” شہزادے وہ ہم ۔۔۔۔وہ خاموشی سے سر جھکائے کھڑی ہوگئی تھی اسنے غُصے سے وہ خون آلودہ پٹی جو اسنے طبیب کے ہاتھ سے لے لیا تھا اسکے سامنے پھینکا ” دیکھو اسے تمہاری لاپرواہی کا نتیجہ !! اسنے چیخ کر کہا تو وہ اور ڈر گئی ” جاؤ یہاں سے !حکم سُنتے ہی وہ اُلٹے قدموں سے واپس چلی گئی وہ پھر اسکے سرہانے بیٹھ گیا اسے اس پر پیار تو نہیں مگر ترس ضرور آرہا تھا اور جہاں ترس اور ہمدردی ہو وہاں محبت راستہ بنا ہی لیتی ہے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ بھائی کہاں ہیں ؟ ضامن اور زمیش کو نکاح کے لیے ساتھ بیٹھا دیا گیا تھا وہ سب کو دیکھنے کے بعد طلسم اور اسیر کو پوچھ رہی تھی جو خود حیرت سے ارگرد دیکھ رہی تھی ” گمان شہزادی نمزا اور شہزادے زمر کہاں ہیں ؟”فاریہ نے کنیزوں کے جھرمٹ میں سے گمان کو مخاطب کیا ” وہ۔۔۔وہ شہزادے شہزادی کے ساتھ ہیں شہزادی کی صیحت کچھ ناساز ہے ! سب کو پریشانی لاحق ہوگئی تھی ” کیا ہوا شہزادی نمزا کو ؟”

انکا پیر بہت بُرے طریقے سا جل گیا تھا انھوں نے کسی کو بھی بتانے سے منع کیا تھا وہ ہمارے ساتھ یہاں تقریب میں آرہی تھیں تو کسی نے انکے زخمی پیر پر پیر رکھ دیا تو انکا پیر خون آلودہ ہوگیا وہ بے ہوش ہوگئی تو شہزادے زمر انھیں لے گئے ۔وہ تمام ایک ساتھ اسکی خواب گاہ کی جانب چل دیے تھے دُلہن کا لہنگا پیچھے جادوئی ننھی ننھی پریاں سنبھال رہی تھی جو انکے ساتھ ہی اُڑ گئی ” وہ اب بھی بے ہوش تھی زمر پریشانی سے پاس بیٹھا اسکے ہوش میں آنے کا منتظر تھا ۔” آپ سب یہاں ؟”

” گمان سے معلوم ہوا کہ نمزا کا پاؤں جلا ہے !” فاریہ اسکے قدموں کی قریب بیٹھتے زمر سے مخاطب تھی اسنے ناگواری سے گمان کو دیکھا ” جس دن پھول لینے گئے اس دن ہوا تھا یہ ہمیں بھی نہیں بتایا !” فاریہ نے اسکے پیر کا چھوا تو بے ہوش میں بے تکلیف سے اسکے منہ سے بس سسکی نکلی تھی ۔اُسے ہوش آنے لگا تھا سب اسکی طرف متوجہ ہوگئے تو وہ دبے پاؤں چلا گیا “امی جان !”دھندلی آنکھوں میں جو ایک چہرا نظر آیا وہ فاریہ کا تھا ۔” نمزا میری بچی آپ ٹھیک ہو؟ اسنے اُٹھ کر تکیے سے ٹیک لگائی چاروں اور نظر دوڑائی سب تھے سوائے اسکے یعنی انھیں سچ میں ہماری پرواہ نہیں !”امی جان ہم ٹھیک ہیں !”

“ آپ نے کسی کو بتایا کیوں نہیں !” ۔۔۔۔۔” ابا محل میں زرمیش اور بھائی جان کی شادی کی خوشیاں پھیل گئی تھیں ہم کسی کو پریشان نہیں کرنا چاہتے آپکو کو کیسے علم ہوا ؟”

“ ہم نے گمان سے آپکے مطلق پوچھا تھا انہوں نے بتایا !” نمزا نے ایک غصیل نظر گمان پر ڈالی جو ڈر کر سر جھُکا گئی ” یہ دونوں تو ہماری جان ہی لے لیں گے !”

“ ہم معزرت خواہ ہیں آپکا نکاح رُک گیا !” اسنے شزمندگی سب ضامن اور نمزا کی جانب دیکھا ضامن نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ” ہماری چھوٹی ہمشیرہ کے بغیر وہ نکاح ہو بھی نہیں سکتا تھا ! “

“ چلیں شروع کرتے ہیں !” وہ بیڈ سے اُترنے لگی جب اسکا ایک ہاتھ زرمیش اور دوسرا ضامن نے پکڑ لیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرمیش اور ضامن کا نکاح شہرِ سحر کے رسم و رواج سے شروع ہوگیا تھا اسیر اور زُمر اسکے پیچھے کھڑے تھے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھے وہ بے انتہا خوش تھا اسکی باربی کو اسکا پرنس چارمنگ مل گیا تھا اور اسکی وِچ صرف اسے ہی نہارنے میں مصروف تھی بھٹکتی نظر اگر اسکی بھی پڑ جاتی تو وہ اسی پوزیشن میں کھڑی ہوتی آخر ایک لمحہ ایسا آیا جب اسکی مسلسل مسکراتی نظر اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی یہاں اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اُدھر اسکی روح تک کھِل اُٹھی تھی ۔آج ان دونوں کی طرح ضامن اور زرمیش بھی نکاح کے پاک بندھن میں بندھ گئے تھے ۔