Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 27
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
” درباری فیصلے ہمیشہ عوام کی برخلاف ہوئیں ہیں ! عوام آج آدم کو سنے کے لیے تیار ہی نہیں تھی ۔
“ خلاف کونسا فیصلہ عوام کے بر خلاف ہوا ہے !
“ وزیر صیاد کے پاس جب بھی فیصلہ گیا ہے انھوں نے حکمرانوں کو ہمیشہ کیا ہے زبیر اور شہباز عوام کو تنگ کرتے ہیں مگر صیاد کبھی انھیں کچھ کہا !”
“ یہ بات ہمیں کیوں نہیں بتائی گئی !
” جیسے آپکو اور راجہ کو اس بات کا علم ہی نہ ہو بہت دیکھ لیے حکومت فیصلے اب ہم اپنا فیصلہ خود کیا کریں گے ! ایک نوجوان کہا اور چل دیا آپ میں چہ مگوئیاں کرتے وہاں سے چلے گئے وہ انھیں آوازیں دیتا رہ گئے اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا ٫ عوام حکومت کے اتنی خلاف ہے انکے ایسے ہیں جیسے دماغ پلٹ دیے گئے ہوں ! وہ پرسوچ وہیں کھڑا تھا جب ایک دوکاندار نے دوسری دوکاندار کی تجوری سے سکے غائب کردیے وہ آپس میں لڑنے لگے تھے ” تم نے میرے سکے چوری کیے ہیں !
“ تم پاگل تو نہیں ہوگئے ۔ میں تمہاری دوکان میں آیا تک نہیں !
“ تمہاری پاس جادو ہے کسی بھی چیز کو غائب کردینے کا تم نے استمعال کیا اسے !” اس دوکاندار نے اپنی مُٹھی بند کی تو اسکی انگلیوں کی گانٹھ سے چھُریاں نکل آئیں جس سے اس نے اسکا سینہ زخمی کردیا وہ دوکاندار درد سے کراہ رہا تھا اس پہلے آدم کچھ کرتا زخمی دوکاندار نے اس انسان کو غائب ہی کردیا وہ صفا ہستی سے ہی مِٹ گیا تھا یہ صورتحال دیکھ کر آدم کی روح لرز اُٹھی تھی ۔” اسکا حل ڈھونڈنا ہوگا ورنہ سب ختم ہو جائے گا مجھے سنیار کے پاس جانا ہوگا !”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنیار اسے آنکھوں میں ہی اسے تول رہا تھا اسے آدم پر اور بھی غصہ آرہا تھا کیونکہ کل سنیار نے ہیرے کی وجہ سے انکی ناجائز خواہشیں جائز طریقے پر مانگے جانے پر پوری کی تھیں ۔” بولو آدم آج کیا چاہیے !”
“ عوام جادو عام زندگی میں بھی استمعال کرنے لگی ہے وہ ہماری ایک بات سنے کو تیار نہیں ہمیں نہیں پتہ تھا کہ ہماری ناک کے نیچے صیاد کیا کچھ کررہا ہے !”
“ تمہں تو ابھی بھی علم نہیں پر یہ بتاؤ مجھ سے کیا چاہیے !
“ حل اس مسئلے کا آپ وہ واحد جسنے مجھے ہر مشکل کا حل دیا ہے ۔”
“ میں نے کہا تھا انھیں ایسی جگہ مت دو جہاں سب ایک جیسے لوگ ہوں وہ تمام لوگ انسان نہیں آفتیں ہیں وہ تمہاری بات مان گئے لیکن اب انھیں جادو آسانیاں دینے لگا وہ بے محتاجی محسوس کرنے لگے ہیں انھیں جادو کی لت گئی ہے اب بچاؤ ممکن نہیں !
“ لیکن کوئی تو راستہ ہوگا جس سے انھیں واپس پہلے جیسے کیا جاسکے کچھ بھی انکے دماغوں کو قابو میں کرکے کیا یہ سب روکا جاسکتا ہے ؟
” یہ کوئی مستقل حل تو نہیں کتنے لوگوں دماغ قابو میں کرو گے اس طرح تو تم بھی جادو اپنے مفاد کے لیے استمعال کرو گے ! وہ خاموش ہوگیا تھا ” تو کوئی اور راستہ بتاؤ عوام عام کیسے جیے !”
“ یہ صرف ایک طرح ممکن ہے کہ اگر عوام کے پاس جادو ہو ہی نہ جادو ترک کر دو !” اسنے حیرت سے اسے دیکھا ۔” جادو ترک کرنا ممکن ہے کیا ؟
‘ ممکن ہے جادو ترک کرکے اسے محفوظ کردو لیکن اسکے لیے ایک شرط ہے ؟” اسنے سوالیہ نگاہوں سے سنیار کو دیکھا ” تمہیں زولفشان صیاد غفران اور شہوار کو بھی اپنا جادو ترک کرنا ہوگا !”ادم سوچ میں پڑ گیا تھا ” جادو ایک لعنت ہے برے سوچنے والے کی سب سے بڑی طاقت شرک اسے ترک کرکے ایک عام سادہ گزارنا بہتر ہے ” کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ پھر اس سے مخاطب ہوا ” مجھے منظور ہے ہم جادو ترک کرنے کے لیے تیار مگر ہم وہ کریں گے کیسے ؟” سنیار کے اندر سے ایک آگ کا گولہ نکلا اور نیچے گرتے گرتے ایک پنّہ بن گیا جس پر عجیب الفاظ لکھے تھے جو کوئی منتر تھا ” یہ تمہاری مدد کرے گا تمام جادوگران اور عوام کا جادو مل کر ایک بیج بنائے گا جب کبھی تمہیں لگے کہ اب جادو کی اشد ضرورت ہے تو وہ بیج پھول بن جائے گا مگر وہ بیج پانی سے نہیں کھلے گا تمہاری اولاد کا خون ہی اسے کھلا سکے گا اور کوئی نہیں تم بھی نہیں آسکے جوان ہونے کے بعد وہ اپنی مرضی سے وقت کے ضرورت پر اسے پھول بنائے گا اور کوئی نہیں یہ تمہاری لیے میری طرف سے ایک تحفہ سمجھ لو اس بیج کی حفاظت تمہیں اپنی جان سے بھی زیادہ کرنی ہوگی اگر وہ بیج غلط ہاتھوں میں چلا گیا تو وہ انسان بے شمار طاقتوں کا مالک ہوگا جسے کوئی نہیں ہرا پائے گا وہ جادو امانت ہوگا ۔۔۔۔”
……………
………. وہ پنہ لیے واپس آگیا تھا اسنے نفاس جھیل سے شہوار کو بھی بلایا تھی وہ پانچوں اس وقت محل کے ایک راز دار کمرے میں موجود تھے میز پر پنہ پڑا تھاجسے وہ سب آدم کی بات سُنے کے بعد دیکھ رہے تھے .” تو آپ نے یہ حل نکالا ہے شہرِ سحر کو بچانے کا جادو ہی ختم کردیا جائے ! آدم نے انھیں یہ نہیں بتایا تھا کہ فیصلہ سنیار نے لیا ہے . ” ہمم ہمارے پاس بس یہی ایک حل ہے راجہ جادو چھوڑ دیں گے تو ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی نہ کسی کے پاس جادو ہوگا نہ کوئی کسی کو نقصان پہنچا پا ئے گا ! صیاد کا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا ہیرے سے دماغ.کی طاقت لی تھی پیش عمل تو آنی تھی ” تمام لوگوں کا اور چارو جادوگروں کا جادو ایک بیج میں قید ہوگا اور اس بیج سے کھلنے والا پھول جادو جا خزانہ ہوگا اگر وہ بیج مجھے مل جائے تو ! اسکے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ آگئی ” ہمارا خیال ہے آدم ٹھیک کہہ رہا ہے ! ان چارو نے ایکساتھ صیاد کو دیکھا جو پہلی دفعہ آدم کی بات سے رضامند تھا آدم خود بھی حیران تھا .” لیکن کیا یہ ٹھیک رہے گا ! ” جادو ایک ایسا ناسور ہے جو جس کے پاس بھی اسکی زندگی عذاب بنا دیتا ہے وہی بات ایک شخص نے دعا کی کہ میں جس چیز کو چھو وہ سونا ہوجائے پھر وہ اپنی اولاد کو بھی نہ چھو سکا اسکی زندہ مثال شہوار ہے جو جس کو ہاتھ لگاتا یے وہ بیلوں اور جڑوں میں چھپ جاتی لوگ جادو سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچا رہے ہیں پھر پچھتائیں گےاور یہ یقین جانے تب پچھتانے سے کچھ نہیں ہوگا .” ” بلکل ٹھیک کہا آدم یہی ہوتا ہے ہمیں بھی یہی لگتا ہے کہ اب پرسکون زندگی جادو چھوڑ کر ہی ممکن ہے ! ” آج تو صیاد اپنی باتوں سے سب کو حیران کیے جارہا تھا .کافی دیر تک وہ اس بات پر سوچتے رہے ” ٹھیک ہے ہم اس بات کے پر ہم سب امادہ ہیں مگر آدم آپ عوام کو امادہ کیسے کریں گے ؟ ” آہہ یہ ابھی سوچنا ہے ہم نے ! ” اختیاط سے آ دم کہیں عوام گلے نہ پڑ جائے ہاہا ! شہوار کی بات پر وہ سب ہنس دیے تھے صیا بھی انکے ساتھ ہی تھا مگر دل.میں کچھ اور ہی چل رہا تھا ” ہنس لو آج کا دن ہی ہے تم لوگوں کے پاس ہنسنے کے لیے !!! ” ……………….
………………. آدم گھر واپس آیا تو کافی ساری عورتیں موجود تھیں جو خوشیاں منا رہی تھیں نمزا اور زمر ایک کونے میں کھڑے کسی چیز پر نظریں مرکوز کیے کھڑے تھے آدم کو دیکھ کر وہ بھاگ کر اسکے پاس آیا ” وہ ….وہ آگئے ہیں بب…بابا آگئے ! اسنے ھیرت سے اسے دیکھا جب ایک عورت جو غالباً نفیسہ کی ماں تھی آئی ” مبارک ہو آدم جڑواں بیٹے ہوئیں ہیں ! اسکی بات سن کر وہ اندر کی جانب دوڑا جہاں جھولے میں کپڑے میں لپیٹے دو بچے پڑے تھےدائی نہ ایک بچے پر انگلی رکھی ” یہ پہلے آیا ہے اور کچھ وقت بعد ! اسنے ایک نظر بچے کو دیکھا اور پھر نفیسہ کو جو لال گلابی چہرا لیے لیٹی تھی ” شکریہ ! دانتے تلے لب دبا کر وہ نظریں جھکا گئی . ” ارے واہ بھائی جان آپ نے تو کمال ہی کردی دو ایکساتھ ! اس بات پر آدم.نے گھور کر غفران کو دیکھا تو.وہ ار کھجاتا پیچھے ہوگیا .اسنے پہلے بچے گود میں اٹھایا ” یہ ….یہ میری روح ہے میرا پہلا بیٹا جو میری حلال غلامی کی نشانی ہے یہ شہزادی طلسم کا غلام ہے یہ میرا اسیر ابنِ آدم ہے ! زمر نے بغور ایک نظر اس چاند سے بچے کو دیکھا ” بابا ! اسنے اسے نیچے رکھا اور دوسرے کو اُٹھا ” یہ میرا دل ہے میرا تحفہ ہے اسکا نام نعمت ابنِ آدم ہوگا .! زمر خوشی سے وہ سب دیکھ رہا تھا .عفران بچےکے ہاتھ میں پکڑے شرارتیں کررہا تھا زمر نے نمزا کو دیکھا تو وہ افسردہ تھی رو رہی تھی تمام عورتیں جاچکی تھیں آدم نفیسہ اور بچوں کو بھی کمرے میں پہنچا.دیا گیا تھا زمر کمرے میں تھا کام.ختم.کرنے کے بعد وہ کمرے میں آئی تو زمر نے اسے پکڑ کر دیوار سے پن کردیا ” ہیے! کیا ہوا تمہیں خوشی نہیں ہوئی بابا کے آنے کی ! اسکی بات پر آنکھوں کے کٹورے پھر بھر گئے تھے ” کیسی کونسی خوشی وہ جو کل ختم ہوجائے گی !” ” کیا مطلب ؟ اسنے زمر کو زور سے گلے لگایا ” سب ختم ہوجائے گا کل سب آدم کی اولاد آگئی ہے یعنی شہرِ سحر پر قیامت گزرنے والی ہے وہ رات آنی والی جو رات شہرِ سحر کی تاریخ کی منحوس رات ہوگئی صیاد اب کو مار دے گا سب کو جادو اکٹھا ہونے والا کل جادو اکٹھا ہونے کے بعد سب ختم ہوجائے گا . ” کیا تمہیں کس نے کہا جادو اکٹھا ہونے والا ہے ؟ ” میں نے ابھی غفران اور آدم.کی باتیں سُنی وہ لوگ کل عوام جادو ترک کرنے پر امادہ کرنے والے ہیں ہم کتنے مجبور ہیں کچھ نہیں کر پا رہے کچھ بھی نہیں ! “کر سکتے ہیں ہم آدم کو سچ بتا دیتے ہیں ہیرا صیاد کے پاس ہے وہ غار ہم نے غائب کی تھی جادو اکٹھا ہوگیا تو کیا ہوگا ” ” نہیں زمر ہمارا آج کا عمل آنے والا تمام کل بدل دے گا اگر ہم نے اسے سب بتا دیا تو ہم وقت کے خلاف چلے جائیں گے اسنے ہمیں چھپے راز اشکار کرنے کے لیے بلایا ہے اسے بدلنے کے لیے نہیں ہمیں خاموش تماشائی بنا ہوگا مگر ہم سے برداشت نہیں ہورہا کہ یہ سب نفیسہ آدم انکی خوشیاں امبر پارہ جاودات سب مارے جائیں گے پہلا پنہ مکمل ختم ہوجائے گا ! وہ اسکے گلے لگی زاروقطار رو رہی تھی .اسنے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا اسکے آنسوں صاف کیے پھر باہوں میں اٹھا لیا بیڈ پر لیٹانے کا بعد خود بھی ساتھ ہی لیٹ گئی .وہ چھت کو گھورے جارہی تھی کہ اچانک زمر کا چہرا سامنے آگیا وہ اس جھکا ہوا تھا ” تم جانتی ہو ایک بادشاہ تھا اسکی اولاد نہیں تھی پھر اسکے یہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی وہ خوبصورت تھی کہ لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آنے لگے وہاں ایک چڑیل.بھی آئی اور اسنے شہزادی کو بد دعا دے دی جب یہ شہزادی جوان ہوجائیں گی تو وہ گہری نیند میں چلی جائے گی اس شہزادی کا نام آرورا تھا اور وہ گہری نیند نوکیلی چیز جیسے سوئی یا کچھ اور لگنے سے ہوگی تو بادشاہ نے پتا کیا کیا محل ہر نوکیلی چیز ہٹا دی لیکن پھر بھی وہ چڑیل کچھ نہ کچھ ایسا کرتی کہ آرورا نوکیلی چیز کے پاس چلی جاتی پھر آرورا کی تین فیری گوڈ مدرذ آئیں یعنی پریاں وہ آرورا کو اپنے ساتھ لے گئی کیوں کہ وہاں میلافیسینٹ یعنی وہ چڑیل آ نہیں سکتی تھی آرورا وہاں بڑی ہوئی وہ پریاں ہمیشہ اسکے آس پاس رہتیں کے کہیں اس کچھ ہو نا جائے پھر ایک آرورا بہت بیمار ہوگئی تو رانی نے اسے محل واپس بلا لیا وہاں آرورا کا پورا خیال رکھا گیا اب آرورا تو جوان ہوگئی تھی یعنی بد دعا پوری ہونے کا وقت آن پہنچا تھا پھر پتا کیا ہوا ؟وہ جو غور سے کہانی سن رہی تھی پوچھنے لگی ” کیا ؟” اسنے گُھما کر اسے اپنے اوپر کیا نمزا کے بال اسکے چہرے پر بکھر گئء تھے جو اسنے نہایت محبت سے مسکراتے ہوئے پیچھے کیے ” تمہاری خوشبو بے مثال عطر سے بھی زیادہ مسحور کن ہے ” زمر بتائیں نہ آر….آرورا کے ساتھ پھر کیا ہوا ؟ اسکی کمر پر بازو لپیٹے اسنے اسے اور بھی قریب کرلیا ” پھر ایک دن ایک تتلی محل میں آگئی آرورا کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگی ارورا اس تتلی کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگی اسکا پیچھا کرتے کرتے ارورا تیخانے میں پہنچ گئے وہ ایک چرکھا پڑا تھا اسکا اوپر ایک سوئی لگی تھی وہ تتلی اس سوئی پر جا کر بیٹھ گئی آرورا نے اسے پکڑنا چاہا تو وہ اڑ گئی اور آرورا کے ہاتھ پر سوئی لگ اور خون نکلنے پر آرورا گہری نیند میں چلی گئی ۔ !نمزا کا منہ اتر گیا تھا ” بہت بُرا ہوا ؟
“ کہانی سنانے کا مقصد وقت گزاری نہیں تھا نمزا مقصد تھا تمہیں سمجھانا کہ جب وقت کچھ طے کرلے جو قسمت میں ہو ہم لاکھ کوشش کریں اسے بدلنے کی ہم نہیں بدل سکتے کیا نہیں تھا راجہ نے ارورا کو بچانے کے لیے اسکی حفاظت محل سے ہر نوکیلی چیز ہٹا دی خود سے دور کردیا پریوں تک نے اپنی کوشش کرلی مگر وقت پر جو ہونا تھا وہ ہوگیا نہ کوئی روک سکا نہیں ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا وہ جیسے لکھی ہے ہوکر رہے گی دادا جان دادی جان آج کتنے خوش ہیں انھیں آنکی سب سے بڑی خوشی ملی ہے اگر ہم انھیں جاکر یہ بتا دیں کہ کل موت ہے تو وہ آج بھی کھو دیں گے کم سے کم آج تو انھیں خوش رہنے دینا چاہیے مرنے ایک دن سب نے ہے تو ڈرنا کیوں آج جیو کل کی مت سوچو ہونی کا پتہ نہ ہو اور ہوجائے تو کم دکھ ہوتا ہے مگر پتہ ہوتے ہوئے بھی وہ جائے تو زیادہ دکھ ہوتا ہے اسلیے انھیں کل سے انجان رہنے دیتے ہیں کہ جو ہوگا قسمت کا لکھا ہوگا ۔” اسکے کرتے کے بٹن سے کھیلتی وہ اسے سن رہی تھی اور سمجھ بھی پھر اچانک اسے ایک خیال آیا ” تو کیا آرورا ہمیشہ کے لیے گہری نیند میں چلی گئی وہ اُٹھی نہیں ۔ زمر نے رخ بدلہ اور اس پر جھک گیا ” آ۔۔۔۔۔نہیں پھر آرورا کو اسکے کمرے میں لایا گیا وہ چڑیل بھی وہاں آگئی راجہ اس چڑیل کی التجا کی کہ اسے اسکی بیٹی لوٹا دے تو وہ مان گئی اس نے کہا
Only the kiss of true love can alive her !
نمزا سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی ” مطلب !٫
“ کرکے بتاؤ ! کہتے ساتھ ہی وہ اسکے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لے چکا تھا اب نمزا کو کچھ بھی سمجھنے کی ضرورت نہیں تھی وہ سمجھ چکی تھی کہ سچی محبت ہی زندگی سکتی ہے جیسے اسے مل گئی تھی ۔وہ ایک دوسرے میں کھو گئے تھے پہلے پنہ میں قید انکی محبت کی رات عروج پر تھی یا شاید آخری رات تھی ۔۔۔۔( یہاں پر سلیپنگ بیوٹی کی کہانی بہت مختصر طریقے سے بتائی گئی بس اہم باتیں ڈسکس ہوئی ہیں )
